مسند عمر بن عبد العزيز سے متعلقہ
1. بَابُ حُكْمِ وَرَاثَةِ الْمُسْلِمِ لِلْمُشْرِكِ الَّذِي أَسْلَمَ
باب اسلام لانے والے کافر کے وارث ہونے کا حکم
حدیث نمبر: 84
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ الدِّمَشْقِيُّ ، ثنا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَوْهَبٍ يُحَدِّثُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا السُّنَّةُ فِي الرَّجُلِ الْكَافِرِ يُسْلِمُ عَلَى يَدَيِ الْمُسْلِمِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هُوَ أَوْلَى النَّاسِ بِهِ حَيَاتَهُ وَمَمَاتَهُ" ، قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُمَرَ: وَشَهِدْتُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَضَى بِذَلِكَ فِي رَجُلٍ أَسْلَمَ عَلَى يَدَيْ رَجُلٍ، فَمَاتَ وَتَرَكَ مَالا وَابْنَةً، فَأَعْطَى عُمَرُ ابْنَتَهُ النِّصْفَ، وَالَّذِي أَسْلَمَ عَلَى يَدَيْهِ النِّصْفَ.
حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا، اے اللہ کے رسول! ایک کافرکسی مسلمان کے ہاتھ پر اسلام قبول کر لے تو کیا طریقہ کار ہے؟ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: ”وہ اس کی زندگی اور وفات کے بعد اس کا زیادہ حق دار ہے۔“ عبد العزیز بن عمر نے کہا، میں عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ کے پاس موجود تھا، انہوں نے اس آدمی سے متعلق جو ایک آدمی کے ہاتھ پر اسلام لایا اور پھر فوت ہو گیا اور مال کے ساتھ ایک بیٹی وارث چھوڑی تو عمر رحمہ اللہ نے نصف مال اس کی بیٹی اور نصف اس کو دیا جس کے ہاتھ پر وہ مسلمان ہوا تھا۔ [مسند عمر بن عبد العزيز/عمر بن عبد العزيز عن عبد الله بن موهب/حدیث: 84]
تخریج الحدیث: «حسن: سنن ابي داود، الفرائض، باب فى الرجل يسلم على يدى فى الرجل 2918، سنن ابن ماجه، الفرائض، باب الرجل يسلم على يدى الرجل: 2752، سنن ترمذي، الفرائض، باب ماجاء فى ميراث الرجل...... الخ 2112»