صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
فوت شدہ عورت کے ذمہ واجب روزوں کی قضا ادا کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 2053
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ , حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى الْفُضَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ أَبِي حَرِيزٍ فِي الْمَرْأَةِ مَاتَتْ وَعَلَيْهَا صَوْمٌ , قَالَ: حَدَّثَنِي عِكْرِمَةُ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: أَتَتِ امْرَأَةٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا صَوْمُ خَمْسَةَ عَشَرَ يَوْمًا , قَالَ:" أَرَأَيْتِ لَوْ أَنَّ أُمَّكِ مَاتَتْ وَعَلَيْهَا دَيْنٌ , أَكُنْتِ قَاضِيَتَهُ؟" قَالَتْ: نَعَمْ , قَالَ:" اقْضِي دَيْنَ أُمِّكِ" . وَالْمَرْأَةُ مِنْ خَثْعَمَ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کی کہ اے اللہ کے رسول، میری والدہ اس حال میں فوت ہوئی ہے کہ اس کے ذمہ پندرہ دن کے روزے فرض ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے بتاؤ کہ اگر تمہاری والدہ اس حال میں فوت ہوتی کہ اس کے ذمہ قرض ہوتا تو کیا تم اُس کا قرض ادا کرتی؟“ اُس نے جواب دیا کہ جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی والدہ کا قرض ادا کرو۔“ یہ عورت خثعم قبیلے کی تھی۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2053]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1953، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1148، وابن الجارود فى "المنتقى"، 1014، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1953، 2053، 2054، 2055، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3530، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3825، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3308، 3310، والترمذي فى (جامعه) برقم: 716، 717، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1809، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1758، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8321، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2338، 2339، 2340، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1886»
اگر روزوں کی نذر ماننے والی عورت نذر پوری کرنے سے پہلے فوت ہوجائے تو اس کی نذر کے روزوں کی قضا ادا کرنے کے حُکم کا بیان
حدیث نمبر: 2054
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ , عَنْ شُعْبَةَ , عَنْ سُلَيْمَانَ , عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , أَنَّ امْرَأَةً رَكِبَتِ الْبَحْرَ , فَنَذَرَتْ أَنْ تَصُومَ شَهْرًا , فَمَاتَتْ , فَسَأَلَ أَخُوهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ," فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَصُومَ عَنْهَا"
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت نے سمندری سفر کیا تو اُس نے ایک ماہ کے روزے رکھنے کی نذر مانی، پھر وہ فوت ہوگئی تو اُس کے بھائی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (اُس کی نذر کے بارے میں) سوال کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے حُکم دیا کہ وہ اُس کی طرف سے روزے رکھے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2054]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1953، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1148، وابن الجارود فى "المنتقى"، 1014، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1953، 2053، 2054، 2055، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3530، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3825، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3308، 3310، والترمذي فى (جامعه) برقم: 716، 717، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1809، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1758، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8321، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2338، 2339، 2340، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1886»
اس بات کا بیان کہ نذر ماننے والے مرد یا نذر ماننے والی عورت کی طرف سے اُس کے ولی، قریبی رشتہ دار، مرد ہو یا عورت، آزاد ہو یا غلام، آزاد کردہ لونڈی ہو یا غلام، لونڈی کا روزوں کی قضا دینا جائزہے
حدیث نمبر: 2055
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الأَشَجُّ , حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ , حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ , عَنِ الْحَكَمِ , وَسَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ , وَمُسْلِمٍ الْبَطِينِ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ , وَعَطَاءٍ , وَمُجَاهِدٍ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَتْ: إِنَّ أُخْتِي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا صِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ , قَالَ:" أَرَأَيْتِ إِنْ كَانَ عَلَى أُخْتِكِ دَيْنٌ , أَكُنْتِ قَضَيْتِهِ؟" قَالَتْ: نَعَمْ. قَالَ:" فَحَقُّ اللَّهِ أَحَقُّ" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: لَمْ يَقُلْ أَحَدٌ: عَنِ الْحَكَمِ , وَسَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ إِلا هُوَ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور عرض کیا کہ میری بہن فوت ہوگئی ہے اور اس کے ذمہ دوماہ کے مسلسل روزے فرض ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے بتاؤ اگر تمہاری بہن کے ذمہ قرض ہوتا تو کیا تم اُسے ادا کرتیں؟“ اُس نے جواب دیا کہ جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اللہ کا حق ادا ئیگی کا زیادہ حقدار ہے۔“ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ جناب حکم اور سلمہ بن کبیل سے صرف انہوں (اعمش) نے ہی روایت بیان کی ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2055]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1953، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1148، وابن الجارود فى "المنتقى"، 1014، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1953، 2053، 2054، 2055، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3530، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3825، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3308، 3310، والترمذي فى (جامعه) برقم: 716، 717، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1809، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1758، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8321، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2338، 2339، 2340، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1886»
جس میت کے ذمہ فرض روزے ہوں اُس کی طرف سے روزانہ ایک مسکین کو کھانا کھلانا، بشرطیکہ روایت صحیح ہو۔ کیونکہ اشعث بن سوار رحمہ اللہ کے ُبرے حافظے کی وجہ سے میرا دل غیر مطمئن ہے
حدیث نمبر: 2056
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ , حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ التِّرْمِذِيُّ , حَدَّثَنَا عَبْثَرٌ , عَنِ أَشْعَثَ , عَنْ مُحَمَّدٍ وَهُوَ ابْنُ أَبِي لَيْلَى , عَنْ نَافِعٍ , عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ صِيَامُ شَهْرٍ فَلْيُطْعَمْ عَنْهُ مَكَانَ كُلِّ يَوْمٍ مِسْكِينًا" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذَا عِنْدِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى قَاضِي الْكُوفَةِ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:“ جو شخص فوت ہو جائے اور اُس کے ذمہ ایک ماہ کے روزے ہوں اُس کی طرف سے ہر روز ایک مسکین کو کھانا کھلا دیا جائے۔“ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ میرے نزدیک محمد بن ابی لیلیٰ سے مراد محمد بن عبدالرحمان بن ابی لیلیٰ ہے جو کوفہ کے قاضی تھے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2056]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2056، 2057، والترمذي فى (جامعه) برقم: 718، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1757، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8314، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2341»
روزے کے کفّارے میں ہر روز مسکین کو کھانا کھلانے کے ناپ کی مقدار کا بیان بشرطیکہ روایت صحیح ہو۔ کیونکہ اس سند کے بارے میں میرے دل میں عدم اطمینان ہے
حدیث نمبر: 2057
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ زِيَادٍ الضَّبِّيُّ الْوَاسِطِيُّ بِالأَيْلَةِ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , أَخْبَرَنَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى , عَنْ نَافِعٍ , عَنِ ابْنِ عُمَرَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ رَمَضَانُ لَمْ يَقْضِهِ , فَلْيُطْعَمْ عَنْهُ لِكُلِّ يَوْمٍ نِصْفَ صَاعٍ مِنْ بُرٍّ"
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص فوت ہو جائے اور اُس کے ذمہ رمضان المبارک کے روزے ہوں جو اُس نے ادا نہ کیے ہوں تو اُس کی طرف سے ہر روز ایک مسکین کو گندم کا آدھا صاع کھلا دیا جائے۔“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2057]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2056، 2057، والترمذي فى (جامعه) برقم: 718، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1757، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8314، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2341»