🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. باب إِبَاحَةِ الضَّبِّ:
باب: گوہ کا گوشت حلال ہے (یعنی سوسمار کا)۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1950 ترقیم شاملہ: -- 5042
وحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرًا عَنِ الضَّبِّ، فَقَالَ: لَا تَطْعَمُوهُ وَقَذِرَهُ، وَقَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : " إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُحَرِّمْهُ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَنْفَعُ بِهِ غَيْرَ وَاحِدٍ، فَإِنَّمَا طَعَامُ عَامَّةِ الرِّعَاءِ مِنْهُ وَلَوْ كَانَ عِنْدِي طَعِمْتُهُ ".
ابوزبیر نے کہا: میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے سانڈے کے متعلق سوال کیا، انہوں نے کہا: اسے مت کھاؤ۔ اور اس سے اظہار کراہت کیا اور بیان کیا کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حرام نہیں کیا۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے (بھی) کو نفع پہنچاتا ہے، یہ عام چرواہوں کی غذا ہے। (حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مزید کہا:) اگر یہ میرے پاس ہوتا تو میں اسے کھا لیتا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 5042]
ابو زبیر بیان کرتے ہیں، میں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہما سے ضب کے بارے میں سوال کیا؟ تو انہوں نے جواب دیا، اسے نہ کھاؤ اور اس سے کراہت کا اظہار کیا اور بتایا، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حرام قرار نہیں دیا، اللہ عزوجل بہت سے لوگوں کو اس سے نفع پہنچائے گا، اکثر چرواہوں کی خوراک بس یہی ہے اور اگر یہ میرے پاس ہوتی، تو میں اسے کھاتا (مکہ اور مدینہ میں یہ نہیں تھی)۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 5042]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1950
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1951 ترقیم شاملہ: -- 5043
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا بِأَرْضٍ مَضَبَّةٍ فَمَا تَأْمُرُنَا أَوْ فَمَا تُفْتِينَا؟ قَالَ ذُكِرَ لِي أَنَّ أُمَّةً مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ مُسِخَتْ، فَلَمْ يَأْمُرْ وَلَمْ يَنْهَ. قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ، قَالَ عُمَرُ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيَنْفَعُ بِهِ غَيْرَ وَاحِدٍ، وَإِنَّهُ لَطَعَامُ عَامَّةِ هَذِهِ الرِّعَاءِ وَلَوْ كَانَ عِنْدِي لَطَعِمْتُهُ إِنَّمَا عَافَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
داود نے ابونضرہ سے، انہوں نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ایک شخص نے عرض کی: اللہ کے رسول! ہم سانڈوں سے بھری ہوئی سرزمین میں رہتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ یا کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں کیا فتویٰ دیتے ہیں؟ مجھے بتایا گیا کہ بنو اسرائیل کی ایک امت (بڑی جماعت) مسخ کر (کے رینگنے والے جانوروں میں تبدیل کر) دی گئی تھی۔ (اس کے بعد) آپ نے نہ اجازت دی اور نہ منع فرمایا۔ حضرت ابوسعید (خدری) رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر بعد کا عہد آیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ عزوجل اس کے ذریعے سے ایک سے زیادہ لوگوں کو نفع پہنچاتا ہے۔ یہ عام چرواہوں کی غذا ہے، اگر یہ میرے پاس ہوتا تو میں اسے کھاتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو نامرغوب محسوس کیا تھا۔ (اسے حرام قرار نہیں دیا تھا۔) [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 5043]
حضرت ابوسعید رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، ایک شخص نے کہا، اے اللہ کے رسول! ہم ایسے علاقہ میں رہتے ہیں، جہاں ضب بہت ہیں، تو آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ یا آپ ہمیں کیا فتویٰ دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "مجھے بتایا گیا ہے کہ بنو اسرائیل کی ایک جماعت مسخ کر دی گئی (شاید یہ وہ ہو)۔" اس لیے آپ نے نہ حکم دیا اور نہ روکا، ابو سعید رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، اس واقعہ کے بعد، حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا، اللہ عزوجل اس سے بہت سے لوگوں کو نفع پہنچاتا ہے اور ان عام چرواہوں کی خوراک یہی ہے اور اگر میرے پاس ہوتی تو میں اسے کھاتا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو اس سے کراہت محسوس کی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 5043]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1951
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1951 ترقیم شاملہ: -- 5044
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي فِي غَائِطٍ مَضَبَّةٍ وَإِنَّهُ عَامَّةُ طَعَامِ أَهْلِي، قَالَ: فَلَمْ يُجِبْهُ، فَقُلْنَا: عَاوِدْهُ فَعَاوَدَهُ، فَلَمْ يُجِبْهُ ثَلَاثًا، ثُمَّ نَادَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الثَّالِثَةِ، فَقَالَ يَا أَعْرَابِيُّ: " إِنَّ اللَّهَ لَعَنَ أَوْ غَضِبَ عَلَى سِبْطٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ، فَمَسَخَهُمْ دَوَابَّ يَدِبُّونَ فِي الْأَرْضِ، فَلَا أَدْرِي لَعَلَّ هَذَا مِنْهَا فَلَسْتُ آكُلُهَا وَلَا أَنْهَى عَنْهَا ".
ابوعقیل دورقی نے کہا: ہمیں ابونضرہ نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں سانڈوں سے بھرے ہوئے ایک نشیبی علاقے میں رہتا ہوں اور میرے گھر والوں کی عام غذا یہی ہے۔ آپ نے اس کو کوئی جواب نہیں دیا، ہم نے اس سے کہا: دوبارہ عرض کرو، اس نے دوبارہ عرض کی، مگر آپ نے تین بار (دہرانے پر بھی) کوئی جواب نہ دیا، پھر تیسری بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو آواز دی اور فرمایا: اے اعرابی! اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے کسی گروہ پر لعنت کی یا غضب فرمایا اور ان کو زمین پر چلنے والے جانوروں کی شکل میں مسخ کر دیا۔ مجھے علم نہیں، شاید یہ انہی جانوروں میں سے ہو، (جن کی شکل میں ان لوگوں کو مسخ کیا گیا تھا) اس لیے نہ اس کو کھاتا ہوں اور نہ اس سے روکتا ہوں۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 5044]
حضرت ابوسعید رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگا، میں ایک نشیبی، ضب والی زمین میں رہتا ہوں اور یہ میرے گھر والوں کا عمومی کھانا ہے، آپ نے اسے کوئی جواب نہ دیا، تو ہم نے کہا، آپ سے دوبارہ پوچھیں، اس نے آپ سے دوبارہ پوچھا، تو آپ نے اسے جواب نہ دیا، تین دفعہ ایسے ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری دفعہ آواز دی اور فرمایا: اے اعرابی! اللہ تعالیٰ نے بنو اسرائیل کے ایک خاندان پر لعنت بھیجی، یا ان سے ناراض ہوا اور انہیں جانوروں کی صورت میں مسخ کر دیا، وہ زمین میں چلتے ہیں، میں نہیں جانتا، شاید یہ ان میں سے ہو، اس لیے میں اسے نہیں کھاتا اور اسے روکتا بھی نہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 5044]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1951
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
8. باب إِبَاحَةِ الْجَرَادِ:
باب: ٹڈی کھانا درست ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1952 ترقیم شاملہ: -- 5045
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى ، قَالَ: " غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ غَزَوَاتٍ نَأْكُلُ الْجَرَادَ ".
ابوعوانہ نے ابویعفور سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوات میں شامل ہوئے (جن کے دوران میں) ہم ٹڈیاں کھاتے رہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 5045]
حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں، ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سات غزوات میں شرکت کی، ہم مکڑی کھاتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 5045]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1952
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1952 ترقیم شاملہ: -- 5046
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ جَمِيعًا، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ فِي رِوَايَتِهِ: سَبْعَ غَزَوَاتٍ، وقَالَ إِسْحَاقُ: سِتَّ، وقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ: سِتَّ أَوْ سَبْعَ.
ابوبکر بن ابی شیبہ، اسحاق بن ابراہیم اور ابن ابی عمر سب نے ابن عینیہ سے، انہوں نے ابویعفور سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی۔ ابوبکر نے اپنی روایت میں سات جنگیں کہا، اسحاق نے چھ اور ابن ابی عمر نے چھ یا سات کہا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 5046]
امام صاحب یہ روایت اپنے مختلف اساتذہ سے بیان کرتے ہیں، ابوبکر کی روایت میں سات غزوات ہے اور اسحاق کی روایت میں چھ ہے اور ابن ابی عمر کی روایت میں چھ یا سات ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 5046]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1952
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1952 ترقیم شاملہ: -- 5047
وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ كِلَاهُمَا، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ سَبْعَ غَزَوَاتٍ.
شعبہ نے ابویعفور سے یہ حدیث اسی سند سے روایت کی اور انہوں نے سات غزوات کہا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 5047]
امام صاحب یہ روایت اپنے دو اساتذہ سے بیان کرتے ہیں، اس میں "سات غزوات" ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 5047]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1952
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
9. باب إِبَاحَةِ الأَرْنَبِ:
باب: خرگوش حلال ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1953 ترقیم شاملہ: -- 5048
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: " مَرَرْنَا فَاسْتَنْفَجْنَا أَرْنَبًا بِمَرِّ الظَّهْرَانِ، فَسَعَوْا عَلَيْهِ فَلَغَبُوا، قَالَ: فَسَعَيْتُ حَتَّى أَدْرَكْتُهَا، فَأَتَيْتُ بِهَا أَبَا طَلْحَةَ فَذَبَحَهَا فَبَعَثَ بِوَرِكِهَا وَفَخِذَيْهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَيْتُ بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَبِلَهُ ".
محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے ہشام بن زید سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ہم جا رہے تھے کہ (مقام) مرالظہران میں ایک خرگوش دیکھا تو اس کا پیچھا کیا۔ پہلے لوگ اس پر دوڑے لیکن تھک گئے پھر میں دوڑا تو میں نے پکڑ لیا اور سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس لایا۔ انہوں نے اس کو ذبح کیا اور اس کا پٹھ اور دونوں رانیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجیں۔ میں لے کر آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو لے لیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 5048]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، کہ ہم مر الظھران سے گزرے اور وہاں ہم نے ایک خرگوش کو اٹھایا، صحابہ کرام اس کے پیچھے دوڑے اور تھک ہار گئے اور میں نے دوڑ کر اس کو پکڑ لیا اور اسے حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس لایا، انہوں نے اس کو ذبح کیا اور اس کی سرین اور دونوں ران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بھیجے اور میں انہیں لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبول فرما لیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 5048]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1953
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1953 ترقیم شاملہ: -- 5049
وحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ . ح وحَدَّثَنِي يَحْيَي بْنُ حَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ كِلَاهُمَا، عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَفِي حَدِيثِ يَحْيَى بِوَرِكِهَا أَوْ فَخِذَيْهَا.
یحییٰ بن یحییٰ اور خالد بن حارث دونوں نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کی، یحییٰ کی حدیث میں: اس کا پچھلا حصہ یا اس کی دونوں رانوں کے الفاظ ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 5049]
امام صاحب یہ روایت اپنے دو اور اساتذہ سے بیان کرتے ہیں، یحییٰ کی حدیث میں ہے، اس کی سرین یا اس کے دونوں ران۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 5049]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1953
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
10. باب إِبَاحَةِ مَا يُسْتَعَانُ بِهِ عَلَى الاِصْطِيَادِ وَالْعَدُوِّ وَكَرَاهَةِ الْخَذْفِ:
باب: شکار کے لیے اور دوڑنے کے لیے جو سامان ضروری ہو وہ درست ہے لیکن چھوٹی چھوٹی کنکریاں پھینکنا درست ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1954 ترقیم شاملہ: -- 5050
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا كَهْمَسٌ ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، قَالَ: رَأَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُغَفَّلِ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِهِ يَخْذِفُ، فَقَالَ لَهُ: " لَا تَخْذِفْ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَكْرَهُ، أَوَ قَالَ: يَنْهَى عَنِ الْخَذْفِ، فَإِنَّهُ لَا يُصْطَادُ بِهِ الصَّيْدُ وَلَا يُنْكَأُ بِهِ الْعَدُوُّ وَلَكِنَّهُ يَكْسِرُ السِّنَّ وَيَفْقَأُ الْعَيْنَ، ثُمَّ رَآهُ بَعْدَ ذَلِكَ يَخْذِفُ، فَقَالَ لَهُ: أُخْبِرُكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَكْرَهُ أَوْ يَنْهَى عَنِ الْخَذْفِ ثُمَّ أَرَاكَ تَخْذِفُ، لَا أُكَلِّمُكَ كَلِمَةً كَذَا وَكَذَا "،
معاذ عنبری نے کہا: ہمیں کہمس نے ابن بریدہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں میں سے ایک شخص کو کنکر سے (کسی چیز کو) نشانہ بناتے ہوئے دیکھا تو کہا: کنکر سے نشانہ مت بناؤ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے ناپسند فرماتے تھے۔ یا کہا: کنکر مارنے سے منع فرماتے تھے، کیونکہ اس کے ذریعے سے نہ کوئی شکار مارا جا سکتا ہے۔ نہ دشمن کو (پیچھے) دھکیلا جا سکتا ہے یہ (صرف) دانت توڑتا ہے یا آنکھ پھوڑتا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے اس شخص کو پھر کنکر مارتے دیکھا تو اس سے کہا: میں تمہیں بتاتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے ناپسند فرماتے تھے یا (کہا:) آپ اس سے منع فرماتے تھے، پھر میں تمہیں دیکھتا ہوں کہ تم کنکر مار رہے ہو! میں اتنا اتنا (عرصہ) تم سے ایک جملہ تک نہ کہوں گا (بات تک نہ کروں گا)۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 5050]
حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے ساتھیوں سے ایک آدمی کو انگلیوں میں رکھ کر کنکر پھینکتے ہوئے دیکھا، تو اسے کہا، کنکر نہ پھینکو، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو ناپسند کرتے تھے، یا کہا، خذف سے منع کرتے تھے، کیونکہ اس سے نہ شکار کیا جا سکتا ہے اور نہ دشمن ہی کو تکلیف پہنچائی جا سکتی ہے، لیکن یہ دانت توڑتا ہے اور آنکھ پھوڑتا ہے، پھر اس کے بعد پھر اسے کنکر پھینکتے دیکھا، تو اسے کہا، میں نے تمہیں آگاہ کیا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کنکر پھینکنے کو ناپسند کرتے تھے یا اس سے منع کرتے تھے، پھر میں تمہیں کنکر پھینکتے دیکھ رہا ہوں، میں تم سے اتنا اتناعرصہ گفتگو نہیں کروں گا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 5050]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1954
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1954 ترقیم شاملہ: -- 5051
حَدَّثَنِي أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ مَعْبَد ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، أَخْبَرَنَا كَهْمَسٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
عثمان بن عمر نے کہا: ہمیں کہمس نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند خبر دی۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 5051]
امام صاحب ایک اور استاد سے یہی روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 5051]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1954
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں