🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. باب إِبَاحَةِ مَا يُسْتَعَانُ بِهِ عَلَى الاِصْطِيَادِ وَالْعَدُوِّ وَكَرَاهَةِ الْخَذْفِ:
باب: شکار کے لیے اور دوڑنے کے لیے جو سامان ضروری ہو وہ درست ہے لیکن چھوٹی چھوٹی کنکریاں پھینکنا درست ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1954 ترقیم شاملہ: -- 5052
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ صُهْبَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْخَذْفِ "، قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ فِي حَدِيثِهِ، وَقَالَ: إِنَّهُ لَا يَنْكَأُ الْعَدُوَّ وَلَا يَقْتُلُ الصَّيْدَ وَلَكِنَّهُ يَكْسِرُ السِّنَّ وَيَفْقَأُ الْعَيْنَ، وقَالَ ابْنُ مَهْدِيٍّ: إِنَّهَا لَا تَنْكَأُ الْعَدُوَّ وَلَمْ يَذْكُرْ تَفْقَأُ الْعَيْنَ.
محمد بن جعفر اور عبدالرحمان بن مہدی نے کہا: ہمیں شعبہ نے قتادہ سے انہوں نے عقبہ بن صہیان سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکر مارنے سے منع فرمایا۔ ابن جعفر نے اپنی روایت میں یہ بیان کیا کہ آپ نے فرمایا: یہ نہ دشمن کو ہلاک کرتا ہے، نہ شکار مارتا ہے، بس دانت توڑتا ہے اور آنکھ پھوڑتا ہے۔ اور ابن مہدی نے (اپنی روایت میں) کہا: یہ (کنکر، روڑا) دشمن کو ہلاک نہیں کرتا (انہوں نے) آنکھ پھوڑنے کا ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 5052]
حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خذف سے منع فرمایا، ابن جعفر کی حدیث میں ہے کیونکہ یہ نہ دشمن کو زخمی کرتا ہے اور نہ شکار کو قتل کرتا ہے، لیکن یہ دانت توڑ دیتا ہے اور آنکھ پھوڑ دیتا ہے، ابن مھدی کہتے ہیں، یہ دشمن کو زخمی نہیں کرتا، آنکھ پھوڑنے کا ذکر نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 5052]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1954
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1954 ترقیم شاملہ: -- 5053
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، أَنَّ قَرِيبًا لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ خَذَفَ، قَالَ: فَنَهَاهُ، وَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الْخَذْفِ، وَقَالَ: إِنَّهَا لَا تَصِيدُ صَيْدًا وَلَا تَنْكَأُ عَدُوًّا، وَلَكِنَّهَا تَكْسِرُ السِّنَّ وَتَفْقَأُ الْعَيْنَ "، قَالَ: فَعَادَ، فَقَالَ: أُحَدِّثُكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُ ثُمَّ تَخْذِفُ لَا أُكَلِّمُكَ أَبَدًا.
اسماعیل بن علیہ نے ایوب سے، انہوں نے سعید بن جبیر سے روایت کی کہ حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کے کسی قریبی شخص نے کنکر سے نشانہ لگایا۔ انہوں نے اس کو منع کیا اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکر کے ساتھ نشانہ بنانے سے منع فرمایا ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ نہ کسی جانور کو شکار کرتا ہے، نہ دشمن کو ہلاک کرتا ہے، البتہ یہ دانت توڑتا ہے۔ اور آنکھ پھوڑتا ہے۔ (سعید نے) کہا: اس شخص نے دوبارہ یہی کیا تو حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے تم کو حدیث سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے اور تم پھر کنکر مار رہے ہو! میں تم سے کبھی بات نہیں کروں گا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 5053]
سعید بن جبیر سے روایت ہے، حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ تعالی عنہ کے ایک رشتہ دار نے کنکر پھینکا، تو انہوں نے اسے منع کیا اور کہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خذف سے منع کرتے ہوئے فرمایا: نہ یہ کسی قسم کا شکار کرتا ہے اور نہ دشمن کو شکست دیتا ہے لیکن یہ دانت توڑ دیتا ہے اور آنکھ پھوڑ دیتا ہے اس نے دوبارہ یہ حرکت کی تو کہا، میں نے تمہیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے، پھر تم خذف کر رہے ہو، میں تم سے کبھی کلام نہیں کروں گا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 5053]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1954
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1954 ترقیم شاملہ: -- 5054
وحَدَّثَنَاه ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا الثَّقَفِيُّ ، عَنْ أَيُّوبَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
ثقفی نے ایوب سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 5054]
امام صاحب ایک اور استاد سے یہی روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 5054]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1954
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
11. باب الأَمْرِ بِإِحْسَانِ الذَّبْحِ وَالْقَتْلِ وَتَحْدِيدِ الشَّفْرَةِ:
باب: ذبح یا قتل اچھی طرح کرنا چاہیئے اور چھری کو تیز کر لینا چاہیئے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1955 ترقیم شاملہ: -- 5055
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ ، قَالَ: ثِنْتَانِ حَفِظْتُهُمَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ الْإِحْسَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ، فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ، وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذَّبْحَ وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ، فَلْيُرِحْ ذَبِيحَتَهُ ".
اسماعیل بن علیہ نے خالد حذاء سے، انہوں نے ابوقلابہ سے، انہوں نے ابواشعث سے اور انہوں نے حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: دو باتیں ہیں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یاد رکھی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کے ساتھ سب سے اچھا طریقہ اختیار کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس لیے جب تم (قصاص یا حد میں کسی کو) قتل کرو تو اچھے طریقے سے قتل کرو، اور جب ذبح کرو تو اچھے طریقے سے ذبح کرو، تم میں سے ایک شخص (جو ذبح کرنا چاہتا ہے) وہ اپنی (چھری کی) دھار کو تیز کر لے اور ذبح کیے جانے والے جانور کو اذیت سے بچائے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 5055]
حضرت شداد بن اوس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے دو باتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یاد رکھی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کے ساتھ اچھا سلوک کرنا لازم ٹھہرایا ہے، سو جب تم قتل کرو، تو اچھے طریقے سے قتل کرو اور جب تم ذبح کرو تو اچھے انداز سے ذبح کرو، تم میں سے ہر شخص کو اپنی چھری تیز کرنی چاہیے اور ذبیحہ کو آرام پہنچانا چاہیے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 5055]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1955
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1955 ترقیم شاملہ: -- 5056
وحَدَّثَنَاه يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ سُفْيَانَ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ كُلُّ هَؤُلَاءِ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ بِإِسْنَادِ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ وَمَعْنَى حَدِيثِهِ.
ہشیم، عبدالوہاب ثقفی، شعبہ، سفیان اور منصور، سب نے خالد حذاء سے ابن علیہ کی سند سے اور اس کی حدیث کے ہم معنی حدیث روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 5056]
امام صاحب نے اپنے بہت سارے اساتذہ سے، خالد حذاء کی سند سے، اس کے ہم معنی روایت بیان کی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 5056]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1955
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12. باب النَّهْيِ عَنْ صَبْرِ الْبَهَائِمِ:
باب: جانوروں کو باندھ کر مارنا منع ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1956 ترقیم شاملہ: -- 5057
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ زَيْدِ بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ جَدِّي أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ دَارَ الْحَكَمِ بْنِ أَيُّوبَ، فَإِذَا قَوْمٌ قَدْ نَصَبُوا دَجَاجَةً يَرْمُونَهَا، قَالَ: فَقَالَ أَنَسٌ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُصْبَرَ الْبَهَائِمُ ".
محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی، کہا: میں نے ہشام بن زید بن انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا: میں اپنے دادا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے ساتھ حکم بن ایوب کے ہاں آیا، وہاں کچھ لوگ تھے، انہوں نے ایک مرغی کو باندھ کر حدف بنایا ہوا تھا (اور) اس پر تیر اندازی کی مشق کر رہے تھے، کہا: حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ جانوروں کو باندھ کر مارا جائے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 5057]
ہشام بن زید بن انس بن مالک بیان کرتے ہیں، میں اپنے دادا حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ کے ساتھ حکم بن ایوب کے گھر گیا، دیکھا کچھ لوگ مرغی کو گاڑ کر اس کو تیروں کا نشانہ بنا رہے ہیں، تو حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حیوانات کو باندھ کر مارنے سے منع فرمایا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 5057]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1956
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1956 ترقیم شاملہ: -- 5058
وحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ سَعِيدٍ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ . ح وحَدَّثَنِي يَحْيَي بْنُ حَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ كُلُّهُمْ، عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ.
یحییٰ بن سعید، عبدالرحمان بن مہدی، خالد بن حارث اور ابواسامہ، سب نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 5058]
امام صاحب یہی روایت اپنے دو اور اساتذہ سے شعبہ ہی کی سند سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 5058]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1956
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1956 ترقیم شاملہ: -- 5059
وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَدِيٍّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَتَّخِذُوا شَيْئًا فِيهِ الرُّوحُ غَرَضًا ".
عبیداللہ کے والد معاذ نے کہا: ہمیں شعبہ نے عدی (بن ثابت انصاری) سے حدیث بیان کی، انہوں نے سعید بن جبیر سے، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی روح والی چیز کو (نشانہ بازی کا) ہدف مت بناؤ۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 5059]
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی جاندار چیز کو تختہ مشق نہ بناؤ، یا اس کو ہدف نہ بناؤ۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 5059]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1956
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1957 ترقیم شاملہ: -- 5060
محمد بن جعفر اور عبدالرحمان بن مہدی نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 5060]
امام صاحب یہی روایت ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 5060]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1957
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1958 ترقیم شاملہ: -- 5061
وحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، وَاللَّفْظُ لأَبِي كَامِلٍ، قَالا: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ: مَرَّ ابْنُ عُمَرَ بِنَفَرٍ قَدْ نَصَبُوا دَجَاجَةً يَتَرَامَوْنَهَا، فَلَمَّا رَأَوْا ابْنَ عُمَرَ تَفَرَّقُوا عَنْهَا، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : " مَنْ فَعَلَ هَذَا؟ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ مَنْ فَعَلَ هَذَا ".
ابوعوانہ نے ابوبشر سے، انہوں نے سعید بن جبیر سے روایت کی، کہا: ایک مرتبہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کا چند لوگوں کے قریب سے گزرا ہوا جو ایک مرغی کو سامنے باندھ کر اس پر تیر اندازی کر رہے تھے، جب انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا تو اسے چھوڑ کر منتشر ہو گئے، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ کام کس کا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص پر لعنت کی ہے جو ایسا کام کرے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 5061]
حضرت سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما کچھ لوگوں کے پاس گزرے، انہوں نے ایک مرغی گاڑ کر اپنے تیروں کا نشانہ بنایا ہوا تھا، (اس پر تیر اندازی کر رہے تھے) تو جب انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما کو دیکھا تو اس سے منتشر ہو گئے، تو حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما نے پوچھا، یہ حرکت کس نے کی؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کام کرنے والے پر لعنت بھیجی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 5061]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1958
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں