صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
5. باب بَيَانِ مَا كَانَ مِنَ النَّهْيِ عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلاَثٍ فِي أَوَّلِ الإِسْلاَمِ وَبَيَانِ نَسْخِهِ وَإِبَاحَتِهِ إِلَى مَتَى شَاءَ:
باب: ابتدائے اسلام میں، تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے سے ممانعت اور اس کے منسوخ ہونے اور زائد از تین دن کھانے کی حلت کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1972 ترقیم شاملہ: -- 5104
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ " نَهَى عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الضَّحَايَا بَعْدَ ثَلَاثٍ، ثُمَّ قَالَ: بَعْدُ كُلُوا وَتَزَوَّدُوا وَادَّخِرُوا ".
ابوزبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن کے بعد قربانیوں کا گوشت کھانے سے منع فرمایا تھا پھر اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا: ”کھاؤ اور زاد راہ بناؤ اور رکھو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأضاحي/حدیث: 5104]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن کے بعد قربانیوں کا گوشت کھانے سے منع کیا، پھر بعد میں فرمایا: ”کھاؤ، زادِ راہ بناؤ اور ذخیرہ کرو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأضاحي/حدیث: 5104]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1972
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1972 ترقیم شاملہ: -- 5105
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ كِلَاهُمَا، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنَا عَطَاءٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: " كُنَّا لَا نَأْكُلُ مِنْ لُحُومِ بُدْنِنَا فَوْقَ ثَلَاثِ مِنًى، فَأَرْخَصَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: كُلُوا وَتَزَوَّدُوا "، قُلْتُ لِعَطَاءٍ: قَالَ جَابِرٌ حَتَّى جِئْنَا الْمَدِينَةَ، قَالَ: نَعَمْ.
ابن جریج نے کہا: ہمیں عطاء نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا: (پہلے) ہم منیٰ کے تین دنوں سے زیادہ اپنے اونٹوں کی قربانیوں کا گوشت نہیں کھاتے تھے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اجازت دے دی اور فرمایا: ”کھاؤ اور ساتھ لے جاؤ۔ (اور صدقہ کرو جس طرح دوسری احادیث میں ہے۔)“ میں نے عطاء سے کہا: حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے یہ کہا تھا کہ یہاں تک کہ ہم مدینہ آگئے؟ (مدینہ تک پہنچنے کے آٹھ دنوں تک بطور زاد راہ استعمال کرتے رہے؟) انہوں نے کہا: ہاں۔ [صحيح مسلم/كتاب الأضاحي/حدیث: 5105]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1972
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1972 ترقیم شاملہ: -- 5106
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ عَدِيٍّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " كُنَّا لَا نُمْسِكُ لُحُومَ الْأَضَاحِيِّ فَوْقَ ثَلَاثٍ، " فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَتَزَوَّدَ مِنْهَا وَنَأْكُلَ مِنْهَا يَعْنِي فَوْقَ ثَلَاثٍ ".
زید بن ابی انیسہ نے عطاء بن ابی رباح سے، انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ہم تین دن سے زیادہ قربانیوں کا گوشت نہیں رکھتے تھے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اس میں سے زاد راہ بنائیں اور اس سے کھائیں، یعنی تین سے زیادہ (دنوں تک)۔ [صحيح مسلم/كتاب الأضاحي/حدیث: 5106]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہم قربانیوں کا گوشت (مراد ہدایا حج کی قربانی) تین دن سے زائد نہیں رکھتے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ”اس سے زادِ راہ بنانے اور تین دن سے زائد کھانے“ کا حکم دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الأضاحي/حدیث: 5106]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1972
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1972 ترقیم شاملہ: -- 5107
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: كُنَّا نَتَزَوَّدُهَا إِلَى الْمَدِينَةِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
عمرو (بن دینار) نے عطاء سے، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں قربانیوں کا گوشت زاد راہ کے طور پر مدینہ تک ساتھ لے جاتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الأضاحي/حدیث: 5107]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں حج کی ہدی کا گوشت مدینہ کی طرف جاتے وقت زادِ راہ بنا لیا کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الأضاحي/حدیث: 5107]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1972
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1973 ترقیم شاملہ: -- 5108
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ لَا تَأْكُلُوا لُحُومَ الْأَضَاحِيِّ فَوْقَ ثَلَاثٍ "، وقَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ فَشَكَوْا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ لَهُمْ عِيَالًا وَحَشَمًا وَخَدَمًا، فَقَالَ: " كُلُوا وَأَطْعِمُوا وَاحْبِسُوا أَوِ ادَّخِرُوا "، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: شَكَّ عَبْدُ الْأَعْلَى.
ابوبکر بن ابی شیبہ نے کہا: ہمیں عبدالاعلیٰ نے جریری سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابونضرہ سے، انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، نیز محمد بن مثنیٰ نے کہا: ہمیں عبدالاعلیٰ نے حدیث بیان کی، ہمیں سعید نے قتادہ سے، انہوں نے ابونضرہ سے، انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”مدینہ والو! قربانیوں کا گوشت تین (دنوں۔ راتوں) سے زیادہ نہ کھاتے رہو۔“ ابن مثنیٰ نے (صراحت سے) ”تین دن (سے زیادہ)“ کہا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ شکایت کی کہ ہمارے بال بچے اور نوکر چاکر ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”کھاؤ اور کھلاؤ اور روک کر رکھو یا (فرمایا:) ذخیرہ کرو۔“ ابن مثنیٰ نے کہا: عبدالاعلیٰ کو (ان دو لفظوں میں) شک ہے (کہ آپ نے ”روک کر رکھو“ فرمایا، یا ”ذخیرہ کرو“ فرمایا)۔ [صحيح مسلم/كتاب الأضاحي/حدیث: 5108]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1973
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1974 ترقیم شاملہ: -- 5109
حَدَّثَنَا إِسْحاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ ضَحَّى مِنْكُمْ فَلَا يُصْبِحَنَّ فِي بَيْتِهِ بَعْدَ ثَالِثَةٍ شَيْئًا "، فَلَمَّا كَانَ فِي الْعَامِ الْمُقْبِلِ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَفْعَلُ كَمَا فَعَلْنَا عَامَ أَوَّلَ، فَقَالَ: " لَا إِنَّ ذَاكَ عَامٌ كَانَ النَّاسُ فِيهِ بِجَهْدٍ فَأَرَدْتُ أَنْ يَفْشُوَ فِيهِمْ ".
حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جو شخص قربانی کرے تو تین دن کے بعد اس کے گھر میں (اس گوشت میں سے) کوئی چیز نہ رہے۔“ جب اگلے سال (میں عید کا دن) آیا تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کی: اللہ کے رسول! کیا ہم اسی طرح کریں جس طرح پچھلے سال کیا تھا؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں، وہ ایسا سال تھا کہ اس میں لوگ سخت ضرورت مند تھے تو میں نے چاہا کہ (قربانی کا گوشت) ان میں پھیل (کر ہر ایک تک پہنچ) جائے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأضاحي/حدیث: 5109]
حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جس نے قربانی کی ہے، تیسرے دن کے بعد اس کے گھر میں گوشت کا کوئی ٹکڑا نہ رہے“، تو جب اگلا سال آیا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہم پچھلے سال کی طرح کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، پچھلے سال تو لوگ مشقت (بھوک) میں مبتلا تھے، تو میں نے چاہا کہ ان میں گوشت پھیل جائے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأضاحي/حدیث: 5109]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1974
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1975 ترقیم شاملہ: -- 5110
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ: ذَبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحِيَّتَهُ، ثُمَّ قَالَ يَا ثَوْبَانُ: " أَصْلِحْ لَحْمَ هَذِهِ "، فَلَمْ أَزَلْ أُطْعِمُهُ مِنْهَا حَتَّى قَدِمَ الْمَدِينَةَ.
معن بن عیسیٰ نے کہا: ہمیں معاویہ بن صالح نے ابوزاہریہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے جبیر بن نفیر سے، انہوں نے حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اپنے قربانی کے جانوروں میں سے) قربانی کا ایک جانور ذبح کر کے فرمایا: ”ثوبان! اس کے گوشت کو درست کر لو (ساتھ لے جانے کے لیے تیار کر لو۔)“ پھر میں وہ گوشت آپ کو کھلاتا رہا یہاں تک کہ آپ مدینہ تشریف لے آئے۔ [صحيح مسلم/كتاب الأضاحي/حدیث: 5110]
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قربانی ذبح کی، پھر فرمایا: ”اے ثوبان! اس گوشت کو درست کرو (تاکہ ذخیرہ ہو سکے)۔“ اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ پہنچنے تک اس میں سے کھلاتا رہا۔ [صحيح مسلم/كتاب الأضاحي/حدیث: 5110]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1975
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1975 ترقیم شاملہ: -- 5111
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ رَافِعٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ كِلَاهُمَا، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ.
زید بن حباب اور عبدالرحمان بن مہدی دونوں نے معاویہ بن صالح سے اسی سند کے ساتھ روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الأضاحي/حدیث: 5111]
امام صاحب رحمہ اللہ اپنے تین اساتذہ سے یہی روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الأضاحي/حدیث: 5111]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1975
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1975 ترقیم شاملہ: -- 5112
وحَدَّثَنِي إِسْحاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُسْهِرٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ حَمْزَةَ ، حَدَّثَنِي الزُّبَيْدِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ: " أَصْلِحْ هَذَا اللَّحْمَ "، قَالَ: فَأَصْلَحْتُهُ فَلَمْ يَزَلْ يَأْكُلُ مِنْهُ حَتَّى بَلَغَ الْمَدِينَةَ.
ابومسہر نے کہا: ہمیں یحییٰ بن حمزہ نے حدیث بیان کی، کہا: مجھے زبیدی نے عبدالرحمان بن جبیر بن نفیر سے حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر مجھ سے فرمایا: ”اس گوشت کو (ساتھ لے جانے کے لیے) درست کر لو۔“ انہوں نے کہا: پھر میں نے اس کو تیار کیا اور آپ اس گوشت کو تناول فرماتے رہے یہاں تک کہ مدینہ پہنچ گئے۔ [صحيح مسلم/كتاب الأضاحي/حدیث: 5112]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا: ”اس گوشت کو درست کر لو۔“ میں نے اس کو ٹھیک کر کے رکھ دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے مدینہ پہنچنے تک کھاتے رہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الأضاحي/حدیث: 5112]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1975
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1975 ترقیم شاملہ: -- 5113
وحَدَّثَنِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ حَمْزَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يَقُلْ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ.
محمد بن مبارک نے کہا: ہمیں یحییٰ بن حمزہ نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور ”حجۃ الوداع میں“ کے الفاظ نہیں کہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الأضاحي/حدیث: 5113]
امام صاحب یہی روایت ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں، اس میں حجۃ الوداع کا ذکر نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الأضاحي/حدیث: 5113]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1975
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة