🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
253. باب صلاة العيدين
باب: نماز عیدین کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 505
505 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: شَهِدْتُ الْفِطْرَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ يُصَلُّونَهَا قَبْلَ الْخُطْبَةِ، ثَمَّ يُخْطَبُ بَعْد خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ حينَ يُجْلِسُ بِيَدِهِ، ثُمَّ أَقْبَلَ يَشُقُّهُمْ، حَتَّى جَاءَ النِّسَاءَ، مَعَهُ بِلاَلٌ فَقَالَ: (يَأَيُّهَا النَّبيُّ إِذَا جَاءَكَ الْمُؤمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ) الآيَةَ ثُمَّ قَالَ حينَ فَرَغَ مِنْهَا: آنْتُنَّ عَلَى ذلِكِ فَقَالَتِ امْرَأَةٌ وَاحِدَةٌ مِنْهُنَّ، لَمْ يُجِبْهُ غَيْرُهَا: نَعَمْ قَالَ: فَتَصَدَّقْنَ فَبَسَطَ بِلاَلٌ ثَوْبَهُ، ثُمَّ قَالَ: هَلُمَّ لَكُنَّ فِدَاءً أَبِي وَأُمِّي فَيُلْقِينَ الْفَتَخَ وَالْخَوَاتِيمَ فِي ثَوْبِ بِلاَلٍ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہم کے ساتھ عید الفطر کی نماز پڑھی ہے، یہ سب حضرات خطبہ سے پہلے نماز پڑھتے اور بعد میں خطبہ دیتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (منبر سے) اٹھے، میری نظروں کے سامنے وہ منظر ہے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو ہاتھ کے اشارے سے بٹھا رہے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم صفوں سے گزرتے ہوئے عورتوں کی طرف آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ تھے، آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿اے نبی! جب تمہارے پاس مومن عورتیں بیعت کے لیے آئیں کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں گی، چوری نہ کریں گی، زنا کاری نہ کریں گی، اپنی اولادوں کو نہ مار ڈالیں گی اور کوئی ایسا بہتان نہ باندھیں گی جو خود اپنے ہاتھوں پیروں کے سامنے گھڑ لیں اور کسی امر شرعی میں تیری نافرمانی نہ کریں گی، تو تو ان سے بیعت کر لیا کر اور ان کے لیے اللہ سے بخشش طلب کر، بے شک اللہ تعالیٰ بخشش اور معافی کرنے والا ہے﴾ [سورة الممتحنة: 12] ۔ پھر جب خطبہ سے فارغ ہوئے تو فرمایا: کیا تم ان باتوں پر قائم ہو؟ ایک عورت نے جواب دیا کہ ہاں، ان کے علاوہ کوئی عورت نہ بولی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیرات کے لیے حکم فرمایا اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے اپنا کپڑا پھیلا دیا اور کہا کہ لاؤ، تم پر میرے ماں باپ فدا ہوں، چنانچہ عورتیں چھلے اور انگوٹھیاں سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں ڈالنے لگیں۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 505]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 13 كتاب العيدين: 19 باب موعظة الإمام النساء يوم العيد»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 506
506 صحيح حديث جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفِطْرِ فَصَلَّى، فَبَدَأَ بِالصَّلاَةِ، ثُمَّ خَطَبَ، فَلَمَّا فَرَغَ نَزَلَ فَأَتَى النِّسَاءَ فَذَكَّرَهُنَّ، وَهُوَ يَتَوَكَّأُ عَلَى يَدِ بِلاَلٍ، وَبِلاَلٌ بَاسِطٌ ثَوْبَهُ، يُلْقِي فِيهِ النِّسَاءُ الصَّدَقَةَ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عید الفطر کی نماز پڑھی، پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی اور بعد میں خطبہ دیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ سے فارغ ہو گئے تو اترے اور عورتوں کی طرف آئے پھر انہیں نصیحت فرمائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے ہاتھ کا سہارا لیے ہوئے تھے اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے اپنا کپڑا پھیلا رکھا تھا جس میں عورتیں صدقہ ڈال رہی تھیں۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 506]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 13 كتاب العيدين: 19 موعظة الإمام النساء يوم العيد»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 507
507 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالاَ: لَمْ يَكُنْ يُؤَذَّنُ يَوْمَ الْفِطْرِ وَلاَ يَوْمَ الأَضْحَى
سیدنا ابن عباس اور سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ عید الفطر یا عید الاضحی کی نماز کے لیے (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کے عہد میں) اذان نہیں دی جاتی تھی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 507]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 13 كتاب العيدين: 7 باب المشي والركوب إلى العيد، والصلاة قبل الخطبة بغير أذان ولا إقامة»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 508
508 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ أَرْسَلَ إِلَى ابْنِ الزُّبَيْرِ فِي أَوَّلِ مَا بُويِعَ لَهُ، إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ يُؤَذَّنُ بِالصَّلاَةِ يَوْمَ الْفِطْرِ، وَإِنَّمَا الْخُطْبَةُ بَعْدَ الصَّلاَةِ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے پاس ایک شخص کو اس زمانے میں بھیجا جب (شروع شروع ان کی خلافت کا زمانہ تھا) (آپ نے کہلایا) عید الفطر کی نماز کے لیے اذان نہیں دی جاتی تھی اور خطبہ نماز کے بعد ہوتا تھا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 508]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 13 كتاب العيدين: 7 باب المشي والركوب إلى العيد، والصلاة قبل الخطبة بغير أذان ولا إقامة»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 509
509 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ: قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرَ، يُصَلُّونَ الْعِيدَيْنِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ عیدین کی نماز خطبہ سے پہلے پڑھا کرتے تھے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 509]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 13 كتاب العيدين: 8 باب الخطبة بعد العيد»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 510
510 صحيح حديث أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: كَانَ رَسُول اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ يَوْمَ الْفِطْرِ وَالأَضْحَى إِلَى الْمُصَلَّى، فَأَوَّلُ شَيْءٍ يَبْدأُ بِهِ الصَّلاَةُ، ثُمَّ يَنْصَرِفُ فَيَقُومُ مُقَابِلَ النَّاسِ، وَالنَّاسُ جُلُوسٌ عَلَى صُفُوفِهِمْ، فَيَعِظُهُمْ وَيُوصِيهِمْ وَيَأْمُرُهُمْ، فَإِنْ كَانَ يُريدُ أَنْ يَقْطَعَ بَعْثًا، قَطَعَهُ؛ أَوْ يَأْمُرَ بِشَيْءٍ، أَمَرَ بِهِ؛ ثُمَّ يَنْصَرِف قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: فَلَمْ يَزَلِ النَّاسُ عَلَى ذلِكَ حَتَّى خَرَجْتُ مَعَ مَرْوَانَ، وَهُوَ أَميرُ الْمَديِنةِ، فِي أَضْحًى أَوْ فِطْرٍ، فَلَمَّا أَتَيْنَا الْمُصَلَّى إِذَا مِنْبَرٌ بَنَاهُ كَثيرُ بْنُ الصَّلْتِ، فَإِذَا مَرْوَانُ يُريدُ أَنْ يَرْتَقِيَهُ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ، فَجَبَذْتُ بِثَوْبِهِ، فَجَبَذَنِي، فَارْتَفَعَ فَخَطَبَ قَبْلَ الصَّلاَةِ؛ فَقُلْتُ لَهُ: غَيَّرْتُمْ وَاللهِ فَقَالَ: أَبَا سَعِيدٍ قَدْ ذَهَبَ مَا تَعْلَمُ؛ فَقُلْتُ: مَا أَعْلَمُ، وَاللهِ خَيْرٌ مِمَّا لاَ أَعْلَمُ، فَقَالَ: إِنَّ النَّاسَ لَمْ يَكُونُوا يَجْلِسُونَ لَنَا بَعْدَ الصَّلاَةِ فَجَعَلْتُهَا قَبْلَ الصَّلاَةِ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر اور عید الاضحیٰ کے دن (مدینہ کے باہر) عید گاہ تشریف لے جاتے تو سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھاتے، نماز سے فارغ ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے سامنے کھڑے ہوتے، تمام لوگ اپنی صفوں میں بیٹھے رہتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں وعظ و نصیحت فرماتے، اچھی باتوں کا حکم دیتے، اگر جہاد کے لیے کہیں لشکر بھیجنے کا ارادہ ہوتا تو اس کو الگ کرتے، کسی اور بات کا حکم دینا ہوتا تو وہ حکم دیتے، اس کے بعد شہر کو واپس تشریف لاتے۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ لوگ برابر اسی سنت پر قائم رہے، لیکن سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں مروان جو مدینہ کا حاکم تھا، میں اس کے ساتھ عید الفطر یا عید الاضحیٰ کی نماز کے لیے نکلا، ہم جب عید گاہ پہنچے تو وہاں میں نے کثیر بن صلت کا بنا ہوا ایک منبر دیکھا، جاتے ہی مروان نے چاہا کہ اس پر نماز سے پہلے (خطبہ دینے کے لیے) چڑھے، اس لیے میں نے اس کا دامن پکڑ کر کھینچا لیکن وہ جھٹک کر اوپر چڑھ گیا اور نماز سے پہلے خطبہ دیا، میں نے اس سے کہا کہ واللہ! تم نے (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو) بدل دیا، مروان نے کہا کہ اے ابو سعید! اب وہ زمانہ گزر گیا جس کو تم جانتے ہو، ابو سعید نے کہا کہ بخدا! میں جس زمانہ کو جانتا ہوں اس زمانہ سے بہتر ہے جو میں نہیں جانتا، مروان نے کہا کہ ہمارے دور میں لوگ نماز کے بعد نہیں بیٹھتے، اس لیے میں نے نماز سے پہلے خطبہ کر دیا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 510]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 13 كتاب العيدين: 6 باب الخروج إلى المصلى بغير منبر»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
254. باب ذكر إباحة خروج النساء في العيدين إلى المصلى وشهود الخطبة مفارقات للرجال
باب: نماز عید کے لیے خواتین کا عید گاہ جانا اور مردوں سے علیحدہ بیٹھ کر امام کا خطبہ سننا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 511
511 صحيح حديث أُمِّ عَطِيَّةَ قَالَتْ: أُمِرْنَا أَنْ نُخْرِجَ الْحُيَّضَ، يَوْمَ الْعِيدَيْنِ، وَذَوَاتِ الْخُدُورِ، فَيَشْهَدْنَ جَمَاعَةَ الْمُسْلِمِينَ وَدَعْوَتَهُمْ، وَيَعْتَزِلُ الحُيَّضُ عَنْ مُصَلاَّهُن قَالَتِ امْرَأَةٌ: يَا رَسُولَ اللهِ إِحْدَانَا لَيْسَ لَهَا جِلْبَابٌ، قَالَ: لِتُلْبِسْهَا صَاحِبَتُهَا مِنْ جِلْبَابِهَا
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہمیں حکم ہوا کہ ہم عیدین کے دن حائضہ اور پردہ نشین عورتوں کو بھی باہر لے جائیں تاکہ وہ مسلمانوں کے اجتماع اور ان کی دعاؤں میں شریک ہوسکیں، البتہ حائضہ عورتوں کو نماز پڑھنے کی جگہ سے دور رکھیں، ایک عورت نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم میں بعض عورتیں ایسی بھی ہوتی ہیں جن کے پاس (پردہ کرنے کے لیے) چادر نہیں ہوتی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی ساتھی عورت اپنی چادر کا ایک حصہ اسے اوڑھا دے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 511]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 8 كتاب الصلاة: 2 باب وجوب الصلاة في الثياب»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
255. باب الرخصة في اللعب الذي لا معصية فيه في أيام العيد
باب: عید کے دن میں مباح کھیل کھیلنا جائز ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 512
512 صحيح حديث عَائِشَةَ قَالَتْ: دَخَلَ أَبُو بَكْرٍ، وَعِنْدَي جَارِيَتَانِ مِنْ جَوَارِي الأَنْصَارِ، تُغَنِّيَانِ بِمَا تَقَاوَلَتِ الأَنْصَارُ يَوْمَ بُعَاثَ قَالَتْ: وَلَيْسَتَا بِمُغَنِّيَتَيْن فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَمَزَاميرُ الشَّيْطَانِ فِي بَيْتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذلِكَ فِي يَوْمِ عيدٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا أَبَا بَكْرٍ إِنَّ لِكُلِّ قَوْمٍ عيدًا وَهذَا عيدُنَا
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو میرے پاس انصار کی دو لڑکیاں وہ اشعار گا رہی تھیں جو انصار نے بعاث کی جنگ کے موقع پر کہے تھے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ یہ گانے والیاں نہیں تھیں، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں شیطانی باجے؟ اور یہ عید کا دن تھا، آخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اے ابوبکر! ہر قوم کی عید ہوتی ہے اور آج یہ ہماری عید ہے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 512]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 13 كتاب العيدين: 3 باب سنة العيدين لأهل الإسلام»
وضاحت: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے گانے کی رخصت دی۔ لیکن اس میں بھی شرط یہ ہے کہ گانے والی جوان عورت نہ ہو اور راگ کا مضمون شرح شریف کے خلاف نہ ہو۔ اور صوفیوں نے جو اس باب میں خرافات اور بدعات نکال لی ہے، ان کی حرمت میں بھی کسی کا اختلاف نہیں ہے۔ اور نفوس شہوانیہ بہت سے صوفیوں پر غالب آگئے۔ یہاں تک کہ بہت سے صوفی دیوانوں اور بچوں کی طرح ناچتے ہیں اور اس کو تقرب الی اللہ کا وسیلہ جانتے ہیں اور نیک کام سمجھتے ہیں۔(تسہیل القاری) بعاث ایک قلعہ کا نام ہے جس کے پاس اوس اور خزرج کے درمیان ایک طویل جنگ لڑی گئی تھی۔ اس میں شدید قتل و غارت ہوئی تھی۔ آخر اوس خزرج پر غالب آگئے۔ یہ لڑائی ایک سو بیس سال تک جاری رہی۔ حتیٰ کہ اسلام آیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کے درمیان الفت اور محبت ڈال دی۔ عید کے دن خوشی کا ظہار دین کے شعائر میں سے ہے۔ اس حدیث سے لڑکی کے گانے کی آواز کے سننے کے جواز پر استدلال کیا ہے۔ اگرچہ وہ آزاد لڑکی ہو کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ پر اس کے سننے کا انکار نہیں کیا۔ بلکہ سیّدنا ابو بکر کے انکار کا انکار کیا ہے۔ اور یہ بات ذہن نشین رہے کہ یہ اس وقت ہے جب کسی قسم کے فتنے کا ڈر نہ ہو۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 513
513 صحيح حديث عَائِشَةَ قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعِنْدِي جَارِيَتَانِ تُغَنِّيَانِ بِغِنَاءِ بُعَاثَ، فَاضْطَجَعَ عَلَى الْفِرَاشِ وَحَوَّلَ وَجْهَهُ، وَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ، فَانْتَهَرَني، وَقَالَ: مِزْمَارَةُ الشَّيْطَانِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: دَعْهُمَا فَلَمَّا غَفَلَ غَمَزْتُهُمَا فَخَرَجَتَاوَكَانَ يَوْمَ عيدٍ يَلْعَبُ فِيهِ السُّودَانُ بِالدَّرَقِ وَالْحِرَابِ، فَإِمَّا سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِمَّا قَالَ: تَشْتَهِينَ تَنْظُرِينَ فَقُلْتُ: نَعَمْ فَأَقَامَنِي وَرَاءَهُ، خَدِّي عَلَى خَدِّهِ، وَهُوَ يَقُولُ: دُونَكُمْ يَا بَنِي أَرْفِدَةَ حَتَّى إِذَا مَلِلْتُ قَالَ: حَسْبُكِ قُلْتُ: نَعَمْ قَالَ: فَاذْهَبِي
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر تشریف لائے، اس وقت میرے پاس (انصار کی) دو لڑکیاں جنگ بعاث کے قصوں کی نظمیں پڑھ رہی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بستر پر لیٹ گئے اور اپنا چہرہ دوسری طرف پھیر لیا، اس کے بعد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور مجھے ڈانٹا اور فرمایا کہ یہ شیطانی باجا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں؟ آخر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: جانے دو خاموش رہو۔ پھر جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ دوسرے کام میں لگ گئے تو میں نے انہیں اشارہ کیا اور وہ چلی گئیں، اور یہ عید کا دن تھا، حبشہ کے کچھ لوگ ڈھالوں اور برچھیوں سے کھیل رہے تھے، اب یا خود میں نے کہا یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا کھیل دیکھو گی؟ میں نے کہا: جی ہاں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے پیچھے کھڑا کر لیا، میرا رخسار آپ کے رخسار پر تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: کھیلو کھیلو اے بنی ارفدہ (یہ حبشہ کے لوگوں کا لقب تھا)، پھر جب میں تھک گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بس؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 513]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 13 كتاب العيدين: 2 باب الحراب والدرق يوم العيد»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 514
514 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ: بَيْنَا الْحَبَشَةُ يَلْعَبُونَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحِرَابِهِمْ، دَخَلَ عُمَرُ فَأَهْوَى إِلَى الْحَصَى فَحَصَبَهُمْ بِهَا، فَقَالَ: دَعْهُمْ يَا عُمَرُ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حبشہ کے کچھ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے حراب (چھوٹے نیزے) کا کھیل دکھلا رہے تھے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ گئے اور کنکریاں اٹھا کر انہیں ان سے مارا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «دَعْهُمْ يَا عُمَرُ» عمر! انہیں (کھیل دکھانے) دو۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 514]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 56 كتاب الجهاد والسير: 79 باب اللهو بالحراب ونحوها»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں