Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. الْبَابُ الْأَوَّلُ فِي طَهُورِيَّةِ مَاءِ الْبَحْرِ وَمَاءِ الْبِئْرِ
سمندر اور کنویں کے پانی کے طاہر ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 354
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّا نَرْكَبُ الْبَحْرَ وَنَحْمِلُ مَعَنَا الْقَلِيلَ مِنَ الْمَاءِ، فَإِنْ تَوَضَّأْنَا بِهِ عَطِشْنَا، أَفَنَتَوَضَّأُ مِنْ مَاءِ الْبَحْرِ؟ قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ، الْحِلُّ مَيْتَتُهُ))
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرتے ہوئے کہا: بیشک ہم سمندری سفر کرتے ہیں اور اپنے ساتھ تھوڑی مقدار میں پانی لے جاتے ہیں، اگر ہم اس سے وضو بھی کریں تو (ساتھ والے پانی کے تھوڑے ہونے کی وجہ سے) پیاس لگتی ہے، تو کیا ہم سمندر کے پانی سے وضو کر سکتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا پانی پاک کرنے والا ہے اور اس کا مردار حلال ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 354]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 83، وابن ماجه: 386، 3246، والترمذي: 69، والنسائي: 1/ 50، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8735 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8720»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 355
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ) أَنَّ نَاسًا أَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: إِنَّا نَبْعُدُ فِي الْبَحْرِ وَلَا نَحْمِلُ مِنَ الْمَاءِ إِلَّا الْإِدَاوَةَ وَالْإِدَاوَتَيْنِ لِأَنَّا لَا نَجِدُ الصَّيْدَ حَتَّى نَبْعُدَ، أَفَنَتَوَضَّأُ بِمَاءِ الْبَحْرِ؟ قَالَ: ((نَعَمْ، فَإِنَّهُ الْحِلُّ مَيْتَتُهُ، الطَّهُورُ مَاؤُهُ))
(دوسری سند) بیشک کچھ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: ہم سمندر میں دور تک نکل جاتے ہیں، کیونکہ دور جائے بغیر شکار نہیں ملتا اور اپنے ساتھ ایک دو چھوٹے چھوٹے برتنوں میں (پینے والا پانی) اٹھایا ہوا ہوتا ہے، تو کیا ہم سمندر کے پانی سے وضو کر سکتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، بیشک اس کا مردار حلال ہے اور اس کا پانی پاک کرنے والا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 355]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8899»
وضاحت: فوائد: … چمڑے کے چھوٹے سے برتن کو اِدَاوَۃ کہتے ہیں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 356
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ الْكِنَانِيِّ أَنَّ بَعْضَ بَنِي مُدْلِجٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُمْ كَانُوا يَرْكَبُونَ الْأَرْمَاثَ فِي الْبَحْرِ لِلصَّيْدِ فَيَحْمِلُونَ مَعَهُمْ مَاءً لِلسَّقَايَةِ فَتُدْرِكُهُمُ الصَّلَاةُ وَهُمْ فِي الْبَحْرِ وَأَنَّهُمْ ذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: إِنْ نَتَوَضَّأْ بِمَائِنَا عَطِشْنَا وَإِنْ نَتَوَضَّأْ بِمَاءِ الْبَحْرِ وَجَدْنَا فِي أَنْفُسِنَا، فَقَالَ لَهُمْ: ((هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ الْحَلَالُ مَيْتَتُهُ))
عبداللہ بن مغیرہ کنانی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ بنو مدلج کے بعض افراد نے اس کو بتلایا ہے کہ وہ لوگ شکار کرنے کے لیے تختوں پر سمندر میں جاتے تھے اور پینے کے لیے اپنے ساتھ پانی لے جاتے تھے، لیکن ان کی نماز کا وقت بھی سمندر میں ہی ہو جاتا تھا، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ صورتحال بیان کی اور کہا: اگر ہم اپنے ساتھ اٹھائے ہوئے پانی سے وضو کریں تو پیاس لگتی ہے اور اگر سمندر کے پانی سے وضو کریں تو دل میں شک سا رہتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: سمندر کا پانی پاک کرنے والا ہے اور اس کا مردار حلال ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 356]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 1/ 130، والحاكم: 1/ 141، عبد الرزاق: 321، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23096 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23484»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 357
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الْبَحْرِ: ((هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ الْحِلُّ مَيْتَتُهُ))
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سمندر کے بارے میں فرمایا: اس کا پانی پاک کرنے والا ہے اور اس کا مردار حلال ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 357]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابن ماجه: 388، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15012 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15076»
وضاحت: فوائد: … عام طور پر سمندر کا پانی کھارا اور نمکین ہونے کی وجہ سے، دوسرے پانیوں سے مختلف ہوتا ہے، اس لیے سائل کو شبہ ہو رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے شبہ کا ازالہ کر دیا اور اس کی ضرورت کے مطابق سمندر کے مردار کے حلال ہونے کی بھی وضاحت کر دی۔ اس سے معلوم ہوا کہ مفتی اور عالم کو اتنا فہیم ہونا چاہیے کہ وہ سائل کے سوال کے مقصد اور اس کے متعلقات کو سمجھ سکے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا کہ جس شخص کو سمندر کے پانی کے بارے میں شک پڑ رہا ہے، وہ لامحالہ طور پر اس کے مردار کے بارے متردّد ہو گا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مردار کے حکم کی بھی وضاحت کر دی، یہ چیز فتوی کے محاسن میں سے ہے۔ یہ حدیث اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ تمام سمندری حیوانات، جو صرف پانی میں زندہ رہ سکتے ہیں، حلال ہیں، امام مالک، امام شافعی اور امام احمد کی یہی رائے ہے اور یہی مسلک راجح ہے، کیونکہ اس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان عالیشان عام ہے، جو ہر سمندری کو شامل ہے، نیز ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {اُحِلَّ لَکُمْ صَیْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُہٗ مَتَاعًا لَّکُمْ وَلِلسَّیَّارَۃِ} … تمہارے لیے دریا کا شکار پکڑنا اور اس کا کھانا حلال کیا گیا ہے۔ (سورۂ مائدہ: ۹۶)البتہ امام ابو حنیفہ صرف مچھلی کے مردار کو ہی حلال سمجھتے ہیں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 358
عَنْ مُوسَى بْنِ سَلَمَةَ أَنَّ سِنَانَ بْنَ سَلَمَةَ سَأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ مَاءِ الْبَحْرِ فَقَالَ: مَاءُ الْبَحْرِ طَهُورٌ
موسیٰ بن سلمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سنان بن سلمہ رحمہ اللہ نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سمندر کے پانی کے حکم کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا: سمندر کا پانی پاک کرنے والا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 358]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه الدارقطني:1/35، والحاكم: 1/140، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:2518 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2518»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 359
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي صِفَةِ حَجِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ثُمَّ أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَدَعَا بِسَجْلٍ مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ فَشَرِبَ مِنْهُ وَتَوَضَّأَ ثُمَّ قَالَ: ((انْزِعُوا يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ! فَلَوْ لَا أَنْ تُغْلَبُوا عَلَيْهَا لَنَزَعْتُ))
سیدنا علی رضی اللہ عنہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کی کیفیت بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف افاضہ کیا اور زمزم کے پانی کا ڈول منگوا کر اس سے پیا اور وضو بھی کیا اور فرمایا: اے بنو عبدالمطلب! پانی کھینچو، اگر تمہارے مغلوب ہو جانے کا خطرہ نہ ہوتا تو میں بھی تمہارے ساتھ کھینچتا۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 359]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1348 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1348»
وضاحت: فوائد: … معلوم ہوا کہ زمزم کے پانی سے وضو کرنا درست ہے۔ آخری جملے کا مفہوم یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی پانی کھینچتے تو لوگ اس کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی فعلی اور حج سے متعلقہ سنت سمجھ کر ایسا کرنے پر ٹوٹ پڑتے اور بنو عبد المطلب اس سعادت سے محروم ہو جاتے۔ اور افراتفری پیدا ہوتی ہے اور نظام بھی خراب ہوتا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. بَابٌ فِي حُكْمِ الطَّهَارَةِ بِالنَّبِيذِ إِذَا لَمْ يُوجَدْ الْمَاءُ
پانی نہ ہونے کی صورت میں نبیذ سے طہارت حاصل کرنے کے حکم کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 360
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَمَّا كَانَ لَيْلَةُ الْجِنِّ تَخَلَّفَ مِنْهُمْ رَجُلَانِ وَقَالَا: نَشْهَدُ الْفَجْرَ مَعَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَقَالَ لِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَمَعَكَ مَاءٌ؟)) قُلْتُ: لَيْسَ مَعِي مَاءٌ وَلَكِنْ مَعِي إِدَاوَةٌ فِيهَا نَبِيذٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((تَمْرَةٌ طَيِّبَةٌ وَمَاءٌ طَهُورٌ))، فَتَوَضَّأَ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب جنوں والی رات تھی تو ان میں سے دو افراد پیچھے رہ گئے اور انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم آپ کے ساتھ نماز فجر ادا کریں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: کیا تمہارے پاس پانی ہے؟ میں نے کہا: میرے پاس پانی نہیں ہے، البتہ ایک برتن میں نبیذ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پاکیزہ کھجور ہے اور پاک کرنے والا پانی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 360]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة ابي زيد مولي عمرو بن حريث۔ أخرجه ابوداود: 84، والترمذي: 88، ابن ماجه: 384، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4296 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4296»
وضاحت: فوائد: … میرے پاس الفتح الربانی والے نسخے میں ثَمَرَۃٌ (ثاء کے ساتھ) ہے۔ لیکن ابو داود اور ترمذی میں تَمَرَۃٌ (ثاء کے ساتھ) ہے اور یہی درست معلوم ہوتا ہے اور اسی کے مطابق ترجمہ کیا گیا ہے۔ البتہ معنی دونوں لحاظ سے درست بن جائے گا۔ (عبداللہ رفیق)

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 361
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَمَعَكَ طَهُورٌ؟)) قُلْتُ: لَا، قَالَ: ((فَمَا هَذَا فِي الْإِدَاوَةِ؟)) قُلْتُ: نَبِيذٌ، قَالَ: ((أَرِنِي هَا، ثَمَرَةٌ طَيِّبَةٌ وَمَاءٌ طَهُورٌ)) فَتَوَضَّأَ مِنْهَا وَصَلَّى
(دوسری سند) سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: تمہارے پاس پاک کرنے والا (پانی) ہے؟ میں نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو پھر اس چھوٹے برتن میں کیا ہے؟ میں نے کہا: نبیذ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے دو، پاکیزہ کھجور ہے اور پاک کرنے والا پانی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے وضو کیا اور نماز پڑھی۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 361]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4301»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 362
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْجِنِّ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((يَا عَبْدَ اللَّهِ! أَمَعَكَ مَاءٌ؟)) قَالَ: مَعِي نَبِيذٌ فِي إِدَاوَةٍ، فَقَالَ: ((اُصْبُبْ عَلَيَّ)) فَتَوَضَّأَ، قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: (يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ! شَرَابٌ طَهُورٌ))
(تیسری سند) سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ جنوں والی رات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: عبداللہ! کیا تمہارے پاس پانی ہے؟ انہوں نے کہا: میرے پاس تو ایک برتن میں نبیذ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھ پر بہاؤ۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عبداللہ بن مسعود! یہ پاکیزہ مشروب ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 362]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية:0»
وضاحت: فوائد: … پانی میں کھجور بھگو کر رکھنا اور اس سے تیار ہونے والا مشروب پینا جائز ہے، اس کو نبیذ کہتے ہیں، یہ نبیذ انگور سے بھی تیار کی جاتی ہے۔ جب یہ مشروب جوش مارنے لگے تو وہ شراب بن جاتا ہے، جس کا پینا مومنوں پر حرام ہے۔یہ حدیث ضعیف ہے، بہرحال نبیذ سے وضو کرنا صحیح نہیں ہے، کیونکہ یہ مائے مطلق نہیں ہے، درج ذیل بحث کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ارشاد باری تعالیٰ ہے: {فَلَمْ تَجِدُوْا مَائً فَتَیَمَّمُوْا صَعِیْدًا طَیِّبًا} … جب تمہیں پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے تیمم کر لو۔ (سورۂ نساء:۴۳)، نیز فرمایا: {وَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَائِ مَائً طَھُوْرًا} … ہم نے آسمان سے ایسا پانی نازل کیا جس سے پاکیزگی حاصل کی جاتی ہے۔ (سورۂ فرقان: ۴۸)، مزید ارشاد ہے: {ویُنَزِّل عَلَیْکُمْ مِنَ السَّمَائِ مَائً لِیُطَھِّرَکُمْ بِہِ} (الانفال: ۱۱) یعنی اور وہ تم پر آسمان سے پانی نازل کرتا ہے تاکہ اس کے ذریعے تمہیں پاک کردے۔ ان آیاتِ مبارکہ میں مائِ مطلق (مطلق پانی) کا ذکر ہے‘ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ جب تک کسی پانی پر مائِ مطلق کا اطلاق ہو سکتا ہو‘ اس وقت تک وہ طاہر (پاک) اور مطہِّر (پاک کرنے والا) ہو گا‘ بشمول امام شافعیؒ اور امام مالکؒ کے جمہور کا یہی مسلک ہے‘ لیکن جب پانی کو کسی وصف کی طرف منسوب کیا جائے‘ جیسے لیموں کا پانی‘ گلاب کے پھول کا پانی‘ انگور کا پانی‘ کھجور کا پانی وغیرہ‘ تو ایسی صورت میں وہ مائِ مطلق نہیں رہے گا‘ جس سے طہارت حاصل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اگر پانی میں کوئی طاہر چیز اتنی معمولی مقدار میں پائی جائے کہ اس پانی پر ماء مطلق کا اطلاق ختم نہ ہو سکے‘ تو وہ پانی اس قابل ہو گا کہ اس سے وضوء اور غسل کیا جائے‘ جیسا کہ مندرجہ ذیل حدیث سے معلوم ہوتا ہے: ((عَنْ اُمِّ ھَانِیٍٔ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اِغْتَسَلَ ھُوَ وَمَیْمُوْنَۃُ مِنْ اِنَائٍ وَاحِدٍ فِیْ قَصْعَۃٍ فِیْھَا اَثَرُ الْعَجِیْنِ))سیدہ ام ہانی ؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اورآپ کی بیوی میمونہ رضی اللہ عنہا دونوں نے ایسے ٹب میں غسل کیا جس میں گوندھے ہوئے آٹے کے نشانات تھے۔
(ابن ماجہ:۳۷۸، نسائی: ۲۴۱، مسند احمد: ۶/۳۴۲)
یعنی آٹے کے آثار اتنی معمولی مقدار میں تھے کہ اس پانی کو آٹے والا پانی نہیں، بلکہ مائِ مطلق کہا جا سکتا تھا، جیسا کہ شیخ محمد عطاء اللہ بھوجیانیؒ نے کہا: یدل علی ان الطاھر القلیل لا یخرج الماء عن الطھوریۃ۔ (اس حدیث سے معلوم ہو ا کہ قلیل مقدار میں طاہر چیز کے مل جانے سے پانی مطہِّر ہی رہتا ہے۔)
(التعلیقات السلفیۃ: ۱/۳۰)
امام شوکانی نے کہا: کسی پاک چیز کے ملنے کی وجہ سے جس پانی پر مائِ مطلق کا نام نہ بولا جا سکے بلکہ اس پر کوئی خاص نام بولا جاتا ہو، مثلًا گلاب کا پانی وغیرہ تو وہ فی نفسہ تو طاہر ہو گا، لیکن دوسروں کیلئے مطھِّر نہیں ہو گا۔ (السیل الجرار: ۱/۵۶)امام ابن حزم نے کہا: جب تک پانی پر ماء (مطلق پانی) کا لفظ بولا جا سکتا ہو اس وقت تک وہ طاہر ومطہِّر رہے گا۔ (المحلی بالآثار: ۱/۱۹۳)
نتیجہ بحـث: … انگور کا پانی اور نبیذ وغیرہ خود تو پاک ہے، لیکن ان سے وضوء یا غسل کر کے پاکیزگی حاصل نہیں کی جاسکتی‘ کیونکہ ان پر مطلق ماء (پانی) کے لفظ کا اطلاق نہیں کیا جا سکتا‘ قاضی خاں حنفی نے بھی اسی فتوے کی تائید کی۔امام ابوحنیفہ کامسلک یہ ہے کہ جب نبیذ اس قدر پتلی ہو کہ اعضا پر بہہ سکتی ہو اور میٹھی ہو، نشہ آور نہ ہو، تو آدمی اس کے ساتھ وضو کر لے اور تیمم نہ کرے۔ لیکن امام ابو یوسف کی رائے یہ ہے کہ تیمم کر لینا چاہیے اور نیبذ کے ساتھ وضو نہیں کرنا چاہیے، جمہور اور باقی ائمہ کا مسلک بھی یہی ہے۔ امام طحاوی نے بھی اسی کو اختیار کیا اور کہا: امام ابو حنیفہ نے سیدنا عبد اللہ بن مسعود ؓکی حدیث پر اعتماد کرتے ہوئے شروع شروع میں (نبیذ کے ساتھ وضو کرنے کی) جو رائے اختیار کی تھی، اس حدیث کی کوئی اصل نہیں ہے۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. بَابٌ فِي أَنْ غَسْلَ الرَّجُلِ مَعَ زَوْجَتِهِ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ لَا يُسَبِّبُ طَهُورِيَّةَ الْمَاءِ
خاوند کا اپنی بیوی کے ساتھ ایک برتن سے غسل کرنا، اس سے پانی کی طہوریت ختم نہ ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 363
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: لَقَدْ كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ وَإِنَّا لَجُنُبَانِ، وَلَكِنَّ الْمَاءَ لَا يَجْنُبُ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک برتن سے غسل کرتے تھے، جبکہ ہم جنبی ہوتے تھے، لیکن اس سے پانی جنبی نہیں ہو جاتا۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 363]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 321، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24978 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25491»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں