الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. فَضْلٌ فِي الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ
اس معاملے میں رخصت کا بیان
حدیث نمبر: 384
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: أَجْنَبْتُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَاغْتَسَلْتُ مِنْ جَفْنَةٍ فَفَضَلَتْ فَضْلَةٌ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِيَغْتَسِلَ مِنْهَا فَقُلْتُ: إِنِّي قَدِ اغْتَسَلْتُ مِنْهَا، فَقَالَ: ((إِنَّ الْمَاءَ لَيْسَ عَلَيْهِ الْجَنَابَةُ)) أَوْ ((لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ)) فَاغْتَسَلَ مِنْهُ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ زوجہ رسول سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”مجھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جنابت لاحق ہو گئی، پس میں نے ایک ٹب سے غسل کیا اور کچھ پانی بچ گیا، پس جب رسول اللہ غسل کے لیے تشریف لائے تو میں نے کہا: میں نے اس پانی سے (جنابت والا) غسل کیا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک اس سے پانی پر جنابت کا حکم نہیں آتا۔“ یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی چیز پانی کو پلید نہیں کرتی۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے غسل کیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 384]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابويعلي: 7098، والطبراني في الكبير: 23/ 1030، والدارقطني: 1/ 52، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26802 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27338»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 385
عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ بَعْضَ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اغْتَسَلَتْ مِنَ الْجَنَابَةِ فَتَوَضَّأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِفَضْلِهَا فَذَكَرَتْ لَهُ ذَلِكَ فَقَالَ: ((إِنَّ الْمَاءَ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ))
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بیوی نے غسل جنابت کیا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بچے ہوئے پانی سے وضو کیا، پس جب اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ساری بات بتلائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک کوئی چیز پانی کو ناپاک نہیں کرتی۔“ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 385]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه ابوداود: 68، والنسائي: 1/ 173، وابن ماجه: 370، والترمذي: 65، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2102 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2102»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 386
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ مَيْمُونَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ بِفَضْلِ غُسْلِهَا مِنَ الْجَنَابَةِ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ اس کے غسل جنابت سے بچے ہوئے پانی سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 386]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابن ماجه: 372، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26801 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27337»
وضاحت: فوائد: … اِن واضح احادیث کی روشنی میں پچھلے باب کی احادیث کی تاویل کی جائے گی، مزید کچھ روایات درج ذیل بھی ہیں:سیدہ عائشہ ؓکہتی ہیں: ((کَانَ یُؤْمَرُ الْعَائِنُ فَیَتَوَضَّأُ ثُمَّ یَغْتَسِلُ مِنْہُ الْمَعِیْنُ)) … نظر لگانے والے کو وضو کرنے کا حکم دیا جاتا، پھر اس پانی سے وہ آدمی غسل کرتا، جس کو نظر لگی ہوتی تھی۔ (ابوداود: ۳۸۸۰)
اسی طرح سیدنا سہل بن حنیف ؓکو سیدنا عامر بن ربیعہ ؓکی نظر لگ گئی تھی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پتہ چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا عامر ؓسے ناراض ہوئے اور فرمایا کہ جب کسی کو کوئی چیز اچھی لگے تو اس کو برکت کی دعا کرنی چاہیے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو غسل کرنے کا حکم دیا، پس اس نے اپنا چہرہ، ہاتھ، کہنیاں، گھٹنے، ٹانگوں کے کنارے اور ازار کا داخلی حصہ ایک برتن میں دھویا، پھر وہ پانی سیدنا سہل ؓکے سر اور پشت پر ڈالا گیا اور ان کے پچھلے حصے پر پیالے کو انڈیل دیا گیا اور وہ تندرست ہو گئے۔ (مسند احمد: ۳/ ۴۸۶، ۱۵۹۸۰)
اسی طرح سیدنا سہل بن حنیف ؓکو سیدنا عامر بن ربیعہ ؓکی نظر لگ گئی تھی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پتہ چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا عامر ؓسے ناراض ہوئے اور فرمایا کہ جب کسی کو کوئی چیز اچھی لگے تو اس کو برکت کی دعا کرنی چاہیے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو غسل کرنے کا حکم دیا، پس اس نے اپنا چہرہ، ہاتھ، کہنیاں، گھٹنے، ٹانگوں کے کنارے اور ازار کا داخلی حصہ ایک برتن میں دھویا، پھر وہ پانی سیدنا سہل ؓکے سر اور پشت پر ڈالا گیا اور ان کے پچھلے حصے پر پیالے کو انڈیل دیا گیا اور وہ تندرست ہو گئے۔ (مسند احمد: ۳/ ۴۸۶، ۱۵۹۸۰)
الحكم على الحديث: صحیح
7. بَابٌ فِي حُكْمِ الْمَاءِ الْمُتَغَيِّرِ بِطَاهِرٍ أَجْنَبِيٍّ عَنْهُ
طاہر اور خارجی چیز کے ملنے کی وجہ سے بدل جانے والے پانی کا حکم
حدیث نمبر: 387
عَنْ أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ بِأَعْلَى مَكَّةَ فَأَتَيْتُهُ، فَجَاءَ أَبُو ذَرٍّ بِجَفْنَةٍ فِيهَا مَاءٌ، قَالَتْ: إِنِّي لَأَرَى فِيهَا أَثَرَ الْعَجِينِ، قَالَتْ: فَسَتَرَهُ يَعْنِي أَبَا ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَاغْتَسَلَ ثُمَّ صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ وَذَلِكَ فِي الضُّحَى
سیدہ ام ہانی بنت ابو طالب رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے موقع پر مکہ مکرمہ کے بالائی حصے پر اترے، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ پانی کا ایک ٹب لے آئے، مجھے اس میں آٹے کے نشان نظر آ رہے تھے، پھر انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پردہ کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل کیا اور پھر آٹھ رکعتیں ادا کیں، یہ چاشت کا وقت تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 387]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح دون قصة ابي ذر مع النبي صلي الله عليه وآله وسلم، وھذا اسناد ضعيف لانقطاعه، فان المطلب بن عبد الله بن حنطب كثير التدليس والارسال، وھو لم يلق ام ھانيء۔ أخرجه الطبراني في الكبير: 24/ 987، وفي الاوسط: 731، وھو في الصحيح خلا قصة ابي ذر وستر كل واحد منھما الآخر، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26887 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27425»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 388
وَعَنْهَا أَيْضًا قَالَتْ: اغْتَسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمَيْمُونَةَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ، قَصْعَةٍ فِيهَا أَثَرُ الْعَجِينِ
سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا سے ہی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے ایک برتن سے غسل کیا، اس میں آٹے کے نشانات تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 388]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، لكن ھو في الحقيقة حديثان جمعا معا، وانظر شرح ھذا الحديث۔ أخرجه ابن ماجه: 378، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26895 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27434»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور سیدہ میمونہ ؓکا اکٹھا غسل کرنا، یہ صحیح مسلم کی حدیث ہے اور سیدہ میمونہ ؓسے مروی ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا آٹے کے نشانات والے برتن سے غسل کرنا، یہ صحیح بخاری کی حدیث ہے اور سیدہ ام ہانی ؓسے مروی ہے۔ ہم نے حدیث نمبر (۳۶۲)کی شرح میں مائے مطلق اور مائے نسبتی کے موضوع پر بحث کی ہے، وہاں اس حدیث کا ذکر بھی کیا ہے، محولہ مقام کی طرف رجوع کریں۔
الحكم على الحديث: صحیح
8. بَابٌ فِي حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ نَجَاسَةٌ وَمَا جَاءَ فِي بِئْرِ بِضَاعَةَ
اس پانی کے حکم کا بیان، جس کے ساتھ نجاست مل جائے اور بئرِ بضاعہ کی تفصیل
حدیث نمبر: 389
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: انْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ مِنْ بِئْرِ بُضَاعَةَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! تَتَوَضَّأُ مِنْهَا وَهِيَ يُلْقَى فِيهَا النَّتَنُ؟ فَقَالَ: ((إِنَّ الْمَاءَ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ))
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بئر بضاعہ سے وضو کر رہے تھے، میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! آپ اس کنویں سے وضو کر رہے ہیں، جبکہ اس میں بدبودار چیزیں ڈالی جاتی ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک کوئی چیز پانی کو ناپاک نہیں کرتی۔“ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 389]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح بطرقه وشواھده۔ أخرجه ابوداود: 66، والترمذي: 66، والنسائي: 1/ 174، وابن ماجه: 519، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11119 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11136»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 390
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَقَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي مِنْ بُضَاعَةَ
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ہاتھ سے بئر بضاعہ سے پانی پلایا تھا۔“ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 390]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة ام محمد بن ابي يحيي۔ أخرجه الدارقطني: 1/ 32، وابويعلي: 7519، والطبراني في الكبير: 6026، والبيھقي: 1/ 259، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23248»
وضاحت: فوائد: … بنوساعدہ کے محلے یا کنویں کے مالک یا اس مقام کا نام بُضَاعہ تھا، وہاں ایک کنواں تھا، جس کو بئرِ بُضَاعہ کہتے تھے۔ بدبودار چیزیں ڈالنے کا مطلب یہ ہے کہ یہ کنواں ایسی جگہ پر واقع تھا کہ اس قسم کی متأثرہ چیزیں ہوا یا پانی کے بہاؤ کے ذریعے اس میں گرجاتی تھی، اس تاویل کی وجہ یہ ہے کہ ذی شعور لوگوں سے اس قسم کی حرکت کی توقع نہیں جا سکتی، جبکہ وہ تو پاکیزہ ترین شخصیات کا دور تھا۔ امام ابو داود نے سنن میں کہا: قتیبہ بن سعیدنے اس کنویں کے نگران سے اس کی گہرائی کے بارے میں پوچھا، اس نے کہا: اس کا زیادہ سے زیادہ پانی شرمگاہ تک آ جاتا ہے اور جب پانی کم پڑ جاتا ہے، تو پردہ والی جگہ سے نیچے تک رہتا ہے۔ امام ابو داود مزید کہتے ہیں: میں نے اپنی چادر کے ذریعے اس کنویں کے عرض کی پیمائش کی اور اس کو چھ ہاتھ چوڑا پایا، پھر میں نے باغ کا دروازہ کھولنے والے سے پوچھا کہ کیا اس کی ساخت کو تبدیل کیا گیا ہے، اس نے کہا: جی نہیں، البتہ میں نے دیکھا کہ اس کے پانی کا رنگ تبدیل ہو چکا تھا۔ معلوم ہوا کہ اس کنویں کی چوڑائی (9) فٹ تھی اور اگر اس کی لمبائی اور گہرائی (3.5) فٹ تسلیم کر لی جائے تو یہ تقریبا (3200) لٹر پانی بنتا ہے۔اس تفصیل سے ثابت ہوا کہ اس کنویں کا پانی مائے کثیر کی مقدار سے کہیں زیادہ تھا اور کثیر پانی کے بارے میں قانون یہ ہے کہ نجاست کے گرنے کی وجہ سے جب تک اس کا رنگ، بو یا ذائقہ تبدیل نہیں ہو گا، وہ اس وقت تک پاک رہے گا۔ مائے کثیر اور مائے قلیل کی وضاحت اگلے باب میں کی جائے گی۔ ان شاء اللہ تعالی۔
الحكم على الحديث: ضعیف
9. فِي حُكْمِ الْمَاءِ الَّذِي تَرُدُّهُ الدَّوَابُّ وَالسِّبَاعُ وَحَدِيثُ الْقُلَّتَيْنِ
اس پانی کا حکم جس پر چوپائے اور درندے بھی آتے ہوں اور دو قُلّوں والی حدیث کی تفصیل
حدیث نمبر: 391
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُسْأَلُ عَنِ الْمَاءِ يَكُونُ بِأَرْضِ الْفَلَاةِ وَمَا يَنُوبُهُ مِنَ الدَّوَابِّ وَالسِّبَاعِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِذَا كَانَ الْمَاءُ قَدْرَ الْقُلَّتَيْنِ لَمْ يَحْمِلِ الْخَبَثَ))
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سن رہا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس پانی کے بارے میں سوال کیا گیا جو جنگل میں ہو اور جس پر چوپائے اور درندے بھی آتے ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب پانی دو قلّوں کے بقدر ہو تو وہ نجاست کو نہیں اٹھاتا (یعنی نجاست کو قبول نہیں کرتا)۔“ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 391]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 64، والترمذي: 67، وابن ماجه: 517، والنسائي: 1/ 175، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4605 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4605»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 392
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا وَكِيعٌ ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ الْمُنْذِرِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِذَا كَانَ الْمَاءُ قَدْرَ قُلَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثٍ لَمْ يُنَجِّسْهُ شَيْءٌ)) قَالَ وَكِيعٌ: يَعْنِي بِالْقُلَّةِ الْجَرَّةَ
(دوسری سند) سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب دو یا تین قلّوں کے بقدر پانی ہو تو کوئی چیز اس کو پلید نہیں کر سکتی۔“ وکیع رحمہ اللہ کہتے ہیں: قلّہ سے مراد مٹی کا گھڑا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 392]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وھذا اسناد جيد دون قوله: اوثلاث، قال الحاكم: وقد رواه عفان بن مسلم وغيره من الحفاظ، عن حماد بن سلمة ولم يذكروا فيه: او ثلاث۔ وقال البيھقي: ورواية الجماعة الذين لم يشكوا اولي۔ أخرجه ابن ماجه: 518، وأخرجه دون قوله: اوثلاث ابوداود: 65، وانظر الحديث بالطريق الاول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4753 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4753»
وضاحت: فوائد: … اب ہم مائے کثیر اور مائے قلیل کے فرق اور ان کی مقدار کا تعین کرتے ہیں، اگرچہ یہ مسئلہ مختلف فیہ ہے، شافعیہ اور حنابلہ کے نزدیک کثیر اور قلیل پانی کے درمیان حد فاصل حدیث ِ قلتین ہے، ہم بھی اسی نظریے کے قائل ہیں، اس کی تفصیل درج ذیل ہے: مائے کثیر (کثیر پانی): وہ ہے جو دو قلے یا اس سے زیادہ ہو‘ ایسا پانی نجاست کے گرنے سے بھی اس وقت تک ناپاک نہیں ہوتا ‘ جب تک اِس نجاست کی وجہ سے اس کا ذائقہ‘ یا رنگ‘ یا بو تبدیل نہیں ہو جاتی۔ مائے قلیل (قلیل پانی): وہ ہے جو دو قلوں (بڑے مٹکوں)سے کم ہو‘ ایسا پانی معمولی نجاست کے گرنے سے بھی ناپاک ہو جاتا ہے‘ اس کا ذائقہ‘ یا رنگ‘ یا بو تبدیل ہو یا نہ ہو۔
مذکورہ بالا تعیین درج ذیل احادیث کی روشنی میں کی گئی ہے:(۱)عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: ((طُھُوْرُ اِنَائِ اَحَدِکُمْ اِذَا وَلَغَ فِیْہِ الْکَلْبُ اَنْ یَّغْسِلَہٗ سَبْعَ مَرَّاتٍ‘ اُوْلَاھُنَّ بِالتُّرَابِ۔)) … سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر کسی کے برتن میں کتا منہ ڈال لے‘ تو اسے پاک کرنے کیلئے سات دفعہ دھویا جائے‘ پہلی دفعہ مٹی سے مانجھا جائے۔ ایک روایت میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس پانی کو انڈیل دے۔ (صحیح مسلم: ۲۷۹)اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قلیل پانی کتے کے منہ ڈالنے سے علی الاطلاق پلید ہو جاتا ہے‘ اس استدلال کی وجہ یہ ہے کہ گھروں میں عام برتنوں کی مقدار دو قلوں سے کم ہوتی ہے۔(۲)اس باب کی پہلی حدیث، جس میں دو قلوں کا ذکر ہے۔ (۳)ممکن ہے کہ بلی کے جوٹھے کا بیان کے عنوان میں مذکورہ احادیث سے بھی یہ استدلال کیا جا سکے، کیونکہ صحابہ یہی سمجھ رہے تھے کہ بلی نجس ہے، لہٰذا اس کا جوٹھا بھی نجس ہو گا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضاحت کر دی کی بلی نجس نہیں ہے، جبکہ بلیاں گھروں میں جن برتنوں میں منہ ڈالتی ہیں، وہ چھوٹے چھوٹے ہوتے ہیں۔ (۴) جس حدیث ِ مبارکہ کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جامد چیز میں مر جانے والے چوہے کے ارد گرد والی متأثرہ چیز کو پھینک دینے اور مائع چیز کے قریب نہ جانے کا حکم دیا ہے، اس سے بھی یہ استدلال کیا جائے گا کہ تھوڑی مقدار کی چیز نجس ہو جاتی ہے، کیونکہ عام طور پر اس قسم کی چیزیں قلیل مقدار میں ہوتی ہیں، یہ حدیث نمبر (۴۳۸) میں آ رہی ہے۔علامہ عبد الحئی لکھنوی نے (السعایۃ: ۱/۳۷۷) میں کہا: ہر طرف نظر دوڑانے سے یہی ظاہر معلوم ہوتا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے‘ ہر قسم کے معارضہ‘ اجماع کی مخالفت‘ نسخ وتاویل وغیرہ سے سالم ہے۔ اور (عمدۃ الرعایۃ: ۱/۸۱) میں کہا: قلتین والی مقدار صحیح حدیث سے ثابت ہے‘ دہ در دہ (10×10 ہاتھ تالاب) پر کوئی دلیل شرعی نہیں ہے۔
جناب رشید احمد گنگوہی نے کہا: جس حدیث سے امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ نے حجت پکڑی ہے‘ وہ جیّد الاسناد اور قابل اعتماد ہے‘ اس کے بارے میں جو احناف نے جواب دیئے ہیں‘ ان سے طبیعتِ سلیمہ راضی نہیں ہوتی‘ آپ جانتے ہیں کہ یہ تعسف ہے۔ (الکوکب الدری: ۱/۴۰،۴۳ بحوالہ مرعاۃ المفاتیح: ۲/۱۷۵)
جن لوگوں نے اس کو مضطرب قرار دیا، تھذیب السنن لابن القیم، تحفۃ الاحوذی اور تعلیق ترمذی لاحمد شاکر میں ان کا جواب دیا گیا ہے۔ معلوم ہوا کہ جب تک نجاست کی وجہ سے دو قلے یا اس سے زائد پانی کے اوصاف (رنگ، ذائقہ، بو) تبدیل نہیں ہوتے‘ اس وقت تک پانی پاک رہتا ہے‘ محدثین اور فقہاء اس مسئلہ پر متفق ہیں کہ نجاست کی وجہ سے اوصاف بدلنے کی صورت میں پانی پلید ہوجائے گا۔
قلے (مٹکے) کا تعین
ابو عبید قاسم بن سلام نے کہا: المراد القلۃ الکبیرۃ اذ لو اراد الصغیرۃ لم یحتج لذکر العدد فان الصغیرتین قد ر واحدۃ کبیرۃ ویرجع فی الکبیرۃ الی العرف عن اھل الحجاز والظاھر ان الشارع علیہ السلام ترک تحدیدھما علی سبیل التوسعۃ والعلم محیط بانہ ما خاطب الصحابۃ الا بما یفھمون فانتفی الاجمال۔ … حدیث میں قلتین سے مراد بڑا مٹکا ہے‘ اگر اس سے مراد چھوٹا مٹکا ہو تا تو دو مٹکوں کی قیدکی کوئی ضرورت نہیں رہتی کیونکہ دو مٹکے ایک بڑے میں سما سکتے ہیں‘ رہا اِس بڑے مٹکے کے تعین کا مسئلہ تو اسے اہل حجاز کے عرف کی روشنی میں سمجھیں گے‘ معلوم یہی ہو تا ہے کہ شارع نے وسعت کے پیشِ نظر ان کی حدبندی نہیں کی‘ لیکن اتنا تو معلوم ہے کہ صحابہ کرام سے وہی خطاب کیا جائے گا جو وہ سمجھیں گے‘ لہٰذا اس مسئلے میں کوئی اجمال نہ رہا۔ (تحفۃ الاحوذی:۱/۷۰)
ازہری نے کہا: القلال مختلفۃ فی قری العرب وقلال ھجر اکبرھا وقلال ھجر مشہورۃ الصنعۃ معلومۃ المقدار والقلۃ لفظ مشترک وبعد صرفھا الی احد معلوماتھا وھی الاوانی تبقی مترددۃ بین الکبار والصغار والدلیل علی انھا من الکبار جعل الشارع الحد مقدارا بعدد فدل علی انہ اشار الی اکبرھا لانہ لا فائدۃ فی تقدیرہ بقلتین صغیرتین مع القدرۃ علی تقدیرہ بواحدۃ کبیرۃ۔ … عرب کی بستیوں میں قلوں کے مختلف سائز تھے‘ ہجر علاقے کے قلے سب سے بڑے تھے‘ یہ مخصوص ڈیزائن اور مخصوص مقدار والے ہوتے تھے‘ قلہ ایک مشترک لفظ ہے جو چھوٹے اور بڑے قلوں کو شامل ہے‘ لیکن حدیث میں اس سے مراد بڑے قلے ہیں‘ کیونکہ شارع علیہ السلام نے ایک تعداد (یعنی دو عدد قلوں) کے ساتھ حدبندی کی ہے‘ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بڑا قلہ مراد ہے‘ کیونکہ ایک بڑے قلے کے باوجود دو چھوٹے قلوں کی مقدار کا تعین بے فائدہ ہے۔ (تحفۃ الاحوذی: ۱/ ۷۰)
رشید احمد گنگوہی دیوبندی لکھتے ہیں: قلہ کے معنی میں اجمال کو لازم قرار دینا محض تحکم ہے، صحابہ کے نزدیک تو قلہ ایک معلوم چیز کا نام تھا‘ اس کی جہالت تم کو کوئی نقصان نہیں دے گی‘ دوسری روایات میں قلال ھجر کے الفاظ آتے ہیں‘ جو اس اجمال کو بیان کر دیتے ہیں۔ (بحوالہ مرعاۃ المفاتیح: ۲/۱۷۳)
علامہ زیلعی حنفی نے کہا: وقال البیہقی فی کتاب المعرفۃ: وقلال ھجر کانت مشہورۃ عند اھل الحجاز، ولشھرتھا عندھم شبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ما رای لیلۃ المعراج من نبق سدرۃ المنتھٰی … … امام بیہقی نے کتاب المعرفۃ میں کہا کہ حجازیوں کے ہاں ہجر کے قلے مشہور تھے‘اسی شہرت کی بناء پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سدرۃ المنتہی کے پھل‘ جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے معراج والی رات کو دیکھے تھے‘ کو ہجر کے مٹکوں سے تشبیہ دی۔ (نصب الرایۃ: ۱/۱۱۲)
خلاصہ کلام: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصود ہجر علاقے کے مٹکے تھے۔ واللہ اعلم بالصواب۔
ہجر کے دو قلوں کا وزن
امام صنعانی نے کہا: ہجر کے دو قلے تقریبا پانچ سو رطل کے برابر ہوتے ہیں۔ (سبل السلام: ۱/۴۰) اور ایک رطل (۹۰) مثقال کے برابر ہوتا ہے‘ اس حساب سے (۵۰۰) رطل کا وزن تقریبا (۲۱۰) سیر‘ (۱۵) چھٹانک ہے‘ جو جدید وزن کے مطابق تقریبا (184.700) کلوگرام، یعنی (4) من‘ (24) کلو اور (700) گرام بنتا ہے۔فقہ حنفی میں کثیر پانی کی مقدار کے بارے میں درج ذیل تین آراء پیش کی گئی ہیں، کسی رائے کے حق میں کوئی مرفوع روایت پیش نہیں کی گئی:(۱):دہ در دہ (دس ہاتھ مربع تالاب) (۲):اتنا بڑا تالاب ہو کہ ایک کنارے پر دی گئی حرکت کا اثر دوسرے کنارے تک نہ پہنچے۔ حرکت دینے کی کیفیت کے بارے میں بھی تین مختلف اقوال ہیں:(۳):پانی کی جس مقدار کووضوء کرنے والا اپنی سمجھ کے مطابق کثیر سمجھے۔
مذکورہ بالا تعیین درج ذیل احادیث کی روشنی میں کی گئی ہے:(۱)عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: ((طُھُوْرُ اِنَائِ اَحَدِکُمْ اِذَا وَلَغَ فِیْہِ الْکَلْبُ اَنْ یَّغْسِلَہٗ سَبْعَ مَرَّاتٍ‘ اُوْلَاھُنَّ بِالتُّرَابِ۔)) … سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر کسی کے برتن میں کتا منہ ڈال لے‘ تو اسے پاک کرنے کیلئے سات دفعہ دھویا جائے‘ پہلی دفعہ مٹی سے مانجھا جائے۔ ایک روایت میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس پانی کو انڈیل دے۔ (صحیح مسلم: ۲۷۹)اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قلیل پانی کتے کے منہ ڈالنے سے علی الاطلاق پلید ہو جاتا ہے‘ اس استدلال کی وجہ یہ ہے کہ گھروں میں عام برتنوں کی مقدار دو قلوں سے کم ہوتی ہے۔(۲)اس باب کی پہلی حدیث، جس میں دو قلوں کا ذکر ہے۔ (۳)ممکن ہے کہ بلی کے جوٹھے کا بیان کے عنوان میں مذکورہ احادیث سے بھی یہ استدلال کیا جا سکے، کیونکہ صحابہ یہی سمجھ رہے تھے کہ بلی نجس ہے، لہٰذا اس کا جوٹھا بھی نجس ہو گا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضاحت کر دی کی بلی نجس نہیں ہے، جبکہ بلیاں گھروں میں جن برتنوں میں منہ ڈالتی ہیں، وہ چھوٹے چھوٹے ہوتے ہیں۔ (۴) جس حدیث ِ مبارکہ کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جامد چیز میں مر جانے والے چوہے کے ارد گرد والی متأثرہ چیز کو پھینک دینے اور مائع چیز کے قریب نہ جانے کا حکم دیا ہے، اس سے بھی یہ استدلال کیا جائے گا کہ تھوڑی مقدار کی چیز نجس ہو جاتی ہے، کیونکہ عام طور پر اس قسم کی چیزیں قلیل مقدار میں ہوتی ہیں، یہ حدیث نمبر (۴۳۸) میں آ رہی ہے۔علامہ عبد الحئی لکھنوی نے (السعایۃ: ۱/۳۷۷) میں کہا: ہر طرف نظر دوڑانے سے یہی ظاہر معلوم ہوتا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے‘ ہر قسم کے معارضہ‘ اجماع کی مخالفت‘ نسخ وتاویل وغیرہ سے سالم ہے۔ اور (عمدۃ الرعایۃ: ۱/۸۱) میں کہا: قلتین والی مقدار صحیح حدیث سے ثابت ہے‘ دہ در دہ (10×10 ہاتھ تالاب) پر کوئی دلیل شرعی نہیں ہے۔
جناب رشید احمد گنگوہی نے کہا: جس حدیث سے امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ نے حجت پکڑی ہے‘ وہ جیّد الاسناد اور قابل اعتماد ہے‘ اس کے بارے میں جو احناف نے جواب دیئے ہیں‘ ان سے طبیعتِ سلیمہ راضی نہیں ہوتی‘ آپ جانتے ہیں کہ یہ تعسف ہے۔ (الکوکب الدری: ۱/۴۰،۴۳ بحوالہ مرعاۃ المفاتیح: ۲/۱۷۵)
جن لوگوں نے اس کو مضطرب قرار دیا، تھذیب السنن لابن القیم، تحفۃ الاحوذی اور تعلیق ترمذی لاحمد شاکر میں ان کا جواب دیا گیا ہے۔ معلوم ہوا کہ جب تک نجاست کی وجہ سے دو قلے یا اس سے زائد پانی کے اوصاف (رنگ، ذائقہ، بو) تبدیل نہیں ہوتے‘ اس وقت تک پانی پاک رہتا ہے‘ محدثین اور فقہاء اس مسئلہ پر متفق ہیں کہ نجاست کی وجہ سے اوصاف بدلنے کی صورت میں پانی پلید ہوجائے گا۔
قلے (مٹکے) کا تعین
ابو عبید قاسم بن سلام نے کہا: المراد القلۃ الکبیرۃ اذ لو اراد الصغیرۃ لم یحتج لذکر العدد فان الصغیرتین قد ر واحدۃ کبیرۃ ویرجع فی الکبیرۃ الی العرف عن اھل الحجاز والظاھر ان الشارع علیہ السلام ترک تحدیدھما علی سبیل التوسعۃ والعلم محیط بانہ ما خاطب الصحابۃ الا بما یفھمون فانتفی الاجمال۔ … حدیث میں قلتین سے مراد بڑا مٹکا ہے‘ اگر اس سے مراد چھوٹا مٹکا ہو تا تو دو مٹکوں کی قیدکی کوئی ضرورت نہیں رہتی کیونکہ دو مٹکے ایک بڑے میں سما سکتے ہیں‘ رہا اِس بڑے مٹکے کے تعین کا مسئلہ تو اسے اہل حجاز کے عرف کی روشنی میں سمجھیں گے‘ معلوم یہی ہو تا ہے کہ شارع نے وسعت کے پیشِ نظر ان کی حدبندی نہیں کی‘ لیکن اتنا تو معلوم ہے کہ صحابہ کرام سے وہی خطاب کیا جائے گا جو وہ سمجھیں گے‘ لہٰذا اس مسئلے میں کوئی اجمال نہ رہا۔ (تحفۃ الاحوذی:۱/۷۰)
ازہری نے کہا: القلال مختلفۃ فی قری العرب وقلال ھجر اکبرھا وقلال ھجر مشہورۃ الصنعۃ معلومۃ المقدار والقلۃ لفظ مشترک وبعد صرفھا الی احد معلوماتھا وھی الاوانی تبقی مترددۃ بین الکبار والصغار والدلیل علی انھا من الکبار جعل الشارع الحد مقدارا بعدد فدل علی انہ اشار الی اکبرھا لانہ لا فائدۃ فی تقدیرہ بقلتین صغیرتین مع القدرۃ علی تقدیرہ بواحدۃ کبیرۃ۔ … عرب کی بستیوں میں قلوں کے مختلف سائز تھے‘ ہجر علاقے کے قلے سب سے بڑے تھے‘ یہ مخصوص ڈیزائن اور مخصوص مقدار والے ہوتے تھے‘ قلہ ایک مشترک لفظ ہے جو چھوٹے اور بڑے قلوں کو شامل ہے‘ لیکن حدیث میں اس سے مراد بڑے قلے ہیں‘ کیونکہ شارع علیہ السلام نے ایک تعداد (یعنی دو عدد قلوں) کے ساتھ حدبندی کی ہے‘ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بڑا قلہ مراد ہے‘ کیونکہ ایک بڑے قلے کے باوجود دو چھوٹے قلوں کی مقدار کا تعین بے فائدہ ہے۔ (تحفۃ الاحوذی: ۱/ ۷۰)
رشید احمد گنگوہی دیوبندی لکھتے ہیں: قلہ کے معنی میں اجمال کو لازم قرار دینا محض تحکم ہے، صحابہ کے نزدیک تو قلہ ایک معلوم چیز کا نام تھا‘ اس کی جہالت تم کو کوئی نقصان نہیں دے گی‘ دوسری روایات میں قلال ھجر کے الفاظ آتے ہیں‘ جو اس اجمال کو بیان کر دیتے ہیں۔ (بحوالہ مرعاۃ المفاتیح: ۲/۱۷۳)
علامہ زیلعی حنفی نے کہا: وقال البیہقی فی کتاب المعرفۃ: وقلال ھجر کانت مشہورۃ عند اھل الحجاز، ولشھرتھا عندھم شبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ما رای لیلۃ المعراج من نبق سدرۃ المنتھٰی … … امام بیہقی نے کتاب المعرفۃ میں کہا کہ حجازیوں کے ہاں ہجر کے قلے مشہور تھے‘اسی شہرت کی بناء پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سدرۃ المنتہی کے پھل‘ جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے معراج والی رات کو دیکھے تھے‘ کو ہجر کے مٹکوں سے تشبیہ دی۔ (نصب الرایۃ: ۱/۱۱۲)
خلاصہ کلام: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصود ہجر علاقے کے مٹکے تھے۔ واللہ اعلم بالصواب۔
ہجر کے دو قلوں کا وزن
امام صنعانی نے کہا: ہجر کے دو قلے تقریبا پانچ سو رطل کے برابر ہوتے ہیں۔ (سبل السلام: ۱/۴۰) اور ایک رطل (۹۰) مثقال کے برابر ہوتا ہے‘ اس حساب سے (۵۰۰) رطل کا وزن تقریبا (۲۱۰) سیر‘ (۱۵) چھٹانک ہے‘ جو جدید وزن کے مطابق تقریبا (184.700) کلوگرام، یعنی (4) من‘ (24) کلو اور (700) گرام بنتا ہے۔فقہ حنفی میں کثیر پانی کی مقدار کے بارے میں درج ذیل تین آراء پیش کی گئی ہیں، کسی رائے کے حق میں کوئی مرفوع روایت پیش نہیں کی گئی:(۱):دہ در دہ (دس ہاتھ مربع تالاب) (۲):اتنا بڑا تالاب ہو کہ ایک کنارے پر دی گئی حرکت کا اثر دوسرے کنارے تک نہ پہنچے۔ حرکت دینے کی کیفیت کے بارے میں بھی تین مختلف اقوال ہیں:(۳):پانی کی جس مقدار کووضوء کرنے والا اپنی سمجھ کے مطابق کثیر سمجھے۔
الحكم على الحديث: صحیح
10. بَابٌ فِي حُكْمِ الْبَوْلِ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ وَحُكْمِ الْوُضُوءِ أَوِ الِاغْتِسَالِ مِنْهُ
ساکن پانی میں پیشاب کرنے اور پھر اس سے وضو یا غسل کرنے کا حکم
حدیث نمبر: 393
عَنْ جَابِرٍ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: زَجَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُبَالَ فِي الْمَاءِ الرَّاكِدِ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ساکن پانی میں پیشاب کرنے سے منع فرمایا ہے۔“ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 393]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 1/ 141، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14668 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14723»
الحكم على الحديث: صحیح