الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابُ مَوَانِعِ الْحَيْضِ وَمَا تَقْضِي الْحَائِضُ مِنَ الْعِبَادَاتِ
حیض کی وجہ سے ممنوعہ امور اور حائضہ خاتون کے عبادات کی قضائی دینے کا بیان
حدیث نمبر: 930
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ الْيَهُودَ كَانُوا إِذَا حَاضَتِ الْمَرْأَةُ مِنْهُمْ لَمْ يُؤَاكِلُوهَا وَلَمْ يُجَامِعُوهَا فِي الْبُيُوتِ، فَسَأَلَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّى يَطْهُرْنَ} حَتَّى فَرَغَ مِنَ الْآيَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((اصْنَعُوا كُلَّ شَيْءٍ إِلَّا النِّكَاحَ))
سیدنا انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ جب عورت حائضہ ہو جاتی تو یہودی لوگ نہ اس کے ساتھ کھاتے تھے اور نہ اس کے ساتھ ہم بستری کرتے تھے، جب صحابہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: {وَیَسْأَلُونَکَ عَنِ الْمَحِیْضِ قُلْ ہُوَ أَذًی فَاعْتَزِلُوا النِّسَائَ فِی الْمَحِیْضِ وَلَا تَقْرَبُوہُنَّ حَتَّی یَطْہُرْنَ فَاِذَا تَطَھَّرْنَ فَأْتُوْھُنَّ مِنْ حَیْثُ اَمَرَکُمُ اللّٰہُ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ التَّوَّابِیْنَ وَیُحِبُّ الْمُتَطَھِّرِیْنَ۔} … آپ سے حیض کے بارے میں سوال کرتے ہیں، کہہ دیجئے کہ وہ تکلیف دہ چیز ہے، حالت ِ حیض میں عورتوں سے الگ رہو اور جب تک وہ پاک نہ ہو جائیں ان کے قریب نہ جاؤ، ہاں جب وہ پاک ہو جائیں تو ان کے پاس جاؤ، جہاں سے اللہ نے تمہیں حکم دیا ہے، اللہ بہت توبہ کرنے والوں سے محبت کرتا ہے اور بہت پاک رہنے والوں سے محبت فرماتا ہے۔ (سورۂ بقرہ: ۲۲۲) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہم بستری کے علاوہ ہر چیز کر سکتے ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب الحيض والإستحاضة والنفاس/حدیث: 930]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 302، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12354 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12379»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 931
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا وَقَدْ حَاضَتْ بِسَرِفَ قَبْلَ أَنْ تَدْخُلَ مَكَّةَ: قَالَ لَهَا: ((اقْضِي مَا يَقْضِي الْحَاجُّ غَيْرَ أَنْ لَا تَطُوفِي بِالْبَيْتِ))
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ جب وہ (حجۃ الوداع کے موقع پر) مکہ مکرمہ میں داخل ہونے سے پہلے سرِف مقَامَ پر حائضہ ہو گئی تھیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا تھا: تم بھی وہی کچھ کرتی رہو، جو کچھ حاجی لوگ کر رہے ہیں، البتہ بیت اللہ کا طواف نہیں کرنا۔ [الفتح الربانی/كتاب الحيض والإستحاضة والنفاس/حدیث: 931]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 294، 5548، 55599، ومسلم: 1211، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24109 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24610»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 932
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا (فِي قِصَّةِ أُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ جَحْشٍ) أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا: ((فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَدَعِي الصَّلَاةَ وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْتَسِلِي ثُمَّ صَلِّي))
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے، وہ سیدہ ام حبیبہ بنت جحشؓ کا قصہ بیان کرتے ہوئے کہتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: جب حیض کا خون شروع ہو جائے تو نماز چھوڑ دیا کر اور جب وہ ختم ہو جائے تو غسل کر کے نماز پڑھنا شروع کر دیا کر۔ [الفتح الربانی/كتاب الحيض والإستحاضة والنفاس/حدیث: 932]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 327، مسلم: 334، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24538 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25045»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 933
عَنْ مُعَاذَةَ قَالَتْ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ فَقُلْتُ: مَا بَالُ الْحَائِضِ تَقْضِي الصَّوْمَ وَلَا تَقْضِي الصَّلَاةَ؟ فَقَالَتْ: أَحَرُورِيَّةٌ أَنْتِ؟ قُلْتُ: لَسْتُ بِحَرُورِيَّةٍ وَلَكِنِّي أَسْأَلُ، قَالَتْ: قَدْ كَانَ يُصِيبُنَا ذَلِكَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَنُؤْمَرُ وَلَا نُؤْمَرُ، فَيَأْمُرُ بِقَضَاءِ الصَّوْمِ وَلَا يَأْمُرُ بِقَضَاءِ الصَّلَاةِ
معاذہ کہتی ہیں: میں نے سیدہ عائشہؓ سے سوال کیا: کیا وجہ ہے کہ حائضہ خاتون روزوں کی قضائی دیتی ہے اور نماز کی قضائی نہیں دیتی؟ انھوں نے مجھ سے کہا: کیا تو حروراء علاقے سے ہے؟ میں نے کہا: جی میں حروریہ نہیں ہوں، ویسے سوال کر رہی ہوں، پس انھوں نے کہا: ہمیں یہ حیض آتا تھا، جبکہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہوتی تھیں، تو ہمیں (کچھ کا) حکم دیا جاتا تھا اور (کچھ کا) ہمیں حکم نہیں دیا جاتا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزوں کی قضائی کا حکم دیتے تھے اور نمازوں کی قضائی کا حکم نہیں دیتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الحيض والإستحاضة والنفاس/حدیث: 933]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 321، ومسلم: 335، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25951 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26477»
وضاحت: فوائد: … حائضہ خاتون کے مسائل معروف ہیں کہ وہ ان ایام میں نہ نماز ادا کر سکتی ہے اور نہ روزہ رکھ سکتی ہے، البتہ بعد میں روزوں کی قضائی دے گی، چونکہ بیت اللہ کے طواف کو بھی نماز کہا گیا ہے، اس لیے وہ اس حالت میں طواف بھی نہیں کر سکتی، جب حائضہ کا خون ختم ہو جائے گا تو وہ غسل کر کے پاک ہو جائے گی۔ کوفہ کے قریب دو میل کے فاصلے پر ایک مقام کا نام حروراء تھا، خوارج سب سے پہلے اس مقام میں جمع ہوئے تھے، ان کا ایک گروہ اس امر کا قائل تھا کہ حائضہ عورت کو روزوں کی طرح نمازوں کی قضائی بھی دینی چاہیے، یہ ایک باطل نظریہ تھا، اس نظریے کو سامنے رکھ کر سیدہ عائشہؓ نے اس خاتون سے پوچھا تھا کہ اس کا تعلق خارجیوں سے تو نہیں ہے۔ اگلے ابواب میں حائضہ کے مزید احکام بیان کیے جا رہے ہیں۔
الحكم على الحديث: صحیح
2. بَابُ التَّرْهِيبِ مِنْ وَطْءِ الْحَائِضِ أَيَّامَ حَيْضِهَا
حیض کے ایام میں بیوی سے ہم بستری کرنے سے ڈرانے کا بیان
حدیث نمبر: 934
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَنْ أَتَى حَائِضًا أَوْ امْرَأَةً فِي دُبُرِهَا أَوْ كَاهِنًا فَصَدَّقَهُ فَقَدْ بَرِيءَ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى مُحَمَّدٍ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ))
سیدنا ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے حائضہ بیوی سے جماع کیا یا اپنی بیوی کو پشت سے استعمال کیا یا جو نجومی کے پاس گیا اور اس کی تصدیق کی، وہ اس دین سے بری ہو جائے گا، جو اللہ تعالیٰ نے جنابِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل کیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الحيض والإستحاضة والنفاس/حدیث: 934]
تخریج الحدیث: «حديث محتمل للتحسين۔ أخرجه ابوداود: 3904، والترمذي: 135، وابن ماجه: 639، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9290 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9279»
وضاحت: فوائد: … بیوی کو پشت سے استعمال کرنے سے مراد غیر فطری جماع ہے، یعنی پائخانہ والی جگہ کو استعمال کرنا ہے، خاوندوں کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے جس عضو کو حق زوجیت کا محل قرار دیا ہے، اسی کو استعمال کریں۔ حیض کے دوران جماع کرنا حرام ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
3. بَابُ كَفَّارَةِ مَنْ وَطِئَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ
جس نے حائضہ بیوی سے جماع کر لیا، اس کے کفارے کا بیان
حدیث نمبر: 935
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الَّذِي يَأْتِي امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ ((يَتَصَدَّقُ بِدِينَارٍ أَوْ بِنِصْفِ دِينَارٍ))
سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ جو آدمی حائضہ بیوی سے مجامعت کرتا ہے، اس کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ ایک دینار یا نصف دینار کا صدقہ کرے۔ [الفتح الربانی/كتاب الحيض والإستحاضة والنفاس/حدیث: 935]
تخریج الحدیث: «قال الالباني: صحيح۔ أخرجه ابوداود: 264، 2168، وابن ماجه: 640،والنسائي: 1/ 153، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2032 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2032»
وضاحت: فوائد: … دینار سے مراد سونے کا سکّہ ہے، اس کا وزن (4)ماشہ اور (4) رتی ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 936
(وَعَنْهُ بِلَفْظٍ آخَرَ) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّجُلِ يَأْتِي امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، قَالَ: ((يَتَصَدَّقُ بِدِينَارٍ فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَنِصْفُ دِينَارٍ))
۔ (دوسری روایت) جو آدمی حائضہ بیوی سے ہم بستری کرتا ہے، اس کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ ایک دینار صدقہ کرے، اگر اس میں اتنی ہمت نہ ہو تو نصف دینار صدقہ کر دے۔ [الفتح الربانی/كتاب الحيض والإستحاضة والنفاس/حدیث: 936]
تخریج الحدیث: «صحيح موقوفا، وھذا اسناد ضعيف جدا، عطاء العطار متروك وبعضھم رماه بالكذب، وانظر الحديث بالطريق الاول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3428 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3428»
الحكم على الحديث: صحیح
4. بَابُ جَوَازِ مُبَاشَرَةِ الْحَائِضِ فِيمَا فَوْقَ الْإِزَارِ وَمُضَاجَعَتِهَا وَمُؤَاكَلَتِهَا
ازار سے اوپر والے حصے کو استعمال کرنے، ایسی خاتون کے ساتھ لیٹ جانے اور اس کے ساتھ کھانا کھانے کا بیان
حدیث نمبر: 937
عَنْ مَيْمُونَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُبَاشِرُ نِسَاءَهُ فَوْقَ الْإِزَارِ وَهُنَّ حُيَّضٌ
سیدہ میمونہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی بیویوں کے ازار سے اوپر والے حصے کو استعمال کر لیتے تھے، جبکہ وہ حیض کی حالت میں ہوتی تھیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الحيض والإستحاضة والنفاس/حدیث: 937]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 294، وعلقه البخاري عقب الرواية: 303، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26854 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27391»
وضاحت: فوائد: … اس حصے کو استعمال کرنے سے مراد بوس و کنار اور چھونا وغیرہ ہے، شادی شدہ لوگ سمجھتے ہیں۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 938
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ
سیدہ عائشہ ؓ نے بھی اسی طرح کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الحيض والإستحاضة والنفاس/حدیث: 938]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 302، ومسلم: 293، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24046 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24547»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 939
عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ إِحْدَانَا إِذَا حَاضَتْ تَأْتَزِرُ ثُمَّ يُبَاشِرُهَا
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: جب ہم میں سے کوئی حائضہ ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو حکم دیتے کہ وہ ازار باندھ لے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے جسم کے ساتھ جسم ملاتے۔ [الفتح الربانی/كتاب الحيض والإستحاضة والنفاس/حدیث: 939]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25535»
الحكم على الحديث: صحیح