الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. بَابٌ فِي طَهَارَةِ بَدَنِ الْحَائِضِ وَثَوْبِهَا حَاشَا مَوْضِعَ الدَّمِ مِنْهُمَا
حائضہ عورت کے جسم اور کپڑوں کے پاک ہونے کا بیان، الّا یہ کہ وہ جگہ جہاں خون لگا ہوا ہو
حدیث نمبر: 960
عَنْ حُذَيْفَةَ (بْنِ الْيَمَانِ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: بِتُّ بِآلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَعَلَيْهِ طَرَفُ اللِّحَافِ وَعَلَى عَائِشَةَ طَرَفُهُ وَهِيَ حَائِضٌ لَا تُصَلِّي
سیدنا حذیفہ بن یمانؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے آلِ رسول کے ساتھ ایک رات گزاری، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو اٹھے اور نماز پڑھنے لگے، جبکہ لحاف کا ایک کنارہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر تھا اور دوسرا کنارہ سیدہ عائشہؓ پر تھا، جبکہ وہ حائضہ تھیں اور نماز نہیں پڑھتی تھیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الحيض والإستحاضة والنفاس/حدیث: 960]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23396 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23788»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 961
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ قَالَ: سَمِعْتُ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُومُ فَيُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ وَأَنَا نَائِمَةٌ إِلَى جَنْبِهِ فَإِذَا سَجَدَ أَصَابَنِي ثِيَابُهُ وَأَنَا حَائِضٌ
زوجۂ رسول سیدہ میمونہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو بیدار ہوتے اور نماز پڑھتے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلو میں لیٹی ہوتی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سجدہ کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کپڑا مجھے لگتا، جبکہ میں حائضہ ہوتی۔ [الفتح الربانی/كتاب الحيض والإستحاضة والنفاس/حدیث: 961]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 333، 379، 518، ومسلم: 513، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26807 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27343»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 962
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا طَرَقَتْهَا الْحَيْضَةُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فَأَشَارَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِثَوْبٍ وَفِيهِ دَمٌ فَأَشَارَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ: اغْسِلِيهِ، فَغَسَلْتُ مَوْضِعَ الدَّمِ ثُمَّ أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ الثَّوْبَ فَصَلَّى فِيهِ
سیدہ عائشہؓ سے روایت ہے کہ رات کو ان کو حیض آ گیا، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف کپڑے کا اشارہ کیا، جبکہ اس میں خون لگا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز کے اندر ہی اشارہ کیا کہ وہ اس کو دھو دیں، پس انھوں نے خون کی جگہ دھو دی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ کپڑا پکڑا اور اس میں نماز پڑھنے لگے۔ [الفتح الربانی/كتاب الحيض والإستحاضة والنفاس/حدیث: 962]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف ابن لھيعة وحيي بن عبد الله المعافري، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24370 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24874»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 963
وَعَنْهَا أَيْضًا قَالَتْ: كُنْتُ أَبِيتُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الشِّعَارِ الْوَاحِدِ وَأَنَا طَامِثٌ حَائِضٌ، قَالَتْ: فَإِنْ أَصَابَهُ مِنِّي شَيْءٌ غَسَلَهُ لَمْ يَعْدُ مَكَانَهُ وَصَلَّى فِيهِ
سیدہ عائشہؓ سے یہ بھی مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں اور اللہ کے رسول ایک کپڑے میں رات گزارتے تھے، جبکہ میں حائضہ ہوتی تھی، اگر خون آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لگ جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ جگہ دھو لیتے اور متاثرہ جگہ سے تجاوز نہ کرتے اور پھر اس میں نماز پڑھتے۔ [الفتح الربانی/كتاب الحيض والإستحاضة والنفاس/حدیث: 963]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 269، 2166، والنسائي: 1/ 150، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24173 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24675»
الحكم على الحديث: صحیح
8. بَابٌ فِي كَيْفِيَّةِ غُسْلِ الْحَائِضِ وَالنُّفَسَاءِ
حیض اور نفاس والی عورت کے غسل کی کیفیت
حدیث نمبر: 964
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كَيْفَ أَغْتَسِلُ عِنْدَ الطُّهْرِ؟ فَقَالَ: ((خُذِي فِرْصَةً مُمَسَّكَةً فَتَوَضَّئِي بِهَا)) قَالَتْ: كَيْفَ أَتَوَضَّأُ بِهَا؟ قَالَ: ((تَوَضَّئِي بِهَا)) قَالَتْ: كَيْفَ أَتَوَضَّأُ بِهَا؟ ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَبَّحَ فَأَعْرَضَ عَنْهَا، ثُمَّ قَالَ: ((تَوَضَّئِي بِهَا)) قَالَتْ عَائِشَةُ: فَفَطِنْتُ لِمَا يُرِيدُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذْتُهَا فَجَذَبْتُهَا إِلَيَّ فَأَخْبَرْتُهَا بِمَا يُرِيدُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
سیدہ عائشہؓ سے روایت ہے کہ ایک خاتون، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں طہارت حاصل کرتے وقت کیسے غسل کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کپڑے وغیرہ کا ایسا ٹکڑا لے، جس پر کستوری لگی ہوئی ہو اور اس کے ذریعے طہارت حاصل کر۔ اس نے کہا: اس کے ذریعے میں کیسے طہارت حاصل کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے ذریعے طہارت حاصل کر لے۔ وہ پھر کہنے لگی: میں اس کے ذریعے کیسے طہارت حاصل کروں؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تعجب کا اظہار کرتے ہوئے سبحان اللہ کہا اور اس سے اعراض کیا اور پھر فرمایا: اس کے ذریعے طہارت حاصل کر لے۔ سیدہ عائشہ ؓ کہتی ہیں: میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصد سمجھ گئی، اس لیے میں نے اس خاتون کو اپنی طرف کھینچ لیا اور سمجھا دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو کیا فرمانا چاہ رہے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الحيض والإستحاضة والنفاس/حدیث: 964]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 315، ومسلم: 332، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24907 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25419»
وضاحت: فوائد: … یہ روایت مختصر ہے، اگلی روایت میں تفصیل ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصود یہ تھا کہ جب عورت حیض سے فارغ ہو تو وہ اپنی شرمگاہ پر کستوری جیسی خوشبو لگائے تاکہ خون کی بدبو ختم ہو جائے اور مزاج کے اندر نفاست آ جائے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 965
(وَمِنْ طَرِيقٍ آخَرَ) عَنْ إِبْرَاهِيمَ الْمُهَاجِرِ قَالَ: سَمِعْتُ صَفِيَّةَ بِنْتَ شَيْبَةَ تُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ أَسْمَاءَ سَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ غُسْلِ الْمَحِيضِ، قَالَ: تَأْخُذُ إِحْدَاكُنَّ مَاءَهَا وَسِدْرَتَهَا فَتَطَهَّرُ فَتُحْسِنُ الطُّهْرَ ثُمَّ تَصُبُّ عَلَى رَأْسِهَا فَتَدْلُكُهُ دَلْكًا شَدِيدًا حَتَّى يَبْلُغَ شُعُورَ رَأْسِهَا، ثُمَّ تَصُبُّ عَلَيْهَا الْمَاءَ ثُمَّ تَأْخُذُ فِرْصَةً مُمَسَّكَةً فَتَطَهَّرُ بِهَا)) قَالَتْ أَسْمَاءُ: وَكَيْفَ تَطَهَّرُ بِهَا؟ قَالَ: ((سُبْحَانَ اللَّهِ! تَطَهَّرِي بِهَا)) فَقَالَتْ عَائِشَةُ: كَأَنَّهَا تُخْفِي ذَلِكَ: تَتَبَّعِي أَثَرَ الدَّمِ، وَسَأَلْتُهُ عَنْ غُسْلِ الْجَنَابَةِ، قَالَ: ((تَأْخُذِي مَاءَكِ فَتَطَهَّرِينَ فَتُحْسِنِينَ الطُّهْرَ أَوْ أَبْلِغِي الطُّهْرَ ثُمَّ تَصُبُّ عَلَى رَأْسِهَا فَتَدْلُكُهُ حَتَّى يَبْلُغَ شُعُورَ رَأْسِهَا ثُمَّ تُفِيضُ عَلَيْهَا الْمَاءَ)) فَقَالَتْ عَائِشَةُ: نِعْمَ النِّسَاءُ نِسَاءُ الْأَنْصَارِ، لَمْ يَكُنْ يَمْنَعُهُنَّ الْحَيَاءُ أَنْ يَتَفَقَّهْنَ فِي الدِّينِ
۔ (دوسری سند) سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ سیدہ اسماء ؓ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حیض کے غسل کے بارے میں سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خاتون پانی اور بیری کے پتے لے لے اور وضو کرے اور اچھی طرح وضو کرے، پھر سر پر پانی بہائے اور اس کو اچھی طرح مَلے، یہاں تک کہ پانی سر یعنی بالوں کی جڑوں تک پہنچ جائے، پھر اپنے وجود پر پانی بہا دے، پھر کپڑے وغیرہ کا ایسا ٹکڑا لے، جس پر کستوری لگی ہوئی ہو اور اس کے ذریعے طہارت حاصل کر لے۔ سیدہ اسماءؓ نے کہا: وہ اس کے ساتھ کیسے طہارت حاصل کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سبحان اللہ! تو اس سے پاکیزگی حاصل کر۔ سیدہ عائشہؓ نے کہا: گویا کہ یہ بات اس کے لیے خفا والی تھی کہ وہ اس کو خون کے نشانات پر لگا دے۔ اور میں نے غسل جنابت کے بارے میں سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم پانی لو، وضو کرو اور اچھی طرح وضو کرو، پھر اپنے سر پر پانی بہاؤ اور اس کو خوب ملو، یہاں تک کہ پانی سر یعنی بالوں کی جڑوں تک پہنچ جائے، پھر اپنے جسم پر پانی بہادے۔ سیدہ عائشہؓ نے کہا: انصار کی عورتیں بہترین عورتیں ہیں، ان کے لیے دین کی فقاہت حاصل کرنے کے لیے حیا مانع نہیں ہوتا۔ [الفتح الربانی/كتاب الحيض والإستحاضة والنفاس/حدیث: 965]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25660»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 966
عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا ذُكِرَتْ نِسَاءُ الْأَنْصَارِ فَأَثْنَتْ عَلَيْهِنَّ وَقَالَتْ لَهُنَّ مَعْرُوفًا وَقَالَتْ: لَمَّا نَزَلَتْ سُورَةُ النُّورِ عَمَدْنَ إِلَى حُجَزِ أَوْ حُجُوزِ مَنَاطِقِهِنَّ فَشَقَقْنَهَا ثُمَّ اتَّخَذْنَ مِنْهَا خُمُرًا، وَإِنَّهَا دَخَلَتْ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَخْبِرِينِي عَنِ الطُّهْرِ مِنَ الْحَيْضِ، فَقَالَ: ((نَعَمْ، لِتَأْخُذَ إِحْدَاكُنَّ مَاءَهَا وَسِدْرَتَهَا …)) فَذَكَرَتْ نَحْوَ الْحَدِيثِ الْمُتَقَدِّمِ
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ انصار کی عورتوں کا ذکر کیا گیا، انھوں نے ان کی تعریف کی اور ان کے حق میں اچھی باتیں کہیں، نیز انھوں نے کہا: جب سورۂ نور نازل ہوئی تو اِن انصاری خواتین نے اپنے ازاروں کی طرف قصد کیا اور ان کو پھاڑ کر دو پٹے بنا لیے، نیز سیدہ نے یہ بات بھی ذکر کی کہ ایک دفعہ ایک انصاری خاتون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے حیض سے طہارت حاصل کرنے کے بارے میں بتائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، خاتون کو چاہیے کہ پانی اور بیری کے پتوں کا اہتمام کرے، … …۔ پھر سابق حدیث کی طرح کی حدیث ذکر کی۔ [الفتح الربانی/كتاب الحيض والإستحاضة والنفاس/حدیث: 966]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه شطره الاول البخاري: 4758، 4759، ورواه بتمامه ومختصرا ابوداود: 315، 4100، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25551 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26067»
الحكم على الحديث: صحیح
9. بَابٌ فِي الْمُسْتَحَاضَةِ تَبْنِي عَلَى عَادَتِهَا وَفِي وُضُوئِهَا لِكُلِّ صَلَاةٍ
مستحاضہ کا اپنی عادت پر بنیاد رکھنے اور ہر نماز کے لیے وضو کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 967
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ: حَدَّثَتْنِي خَالَتِي فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: أَتَيْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَقُلْتُ لَهَا: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ! قَدْ خَشِيْتُ أَنْ لَا يَكُونَ لِي حَظٌّ فِي الْإِسْلَامِ وَأَنْ أَكُونَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، أَمْكُثُ مَا شَاءَ اللَّهُ مِنْ يَوْمِ أُسْتَحَاضُ فَلَا أُصَلِّي لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ صَلَاةً، قَالَتْ: اجْلِسِي حَتَّى يَجِيءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! هَٰذِهِ فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ تَخْشَى أَنْ لَا يَكُونَ لَهَا حَظٌّ فِي الْإِسْلَامِ وَأَنْ تَكُونَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، تَمْكُثُ مَا شَاءَ اللَّهُ مِنْ يَوْمِ تُسْتَحَاضُ فَلَا تُصَلِّي لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ صَلَاةً، فَقَالَ: ((مُرِي فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ فَلْتُمْسِكْ كُلَّ شَهْرٍ عَدَدَ أَيَّامِ أَقْرَائِهَا ثُمَّ تَغْتَسِلُ وَتَحْتَشِي وَتَسْتَثْفِرُ وَتَتَنَظَّفُ ثُمَّ تَطَهَّرُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ وَتُصَلِّي، فَإِنَّمَا ذَلِكِ رَكْضَةٌ مِنَ الشَّيْطَانِ أَوْ عِرْقٌ انْقَطَعَ أَوْ دَاءٌ عَرَضَ لَهَا))
سیدہ فاطمہ بنت ابی حبیشؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں سیدہ عائشہ ؓ کے پاس گئی اور کہا: اے ام المؤمنین! مجھے تویہ ڈر لگا ہوا ہے کہ اسلام میں میرا کوئی حصہ نہیں ہے اور میں جہنمی لوگوںمیں سے ہوں گی، کیونکہ جس دن سے مجھے استحاضہ کا خون آ رہا ہے، میں رکی ہوئی ہوں اور اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی نماز نہیں پڑھ رہی، انھوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تشریف آوری تک اِدھر ہی بیٹھ جاؤ، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تو انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ سیدہ فاطمہ بنت ابو حبیشؓ ہیں، ان کو یہ ڈر لگا ہوا ہے کہ ان کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں ہے اور یہ جہنمیوں میں ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ استحاضہ والے دن سے ٹھہری ہوئی ہیں اور اللہ تعالیٰ کے لیے نماز نہیں پڑھ رہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فاطمہ کو حکم دو کہ وہ ہر ماہ میں سے اپنے حیض کے دنوں میں (صوم و صلاۃ سے) رک جایا کرے، پھر غسل کر کے اپنی شرمگاہ میں کوئی روئی وغیرہ دے کر لنگوٹ کَس لے اور صفائی ستھرائی حاصل کر کے ہر نماز کے وقت وضو کیا کرے اور نماز ادا کیا کرے، یہ شیطان کی طرف سے کوئی ٹھوکر مار دی گئی ہے یا کوئی رگ پھٹ گئی ہے یا کوئی بیماری لاحق ہو گئی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الحيض والإستحاضة والنفاس/حدیث: 967]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه الدارقطني: 1/ 217، والحاكم: 1/ 175، والبيھقي: 1/ 354، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27631 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28183»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 968
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا حَدَّثَتْهُ أَنَّهَا أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَشَكَتْ إِلَيْهِ الدَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّمَا ذَلِكِ عِرْقٌ، فَانْظُرِي إِذَا أَتَتْ قَرْءُكِ فَلَا تُصَلِّي، فَإِذَا مَرَّ الْقَرْءُ تَطَهَّرِي ثُمَّ صَلِّي مَا بَيْنَ الْقَرْءِ إِلَى الْقَرْءِ))
سیدہ فاطمہ بنت ابو حبیش ؓ بیان کرتی ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے خون کی شکایت کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کسی رگ کامسئلہ ہے، پس تو دیکھ کہ جب تجھے حیض آئے تو تو نے نماز نہیں پڑھنی، جب حیض ختم ہو جائے تو طہارت حاصل کر کے اِس حیض سے اگلے حیض تک نماز پڑھ۔ [الفتح الربانی/كتاب الحيض والإستحاضة والنفاس/حدیث: 968]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه ابوداود: 280، والنسائي: 1/ 121، وابن ماجه: 620، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27630 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28182»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 969
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: أَتَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: إِنِّي أُسْتَحَاضُ، فَقَالَ: ((دَعِي الصَّلَاةَ أَيَّامَ حَيْضِكِ ثُمَّ اغْتَسِلِي وَتَوَضَّئِي عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ وَإِنْ قَطَرَ الدَّمُ عَلَى الْحَصِيرِ))
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ سیدہ فاطمہ بنت ابو حبیش ؓ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تشریف لائیں اور کہا: میں استحاضہ کے خون میں مبتلا ہو گئی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے حیض کے دنوں میں نماز چھوڑ دے، پھر غسل کر اور ہر نماز کے لیے وضو کر کے نماز پڑھ، اگرچہ خون چٹائی پر گرتا رہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الحيض والإستحاضة والنفاس/حدیث: 969]
تخریج الحدیث: «أخرج نحوه البخاري: 228، 331، 306، ومسلم: 333، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26255 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26785»
الحكم على الحديث: صحیح