Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. بَابُ مَا جَاءَ فِي وَقْتِهَا وَجَوَازِ فِعْلِهَا جَمَاعَةً
صلوٰۃ الضحیٰ کے وقت اور اس کے باجماعت ادا کرنے کے جواز کے بارے میں بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2267
عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ الْمَسْجِدَ فَإِذَا نَحْنُ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فَجَلَسْنَاهُ، قَالَ: فَإِذَا رِجَالٌ يُصَلُّونَ الضُّحَى، فَقُلْنَا: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ! مَا هَٰذِهِ الصَّلَاةُ؟ قَالَ: بِدْعَةٌ
مجاہدk کہتے ہیں: میں اور عروۃ بن الزبیر رضی اللہ عنہ مسجد میں داخل ہوئے، وہاں سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بھی تشریف فرما تھے، ہم ان کے ساتھ بیٹھ گئے۔ کچھ لوگ چاشت کی نماز پڑھ رہے تھے۔ ہم نے کہا: اے ابوعبدالرحمن! یہ کون سی نماز ہے؟ انھوں نے کہا: یہ بدعت ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الضحى/حدیث: 2267]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1775، 1776، 4253، ومسلم: 1255، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6126)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6126»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2268
عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ مَا أَخْبَرَنِي أَحَدٌ أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى غَيْرُ أُمِّ هَانِئٍ فَإِنَّهَا حَدَّثَتْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ بَيْتَهَا يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ فَاغْتَسَلَ وَصَلَّى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ (زَادَ فِي رِوَايَةٍ يُخَفِّفُ فِيهِنَّ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ) مَا رَأَتْهُ صَلَّى صَلَاةً قَطُّ أَخَفَّ مِنْهَا غَيْرَ أَنَّهُ كَانَ يُتِمُّ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ
ابن ابی لیلیٰ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں: سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا کے علاوہ کسی نے مجھے خبر نہیں دی کہ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چاشت کی نماز پڑھتے دیکھا ہو، انھوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فتح مکہ والے دن اس کے گھر میں داخل ہوئے، غسل کیا اور آٹھ رکعات نماز پڑھی، تخفیف کے ساتھ رکوع و سجود کیے، (بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ) اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس سے ہلکی نماز پڑھتے کبھی نہیں دیکھا تھا، ہاں یہ بات ضرور ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رکوع و سجود مکمل کر رہے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الضحى/حدیث: 2268]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1103، 1176، 4292، ومسلم: 336، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26900 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27439»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2269
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ أَنَّ أَبَاهُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ حَدَّثَهُ أَنَّ أُمَّ هَانِئٍ بِنْتَ أَبِي طَالِبٍ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَتَى بَعْدَ مَا ارْتَفَعَ النَّهَارُ يَوْمَ الْفَتْحِ فَأَمَرَ بِثَوْبٍ فَسُتِرَ عَلَيْهِ فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ قَامَ فَرَكَعَ ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ لَا أَدْرِي أَقِيَامُهُ فِيهَا أَطْوَلُ أَوْ رُكُوعُهُ أَوْ سُجُودُهُ، كُلُّ ذَلِكَ مِنْهُ مُتَقَارِبٌ، قَالَتْ: فَلَمْ أَرَهُ سَبَّحَهَا قَبْلُ وَلَا بَعْدُ
(دوسری سند) عبیداللہ بن عبد اللہ بن الحارث سے روایت ہے کہ اس کے باپ عبد اللہ بن الحارث بن نوفل نے اس کو بیان کیا کہ سیدہ ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا نے اس کو خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فتح مکہ والے دن، دن کے بلند ہوجانے کے بعد آئے، آپ نے کپڑے کے متعلق حکم دیا، پس اس کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پردہ کیا گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غسل کیا اور کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آٹھ رکعات نماز پڑھی، میں نہیں جانتی کہ اس نماز میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قیام لمبا تھا یا رکوع یا سجدہ، ان میں سے ہر ایک دوسرے کے قریب قریب تھا۔ سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے اس سے پہلے اور اس کے بعد کبھی بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چاشت کی نماز پڑھتے نہیں دیکھا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الضحى/حدیث: 2269]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 336، وانظر الحديث بالطريق الاول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26899 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27438»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2270
عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَجُلٌ ضَخْمٌ لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يُصَلِّيَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: لَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أُصَلِّيَ مَعَكَ فَلَوْ أَتَيْتَ مَنْزِلِي فَصَلَّيْتَ فَأَقْتَدِيَ بِكَ، فَصَنَعَ الرَّجُلُ طَعَامًا، ثُمَّ دَعَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَنَضَحَ طَرَفَ حَصِيرٍ لَهُمْ، فَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ آلِ الْجَارُودِ لِأَنَسٍ: وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى؟ قَالَ مَا رَأَيْتُهُ صَلَّاهَا إِلَّا يَوْمَئِذٍ
انس بن سیرین، سیّدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ ایک موٹا آدمی تھا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھنے کی طاقت نہیں رکھتا تھا، اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا:مجھ میں اتنی استطاعت نہیں ہے کہ میں آپ کے ساتھ نماز پڑھ سکوں، اس لیے اگر آپ میرے گھر تشریف لائیں اور (کسی جگہ) نماز پڑھیں، تاکہ میں آپ کی اقتداء کروں۔ پھر اس نے کھانا تیار کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بلایا، پس اس نے چٹائی کا ایک کنارہ ان کے لیے صاف کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو رکعتیں ادا کیں۔آل جارود میں سے ایک آدمی نے سیّدنا انس رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چاشت کی نماز پڑھتے تھے۔ انہوں نے جواب دیا کہ اس نے اس دن کے علاوہ کبھی بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چاشت کی نماز پڑھتے نہیں دیکھا تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الضحى/حدیث: 2270]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 670، 1179، 6080، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12329 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12354»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2271
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ إِنَّهُ لَمْ يَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى إِلَّا أَنْ يَخْرُجَ فِي سَفَرٍ أَوْ يَقْدَمَ مِنْ سَفَرٍ
سیّدناعبد اللہ بن رواحہ سے سے روایت ہے کہ سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا: بے شک میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چاشت کی نماز پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا، مگر اس وقت جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر کے لیے نکلتے یا سفر سے واپس آتے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الضحى/حدیث: 2271]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه البخاري في ’’التاريخ الكبير‘‘: 1/ 454، وابو يعلي: 4337، وأبو نعيم في ’’الحلية‘‘: 9/ 16، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12353 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12649»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2272
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ صَلَّى سُبْحَةَ الضُّحَى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: ((إِنِّي صَلَّيْتُ صَلَاةَ رَغْبَةٍ وَرَهْبَةٍ سَأَلْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ ثَلَاثًا فَأَعْطَانِي ثِنْتَيْنِ وَمَنَعَنِي وَاحِدَةً، سَأَلْتُهُ أَنْ لَا يَبْتَلِيَ أُمَّتِي بِالسِّنِينَ فَفَعَلَ، وَسَأَلْتُ أَنْ لَا يُظْهِرَ عَلَيْهِمْ عَدُوَّهُمْ فَفَعَلَ، وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يَلْبِسَهُمْ شِيَعًا فَأَبَى عَلَيَّ))
سیّدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سفر میں آٹھ رکعت چاشت کی نماز پڑھی، فارغ ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے (اللہ کی رحمت کی) رغبت رکھتے ہوئے اور (اس کے عذابوں سے) ڈرتے ہوئے نماز پڑھی ہے، میں نے اللہ تعالیٰ سے تین چیزوں کا سوال کیا، اس نے دو چیزیں تو مجھے عطا کردی ہیں، لیکن ایک کو روک دیا ہے، میں نے اللہ سے سوال کیا کہ وہ میری امت کو قحط سالی سے نہ آزمائے، پس اللہ نے اسی طرح کردیا ہے، پھرمیں نے اس سے سوال کیا کہ وہ ان کے دشمن کو ان پر مسلط نہ کرے، پس اس نے اسی طرح کردیا، (میرا تیسرا سوال یہ تھا کہ) وہ اِن کو گروہوں میں خلط ملط نہ کرے، لیکن اس نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الضحى/حدیث: 2272]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وھذا اسناد ضيعف لجھالة الضحاك القرشي، ولضعف رشدين بن سعد، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12589 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12617»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. بَابُ اخْتِلَافِ الصَّحَابَةِ فِيهَا وَفِيهِ فُصُولٌ
(فصل ثالث) ان روایات کے بارے میں جو اس مسئلہ میں¤ام المؤمنین سیدہ عائشہ cسے منقول ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2273
عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: وَاللَّهِ مَا سَبَّحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سُبْحَةَ الضُّحَى قَطُّ وَإِنِّي لَأُسَبِّحُهَا وَقَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتْرُكُ الْعَمَلَ وَهُوَ يُحِبُّ أَنْ يَعْمَلَهُ خَشْيَةَ أَنْ يَسْتَنَّ بِهِ النَّاسُ فَيُفْرَضَ عَلَيْهِمْ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ مَا خَفَّ عَلَى النَّاسِ مِنَ الْفَرَائِضِ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کبھی بھی چاشت کے نوافل نہیں پڑھے تھے، البتہ میں یہ نماز پڑھتی تھی۔ اصل بات یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک عمل کو پسند کرنے کے باوجود اس کو ترک کر دیتے تھے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ ڈر ہوتا تھا کہ لوگ بھی آپ کی اقتداء کریں گے اور یہ عمل فرض ہو جائے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرائض کے معاملے پر لوگوں پر تخفیف کو پسند کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الضحى/حدیث: 2273]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1128، 1177، ومسلم: 718، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25444، 25451 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25066»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2274
وَعَنْهَا أَيْضًا قَالَتْ: مَا سَبَّحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سُبْحَةَ الضُّحَى فِي سَفَرٍ وَلَا حَضَرٍ
اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ بھی مروی ہے، وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چاشت کی نمازنہیں پڑھتے تھے، نہ سفر میں اور نہ حضر میں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الضحى/حدیث: 2274]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق: 1141، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24551 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25058»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2275
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى إِلَّا أَنْ يَقْدَمَ مِنْ سَفَرٍ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چاشت کی نماز پڑھتے نہیں دیکھا تھا، ہاں جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر سے واپس آتے تو دو رکعت نماز پڑھتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الضحى/حدیث: 2275]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 717، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24025، 25385 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24526»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2276
عَنْ مُعَاذَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي الضُّحَى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے گھر میں چاشت کی چار رکعتیں پڑھیں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الضحى/حدیث: 2276]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وھذا اسناد ضعيف، أخرجه مسلم: 719، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25232، 24924 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25746»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں