Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. بَابُ اخْتِلَافِ الصَّحَابَةِ فِيهَا وَفِيهِ فُصُولٌ
(فصل ثالث) ان روایات کے بارے میں جو اس مسئلہ میں¤ام المؤمنین سیدہ عائشہ cسے منقول ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2277
وَعَنْهَا أَيْضًا قَالَتْ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا كَمْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى؟ قَالَتْ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَيَزِيدُ مَا شَاءَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ
معاذہ کہتی ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چاشت کی نماز کتنی رکعتیں پڑھا کرتے تھے؟ انھوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چار رکعت پڑھا کرتے تھے اور اس سے زیادہ بھی پڑھتے، جتنا اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الضحى/حدیث: 2277]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق: 1144، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24889 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25401»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. بَابُ الصَّلَاةِ عَقِبَ الطُّهُورِ 
وضو کے بعد نماز پڑھنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2278
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((يَا بِلَالُ! حَدِّثْنِي بِأَرْجَى عَمَلٍ عَمِلْتَهُ فِي الْإِسْلَامِ عِنْدَكَ مَنْفَعَةً، فَإِنِّي سَمِعْتُ اللَّيْلَةَ خَشْفَ نَعْلَيْكَ بَيْنَ يَدَيَّ فِي الْجَنَّةِ؟)) فَقَالَ بِلَالٌ: مَا عَمِلْتُ عَمَلًا فِي الْإِسْلَامِ أَرْجَى عِنْدِي مَنْفَعَةً إِلَّا أَنِّي لَمْ أَتَطَهَّرْ طُهُورًا تَامًّا فِي سَاعَةٍ مِنْ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ إِلَّا صَلَّيْتُ بِذَلِكَ الطُّهُورِ مَا كَتَبَ اللَّهُ لِي أَنْ أُصَلِّيَ
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے کہا: اے بلال! مجھے اپنے سب سے امید والے عمل کے بارے میں بتاؤ، جو تیرے خیال کے مطابق اسلام میں بڑا نفع مند ہے، کیونکہ میں نے رات کو اپنے آگے تیرے جوتوں کی آواز جنت میں سنی تھی؟ سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے کوئی ایسا عمل نہیں کیا جو میرے نزدیک اسلام میں نفع کے لحاظ سے سب سے زیادہ امید والا ہو،البتہ (یہ عمل ہے کہ) میں رات اور دن کی جس گھڑی میں جب بھی وضو کرتا ہوں، تو اس وضو سے اتنی نماز پڑھتا ہوں جو اللہ تعالیٰ نے میرے مقدر میں لکھی ہوتی ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الضحى/حدیث: 2278]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1149، ومسلم: 2458، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8403، 9672 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9670»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2279
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي بُرَيْدَةَ يَقُولُ: أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَدَعَا بِلَالًا فَقَالَ: يَا بِلَالُ! بِمَ سَبَقْتَنِي إِلَى الْجَنَّةِ؟ مَا دَخَلْتُ الْجَنَّةَ قَطُّ إِلَّا سَمِعْتُ خَشْخَشَتَكَ أَمَامِي، إِنِّي دَخَلْتُ الْبَارِحَةَ فَسَمِعْتُ خَشْخَشَتَكَ (فَذَكَرَ حَدِيثًا يَخْتَصُّ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ) وَقَالَ لِبِلَالٍ: ((بِمَ سَبَقْتَنِي إِلَى الْجَنَّةِ؟)) قَالَ: مَا أَحْدَثْتُ إِلَّا تَوَضَّأْتُ وَصَلَّيْتُ رَكْعَتَيْنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((بِهَٰذَا))
سیّدنا بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب صبح کی توسیّدنا بلال رضی اللہ عنہ کو بلایااور پوچھا: اے بلال! کس عمل کی وجہ سے تو جنت میں مجھ سے سبقت لے گیا، کیونکہ میں جب بھی جنت میں داخل ہوا تو میں نے اپنے آگے آگے تیرے قدموں کی آواز سنی ہے، گذشتہ رات بھی جب میں جنت میں داخل ہوا تو تیر ے قدموں کی آواز سنی تھی(پس راوی نے وہ حدیث ذکر کی جو سیّدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ خاص تھی)۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: کون سے عمل کی وجہ سے تو مجھ سے جنت میں سبقت لے گیا ہے؟ سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ نے کہا:میں جب بھی بے وضو ہوتاہوں تو وضو کرتا ہوں اورپھردو رکعتیں ادا کرتا ہوں۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسی عمل کی وجہ سے (تو جنت میں مجھ سے بھی سبقت لے گیا)۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الضحى/حدیث: 2279]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه تاما ومختصرا الترمذي: 3689، وابن خزيمة: 1209، والحاكم: 3/ 285، 313، والبغوي: 1012، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22996، 23040 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23384»
وضاحت: فوائد: … عمر بن خطاب کے ساتھ خاص تھی۔ یعنی اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر بن خطاب کے حوالہ سے بھی ایک خاص بات ارشاد فرمائی اور وہ یہ کہ آپ نے فرمایا جنت میں مجھے ایک بلند اور سونے کا بنا ہوا محل دکھایا گیا تو میں نے پوچھا کہ یہ محل کس کا ہے تو مجھے بتایا گیا کہ یہ عمر بن خطاب کا ہے

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. بَابُ مَا جَاءَ فِي تَحِيَّةِ الْمَسْجِدِ 
تحیۃ المسجد کابیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2280
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَدَخَلَ أَعْرَابِيٌّ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَجَلَسَ الْأَعْرَابِيُّ فِي آخِرِ النَّاسِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَرَكَعْتَ رَكْعَتَيْنِ؟)) قَالَ: لَا، قَالَ: فَأَمَرَهُ، فَأَتَى الرَّحْبَةَ الَّتِي عِنْدَ الْمِنْبَرِ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ
سیّدناابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم جمعہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے۔ ایک بدو(مسجد میں) داخل ہوا اور لوگوں کے پیچھے بیٹھ گیا، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر تشریف فرما تھے۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پوچھا: کیا تو نے دو رکعتیں پڑھی ہیں؟ اس نے کہا: نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو حکم دیا، پس وہ منبر کے پاس خالی جگہ پرآیا اور دو رکعتیں پڑھیں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الضحى/حدیث: 2280]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، وھذا اسناد ضعيف لضعف ابن لھيعة، أخرجه بنحوه مطولا و مختصرا البخاري في ’’القراء ة خلف الامام‘‘: 162، وابوداود: 1675، والترمذي: 511، والنسائي: 3/ 106، ابن ماجه: 1113، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11197 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11692»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2281
عَنْ أَبِي قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ بَيْنَ ظَهْرَانِي النَّاسِ فَجَلَسْتُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَا مَنَعَكَ أَنْ تَرْكَعَ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ تَجْلِسَ؟)) قَالَ: قُلْتُ: إِنِّي رَأَيْتُكَ جَالِسًا وَالنَّاسُ جُلُوسٌ، قَالَ وَإِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ فَلَا يَجْلِسْ حَتَّى يَرْكَعَ رَكْعَتَيْنِ
سیّدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں: میں مسجد میں داخل ہوا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کے درمیان بیٹھے ہوئے تھے، میں بھی بیٹھ گیا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کس چیز نے تجھے بیٹھنے سے پہلے دو رکعتیں پڑھنے سے روکا؟ میں نے کہا:میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اور لوگوں کو بیٹھے ہوئے دیکھا اس لیے میں بھی بیٹھ گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی مسجد میں آئے تو دو رکعت پڑھنے سے پہلے نہ بیٹھے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الضحى/حدیث: 2281]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 714، وانظر الحديث بالطريق الثاني، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22601 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22973»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2282
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يَجْلِسَ))
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی مسجد میں آئے تو وہ بیٹھنے سے پہلے دو رکعتیں پڑھے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الضحى/حدیث: 2282]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 444، ومسلم: 714، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22523 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22948»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
6. بَابُ صَلَاةِ الْاسْتِخَارَةِ
نماز استخارہ کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2283
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا الِاسْتِخَارَةَ كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ يَقُولُ: ((إِذَا هَمَّ أَحَدُكُمْ بِالْأَمْرِ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ مِنْ غَيْرِ الْفَرِيضَةِ ثُمَّ لِيَقُلْ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ الْعَظِيمِ فَإِنَّكَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ وَتَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ اللَّهُمَّ فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ هَٰذَا الْأَمْرَ خَيْرًا لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي قَالَ أَبُو سَعِيدٍ وَمَعِيشَتِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي فَاقْدُرْهُ لِي وَيَسِّرْهُ ثُمَّ بَارِكْ لِي فِيهِ، اللَّهُمَّ وَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُهُ شَرًّا لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي فَاصْرِفْنِي عَنْهُ وَاصْرِفْهُ عَنِّي وَاقْدُرْ لِيَ الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ ثُمَّ رَضِّنِي بِهِ))
سیّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قرآن مجید کی سورت کی طرح (بڑے اہتمام سے) استخارہ کی تعلیم دیتے اور کہتے: جب تم میں سے کوئی آدمی کسی کام کا ارادہ کرے تو وہ فرضوں کے علاوہ دو رکعتیں نماز پڑھے، پھر یہ دعا پڑھے: اے اللہ! بے شک میں تیرے علم کے ساتھ تجھ سے خیر طلب کرتا ہوں اور میں تیری قدرت کے ساتھ تجھ سے قدرت طلب کرتا ہوں اور میں تجھ سے تیرے بڑے فضل کا سوال کرتا ہوں، کیونکہ توقادر ہے اورمیں قدرت نہیں رکھتا اور تو جانتا ہے اور میں نہیں جانتا اور تو غیبوں کو جاننے والا ہے۔ اے اللہ! اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام میرے دین،دنیا، معیشت اور میرے معاملے کے انجام میں میرے لیے بہتر ہے، تو اس کو میرے مقدر میں کردے اور اس کو آسان بنادے، پھر میرے لیے اس میں برکت ڈال دے۔ اے اللہ! اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام میرے لیے میرے دین، دنیا اور میرے معاملے کے انجام میں برا ہے، تو مجھے اس سے دور کردے اور اس کو مجھ سے دورکردے، اور خیر جہاں بھی ہو اس کو میرے مقدر میں کردے اور پھر مجھے اس سے راضی کر دے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الضحى/حدیث: 2283]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1162، 6382، 7390، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14707 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14763»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
7. فَضْلٌ فِي الِاسْتِخَارَةِ لِمَنْ يُرِيدُ الزَّوَاجَ
جو شخص شادی کا ارادہ رکھتا ہے اس کے لیے استخارہ کرنے کے بیان میں فصل
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2284
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ: أُكْتُمِ الْخِطْبَةَ ثُمَّ تَوَضَّأْ فَأَحْسِنْ وَضُوءَكَ وَصَلِّ مَا كَتَبَ اللَّهُ لَكَ ثُمَّ احْمَدْ رَبَّكَ وَمَجِّدْهُ ثُمَّ قُلْ: اللَّهُمَّ إِنَّكَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ، وَتَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ، أَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ، فَإِنْ رَأَيْتَ لِي فِي فُلَانَةَ تُسَمِّيهَا بِاسْمِهَا خَيْرًا فِي دِينِي وَدُنْيَايَ وَآخِرَتِي وَإِنْ كَانَ غَيْرُهَا خَيْرًا لِي مِنْهَا فِي دِينِي وَدُنْيَايَ وَآخِرَتِي فَاقْضِ لِي بِهَا أَوْ قَالَ فَاقْدُرْهَا لِي))
صحابی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: جب تو کسی لڑکی سے نکاح کا ارادہ کرے تو اپنی منگنی کا (اپنے دل میں) خیال کر، پھر اچھی طرح وضو کراور اتنی نماز پڑھ جو اللہ تعالیٰ نے تیرے مقدر میں لکھی،پھر اپنے رب کی حمد اور بزرگی بیان کر، پھر یہ دعا پڑھ: اے اللہ! بے شک تو قدرت رکھتا ہے، میں قدرت نہیں رکھتا اور توجانتا ہے،میں نہیں جانتا، بلکہ توں تو غیبوں کو جاننے والا ہے، اگر تو فلاں عورت (نام بھی لے) کو میرے لیے میرے دین، دنیا اورآخرت کے معاملے میں بہتر سمجھتا ہے (تو اس کو میرے مقدر میں کردے)اور اگر اس کے علاوہ (کسی اور عورت کو) میرے لیے میرے دین،دنیا اور آخرت کے معاملے میں بہتر سمجھتا ہے، تو میرے حق میں اس کا فیصلہ کردے اور اس کو میرے مقدر میں کردے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الضحى/حدیث: 2284]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وھذا اسناد ضعيف، ايوب بن خالد فيه لين، وأبوه خالد مجھول، أخرجه ابن خزيمة: 1220، وابن حبان: 4040، والطبراني: 3901، والحاكم: 1/314، والبيھقي: 7/ 147، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23597 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23994»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں