الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. بَابُ مَا جَاءَ فِي تَأْكِيدِهَا وَالْحَثِّ عَلَيْهَا
جماعت کے بارے میں تاکید اور اس پر آمادہ کرنے کابیان
حدیث نمبر: 2460
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ فَسُئِلَ سُفْيَانُ عَمَّنْ؟ قَالَ: هُوَ مَحْمُودٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ أَنَّ عِتْبَانَ بْنَ مَالِكٍ كَانَ رَجُلًا مَحْجُوبَ الْبَصَرِ وَإِنَّهُ ذَكَرَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ التَّخَلُّفَ عَنِ الصَّلَاةِ، قَالَ: ((هَلْ تَسْمَعُ النِّدَاءَ؟)) قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَلَمْ يُرَخِّصْ لَهُ
محمود بن ربیع کہتے ہیں: سیّدنا عتبان بن مالک رضی اللہ عنہا ایک نابینا آدمی تھا، اس لیے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نماز سے پیچھے رہ جانے کا ذکر کیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تو اذان کی آواز سنتا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو رخصت نہیں دی۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2460]
تخریج الحدیث: «حديث ضعيف لشذوذه، فقد خالف فيه سفيان بن عيينة اصحابَ الزھري في روايته عن محمود بن الربيع، عن عتبان بن مالك من انهV أذن لعتبان ان يصلي في بيته لما انكر بصره، وكانت السيول تحول بينه وبين مسجد قومه۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16594»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 2461
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ((إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَلْيُؤُمَّكُمْ أَحَدُكُمْ، وَإِذَا قَرَأَ الْإِمَامُ فَأَنْصِتُوا))
سیّدناابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں (بعض امور کی)تعلیم دی، بیچ میں یہ بھی فرمایا تھا: جب تم نماز کے لیے اٹھو تو تم میں سے ایک آدمی امامت کروایا کرے اور جب امام قراءت کرے تو تم خاموش رہا کرو۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2461]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 404، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19723 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19961»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 2462
عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمَرِيِّ قَالَ: قَالَ لِي أَبُو الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَيْنَ مَسْكَنُكَ؟ قَالَ: قُلْتُ: فِي قَرْيَةٍ دُونَ حِمْصَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((مَا مِنْ ثَلَاثَةٍ فِي قَرْيَةٍ لَا يُؤَذَّنَ وَلَا تُقَامُ فِيهِمُ الصَّلَاةُ إِلَّا اسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمُ الشَّيْطَانُ، فَعَلَيْكَ بِالْجَمَاعَةِ فَإِنَّ الذِّئْبَ يَأْكُلُ الْقَاصِيَةَ))
معدان بن ابی طلحہ یعمری کہتے ہیں: سیّدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے مجھ سے پوچھا:تیرا گھر کہاں ہے؟ میں نے کہا: حمص سے پیچھے ایک بستی میں۔ پھر انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا:یعنی: جس بستی میں تین آدمی ہوں اور اس میں نہ اذان دی جاتی ہو اور نہ نماز قائم کی جاتی ہو تو وہاں شیطان غالب آ جاتا ہے، اس لیے تم جماعت کا التزام کرو، (وگرنہ ذہن نشین کر لو کہ) بھیڑیا (ریوڑ سے) دور چلی جانے والی بکری کو کھا جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2462]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 547، والنسائي: 2/ 106، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21710 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22053»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 2463
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِنَّ الشَّيْطَانَ ذِئْبُ الْإِنْسَانِ كَذِئْبِ الْغَنَمِ يَأْخُذُ الشَّاةَ الْقَاصِيَةَ وَالنَّاحِيَةَ فَإِيَّاكُمْ وَالشِّعَابَ وَعَلَيْكُمْ بِالْجَمَاعَةِ وَالْعَامَّةِ وَالْمَسْجِدِ))
سیّدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مرو ی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک شیطان انسان کے لیے اسی طرح کا بھیڑیا ہے، جیسے بکریوں کا بھیڑیا ہوتا ہے، جو دور جانے والی اور علیحدہ رہنے والی بکری کو پکڑ لیتا ہے، پس تم گھاٹیوں سے بچو اور جماعت، عام مسلمانوں اور مسجد کو لازم پکڑو۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2463]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، وھذا سند منقطع، العلاء بن زياد لم يسمع من معاذ أخرجه الطبراني: 20/ (345)، وعبد بن حميد: 114، وابونعيم في ’’الحلية‘‘: 2/ 257، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22029 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22379»
الحكم على الحديث: صحیح
4. بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّشْدِيدِ عَلَى مَنْ تَخَلَّفَ عَنِ الْجَمَاعَةِ خُصُوصًا الْعِشَاءِ وَالْفَجْرِ
جماعت بالخصوص عشاء اور فجر سے پیچھے رہ جانے پر سختی کا بیان
حدیث نمبر: 2464
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَيَنْتَهِيَنَّ رِجَالٌ مِنْ مَنْ حَوْلَ الْمَسْجِدِ لَا يَشْهُدُونَ الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ فِي الْجَمِيعِ أَوْ لَأُحَرِّقَنَّ حَوْلَ بُيُوتِهِمْ بِحُزَمِ الْحَطَبِ))
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسجد کے ارد گرد والے لوگ ضرور ضرور اس چیز سے باز آ جائیں کہ نمازِ عشاء کی جماعت میں حاضر نہ ہوں، وگرنہ میں ان کے گھروں کو جلانے کی لکڑیوں کی گٹھڑیوں کے ساتھ ضرور ضرور جلا دوں گا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2464]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 644، 2420، 7224، ومسلم: 651، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7328، 7916، 7984 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7903»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 2465
(وَعَنْهُ أَيْضًا) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَوْلَا مَا فِي الْبُيُوتِ مِنَ النِّسَاءِ وَالذُّرِّيَّةِ لَأَقَمْتُ صَلَاةَ الْعِشَاءِ وَأَمَرْتُ فِتْيَانِي يُحَرِّقُونَ مَا فِي الْبُيُوتِ بِالنَّارِ))
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر گھروں میں عورتیں اور بچے نہ ہوتے تو میں نمازِ عشاء کھڑی کرتا اور اپنے نوجوانوں کو حکم دیتا کہ وہ گھروں میں جو کچھ ہے، اسے جلا دیں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2465]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وھذا اسناد ضعيف لضعف ابي معشر انظر الحديث السابق: 1307، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8796 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8782»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 2466
(وَعَنْهُ أَيْضًا) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَثْقَلُ الصَّلَاةِ عَلَى الْمُنَافِقِينَ صَلَاةُ الْعِشَاءِ وَصَلَاةُ الْفَجْرِ، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِيهِمَا لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا، وَلَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَأْمُرَ الْمُؤَذِّنَ فَيُؤَذِّنَ ثُمَّ أَأْمُرَ رَجُلًا يُصَلِّي بِالنَّاسِ ثُمَّ أَنْطَلِقَ مَعِي بِرِجَالٍ مَعَهُمْ حُزَمُ الْحَطَبِ إِلَى قَوْمٍ يَتَخَلَّلُونَ عَنِ الصَّلَاةِ فَأُحَرِّقَ عَلَيْهِمْ بُيُوتَهُمْ بِالنَّارِ))
سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عشاء اور فجر کی نمازیں منافقوں پر سب سے بھاری ہیں اور اگر یہ لوگ جان لیں کہ ان میں کتنا اجر و ثواب ہے تو یہ ضرور آئیں، اگرچہ ان کو سرینوں کے بل گھسٹ کر آنا پڑے۔ میں نے ارادہ کیا ہے کہ مؤذن کو حکم دوں کہ وہ اذان کہے، پھر کسی آدمی کا حکم دوں کہ لوگوں کو نماز پڑھائے اور میں خود نماز سے پیچھے رہ جانے والے لوگوں کی طرف ایسے افرادکو لے کر چلوں، جنھوں نے جلنے والی لکڑیوں کی گٹھڑیاں اٹھا رکھی ہوں، اور پھر ان کے گھروں کو آگ سے جلا دوں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2466]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 657، ومسلم: 651، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9486 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9482»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 2467
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ عَنِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَتَى الْمَسْجِدَ فَرَأَى فِي الْقَوْمِ رِقَّةً، فَقَالَ: ((إِنِّي لَأَهُمُّ أَنْ أَجْعَلَ لِلنَّاسِ إِمَامًا ثُمَّ أَخْرُجَ فَلَا أَقْدِرُ عَلَى إِنْسَانٍ يَتَخَلَّلُ عَنِ الصَّلَاةِ فِي بَيْتِهِ إِلَّا أَحْرَقْتُهُ عَلَيْهِ))، فَقَالَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ بَيْنِي وَبَيْنَ الْمَسْجِدِ نَخْلًا وَشَجَرًا وَلَا أَقْدِرُ عَلَى قَائِدٍ كُلَّ سَاعَةٍ، أَيَسَعُنِي أَنْ أُصَلِّيَ فِي بَيْتِي؟ قَالَ: ((أَتَسْمَعُ الْإِقَامَةَ؟)) قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: ((فَأْتِهَا))
سیّدناعبد اللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں آئے اور دیکھا کہ نماز یوں میں قلت ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک میرا ارادہ یہ ہے کہ میں لوگوں کے لیے ایک امام مقرر کروں، پھر میں خود نکل جاؤں اور نماز سے پیچھے رہ جانے والے جس جس انسان پر قدرت پاؤں، اس کو اس کے گھرسمیت جلا دوں۔ سیّدنا عبد اللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول!میرے اور مسجد کے درمیان کھجوریں اور درخت ہیں اور میں ہر وقت قائد بھی نہیں ہوتا(جو مسجد میں لے آئے)، توکیا مجھے گھر میں نماز پڑھ لینے کی رخصت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کیا تو اذان سنتا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر تو نماز کے لیے آنا پڑے گا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2467]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره۔ أخرجه ابن خزيمة: 1479، والحاكم: 1/ 247، والطحاوي في ’’شرح مشكل الآثار‘‘: 5087، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15491 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15572»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 2468
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَأْمُرَ فِتْيَانِيَ فَيَجْمَعُوا حَطَبًا، ثُمَّ أَأْمُرَ رَجُلًا يُؤُمُّ النَّاسَ ثُمَّ أَخَالِفَ إِلَى رِجَالٍ يَتَخَلَّلُونَ عَنِ الصَّلَاةِ فَأُحَرِّقَ عَلَيْهِمْ بُيُوتَهُمْ، وَأَيْمُ اللَّهِ! لَوْ يَعْلَمُ أَحَدُهُمْ أَنَّ لَهُ بِشُهُودِهَا عَرْقًا سَمِينًا أَوْ مِرْمَاتَيْنِ لَشَهِدَهَا، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِيهَا لَأَتَوْهَا وَلَوْ حَبْوًا))
سیّدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرا یہ ارادہ ہے کہ میں جوانوں کو جلنے والی لکڑیاں اکٹھی کرنے کا حکم دوں، پھر میں ایک آدمی کو حکم دوں وہ لوگوں کو نماز پڑھائے، اور خود نماز سے پیچھے رہ جانے والے لوگوں کے پیچھے چلا جاؤں اور ان سمیت ان کے گھروں کو جلا دوں۔ اللہ کی قسم! اگر ان میں سے کسی کو یہ پتہ چل جائے کہ اسے نماز میں حاضر ہونے پر گوشت والی اچھی سی ہڈی یا دو کھر ملیں گے تو وہ ضرور آئے گا، اور اگر ان کو پتہ چل جائے کہ اس نماز میں کتنا اجر وثواب ہے تو یہ ضرور حاضر ہوں، اگرچہ ان کو سرینوں کے بل گھسٹ کر آنا پڑے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2468]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 644، 2420، 7224، ومسلم: 651، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7328، 7984، 8890 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8877»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 2469
(وَعَنْهُ أَيْضًا) قَالَ: جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَسْجِدِ، وَفِي رِوَايَةٍ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ صَلَاةَ الْعِشَاءِ، فَرَآهُمْ عِزِينَ مُتَفَرِّقِينَ، قَالَ: فَغَضِبَ غَضَبًا شَدِيدًا مَا رَأَيْنَاهُ غَضِبَ غَضَبًا أَشَدَّ مِنْهُ، قَالَ: ((وَاللَّهِ! لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَأْمُرَ رَجُلًا يُؤُمُّ النَّاسَ ثُمَّ أَتَتَبَّعَ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يَتَخَلَّلُونَ عَنِ الصَّلَاةِ فِي دُورِهِمْ فَأُحَرِّقَهَا عَلَيْهِمْ))
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز عشاء کے وقت مسجد میں تشریف لائے اور لوگوں کو علیحدہ علیحدہ گروہوں میں بیٹھے ہوئے دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سخت غصے میں آگئے، ہم نے کبھی بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اتنی سخت ناراضگی میں نہیں دیکھا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں نے ارادہ کیا ہے کہ میں کسی آدمی کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے، پھر میں ان لوگوں کے پیچھے جاؤں جو نماز سے پیچھے رہ جاتے ہیں اوران سمیت ان کے گھروں کو جلا دوں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2469]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق: 2468، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8903 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8890»
الحكم على الحديث: صحیح