الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّشْدِيدِ عَلَى مَنْ تَخَلَّفَ عَنِ الْجَمَاعَةِ خُصُوصًا الْعِشَاءِ وَالْفَجْرِ
جماعت بالخصوص عشاء اور فجر سے پیچھے رہ جانے پر سختی کا بیان
حدیث نمبر: 2470
(وَعَنْهُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَخَّرَ الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ ذَاتَ لَيْلَةٍ حَتَّى كَادَ يَذْهَبُ ثُلُثُ اللَّيْلِ أَوْ قُرَابُهُ، قَالَ: ثُمَّ جَاءَ وَفِي النَّاسِ رِقَّةٌ وَهُمْ عِزُونَ فَغَضِبَ غَضَبًا شَدِيدًا، ثُمَّ قَالَ: ((لَوْ أَنَّ رَجُلًا بَدَا النَّاسَ إِلَى عَرْقٍ أَوْ مِرْمَاتَيْنِ لَأَجَابُوا لَهُ، وَهُمْ يَتَخَلَّلُونَ عَنْ هَٰذِهِ الصَّلَاةِ، لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَأْمُرَ رَجُلًا فَيَتَخَلَّلَ عَلَى أَهْلِ هَٰذِهِ الدُّورِ الَّذِينَ يَتَخَلَّلُونَ عَنْ هَذِهِ الصَّلَاةِ فَأُحَرِّقَهَا عَلَيْهِمْ بِالنِّيرَانِ))
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عشاء کی نماز کو مؤخر کیا، حتیٰ کہ رات کا تیسرا حصہ یا اس کے قریب قریب وقت گزر گیا، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تو لوگوں میں قلت تھی اوروہ ٹولیوں کی صورت میں بیٹھے ہوئے تھے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شدید غصے میں آگئے اور پھر فرمایا: اگر کوئی آدمی اِن لوگوں کو گوشت والی ہڈی یا دو کھروں کی طرف اپنی بستی میں بلائے تو وہ اس کی بات کو ضرور قبول کریں گے۔ یہ لوگ اِس نماز سے بھی پیچھے رہ جاتے ہیں، البتہ تحقیق میں نے ارادہ کیا ہے کہ میں ایک آدمی کو حکم دوں کہ وہ پیچھے رہ کر (نماز پڑھائے) اور میں ان گھر والوں کی طرف جاؤں جو اس نماز سے پیچھے رہ جاتے ہیں اور ان سمیت ان کے گھروں کو آگ کے ساتھ جلا دوں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2470]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق: 1312، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9383 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9372»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 2471
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ (يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَأْمُرَ رَجُلًا فَيُصَلِّيَ بِالنَّاسِ، ثُمَّ أَأْمُرَ بِالنَّاسِ لَا يُصَلُّونَ مَعَنَا فَتُحَرَّقَ عَلَيْهِمْ بُيُوتُهُمْ))
سیّدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یقینا میں نے ارادہ کیا ہے کہ ایک آدمی کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے، پھر ان لوگوں سمیت ان کے گھر جلا دینے کا حکم دوں، جو ہمارے ساتھ نماز نہیں پڑھتے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2471]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 652، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3753، 3816 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3743»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 2472
عَنْ سَهْلٍ عَنْ أَبِيهِ (يَعْنِي مُعَاذَ بْنَ أَنَسٍ الْجُهَنِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: ((الْجَفَاءُ كُلُّ الْجَفَاءِ وَالْكُفْرُ وَالنِّفَاقُ مَنْ سَمِعَ مُنَادِيَ اللَّهِ نَادَى بِالصَّلَاةِ يَدْعُو إِلَى الْفَلَاحِ وَلَا يُجِيبُهُ))
سیّدنا معاذ بن انس جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (اللہ کی رحمت سے) دوری ہے، بہت دوری ہے، کفر ہے اور نفاق ہے، اس شخص میں جو اللہ تعالیٰ کے مُنَادی کو نماز کے لیے اذان دیتے ہوئے اور کامیابی کی طرف دعوت دیتے ہوئے سنتا ہے، لیکن اس کی بات قبول نہیں کرتا (اور نماز باجماعت کے لیے نہیں آتا)۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2472]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف زبان بن فائد، وسھل بن معاذ في رواية زبان عنه، وابن لھيعة ضعيف أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 20/ (394)، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15627 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15712»
الحكم على الحديث: ضعیف
5. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْأَعْذَارِ الَّتِي تُبِيحُ التَّخَلُّفَ عَنِ الْجَمَاعَةِ
ان عذروں کا بیان جو جماعت سے پیچھے رہنے کو جائز کردیتے ہیں
حدیث نمبر: 2473
عَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ نَادَى بِالصَّلَاةِ فِي لَيْلَةٍ ذَاتِ بَرْدٍ وَرِيحٍ، ثُمَّ قَالَ فِي آخِرِ نِدَائِهِ: أَلَا صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ أَلَا صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ، أَلَا صَلُّوا فِي الرِّحَالِ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُ الْمُؤَذِّنَ إِذَا كَانَتْ لَيْلَةٌ بَارِدَةٌ أَوْ ذَاتُ رِيحٍ فِي السَّفَرِ أَلَا صَلُّوا فِي الرِّحَالِ
جناب ِنافع کہتے ہیں: سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے سردی اور ہوا والی ایک رات کو نماز کے لیے اذان کہی، اور انہوں نے اذان کے آخر میں کہا: خبر دار! اپنے خیموں میں ہی نماز پڑھ لو، خبر دار! اپنے خیموں میں ہی نماز پڑھ لو،خبر دار! اپنے خیموں میں ہی نماز پڑھ لو۔ پھر انھوں نے بیان کیا کہ جب سفر میں رات ٹھنڈی یا ہوا والی ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مؤذن کو حکم دیتے کہ وہ یہ بھی کہا کرے: خبردار! اپنے اپنے خیموں میں ہی نماز پڑھ لو۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2473]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 632، ومسلم: 697، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5151، 5800 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5800»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 2474
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: نَادَى ابْنُ عُمَرَ بِالصَّلَاةِ بِضَجْنَانَ ثُمَّ نَادَى أَنْ صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ، ثُمَّ حَدَّثَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَأْمُرُ الْمُنَادِيَ فَيُنَادِي بِالصَّلَاةِ، ثُمَّ يُنَادِي أَنْ صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ فِي اللَّيْلَةِ الْبَارِدَةِ وَفِي اللَّيْلَةِ الْمَطِيرَةِ فِي السَّفَرِ
(دوسری سند)وہ کہتے ہیں: سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے ضجنان (نامی مقام یا پہاڑ) پر نماز کے لیے اذان کہی، پھر یہ آواز دی: اپنے خیموں میں نماز پڑھ لو۔ پھر انھوں نے بیان کیا کہ جب سفر میں سردی یا بارش والی رات ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مؤذن کو حکم دیتے کہ وہ اذان دے اور پھر یہ آواز دے: اپنے اپنے خیموں میں ہی نماز پڑھ لو۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2474]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4478 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4478»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 2475
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَمُطِرْنَا، قَالَ: ((لِيُصَلِّ مَنْ شَاءَ مِنْكُمْ فِي رَحْلِهِ))
سیّدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں نکلے، (راستے میں) بارش برسنے لگی، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو چاہتا ہے، اپنے خیمے میں نماز پڑھ لے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2475]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 698، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14347 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14399»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 2476
عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ عَنْ رَجُلٍ حَدَّثَهُ مُؤَذِّنُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: نَادَى مُنَادِي النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمٍ مَطِيرٍ: أَلَا صَلُّوا فِي الرِّحَالِ
ایک مؤذنِ رسول رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مؤذن نے بارش والے دن یہ آواز بھی دی: خبر دار! اپنے اپنے خیموں میں ہی نماز پڑھ لو۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2476]
تخریج الحدیث: «أخرجه النسائي: 2/ 14، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15433، 19041 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19250»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 2477
عَنْ نُعَيْمِ بْنِ النَّحَّامِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: نُودِيَ بِالصُّبْحِ فِي يَوْمٍ بَارِدٍ وَأَنَا فِي مِرْطِ امْرَأَتِي، فَقُلْتُ: لَيْتَ الْمُنَادِي قَالَ: مَنْ قَعَدَ فَلَا حَرَجَ عَلَيْهِ، فَنَادَى مُنَادِي النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي آخِرِ أَذَانِهِ: وَمَنْ قَعَدَ فَلَا حَرَجَ عَلَيْهِ
سیّدنا نعیم بن نحام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سردی والا دن تھا اور میں اپنی بیوی کی چادر میں لیٹا ہوا تھا، اتنے میں فجر کی اذان ہونے لگی، میں نے کہا: کاش اذان کہنے والا یہ بھی کہہ دے: جو (نماز کے لیے) نہ آئے اس پر کوئی حرج نہیں ہے۔ ایسے ہی ہوا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مؤذن نے اذان کے آخر میں کہا: جو نہ آئے، اس پر کوئی حرج نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2477]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، اسماعيل بن عياش ضعيف في روايته عن غير الشاميين، وشيخه ھنا يحيي بن سعيد الانصاري مدني أخرجه البيھقي: 1/ 398، وابن ابي عاصم: 759، وابن قانع: 3/ 152، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17934 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18099»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 2478
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: سَمِعْتُ مُؤَذِّنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي لَيْلَةٍ بَارِدَةٍ وَأَنَا فِي لِحَافِي فَتَمَنَّيْتُ أَنْ يَقُولَ: صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ، فَلَمَّا بَلَغَ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، قَالَ: صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ، ثُمَّ سَأَلْتُ عَنْهَا فَإِذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَمَرَهُ بِذَلِكَ
(دوسری سند)وہ کہتے ہیں: ایک ٹھنڈی رات تھی اور میں اپنے لحاف میں لیٹا ہوا تھا، اتنے میں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مؤذن کو اذان دیتے ہوئے سنا، مجھ میں یہ تمنا پیدا ہوئی کہ کاش مؤذن یہ کہہ دے: اپنے خیموں میں نماز پڑھ لو۔ (ایسے ہی ہوا اور جب) حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ تک پہنچا تو اس نے کہا: اپنی رہائش گاہوں پر ہی نماز پڑھ لو، پھر جب میں نے ان (زائد) الفاظ کے بارے میں دریافت کیا تو پتہ چلا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے حکم دیا تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2478]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، وھذا اسناد ضعيف لابھام الراوي عن نعيم بن النحام أخرجه عبد الرزاق: 1927، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17933 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18098»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 2479
عَنْ سَمْرَةَ بْنِ جُنْدُبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ حُنَيْنٍ فِي يَوْمٍ مَطِيرٍ: ((الصَّلَاةُ فِي الرِّجَالِ))
’سیّدناسمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حنین والے روز، بارش والے دن فرمایا: خیموں میں ہی نماز پڑھ لو۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2479]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه الطبراني: 6999، والطيالسي: 907، والبزار: 465، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20092، 20170 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20352»
الحكم على الحديث: صحیح