الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابُ مَشْرُوعِيَّةِ السَّبْقِ وَآدَابِهِ وَمَا يَجُوزُ الْمُسَابَقَةُ عَلَيْهِ بِعِوض
مقابلہ بازی، اس کے آداب اور ان مقابلوں کا بیان جن پر انعام دینا درست ہے
حدیث نمبر: 5158
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا سَبَقَ إِلَّا فِي خُفٍّ أَوْ حَافِرٍ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مقابلہ بازی نہیں ہے، مگر اونٹ دوڑ میں یا گھوڑ دوڑ میں۔ [الفتح الربانی/أبواب السبق والرمي/حدیث: 5158]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه أبوداود: 2574، وابن ماجه: 2878، والنسائي: 6/227، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7482 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7476»
وضاحت: فوائد: … سنن کی روایات میں تیر اندازی کا بھی ذکر ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 5159
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ سَبَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْخَيْلِ فَأَرْسَلَ مَا ضُمِّرَ مِنْهَا مِنَ الْحَفْيَاءِ إِلَى ثَنِيَّةِ الْوَدَاعِ وَأَرْسَلَ مَا لَمْ يُضَمَّرْ مِنْهَا مِنْ ثَنِيَّةِ الْوَدَاعِ إِلَى مَسْجِدِ بَنِي زُرَيْقٍ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَكُنْتُ فَارِسًا يَوْمَئِذٍ فَسَبَقْتُ النَّاسَ طَفَّفَ بِيَ الْفَرَسُ مَسْجِدَ بَنِي زُرَيْقٍ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھوڑدوڑی میں مقابلہ کرایا، تضمیر شدہ گھوڑوں کا مقابلہ حفیا سے ثَنِیَّۃُ الْوَدَاع تک تھا اور جن گھوڑوں کی تضمیر نہیں کی گئی تھی، ان کا مقابلہ ثَنِیَّۃُ الْوَدَاع سے مسجد بنی زریق تک تھا، سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اس مقابلے میں ایک گھوڑ سوار میں تھا، میں لوگوں سے بازی لے گیا اور میرا گھوڑا مسجد بنی زریق کی دیوار کو بھی پھلانگ گیا۔ [الفتح الربانی/أبواب السبق والرمي/حدیث: 5159]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2869، 2870، 7336، ومسلم: 1870، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4487 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4487»
وضاحت: فوائد: … صحیح بخاری کی روایت کے بعد امام سفیان ثوری رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: حفیا سے ثَنِیَّۃُ الْوَدَاع تک پانچ یا چھ میل کا فاصلہ ہے اور ثَنِیَّۃُ الْوَدَاع سے مسجد بنی زریق تک ایک میل کا۔
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 5160
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ سَبَّقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْخَيْلِ وَأَعْطَى السَّابِقَ
۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھوڑوں میں مقابلہ کروایا اور آگے نکل جانے والے کو انعام دیا۔ [الفتح الربانی/أبواب السبق والرمي/حدیث: 5160]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف عبد الله بن عمر العمري، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5656 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5656»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 5161
عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَبَّقَ بِالْخَيْلِ وَرَاهَنَ
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھڑدوڑ میں مقابلہ کروایا اور انعام دینے کی شرط لگائی تھی۔ [الفتح الربانی/أبواب السبق والرمي/حدیث: 5161]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5348 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5348»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 5162
عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَبَّقَ بَيْنَ الْخَيْلِ وَفَضَّلَ الْقُرَّحَ فِي الْغَايَةِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھوڑوں میں مقابلہ کروایا اور ان گھوڑوں کو برتری والا قرار دیا، جو اپنی عمر کے پانچویں سال میں داخل ہو چکے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب السبق والرمي/حدیث: 5162]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه أبوداود: 2577، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6466 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6466»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 5163
عَنْ أَبِي لَبِيدٍ لِمَازَةَ بْنِ زَبَّارٍ قَالَ أُرْسِلَتِ الْخَيْلُ زَمَنَ الْحَجَّاجِ فَقُلْنَا لَوْ أَتَيْنَا الرِّهَانَ قَالَ فَأَتَيْنَاهُ ثُمَّ قُلْنَا لَوْ أَتَيْنَا إِلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فَسَأَلْنَاهُ هَلْ كُنْتُمْ تُرَاهِنُونَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَأَتَيْنَاهُ فَسَأَلْنَاهُ فَقَالَ نَعَمْ لَقَدْ رَاهَنَ عَلَى فَرَسٍ لَهُ يُقَالُ لَهُ سَبْحَةُ فَسَبَقَ النَّاسَ فَهَشَّ لِذَلِكَ وَأَعْجَبَهُ
۔ ابو لبید لمازہ بن زبار کہتے ہیں: حجاج کے زمانے میں گھوڑوں میں مقابلہ کیا گیا، ہم نے کہا: اگر ہم مقابلے والی جگہ پر پہنچ جائیں تو بہتر ہو گا، جب ہم اس مقام پر پہنچے تو ہم نے سوچا کہ اگر سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس چلے جائیں اور یہ سوال کر لیں کہ کیا وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں انعام دینے کی شرط لگاتے تھے، پس ہم ان کے پاس گئے اور ان سے یہ سوال کیا، انھوں نے کہا: جی ہاں، میں نے خود سَبْحَہ نامی گھوڑے پر مقابلہ کیا تھا اور جب میں لوگوں سے سبقت لے گیا تو میں خوش ہوا اور اس چیز نے مجھے تعجب میں ڈالا۔ [الفتح الربانی/أبواب السبق والرمي/حدیث: 5163]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابن ابي شيبة: 12/500، والدارقطني: 4/ 301، والبيھقي: 10/ 21، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12627 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12654»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 5164
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ الْعَضْبَاءَ كَانَتْ لَا تُسْبَقُ فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ عَلَى قَعُودٍ لَهُ فَسَابَقَهَا فَسَبَقَهَا الْأَعْرَابِيُّ فَكَأَنَّ ذَلِكَ اشْتَدَّ عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ حَقًّا عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ لَا يَرْفَعَ شَيْئًا مِنْ هَذِهِ الدُّنْيَا إِلَّا وَضَعَهُ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کوئی بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عضباء اونٹنی سے آگے نہیں نکل سکتا تھا، لیکن ایک دن ایک بدو اپنے اونٹ پر آیا اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اونٹنی سے آگے گزر گیا، جب یہ چیز صحابۂ کرام پر گراں گزری تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک یہ اللہ تعالیٰ پر حق ہے کہ وہ اس دنیا کی جس چیز کو بلندی عطا کرتا ہے، پھر اس کی حیثیت کو گراتا بھی ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب السبق والرمي/حدیث: 5164]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2871، 2872، 6501، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13659 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13694»
وضاحت: فوائد: … اس میں دنیا سے بے رغبتی اور تواضع اور انکساری کی طرف اشارہ ہے، کیونکہ اس میں جس چیز کو رفعت ملے گی، ذلت بھی اسی کو مقدر ہو گی۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 5165
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَدْخَلَ فَرَسًا بَيْنَ فَرَسَيْنِ وَهُوَ لَا يَأْمَنُ أَنْ يَسْبِقَ فَلَا بَأْسَ بِهِ وَمَنْ أَدْخَلَ فَرَسًا بَيْنَ فَرَسَيْنِ قَدْ أَمِنَ أَنْ يَسْبِقَ فَهُوَ قِمَارٌ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی نے مقابلہ کرنے والے دو گھوڑوں کے درمیان گھوڑا داخل کر دیا، جبکہ اس کو بازی لے جانے کا یقین نہ ہو تو ایسے کر لینے میں کوئی حرج نہیں ہے، لیکن جس نے دو گھوڑوں کے درمیان اپنا گھوڑا ڈال دیا، جبکہ اسے آگے نکل جانے کا یقین ہو تو یہ جوا ہو گا۔ [الفتح الربانی/أبواب السبق والرمي/حدیث: 5165]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، سفيان بن حسين ضعيف في الزھري، ثقة في غيره، أخرجه ابوداود: 2579، وابن ماجه: 2876، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10557 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10564»
وضاحت: فوائد: درج ذیل امور پر غور کریں: (۱) اگر امیر یا کوئی اور شخص دو شہسواروں میں دوڑ وغیرہ کا مقابلہ کرائے اور جیتنے والے کو انعام دے تو یہ جائز ہے۔ (۲) اگر دو افراد یا فریق آپس میں یہ طے کر کے مقابلہ کریں کہ ہارنے والا جیتنے والے کو اس قدر انعام دے گا تو یہ جوا ہے اور ناجائز ہے۔ (۳)اگر ان دو مقابلہ کرنے والوں میں کوئی تیسرا فریق داخل ہو جائے، جس کے جیتنے یا ہارنے کا کوئی یقین نہ ہو، بلکہ ان کے ہم پلہ ہونے کی بنا پر کوئی بھی نتیجہ نکل سکتا ہو، اور اس کے جیت جانے پر وہ دونوں اس کو انعام دیں اور ہار جانے پر اس پر کچھ بھی لازم نہ آتا ہو تو یہ صورت جائز ہے۔
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 5166
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا جَلَبَ وَلَا جَنَبَ وَلَا شِغَارَ فِي الْإِسْلَامِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہ جلب ہے اور نہ جنب اور اسلام میں شغار نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب السبق والرمي/حدیث: 5166]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه بذكر الشغار فقط البخاري: 2990، ومسلم: 1869، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5654 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5654»
وضاحت: فوائد: … نکاح کے ابواب میں شغار کی تفصیل گزر چکی ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 5167
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا جَلَبَ وَلَا جَنَبَ وَلَا شِغَارَ
۔ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہ جلب ہے، نہ جنب ہے اور نہ شغار ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب السبق والرمي/حدیث: 5167]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه أبوداود: 2581، والنسائي: 6/228، والترمذي: 1123، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19855 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20095»
وضاحت: فوائد: … جَلَب اور جَنَب دو اصطلاحات ہیں، جو زکاۃ میں بھی استعمال ہوتی ہیں اور گھوڑ دوڑ میں بھی۔
الحكم على الحديث: صحیح