الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. باب
گھوڑوں کی صفات، جہاد کے لیے ان کو پالنے کی فضیلت، اور ان کی مستحب اور مکروہ صورتوں کے ابواب
اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب السبق والرمي/حدیث: Q5178]
5. أَبْوَابُ مَا جَاءَ فِي صِفَاتِ الْخَيْلِ وَفَضْلٍ اقْتِنَائِهَا لِلْجِهَادِ وَمَا يَسْتَحِبُّ وَيَكْرَهُ مِنْهَا وَغَيْرِ ذَلِكَ
گھوڑے کی تعریف اور اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے کے لیے ان کو پالنے کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 5178
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْخَيْلِ فَقَالَ الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَهِيَ لِرَجُلٍ أَجْرٌ وَهِيَ لِرَجُلٍ سِتْرٌ وَهِيَ عَلَى رَجُلٍ وِزْرٌ فَأَمَّا الَّذِي هِيَ لَهُ أَجْرٌ الَّذِي يَتَّخِذُهَا وَيَحْبِسُهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَمَا غَيَّبَتْ فِي بُطُونِهَا فَهُوَ لَهُ أَجْرٌ وَإِنِ اسْتَنَّتْ مِنْهُ شَرَفًا أَوْ شَرَفَيْنِ كَانَ لَهُ فِي كُلِّ خُطْوَةٍ خَطَتْهَا أَجْرٌ وَلَوْ عَرَضَ لَهُ نَهْرٌ فَسَقَاهَا مِنْهُ كَانَ لَهُ بِكُلِّ قَطْرَةٍ غَيَّبَتْهَا فِي بُطُونِهَا أَجْرٌ حَتَّى ذَكَرَ الْأَجْرَ فِي أَرْوَاثِهَا وَأَبْوَالِهَا
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے گھوڑے کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: روزِ قیامت تک گھوڑوں کی پیشانیوں کے ساتھ خیر وابستہ کر دی گئی ہے، گھوڑا کسی کے لیے اجر ہوتا ہے، کسی کے لیے پردہ اور کسی کے لیے گناہ۔ جو گھوڑا باعث ِ اجر ہو تا ہے، وہ وہ ہوتاہے، جس کو آدمی اللہ کی راہ کی خاطر پالتا ہے، ایسا گھوڑا جو کچھ کھاتا ہے، اس میں بھی اس کے مالک کے لیے اجر ہے اور جب وہ ایک دو ٹیلوں تک چلتا ہے تو اس کے ہر ہر قدم کے بدلے مالک کے لیے اجر ہوتا ہے، اگر سامنے نہر آ جائے اور وہ اس سے پانی پی لے تو وہ جو پانی پیتا ہے، اس کے ہر ہر قطرے کے عوض مالک کو ثواب ملتا ہے۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی لید اور پیشاب کے اجر وثواب کا بھی ذکر کیا۔ [الفتح الربانی/أبواب السبق والرمي/حدیث: 5178]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 987، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8977 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8965»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 5179
عَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنِ احْتَبَسَ فَرَسًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِيمَانًا بِاللَّهِ وَتَصْدِيقًا لِمَوْعُودِهِ كَانَ شِبَعُهُ وَرِيُّهُ وَبَوْلُهُ وَرَوْثُهُ حَسَنَاتٍ فِي مِيزَانِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہوئے اور اس کے وعدے کی تصدیق کرتے ہوئے اس کی راہ میں ایک گھوڑا پالا تو اس گھوڑے کا سیر ہونا، سیراب ہونا، پیشاب اور لید، یہ سب چیزیں روزِ قیامت اس کے ترازو میں نیکیاں ہوں گی۔ [الفتح الربانی/أبواب السبق والرمي/حدیث: 5179]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2853، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8866 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8853»
وضاحت: فوائد: … وعدے کی تصدیق سے مراد یہ ہے کہ بندہ تسلیم کرے کہ اس عمل کا پورا پورا اجر دیا جائے گا اور کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 5180
عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْخَيْلُ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ مَعْقُودٌ أَبَدًا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ فَمَنْ رَبَطَهَا عُدَّةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَأَنْفَقَ عَلَيْهَا احْتِسَابًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَإِنَّ شِبَعَهَا وَجُوعَهَا وَرِيَّهَا وَظَمَأَهَا وَأَرْوَاثَهَا وَأَبْوَالَهَا فَلَاحٌ فِي مَوَازِينِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَنْ رَبَطَهَا رِيَاءً وَسُمْعَةً وَفَرَحًا وَمَرَحًا فَإِنَّ شِبَعَهَا وَجُوعَهَا وَرِيَّهَا وَظَمَأَهَا وَأَرْوَاثَهَا وَأَبْوَالَهَا خُسْرَانٌ فِي مَوَازِينِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
۔ سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: گھوڑوں کی پیشانیوں کے ساتھ قیامت کے دن تک، یعنی ہمیشہ کے لیے خیر وابستہ کر دی گئی ہے، پس جس شخص نے اللہ تعالیٰ کی راہ کے لیے تیاری کرتے ہوئے گھوڑا باندھا اور اسی کے راستے کی خاطر ثواب کی نیت سے اس پر خرچ کیا تو اس گھوڑے کا سیر ہونا، بھوکا ہونا، سیراب ہونا، پیاسا ہونا اور اس کا پیشاب، یہ سب چیزیں قیامت کے دن اس کے ترازوں میں کامیابی کا باعث ہوں گی، لیکن جس نے گھوڑے کو ریاکاری، شہرت اور اتراہٹ کے لیے پالا تو اس کے سیر ہونے، بھوکا رہنے، سیراب ہونا، پیاسا ہونا اور اس کی لید اور پیشاب، یہ سب چیزیں قیامت کے دن اس کے ترازوں میں خسارے کا باعث بنیں گی۔ [الفتح الربانی/أبواب السبق والرمي/حدیث: 5180]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابن ابي شيبة: 12/ 481، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27574 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28126»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 5181
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: روزِ قیامت تک گھوڑوں کی پیشانیوں میں خیر رکھ دی گئی ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب السبق والرمي/حدیث: 5181]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3644، ومسلم: 1871، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5200 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5200»
وضاحت: فوائد: … پیشانی سے مراد ذات ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 5182
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بھی اسی قسم کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب السبق والرمي/حدیث: 5182]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه البزار: 1686، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11346 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11366»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 5183
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ وَالنَّيْلُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَأَهْلُهَا مُعَانُونَ عَلَيْهَا فَامْسَحُوا بِنَوَاصِيهَا وَادْعُوا لَهَا بِالْبَرَكَةِ وَقَلِّدُوهَا وَلَا تُقَلِّدُوهَا بِالْأَوْتَارِ وَقَالَ عَلِيٌّ وَلَا تُقَلِّدُوهَا الْأَوْتَارَ
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: روزِ قیامت تک گھوڑوں کی پیشانیوں کے ساتھ خیر اور مقصود و مطلوب وابستہ کر دیا گیا ہے اور ان کے مالکان ان پر سوار ہو کر سختیاں جھیلتے ہیں، پس تم لوگ گھوڑوں کی پیشانیوں کو چھوا کرو اور ان کے لیے برکت کی دعا کیا کرو اور ان کو قلادے ڈالو، لیکن وہ تانت کے نہ ہوں۔ [الفتح الربانی/أبواب السبق والرمي/حدیث: 5183]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه الطبراني في الاوسط: 8977، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14791 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14851»
وضاحت: فوائد: … تانت کے قلادے سے منع کرنے کی تین وجوہات ہو سکتی ہیں: (۱) دوڑتے وقت یا چرتے وقت گلے گھونٹنے کی وجہ سے دم نکل سکتا ہے، (۲) گھوڑوں کو نظر بد اور مختلف تکلیفوں سے بچانے کے لیے اس قسم کی تانت ان کی گردنوں میں لٹکائی جاتی تھی اور (۳) یہ تانت سخت اور تیز ہوتی ہے، اس سے گلا کٹنے کا خطرہ ہوتا ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 5184
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْبَرَكَةُ فِي نَوَاصِي الْخَيْلِ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: گھوڑوں کی پیشانیوں میں برکت ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب السبق والرمي/حدیث: 5184]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2851، ومسلم: 1874، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12125 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12149»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 5185
عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَفْتِلُ عُرْفَ فَرَسٍ بِأُصْبُعَيْهِ وَهُوَ يَقُولُ الْخَيْلُ مَعْقُودٌ بِنَوَاصِيهَا الْخَيْرُ الْأَجْرُ وَالْمَغْنَمُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ
۔ سیدنا جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی انگلیوں کے ساتھ گھوڑے کی گردن کے بال بٹتے اور فرماتے: قیامت کے دن تک گھوڑوں کی پیشانیوں کے ساتھ خیر یعنی اجر اور غنیمت وابستہ کر دی گئی ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب السبق والرمي/حدیث: 5185]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1872، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19196 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19410»
وضاحت: فوائد: … اپنے دست ِ مبارک سے گھوڑے کے بال بٹنا گھوڑوں سے محبت، پیار اور لگاؤ کی بنا پر تھا۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 5186
عَنْ مَعْقَلِ بْنِ يَسَارٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمْ يَكُنْ شَيْءٌ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْخَيْلِ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ غَفْرًا لَا بَلِ النِّسَاءُ
۔ سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کوئی چیز نہیں ہے، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سب سے زیادہ پسند ہے، گھوڑوں کی بہ نسبت، پھر سیدنا معقل رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ! بخش دے، نہیں، بلکہ آپ کو عورتیں سب سے زیادہ پسند تھیں۔ [الفتح الربانی/أبواب السبق والرمي/حدیث: 5186]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20312 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20578»
وضاحت: فوائد: … اے اللہ! بخش دے سے سیدنا معقل رضی اللہ عنہ کی مراد یہ ہے کہ ان سے غلطی ہو گئی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سب سے زیادہ گھوڑ ے نہیں، بلکہ بیویاں پسند تھیں۔ واقعی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی بیویوں سے محبت تھی۔
الحكم على الحديث: صحیح