Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْعِيَافَةِ وَالطَّرِيقِ يَعْنِي الْخَطَّ فِي الْأَرْضِ وَالطَّيِّرَةِ
فال پکڑنے، زمیں میں خط لگانے اور بدشگونی کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6823
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ثَنَا عَوْفٌ عَنْ حَيَّانَ حَدَّثَنِي قَطَنُ بْنُ قَبِيصَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِنَّ الْعِيَافَةَ وَالطُّرُقَ وَالطِّيَرَةَ مِنَ الْجِبْتِ)). قَالَ عَوْفٌ: الْعِيَافَةُ: زَجْرُ الطَّيْرِ، وَالطُّرُقُ: الْخَطُّ يُخَطُّ فِي الْأَرْضِ، وَالْجِبْتُ، قَالَ الْحَسَنُ: إِنَّهُ الشَّيْطَانُ.
۔ سیدنا قبیصہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فال پکڑنے کے لئے پرندوں کو اڑانا،زمین پر لکیریں لگانا اور بدشگونی لینا شیطانی کام ہیں۔ عوف نے کہا: العیافۃ سے مراد پرندوں کو اڑانا، الطرق سے مراد زمین پر لکیریں لگانا اور الجبت سے مراد شیطان ہے، آخری معنی حسن نے بیان کیا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب السحر والكهانة والتنجيم/حدیث: 6823]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة حيان ابي العلائ، أخرجه اليھقي: 8/ 139، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20604 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20880»
وضاحت: فوائد: … عرب لوگ پرندے کے نام، آواز اور گزرنے سے فال پکڑتے تھے۔
جِبْت کے معانی کاہن، شیطان اور ہر اس چیز کے ہیں، جس کی اللہ تعالی کے علاوہ عبادت کی جائے۔
دورِ جاہلیت میں بعض اسباب کے ذریعے سے نیک شگونییا بد شگونی لینا عام تھا، مثلا سفر کا ارادہ کرنے والا کسی پرندے کو اڑاتا، اگر وہ دائیں جانب اڑ جاتا، تو وہ اسے سفر بخیر کی علامت سمجھتے ہوئے سفرشروع کر دیتا، اور اگر وہ پرندہ
بائیں جانب اڑ جاتا تو وہ اسے منحوس سفر کی علامت سمجھ کر اپنا ارادہ ترک کر دیتا۔ کئی اور علامتیں بھی مقرر تھیں۔ یہ سب امور ممنوع اور حرام ہیں۔ محض کسی بات کے اتفاقیہ طور پر صحیح نکل آنے سے ان تمام خرافات کا جواز ثابت نہیں ہو تا۔ جلب ِ منفعت یا دفعِ مضرت میں ان چیزوں کی کوئی تاثیر نہیں۔ یہ سب ظن و تخمین اور اٹکل پچو باتیں ہیں، جن پر اعتبار اور اعتماد کرنا جہالت، گمراہی اور توہم پرستی ہے۔
لیکن شریعت نے اچھی بات سن کر اچھا شگون لینے کو جائز قرار دیا ہے، جس کی بنا پر انسان اللہ تعالی سے حسنِ ظن قائم کر لیتا ہے، جو ایک مستحسن امر ہے، جیسا کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((لَا عَدْوٰی وَلَا طِیَرَۃَ وَیُعْجِبُنِیَ الْفأْلُ۔)) یعنی: نہ کوئی بیماری متعدی ہے اور نہ کوئی بد شگونی (کی حقیقت ہے)، لیکن مجھے نیک فال اچھی لگتی ہے۔ صحابہ نے پوچھا: فال کیا ہوتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((کَلِمَۃٌ طَیِّبَۃٌ۔)) یعنی: اچھی بات (کا سننا اور اس سے خیر کی امید وابستہ کر لینا)۔ (بخاری، مسلم)
ایک روایت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نیک فال کو ((اَلْکَلِمَۃُ الْحَسَنَۃُ۔)) فرمایا، جس پر امام کرمانیl نے لکھا: اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالی نے فطرت میں نیک فال کی محبت رکھ دی ہے، جیسا کہ خوش کن منظر اور صاف پانی کو دیکھنے سے راحت محسوس ہوتی ہے، اگرچہ اس پانی کو استعمال نہ کیا ہو۔ (عون المعبود)
مثال کے طور پر کوئی شخص کسی جائز کاروبار یا سفر کا ارادہ کرتا ہے، اس کا ہر دوست بالخصوص نیک بزرگ اس کے اس اقدام کو سراہتے ہیں، اس کے لیے دعائے خیر کرتے ہیں اور اس کی حوصلہ افزائی کرتے ہیںیا اس کام کے لئے استعمال ہونے والے تمام اسباب بآسانی میسر ہو جاتے ہیں۔ وہ ان تمام امور سے یہ نتیجہ نکالتا ہے کہ ایسے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا یہ کام اللہ تعالی کو پسند ہے، نتیجتاً وہ اللہ تعالی کے بارے میں حسنِ ظن قائم کر لیتا ہے، اس کو اچھا شگون کہتے ہیں، بہرحال مستقبل میں اسے اللہ تعالی کی طرف سے کسی قسم کی آزمائش کا خطرہ بھی رہتا ہے۔ معلوم ہوا کہ نیک شگون محض حسنِ ظن کا دوسرا نام ہے، نہ کہ مستقبل میں خطرات کے ٹل جانے کی گارنٹی۔
مسلمان کا شیوہ اچھی فال لینا ہے، نہ کہ بری فال لینا، اس لئے جب کوئی مسلمان کسی جائز کام کا عزم کر لیتا ہے تو کوئی بدشگونی اسے اس سے نہیں روکتی، کیونکہ اس کا یہ پختہ عقیدہ ہوتا ہے کہ نفع و نقصان کے معاملات میں حقیقی مؤثر صرف اللہ تعالی ہے۔ دراصل اچھی فال لینے کو مستحسن قرار دے کر پسِ پردہ اس امر کی بھی ترغیب دلائی گئی ہے کہ ہر مسلمان کو دوسرے مسلمانوں اور ان کے جائز اقدامات کے بارے میں اچھی بات کہنی چاہئے اور اچھی بات ہی سننی چاہئے، جس سے لوگ نیک فال اخذ کریں اور ایسی بات کرنے سے اجتناب کرنا چاہئے جس سے لوگ کراہت محسوس کریںاور اس سے ان کے دلوں میں بدفالی کا اندیشہ پیدا ہو۔
واضح ہو گیا ہے کہ مسلمان بدشگونی اور بد فالی لیتے ہوئے اپنے عزم کو منحوس نہیں سمجھتا، بلکہ مستقبل کے امور اور نفع و نقصان کو اللہ تعالی کے سپرد کر کے اپنے ارادے کی عملی تکمیل کی طرف گامزن رہتا ہے،یہ بات ذہن نشین رہے بسا اوقات بدشگونی پر مشتمل فرسودہ خیالات کسی کو اپنے گھیراؤ میں لے سکتے ہیں، لیکن اسے اللہ تعالی پر بھروسہ کرتے ہوئے ان کو اپنے دل و دماغ سے اتار پھینک دینا چاہئے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((ذَالِکَ شَیْئٌیَجِدُوْنَہُ فِیْ صُدُوْرِھِمْ، فَـلَا یَصُدَّھُمْ۔)) (صحیح مسلم) یعنی: یہ (بدشگونی) ایسی چیز ہے جسے لوگ اپنے سینوں میں محسوس کرتے ہیں، لیکنیہ ان کو اپنے کاموں (اور منصوبوں) سے نہ روکنے پائے۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بات سنی، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بڑی پسند آئی، سو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((أَخَذْنَا فَأْلَکَ مِنْ فِیْکَ۔)) (صحیحہ:۷۲۶)
یعنی:ہم نے تیرے نیک شگون کو معتبر سمجھا ہے۔
وضاحت نہیں ہے کہ یہ بات کس امر کے بارے میں تھی، البتہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اِنَّ النَّبِیَّV کَانَ یُعْجِبُہٗ اِذَا خَرَجَ لِحَاجَتِہٖاَنْیَّسْمَعَ: یَا رَاشِدُ یَا نَجِیْحُ۔ (ترمذی) یعنی: جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی حاجت کے سلسلہ میں نکلتے تو پسند کرتے کہ (اپنے اس خروج کے بارے میں لوگوں سے یہ کہتے ہوئے) سنیں: اے راہِ مستقیم کو پانے والے! اے (اپنی حاجت میں) کامیاب ہونے والے۔
یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کییہ تمنا ہوتی کہ کوئی آدمی آپ کی اس تگ و دو کو سراہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حاجت پوری ہونے کا مژدہ سنائے۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
7. بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّنْجِيمِ
نجومیت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6824
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَا اقْتَبَسَ رَجُلٌ عِلْمًا مِنَ النُّجُومِ إِلَّا اقْتَبَسَ شُعْبَةً مِنَ السِّحْرِ مَا زَادَ زَادَ)).
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے علم نجوم سیکھا، اس نے جادو کی ایک قسم کی تعلیم حاصل کی،جتنا زیادہ علم نجوم سیکھتا جائے گا، اتنا زیادہ جادو کا علم آتا جائے گا۔ [الفتح الربانی/أبواب السحر والكهانة والتنجيم/حدیث: 6824]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابوداود: 3905، وابن ماجه: 3726، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2000 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2000»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6825
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَنِ اقْتَبَسَ عِلْمًا مِنَ النُّجُومِ، اقْتَبَسَ شُعْبَةً مِنْ سِحْرٍ، مَا زَادَ زَادَ، وَمَا زَادَ زَادَ)).
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے علم نجوم حاصل کیا، اس نے جادو کا ایک شعبہ حاصل کر لیا، وہ جتنا زیادہ علم نجوم حاصل کرے گا، اتنا زیادہ جادو کے علم کا اضافہ ہوتا جائے گا، جس قدر علم نجوم بڑھے گا، اس قدر جادو کا علم بڑھتا جائے گا۔ [الفتح الربانی/أبواب السحر والكهانة والتنجيم/حدیث: 6825]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2841»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6826
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَوْ أَمْسَكَ اللَّهُ الْقَطْرَ عَنِ النَّاسِ سَبْعَ سِنِينَ ثُمَّ أَرْسَلَهُ لَأَصْبَحَتْ طَائِفَةٌ بِهِ كَافِرِينَ يَقُولُونَ: مُطِرْنَا بِنَوْءِ الْمِجْدَحِ)).
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر اللہ تعالیٰ سات برسوں تک لوگوں سے بارش کو روکے رکھے اور پھر اسے نازل کرے تو پھر بھی لوگوں کا ایک گروہ اللہ تعالی کے ساتھ کفر کرنے والا ہوگا، وہ یہی بات کریں گے کہ مِجْدَح ستارے کی وجہ سے ان پر بارش نازل کی گئی ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب السحر والكهانة والتنجيم/حدیث: 6826]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، أخرجه النسائي: 3/ 165، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11042 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11057»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6827
عَنْ سَلْمَانَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَيُبَيِّتُ الْقَوْمُ بِالنِّعْمَةِ ثُمَّ يُصْبِحُونَ وَأَكْثَرُهُمْ كَافِرُونَ يَقُولُونَ: مُطِرْنَا بِنَجْمِ كَذَا وَكَذَا)). قَالَ: فَحَدَّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ فَقَالَ: وَنَحْنُ قَدْ سَمِعْنَا ذَلِكَ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ رات کو قوم پر بارش برسا کر نعمت عطا کرتا ہے، لیکن جب صبح ہوتی ہے تو زیادہ تر لوگ کفر کرتے ہوئے یہ کہہ دیتے ہیں: فلاں، فلاں ستارے کی وجہ سے ہم پر بارش نازل ہوئی ہے۔ محمد بن ابراہیم کہتے ہیں: جب میں نے سعید بن مسیب کو یہ حدیث بیان کی تو انہوں نے بھی کہا: یہ ہم نے خود سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنی ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب السحر والكهانة والتنجيم/حدیث: 6827]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه البيھقي: 3/ 359، والحميدي: 979، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10800 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10813»
وضاحت: فوائد: … ستارے اللہ تعالی کی مخلوق ہیں، اللہ تعالی نے ان کو تین مقاصد کے لیے پیدا کیا ہے:
۱۔ آسمانوں کی زینت
۲۔ شیطانوں کی مرمت، یعنی جب شیطان وحی کی باتیں چوری کرنے کے لیے آسمان پر جانے کی کوشش کرتے ہیں تو یہ ان پر شعلہ بن کر گرتے ہیں۔
۳۔ بعض معاملات میں انسانوں کی رہنمائی، جیسا کہ ارشادِ باری تعالی ہے: {وَہُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَکُمُ النُّجُوْمَ لِتَہْتَدُوْا بِہَا فِیْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ } (انعام: ۹۷) … اور وہ اللہ ایسا ہے جس نے تمہارے لیے ستاروں کو پیدا کیا، تاکہ تم ان کے ذریعہ سے اندھیروں میں، خشکی میں اور دریا میں راستہ معلوم کر سکو۔
پرانے زمانے میں بحری سفر کرنے والے ستاروں کو دیکھ کر اپنے سفر کی سمت کا تعین کرتے تھے، عصر حاضر میں سائنسی آلات سے رہنمائی حاصل کی جاتی ہے۔ ستاروں کے علم کو علم نجوم کہتے ہیں۔
ستاروں کے تیسرے مقصد کا تعلق انسانوں سے ہے، اس کے علاوہ بنی آدم کاان سے کوئی تعلق نہیں ہے، شارح ابوداود علامہ عظیم آبادیl اس باب کی حدیث ((مَنِ اقْتَبَسَ عِلْمًا مِنَ النُّجُوْمِ، اقْتَبَسَ شُعَبْۃً مِّنَ السِّحْرِ۔)) … جس نے علم نجوم حاصل کیا، اس نے جادو کے ایک جز کی تعلیم حاصل کر لی۔ پر بحث کرتے ہوئے
کہتے ہیں کہ خطابی نے کہا: نجومی لوگ جس علم نجوم کی روشنی میں مستقبل میں پیش آنے والے حادثات و واقعات کو معلوم کر لینے کا دعوی کرتے ہیں، مثال کے طور پر بارشوں کا نزول اور اشیاء کی قیمتوں کا بڑھ جانا، اس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرما دیا ہے۔ لیکن ستاروں کا وہ علم جس سے نماز کے اوقات کا اور جہت ِ قبلہ کے تعین کا اندازہ ہوتا ہے، اس کو سیکھنے سے منع نہیں کیا گیا۔ شرح السنہ میں ہے: علم نجوم کی جس قسم کی بنا پر نجومی لوگ مستقبل میں پیش ہونے والے حوادث کی معرفت کا دعوی کرتے ہیںاور بسا اوقات ان کی پیشین گوئی مستقبل میں درست ثابت ہوتی ہے، مثلا: مستقبل میں ہواؤں کے چلنے، بارش برسنے، برف باری ہونے، گرمییا سردی پڑنے اور اشیا کے نرخوں کے بڑھ جانے کی خبر دینا۔ بعض اوقات یہ لوگ اس قسم کا دعوی بھی کر دیتے ہیں کہ ستاروں کے چلنے، ان کے جمع ہونے اور ان کے جدا ہونے سے آنے والے زمانے میں پیش آنے والے واقعات کی معرفت حاصل کر لیتے ہیں۔ شریعت ِ اسلامیہ میں علم نجوم کی اس قسم سے منع کیا گیا ہے۔ کیونکہ اس کے ذریعے جس علم کا دعوی کیا جاتا ہے، صرف اللہ تعالی نے اس کے ساتھ اپنی ذات کو موصوف کیا ہے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالی ہے: {اِنَّ اللّٰہَ عِنْدَہُ عِلْمُ السَّاعَۃِ وَیُنَزِّلُ الْغَیْثَ} (لقمان: ۳۴) … بیشک اللہ تعالی کے پاس قیامت کا علم ہے اور وہ بارش نازل کرتا ہے۔
لیکن علم نجوم کی جس قسم کے ذریعے زوال، اوقاتِ نماز اور جہت ِ قبلہ وغیرہ کا تعین کر لیا جاتا ہے، وہ نہی میں داخل نہیں ہے، کیونکہ اس کا علم ظاہری مشاہدے سے ہی ہو جاتا ہے، (جیسے طلوعِ آفتاب سے نماز فجر کے وقت کے ختم ہونے اور غروبِ آفتاب سے نمازِ عصر کے وقت کے ختم ہونے کا علم ہوتا ہے، سورج ایک ستارہ ہے)، ارشادِ باری تعالی ہے: {وَہُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَکُمُ النُّجُوْمَ لِتَہْتَدُوْا بِہَا فِیْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ }(سورۂ انعام: ۹۷) … اور وہ اللہ ایسا ہے جس نے تمہارے لیے ستاروں کو پیدا کیا، تاکہ تم ان کے ذریعہ سے اندھیروں میں، خشکی میں اور دریا میں راستہ معلوم کر سکو۔ مزید ارشاد فرمایا: {وَبِالنَّجْمِ ہُمْ یَہْتَدُوْنَ} (سورۂ نحل: ۱۶) … اور وہ ستاروں کے ذریعے رہنمائی پاتے ہیں۔
اللہ تعالی نے ان آیات میں بتلایا ہے کہ ستارے تو اوقات اور راستوں کی پہچان کے لیے ہیں، اگر یہ نہ ہوتے تو لوگ قبلہ رخ نہ ہو سکتے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ستاروں کا اتنا علم سیکھو کہ جس کے ذریعے قبلہ کی سمت اور راستے کو پہنچان سکو، اتنی مقدار کے بعد ان کا مزید علم حاصل کرنے سے باز آ جایا کرو۔ (عون المعبود: ۲/ ۱۷۷۴)
ان احادیث ِ مبارکہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے علم نجوم سے منع فرما دیا اور اسے جاہلیت کی علامت قرار دیا، جبکہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی کاہن (یعنی نجومی) کے پاس گیا اور اس کی بات کی تصدیق کییا جس آدمی نے حیض کی حالت میں اپنی بیوی سے جماع کیا تو وہ اس چیز سے بری ہو گیا، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اتاری گئی۔ (ابوداود: ۳۹۰۴، ترمذی: ۱۳۵، ابن ماجہ: ۶۳۹)
قارئین کرام! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سرے سے نجومیوں کے پاس جانے سے منع کر دیا، تاکہ ان کے اٹکل پچو سے مومنوں کے عقائد متاثر نہ ہوں۔ اجرام فلکی کا نظم ونسق صدیوں سے جاری و ساری ہے، آج تلک اس میں کوئی فساد یا بگاڑ پیدا نہیں ہے، یہ نظام بعض امورِ کائنات پر دلالت کرتا ہے، اس لیے ان کا بغور مطالعہ کرنے والا کوئی نہ کوئی اندازہ لگا سکتا ہے، جیسے کوئی آدمی سورج کو دیکھ کر وقت کا اور چاند کو دیکھ کر تاریخ کا اندازہ لگا لیتا ہے۔ لیکن عقائد کے تحفظ کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے علم نجوم کی اس قسم کے علم کے حصول سے سرے سے منع کر دیا، بلکہ جو لوگ اس علم میں دلچسپی لیتے ہیں، ان کی مجلس میں بیٹھنے سے منع کر دیا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ستاروں کے معاملہ میں کافی سختی کی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ عرب لوگ بارش کے نزول کو ستاروں کی طرف منسوب کرتے تھے اور اس معاملے میں ستاروں کو ہی سب کچھ سمجھتے ہیں۔ ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ جو آدمی اللہ تعالی کے سابقہ نظام کی روٹین کو دیکھ کر یہ کہتا ہے کہ جب فلاں ستارہ فلاں مقام پر پہنچتا ہے تو اللہ تعالی بارش نازل کرتا ہے، تو اس میں کوئی حرج نہیں، کیونکہ اللہ تعالی نے بارش وغیرہ کے اوقات کے لیے علامات مقرر کر دی ہیں۔ لیکن اس میں علامت بننے والے چیز کا ذاتی کوئی کردار نہیں ہوتا، سارے کا سارا کمال اللہ تعالی کا ہوتا ہے۔ دیکھئے کہ سورج کی روشنییا سورج کا دن اور رات کے آنے جانے کے ساتھ گہرا تعلق ہے، لیکن اس میں سورج کا تو کوئی کمال نہیں، کیونکہ وہ اللہ تعالی کے حکم کا تابع ہے۔
تنبیہ: غیب کا علم صرف اللہ تعالی کو ہے، ظاہری اسباب کے علاوہ مستقبل کے بارے میں کچھ ہونے یا نہ ہونے کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا، لیکنیہاں اس چیز کا ذکر کرنا ضروری ہے کہ اللہ تعالی نے بطورِ آزمائش چند ایسے امور کو وجود دے رکھا ہے، جس سے نجومی اور کاہن لوگوں کا کوئی اندازہ درست ثابت ہو سکتا ہے، جیسے ہرقل اور اس کے ایک دوست نے ستاروں کو دیکھ کر یہ اندازہ کر لیا تھا کہ عرب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ظہور ہو چکا ہے۔ (صحیح بخاری: ۶) اور ان کا یہ اندازہ درست ثابت ہوا، اس قسم کے کل چار امور ہیں: جنوں کا آسمانوں سے باتیں چوری کرنا، ستاروں سے اندازہ کرنا، ہاتھ کی لکیروں سے اندازہ کرنا اور جنوں کے ذریعے دور کی معلومات کر لینا۔
لیکن اُدھر اللہ تعالی نے اپنے مؤمن بندوں کو ایسے طریقے استعمال کرنے سے اور ایسے لوگوں کے پاس سرے سے جانے سے منع کر دیا، لیکنیہ امور بد عقیدہ لوگوں کے مزید گمراہ ہو جانے کا سبب بنتے ہیں، دراصل یہ اللہ تعالی کی طرف سے آزمائشیں ہیں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں