Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. بَابُ مَا جاء في ثبوتِ السحر وتأثيره بإرَادَةِ اللَّهِ تعالى وَوَعِيدِ مَنْ صَدَّقَهُ بِغَيْرِ ذَالِك
اللہ تعالی کے حکم سے جادوکی تاثیر کا اور اس آدمی کی وعید کا بیان جو اُس کے حکم کے بغیر اس کی تصدیق کرتا ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6803
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ سَحَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَهُودِيٌّ مِنْ يَهُودِ بَنِي زُرَيْقٍ يُقَالُ لَهُ لَبِيدُ بْنُ الْأَعْصَمِ حَتَّى كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهُ يَفْعَلُ الشَّيْءَ وَمَا يَفْعَلُهُ قَالَتْ حَتَّى إِذَا كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ أَوْ ذَاتَ لَيْلَةٍ دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ دَعَا ثُمَّ قَالَ يَا عَائِشَةُ شَعَرْتُ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَفْتَانِي فِيمَا اسْتَفْتَيْتُهُ فِيهِ جَاءَنِي رَجُلَانِ فَجَلَسَ أَحَدُهُمَا عِنْدَ رَأْسِي وَالْآخَرُ عِنْدَ رِجْلَيَّ فَقَالَ الَّذِي عِنْدَ رَأْسِي لِلَّذِي عِنْدَ رِجْلَيَّ أَوِ الَّذِي عِنْدَ رِجْلَيَّ لِلَّذِي عِنْدَ رَأْسِي مَا وَجَعُ الرَّجُلِ قَالَ مَطْبُوبٌ قَالَ مَنْ طَبَّهُ قَالَ لَبِيدُ بْنُ الْأَعْصَمِ قَالَ فِي أَيِّ شَيْءٍ قَالَ فِي مُشْطٍ وَمُشَاطَةٍ وَجُفِّ طَلْعَةٍ ذَكَرٍ قَالَ وَأَيْنَ هُوَ قَالَ فِي بِئْرِ أَرْوَانَ قَالَتْ فَأَتَاهَا فِي نَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ يَا عَائِشَةُ كَأَنَّ مَاءَهَا نُقَاعَةُ الْحِنَّاءِ وَلَكَأَنَّ نَخْلَهَا رُءُوسُ الشَّيَاطِينِ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَهَلَّا أَحْرَقْتَهُ قَالَ لَا أَمَّا أَنَا فَقَدْ عَافَانِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَكَرِهْتُ أَنْ أُثِيرَ عَلَى النَّاسِ مِنْهُ شَرًّا قَالَتْ فَأَمَرَ بِهَا فَدُفِنَتْ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: بنوزریق کے لَبِید بن اعصم نامی ایک یہودی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جادو کیا،یہاں تک کہ اس کا اتنا اثر ہو گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ خیال آتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی کام کیا ہے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا نہیں ہوتا تھا، یہاں تک کہ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا کی، پھر دعا کی فرمایا: عائشہ! مجھے سمجھ آ گئی ہے کہ اللہ تعالی نے میری دعا قبول کر لی ہے، میرے پاس دو آدمی آئے، ان میں ایک میرے سر کے پاس بیٹھ گیا اور دوسرا میرے پاؤں کے پاس، سر کے پاس بیٹھنے والے نے پاؤں کے پاس بیٹھنے والے سے یا پاؤں والے نے سر والے سے کہا: اس بندے کو کیا ہوا ہے؟ اس نے کہا: اس پر جادو ہوا ہوا ہے، اس نے کہا: کس نے اس پر جادو کیا ہے؟ اس نے کہا: لبید بن اعصم نے، اس نے کہا: کس چیز میں؟ اس نے کہا: کنگھی میں، کنگھی کرتے وقت گرنے والے بالوں میں اور نر کھجور کے شگوفے کے غلاف میں ہے، اس نے کہا: یہ عمل اب کہاں ہے؟ اس نے کہا: یہ اروان کے کنویں میں ہے۔ سیدہ کہتی ہیں: لوگ اس کنویں کی طرف گئے، ایک روایت میں ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود اس کنویں کی طرف تشریف لے گئے، اس کے پاس لگی ہوئی کھجوریں تھیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے واپس آ کر فرمایا: اے عائشہ! اس کا پانی ایسے لگ رہا تھا، جیسے اس میں مہندی بھگوئی گئی ہے، اور اس کی کھجوریں شیطانوں کے سروں کی مانند نظر آ رہی تھیں۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس (جادو والے عمل کو نکال کر) جلا کیوں نہیں دیا؟ ایک روایت میں ہے: آپ اس کو جلا دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، اللہ تعالی نے مجھے عافیت دے دی ہے اور اب میں ناپسند کرتا ہوں کہ لوگوں میں اس شرّ کو خواہ مخواہ پھیلاؤں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا اور اس عمل کو دفن کر دیا گیا۔ [الفتح الربانی/أبواب السحر والكهانة والتنجيم/حدیث: 6803]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5765، 6063، ومسلم: 2189، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24300 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24804»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6804
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ لَبِثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سِتَّةَ أَشْهُرٍ يَرَى أَنَّهُ يَأْتِي وَلَا يَأْتِي فَأَتَاهُ مَلَكَانِ فَجَلَسَ أَحَدُهُمَا عِنْدَ رَأْسِهِ وَالْآخَرُ عِنْدَ رِجْلَيْهِ فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِلْآخَرِ مَا بَالُهُ قَالَ مَطْبُوبٌ قَالَ مَنْ طَبَّهُ قَالَ لَبِيدُ بْنُ الْأَعْصَمِ قَالَ فِيمَ قَالَ فِي مُشْطٍ وَمُشَاطَةٍ فِي جُفِّ طَلْعَةٍ ذَكَرٍ فِي بِئْرِ ذَرْوَانَ تَحْتَ رَاعُوفَةٍ فَاسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَوْمِهِ فَقَالَ أَيْ عَائِشَةُ أَلَمْ تَرَيْ أَنَّ اللَّهَ أَفْتَانِي فِيمَا اسْتَفْتَيْتُهُ فَأَتَى الْبِئْرَ فَأَمَرَ بِهِ فَأُخْرِجَ فَقَالَ هَذِهِ الْبِئْرُ الَّتِي أُرِيتُهَا وَاللَّهِ كَأَنَّ مَاءَهَا نُقَاعَةُ الْحِنَّاءِ وَكَأَنَّ رُءُوسَ نَخْلِهَا رُءُوسَ الشَّيَاطِينِ فَقَالَتْ عَائِشَةُ لَوْ أَنَّكَ كَأَنَّهَا تَعْنِي أَنْ يَتَنَشَّرَ قَالَ أَمَّا وَاللَّهِ قَدْ عَافَانِي اللَّهُ وَأَنَا أَكْرَهُ أَنْ أُثِيرَ عَلَى النَّاسِ مِنْهُ شَرًّا
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چھ ماہ تک اسی حالت میں رہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دیکھتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک کام کیا ہے، لیکن کیا نہیں ہوتا تھا، پس دو فرشتے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے، ان میں سے ایک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر کے پاس اور دوسرا پاؤں کے پاس بیٹھ گیا، ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: ان کا کیا حال ہے؟ اس نے کہا: آپ سحر زدہ ہیں، اس نے کہا: کس نے جادو کیا ہے؟ اس نے کہا: لبید بن اعصم نے۔ اس نے کہا: کس چیز میں کیا ہے؟ اس نے کہا: کنگھی میں اور کنگھی کرتے وقت گرنے والے بالوں میں کیا ہے اور یہ عمل ذروان کنویں میں پتھر کے نیچے نر کھجور کے شگوفے کے غلاف میں ہے، اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نیند سے بیدار ہو گئے اور فرمایا: اے عائشہ!کیا تم دیکھتی نہیں ہو کہ اللہ تعالی نے میری دعا قبول کر لی ہے، پھر آپ کنوئیں کے پاس آئے اور حکم دیا، پس اس عمل کو نکالا گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہی وہ کنواں ہے جو مجھے دکھایا گیا،اللہ کی قسم! اس کا پانی اس طرح لگ رہا تھا، جیسا کہ اس میں مہندی بھگوئی ہوئی ہو اور اس کے کھجور کے درختوں کے سرے شیطانوں کے سروں کی مانند تھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اگر آپ اس سے دم کروا لیتے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے عافیت دے دی ہے، اور میں نہیں چاہتا یہ شرّ لوگوں پر پھیل جائے۔ [الفتح الربانی/أبواب السحر والكهانة والتنجيم/حدیث: 6804]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24851»
وضاحت: فوائد: … ایک روایت میں چالیس دنوں کا ذکر ہے اور اِس میں چھ ماہ کا، حافظ ابن حجر نے کہا: ممکن ہے کہ کل چھ ماہ تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مزاج میں تغیر رہا ہو اور ان میں سے چالیس دنوں میں زیادہ اثر ہوا ہو۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6805
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا بِنَحْوِهِ وَفِيهِ قَالَ فِي مُشْطٍ وَمُشَاطَةٍ وَجُفِّ طَلْعَةٍ ذَكَرٍ قَالَ فَأَيْنَ هُوَ قَالَ فِي ذِي أَرْوَانَ وَفِيهِ قَالَتْ عَائِشَةُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَخْرَجْتَهُ لِلنَّاسِ فَقَالَ أَمَّا أَنَا فَقَدْ شَفَانِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَكَرِهْتُ أَنْ أُثَوِّرَ عَلَى النَّاسِ مِنْهُ شَرًّا
۔ (تیسری سند) اسی طرح کی حدیث مروی ہے،البتہ اس میں ہے: وہ عمل کنگھی اور کنگھی کرتے وقت گرنے والے بالوں میں اور نرکھجور کے شگوفے کے غلاف میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: وہ کہاں ہے؟ انھوں نے کہا: ذی اروان میں ہے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے اس عمل کو لوگوں کے لیے نکالا کیوں نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی نے مجھے شفا دے دی ہے اور میں نہیں چاہتا کہ لوگوں میں شرّ کو بھڑکا دوں۔ [الفتح الربانی/أبواب السحر والكهانة والتنجيم/حدیث: 6805]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24852»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6806
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَحَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ قَالَ فَاشْتَكَى لِذَلِكَ أَيَّامًا قَالَ فَجَاءَ جِبْرِيلُ فَقَالَ إِنَّ رَجُلًا مِنَ الْيَهُودِ سَحَرَكَ عَقَدَ لَكَ عُقَدًا فِي بِئْرٍ كَذَا وَكَذَا فَأَرْسِلْ إِلَيْهَا مَنْ يَجِيءُ بِهَا فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَاسْتَخْرَجَهَا فَجَاءَ بِهَا فَحَلَّهَا قَالَ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَأَنَّمَا نُشِطَ مِنْ عِقَالٍ فَمَا ذَكَرَ لِذَلِكَ الْيَهُودِيِّ وَلَا رَآهُ فِي وَجْهِهِ قَطُّ حَتَّى مَاتَ
۔ سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ یہودیوں میں سے ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جادو کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وجہ سے کئی دن بیمار رہے، بالآخر جناب جبریل علیہ السلام نے آ کر کہا: یہودیوں میں سے ایک آدمی نے آپ پر جادو کیا ہے اور اس مقصد کے لیے جادو کی گرہیں لگائی ہیں، جادوں کایہ عمل فلاں کنویں میں پڑا ہے، آپ کسی آدمی کو بھیجیں جو اس عمل کو نکال کر لے آئے، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بھیجا، وہ اس کو نکال کر لے آئے اور ان گرہوں کو کھول دیا،یوں لگا جیسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو رسی سے کھول دیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس چیز کا نہ اس یہودی سے ذکر کیااور نہ اس کے چہرے کی طرف دیکھا،یہاں تک کہ وہ مر گیا۔ [الفتح الربانی/أبواب السحر والكهانة والتنجيم/حدیث: 6806]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح بغير ھذه السياقة، وھذا اسناد فيه تدليس الاعمش، وسياقه الصحيح تقدم برقم (6803)، أخرجه النسائي: 7/ 112، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19267 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19482»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالی کے حکم سے جادو کا اثر ہو سکتا ہے اور یہ اثر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی ہو گیا تھا۔
ارشادِ باری تعالی ہے: {وَمَا ھُمْ بِضَارِّیْنَ بِہٖمِنْاَحَدٍاِلَّابِاِذْنِاللّٰہِ} … اور وہ جادو گر کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے، مگر اللہ تعالی کی مرضی کے ساتھ۔ (سورۂ بقرہ: ۱۰۲) اس آیت کے مطابق اللہ تعالی کی مشیت کے مطابق کسی کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے، اللہ تعالی نے کسی کی بھی تخصیص نہیں کی۔
بعض بدعتی لوگوں نے ان احادیث کا انکار کر دیا ہے، جن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کے اثر انداز ہو جانے کا بیان ہے، ان کا نظریہیہ ہے کہ یہ چیز منصب ِ نبوت کے لائق نہیں ہے، اس سے تشکیک کی راہ کھلتی ہے اور شریعت کو نا قابل اعتبار ٹھہراتی ہے۔
لیکنیہ سارے خیالات مردود ہیں، ہم دلائل و براہین کے محتاج ہیں، جب اللہ تعالی اور اس کے رسول کے ارشادات و فرمودات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عصمت، صداقت اور حقانیت بیان کی گئی تو ہم نے تسلیم کیا اور جب ان ہی دلائل میں ان عوارض کو بیان کیا گیا، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو لاحق ہو سکتے ہیں تو ہمیں ان کو بھی تسلیم کرنا پڑے گا۔
دراصل بات یہ ہے کہ جیسے انبیاء و رسل کو دیگر انسانی عوارض لاحق ہوتے ہیں،یا ہو سکتے ہیں، اسی طرح وہ جادو سے بھی متأثر ہو سکتے ہیں، جیسا کہ فرعون کے دربار میں موسیg پر جادو کا اثر ہو گیا تھا، ارشادِ باری تعالی ہے: {قَالَ بَلْ
اَلْقُوْا فَاِذَا حِبَالُھُمْ وَعِصِیُّھُمْیُخَیَّلُ اِلَیْہِ مِنْ سِحْرِھِمْ اَنَّھَا تَسْعٰی (۶۶) فَاَوْجَسَ فِیْ نَفْسِہٖخِیْفَۃً مُّوْسٰی} (۶۷) موسیg نے کہا: نہیں، تم ہی پہلے ڈالو، اب تو موسیg کو یہ خیال گزرنے لگا کہ ان کی رسیاں اور لکڑیاں ان کے جادو کے زور سے دوڑ بھاگ رہی ہیں۔ پس موسی (g) نے اپنے دل ہی دل میں ڈر محسوس کیا۔(سورۂ طہ: ۶۶)
اسی طرح یہودی لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کیا، جس کے کچھ اثرات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے محسوس کیے، اس سے بھی منصب ِ نبوت پر کوئی حرف نہیں آیا، کیونکہ اس سے کارِ نبوت متاثر نہیں ہوا، اللہ تعالی نے اپنے نبی کی حفاظت فرمائی اور جادو سے وحییا فریضۂ رسالت کی ادائیگی متاثر نہیں ہونے دی۔
جیسے دشمنوں نے غزوۂ احد کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خاصا جسمانی نقصان پہنچایا، اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مالی نقصان بھی ہو جاتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار بھی ہو جاتے تھے، ایک دفعہ گھوڑے سے گرنے کی وجہ سے زخمی ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو زہر دیا گیا اور اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف ہوئی، لوگوں کے ایمان نہ لانے کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پریشان ہو جاتے تھے، اسی طرح جادو سے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ متأثر ہو گئے تھے۔ بہرحال ہم قرآن حکیم اور احادیث ِ صحیحہ کے محتاج ہیں اور ان پر ہی اپنے نظریات کی بنیاد رکھتے ہیں۔
بعض روایات میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جادو کا عمل نکالنے کے لیے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بھیجا تھا اور بعض میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود تشریف لے گئے تھے، ان روایات میں جمع و تطبیق کییہ صورت ممکن ہے کہ پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بھیجا ہو اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود ان کے پیچھے روانہ ہو گئے ہوں، اس طرح سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے وہ عمل کنویں سے نکالا ہو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا مشاہدہ کر کے اس کو ختم کیا ہو اور پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یہ حکم دیا ہو کہ وہ اس کو دفنا دیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لبید بن عاصم سے انتقام نہیں لیایا اس کو سزا نہیں دی، ممکن ہے کہ فتنہ سے بچنے کے لیے اس کو سزا نہ دی گئی ہو، کیونکہیہ شخص بنو زریق قبیلے سے تھا، جو کہ خزرج قبیلے کی ایک شاخ تھی اور اسلام سے پہلے بہت زیادہ انصاریوں اور یہودیوں کے درمیان معاہدے کیے گئے تھے، اس لیے انتقامی کاروائی کرنے سے کوئی شرّ پھیل سکتا تھا، یہ ایسے ہی ہے، جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منافقوں کو قتل نہ کرنے کییہ وجہ بیان کی تھی: ((لَایَتَحَدَّثُ النَّاسُ اَنَّ مُحَمَّدًا یَقْتُلُ اَصْحَابَہٗ۔)) … کہیں ایسا نہ ہو کہ لوگ ایسی باتیں کرنا شروع کر دیں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) تو اپنے ساتھیوں کو بھی قتل کر دیتا ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ذات کی خاطر انتقام نہیں لیا کرتے تھے۔
یہ بھی ممکن ہے کہ اس وقت تک جادو گر کے بارے میں کوئی خاص سزا نازل نہ ہوئی ہو۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6807
عَنْ عَمْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَ اشْتَكَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَطَالَ شَكْوَاهَا فَقَدِمَ إِنْسَانٌ الْمَدِينَةَ يَتَطَبَّبُ فَذَهَبَ بَنُو أَخِيهَا يَسْأَلُونَهُ عَنْ وَجَعِهَا فَقَالَ وَاللَّهِ إِنَّكُمْ تَنْعَتُونَ نَعْتَ امْرَأَةٍ مَطْبُوبَةٍ قَالَ هَذِهِ امْرَأَةٌ مَسْحُورَةٌ سَحَرَتْهَا جَارِيَةٌ لَهَا قَالَتْ نَعَمْ أَرَدْتُ أَنْ تَمُوتِي فَأُعْتَقَ قَالَتْ وَكَانَتْ مُدَبَّرَةً قَالَتْ بِيعُوهَا فِي أَشَدِّ الْعَرَبِ مَلَكَةً وَاجْعَلُوا ثَمَنَهَا فِي مِثْلِهَا
۔ عمرہ کہتی ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیمار ہو گئیں اور ان کی بیماری طول پکڑ گئی، ایک آدمی مدینہ منورہ میں آیا، وہ طب اور حکمت کا کام کرتا تھا، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھتیجے اس حکیم کے پاس آئے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی تکلیف کے متعلق دریافت کیا، اس نے کہا: اللہ کی قسم! تم لوگ جو کچھ بتارہے ہو، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس خاتون پر جادو ہوا ہے اور اس کی لونڈی نے اس پر جادو کیا ہے، جب اس لونڈی سے پوچھا گیا تو اس نے کہا: ہاں! میں نے جادو کیا ہے، میں چاہتی تھی کہ تو جلدی مر جائے، تاکہ میں آزاد ہو جاؤں، دراصل وہ لونڈی مدبرہ تھی، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اسے اس آدمی کے ہاں فروخت کرو جو عرب میں لونڈیوں کے معاملے میں سخت ترین ہو اور اس کی قیمت سے اس جیسی ایک اور لونڈی خرید لو۔ [الفتح الربانی/أبواب السحر والكهانة والتنجيم/حدیث: 6807]
تخریج الحدیث: «ھذا الاثر صحيح، أخرجه مالك في ’’المؤطا‘‘: 2782، وعبد الرزاق: 18749، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24126 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24627»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6808
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ صَاحِبُ خَمْسٍ مُدْمِنُ خَمْرٍ وَلَا مُؤْمِنٌ بِسِحْرٍ وَلَا قَاطِعُ رَحِمٍ وَلَا كَاهِنٌ وَلَا مَنَّانٌ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پانچ خصلتوں والا آدمی جنت میں داخل نہیں ہو گا: شراب نوشی پر ہمیشگی اختیار کرنے والا، جادو کی تصدیق کرنے والا، قطع رحمی کرنے والا، کہانت کرنے والااور احسان جتانے والا۔ [الفتح الربانی/أبواب السحر والكهانة والتنجيم/حدیث: 6808]
تخریج الحدیث: «حديث حسن لغيره، أخرجه البزار: 2932، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11781/1 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11803»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6809
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ثَلَاثَةٌ لَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ مُدْمِنُ خَمْرٍ وَقَاطِعُ رَحِمٍ وَمُصَدِّقٌ بِالسِّحْرِ وَمَنْ مَاتَ مُدْمِنًا لِلْخَمْرِ سَقَاهُ اللَّهُ مِنْ نَهْرِ الْغُوطَةِ
۔ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین آدمی جنت میں داخل نہیں ہوں گے:شراب نوشی پر ہمیشگی اختیار کرنے والا،قطع رحمی کرنیوالااور جادو کی تصدیق کرنے والا اور جو آدمی اس حال میں مرے کہ وہ شراب نوشی پر ہمیشگی کرتا ہو اس کو تو اللہ تعالیٰ غوطہ کی نہر سے پلائے گا۔ [الفتح الربانی/أبواب السحر والكهانة والتنجيم/حدیث: 6809]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف ابي حريز، وقوله منه: ’’ثلاثة لا يدخلون الجنة: مدمن خمر، وقاطع رحم، ومصدق بالسحر‘‘ حسن لغيره بشاهده من حديث ابي سعيد الخدريB، أخرجه ابن حبان: 5346، وابويعلي: 7248، وابن حبان: 6137، والحاكم: 4/ 146، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19569 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19798»
وضاحت: فوائد: … امام نووی نے کہا: جادو کا عمل حرام ہے اور یہ کبیرہ گناہوں میں سے ہے، اس بات پر مسلمانوں کا اجماع و اتفاق ہے، بسا اوقات یہ کفر ہوتا ہے اور بعض اوقات معصیت، اگر اس میں کہا جانے والا قول یا کیا جانے والا فعل کفر ہو تو جادو گر کافر ہو جائے گا اور اگر وہ عمل کفریہ نہ ہو تو وہ فاسق اور نافرمان ٹھہرے گا، بہرحال اس کی تعلیم دینا اور اس کی تعلیم حاصل کرنا دونوں حرام ہیں۔
حدیث نمبر (۶۸۰۹) یہاں اختصار کے ساتھ روایت کی گئی ہے، مکمل روایت کتاب الاشربۃ میں آئے گی، اس میں غوطہ کی نہر کی وضاحت کی گئی ہے۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6810
عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ كَانَ لِدَاوُدَ نَبِيِّ اللَّهِ مِنَ اللَّيْلِ سَاعَةٌ يُوقِظُ فِيهَا أَهْلَهُ فَيَقُولُ يَا آلَ دَاوُدَ قُومُوا فَصَلُّوا فَإِنَّ هَذِهِ سَاعَةٌ يَسْتَجِيبُ اللَّهُ فِيهَا الدُّعَاءَ إِلَّا لِسَاحِرٍ وَعَشَّارٍ
۔ سیدناعثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نبی داؤد علیہ السلام نے رات کو ایک وقت کا تعین کر رکھا تھا، جس میں وہ اپنے اہل وعیال کو بیدا کرتے اور فرماتے:اے آل داؤد! اٹھو اور نماز پڑھو، یہ ایسی گھڑی ہے کہ جس میں اللہ تعالیٰ دعا قبول کرتے ہیں،ما سوائے جادو گر اور ٹیکس وصول کنندہ کی دعا کے۔ [الفتح الربانی/أبواب السحر والكهانة والتنجيم/حدیث: 6810]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف علي بن زيد بن جدعان، ولاختلاف في سماع الحسن من عثمان، أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 8374، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16281 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16390»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. بَابُ مَا جَاءَ فِي حَدِّ السَّاحِرِ
جادو گر کی حد کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6811
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو سَمِعَ بَجَالَةَ يَقُولُ: كُنْتُ كَاتِبًا لِجَزْءِ بْنِ مُعَاوِيَةَ عَمِّ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ فَأَتَانَا كِتَابُ عُمَرَ قَبْلَ مَوْتِهِ بِسَنَةٍ: أَنِ اقْتُلُوا كُلَّ سَاحِرٍ، وَرُبَمَا قَالَ سُفْيَانُ: وَسَاحِرَةٍ، وَفَرِّقُوا بَيْنَ كُلِّ ذِي مَحْرَمٍ مِنَ الْمَجُوسِ وَانْهَوْهُمْ عَنِ الزَّمْزَمَةِ، فَقَتَلْنَا ثَلَاثَةَ سَوَاحِرَ، وَجَعَلْنَا نُفَرِّقُ بَيْنَ الرَّجُلِ وَبَيْنَ حَرِيمَتِهِ فِي كِتَابِ اللَّهِ، وَصَنَعَ جَزْءٌ طَعَامًا كَثِيرًا وَعَرَضَ السَّيْفَ عَلَى فَخِذِهِ وَدَعَا الْمَجُوسَ فَأَلْقَوْا وِقْرَ بَغْلٍ أَوْ بَغْلَيْنِ مِنْ وَرِقٍ فَأَكَلُوا مِنْ غَيْرِ زَمْزَمَةَ وَلَمْ يَكُنْ عُمَرُ أَخَذَ، وَرُبَمَا قَالَ سُفْيَانُ: قَبِلَ الْجِزْيَةَ مِنَ الْمَجُوسِ حَتَّى شَهِدَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَخَذَهَا مِنْ مَجُوسِ هَجَرَ، وَقَالَ أَبِي: قَالَ سُفْيَانُ: حَجَّ بَجَالَةُ مَعَ مُصْعَبٍ سَنَةَ سَبْعِينَ
۔ بجالہ کہتے ہیں: میں جزء بن معاویہ کا کاتب تھا، وہ احنف بن قیس کے چچا تھے، ہمارے پاس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا خط آیا،یہ ان کی وفات سے ایک سال پہلے کی بات ہے، اس میں یہ بات تحریر کی گئی تھی کہ ہر جادو گر اور جادو گرنی کو قتل کر دو اور مجوسیوں میں ہر محرم کے درمیان تفریق ڈال دو اور انہیں زمزمہ سے روک دو، اس حکم کے بعد ہم نے تین جادو گر قتل کئے اور کتاب اللہ کے مطابق حرام رشتوں میں علیحدگی پیدا کر دی، جزء نے بہت سارا کھانا تیار کروایا اور مجوسیوں کو دعوت دی اور تلوار اپنی ران پر رکھ لی، انہوں نے زمزمہ کے بغیر کھانا کھایا اور انہوں نے ایک خچر یا دو خچر کے بوجھ اٹھانے کے برابر چاندی بھی بطور جزیہ دی، مگر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ جزیہ ان سے نہ لیا، کبھی سفیان راوی اس طرح بیان کرتے: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مجوسیوں سے جزیہ لینے کے حق میں نہ تھے، حتیٰ کہ سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے شہادت دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہجر کے علاقہ کے مجوسیوں سے جزیہ لیا تھا، تب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجوسیوں سے جزیہ قبول کرنا شروع کیا۔ [الفتح الربانی/أبواب السحر والكهانة والتنجيم/حدیث: 6811]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3156، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1657 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1657»
وضاحت: فوائد: … سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے اپنی لونڈی کو جادو کرنے کی وجہ سے قتل کروا دیا تھا۔ (مؤطا امام مالک: ۲/ ۸۷۱)
پچھلے باب میںیہ وضاحت کی گئی ہے کہ بسا اوقات جادو کبیرہ گناہ ہوتا ہے اور بسا اوقات کفر، ارشادِ باری تعالی ہے: {وَمَا کَفَرَ سُلَیْمَانُ وَلٰکِنَّ الشَّیَاطِیْنَ کَفَرُوْا یُعَلِّمُوْنَ النَّاسَ السِّحْرَ} … سلیمان (g) نے تو کفر نہیں کیا تھا، بلکہ یہ کفر شیطانوں نے کیا تھا، وہ لوگوں کو جادو سکھایا کرتے تھے۔ (سورۂ بقرہ: ۱۰۲)
جادو کی جو قسم کفر ہے، اگر جادو گر مسلمان ہو تو اس سے ارتداد لازم آتا ہے اور اس طرح وہ واجب القتل ٹھہرتا ہے۔
امام شافعی نے کہا: جادو گر کو اس وقت قتل کیا جائے گا، جب وہ ایسا جادو کرے، جو کفر تک پہنچاتا ہے، ورنہ اس کو قتل نہیں کیا جائے گا۔ امام ابو حنیفہ، امام احمد اور امام مالک کی رائے کے مطابق جادو گر کو قتل کیا جائے گا۔
امام شافعی کی رائے راجح معلوم ہوتی ہے۔
لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات ِ مبارکہ پر جادو کرنے والے لبید کو قتل کیوں نہیں کروایا؟ دیکھیں حدیث نمبر (۶۸۰۶) کے فوائد
زمزمہ: یہ ایک قسم کا کلام تھا، جو مجوسی لوگ کھانا کھاتے وقت ادا کیا کرتے تھے، ان کے دین میں اس کے بغیر کھانا کھانا حلال نہیں ہوتا تھا، دراصل وہ اس کے ذریعے اللہ تعالی کی تعظیم کرتے تھے، یہ ان کی بیوقوفی اور تکلف تھا۔ یہ باتیں ابن حزم نے المحلی میں بیان کیں ہیں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْكَهَانَةِ وَأَصْلٍ مَأْخَذِهَا وَكَيْفَ يُصَدُّقُ الْكَاهِنُ فِي بَعْضِ الْأُمُورِ
شریعت میں کہانت کے حکم اور اس کے مصدر کا بیان، نیز بعض امور میں کاہن کی کیسے تصدیق کی جائے گی؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6812
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ثَنَا مَعْمَرٌ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ أَنْبَأَنَا الزُّهْرِيُّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: مِنَ الْأَنْصَارِ، فَرُمِيَ بِنَجْمٍ عَظِيمٍ فَاسْتَنَارَ، قَالَ: ((مَا كُنْتُمْ تَقُولُونَ إِذَا كَانَ مِثْلُ هَذَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ؟)) قَالَ: كُنَّا نَقُولُ: يُولَدُ عَظِيمٌ أَوْ يَمُوتُ عَظِيمٌ، قُلْتُ لِلزُّهْرِيِّ: أَكَانَ يُرْمَى بِهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَلَكِنْ غُلِّظَتْ حِينَ بُعِثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((فَإِنَّهُ لَا يُرْمَى بِهَا لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ وَلَكِنَّ رَبَّنَا تَبَارَكَ اسْمُهُ إِذَا قَضَى أَمْرًا سَبَّحَ (وَفِي لَفْظٍ: سَبَّحَهُ) حَمَلَةُ الْعَرْشِ ثُمَّ سَبَّحَ أَهْلُ السَّمَاءِ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ حَتَّى بَلَغَ التَّسْبِيحُ هَذِهِ السَّمَاءَ الدُّنْيَا، ثُمَّ يَسْتَخْبِرُ أَهْلُ السَّمَاءِ الَّذِينَ يَلُونَ حَمَلَةَ الْعَرْشِ فَيَقُولُ الَّذِينَ يَلُونَ حَمَلَةَ الْعَرْشِ لِحَمَلَةِ الْعَرْشِ: مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ؟ فَيُخْبِرُونَهُمْ، وَيُخْبِرُ أَهْلُ كُلِّ سَمَاءٍ سَمَاءً حَتَّى يَنْتَهِيَ الْخَبَرُ إِلَى هَذِهِ السَّمَاءِ وَيَخْطِفُ الْجِنُّ السَّمْعَ فَيُرْمَوْنَ، فَمَا جَاءُوا بِهِ عَلَى وَجْهِهِ فَهُوَ حَقٌّ وَلَكِنَّهُمْ يَقْذِفُونَ وَيَزِيدُونَ)) (وَفِي لَفْظٍ: وَيَنْقُصُونَ) قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: (يَعْنِي ابْنَ الْإِمَامِ أَحْمَدَ) قَالَ أَبِي: قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: وَيَخْطِفُ الْجِنُّ وَيُرْمَوْنَ
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صحابہ کی جماعت میں جلوہ افروز تھے، عبد الرزاق نے کہا:یہ انصاری لوگ تھے، جن کے ساتھ آپ بیٹھے ہوئے تھے، اتنے میں ایک بہت بڑا ستارہ مارا گیا، اس سے روشنی پھیل گئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب جاہلیت میں ایسا ہوتا تھا تو تم کیا کہتے تھے؟ انہوں نے کہا: ہم کہا کرتے تھے کہ یا تو کوئی عظیم آدمی پیدا ہوا ہے یا کوئی عظیم انسان فوت ہوا ہے۔ میں نے زہری سے کہا: کیا جاہلیت میں بھی ستارے مارے جاتے تھے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، لیکن جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مبعوث کیا گیا تو ان میں شدت آگئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ ستارے کسی کی موت و حیات کی وجہ سے نہیں مار جاتے، اس کی وجہ یہ ہے کہ جب ہمارا ربّ تبارک و تعالیٰ کسی کام کا فیصلہ کرتا ہے تو حاملینِ عرش فرشتے سبحان اللہ کہتے ہیں، پھر ان کے نزدیک والے آسمان کے فرشتے سبحان اللہ کہتے ہیں،یہاں تک کہ یہ سبحان اللہ کی دلنواز صدا آسمان دنیا تک پھیل جاتی ہے، پھر آسمان والے فرشتے، اپنے قریب والے عرش بردار فرشتوں سے اطلاع حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ عرش بردار فرشتوں کے قریب والے ان سے دریافت کرتے ہیں۔ تمہارے رب نے کیا کہا ہے؟ وہ انہیں خبر دیتے ہیں اور ہر ایک آسمان والے فرشتے نچلے آسمان والوں کو بتاتے ہیں،یہاں تک کہ وہ خبر آسمانِ دنیا والے فرشتوں تک پہنچ جاتی ہے،اُدھر جن چوری کرتے ہوئے اس بات میں سے کچھ حصہ اچک لیتے ہیں اور ان پر ستارے کو گرایا جاتا ہے،جو وہ بچ بچا کر بات لے آتے ہیں، وہ تو حق ہوتی ہے، لیکن اس میں جھوٹ ملاتے ہیں اور زیادتی کرتے ہیں اور ایک روایت کے مطابق اس میں کمی کرتے ہیں۔ عبد الرزاق نے کہا: جن وحی کی بات کو اچک لیتے ہیں، لیکن پھر ان پر ستارے کو گرا دیا جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب السحر والكهانة والتنجيم/حدیث: 6812]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2229، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1882 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1882»
وضاحت: فوائد: … بعض روایات میںیہ اضافہ بھی ہے کہ جب اللہ تعالی کسی کام کا فیصلہ کرتے ہیں تو حاملین عرش سبحان اللہ کہتے ہیں، پھر ان کے نزدیک والے سبحان اللہ کہتے ہیں۔ آسمانوں میں گردش کرتی ہوئییہ تسبیح آسمانِ دنیا تک پہنچ جاتی ہے اور جو حاملین عرش کے قریب فرشتے ہوتے ہیں وہ حاملین عرش سے دریافت کرتے ہیں: تمہارے رب نے کیا کہا ہے؟ وہ جو اب دیتے ہیں: حق بات ہی کہی ہے اور وہ بہت بلندی والا اور بڑائی والا ہے، پھر وہ بتاتے ہیں کہ اس نے یہیہ کہا ہے اور آسمانوں والے ایک دوسرے کو اس کی خبر دیتے ہیں، حتی کہ یہ خبر آسمان دنیاتک پہنچ جاتی ہے اور یہاںشیطان آجاتے ہیں اور وہ بھی سننے کی کوشش کرتے ہیں، اگر وہ کوئی بات سن لیتے ہیں تو اس کو اپنے دوستوں، کاہنوں، نجومیوں وغیرہ تک پہنچاتے ہیں اور وہ اس میں کئی جھوٹوں کی آمیزش کرتے ہیں اور ان کی جو بات درست ہوتی ہے، وہ وہ ہوتی ہے جویہ فرشتوں سے اچک کرلائے ہوتے ہیں۔
یہ اللہ تعالی کا نظام ہے، اسی نے جنوں کو اتنی طاقت دی ہے کہ وہ ایک دوسرے پر چڑھتے چڑھتے آسمانِ دنیا تک پہنچ جاتے ہیں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں