الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب ما جاء فى ثبوت السحر وتأثيره بإرادة الله تعالى ووعيد من صدقه بغير ذالك
اللہ تعالی کے حکم سے جادوکی تاثیر کا اور اس آدمی کی وعید کا بیان جو اُس کے حکم کے بغیر اس کی تصدیق کرتا ہو
حدیث نمبر: 6805
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا بِنَحْوِهِ وَفِيهِ قَالَ فِي مُشْطٍ وَمُشَاطَةٍ وَجُفِّ طَلْعَةٍ ذَكَرٍ قَالَ فَأَيْنَ هُوَ قَالَ فِي ذِي أَرْوَانَ وَفِيهِ قَالَتْ عَائِشَةُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَخْرَجْتَهُ لِلنَّاسِ فَقَالَ أَمَّا أَنَا فَقَدْ شَفَانِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَكَرِهْتُ أَنْ أُثَوِّرَ عَلَى النَّاسِ مِنْهُ شَرًّا
۔ (تیسری سند) اسی طرح کی حدیث مروی ہے،البتہ اس میں ہے: وہ عمل کنگھی اور کنگھی کرتے وقت گرنے والے بالوں میں اور نرکھجور کے شگوفے کے غلاف میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: وہ کہاں ہے؟ انھوں نے کہا: ذی اروان میں ہے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے اس عمل کو لوگوں کے لیے نکالا کیوں نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی نے مجھے شفا دے دی ہے اور میں نہیں چاہتا کہ لوگوں میں شرّ کو بھڑکا دوں۔ [الفتح الربانی/أبواب السحر والكهانة والتنجيم/حدیث: 6805]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24852»
الحكم على الحديث: صحیح