الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب ما جاء فى ثبوت السحر وتأثيره بإرادة الله تعالى ووعيد من صدقه بغير ذالك
اللہ تعالی کے حکم سے جادوکی تاثیر کا اور اس آدمی کی وعید کا بیان جو اُس کے حکم کے بغیر اس کی تصدیق کرتا ہو
حدیث نمبر: 6806
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَحَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ قَالَ فَاشْتَكَى لِذَلِكَ أَيَّامًا قَالَ فَجَاءَ جِبْرِيلُ فَقَالَ إِنَّ رَجُلًا مِنَ الْيَهُودِ سَحَرَكَ عَقَدَ لَكَ عُقَدًا فِي بِئْرٍ كَذَا وَكَذَا فَأَرْسِلْ إِلَيْهَا مَنْ يَجِيءُ بِهَا فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَاسْتَخْرَجَهَا فَجَاءَ بِهَا فَحَلَّهَا قَالَ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَأَنَّمَا نُشِطَ مِنْ عِقَالٍ فَمَا ذَكَرَ لِذَلِكَ الْيَهُودِيِّ وَلَا رَآهُ فِي وَجْهِهِ قَطُّ حَتَّى مَاتَ
۔ سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ یہودیوں میں سے ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جادو کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وجہ سے کئی دن بیمار رہے، بالآخر جناب جبریل علیہ السلام نے آ کر کہا: یہودیوں میں سے ایک آدمی نے آپ پر جادو کیا ہے اور اس مقصد کے لیے جادو کی گرہیں لگائی ہیں، جادوں کایہ عمل فلاں کنویں میں پڑا ہے، آپ کسی آدمی کو بھیجیں جو اس عمل کو نکال کر لے آئے، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بھیجا، وہ اس کو نکال کر لے آئے اور ان گرہوں کو کھول دیا،یوں لگا جیسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو رسی سے کھول دیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس چیز کا نہ اس یہودی سے ذکر کیااور نہ اس کے چہرے کی طرف دیکھا،یہاں تک کہ وہ مر گیا۔ [الفتح الربانی/أبواب السحر والكهانة والتنجيم/حدیث: 6806]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح بغير ھذه السياقة، وھذا اسناد فيه تدليس الاعمش، وسياقه الصحيح تقدم برقم (6803)، أخرجه النسائي: 7/ 112، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19267 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19482»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالی کے حکم سے جادو کا اثر ہو سکتا ہے اور یہ اثر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی ہو گیا تھا۔
ارشادِ باری تعالی ہے: {وَمَا ھُمْ بِضَارِّیْنَ بِہٖمِنْاَحَدٍاِلَّابِاِذْنِاللّٰہِ} … ”اور وہ جادو گر کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے، مگر اللہ تعالی کی مرضی کے ساتھ۔“ (سورۂ بقرہ: ۱۰۲) اس آیت کے مطابق اللہ تعالی کی مشیت کے مطابق کسی کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے، اللہ تعالی نے کسی کی بھی تخصیص نہیں کی۔
بعض بدعتی لوگوں نے ان احادیث کا انکار کر دیا ہے، جن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کے اثر انداز ہو جانے کا بیان ہے، ان کا نظریہیہ ہے کہ یہ چیز منصب ِ نبوت کے لائق نہیں ہے، اس سے تشکیک کی راہ کھلتی ہے اور شریعت کو نا قابل اعتبار ٹھہراتی ہے۔
لیکنیہ سارے خیالات مردود ہیں، ہم دلائل و براہین کے محتاج ہیں، جب اللہ تعالی اور اس کے رسول کے ارشادات و فرمودات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عصمت، صداقت اور حقانیت بیان کی گئی تو ہم نے تسلیم کیا اور جب ان ہی دلائل میں ان عوارض کو بیان کیا گیا، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو لاحق ہو سکتے ہیں تو ہمیں ان کو بھی تسلیم کرنا پڑے گا۔
دراصل بات یہ ہے کہ جیسے انبیاء و رسل کو دیگر انسانی عوارض لاحق ہوتے ہیں،یا ہو سکتے ہیں، اسی طرح وہ جادو سے بھی متأثر ہو سکتے ہیں، جیسا کہ فرعون کے دربار میں موسیg پر جادو کا اثر ہو گیا تھا، ارشادِ باری تعالی ہے: {قَالَ بَلْ
اَلْقُوْا فَاِذَا حِبَالُھُمْ وَعِصِیُّھُمْیُخَیَّلُ اِلَیْہِ مِنْ سِحْرِھِمْ اَنَّھَا تَسْعٰی (۶۶) فَاَوْجَسَ فِیْ نَفْسِہٖخِیْفَۃً مُّوْسٰی} (۶۷) ”موسیg نے کہا: نہیں، تم ہی پہلے ڈالو، اب تو موسیg کو یہ خیال گزرنے لگا کہ ان کی رسیاں اور لکڑیاں ان کے جادو کے زور سے دوڑ بھاگ رہی ہیں۔ پس موسی (g) نے اپنے دل ہی دل میں ڈر محسوس کیا۔“(سورۂ طہ: ۶۶)
اسی طرح یہودی لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کیا، جس کے کچھ اثرات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے محسوس کیے، اس سے بھی منصب ِ نبوت پر کوئی حرف نہیں آیا، کیونکہ اس سے کارِ نبوت متاثر نہیں ہوا، اللہ تعالی نے اپنے نبی کی حفاظت فرمائی اور جادو سے وحییا فریضۂ رسالت کی ادائیگی متاثر نہیں ہونے دی۔
جیسے دشمنوں نے غزوۂ احد کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خاصا جسمانی نقصان پہنچایا، اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مالی نقصان بھی ہو جاتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار بھی ہو جاتے تھے، ایک دفعہ گھوڑے سے گرنے کی وجہ سے زخمی ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو زہر دیا گیا اور اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف ہوئی، لوگوں کے ایمان نہ لانے کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پریشان ہو جاتے تھے، اسی طرح جادو سے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ متأثر ہو گئے تھے۔ بہرحال ہم قرآن حکیم اور احادیث ِ صحیحہ کے محتاج ہیں اور ان پر ہی اپنے نظریات کی بنیاد رکھتے ہیں۔
بعض روایات میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جادو کا عمل نکالنے کے لیے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بھیجا تھا اور بعض میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود تشریف لے گئے تھے، ان روایات میں جمع و تطبیق کییہ صورت ممکن ہے کہ پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بھیجا ہو اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود ان کے پیچھے روانہ ہو گئے ہوں، اس طرح سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے وہ عمل کنویں سے نکالا ہو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا مشاہدہ کر کے اس کو ختم کیا ہو اور پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یہ حکم دیا ہو کہ وہ اس کو دفنا دیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لبید بن عاصم سے انتقام نہیں لیایا اس کو سزا نہیں دی، ممکن ہے کہ فتنہ سے بچنے کے لیے اس کو سزا نہ دی گئی ہو، کیونکہیہ شخص بنو زریق قبیلے سے تھا، جو کہ خزرج قبیلے کی ایک شاخ تھی اور اسلام سے پہلے بہت زیادہ انصاریوں اور یہودیوں کے درمیان معاہدے کیے گئے تھے، اس لیے انتقامی کاروائی کرنے سے کوئی شرّ پھیل سکتا تھا، یہ ایسے ہی ہے، جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منافقوں کو قتل نہ کرنے کییہ وجہ بیان کی تھی: ((لَایَتَحَدَّثُ النَّاسُ اَنَّ مُحَمَّدًا یَقْتُلُ اَصْحَابَہٗ۔)) … ”کہیں ایسا نہ ہو کہ لوگ ایسی باتیں کرنا شروع کر دیں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) تو اپنے ساتھیوں کو بھی قتل کر دیتا ہے۔“ دوسری وجہ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ذات کی خاطر انتقام نہیں لیا کرتے تھے۔
یہ بھی ممکن ہے کہ اس وقت تک جادو گر کے بارے میں کوئی خاص سزا نازل نہ ہوئی ہو۔
ارشادِ باری تعالی ہے: {وَمَا ھُمْ بِضَارِّیْنَ بِہٖمِنْاَحَدٍاِلَّابِاِذْنِاللّٰہِ} … ”اور وہ جادو گر کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے، مگر اللہ تعالی کی مرضی کے ساتھ۔“ (سورۂ بقرہ: ۱۰۲) اس آیت کے مطابق اللہ تعالی کی مشیت کے مطابق کسی کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے، اللہ تعالی نے کسی کی بھی تخصیص نہیں کی۔
بعض بدعتی لوگوں نے ان احادیث کا انکار کر دیا ہے، جن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کے اثر انداز ہو جانے کا بیان ہے، ان کا نظریہیہ ہے کہ یہ چیز منصب ِ نبوت کے لائق نہیں ہے، اس سے تشکیک کی راہ کھلتی ہے اور شریعت کو نا قابل اعتبار ٹھہراتی ہے۔
لیکنیہ سارے خیالات مردود ہیں، ہم دلائل و براہین کے محتاج ہیں، جب اللہ تعالی اور اس کے رسول کے ارشادات و فرمودات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عصمت، صداقت اور حقانیت بیان کی گئی تو ہم نے تسلیم کیا اور جب ان ہی دلائل میں ان عوارض کو بیان کیا گیا، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو لاحق ہو سکتے ہیں تو ہمیں ان کو بھی تسلیم کرنا پڑے گا۔
دراصل بات یہ ہے کہ جیسے انبیاء و رسل کو دیگر انسانی عوارض لاحق ہوتے ہیں،یا ہو سکتے ہیں، اسی طرح وہ جادو سے بھی متأثر ہو سکتے ہیں، جیسا کہ فرعون کے دربار میں موسیg پر جادو کا اثر ہو گیا تھا، ارشادِ باری تعالی ہے: {قَالَ بَلْ
اَلْقُوْا فَاِذَا حِبَالُھُمْ وَعِصِیُّھُمْیُخَیَّلُ اِلَیْہِ مِنْ سِحْرِھِمْ اَنَّھَا تَسْعٰی (۶۶) فَاَوْجَسَ فِیْ نَفْسِہٖخِیْفَۃً مُّوْسٰی} (۶۷) ”موسیg نے کہا: نہیں، تم ہی پہلے ڈالو، اب تو موسیg کو یہ خیال گزرنے لگا کہ ان کی رسیاں اور لکڑیاں ان کے جادو کے زور سے دوڑ بھاگ رہی ہیں۔ پس موسی (g) نے اپنے دل ہی دل میں ڈر محسوس کیا۔“(سورۂ طہ: ۶۶)
اسی طرح یہودی لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کیا، جس کے کچھ اثرات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے محسوس کیے، اس سے بھی منصب ِ نبوت پر کوئی حرف نہیں آیا، کیونکہ اس سے کارِ نبوت متاثر نہیں ہوا، اللہ تعالی نے اپنے نبی کی حفاظت فرمائی اور جادو سے وحییا فریضۂ رسالت کی ادائیگی متاثر نہیں ہونے دی۔
جیسے دشمنوں نے غزوۂ احد کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خاصا جسمانی نقصان پہنچایا، اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مالی نقصان بھی ہو جاتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار بھی ہو جاتے تھے، ایک دفعہ گھوڑے سے گرنے کی وجہ سے زخمی ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو زہر دیا گیا اور اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف ہوئی، لوگوں کے ایمان نہ لانے کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پریشان ہو جاتے تھے، اسی طرح جادو سے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ متأثر ہو گئے تھے۔ بہرحال ہم قرآن حکیم اور احادیث ِ صحیحہ کے محتاج ہیں اور ان پر ہی اپنے نظریات کی بنیاد رکھتے ہیں۔
بعض روایات میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جادو کا عمل نکالنے کے لیے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بھیجا تھا اور بعض میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود تشریف لے گئے تھے، ان روایات میں جمع و تطبیق کییہ صورت ممکن ہے کہ پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بھیجا ہو اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود ان کے پیچھے روانہ ہو گئے ہوں، اس طرح سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے وہ عمل کنویں سے نکالا ہو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا مشاہدہ کر کے اس کو ختم کیا ہو اور پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یہ حکم دیا ہو کہ وہ اس کو دفنا دیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لبید بن عاصم سے انتقام نہیں لیایا اس کو سزا نہیں دی، ممکن ہے کہ فتنہ سے بچنے کے لیے اس کو سزا نہ دی گئی ہو، کیونکہیہ شخص بنو زریق قبیلے سے تھا، جو کہ خزرج قبیلے کی ایک شاخ تھی اور اسلام سے پہلے بہت زیادہ انصاریوں اور یہودیوں کے درمیان معاہدے کیے گئے تھے، اس لیے انتقامی کاروائی کرنے سے کوئی شرّ پھیل سکتا تھا، یہ ایسے ہی ہے، جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منافقوں کو قتل نہ کرنے کییہ وجہ بیان کی تھی: ((لَایَتَحَدَّثُ النَّاسُ اَنَّ مُحَمَّدًا یَقْتُلُ اَصْحَابَہٗ۔)) … ”کہیں ایسا نہ ہو کہ لوگ ایسی باتیں کرنا شروع کر دیں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) تو اپنے ساتھیوں کو بھی قتل کر دیتا ہے۔“ دوسری وجہ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ذات کی خاطر انتقام نہیں لیا کرتے تھے۔
یہ بھی ممکن ہے کہ اس وقت تک جادو گر کے بارے میں کوئی خاص سزا نازل نہ ہوئی ہو۔
الحكم على الحديث: صحیح