Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. بَابُ مَا جَاءَ فِي تَغْبِيْرِ الشَّيْبِ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ ونحوهما
سفید بالوں کو مہندی اور کتم (ایک پودا) وغیرہ سے رنگنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8207
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أَبَاهُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُ شَهِدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمَنْحَرِ وَرَجُلًا مِنْ قُرَيْشٍ وَهُوَ يَقْسِمُ أَضَاحِيَّ فَلَمْ يُصِبْهُ مِنْهَا شَيْءٌ وَلَا صَاحِبَهُ فَحَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ فِي ثَوْبِهِ فَأَعْطَاهُ فَقَسَمَ مِنْهُ عَلَى رِجَالٍ وَقَلَّمَ أَظْفَارَهُ فَأَعْطَاهُ صَاحِبَهُ قَالَ فَإِنَّهُ لَعِنْدَنَا مَخْضُوبٌ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ يَعْنِي شَعْرَهُ
۔ سیدنا عبداللہ بن زید بن عبدربہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں قربان گاہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر تھا، قریش کا ایک اور آدمی بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قربانی کے جانور تقسیم کر رہے تھے، نہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قربانی کا جانور لیا اور نہ اس آدمی نے لیا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا سر مبارک منڈوایا اور بال ایک کپڑے میں جمع کیے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ساتھی کو وہ بال دئیے، اس نے انہیں کچھ آدمیوں میں تقسیم کردیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ناخن بھی ترشوا کر اپنے ساتھی کو دئیے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وہ بال ابھی تک ہمارے پاس موجود ہیں، وہ مہندی اور وسمہ میں رنگے ہوئے ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الادب/حدیث: 8207]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة: 2932، والحاكم: 1/ 475، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16474 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16588»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8208
عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يَعْنِي طَارِقَ بْنَ أَشْيَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَسَأَلْتُهُ فَقَالَ كَانَ خِضَابُنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْوَرْسَ وَالزَّعْفَرَانَ
۔ سیدنا ابو مالک اشجعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی موجودگی میں ہمارا خضاب ورس بوٹی اور زعفران ہوتا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الادب/حدیث: 8208]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه البزار: 2975، والطبراني في الكبير: 8176، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15882 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15977»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8209
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَتْنِي أُمُّ غُرَابٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ بُنَانَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ مَا خَضَبَ عُثْمَانُ قَطُّ تَعْنِي عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
۔ بنا نہ بیان کرتی ہیں کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے کبھی بالوں کو رنگ نہیں لگایا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الادب/حدیث: 8209]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ام غراب طلحة لايعرف حالھا، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 538 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 538»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8210
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَخْضِبْ قَطُّ إِنَّمَا كَانَ الْبَيَاضُ فِي مُقَدَّمِ لِحْيَتِهِ وَفِي الْعَنْفَقَةِ وَفِي الرَّأْسِ وَفِي الصُّدْغَيْنِ شَيْئًا لَا يُكَادُ يُرَى وَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ خَضَبَ بِالْحِنَّاءِ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کبھی خضاب نہیں لگایا، بس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی داڑھی مبارک کے سامنے والے حصے میں، داڑھی بچے میں، کنپٹیوں میں اتنے معمولی بال سفید تھے کہ ان کو دیکھنا بھی مشکل ہوتا تھا، البتہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ مہندی سے رنگا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الادب/حدیث: 8210]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2341، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13263 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13296»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مہندی اور کتم وغیرہ لگانا یا نہ لگانا، اوپر دونوں قسم کی روایات گزری ہیں، مثبت کو منفی پر مقدم کیا جاتا ہے، یعنی جن صحابہ نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مہندی وغیرہ نہیں لگاتے تھے، ان کی بات کو ان کے علم پر ہی محمول کریں گے،یعنی ان کو رنگنے کا علم نہ ہو سکا، بہرحال ان روایات کا خلاصہ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے رنگنے اور نہ رنگنے، دونوں کا ثبوت ملتا ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. بَابُ كَرَاهَةِ تَغْيِيرِ الشَّيْبِ بِالسَّوَادِ
سفید بالوں کو کالا رنگ لگانے کی کراہت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8211
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَكُونُ قَوْمٌ فِي آخِرِ الزَّمَانِ يَخْضِبُونَ بِهَذَا السَّوَادِ قَالَ حُسَيْنٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَحَوَاصِلِ الْحَمَامِ لَا يَرِيحُونَ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آخری زمانہ میں کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو بالوں کو سیاہ رنگ سے رنگا کریں گے، جیسے کبوتروں کے سینے کے بال ہوتے ہیں، یہ لوگ جنت کی خوشبو بھی نہیں پائیں گے۔ [الفتح الربانی/كتاب الادب/حدیث: 8211]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه ابوداود: 4212، والنسائي: 8/ 138، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2470 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2470»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8212
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ خِضَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ شَابَ إِلَّا يَسِيرًا وَلَكِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بَعْدَهُ خَضَبَا بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ قَالَ وَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ بِأَبِيهِ أَبِي قُحَافَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ يَحْمِلُهُ حَتَّى وَضَعَهُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي بَكْرٍ لَوْ أَقْرَرْتَ الشَّيْخَ فِي بَيْتِهِ لَأَتَيْنَاهُ مَكْرُمَةً لِأَبِي بَكْرٍ فَأَسْلَمَ وَلِحْيَتُهُ وَرَأْسُهُ كَالثَّغَامَةِ بَيَاضًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ غَيِّرُوهُمَا وَجَنِّبُوهُ السَّوَادَ
۔ محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خضاب کے بارے میں سوال کیا گیا، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تو معمولی بال سفید ہوئے تھے، البتہ سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما آپ کے بعد مہندی اور کتم ملا کر خضاب لگایا کرتے تھے۔سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ اپنے باپ سیدنا ابو قحافہ رضی اللہ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے کر آئے، یہ فتح مکہ کے دن کی بات ہے، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے انہیں اٹھایا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے رکھ دیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم بزرگ کو ان کے گھر ہی ٹھہرنے دیتے تو ابو بکر کی عزت افزائی کے لیے ہم خود ہی ان کے پاس چلے جاتے۔ پھر ابو قحافہ نے اسلام قبول کیا، ان کی داڑھی اور سر کے بال ثغامہ بوٹی کی مانند سفید تھے، اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان دونوں کے رنگ کو تبدیل کر دو، البتہ سیاہی سے بچو۔ [الفتح الربانی/كتاب الادب/حدیث: 8212]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5894، ومسلم: 2341، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12635 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12662»
وضاحت: فوائد: … ثغامہ: ایک درخت جو پہاڑکی چوٹی پر اگتا ہے، اس کا پھل اور پھول سفید ہوتے ہیں، اور جب یہ خشک ہو جاتا ہے تو اس کی سفیدی بڑھ جاتی ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8213
وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ غَيِّرُوا الشَّيْبَ وَلَا تُقَرِّبُوهُ السَّوَادَ
۔ (دوسری سند) سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سفید بالوں کا رنگ تبدیل کر دو، البتہ سیاہی اس کے قریب نہ کرو۔ [الفتح الربانی/كتاب الادب/حدیث: 8213]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه البزار: 2980، وقد سلف بنحوه في الحديث السابق، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13588 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13623»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8214
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جِيءَ بِأَبِي قُحَافَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَوْمَ الْفَتْحِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَكَأَنَّ رَأْسَهُ ثَغَامَةٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اذْهَبُوا بِهِ إِلَى بَعْضِ نِسَائِهِ فَلْيُغَيِّرْهُ بِشَيْءٍ وَجَنِّبُوهُ السَّوَادَ
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ فتح مکہ والے دن سیدنا ابو قحافہ رضی اللہ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لایا گیا، ان کے سر کے بال ثغامہ بوٹی کی مانند سفید تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان کو ان کی کسی عورت کے پاس لے جاؤ، تاکہ وہ ان کے بالوں کو رنگ کر تبدیل کر دے، البتہ ان کو سیاہی سے بچاؤ۔ [الفتح الربانی/كتاب الادب/حدیث: 8214]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2102، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14402 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14455»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8215
حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ أَبِي الزَّنَادِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ الزَّنْجِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ رَأَيْتُ الزُّهْرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ صَابِغًا رَأْسَهُ بِالسَّوَادِ
۔ زنجی بیان کرتے ہیں میں نے امام زہری کو دیکھا، انہوں نے سر کے بالوں کو سیاہ رنگ کر رکھا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الادب/حدیث: 8215]
تخریج الحدیث: «ھذا الاثر صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16678 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16798»
وضاحت: فوائد: … امام زہری نے کہا: أمر النبی بالاصباغ، فأحلکھا أحب الینا۔ … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بالوں کو رنگنے کا حکم دیا اور مجھے سب سے زیادہ سخت سیاہ رنگ زیادہ پسند ہے۔ (مصنف عبد الرزاق: ۲۰۱۷۶)

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
6. بَابُ مَا جَاءَ فِي تَقْلِيمِ الْأَظافِرِ وَحَلْقِ الْعَانَةِ وَانْقَاءِ الرَّوَاحِب
ناخن تراشنے، زیرِ ناف بال مونڈنے اور انگلیوں کے جوڑوں کو صاف کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8216
عَنْ أَبِي وَاصِلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَقِيتُ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَصَافَحَنِي فَرَأَى فِي أَظْفَارِي طُولًا فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُ أَحَدُكُمْ عَنْ خَبَرِ السَّمَاءِ وَهُوَ يَدَعُ أَظْفَارَهُ كَأَظَافِرِ الطَّيْرِ يَجْتَمِعُ فِيهَا الْجَنَابَةُ وَالْخَبَثُ وَالتَّفَثُ وَلَمْ يَقُلْ وَكِيعٌ مَرَّةً الْأَنْصَارِيَّ قَالَ غَيْرُهُ أَبُو أَيُّوبَ الْعَتَكِيُّ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَبِي سَبَقَهُ لِسَانُهُ يَعْنِي وَكِيعًا فَقَالَ لَقِيتُ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ وَإِنَّمَا هُوَ أَبُو أَيُّوبَ الْعَتَكِيُّ
۔ ابو واصل کہتے ہیں: میں سیدنا ابو ایوب انصاری سے ملا،انہوں نے مجھ سے مصافحہ کیا اور جب میرے لمبے ناخن دیکھے تو کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم باتیں تو آسمان کی پوچھتے ہو، لیکن ناخن پرندوں کے ناخنوں کی مانند لمبے لمبے رکھتے ہو، ان میں جنابت، خباثت اور میل کچیل جمع ہو جاتی ہے۔ وکیع نے ایک بار ابو ایوب کے نام کے ساتھ انصاری کا لفظ نہیں کہا اور دوسرے راویوں نے ابو ایوب عتکی کہا ہے، ابو عبد الرحمن نے کہا: میرے باپ نے کہا: امام وکیع سے سبقت لسانی ہو گئی اور انھوں نے کہہ دیا کہ میں ابو ایوب انصاری کو ملا ہوں، جبکہ یہ تو ابو ایوب عتکی ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الادب/حدیث: 8216]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة ابي واصل، ثم انه مرسل، فان ابا ايوب ھذا ليس ھو الانصاري الصحابي فيما قاله غير واحد من اھل العلم، بل ھو تابعي ثقة، أخرجه الطيالسي: 599، والبيھقي: 1/ 175، والطبراني: 4086، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23542 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23938»
وضاحت: فوائد: … آسمان کی باتیں پوچھنے سے مراد شرعی حکم دریافت کرنا ہے، گویا کہ اس حدیث میں طنز کیا جا رہا ہے کہ شریعت کے مسائل ا س کو دریافت کرنے چاہئیں جو شرعی احکام پر عمل کر رہا ہو، یعنی عملی طور پر بھی شریعت کا پابند ہونا چاہیے اور مسائل بھی دریافت کرنے چاہئیں۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں