Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. بَابُ مَا جَاءَ فِي تَقْلِيمِ الْأَظافِرِ وَحَلْقِ الْعَانَةِ وَانْقَاءِ الرَّوَاحِب
ناخن تراشنے، زیرِ ناف بال مونڈنے اور انگلیوں کے جوڑوں کو صاف کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8217
يَزِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْمَعَافِرِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي غِفَارٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ لَمْ يَحْلِقْ عَانَتَهُ وَيُقَلِّمْ أَظْفَارَهُ وَيَجُزَّ شَارِبَهُ فَلَيْسَ مِنَّا
۔ یزید بن عمرو معافری کہتے ہیں کہ بنو غفار کے ایک آدمی سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو زیر ناف بال نہ مونڈے،ناخن نہ تراشے اور مونچھیں نہ کاٹے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الادب/حدیث: 8217]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23480 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23876»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8218
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قِيلَ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ أَبْطَأَ عَنْكَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَقَالَ وَلِمَ لَا يُبْطِئُ عَنِّي وَأَنْتُمْ حَوْلِي لَا تَسْتَنُّونَ وَلَا تُقَلِّمُونَ أَظْفَارَكُمْ وَلَا تَقُصُّونَ شَوَارِبَكُمْ وَلَا تُنَقُّونَ رَوَاجِبَكُمْ
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ سے ملاقات کرنے میں جبریل علیہ السلام نے تاخیر کر دی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ دیر کیوں نہ کریں، جبکہ تم میرے ارد گرد ہو، نہ تو تم مسواک کرتے ہو،نہ ناخن تراشتے ہو،نہ مونچھیں کاٹتے ہو اور نہ انگلیوں کی گرہوں کواچھی طرح دھوتے ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب الادب/حدیث: 8218]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ثعلبة بن مسلم الخثعمي لم يوثقه غير ابن حبان، وأبو كعب لايسمي ولا يعرف، أخرجه الطبراني في الكبير: 12224، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2181 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2181»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8219
عَنْ سَوَادَةَ بْنِ الرَّبِيعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتُهُ فَأَمَرَ لِي بِذَوْدٍ ثُمَّ قَالَ لِي إِذَا رَجَعْتَ إِلَى بَيْتِكَ فَمُرْهُمْ فَلْيُحْسِنُوا غِذَاءَ رِبَاعِهِمْ وَمُرْهُمْ فَلْيُقَلِّمُوا أَظْفَارَهُمْ وَلَا يَعْبِطُوا بِهَا ضُرُوعَ مَوَاشِيهِمْ إِذَا حَلَبُوا
۔ سیدنا سوادہ بن ربیع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اونٹ دینے کا حکم دیا اور فرمایا: جب تم اپنے گھر لوٹو تو انہیں حکم دینا کہ وہ موسم ربیع میں اونٹوں کے پیدا ہونے والے بچوں کی غذا اچھی دیں اور وہ اپنے ناخن بھی تراش کر رکھا کریں تا کہ جب وہ دودھ دوہیں تو ناخنوں سے مویشیوں کے تھن زخمی نہ کر دیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الادب/حدیث: 8219]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه الطبراني في الكبير: 6482، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15961 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16057»
وضاحت: فوائد: … اگر ناخن بڑے ہوں تو دودھ دوہتے وقت مویشی کو تکلیف ہو گی، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسے افراد کو ناخن کاٹ دینے کا حکم دیا ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
7. بَابُ جَوَاز إِنْخَاذِ الشَّعْرِ وَاكْرَامِهِ
بال رکھنے اور ان کو سنوارنے کے جواز کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8220
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ شَعْرُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَنْصَافِ أُذُنَيْهِ وَفِي لَفْظٍ لَا يُجَاوِزُ أُذُنَيْهِ
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بال نصف کانوں تک آتے تھے، ایک روایت میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بال آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کانوں سے تجاوز نہیں کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الادب/حدیث: 8220]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2338، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12118 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12142»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8221
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَعْرٌ يُصِيبُ وَفِي لَفْظٍ يَضْرِبُ مَنْكِبَيْهِ
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بال کندھوں تک آتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الادب/حدیث: 8221]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5903، 5904، ومسلم: 2338، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12175 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12199»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8222
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ شَعْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دُونَ الْجُمَّةِ وَفَوْقَ الْوَفْرَةِ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بال کندھوں سے اوپر اور کانوں سے نیچے تک ہوتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الادب/حدیث: 8222]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابوداود: 4187، والترمذي: 1755، وابن ماجه: 3635، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24871 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25383»
وضاحت: فوائد: … عربی میں سر کے لمبے بالوں کے لیے تین لفظ استعمال کیے جاتے ہیں:

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8223
عَنْ أُمِّ هَانِئٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ مَرَّةً وَلَهُ أَرْبَعُ غَدَائِرَ
۔ سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ میں آئے تو آپ کی چار مینڈھیاں تھیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الادب/حدیث: 8223]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني، أخرجه ابوداود: 4191، والترمذي: 1781، وابن ماجه: 3631، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26890 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27428»
وضاحت: فوائد: … بچوں کے بال قابو میں رکھنے کے لیے تو ان کی مینڈھیاں بنا دینا عام تھا، اس حدیث ِ مبارکہ سے ثابت ہوا کہ بڑے مرد بھی مینڈھیاں بنا سکتے ہیں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8224
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كَانَ الْمُشْرِكُونَ يَفْرُقُونَ رُءُوسَهُمْ وَكَانَ أَهْلُ الْكِتَابِ يَسْدِلُونَ قَالَ يَعْقُوبُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَشْعَارَهُمْ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ وَيُعْجِبُهُ مُوَافَقَةُ أَهْلِ الْكِتَابِ قَالَ يَعْقُوبُ فِي بَعْضِ مَا لَمْ يُؤْمَرْ قَالَ إِسْحَاقُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِيمَا لَمْ يُؤْمَرْ فِيهِ فَسَدَلَ نَاصِيَتَهُ ثُمَّ فَرَقَ بَعْدُ
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ مشرک اپنے بالوں کی مانگ نکالتے تھے اور اہل کتاب بالوں کو بغیر مانگ کے چھوڑ دیتے تھے، جب تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نیا اور خاص حکم نہیں دیا جاتا تھا، اس وقت تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اہل کتاب کی موافقت پسند فرماتے تھے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شروع میں بالوں کو پیشانی پر چھوڑے رکھا، پھر مانگ نکالنا شروع کر دیا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الادب/حدیث: 8224]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3558، 3944، ومسلم:2336، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2209 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2209»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8225
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَدَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَاصِيَتَهُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَسْدُلَهَا ثُمَّ فَرَقَ بَعْدُ
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جب تک چاہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے بالوں کو سیدھا چھوڑے رکھا، پھر مانگ نکالنا شروع کر دی۔ [الفتح الربانی/كتاب الادب/حدیث: 8225]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات رجال الشيخين غير حماد بن خالد فمن رجال مسلم، والصواب في ھذا الحديث الارسال، أخرجه الحاكم: 2/ 606، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13254 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13287»
وضاحت: فوائد: … عادات میں جب تک نہی نہ آئے، جواز قائم رہتا ہے، چونکہ مانگ نکالنے سے نہی وارد نہیں ہوئی، لہذا مانگ نکالنا جائز ہے اور نہ نکالنا بھی جائز ہے، کیونکہ نکالنے کا حکم بھی وارد نہیں ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مانگ نکالنا بھی ثابت ہے اور نہ نکالنا بھی، اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ اس کی بابت شریعت نے کوئی مخصوص حکم نہیں دیا، حالات کے تحت دونوں میں سے کسی کو بھی اختیار کیا جا سکتا ہے، ایسے مسائل میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اہل کتاب کی موافقت کرنا ان کی تالیف قلبی کے لیے تھا کہ شاید وہ اسلام کی طرف مائل ہو جائیں، مگر جب محسوس ہوا کہ ان کی موافقت مفید نہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی موافقت چھوڑ دی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اہل کتاب کی موافقت اس لیے بھی پسند تھی کہ وہ کم از کم، دعوے کی حد تک ہی سہی، سماوی دین پر عمل پیرا ہونے کے دعویدار تھے، اس کے برعکس مشرکین تو پکے بت پرست تھے۔ مانگ درمیان میںنکالنی چاہیے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عادت مبارکہ درمیان سے مانگ نکالنا ہی تھی۔ واللہ اعلم۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8226
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كُنْتُ إِذَا فَرَقْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ صَدَعْتُ فَرْقَهُ عَنْ يَافُوخِهِ وَأَرْسَلْتُ نَاصِيَتَهُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بالوں کی مانگ نکالا کرتی تھی تو آپ کے سر کی چوٹی سے بالوں کو دو حصوں میں تقسیم کر دیتی تھی اور پیشانی کے بال آپ کی آنکھوں کے درمیان یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشانی پر چھوڑ دیتی تھی۔ [الفتح الربانی/كتاب الادب/حدیث: 8226]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، أخرجه ابوداود: 4189،و ابن ماجه: 3633، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26355 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26887»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں