الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابُ: «وَتَأْتُونَ فِي نَادِيكُمُ الْمُنْكَرَ»
سورۂ قصص {اِنَّکَ لَا تَہْدِیْ مَنْ اَحْبَبْتَ}کی تفسیر
حدیث نمبر: 8697
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِعَمِّهِ قُلْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَشْهَدُ لَكَ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ لَوْلَا أَنْ تُعَيِّرَنِي قُرَيْشٌ يَقُولُونَ إِنَّمَا حَمَلَهُ عَلَى ذَلِكَ الْجَزَعُ لَأَقْرَرْتُ بِهَا عَيْنَكَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ} [القصص: 56] الْآيَةَ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے چچے سے فرمایا: لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کہہ دو، میں قیامت کے روز اس کی وجہ سے آپ کے حق میں گواہی دوں گا۔ لیکن انھوں نے کہا: اگر قریشی مجھے عار دلاتے ہوئے یہ نہ کہتے کہ بے صبری نے ابو طالب کو یہ کلمہ پڑھنے پر آمادہ کر دیا ہے تو میں یہ کلمہ ادا کر کے آپ کی آنکھ کو ٹھنڈا کر دیتا، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ وحی اتاری: {اِنَّکَ لَا تَہْدِیْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ یَہْدِیْ مَنْ یَّشَائُ وَہُوَ اَعْلَمُ بِالْمُہْتَدِیْنَ۔} … بے شک تو ہدایت نہیں دیتا جسے تو دوست رکھے اور لیکن اللہ ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور وہ ہدایت پانے والوں کو زیادہ جاننے والا ہے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة القصص إلى سورة الأحقاف/حدیث: 8697]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 25، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9610 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9608»
وضاحت: فوائد: … امام نووی نے کہا: اس پر مفسرین کا اتفاق ہے کہ {اِنَّکَ لَا تَہْدِیْ … } والی آیت ابوطالب کے بارے میںنازل ہوئی۔ اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ ہدایت صرف اللہ کے اختیار میں ہے اور کسی کا ہدایت قبول کرنا یا نہ کرنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قبضے کی چیز نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر تو صرف اللہ تعالی کا پیغام پہنچادینے کا فریضہ ہے، ہدایت کا مالک اللہ تعالی ہے، وہ اپنی حکمت کے ساتھ جسے چاہے قبولِ ہدایت کی توفیق بخشتا ہے۔ جیسے ارشادِ باری تعالی ہے: {لَیْسَ عَلَیْکَ ھُدٰھُمْ} … تیرے ذمہ ان کی ہدایت نہیں ہے۔ نیز ارشادِ باری تعالی ہے: {وَمَآ اَکْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِیْنَ} … گو تو ہر چند طمع کرے لیکن ان میں سے اکثر ایماندار نہیں ہوتے۔ یہ اللہ کے علم میں ہے کہ ہدایت کا مستحق کون ہے اور ضلالت کا حقدار کون ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
2. بَابُ: «الم غُلِبَتِ الرُّومُ»
سورۂ عنکبوت {وَتَاْتُوْنَ فِیْ نَادِیْکُمُ الْمُنْکَرَ}کی تفسیر
حدیث نمبر: 8698
عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ مَوْلَى أُمِّ هَانِئٍ عَنْ أُمِّ هَانِئٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَوْلِهِ تَعَالَى {وَتَأْتُونَ فِي نَادِيكُمْ الْمُنْكَرَ} [العنكبوت: 29] قَالَ كَانُوا يَخْذِفُونَ أَهْلَ الطَّرِيقِ وَيَسْخَرُونَ مِنْهُمْ فَذَلِكَ الْمُنْكَرُ الَّذِي كَانُوا يَأْتُونَ قَالَ رَوْحٌ فَذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى {وَتَأْتُونَ فِي نَادِيكُمْ الْمُنْكَرَ} [العنكبوت: 29]
۔ سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس آیت کے بارے میں پوچھا: {وَتَأْتُونَ فِی نَادِیکُمُ الْمُنْکَرَ} … (اے قوم لوط!) تم اپنی مجلسوں میں برائی کو آتے ہو۔ اس کی تفسیر کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ راہ گزرنے والوں کو پتھر مارتے تھے، ان سے ٹھٹھا مذاق کرتے تھے، یہ وہ برائی ہے، جس کا وہ اپنی مجلسوں میں ارتکاب کرتے تھے۔ روح راوی نے کہا: یہ صورت اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا مصداق ہے: {وَتَأْتُونَ فِی نَادِیکُمُ الْمُنْکَرَ} [الفتح الربانی/تفسير من سورة القصص إلى سورة الأحقاف/حدیث: 8698]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف ابي صالح مولي ام ھاني۔ أخرجه الترمذي: 3190، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26891 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27429»
وضاحت: فوائد: … ارشادِ باری تعالی ہے: {وَلُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِہٖٓاِنَّکُمْلَتَاْتُوْنَالْفَاحِشَۃَ مَا سَبَقَکُمْ بِہَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ۔ اَئِنَّکُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ وَتَقْطَعُوْنَ السَّبِیْلَ وَتَاْتُوْنَ فِیْ نَادِیْکُمُ الْمُنْکَرَ فَمَا کَانَ جَوَابَ قَوْمِہٖٓاِلَّآاَنْقَالُواائْتِنَابِعَذَابِاللّٰہِاِنْکُنْتَمِنَالصّٰدِقِیْنَ۔} (سورۂ عنکبوت: ۲۸، ۲۹)
اور ہم نے لوط (علیہ السلام) کو بھیجا جبکہ اس نے اپنی قوم سے کہا تم تو وہ فحش کام کرتے ہو جو تم سے پہلے دنیا والوں میں سے کسی نے نہیں کیا ہے۔ کیا تمہارا حال یہ ہے کہ مردوں کے پاس جاتے ہو، اور رہزنی کرتے ہو اور اپنی مجلسوں میں برے کام کرتے ہو؟ پھر کوئی جواب اس کی قوم کے پاس اس کے سوا نہ تھا کہ انہوں نے کہا لے آ اللہ کا عذاب اگر تو سچا ہے۔
اور ہم نے لوط (علیہ السلام) کو بھیجا جبکہ اس نے اپنی قوم سے کہا تم تو وہ فحش کام کرتے ہو جو تم سے پہلے دنیا والوں میں سے کسی نے نہیں کیا ہے۔ کیا تمہارا حال یہ ہے کہ مردوں کے پاس جاتے ہو، اور رہزنی کرتے ہو اور اپنی مجلسوں میں برے کام کرتے ہو؟ پھر کوئی جواب اس کی قوم کے پاس اس کے سوا نہ تھا کہ انہوں نے کہا لے آ اللہ کا عذاب اگر تو سچا ہے۔
الحكم على الحديث: ضعیف
3. بَابُ: «وَوَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ وَهُنَا عَلَى وَهْنٍ»
سورۂ روم کی تفسیر {الٓمٓ غُلِبَتِ الرُّوْمُ}کی تفسیر
حدیث نمبر: 8699
عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي قَوْلِهِ {الم غُلِبَتْ الرُّومُ} [الروم: 1-2] قَالَ غُلِبَتْ وَغَلَبَتْ قَالَ كَانَ الْمُشْرِكُونَ يُحِبُّونَ أَنْ تَظْهَرَ فَارِسُ عَلَى الرُّومِ لِأَنَّهُمْ أَهْلُ أَوْثَانٍ وَكَانَ الْمُسْلِمُونَ يُحِبُّونَ أَنْ تَظْهَرَ الرُّومُ عَلَى فَارِسَ لِأَنَّهُمْ أَهْلُ كِتَابٍ فَذَكَرُوهُ لِأَبِي بَكْرٍ فَذَكَرَهُ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَا إِنَّهُمْ سَيَغْلِبُونَ قَالَ فَذَكَرَهُ أَبُو بَكْرٍ لَهُمْ فَقَالُوا اجْعَلْ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ أَجَلًا فَإِنْ ظَهَرْنَا كَانَ لَنَا كَذَا وَكَذَا وَإِنْ ظَهَرْتُمْ كَانَ لَكُمْ كَذَا وَكَذَا فَجَعَلَ أَجَلًا خَمْسَ سِنِينَ فَلَمْ يَظْهَرُوا فَذَكَرَ ذَلِكَ أَبُو بَكْرٍ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَلَا جَعَلْتَهَا إِلَى دُونَ قَالَ أُرَاهُ قَالَ الْعَشْرَ قَالَ قَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ الْبِضْعُ مَا دُونَ الْعَشْرِ ثُمَّ ظَهَرَتْ الرُّومُ بَعْدُ قَالَ فَذَلِكَ قَوْلُهُ {الم غُلِبَتْ الرُّومُ} إِلَى قَوْلِهِ {وَيَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ بِنَصْرِ اللَّهِ} [الروم: 1-4]
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان {الٓمٓ غُلِبَتْ الرُّومُ} کے بارے میں کہتے ہیں: پہلے رومی مغلوب ہو گئے، پھر وہ غالب آ گئے، مشرکوں کو یہ بات پسند تھی کہ فارس والے رومیوںپر غالب آ جائیں، کیونکہ وہ بھی بت پرست تھے اور یہ بھی بت پرست تھے، لیکن مسلمان یہ چاہتے تھے کہ روم والے فارسیوں پرغالب آجائیں کیونکہ رومی اہل کتاب تھے، جب سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ سے اس کا ذکر ہواتو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ذکر کیا،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ عنقریب غالب آ جائیں گے۔ جب سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے یہ بات مشرکوں کو بتائی کہ رومی عنقریب غالب آئیں گے توانہوں نے کہا: تم ہم سے مدت مقرر کرو اور اگر ہم (شرک والے) غالب آ گئے تو ہمارے لیے اتنا اتنا مال ہو گا اور تم (کتاب والے) غالب آ گئے تو تمہیں اتنا اتنا مال دیا جائے گا، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ پانچ سال کی مدت مقرر کر دی، لیکن اس عرصے میں رومی غالب نہ آ سکے، پھر جب سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس شرط کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے اس سے زیادہ مدت کیوں نہیں رکھی۔ راوی کہتا ہے: میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دس سال کی بات کی تھی، سعید بن جبیر کہتے ہیں: بِضْع اطلاق دس سے کم پر ہوتا ہے، پھر اس کے بعد رومی غالب آ گئے، اسی کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: {الٓمّٓ۔ غُلِبَتِ الرُّوْمُ۔ فِیْٓ اَدْنَی الْاَرْضِ وَہُمْ مِّنْ بَعْدِ غَلَبِہِمْ سَیَغْلِبُوْنَ۔ فِیْ بِضْعِ سِنِیْنَ لِلّٰہِ الْاَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَمِنْ بَعْدُ وَیَوْمَیِذٍیَّفْرَحُ الْمُؤْمِنُوْنَ۔ } … رومی مغلوب ہوگئے۔ سب سے قریب زمین میں اور وہ اپنے مغلوب ہونے کے بعد عنقریب غالب آئیں گے۔ چند سالوں میں، سب کام اللہ ہی کے اختیار میں ہے، پہلے بھی اور بعد میں بھی اور اس دن مومن خوش ہوں گے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة القصص إلى سورة الأحقاف/حدیث: 8699]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه الترمذي: 3193، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2495 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2495»
وضاحت: فوائد: … بِضْع کا اطلاق تین سے نو افراد تک ہوتا ہے، اگرچہ پانچ کا عدد بھی اس میں داخل ہے، لیکن اگر سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نو دس برسوں کی شرط لگا لیتے تو اس میں زیادہ احتیاط تھی۔ حافظ ابن کثیر رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی تفسیر میں کہا: یہ آیتیں اس وقت نازل ہوئیں جبکہ نیشاپور کا شاہ فارس بلاد شام اور جزیرہ کے آس پاس کے شہروں پر غالب آگیا اور روم کا بادشاہ ہرقل تنگ آکر قسطنطیہ میں محصور ہوگیا، مدتوں محاصرہ رہا، آخر پانسہ پلٹا اور ہرقل کی فتح ہوگئی۔ مفصل بیان آگے آرہا ہے۔ مسند احمد میں ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اس آیت کے بارے میں مروی ہے کہ رومیوں کو شکست پر شکست ہوئی اور مشرکین نے اس پر بہت خوشیاں منائیں، اس لئے کہ جیسےیہ بت پرست تھے، ایسے ہی فارس والے بھی ان سے ملتے جلتے تھے اور مسلمانوں کی چاہت تھی کہ رومی غالب آئیں اس لئے کم از کم وہ اہل کتاب تو تھے، ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا رومی عنقریب پھر غالب آجائیں گے۔ صدیق اکبر نے مشرکین کو جب یہ خبر پہنچائی تو انہوں نے کہا آؤ کچھ شرط بدلو اور مدت مقرر کرلو اگر رومی اس مدت میں غالب نہ آئیں تو تم ہمیں اتنے اتنے دینار دینا اور اگر تم سچے نکلے تو ہم تمہیں اتنے اتنے دیں گے۔ پانچ سال کی مدت مقرر ہوئی وہ مدت پوری ہوگئی اور رومی غالب نہ آئے تو ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے خدمت نبوی میں یہ خبر پہنچائی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے دس سال کی مدت مقرر کیوں نہ کی۔ سعید بن جبیر کہتے ہیں: قرآن میں مدت کے لئے لفظ بِضْع استعمال ہوا ہے اور یہ دس سے کم پر بولا جاتا ہے، چنانچہ یہی ہوا بھی کہ دس سال کے اندر اندر رومی پھر غالب آگئے۔ اسی کا بیان اس آیت میں ہے۔ امام سفیان کہتے ہیں کہ بدر کی لڑائی کے بعد رومی بھی فارسیوں پر غالب آگئے۔
الحكم على الحديث: صحیح
4. بَابُ: «إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ»
سورۂ لقمان {وَوَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْہٖ حَمَلَتْہٗاُمُّہُوَھْنًاعَلٰی وَھْنٍ} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8700
عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَتْ أُمِّي أَلَيْسَ اللَّهُ يَأْمُرُكَ بِصِلَةِ الرَّحِمِ وَبِرِّ الْوَالِدَيْنِ وَاللَّهِ لَا آكُلُ طَعَامًا وَلَا أَشْرَبُ شَرَابًا حَتَّى تَكْفُرَ بِمُحَمَّدٍ فَكَانَتْ لَا تَأْكُلُ حَتَّى يَشْجُرُوا فَمَهَا بِعَصًا فَيَصُبُّوا فِيهِ الشَّرَابَ قَالَ شُعْبَةُ وَأُرَاهُ قَالَ وَالطَّعَامَ فَأُنْزِلَتْ {وَوَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ وَهْنًا عَلَى وَهْنٍ} حَتَّى بَلَغَ {بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ} [لقمان: 14-15]
۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میری والدہ نے مجھ سے کہا: کیا تجھے اللہ تعالیٰ نے صلہ رحمی اور والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم نہیں دیا، اللہ کی قسم! نہ میں کھاؤں گی اور نہ پانی کا گھونٹ پیوں گی، جب تک تو محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انکار نہیں کرے گا، پھر واقعتاً میری والدہ نے کھانا پینا چھوڑ دیا تھا، یہاں تک کہ لکڑی کے ذریعے اس کا منہ کھولا جاتا اورزبردستی اس کے منہ میں پانی ڈالتے، پس یہ آیت نازل ہوئی: {وَوَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْہِ حَمَلَتْہُ اُمُّہ وَہْنًا عَلٰی وَہْنٍ وَّفِصٰلُہ فِیْ عَامَیْنِ اَنِ اشْکُرْ لِیْ وَلِوَالِدَیْکَ اِلَیَّ الْمَصِیْرُ۔ وَاِنْ جَاہَدٰکَ عَلٰٓی اَنْ تُشْرِکَ بِیْ مَا لَیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ فَلَاتُطِعْہُمَاوَصَاحِبْہُمَافِی الدُّنْیَا مَعْرُوْفًا وَّاتَّبِعْ سَبِیْلَ مَنْ اَنَابَ اِلَیَّ ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُکُمْ فَاُنَبِّئُکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۔} (سورۂ لقمان: ۱۴،۱۵) اور حقیقت یہ ہے کہ ہم نے انسان کو اپنے والدین کا حق پہچاننے کی خود تاکید کی ہے۔ اس کی ماں نے اسے ضعف پر ضعف اٹھا کر اپنے پیٹ میں رکھا اور دو سال اس کے دودھ چھوٹنے میں لگے۔ (اسی لیےہم نے اس کو نصیحت کی کہ) میرا شکر کر اور اپنے والدین کا شکر بجا لا، میری ہی طرف تجھے پلٹنا ہے۔لیکن وہ اگر دباؤ ڈالیں کہ میرے ساتھ تو کسی ایسے کو شریک کرے جسے تو نہیں جانتا تو ان کی بات ہرگز نہ مان۔ دنیا میں ان کے ساتھ نیک برتاؤ کرتا رہ مگر پیروی اس شخص کے راستے کی کر جس نے میری طرف رجوع کیا ہے۔ پھر تم سب کو پلٹنا میری ہی طرف ہے،اس وقت میں تمہیں بتا دوں گا کہ کیسے عمل کرتے رہے ہو۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة القصص إلى سورة الأحقاف/حدیث: 8700]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1748، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1567 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1567»
وضاحت: فوائد: … اللہ تعالی ان آیات میں یہ فرما رہے ہیں کہ اگر تمہارے ماں باپ تمہیں اسلام کے سوا اور دین قبول کرنے کو کہیں، اگرچہ وہ تمام تر طاقت خرچ کر ڈالیں، خبردار! تم ان کی مان کر میرے ساتھ ہرگز شریک نہ کرنا۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ تم ان کے ساتھ سلوک واحسان کرنا چھوڑ دو،دنیوی حقوق جو تمہارے ذمہ ان کے ہیں، ادا کرتے رہو، ایسی باتیں ان کی نہ مانو بلکہ ان کی تابعداری کرو جو میری طرف رجوع کرچکے ہیں، سن لو تم سب لوٹ کر ایک دن میرے سامنے آنے والے ہو اس دن میں تمہیں تمہارے تمام تر اعمال کی خبر دونگا۔ حافظ ابن کثیر نے (کتاب العشرہ للطبرانی) کا حوالہ دے کر یہ روایت ذکر کی ہے: سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی ہے، میں اپنی ماں کی بہت خدمت کیا کرتا تھا اور ان کا پورا اطاعت گزار تھا۔ جب مجھے اللہ نے اسلام کی طرف ہدایت کی تو میری والدہ مجھ پر بہت بگڑیں اور کہنے لگی: بچے یہ نیا دین تو نے کہاں سے نکال لایا۔ سنو میں تمہیں حکم دیتی ہوں کہ اس دین سے دستبردار ہو جاؤ،ورنہ میں نہ کھاؤں گی، نہ پیوںگی اور یونہی بھوکی مرجاؤں گی۔ میں نے تو اسلام کو چھوڑا نہیں، لیکن میری ماں نے واقعی کھانا پینا ترک کردیا اور ہر طرف سے مجھ پر آوازہ کشی ہونے لگی کہ یہ اپنی ماں کا قاتل ہے۔ میں دل میں بہت ہی تنگ ہوا اور اپنی والدہ کی خدمت میں باربار عرض کیا، خوشامدیں کیں، سمجھایا کہ اللہ کے لئے اپنی ضد سے باز آجاؤ، یہ تو ناممکن ہے کہ میں اس سچے دین کو چھوڑ دوں۔ اسی ضد میں میری والدہ پر تین دن کا فاقہ گذرگیا اور اس کی حالت بہت ہی خراب ہوگئی، میں پھر اس کے پاس گیا اور میں نے کہا: میری اچھی اماں جان! سنو تم مجھے میری جان سے زیادہ عزیز ہو، لیکن میرے دین سے زیادہ عزیز نہیں ہو۔ اللہ کی قسم! ایک نہیں، تمہاری ایک سوجانیں بھی ہوں اور اسی بھوک پیاس میں ایک ایک کرکے سب نکل جائیں، تو بھی میں آخری لمحہ تک اپنے سچے دین اسلام کو نہ چھوڑوں گا۔ اب میری ماں مایوس ہو چکی تھی اور کھانا پینا شروع کردیا تھا۔
الحكم على الحديث: صحیح
5. بَابُ: «تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ»
{اِنَّ اللّٰہَ عِنْدَہٗعِلْمُالسَّاعَۃِ} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8701
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي حَدِيثِ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَنَّهُ قَالَ لِلنَّبِيِّ فَحَدِّثْنِي مَتَى السَّاعَةُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سُبْحَانَ اللَّهِ فِي خَمْسٍ مِنَ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهُنَّ إِلَّا هُوَ إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ [سورة لقمان: ٣٤]
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کی جبریل علیہ السلام والی حدیث میں آتا ہے کہ جبریل علیہ السلام نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: مجھے بتاؤ کہ قیامت کب آئے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سبحان اللہ! (بڑا تعجب ہے)، غیب کی پانچ چیزیں صرف اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: {إِنَّ اللّٰہَ عِنْدَہُ عِلْمُ السَّاعَۃِ وَیُنَزِّلُ الْغَیْثَ وَیَعْلَمُ مَا فِی الْأَ رْحَامِ وَمَا تَدْرِی نَفْسٌ مَاذَا تَکْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِی نَفْسٌ بِأَ یِّ أَ رْضٍ تَمُوتُ، إِنَّ اللّٰہَ عَلِیمٌ خَبِیرٌ} … قیامت کا علم اللہ ہی کے پاس ہے، وہی بارش برساتا ہے، وہی جانتا ہے کہ ماؤں کے پیٹوں میں کیا پرورش پا رہا ہے، کوئی متنفس نہیں جانتا کہ کل وہ کیا کمائی کرنے والا ہے اور نہ کسی شخص کو یہ خبر ہے کہ کس سرزمین میں اس کی موت آنی ہے، اللہ ہی سب کچھ جاننے والا اور باخبر ہے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة القصص إلى سورة الأحقاف/حدیث: 8701]
تخریج الحدیث: «حديث حسن۔ أخرجه البزار: 24، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2926 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2926»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8702
عَنْ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ خَمْسٌ لَا يَعْلَمُهُنَّ إِلَّا اللَّهُ تَعَالَى إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ [سورة لقمان: ٣٤]
۔ سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پانچ چیزوں کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے: {إِنَّ اللّٰہَ عِنْدَہُ عِلْمُ السَّاعَۃِ وَیُنَزِّلُ الْغَیْثَ وَیَعْلَمُ مَا فِی الْأَ رْحَامِ وَمَا تَدْرِی نَفْسٌ مَاذَا تَکْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِینَفْسٌ بِأَ یِّ أَ رْضٍ تَمُوتُ، إِنَّ اللّٰہَ عَلِیمٌ خَبِیرٌ} … بے شک اللہ، اسی کے پاس قیامت کا علم ہے اور وہ بارش برساتا ہے اور وہ جانتا ہے جو کچھ ماؤں کے پیٹوں میں ہے اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کمائی کرے گا اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کس زمین میں مرے گا۔ بے شک اللہ سب کچھ جاننے والا، پوری خبر رکھنے والا ہے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة القصص إلى سورة الأحقاف/حدیث: 8702]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه البزار: 2249، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22986 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23374»
وضاحت: فوائد: … صرف اللہ تعالی غیب کا علم جانتا ہے، اس آیت میں پانچ غیبی امور کا بیان ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
6. بَابُ: «وَلَنُذِيقَنَّهُم مِّنَ الْعَذَابِ الْأَدْنَىٰ دُونَ الْعَذَابِ الْأَكْبَرِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ»
سورۂ سجدہ {تَتَجَافٰی جُنُوْبُہُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8703
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ [سورة السجدة: ١٦] قَالَ قِيَامُ الْعَبْدِ مِنَ اللَّيْلِ
۔ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی: {تَتَجَافٰی جُنُوْبُہُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوْنَ رَبَّہُمْ خَوْفًا وَّطَمَعًا ْ وَّمِمَّا رَزَقْنٰہُمْ یُنْفِقُوْنَ۔} … ان کے پہلو بستروں سے جدا رہتے ہیں، وہ اپنے رب کو ڈرتے ہوئے اور طمع کرتے ہوئے پکارتے ہیں اور ہم نے انھیں جو کچھ دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس سے مراد بندے کا رات کو قیام کرنا ہے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة القصص إلى سورة الأحقاف/حدیث: 8703]
تخریج الحدیث: «صحيح بطرقه وشواھده۔ أخرجه الطبري في تفسيره: 21/ 103، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:22022 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22372»
الحكم على الحديث: صحیح
7. بَابُ: «مَّا جَعَلَ اللَّهُ لِرَجُلٍ مِّن قَلْبَيْنِ فِي جَوْفِهِ»
{وَلَنُذِیْقَنَّہُمْ مِنَ الْعَذَابِ الْاَدْنٰی دُوْنَ الْعَذَابِ الْاَکْبَرِ} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8704
عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي هَذِهِ الْآيَةِ وَلَنُذِيقَنَّهُمْ مِنَ الْعَذَابِ الْأَدْنَى دُونَ الْعَذَابِ الْأَكْبَرِ [سورة السجدة: ٢١] قَالَ الْمُصِيبَاتُ وَالدُّخَانُ قَدْ مَضَيَا وَالْبَطْشَةُ وَاللِّزَامُ
۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اس آیت {وَلَنُذِیْقَنَّہُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْاَدْنٰی دُوْنَ الْعَذَابِ الْاَکْبَرِ لَعَلَّہُمْ یَرْجِعُوْنَ۔} … اور یقینا ہم انھیں قریب ترین عذاب کا کچھ حصہ سب سے بڑے عذاب سے پہلے ضرور چکھائیں گے، تاکہ وہ پلٹ آئیں۔ سے مراد مختلف مصائب ہیں، دھواں، بطشہ، لزام، یہ سب گزر چکے ہیں۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة القصص إلى سورة الأحقاف/حدیث: 8704]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2799، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21173 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21492»
وضاحت: فوائد: … دھواں اور بطشہ: دیکھیں حدیث نمبر (۸۷۴۸)
لزام: ارشادِ باری تعالی ہے: {قُلْ مَا یَعْبَؤُا بِکُمْ رَبِّیْ لَوْلَا دُعَاؤُکُمْ فَقَدْ کَذَّبْتُمْ فَسَوْفَ یَکُوْنُ
لِزَامًا۔} … کہہ میرا رب تمھاری پروا نہیں کرتا اگر تمھارا پکارنا نہ ہو، سو بے شک تم نے جھٹلا دیا، تو عنقریب (اس کا انجام) چمٹ جانے والا ہوگا۔ (سورۂ فرقان: ۷۷)
کافروں کا یہ انجام دنیا میں بدر میںشکست کی صورت میں ان کو مل چکا ہے اور آخرت میںجہنم کے دائمی عذاب سے بھی انہیں دوچار ہونا پڑے گا۔
لزام: ارشادِ باری تعالی ہے: {قُلْ مَا یَعْبَؤُا بِکُمْ رَبِّیْ لَوْلَا دُعَاؤُکُمْ فَقَدْ کَذَّبْتُمْ فَسَوْفَ یَکُوْنُ
لِزَامًا۔} … کہہ میرا رب تمھاری پروا نہیں کرتا اگر تمھارا پکارنا نہ ہو، سو بے شک تم نے جھٹلا دیا، تو عنقریب (اس کا انجام) چمٹ جانے والا ہوگا۔ (سورۂ فرقان: ۷۷)
کافروں کا یہ انجام دنیا میں بدر میںشکست کی صورت میں ان کو مل چکا ہے اور آخرت میںجہنم کے دائمی عذاب سے بھی انہیں دوچار ہونا پڑے گا۔
الحكم على الحديث: صحیح
8. بَابُ: «أدْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ»
سورۂ احزاب {مَاجَعَلَ اللّٰہُ لِرَجُلٍ مِنْ قَلْبَیْنِ فِیْ جَوْفِہٖ}کی تفسیر
حدیث نمبر: 8705
عَنْ قَابُوسَ بْنِ أَبِي ظَبْيَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أَبَاهُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُ قَالَ قُلْنَا لِابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَرَأَيْتَ قَوْلَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مَا جَعَلَ اللَّهُ لِرَجُلٍ مِنْ قَلْبَيْنِ فِي جَوْفِهِ [سورة الأحزاب: ٤] مَا عَنَى بِذَلِكَ قَالَ قَامَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا يُصَلِّي قَالَ فَخَطَرَ خَطْرَةً فَقَالَ الْمُنَافِقُونَ الَّذِينَ يُصَلُّونَ مَعَهُ أَلَا تَرَوْنَ لَهُ قَلْبَيْنِ قَالَ قَلْبٌ مَعَكُمْ وَقَلْبٌ مَعَهُمْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَا جَعَلَ اللَّهُ لِرَجُلٍ مِنْ قَلْبَيْنِ فِي جَوْفِهِ
۔ ابو ظبیان کہتے ہیں: ہم نے سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: آپ بتائیں کہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا کیا مطلب ہے: {مَا جَعَلَ اللّٰہُ لِرَجُلٍ مِنْ قَلْبَیْنِ فِی جَوْفِہِ} … اللہ تعالیٰ نے کسی آدمی کے پیٹ میں دو دل نہیں بنائے۔ اس سے کیا مراد ہے؟ انھوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک دن نماز پڑھ رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وسوسہ ہوا، جو منافق آپ کے ساتھ نماز پڑھتے تھے، انھوں نے کہا: آپ کے دو دل ہیں، ایک تمہارے یعنی منافقوں کے ساتھ اور ایک اپنے صحابہ کے ساتھ، تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی کہ {مَا جَعَلَ اللّٰہُ لِرَجُلٍ مِنْ قَلْبَیْنِ فِی جَوْفِہِ}۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة القصص إلى سورة الأحقاف/حدیث: 8705]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، قابوس ليّن،يكتب حديثه ولا يحتج به۔ أخرجه الطبراني: 12611، والبيھقي: 1/ 39، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2410 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2410»
وضاحت: فوائد: … اس آیت کی توضیح و تفسیر کے لیے مختلف اقوال پیش کیے گئے ہیں، مثال کے طور پر:
(۱) ایک منافق یہ دعوی کرتا تھا کہ اس کے دو دل ہیں، ایک دل مسلمانوں کے ساتھ ہے اور دوسرا کفر اور کافروں کے ساتھ، اللہ تعالی نے اس آیت میں اس کی تردید کی۔
(۲) مشرکین میں سے ایک شخص جمیل بن معمر فہر تھا، وہ بڑا ہوشیار،، مکار اور نہایت تیز طرار تھا، اس کا دعوییہ تھا کہ
اس کے دو دل ہیں، جن سے وہ سوچتا ہے، جب کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ایک دل ہے، اس آیت کے ذریعے اس کے اس نظریہ کا ردّ کیا گیا۔
(۳) آیت کے اس ٹکڑے سے آگے جو دو مسئلے بیان ہو رہے ہیں،یہ دراصل ان کی تمہید ہے، وہ دو مسئلے یہ ہیں: ظہار اور لے پالک بیٹوں کی حقیقت،یعنی جس طرح ظہار کے ذریعے دو مائیں نہیں بن سکتیں، اس طرح حقیقی اور لے پالک بیٹا، دو ایک حکم میں نہیں آسکتے، بالکل ایسے ہی جیسے ایک سینے میں دو دل نہیں ہو سکتے۔
(۱) ایک منافق یہ دعوی کرتا تھا کہ اس کے دو دل ہیں، ایک دل مسلمانوں کے ساتھ ہے اور دوسرا کفر اور کافروں کے ساتھ، اللہ تعالی نے اس آیت میں اس کی تردید کی۔
(۲) مشرکین میں سے ایک شخص جمیل بن معمر فہر تھا، وہ بڑا ہوشیار،، مکار اور نہایت تیز طرار تھا، اس کا دعوییہ تھا کہ
اس کے دو دل ہیں، جن سے وہ سوچتا ہے، جب کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ایک دل ہے، اس آیت کے ذریعے اس کے اس نظریہ کا ردّ کیا گیا۔
(۳) آیت کے اس ٹکڑے سے آگے جو دو مسئلے بیان ہو رہے ہیں،یہ دراصل ان کی تمہید ہے، وہ دو مسئلے یہ ہیں: ظہار اور لے پالک بیٹوں کی حقیقت،یعنی جس طرح ظہار کے ذریعے دو مائیں نہیں بن سکتیں، اس طرح حقیقی اور لے پالک بیٹا، دو ایک حکم میں نہیں آسکتے، بالکل ایسے ہی جیسے ایک سینے میں دو دل نہیں ہو سکتے۔
الحكم على الحديث: ضعیف
9. بَابُ: «مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا الله عليه» الآية
{اُدْعُوْھُمْ لِآبَائِہِمْ ھُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰہِ} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8706
عَنْ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ الْكَلْبِيِّ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا كَانَ يَقُولُ مَا كُنَّا نَدْعُوهُ إِلَّا زَيْدَ بْنَ مُحَمَّدٍ حَتَّى نَزَلَ الْقُرْآنُ ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ [سورة الأحزاب: ٥]
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ہم زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو زید بن محمد پکارا کرتے تھے، یہاں تک کہ قرآن مجید کا یہ حصہ نازل ہوا: {اُدْعُوْھُمْ لِآبَائِہِمْ ھُوَاَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰہِ} … تم ان کو ان کے باپوں کی نسبت سے پکارو، یہ اللہ تعالیٰ کے ہاں زیادہ انصاف کی بات ہے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة القصص إلى سورة الأحقاف/حدیث: 8706]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4782، ومسلم: 2425، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5479 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5479»
الحكم على الحديث: صحیح