Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
17. بَابُ: «يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيُّ ....»
{لَا یَحِلُّ لَکَ النِّسَائُ مِنْ بَعْدُ …} کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8717
عَنْ زِيَادٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ لِأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَوْ مِتْنَ نِسَاءُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كُلُّهُنَّ كَانَ يَحِلُّ لَهُ أَنْ يَتَزَوَّجَ قَالَ وَمَا يُحَرِّمُ ذَاكَ عَلَيْهِ قَالَ قُلْتُ لِقَوْلِهِ لَا يَحِلُّ لَكَ النِّسَاءُ مِنْ بَعْدُ [سورة الأحزاب: ٥٢] قَالَ إِنَّمَا أُحِلَّ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ضَرْبٌ مِنَ النِّسَاءِ
۔ زیاد انصاری سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے کہا: اگر بالفرض نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تمام بیویاں فوت ہوجاتیں تو کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے پھر بھی نکاح کرنا حلال نہ تھا؟ انھوں نے کہا: آپ پر نکاح کرنا حرام کب ہوا ہے؟ میں نے کہا: اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے { لَا یَحِلُّ لَکَ النِّسَاءُ مِنْ بَعْدُ}۔ انھوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے ایک قسم کی عورتیں حلال تھیں۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة القصص إلى سورة الأحقاف/حدیث: 8717]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، زياد الانصاري مجھول، ومحمد بن ابي موسي كذالك۔ أخرجه الطبراني: 22/ 29، والدارمي: 2240، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21208 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21527»
وضاحت: فوائد: … پہلے اس آیت کا مفہوم گزر چکا ہے۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8718
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ مَا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أُحِلَّ لَهُ النِّسَاءُ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات سے پہلے آپ کے لئے مزید عورتوں سے نکاح کرنا حلال کردیا گیا تھا۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة القصص إلى سورة الأحقاف/حدیث: 8718]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني۔ أخرجه الترمذي: 3216، والنسائي: 6/ 56، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24137 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24638»
وضاحت: فوائد: … دیکھیں حدیث نمبر (۸۷۱۴) اور اس کے فوائد۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
18. بَابُ: «‏‏‏‏إِنَّ الله وَمَلائِكَةَ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ .....»
{یَاَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتَ النَّبِیِّ …}کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8719
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا تَزَوَّجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ زَيْنَبَ أَهْدَتْ إِلَيْهِ أُمُّ سُلَيْمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا حَيْسًا فِي تَوْرٍ مِنْ حِجَارَةٍ قَالَ أَنَسٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَاذْهَبْ فَادْعُ مَنْ لَقِيتَ فَجَعَلُوا يَدْخُلُونَ يَأْكُلُونَ وَيَخْرُجُونَ وَوَضَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ عَلَى الطَّعَامِ وَدَعَا فِيهِ وَقَالَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ وَلَمْ أَدَعْ أَحَدًا لَقِيتُهُ إِلَّا دَعَوْتُهُ فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا وَخَرَجُوا فَبَقِيَتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ فَأَطَالُوا عَلَيْهِ الْحَدِيثَ فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَسْتَحْيِي مِنْهُمْ أَنْ يَقُولَ لَهُمْ شَيْئًا فَخَرَجَ وَتَرَكَهُمْ فِي الْبَيْتِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلَّا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَى طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ وَلَكِنْ إِذَا دُعِيتُمْ فَادْخُلُوا حَتَّى بَلَغَ لِقُلُوبِكُمْ وَقُلُوبِهِنَّ [سورة الأحزاب: ٥٣]
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ زینب رضی اللہ عنہا سے شادی کی تو سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے پتھر کے ایک تھال میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے حیس بطور تحفہ بھیجا، سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ فرمایا: جاؤ اور جو بھی ملے اس کو بلا لاؤ۔ پس لوگوں نے داخل ہونا اور کھانا شروع کر دیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھانے پر اپنا ہاتھ مبارک رکھا،اس پر برکت کی دعا کی اور جو اللہ کو منظور تھا، اس پرپڑھا، اُدھر میں نے بھی کسی کونہیں چھوڑا، مگر اس کو دعوت دی، لوگوں نے کھانا کھایا اور سیر ہوئے اور باہر نکل گئے، لیکن ان میں سے کچھ لوگ اندر ہی بیٹھ کر گپیں لگاتے رہے، اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو کچھ کہنے سے شرماتے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر سے باہر تشریف لے گئے اور ان کو گھر میں چھوڑ دیا، پس اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل کیا: {یَا أَ یُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوتَ النَّبِیِّ … … لِقُلُوبِکُمْ وَقُلُوبِہِنَّ} [الفتح الربانی/تفسير من سورة القصص إلى سورة الأحقاف/حدیث: 8719]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم 1428، وعلقه البخاري: 5163، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12669 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12698»
وضاحت: فوائد: … پوری آیتیوں ہے: {یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتَ النَّبِیِّ اِلَّآ اَنْ یُّؤْذَنَ لَکُمْ اِلٰی طَعَامٍ غَیْرَ نٰظِرِیْنَ اِنٰیہُ وَلٰکِنْ اِذَا دُعِیْتُمْ فَادْخُلُوْا فَاِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوْا وَلَا مُسْـتَاْنِسِیْنَ لِحَدِیْثٍ اِنَّ ذٰلِکُمْ کَانَ یُؤْذِی النَّبِیَّ فَیَسْتَحْیٖ مِنْکُمْ وَاللّٰہُ لَا یَسْتَحْیٖ مِنَ الْحَقِّ وَاِذَا سَاَلْتُمُوْہُنَّ مَتَاعًا فَسْئَلُوْہُنَّ مِنْ وَّرَاء ِ حِجَابٍ ذٰلِکُمْ اَطْہَرُ لِقُلُوْبِکُمْ وَقُلُوْبِہِنَّ} (سورۂ احزاب: ۵۳)
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نبی کے گھروں میں مت داخل ہو مگر یہ کہ تمھیں کھانے کی طرف اجازت دی جائے، اس حال میں کہ اس کے پکنے کا انتظار کرنے والے نہ ہو اور لیکن جب تمھیں بلایا جائے تو داخل ہو جاؤ، پھر جب کھا چکو تو
منتشر ہو جاؤ اور نہ (بیٹھے رہو) اس حال میں کہ بات میں دل لگانے والے ہو۔ بے شک یہ بات ہمیشہ سے نبی کو تکلیف دیتی ہے، تو وہ تم سے شرم کرتا ہے اور اللہ حق سے شرم نہیں کرتا اور جب تم ان سے کوئی سامان مانگو تو ان سے پردے کے پیچھے سے مانگو، یہ تمھارے دلوں اور ان کے دلوں کے لیے زیادہ پاکیزہ ہے۔
اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک ادب کا ذکر ہے کہ جب بھی صحابہ کو کھانے پینے کے لیےیا کسی اور کام کے لیے بلایا جائے تو وہ اجازت کے بغیر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر میں داخل نہ ہو اور کام پورا ہو جانے کے بعد فوراً اپنے اپنے گھروں کو چلے جائیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر میں بیٹھے باتیں مت کرتے رہا کریں۔ ہمیشہ مہمان کو اپنے میزبان کے ساتھ اس ادب کے ساتھ پیش آنا چاہیے۔ حَیْس: کھجور، پینر (یا ستو) اور گھی سے تیار کیا ہوا کھانا

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8720
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ دَعَوْتُ الْمُسْلِمِينَ إِلَى وَلِيمَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَبِيحَةَ بَنَى بِزَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَأَشْبَعَ الْمُسْلِمِينَ خُبْزًا وَلَحْمًا قَالَ ثُمَّ رَجَعَ كَمَا كَانَ يَصْنَعُ فَأَتَى حُجَرَ نِسَائِهِ فَسَلَّمَ عَلَيْهِنَّ فَدَعَوْنَ لَهُ قَالَ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى بَيْتِهِ وَأَنَا مَعَهُ فَلَمَّا انْتَهَى إِلَى الْبَيْتِ فَإِذَا رَجُلَانِ قَدْ جَرَى بَيْنَهُمَا الْحَدِيثُ فِي نَاحِيَةِ الْبَيْتِ فَلَمَّا بَصَرَ بِهِمَا وَلَّى رَاجِعًا فَلَمَّا رَأَى الرَّجُلَانِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ وَلَّى عَنْ بَيْتِهِ قَامَا مُسْرِعَيْنِ فَلَا أَدْرِي أَنَا أَخْبَرْتُهُ أَوْ أُخْبِرَ بِهِ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى مَنْزِلِهِ وَأَرْخَى السِّتْرَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ وَأُنْزِلَتْ آيَةُ الْحِجَابِ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے جس صبح نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے ساتھ رخصتی کے بعد ولیمہ کیا تھا، میں نے لوگوں کواس میں شمولیت کی دعوت دی تھی، آپ نے لوگوں کو روٹی اور گوشت سے سیر کیا، پھر آپ لوٹے جس طرح اپنی بیویوں کے حجروں میں لوٹتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان پر سلام کیا اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے دعا کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے گھر کی طرف لوٹے، میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر تک پہنچے تو ابھی تک ایک کونے میں دو آدمی آپس میں باتیں کر رہے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس چلے گئے، جب ان دو آدمیوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر سے بہت تیزی کے ساتھ باہر نکل گئے، اب میں نہیں جانتا کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان کے چلے جانے کی خبر دی یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اطلاع دی گئی تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے گھر کی طرف لوٹے اور میرے اور اپنے درمیان پردہ لٹکا لیا اور پردہ والی آیت نازل ہوئی۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة القصص إلى سورة الأحقاف/حدیث: 8720]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5154، ومسلم: 1428، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12023 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12046»
وضاحت: فوائد: … پردہ والی آیت سے مراد درج ذیل آیت ہے: {یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتَ النَّبِیِّ اِلَّآ اَنْ یُّؤْذَنَ لَکُمْ اِلٰی طَعَامٍ غَیْرَ نٰظِرِیْنَ اِنٰیہُ وَلٰکِنْ اِذَا دُعِیْتُمْ فَادْخُلُوْا فَاِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوْا وَلَا مُسْـتَاْنِسِیْنَ لِحَدِیْثٍ اِنَّ ذٰلِکُمْ کَانَ یُؤْذِی النَّبِیَّ فَیَسْتَحْیٖ مِنْکُمْ ْ وَاللّٰہُ لَا یَسْتَحْیٖ مِنَ الْحَقِّ وَاِذَا سَاَلْتُمُوْہُنَّ مَتَاعًا فَسْئَلُوْہُنَّ مِنْ وَّرَآئِ حِجَابٍ ذٰلِکُمْ اَطْہَرُ لِقُلُوْبِکُمْ وَقُلُوْبِہِنَّ وَمَا کَانَ لَکُمْ اَنْ تُؤْذُوْا رَسُوْلَ اللّٰہِ وَلَآ اَنْ تَنْکِحُوْٓا اَزْوَاجَہ مِنْ بَعْدِہٖٓاَبَدًااِنَّذٰلِکُمْکَانَعِنْدَاللّٰہِعَظِیْمًا۔}
(سورۂ احزاب: ۵۳)
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھروں میں بلا اجازت نہ چلے آیا کرو،نہ کھانے کا وقت تاکتے رہو۔ ہاں اگر تمہیں کھانے پر بلایا جائے تو ضرور آؤ،مگر جب کھانا کھالو تو منتشر ہو جاؤ۔ باتیں کرنے میں نہ لگے رہو، تمہارییہ حرکتیں نبی کو تکلیف دیتی ہیں، مگر وہ شرم کی وجہ سے کچھ نہیں کہتے۔ اور اللہ حق بات کہنے میں نہیں شرماتا۔ نبی(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیویوں سے اگر تمہیں کچھ مانگنا ہو تو پردے کے پیچھے سے مانگو کرو، یہ تمہارے دلوں اور ان کے دلوں کی پاکیزگی کے لیے زیادہ مناسب طریقہ ہے، تمہارے لیےیہ ہرگز جائز نہیں کہ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تکلیف دو، اور نہ یہ جائز ہے کہ ان کے بعد ان کی بیویوں سے نکاح کرو، یہ اللہ کے نزدیک بہت بڑا گناہ ہے۔
پردے کا یہ حکم عمر رضی اللہ عنہ کی خواہش پر نازل ہوا،سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا،یا رسول اللہ! آپ کے پاس اچھے برے ہر طرح کے لوگ آتے ہیں، کاش آپ امہات المؤمنین کو پردے کا حکم دے دیں تو کیا اچھا ہو، جس پر اللہ تعالی نے یہ حکم نازل کیا۔ (صحیح بخاری، صحیح مسلم)

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8721
عَنْ سَلَمَةَ الْعَلَوِيِّ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ لَمَّا نَزَلَتْ آيَةُ الْحِجَابِ جِئْتُ أَدْخُلُ كَمَا كُنْتُ أَدْخُلُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((وَرَاءَكَ يَا بُنَيَّ))
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: جب پردہ والی آیت نازل ہوئی تو میں آپ کے گھر میں داخل ہونے کے لیے آیا، جیسے پہلے داخل ہوتا تھا، لیکن اس بار نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پیارے بیٹے! پیچھے ہٹ جاؤ (اب پردے کا حکم آ گیا ہے)۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة القصص إلى سورة الأحقاف/حدیث: 8721]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابويعلي: 4276، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12366 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12393»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8722
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كُنَّ يَخْرُجْنَ بِاللَّيْلِ إِذَا تَبَرَّزْنَ إِلَى الْمَنَاصِعِ وَهُوَ صَعِيدٌ أَفْيَحُ وَكَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ احْجُبْ نِسَاءَكَ فَلَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ فَخَرَجَتْ سَوْدَةُ بِنْتُ زَمْعَةَ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً مِنْ اللَّيَالِي عِشَاءً وَكَانَتْ امْرَأَةً طَوِيلَةً فَنَادَاهَا عُمَرُ أَلَا قَدْ عَرَفْنَاكِ يَا سَوْدَةُ حِرْصًا عَلَى أَنْ يُنْزَلَ الْحِجَابُ قَالَتْ عَائِشَةُ فَأُنْزِلَ الْحِجَابُ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویاں قضائے حاجت کے لئے باہر مناصع کی جانب نکلتی تھیں،یہ ایک وسیع میدان تھا، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہتے رہتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی بیویوں کو پردے کا حکم دیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسا نہیں کیا، ایک رات سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا عشاء کے وقت باہر نکلیں، وہ ایک لمبے قد والی خاتون تھیں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: خبردار! اے سودہ! ہم نے تمہیں پہچان لیا ہے۔ ان کا مقصد یہی تھا کہ پردے کا حکم نازل ہو، پس پردہ کا حکم نازل ہو گیا۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة القصص إلى سورة الأحقاف/حدیث: 8722]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 146، ومسلم: 2170، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25866 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26391»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
19. بَابُ: «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ آذَوا موسٰى» الآية
{اِنَّ اللّٰہَ وَمَلَائِکَۃَیُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِیِّ …} کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8723
عَنْ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ {إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ} [الأحزاب: 56] قَالُوا كَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَالَ ((قُولُوا اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ)) قَالَ وَنَحْنُ نَقُولُ وَعَلَيْنَا مَعَهُمْ قَالَ يَزِيدُ فَلَا أَدْرِي أَشَيْءٌ زَادَهُ ابْنُ أَبِي لَيْلَى مِنْ قِبَلِ نَفْسِهِ أَوْ شَيْءٌ رَوَاهُ كَعْبٌ
۔ سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے جب یہ آیت نازل ہوئی: {اِنَّ اللّٰہَ وَمَلٰئِکَتَہ یُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِیِّ یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْہِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا۔} … بے شک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر صلوٰۃ بھیجتے ہیں، اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اس پر صلوٰۃ بھیجو اور سلام بھیجو، خوب سلام بھیجنا۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو صحابہ نے دریافت کیا: اے اللہ کے نبی! ہم آپ پر کس طرح درود بھیجیں (اللہ تعالیٰ نے ہمیں حکم جو دیا ہے)؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس طرح مجھ پر درود بھیجو: اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی إِبْرَاہِیمَ وَعَلٰی آلِ إِبْرَاہِیمَ إِنَّکَ حَمِیدٌ مَجِیدٌ، وَبَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی إِبْرَاہِیمَ وَعَلٰی آلِ إِبْرَاہِیمَ إِنَّکَ حَمِیدٌ مَجِیدٌ۔ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم یہ درود پڑھ کر ساتھ یہ بھی کہہ دیتے: وَعَلَیْنَا مَعَہُمْ۔ … (اور ان کے ساتھ ہم پر بھی رحمت ہو)۔ یزید راوی کہتے ہیں: مجھے معلوم نہیں یہ چیز ابن ابی لیلیٰ نے اپنی طرف سے بیان کی ہے یا سیدنا کعب نے اس کو بیان کیا ہے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة القصص إلى سورة الأحقاف/حدیث: 8723]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه البخاري: 3370، ومسلم: 406، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18133 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18313»
وضاحت: فوائد: … نماز میں درود کے مسائل کے لیے دیکھیں حدیث نمبر (۱۷۹۹) کا باب۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
20. بَابُ ذِكْر سَبا وأولاده
{یَا اَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا لَا تَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ آذَوْا مُوْسٰی} کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8724
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ آذَوْا مُوسَى فَبَرَّأَهُ اللَّهُ مِمَّا قَالُوا} [الأحزاب: 69] قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مُوسَى كَانَ رَجُلًا حَيِيًّا سِتِّيرًا لَا يَكَادُ يُرَى مِنْ جِلْدِهِ شَيْءٌ اسْتِحْيَاءً مِنْهُ قَالَ فَآذَاهُ مَنْ آذَاهُ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ قَالُوا يَتَسَتَّرُ هَذَا التَّسَتُّرَ إِلَّا مِنْ عَيْبٍ بِجِلْدِهِ إِمَّا بَرَصٍ وَإِمَّا أُدْرَةٍ وَقَالَ رَوْحٌ مَرَّةً أُدْرَةٍ وَإِمَّا آفَةٍ وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَرَادَ أَنْ يُبَرِّئَهُ مِمَّا قَالُوا وَإِنَّ مُوسَى خَلَا يَوْمًا فَوَضَعَ ثَوْبَهُ عَلَى حَجَرٍ ثُمَّ اغْتَسَلَ فَلَمَّا فَرَغَ أَقْبَلَ إِلَى ثَوْبِهِ لِيَأْخُذَهُ وَإِنَّ الْحَجَرَ عَدَا بِثَوْبِهِ فَأَخَذَ مُوسَى عَصَاهُ وَطَلَبَ الْحَجَرَ وَجَعَلَ يَقُولُ ثَوْبِي حَجَرُ ثَوْبِي حَجَرُ حَتَّى انْتَهَى إِلَى مَلَأٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ فَرَأَوْهُ عُرْيَانًا كَأَحْسَنِ الرِّجَالِ خَلْقًا وَأَبْرَأَهُ مِمَّا كَانُوا يَقُولُونَ لَهُ وَقَامَ الْحَجَرُ فَأَخَذَ ثَوْبَهُ وَطَفِقَ بِالْحَجَرِ ضَرْبًا بِعَصَاهُ قَالَ فَوَاللَّهِ إِنَّ فِي الْحَجَرِ لَنَدَبًا مِنْ آثَرِ ضَرْبِهِ ثَلَاثًا أَوْ أَرْبَعًا أَوْ خَمْسًا
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس آیت {یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ اٰذَوْا مُوْسٰی فَبَرَّاَہُ اللّٰہُ مِمَّا قَالُوْا} اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، ان لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ جنہوں نے موسیٰ علیہ السلام کو تکلیف پہنچائی تو اللہ تعالیٰ نے اسے اس پاک ثابت کر دیا، جو انہوں نے کہا تھا۔ کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ موسیٰ علیہ السلام بہت زیادہ حیا دار اور اپنے آپ کو بہت زیادہ چھپانے والے تھے اسی حیا کی وجہ سے قریب نہ تھا کہ ان کے جسم کا کوئی حصہ دیکھا جاسکے۔ بنی اسرائیل میں سے بعض لوگوں نے آپ کو تکلیف پہنچائی اور کہا کہ موسیٰ علیہ السلام اس انداز میں اس لیے چھپتے ہیں کہ ان کو جلد کی کوئی بیماری ہے یا خصیتیں پھولے ہوئے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ان کو بنی اسرائیل کی اس بات سے پاک کرنا چاہا۔ ہوا یوں کہ ایک دن موسیٰ علیہ السلام خلوت میں گئے اور اپنا کپڑا پتھر پر رکھ کر غسل کیا۔ جب غسل سے فارغ ہو کر کپڑا پکڑنے کے لیے اس کی طرف گئے تو پتھر آپ کا کپڑا لے کر بھاگ کھڑا ہوا۔ موسیٰ علیہ السلام نے اپنی لاٹھی پکڑی اور پتھر کو پکڑنے کے لیے اس کے پیچھے چلے اور کہتے تھے اوپتھر! میرا کپڑا (دے دے) او پتھر میرا کپڑا (دے دے) یہاں تک کہ بنی اسرائیل کی ایک جماعت کے پاس پہنچ گئے اور انہوں نے دیکھ لیاکہ موسیٰ تو بہت خوبصورت انسان ہے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو ان کی باتوں سے بری کر دیا۔ پتھر ٹھہر گیا۔ موسیٰ علیہ السلام نے اپنا کپڑا پکڑا اور پتھر کو لاٹھی سے مارنا شروع کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! موسیٰ علیہ السلام کے پتھر پر لاٹھی مارنے سے تین یا چار یا پانچ نشان پڑ گئے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة القصص إلى سورة الأحقاف/حدیث: 8724]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3404، 4799، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9091 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10678»
وضاحت: فوائد: … اس میں موسی علیہ السلام کے دو معجزوں کا بیان ہے: پتھر کا ان کے کپڑے لے کر دوڑ جانا اور پتھر پر ان کی ضرب کے نشان لگنا۔ موسی علیہ السلام نہایت باحیا ہو نے کی وجہ سے لوگوں کے سامنے اپنے جسم کو ننگا نہ ہونے دیتے تھے، لیکن لوگوں نے یہ بات گھڑ لی کہ ان کی شرم گاہ میں فلان بیماری ہے، یہ اس وجہ سے ہر وقت پردہ کر کے رکھتے ہیں، حالات کا تقاضا تھا کہ حضرت موسی علیہ السلام کو اس الزام اور شبہے سے پاک ثابت کیا جائے، پس یہ واقعہ پیش آیا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
21. بَابُ: «وَلا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنْدَهُ إِلَّا لِمَنْ أَذِنَ لَهُ»
سورۂ سبا سبا اور اس کی اولاد کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8725
عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ سَبَأٍ مَا هُوَ أَرَجُلٌ أَمْ امْرَأَةٌ أَمْ أَرْضٌ فَقَالَ ((بَلْ هُوَ رَجُلٌ وَلَدَ عَشَرَةً فَسَكَنَ الْيَمَنَ مِنْهُمْ سِتَّةٌ وَبِالشَّامِ مِنْهُمْ أَرْبَعَةٌ فَأَمَّا الْيَمَانِيُّونَ فَمَذْحِجٌ وَكِنْدَةٌ وَالْأَزْدُ وَالْأَشْعَرِيُّونَ وَأَنْمَارٌ وَحِمْيَرُ عَرَبًا كُلُّهَا وَأَمَّا الشَّامِيَّةُ فَلَخْمٌ وَجُذَامُ وَعَامِلَةُ وَغَسَّانُ))
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سبا کے بارے میں سوال کیا کہ وہ مرد تھا یا عورت یا زمین کانام ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ مرد تھا، اس کے دس بچے تھے، ان میں چھ یمن میں اور چار شام میں آباد ہوئے، پس یمنی یہ ہیں: مذحج، کندہ، ازد، اشعری، انمار اور حمیر،یہ سارے کے سارے عرب تھے اور شام یہ ہیں: لخم، جذام، عاملہ اور غسان۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة القصص إلى سورة الأحقاف/حدیث: 8725]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه الحاكم: 2/ 423، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2898 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2898»
وضاحت: فوائد: … دس بچے ہونے سے مراد یہ ہے کہ یہ دس آدمی سبا کی نسل میں سے ہیں،کوئی اس کا بیٹا ہے، کوئی پوتا اور پڑپوتا وغیرہ۔ سورۂ سباء کی درج ذیل آیت میں میں سباء کا ذکر کیا گیا ہے:{لَقَدْ کَانَ لِسَـبَاٍ فِیْ مَسْکَنِہِمْ اٰیَۃٌ جَنَّتٰنِ عَنْ یَّمِیْنٍ وَّ شِمَالٍ کُلُوْا مِنْ رِّزْقِ رَبِّکُمْ وَاشْکُرُوْا لَہ بَلْدَۃٌ طَیِّبَۃٌ وَّرَبٌّ غَفُوْرٌ۔} (سورۂ سبائ: ۱۵) سبا کے لیے ان کی اپنے مسکن میں ایک نشانی موجود تھی، دو باغ دائیں اور بائیں کھاؤ اپنے رب کا دیا ہوا رزق اور شکر بجا لاؤ اس کا، ملک ہے عمدہ و پاکیزہ اور پروردگار ہے بخشش فرمانے والا۔ حافظ ابن کثیر رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: قوم سبایمن میں رہتی تھی، تبع بھی ان میں سے ہی تھے، بلقیس بھی انہی میں سے تھیں،یہ بڑی نعمتوں اور راحتوں میں تھے، چین سے زندگی گذار رہے تھے، اللہ کے رسول ان کے پاس آئے اور ان کو شکر کرنے کی تلقین کی، رب کی وحدانیت کی طرف بلایا، اس کی عبادت کا طریقہ سمجھایا، کچھ زمانے تک تو یہ لوگ یونہی رہے، لیکن پھر جبکہ انہوں نے سرتابی اور روگردانی کی۔ احکام اللہ بے پرواہی سے ٹال دیئے تو ان پر زور کا سیلاب آیا اور تمام ملک، باغات اور کھیتیاں وغیرہ تاخت و تاراج ہو گئیں۔ حافظ صاحب کچھ روایات بیان کرنے کے بعد پھر کہتے ہیں: آب و ہوا کی عمدگی، صحت، مزاج اور اعتدال عنایت الہیہ سے اس طرح تھا کہ ان کے ہاں مکھی، مچھر اور زہریلے جانور بھی نہیں ہوتے تھے، یہ اس لئے تھا کہ وہ لوگ اللہ کی توحید کو مانیں اور دل و جان اس کی خلوص کے ساتھ عبادت کریں،یہ تھی وہ اللہ کی طرف سے نشانی جس کا ذکر ان آیات میں ہے کہ دونوں پہاڑوں کے درمیان آباد بستی اور بستی کے دونوں طرف ہرے بھرے پھل دار باغات اور سرسبز کھیتیاں اور ان سے جناب باری نے فرما دیا تھا کہ اپنے رب کی دی ہوئی روزیاں کھاؤ پیو اور اس کے شکر میں لگے رہو، لیکن انہوں نے اللہ کی توحید کو اور اس کی نعمتوں کے شکر کو بھلا دیا اور سورج کی پرستش کرنے لگے۔ جیسے کہ ہدہد نے سلیمان علیہ السلام کو خبر دی تھی کہ {وَجِئْتُکَ مِنْ سَبَاٍ بِنَبَاٍ یَّقِیْنٍ۔} … میں تمہارے پاس سبا کی ایک پختہ خبر لایا ہوں۔ (سورۂ نمل: ۲۲) ایک عورت ان کی بادشاہت کر رہی ہے جس کے پاس تمام چیزیں موجود ہیں، عظیم الشان تخت سلطنت پر وہ متمکن ہے۔ رانی اور رعایا سب سورج پرست ہیں۔ شیطان نے ان کو گمراہ کر کھا ہے۔ بے راہ ہو رہے ہیں۔ مروی ہے کہ بارہ یا تیرہ پیغمبر ان کے پاس آئے تھے۔ بالاخر شامت اعمال رنگ لائی جو دیوار انہوں نے بنا رکھی تھی وہ چوہوں نے اندر سے کھوکھلی کر دی اور بارش کے زمانے میں وہ ٹوٹ گئیں، پانی کی ریل پیل ہو گئی دریاؤں کے، چشموں کے، بارش کے، نالوں کے، سب پانی آ گئے، ان کی بستیاں ان کے محلات ان کے باغات اور ان کی کھیتیاں سب تباہ و برباد ہو گئیں، ہاتھ ملتے رہ گئے کوئی تدبیر کارگر نہ ہوئی، پھر تو وہ تباہی آئی کہ اس زمین پر کوئی پھلدار درخت جمتا ہی نہ تھا، پیلو، جھاؤ، کیکر، ببول اور ایسے ہی بے میوہ بدمزہ بیکار درخت اگتے تھے۔ ہاں البتہ کچھ بیریوں کے درخت اگ آئے تھے جو نسبتاً اور درختوں سے کارآمد تھے۔ لیکن وہ بھی بہت زیادہ خاردار اور بہت کم پھل دار تھے۔ یہ تھا ان کے کفر و شرک کی سرکشی اور تکبر کا بدلہ کہ نعمتیں کھو بیٹھے اور زخموں میں مبتلا ہوگئے کافروں کو یہی اور اس جیسی ہی سخت سزائیں دی جاتی ہیں۔ ابو خیرہ کہتے ہیں گناہوں کا بدلہ یہی ہوتا ہے کہ عبادتوں میں سستی آ جائے، روزگار میں تنگی واقع ہو، لذتوں میں سختی آ جائے، یعنی جہاں کسی راحت کا منہ دیکھا فوراً کوئی زحمت آ پڑی اور مزہ مٹی ہو گیا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
22. بَابُ: «ثُمَّ أَوْرَثْنَا الْكِتَابَ الَّذِينَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا ...»
{وَلَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَۃُ عِنْدَہُ اِلَّا لِمَنْ اَذِنَ لَہُ …} کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8726
عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ((قَالَ رَبُّنَا تَبَارَكَ اسْمُهُ إِذَا قَضَى أَمْرًا سَبَّحَ حَمَلَةُ الْعَرْشِ ثُمَّ سَبَّحَ أَهْلُ السَّمَاءِ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ حَتَّى يَبْلُغَ التَّسْبِيحُ هَذِهِ السَّمَاءَ الدُّنْيَا ثُمَّ يَسْتَخْبِرُ أَهْلُ السَّمَاءِ الَّذِينَ يَلُونَ حَمَلَةَ الْعَرْشِ فَيَقُولُ الَّذِينَ يَلُونَ حَمَلَةَ الْعَرْشِ لِحَمَلَةِ الْعَرْشِ مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ فَيُخْبِرُونَهُمْ وَيُخْبِرُ أَهْلُ كُلِّ سَمَاءٍ سَمَاءً حَتَّى يَنْتَهِيَ الْخَبَرُ إِلَى هَذِهِ السَّمَاءِ وَيَخْطَفُ الْجِنُّ السَّمْعَ فَيُرْمَوْنَ فَمَا جَاءُوا بِهِ عَلَى وَجْهِهِ فَهُوَ حَقٌّ وَلَكِنَّهُمْ يُقْذَفُونَ وَيَزِيدُونَ)) قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَيَخْطَفُ الْجِنُّ وَيُرْمَوْنَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب ہمارا ربّ، جس کانام بہت زیادہ بابرکت ہے، کسی کام کا فیصلہ کرتا ہے تو عرش کو اٹھانے والے فرشتے اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں،پھر ان کے قریب والے فرشتے جو اس آسمان میں ہیں، وہ تسبیح بیان کرنا شروع کر دیتے ہیں،یہاں تک کہ تسبیح کا یہ سلسلہ آسمان دنیا تک پہنچ جاتا ہے، پھر حاملین کے قریب والے آسمان کے فرشتے ان سے پوچھتے ہیں: تمہارے ربّ نے کیا کہا ہے؟ پس وہ ان کو خبر دیتے ہیں، پھر ایک آسمان والے اگلے نچلے آسمان والے کو بتلاتے ہیں،یہاں تک کہ بات آسمانِ دنیا تک پہنچ جاتی ہے، اس سے جن بات کو اچکتے ہیں اور سن لیتے ہیں، پھر انہیں شعلے مارے جاتے ہیں اور اگر وہ بچ جائیں تو سنی ہوئی بات میں کوئی جھوٹ ملاتے ہیں۔ عبدالرزاق راوی نے کہا: جن بات اچکتے ہیں اوران پر شعلے پھینکے جاتے ہیں۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة القصص إلى سورة الأحقاف/حدیث: 8726]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2229، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1882 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1882»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث میں درج ذیل آیت کی تفسیر بیان کی گئی ہے: {وَلَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَۃُ عِنْدَہٓ اِلَّا لِمَنْ اَذِنَ لَہ حَتّیٰٓ اِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوْبِہِمْ قَالُوْا مَاذَا قَالَ رَبُّکُمْ قَالُوا الْحَقَّ وَہُوَ الْعَلِیُّ الْکَبِیْرُ۔} (سورۂ سبائ: ۲۳) اور سفارش اس کے ہاں نفع دیتی نہیں مگر جس کے لیے وہ اجازت دے، یہاں تک کہ جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور کی جاتی ہے تو وہ کہتے ہیں تمھارے رب نے کیا فرمایا؟ وہ کہتے ہیں حق (فرمایا) اور وہی سب سے بلند، بہت بڑا ہے۔
صحیح بخاری کی روایت میں اس آیت متعلقہ درج ذیل تفصیل بیان کی گئی ہے: سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((إِذَا قَضَی اللّٰہُ الْأَ مْرَ فِی السَّمَائِ ضَرَبَتِ الْمَلَائِکَۃُ بِأَ جْنِحَتِہَا خُضْعَانًا لِقَوْلِہِ کَالسِّلْسِلَۃِ عَلٰی صَفْوَانٍ قَالَ عَلِیٌّ وَقَالَ غَیْرُہُ صَفْوَانٍ یَنْفُذُہُمْ ذٰلِکَ فَإِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوبِہِمْ قَالُوا مَاذَا قَالَ رَبُّکُمْ قَالُوا لِلَّذِی قَالَ الْحَقَّ وَہُوَ الْعَلِیُّ الْکَبِیرُ فَیَسْمَعُہَا مُسْتَرِقُو السَّمْعِ وَمُسْتَرِقُو السَّمْعِ ہٰکَذَا وَاحِدٌ فَوْقَ آخَرَ وَوَصَفَ سُفْیَانُ بِیَدِہِ وَفَرَّجَ بَیْنَ أَ صَابِعِ یَدِہِ الْیُمْنٰی نَصَبَہَا بَعْضَہَا فَوْقَ بَعْضٍ فَرُبَّمَا أَ دْرَکَ الشِّہَابُ الْمُسْتَمِعَ قَبْلَ أَ نْ یَرْمِیَ بِہَا إِلٰی صَاحِبِہِ فَیُحْرِقُہُ وَرُبَّمَا لَمْ یُدْرِکْہُ حَتّٰییَرْمِیَ بِہَا إِلَی الَّذِییَلِیہِ إِلَی الَّذِی ہُوَ أَ سْفَلَ مِنْہُ حَتّٰییُلْقُوہَا إِلَی الْأَ رْضِ وَرُبَّمَا قَالَ سُفْیَانُ حَتّٰی تَنْتَہِیَ إِلَی الْأَ رْضِ فَتُلْقٰی عَلٰی فَمْ السَّاحِرِ فَیَکْذِبُ مَعَہَا مِائَۃَکَذْبَۃٍ فَیُصَدَّقُ فَیَقُولُونَ أَ لَمْ یُخْبِرْنَایَوْمَ کَذَا وَکَذَا یَکُونُ کَذَا وَکَذَا فَوَجَدْنَاہُ حَقًّا لِلْکَلِمَۃِ الَّتِی سُمِعَتْ مِنَ السَّمَائِ۔)) جب اللہ تعالیٰ آسمان پر فرشتوں کو کوئی حکم دیتا ہے تو وہ عاجزی کے ساتھ اپنے پر مارنے لگتے ہیں اور غور سے سنتے ہیں اور زنجیر کی سی جھنکار نکلتی ہے، جب فرشتے حکم الٰہی کے خوف سے کچھ بے غم ہوتے ہیں تو وہ آپس میں ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے کیا حکم دیا ہے؟ دوسرے کہتے ہیں: جو کچھ فرمایا ہے وہ حق ہے اور اللہ تعالیٰ بڑا بلند برتر ہے، فرشتوں کییہ باتیں شیطان چوری سے اڑاتے ہیں اور یہ شیطان اس طرح اوپر تلے رہتے ہیں اور امام سفیان نے انگلیوں کا اشارہ کرتے ہوئے ان کی کیفیت کو بیان کیا انہوں نے اپنے دائیں ہاتھ کی انگلیوں کے درمیان کچھ کشادگی کرکے ان کو اوپر تلے کیا، پھر کبھی فرشتے خبر ہوتے ہی آگ کا شعلہ پھینکتے ہیں اور وہ شعلہ باتیں سننے والوں کو قبل اس سے کہ وہ اپنے ساتھ والے کو بتلائے جلا ڈالتا ہے اور کبھی اس شعلہ کے اس تک پہنچنے سے پہلے وہ اپنے ساتھی کو بتا دیتا ہے اور اس طرح یہ باتیں زمین تک آجاتی ہیں، پھر ان باتوں کو نجومی کے منہ پر ڈالا جاتا ہے اور وہ اس ایک بات میں سو جھوٹی باتیں ملا کر لوگوں سے بیان کرتا ہے، کوئی کوئی بات اس نجومییعنی جادوگر کی سچ نکل آتی ہے، تو لوگ کہنے لگتے ہیں کہ دیکھو اس نجومی نے ہم سے یہ کہا تھا لہٰذا اس کی بات سچ نکلی، حالانکہ یہ وہی بات ہوتی ہے جو آسمان سے چوری کر لی جاتی ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں