Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. بَابَ مَا جَاءَ فِي «الْعُتُلِ الزَّنِيمِ»
سورۂ ملک سورۂ ملک کی فضیلت کابیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8806
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ ((إِنَّ سُورَةً مِنَ الْقُرْآنِ ثَلَاثُونَ آيَةً شَفَعَتْ لِرَجُلٍ حَتَّى غُفِرَ لَهُ وَهِيَ {تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ} [الملك: 1]))
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قرآن مجید میں ایک سورت ہے، اس کی تیس (۳۰) آیات ہیں، اس نے ایک آدمی کے لیے سفارش کی،یہاں تک کہ اسے بخش دیا گیا،یہ سورت {تَبَارَکَ الَّذِیْ بِیَدِہِ الْمُلْکُ}یعنی سورۂ ملک ہے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الملك إلى سورة البروج/حدیث: 8806]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه ابوداود: 1400، وابن ماجه: 3786، والترمذي: 2891، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8276 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8259»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. بَابُ: «تَعْرُجُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوْحُ إِلَيْهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ»
سورۂ ن {الْعُتُلِ الزَّنِیْمِ} کے معانی کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8807
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْعُتُلِّ الزَّنِيمِ فَقَالَ ((هُوَ الشَّدِيدُ الْخَلْقِ الْمُصَحَّحُ الْأَكُولُ الشَّرُوبُ الْوَاجِدُ لِلطَّعَامِ وَالشَّرَابِ الظَّلُومُ لِلنَّاسِ رَحْبُ الْجَوْفِ))
۔ سیدنا عبد الرحمن بن غنم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اَلْعُتُلِّ الزَّنِیمِ کے بارے میں پوچھا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس سے مراد جسمانی لحاظ سے سخت مضبوط، صحت مند، خوب کھانے پینے والا کھانے اور پینے کی وافر چیزوں والا اور لوگوں پر ظلم کرنے والا اور پیٹو ہے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الملك إلى سورة البروج/حدیث: 8807]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف شھر بن حوشب، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17991 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18154»
وضاحت: فوائد: … اللہ تعالی جھٹلانے والوں اور کہا نہ ماننے والوں کی مذموم صفات بیان کر رہے ہیں، ایک خصلت یہ بیان کی: {عُتُلٍّ بَعْدَ ذٰلِکَ زَنِیْمٍ} … وہ سخت مزاج ہے، اس کے علاوہ بدنام بھی ہے۔ (سورۂ قلم: ۱۳)

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. بَابُ: «وَيَوْمَ تَكُونُ السَّمَاءُ كَالْمُهْلِ» ‏‏‏‏
سورۂ معارج {تَعْرُجُ الُمَلَائِکَۃُ وَالرُّوْحُ اِلَیْہِ فِیْیَوْمٍ کَانَ مِقْدَارُہٗخَمْسِیْنَ اَلْفَ سَنَۃٍ …} کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8808
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ مَا أَطْوَلَ هَذَا الْيَوْمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهُ لَيُخَفَّفُ عَلَى الْمُؤْمِنِ حَتَّى يَكُونَ أَخَفَّ عَلَيْهِ مِنْ صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ يُصَلِّيهَا فِي الدُّنْيَا))
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ ایک دن پچاس ہزار سال کا ہوگا، یہ کس قدر طویل دن ہو گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! یہ مومن پر بہت ہلکا ہو گا، بس دنیا میں جتنی دیر وہ فرض نماز کی ادائیگی میں لگاتا ہے، اس کو اتنا وقت محسوس ہوگا۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الملك إلى سورة البروج/حدیث: 8808]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف ابن لھيعة، ولضعف رواية دراج عن ابي الھيثم۔ أخرجه ابويعلي: 1390، وابن حبان: 7334، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11717 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11740»
وضاحت: فوائد: … ارشادِ باری تعالی ہے: {تَعْرُجُ الْمَلٰئِکَۃُ وَالرُّوْحُ اِلَیْہِ فِیْیَوْمٍ کَانَ مِقْدَارُہ خَمْسِیْنَ اَلْفَ سَـنَۃٍ۔} … فرشتے اور روح اس کی طرف چڑھتے ہیں، (وہ عذاب) ایک ایسے دن میں (ہوگا) جس کا اندازہ پچاس ہزار سال ہے۔ (سورۂ معارج: ۴)
ان دن کی تعیین میں بہت اختلاف ہے، حافظ ابن کثیر نے کل چار اقوال ذکر کرکے اس درج ذیل قول کو ترجیح دی ہے: یہ قیامت کا دن ہے، اس آیت میں اس کی مقدار بیان کی گئی ہے، اس کی تائید درج ذیل حدیث سے بھی ہوتی ہے:
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مانع زکوۃ کی سزا بیان کرتے ہوئے فرمایا: ((حَتّٰییَحْکُمَ اللّٰہُ بَیْنَ عِبَادِہٖفِیْیَوْمٍ کَانَ مِقْدَارُہٗخَمْسِیْنَ اَلْفَ سَنَۃٍ مِمَّا تَعُدُّوْنَ۔)) … (کہ اس کا عذاب جاری رہے گا) یہاں تک کہ اللہ تعالی اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ فرمائے گا، ایسے دن میں، جس کی مدت تمہاری گنتی کے م طاببق پچاس ہزار سال ہو گی۔ (صحیح مسلم)

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. بَابُ: «قُلْ أُوحِيَ إِلَى أَنَّهُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِنَ الْجِنِّ»
{یَوْمَ تَکُوْنُ السَّمَائُ کَالْمُہْلِ} کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8809
عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ آخِرُ شِدَّةٍ يَلْقَاهَا الْمُؤْمِنُ الْمَوْتُ وَفِي قَوْلِهِ {يَوْمَ تَكُونُ السَّمَاءُ كَالْمُهْلِ} [المعارج: 8] قَالَ كَدُرْدِيِّ الزَّيْتِ وَفِي قَوْلِهِ {آنَاءَ اللَّيْلِ} [آل عمران: 113] قَالَ جَوْفُ اللَّيْلِ وَقَالَ هَلْ تَدْرُونَ مَا ذَهَابُ الْعِلْمِ قَالَ هُوَ ذَهَابُ الْعُلَمَاءِ مِنَ الْأَرْضِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ دنیا کی سختیوں میں سے آخری سختی جو مومن پاتا ہے وہ موت کی سختی ہے۔ ارشادِ باری تعالی ہے: {یَوْمَ تَکُونُ السَّمَاءُ کَالْمُہْلِ} … جس دن آسمان مثل تیل کی تلچھٹ کے ہو جائے گا۔ یعنی تیل کے نیچے بیٹھنے والے تلچھٹ کی مانند ہو جائے گا اور {آنَائَ اللَّیْلِ} سے مراد رات کا اندرونی وقت ہے، نیز سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے پوچھا: کیا تم جانتے ہو کہ علم کیسے اٹھ جائے گا؟ اس کی صورت یہ ہو گی کہ زمین سے علماء اٹھ جائیں گے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الملك إلى سورة البروج/حدیث: 8809]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف،قابوس بن ابي ظبيان الكوفي ضعيفيكتب حديثه ولا يحتج به، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1946 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1946»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. بَابُ: «وَأَنَّهُ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللَّهِ يَدْعُوهُ كَادُوْا يَكُونُونَ عَلَيْهِ لِبَدًا»
سورۂ جن {قُلْ اُوْحِیَّ اِلَیَّ اَنَّہُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِنَ الْجِنِّ …} کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8810
عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ مَا قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْجِنِّ وَلَا رَآهُمْ انْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي طَائِفَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ عَامِدِينَ إِلَى سُوقِ عُكَاظٍ وَقَدْ حِيلَ بَيْنَ الشَّيَاطِينِ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ وَأُرْسِلَتْ عَلَيْهِمُ الشُّهُبُ قَالَ فَرَجَعَتِ الشَّيَاطِينُ إِلَى قَوْمِهِمْ فَقَالُوا مَا لَكُمْ قَالُوا حِيلَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ وَأُرْسِلَتْ عَلَيْنَا الشُّهُبُ قَالَ فَقَالُوا مَا حَالَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ إِلَّا شَيْءٌ حَدَثَ فَاضْرِبُوا مَشَارِقَ الْأَرْضِ وَمَغَارِبَهَا فَانْظُرُوا مَا هَذَا الَّذِي حَالَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ قَالَ فَانْطَلَقُوا يَضْرِبُونَ مَشَارِقَ الْأَرْضِ وَمَغَارِبَهَا يَبْتَغُونَ مَا هَذَا الَّذِي حَالَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ قَالَ فَانْصَرَفَ النَّفَرُ الَّذِينَ تَوَجَّهُوا نَحْوَ تِهَامَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِنَخْلَةَ عَامِدًا إِلَى سُوقِ عُكَاظٍ وَهُوَ يُصَلِّي بِأَصْحَابِهِ صَلَاةَ الْفَجْرِ قَالَ فَلَمَّا سَمِعُوا الْقُرْآنَ اسْتَمَعُوا لَهُ وَقَالُوا هَذَا وَاللَّهِ الَّذِي حَالَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ قَالَ فَهُنَالِكَ حِينَ رَجَعُوا إِلَى قَوْمِهِمْ فَقَالُوا يَا قَوْمَنَا {إِنَّا سَمِعْنَا قُرْآنًا عَجَبًا يَهْدِي إِلَى الرُّشْدِ فَآمَنَّا بِهِ} [الجن: 1-2] الْآيَةَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ {قُلْ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّهُ} [الجن: 1] وَإِنَّمَا أُوحِيَ إِلَيْهِ قَوْلُ الْجِنِّ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہ تو جنوں پر تلاوت کی ہے اور نہ ہی انہیں دیکھا ہے، واقعہ یوں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک دفعہ اپنے صحابہ کرام کے ایک گروہ کے ساتھ مل کر عکاظ کے بازار میں جانے کے لیے چلے۔ اُدھر (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد کی وجہ سے) آسمان کی خبر اور جنوں کے درمیان رکاوٹیں پیدا ہو چکی تھیں اور ان پر انگارے برسائے جانے لگے تھے، جب شیطان اپنی قوم کی طرف لوٹے، تو انھوں نے کہا:تمہیں کیا ہو گیا ہے؟ انھوں نے کہا: ہمارے اور آسمان کی خبر کے درمیان اب رکاوٹ کھڑی کر دی گئی ہے، ہمارے اوپر انگارے برسائے جاتے ہیں،یہ ہمارے اور آسمان کی خبر کے درمیان رکاوٹ کسی حادثہ کی وجہ سے ہے، چلو زمین کے مشرق و مغرب تک گھومو اور دیکھو کہ یہ کیا چیز ہے جو ہمارے اور آسمانی خبروں کے درمیان حائل ہو گئی ہے، وہ جن اس رکاوٹ کو تلاش کرنے کے لیے مشرق و مغرب میں گھومے، ان میں سے ایک گروہ تہامہ کی جانب آیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نخلہ وادی میں تھے، عکاظ کے بازار کی جانب جانے والے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے ساتھیوں کو نماز فجر پڑھا رہے تھے، جب انہوں نے قرآن مجیدسنا تو کان لگائے اور پکار اٹھے: یہی وہ چیز ہے جو تمہارے اور آسمان کی خبروں کے درمیان حائل ہوئی ہے، وہاں سے جب وہ واپس اپنی قوم کے پاس آئے تو کہا: {إِنَّا سَمِعْنَا قُرْآنًا عَجَبًا یَہْدِی إِلَی الرُّشْدِ فَآمَنَّا بِہِ} … اے ہماری قوم! ہم نے عجیب و غریب تاثیر والا قرآن سنا ہے، جو رشدو ہدایت کی رہنمائی کرتا ہے، پس ہم تو اس کے ساتھ ایمان لے آئے ہیں۔ اُدھر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی جانب یہ وحی کی: {قُلْ أُوحِیَ إِلَیَّ أَ نَّہُ} … کہہ دو کہ میری طرف وحی کی گئی ہے۔ جنوں کی بات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف وحی کی گئی تھی۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الملك إلى سورة البروج/حدیث: 8810]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 773، 4921، ومسلم: 449، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2271 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2271»
وضاحت: فوائد: … دیکھیں حدیث نمبر (۸۷۵۲)

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
6. بَابُ: «يَا أَيُّهَا الْمُدَّتْرُكُمْ فَأَنْذِرَ وَرَبَّكَ فَكَبَر وثِيَابَكَ فَطَهِّرُ وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ»
{وَاَنَّہُ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللّٰہِ یَدْعُوْہٗ کَادُوْا یَکُوْنُوْنَ عَلَیْہٖ لِبَدًا}کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8811
وَعَنْهُ أَيْضًا ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ فِي قَوْلِ الْجِنِّ {وَأَنَّهُ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللَّهِ يَدْعُوهُ كَادُوا يَكُونُونَ عَلَيْهِ لِبَدًا} [الجن: 19] قَالَ لَمَّا رَأَوْهُ يُصَلِّي بِأَصْحَابِهِ وَيُصَلُّونَ بِصَلَاتِهِ وَيَرْكَعُونَ بِرُكُوعِهِ وَيَسْجُدُونَ بِسُجُودِهِ تَعَجَّبُوا مِنْ طَوَاعِيَةِ أَصْحَابِهِ لَهُ فَلَمَّا رَجَعُوا إِلَى قَوْمِهِمْ قَالُوا إِنَّهُ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَدْعُوهُ كَادُوا يَكُونُونَ عَلَيْهِ لِبَدًا
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ارشادِ باری تعالی ہے:{وَّاَنَّہ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللّٰہِ یَدْعُوْہُ کَادُوْا یَکُوْنُوْنَ عَلَیْہِ لِبَدًا۔} … اور یہ کہ بلاشبہ بات یہ ہے کہ جب اللہ کا بندہ کھڑا ہوا، اسے پکارتا تھا تو وہ قریب تھے کہ اس پر تہ بہ تہ جمع ہو جائیں۔ جب جنوں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے صحابہ کرام کو نماز پڑھاتے ہیں، وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کے ساتھ مل کر نماز پڑھتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رکوع کے ساتھ رکوع کرتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سجدہ کے ساتھ سجدہ کرتے ہیں،جب انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے صحابہ کی اطاعت شعاریاں دیکھیں تو وہ حیران رہ گئے اور اپنی قوم کے پاس جا کر کہا: جب وہ اللہ کے بندے (یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے کھڑے ہوئے تو قریب تھا کہ وہ بھیڑ کی بھیڑ بن کر اس پر پل پڑیں۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الملك إلى سورة البروج/حدیث: 8811]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه الترمذي بأِثر الحديث رقم: 3323، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2431 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2431»
وضاحت: فوائد: … اس آیت کے مزید بھی کوئی مفہوم بیان کیے گئے ہیں، ایک مفہوم کا ذکر اس حدیث میں کیا گیا ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابۂ کرام، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حد درجہ اطاعت گزار تھے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
7. بَابُ: «وَلَا تَمْنُنْ تَسْتَكْيِرْ»
سورۂ مدثر {یَا أَ یُّہَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَ نْذِرْ وَرَبَّکَ فَکَبِّرْ وَثِیَابَکَ فَطَہِّرْ وَالرُّجْزَ فَاہْجُرْ} کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8812
عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَقُولُ أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ((ثُمَّ فَتَرَ الْوَحْيُ عَنِّي فَتْرَةً فَبَيْنَا أَنَا أَمْشِي سَمِعْتُ صَوْتًا مِنَ السَّمَاءِ فَرَفَعْتُ بَصَرِي قِبَلَ السَّمَاءِ فَإِذَا الْمَلَكُ الَّذِي جَاءَنِي بِحِرَاءٍ الْآنَ قَاعِدٌ عَلَى كُرْسِيٍّ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ فَجُئِثْتُ مِنْهُ فَرَقًا حَتَّى هَوَيْتُ إِلَى الْأَرْضِ فَجِئْتُ أَهْلِي فَقُلْتُ زَمِّلُونِي زَمِّلُونِي زَمِّلُونِي فَزَمَّلُونِي فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنْذِرْ وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ} [المدثر: 1-5])) قَالَ أَبُو سَلَمَةَ الرُّجْزُ الْأَوْثَانُ ثُمَّ حَمِيَ الْوَحْيُ بَعْدُ وَتَتَابَعَ
۔ (دوسری سند)سیدنا جابر بن عبدا للہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر وحی رک گئی، پس ایک دن میں چل رہا تھا کہ میں نے آسمان کی طرف سے ایک آواز سنی،جب میں نے نگاہ اٹھائی تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہی فرشتہ جو میرے پاس غار حراء میں آیا تھا، اب وہی آسمان اور زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہے، میں اس کے خوف سے کپکپانے لگا، یہاں تک کہ میں زمین کی طرف جھکا، پھر میں اپنے گھر والوں کے پاس آیا اور کہا: مجھے کمبل اوڑھاؤ، مجھے کمبل اوڑھاؤ، مجھے کمبل اوڑھا دو۔ پس انہوں نے مجھے چادر اوڑھا دی، پس اللہ تعالیٰ نے آیات نازل کیں: {یَا أَ یُّھَا الْمُدَّثِّرْ قُمْ فَأَنْذِرْ وَرَبَّکَ فَکَبِّرْ وَثَیَابَکَ فَطَھِّرْ وَالرُّجْزَ فَاہْجُرْ} … اے کمبل اوڑھنے والے، کھڑا ہو جا، پس ڈرا اور اپنے ربّ کی بڑائی بیان کر اور اپنے کپڑوں کو پاک کر اور پلیدی کو چھوڑ دے۔ ابو سلمہ نے کہا: پلیدی سے مراد بت ہیں، اس کے بعد وحی پے در پے اور کثرت سے نازل ہونے لگی۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الملك إلى سورة البروج/حدیث: 8812]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4، 3238، ومسلم: 161، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14483 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14537»
وضاحت: فوائد: … دیکھیں حدیث نمبر (۸۴۳۴)

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
8. بَابُ: «فَإِذَا نُفِرَ فِي النَّافُور» ‏‏‏‏
{وَلَا تَمْنُنْ تَسْتَکْثِرْ} کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8813
عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ أَبِي بَزَّةَ فِي قَوْلِهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى {وَلَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرْ} [المدثر: 6] قَالَ لَا تُعْطِ شَيْئًا تَطْلُبُ أَكْثَرَ مِنْهُ
۔ قاسم بن ابی بزہ کہتے ہیں: ارشادِ باری تعالی ہے: {وَلَا تَمْنُنْ تَسْتَکْثِرْ} … اور (اس نیت سے) احسان نہ کر کہ زیادہ حاصل کرے۔ اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اس طرح نہ ہو کہ تو کوئی چیز دے، اور پھر اس سے زیادہ طلب کر رہا ہو۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الملك إلى سورة البروج/حدیث: 8813]
تخریج الحدیث: «الاثر صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20282 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20548»
وضاحت: فوائد: … کسی پر احسان کرتے وقت یہ خواہش نہیں ہونی چاہیے کہ بدلے میں اس سے زیادہ ملے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
9. بَابُ: «هُوَ اهْلُ التَّقْوَى وَأَهْلُ الْمَغْفِرَةِ»
{فَاِذَا نُقِرَ فِی النَّاقُوْرِ} کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8814
عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي قَوْلِهِ {فَإِذَا نُقِرَ فِي النَّاقُورِ} [المدثر: 8] قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((كَيْفَ أَنْعَمُ وَصَاحِبُ الْقَرْنِ قَدِ الْتَقَمَ الْقَرْنَ وَحَنَى جَبْهَتَهُ يَتَسَمَّعُ مَتَى يُؤْمَرُ فَيَنْفُخُ)) فَقَالَ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ كَيْفَ نَقُولُ قَالَ ((قُولُوا حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ عَلَى اللَّهِ تَوَكَّلْنَا))
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ {فَإِذَا نُقِرَ فِی النَّاقُورِ} … پس جب کہ صور میں پھونک ماری جائے گی۔ اس کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں کیسے نازو نعمت سے رہوں جبکہ صور والا فرشتہ صور کو منہ میں لے کر اپنی پیشانی کو جھکا کر کھڑا ہو چکا ہے، یہ سننے کے لیے کہ کب اس کو صور میں پھونکنے کا حکم ملتا ہے، پس وہ صور پھونک دے۔ صحابۂ کرام نے کہا: اب ہم کون سا ذکر کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کہو: حَسْبُنَا اللّٰہُ وَنِعْمَ الْوَکِیلُ عَلَی اللّٰہِ تَوَکَّلْنَا … (ہمیں اللہ تعالیٰ کافی ہے اور وہ اچھا کار ساز ہے، ہم نے اللہ پر توکل کیا۔) [الفتح الربانی/تفسير من سورة الملك إلى سورة البروج/حدیث: 8814]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 10/ 352، والطبراني: 8/290، والحاكم: 4/ 559، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3008 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3008»
وضاحت: فوائد: … جس فرشتے کے صور پھونکے پر دنیا ختم ہو جائے گی اورپھر قیامت بپا ہو جائے گی، اگر اس کییہ کیفیت ہے تو مسلمان اس دنیا میں دل لگا کر اور عیش و عشرت کی زندگی کیسے بسر کر سکے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
10. بَابُ: «‏‏‏‏لَا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ»
{ھُوَ اَھْلُ التَّقْوٰی وَاَھْلُ الْمَغْفِرَۃِ} کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8815
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ الْآيَةَ {أَهْلُ التَّقْوَى وَأَهْلُ الْمَغْفِرَةِ} [المدثر: 56] قَالَ ((قَالَ رَبُّكُمْ أَنَا أَهْلُ أَنْ أُتَّقَى فَلَا يُجْعَلْ مَعِي إِلَهٌ فَمَنِ اتَّقَى أَنْ يَجْعَلَ مَعِي إِلَهًا كَانَ أَهْلًا أَنْ أَغْفِرَ لَهُ))
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی:{أَ ہْلُ التَّقْوٰی وَأَ ہْلُ الْمَغْفِرَۃِ} … وہ اس لائق ہے کہ اس سے ڈرا جائے اور اس لائق بھی کہ وہ بخش دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: میں اس لائق ہوں کہ مجھ سے ڈرا جائے، پس میرے ساتھ کوئی معبود نہ بنایا جائے اور جو میرے ساتھ معبود بنانے سے ڈر گیا تو میں اس لائق ہوں کہ اس کو بخش دوں۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الملك إلى سورة البروج/حدیث: 8815]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف سھيل اخي حزم۔ أخرجه ابن ماجه: 4299، والترمذي: 3328، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12442 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12469»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث میں آیت ِ مبارکہ کا مفہوم بیان کیا ہے، اس کا مفہوم یہی ہے۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12»