الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. بَابُ: «وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا»
سورۃ القیامہ {لَا تُحَرِّکْ بِہٖلِسَانَکَلِتَعْجَلَبِہٖ} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8816
عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي قَوْلِهِ {لَا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ} [القيامة: 16] قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُعَالِجُ مِنَ التَّنْزِيلِ شِدَّةً فَكَانَ يُحَرِّكُ شَفَتَيْهِ قَالَ فَقَالَ لِي ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَا أُحَرِّكُ شَفَتَيَّ كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُحَرِّكُ وَقَالَ لِي سَعِيدٌ أَنَا أُحَرِّكُ كَمَا رَأَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يُحَرِّكُ شَفَتَيْهِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {لَا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ} قَالَ جَمْعَهُ فِي صَدْرِكَ ثُمَّ نَقْرَؤُهُ {فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ} فَاسْتَمِعْ لَهُ وَأَنْصِتْ {ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُ} [القيامة: 16-19] فَكَانَ بَعْدَ ذَلِكَ إِذَا انْطَلَقَ جِبْرِيلُ قَرَأَهُ كَمَا أَقْرَأَهُ
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے: ارشادِ باری تعالی ہے: { لَا تُحَرِّکْ بِہِ لِسَانَکَ لِتَعْجَلَ بِہِ} … (اے نبی) آپ قرآن کو جلدییاد کرنے کے لیے اپنی زبان کو حرکت نہ دیں۔ قرآن اترتے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سخت محنت اٹھاتے تھے، منجملہ ان کے ایکیہ تھا کہ آپ اپنے دونوں ہونٹ ہلاتے تھے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: میں ہونٹوں کو اس طرح ہلاتا ہوں، جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہلاتے تھے، سعید نے کہا: میں بھی اپنے ہونٹوں کو ایسے ہلاتا ہوں، جس طرح سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ہلاتے تھے، پھر اللہ تعالی نے یہ آیت نازل کر دی: {لَا تُحَرِّکْ بِہِ لِسَانَکَ لِتَعْجَلَ بِہِ إِنَّ عَلَیْنَا جَمْعَہُ وَقُرْآنَہُ} … (اے نبی) آپ قرآن کو جلدییاد کرنے کے لیے اپنی زبان کو حرکت نہ دیں، اس کا جمع کرنا اور آپ کی زبان سے پڑھنا ہمارے ذمہ ہے۔ یعنی قرآن کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سینۂ مبارک میں جمع کرنا اور آپ کا اس کو پڑھنا، {فَإِذَا قَرَأْنَاہُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَہُ} … ہم جب اسے پڑھ لیں تو آپ اس کے پڑھنے کی پیروی کریں۔ پس تو سنا کر اور خاموش رہا کر، { ثُمَّ إِنَّ عَلَیْنَا بَیَانَہُ} … پھر اس کا واضح کردینا ہمارے ذمہ ہے۔ پھر جب جبرائیل علیہ السلام چلے جاتے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وحی کو اسی طرح پڑھ لیتے، جیسے جبرائیل نے پڑھی ہوتی۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الملك إلى سورة البروج/حدیث: 8816]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5، 4927، 5724، ومسلم: 448، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3191 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3191»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8816M
وَعَنْهُ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ قَالَ كَانَ إِذَا نَزَلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قُرْآنٌ يُرِيدُ أَنْ يَحْفَظَهُ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {لَا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ} [القيامة: 16-18]
۔ (دوسری سند) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر قرآن نازل ہوتاآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو یاد کرتے (اور اس نیت سے (اپنی زبان کو جلدی جلدی ساتھ حرکت دیتے)، پس اللہ تعالی نے فرمایا: {لَا تُحَرِّکْ بِہِ لِسَانَکَ لِتَعْجَلَ بِہِ إِنَّ عَلَیْنَا جَمْعَہُ وَقُرْآنَہُ۔ فَإِذَا قَرَأْنَاہُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَہُ۔} … (اے نبی) آپ قرآن کو جلدییاد کرنے کے لیے اپنی زبان کو حرکت نہ دیں، اس کا جمع کرنا اور آپ کی زبان سے پڑھنا ہمارے ذمہ ہے۔ ہم جب اسے پڑھ لیں تو آپ اس کے پڑھنے کی پیروی کریں۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الملك إلى سورة البروج/حدیث: 8816M]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19910»
وضاحت: فوائد: … جبریل علیہ السلام جب وحی لے کر آتے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی ان کے ساتھ عجلت سے پڑھتے جاتے کہ کہیں کوئی لفظ بھول نہ جائے، جس پر اللہ تعالی نے یہ حکم نازل کیا: {لَا تُحَرِّکْ بِہِ لِسَانَکَ لِتَعْجَلَ بِہِ إِنَّ عَلَیْنَا جَمْعَہُ وَقُرْآنَہُ۔ فَإِذَا قَرَأْنَاہُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَہُ۔ ثُمَّ إِنَّ عَلَیْنَا بَیَانَہُ} … (اے نبی) آپ قرآن کو جلدییاد کرنے کے لیے اپنی زبان کو حرکت نہ دیں، اس کا جمع کرنا اور آپ کی زبان سے پڑھنا ہمارے ذمہ ہے۔ ہم جب اسے پڑھ لیں تو آپ اس کے پڑھنے کی پیروی کریں۔ پھر اس کا واضح کردینا ہمارے ذمہ ہے۔
درج ذیل آیت میںبھییہی مضمون بیان کیا گیا ہے:
{فَتَعٰلَی اللّٰہُ الْمَلِکُ الْحَقُّ وَلَا تَعْجَلْ بِالْقُرْاٰنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یُّقْضٰٓی اِلَیْکَ وَحْیُہ ْ وَقُلْ رَّبِّ زِدْنِیْ عِلْمًا۔} … پس بہت بلند ہے اللہ جو حقیقی بادشاہ ہے، اور قرآن پڑھنے میں جلدی نہ کر، اس سے پہلے کہ تیری طرف اس کی وحی پوری کی جائے اور کہہ اے میرے رب! مجھے علم میں زیادہ کر۔ (سورۂ طہ: ۱۱۴)
درج ذیل آیت میںبھییہی مضمون بیان کیا گیا ہے:
{فَتَعٰلَی اللّٰہُ الْمَلِکُ الْحَقُّ وَلَا تَعْجَلْ بِالْقُرْاٰنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یُّقْضٰٓی اِلَیْکَ وَحْیُہ ْ وَقُلْ رَّبِّ زِدْنِیْ عِلْمًا۔} … پس بہت بلند ہے اللہ جو حقیقی بادشاہ ہے، اور قرآن پڑھنے میں جلدی نہ کر، اس سے پہلے کہ تیری طرف اس کی وحی پوری کی جائے اور کہہ اے میرے رب! مجھے علم میں زیادہ کر۔ (سورۂ طہ: ۱۱۴)
الحكم على الحديث: صحیح
12. سُوْرَةُ التَّكْوِيرِ
سورۂ مرسلات {وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8817
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي غَارٍ فَنَزَلَتْ عَلَيْهِ {وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا} [المرسلات: 1] فَأَخَذْتُهَا مِنْ فِيهِ وَإِنَّ فَاهُ لَرَطْبٌ بِهَا فَلَا أَدْرِي بِأَيِّهَا خَتَمَ {فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ} [المرسلات: 50] أَوْ {وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ ارْكَعُوا لَا يَرْكَعُونَ} [المرسلات: 48] سَبَقَتْنَا حَيَّةٌ فَدَخَلَتْ فِي جُحْرٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((قَدْ وُقِيتُمْ شَرَّهَا وَوُقِيَتْ شَرَّكُمْ))
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ غار حراء میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سورۂ مرسلات نازل ہوئی، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منہ مبارک سے یہ سورت حاصل کیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دہن مبارک اس کے ذریعے تر تھا،مجھے یہ معلوم نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آیت {فَبِأَ یِّ حَدِیثٍ بَعْدَہُ یُؤْمِنُونَ} کے ساتھ اس سورت کو ختم کیایا اس {وَاِذَا قِیلَ لَہُمْ ارْکَعُوْا لَا یَرْکَعُونَ} کے ساتھ۔ اتنے میں ایک سانپ ظاہر ہوا اور کسی بل میں داخل ہو گیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہیں اس کے شر سے محفوظ رکھا گیا اور اس کو تمہارے شر سے بچا لیا گیا۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الملك إلى سورة البروج/حدیث: 8817]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1830، 4934، ومسلم: 2234، 2235، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3574 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3574»
وضاحت: فوائد: … سورۂ مرسلات {فَبِأَ یِّ حَدِیثٍ بَعْدَہُ یُؤْمِنُونَ}والی آیت پر ختم ہوتی ہے، جیسا کہ متواتر قراء ت میں ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8818
وَعَنْهُ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ قَالَ نَزَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ {وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا} [المرسلات: 1] لَيْلَةَ الْحَيَّةِ قَالَ فَقُلْنَا لَهُ وَمَا لَيْلَةُ الْحَيَّةِ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِحِرَاءٍ لَيْلًا خَرَجَتْ عَلَيْنَا حَيَّةٌ مِنَ الْجَبَلِ فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِهَا فَطَلَبْنَاهَا فَأَعْجَزَتْنَا فَقَالَ ((دَعُوهَا عَنْكُمْ فَقَدْ وَقَاهَا اللَّهُ شَرَّكُمْ كَمَا وَقَاكُمْ شَرَّهَا))
۔ (دوسری سند) سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سورۂ مرسلات سانپ والی رات کو نازل ہوئی تھی، ہم نے کہا:اے ابوعبد الرحمن! سانپ والی رات سے کیا مراد ہے؟ انھوں نے کہا: ہم ایک دفعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ غار حراء میں تھے،پہاڑ سے ایک سانپ نکل پڑا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اس کو قتل کرنے کا حکم دیا، ہم اس کے پیچھے لگے، لیکن اس نے ہمیں عاجز کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا: اب اسے چھوڑ دو، اللہ نے اس کو تمہارے شرسے بچا لیا اور تمہیں اس کے شر سے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الملك إلى سورة البروج/حدیث: 8818]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4377»
الحكم على الحديث: صحیح
13. سُوْرَةُ الْمُطَفِّفِينَ
سورۃ التکویر
حدیث نمبر: 8819
عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ((مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ كَأَنَّهُ رَأْيُ عَيْنٍ فَلْيَقْرَأْ {إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ} [التكوير: 1] وَ{إِذَا السَّمَاءُ انْفَطَرَتْ} [الانفطار: 1] وَ{إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ} [الانشقاق: 1] وَأَحْسَبُهُ أَنَّهُ قَالَ سُورَةَ هُودٍ))
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جسے یہ بات خوش کرے کہ وہ روز قیامت کو اس طرح دیکھے، جیسا کہ آنکھوں سے دیکھ رہاہے، تو وہ سورۂ تکویر، سورۂ انفطار اور سورۂ انشقاق کی تلاوت کرے۔ راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سورۂ ہود کا ذکر بھی کیا تھا۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الملك إلى سورة البروج/حدیث: 8819]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه الترمذي: 3333، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4806 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4806»
وضاحت: فوائد: … ان سورتوں میں قیامت کے بعض مناظر بیان کیے گئے ہیں، ان سورتوں کی تلاوت سے ان مناظر کا تصور کر لینا آسان ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
14. بَابُ: «فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا»
سورۃ المطففین
حدیث نمبر: 8820
عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ {يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ} [المطففين: 6] قَالَ ((يَقُومُونَ حَتَّى يَبْلُغَ الرَّشْحُ آذَانَهُمْ))
۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: {یَوْمَ یَقُوْمُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِیْنَ} … جس دن لوگ جہانوں کے رب کے سامنے کھڑے ہوں گے۔ پھر فرمایا: لوگ اس حال میں کھڑے ہوں گے پسینہ ان کے کانوں تک پہنچا ہوا ہوگا۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الملك إلى سورة البروج/حدیث: 8820]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2862، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5388 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5388»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8821
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ [سورة المطففين: ٦] فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ [سورة المعارج: ٤] فِي الرَّشْحِ إِلَى أَنْصَافِ آذَانِهِمْ
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: {یَوْمَیَقُوْمُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالِمِیْنَ} … جس دن لوگ جہانوں کے رب کے سامنے کھڑے ہوں گے۔ اور {تَعْرُجُ الْمَلٰئِکَۃُ وَالرُّوْحُ اِلَیْہِ فِیْ یَوْمٍ کَانَ مِقْدَارُہ خَمْسِیْنَ اَلْفَ سَنَۃٍ۔} … فرشتے اور روح اس کی طرف چڑھتے ہیں، (وہ عذاب) ایک ایسے دن میں (ہوگا) جس کا اندازہ پچاس ہزار سال ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگ اس حال میں کھڑے ہوں گے کہ ان کا پسینہ نصف کان تک پہنچ جائے گی۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الملك إلى سورة البروج/حدیث: 8821]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4938، ومسلم: 2862، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5912 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5912»
الحكم على الحديث: صحیح
15. بَابُ: «وَشَاهِدٍ وَمَشْهُود»
سورۃ الانشقاق {فَسَوْفَ یُحَاسَبُ حِسَابًا یَّسِیْرًا}کی تفسیر
حدیث نمبر: 8822
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ حُوسِبَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عُذِّبَ قَالَتْ فَقُلْتُ أَلَيْسَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا [سورة الإنشقاق: ٨] قَالَ لَيْسَ ذَلِكَ بِالْحِسَابِ وَلَكِنَّ ذَلِكَ الْعَرْضُ مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عُذِّبَ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: روز قیامت جس کا بھی حساب لیا گیا، اس کو عذاب دیا جائے گا۔ میں (عائشہ) نے کہا: کیا اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمایا کہ {فَسَوْفَ یُحَاسَبُ حِسَابًا یَسِیرًا} … عنقریب اس کا حساب آسان لیا جائے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس سے مراد حساب نہیں ہے، یہ تو صرف اعمال کی پیشی ہے، روزقیامت جس کا حساب لیا گیا، اس کو عذاب ہو کر رہے گا۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الملك إلى سورة البروج/حدیث: 8822]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4939، ومسلم: 2876، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24200 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24704»
وضاحت: فوائد: … پیشی سے مراد یہ ہے کہ مومن کے اعمال پیش حوض پر پیش کیے جائیں گے، اس کی غلطیاں بھی اس کے سامنے لائی جائیں گی، پھر اللہ تعالی اپنی رحمت اور فضل و کرم سے ان کو معاف کر دے گا۔
الحكم على الحديث: صحیح
16. بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِهَا وَتَفْسِيرِ صَدْرِهَا
سورۃ البروج {وَشَاھِدٍ وَمَشْہُوْدٍ}کی تفسیر
حدیث نمبر: 8823
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ وَشَاهِدٍ وَمَشْهُودٍ [سورة البروج: ٣] قَالَ يَعْنِي لِلشَّاهِدِ يَوْمَ عَرَفَةَ وَالْمَشْهُودِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آیت {وَشَاھِدٍ وَّ مَشْہُوْدٍ} کے میں فرمایا: شاہد سے مراد عرفہ کادن ہے اور موعود سے مراد قیامت کا دن ہے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الملك إلى سورة البروج/حدیث: 8823]
تخریج الحدیث: «المرفوع منه ضعيف لضعف علي بن زيد بن جدعان، والموقوف علي ابي ھريرة لابأس به، انظر الحديث الآتي۔ أخرجه الحاكم: 2/ 519، والبيھقي: 3/ 170، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7972 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7959»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 8824
(وَبِالسَّنَدِ الْمُتَقَدِّمِ) عَنْ يُونُسَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ عَمَّارًا مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ وَشَاهِدٍ وَمَشْهُودٍ [سورة البروج: ٣] قَالَ الشَّاهِدُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ وَالْمَشْهُودُ يَوْمُ عَرَفَةَ وَالْمَوْعُودُ يَوْمُ الْقِيَامَةِ
۔ (دوسری سند) سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انھوں نے کہا: {وَالْیَوْمِ الْمَوْعُوْ دِ۔ وَشَاھِدٍ وَّ مَشْہُوْدٍ۔} میں شاہد سے مراد جمعہ کا دن، مشہود سے مراد عرفہ کا دن اور موعود سے مراد قیامت کا دن ہے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الملك إلى سورة البروج/حدیث: 8824]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، وانظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7960»
وضاحت: فوائد: … ارشادِ باری تعالی ہے: {وَالْیَوْمِ الْمَوْعُوْ دِ۔ وَشَاھِدٍ وَّ مَشْہُوْدٍ۔} … وعدہ کیے ہوئے دن کی قسم؟ حاضر ہونے والے اور حاضر کیے گئے کی قسم! موعود سے مراد بالاتفاق قیامت کا دن ہے، جمعہ کے دن کو شاہد کہا گیا ہے، کیونکہ اس دن میں جس نے جو عمل بھی کیا،یہ قیامت کے دن اس پر گواہی دے گا، اس طرح مشہود سے عرفے کا دن مراد ہے، جہاں حج والے لوگ حج کے لیے جمع اور حاضر ہوتے ہیں۔
الحكم على الحديث: صحیح