الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابُ: «وَالْفَجْرِ وَلَيَالٍ عَشْرٍ وَالشَّفْعِ وَالْوَتْرِ واللَّيْلِ إِذَا يَسْرِ»
سورۃ الاعلیٰ سورۂ اعلی کی فضیلت اور اس کے ابتدائی حصے کی تفسیر کا بیان
حدیث نمبر: 8825
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ هَذِهِ السُّورَةَ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى [سورة الأعلى]
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سورۂ اعلیٰ سے محبت فرماتے تھے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأعلى إلى سورة الناس/حدیث: 8825]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف ثوير بن ابي فاختة۔ أخرجه البزار: 775، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 742) ذ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 742»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 8826
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَرَأَ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى [سورة الأعلى: ١] قَالَ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلٰی} پڑھتے تو کہتے: سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأعلى إلى سورة الناس/حدیث: 8826]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني۔ أخرجه ابوداود: 883، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2066 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2066»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8827
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيمِ [سورة الواقعة: ٧٤] قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اجْعَلُوهَا فِي رُكُوعِكُمْ لَمَّا نَزَلَتْ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى [سورة الأعلى: ١] قَالَ اجْعَلُوهَا فِي سُجُودِكُمْ
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: {فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّکَ الْعَظِیْمِ} … اپنے ربّ عظیم کے نام کی تسبیح بیان کرو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ اس کے مضمون کو اپنے رکوع میں پڑھنے کے لئے مقرر کر لو۔ اور جب یہ آیت اتری {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلٰی} … اپنے بلند و بالا رب کے نام کی تسبیح بیان کرو۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے مضمون کو اپنے سجدوں کے لیے مقرر کر لو۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأعلى إلى سورة الناس/حدیث: 8827]
تخریج الحدیث: «اسناده محتمل للتحسين۔ أخرجه ابوداود: 869، وابن ماجه: 887، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17414 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17549»
الحكم على الحديث: صحیح
2. بَابُ: «فيومَئِذٍ لَا يُعَذِبُ عَذَابَهُ أَحَدٌ»
سورۂ فجر {وَالْفَجْرِ وَلَیَالٍ عَشْرٍ وَّالشَّفْعِ وَالْوَتْرِ وَاللَّیْلِ اِذَا یَسْرِ}کی تفسیر
حدیث نمبر: 8828
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْعَشْرَ عَشْرُ الْأَضْحَى وَالْوِتْرَ يَوْمُ عَرَفَةَ وَالشَّفْعَ يَوْمُ النَّحْرِ
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دس راتوں سے مراد عید الاضحی کے مہینے کی پہلی دس راتیں ہیں، وتر سے مراد عرفات کے میدان کا دن ہے اور شفع سے ذبح کا دن مراد ہے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأعلى إلى سورة الناس/حدیث: 8828]
تخریج الحدیث: «ھذا اسناد لا بأس برجاله، وابو الزبير لم يصرح بسماعه من جابر۔ أخرجه النسائي في الكبري: 4101، والحاكم: 4/ 220، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14511 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14565»
وضاحت: فوائد: … اِنَّ الْعَشْرَ سے مراد {وَالْفَجْرِ۔ وَلَیالٍ عَشْرٍ۔} میں لَیَال کے الفاظ ہیں۔ {وَالْفَجْرِ وَلَیَالٍ عَشْرٍ وَّالشَّفْعِ وَالْوَتْرِ} … قسم ہے فجر کی، اور دس راتوں کی اور جفت اور طاق کی۔
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 8829
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الشَّفْعِ وَالْوَتْرِ فَقَالَ هِيَ الصَّلَاةُ بَعْضُهَا شَفْعٌ وَبَعْضُهَا وَتْرٌ
۔ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شفع اور وتر کے متعلق پوچھا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس سے مراد نماز ہے، بعض نمازیں جفت اور بعض نمازطاق ہوتی ہیں۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأعلى إلى سورة الناس/حدیث: 8829]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لابھام الراوي عن عمران۔ أخرجه الترمذي: 3342، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19919 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20161»
الحكم على الحديث: ضعیف
3. بَابُ: «وَالضُّحَى وَللَّيل إذَا سَجٰى»
{فَیَوْمَئِذٍ لَا یُعَذِّبُ عَذَابَہُ اَحَدٌ …} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8830
عَنْ أَبِي قِلَابَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَمَّنْ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فَيَوْمَئِذٍ لَا يُعَذِّبُ عَذَابَهُ أَحَدٌ وَلَا يُوثِقُ وَثَاقَهُ أَحَدٌ [سورة الفجر: ٢٥-٢٦] يَعْنِي يُفْعَلُ بِهِ قَالَ خَالِدٌ وَسَأَلْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ فَيَوْمَئِذٍ لَا يُعَذِّبُ أَيْ يُفْعَلُ بِهِ
۔ ایک صحابی ٔ رسول سے مروی ہے، جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ پڑھتے ہوئے سنا: {فَیَوْمَئِذٍ لَا یُعَذِّبُ عَذَابَہُ أَحَدٌ۔ وَلَایُوثِقُ وَثَاقَہُ أَحَدٌ۔} … پس اس دن اس کے عذاب جیسا عذاب کوئی نہیں کرے گا، اور نہ اس کے باندھنے جیسا کوئی باندھے گا۔ یعنی اس بندے کے ساتھ ایسے کیا جائے گا، خالد کہتے ہیں: میں نے عبد الرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما سے کہا: {فَیَوْمَئِذٍ لَا یُعَذِّبُ} کا کیامعنی؟ انھوں نے کہا: یعنی اس کے ساتھ کیا جائے گا۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأعلى إلى سورة الناس/حدیث: 8830]
تخریج الحدیث: «ضعيف الاسناد، قاله الالباني۔ أخرجه ابوداود: 3996، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20691 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20967»
الحكم على الحديث: ضعیف
4. بَابُ: «أرَأَيْتَ الَّذِي يَنْهَى عَبْدًا إِذَا صَلَّى»
سورۂ ضحیٰ {وَالضُّحٰی وَللَّیْلِ اِذَا سَجٰی …} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8831
عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ جُنْدُبَ بْنَ سُفْيَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ اشْتَكَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَقُمْ لَيْلَتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا فَجَاءَتْهُ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ يَا مُحَمَّدُ لَمْ أَرَهُ قَرَبَكَ مُنْذُ لَيْلَتَيْنِ أَوْ ثَلَاثٍ (وَفِي لَفْظٍ فَقَالَتْ يَا مُحَمَّدُ مَا أَرَى شَيْطَانَكَ إِلَّا قَدْ تَرَكَكَ وَفِي لَفْظٍ مَا أَرَى صَاحِبَكَ إِلَّا قَدْ أَبْطَأَ عَلَيْكَ) فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَالضُّحَى وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَى مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَى [سورة الضحى: ١-٣]
۔ سیدنا جندب بن سفیان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیمار پڑ گئے اور دو یا تین راتیں قیام نہ کر سکے، ایک عورت آئی اور اس نے کہا: اے محمد! میں دیکھتی ہوں کہ تم نے دو تین دن سے قیام نہیں کیا، میرا خیال ہے کہ تمہارا شیطان تجھے چھوڑ گیا ہے، پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل کیں: {وَالضُّحٰی وَاللَّیْلِ إِذَا سَجٰی مَا وَدَّعَکَ رَبُّکَ وَمَا قَلٰی} … قسم ہے چاشت کے وقت کی۔ اور قسم ہے رات کی، جب چھا جائے، نہ تو تیرے ربّ نے تجھے چھوڑا ہے اور نہ وہ بیزار ہوا ہے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأعلى إلى سورة الناس/حدیث: 8831]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4950، ومسلم: 1797، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18801 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19008»
الحكم على الحديث: صحیح
5. سوْرَةُ «لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ»
سورۂ علق {اَرَاَیْتَ الَّذِیْیَنْہٰی عَبْدًا اِذَا صَلّٰی}کی تفسیر
حدیث نمبر: 8832
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ جَاءَ أَبُو جَهْلٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي فَنَهَاهُ فَتَهَدَّدَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَتُهَدِّدُنِي أَمَا وَاللَّهِ إِنِّي لَأَكْثَرُ أَهْلِ الْوَادِي نَادِيًا فَأَنْزَلَ اللَّهُ أَرَأَيْتَ الَّذِي يَنْهَى عَبْدًا إِذَا صَلَّى أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ عَلَى الْهُدَى أَوْ أَمَرَ بِالتَّقْوَى أَرَأَيْتَ إِنْ كَذَّبَ وَتَوَلَّى [سورة العلق: ٩-١٣] قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ دَعَا نَادِيَهُ لَأَخَذَتْهُ الزَّبَانِيَةُ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ابو جہل، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے۔ اس نے اس سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو روکا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے دھمکایا، وہ کہنے لگا: مجھے دھمکاتے ہو، اللہ کی قسم! اس وادی میں مجھ سے بڑھ کر کوئی بھی مجلس والا نہیں ہے، پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل کیں: {أَ رَأَ یْتَ الَّذِی یَنْہٰی عَبْدًا إِذَا صَلّٰی أَ رَأَ یْتَ إِنْ کَانَ عَلَی الْہُدٰی أَ وْ أَ مَرَ بِالتَّقْوٰی أَرَأَ یْتَ إِنْ کَذَّبَ وَتَوَلّٰی} … کیا تو نے دیکھا ہے وہ شخص، جو بندے کو اس وقت منع کرتا ہے، جب وہ نماز پڑھتا ہے، کیا تو نے دیکھا ہے کہ اگروہ ہدایت پر ہو اور تقوٰی کا حکم دے، کیا تو نے دیکھا ہے اگر اس نے تکذیب کی اور منہ پھیر لیا ہے۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر وہ اپنی مجلس کو بلاتا تو جہنم کے طاقت ور فرشتے اس کو پکڑ لیتے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأعلى إلى سورة الناس/حدیث: 8832]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4958، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3044 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3044»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8833
عَنْ أَبِي حَازِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ أَبُو جَهْلٍ هَلْ يُعَفِّرُ مُحَمَّدٌ وَجْهَهُ بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ قَالَ فَقِيلَ نَعَمْ قَالَ وَاللَّاتِ وَالْعُزَّى يَمِينًا يَحْلِفُ بِهَا لَئِنْ رَأَيْتُهُ يَفْعَلُ ذَلِكَ لَأَطَأَنَّ عَلَى رَقَبَتِهِ أَوْ لَأُعَفِّرَنَّ وَجْهَهُ فِي التُّرَابِ قَالَ فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي زَعَمَ لَيَطَأُ عَلَى رَقَبَتِهِ قَالَ فَمَا فَجَأَهُمْ مِنْهُ إِلَّا وَهُوَ يَنْكُصُ عَلَى عَقِبَيْهِ وَيَتَّقِي بِيَدَيْهِ قَالَ قَالُوا لَهُ مَا لَكَ قَالَ إِنَّ بَيْنِي وَبَيْنَهُ لَخَنْدَقًا مِنْ نَارٍ وَهَوْلًا وَأَجْنِحَةً قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَوْ دَنَا مِنِّي لَخَطَفَتْهُ الْمَلَائِكَةُ عُضْوًا عُضْوًا قَالَ فَأُنْزِلَ لَا أَدْرِي فِي حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ أَوْ شَيْءٌ بَلَغَهُ إِنَّ الْإِنْسَانَ لَيَطْغَى أَنْ رَآهُ اسْتَغْنَى أَرَأَيْتَ الَّذِي يَنْهَى عَبْدًا إِذَا صَلَّى أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ عَلَى الْهُدَى أَوْ أَمَرَ بِالتَّقْوَى أَرَأَيْتَ إِنْ كَذَّبَ وَتَوَلَّى [سورة العلق: ٦-١٣] يَعْنِي أَبَا جَهْلٍ أَلَمْ يَعْلَمْ بِأَنَّ اللَّهَ يَرَى كَلَّا لَئِنْ لَمْ يَنْتَهِ لَنَسْفَعًا بِالنَّاصِيَةِ نَاصِيَةٍ كَاذِبَةٍ خَاطِئَةٍ فَلْيَدْعُ نَادِيَهُ قَالَ يَدْعُو قَوْمَهُ سَنَدْعُ الزَّبَانِيَةَ قَالَ يَعْنِي الْمَلَائِكَةَ كَلَّا لَا تُطِعْهُ وَاسْجُدْ وَاقْتَرِبْ [سورة العلق: ١٤-١٩]
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ابوجہل نے کہا: کیا تمہارے مابین محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سجدہ کرتا ہے؟ کسی نے کہا: ہاں، اس نے کہا: لات اور عزی کی قسم! اب اگر میں نے اس کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا تو اس کی گردن روند دوں گا یا اس کے چہرے کو مٹی میں لت پت کر دوں گا، پس اُدھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھنے کے لیے تشریف لے آئے، اِدھر سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گردن کو روندنے کے لیے ابوجہل بھی چل پڑا، لیکن اچانک اس نے ایڑھیوں کے بل ہٹنا شروع کر دیا اور اپنے ہاتھوں کے ذریعے اپنا بچاؤ کر رہا تھا، لوگوں نے اس سے پوچھا: تجھے کیا ہو گیا ہے؟ اس نے کہا: میرے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے درمیان آگ کی ایک خندق اور ہولناکی اور پَر تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر وہ میرے قریب آتا تو فرشتے اس کے ایک ایک عضو کو اچک لیتے۔ پس اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل کیں: سچ مچ انسان تو آپے سے باہر ہو جاتا ہے۔ بھلا تو نے اسے بھی دیکھا جو بندے کو روکتا ہے، جبکہ وہ نماز ادا کرتا ہے، بھلا بتلا تو اگر وہ ہدایت پر ہو، یا پرہیز گاری کا حکم دیتا ہو، بھلا دیکھو تو اگر یہ جھٹلاتا ہو اور منہ پھیرتا ہو تو۔ اس سے ابو جہل مراد ہے، ارشادِ باری تعالی ہے: کیا اس نے نہیں جانا کہ اللہ تعالیٰ اسے خوب دیکھ رہا ہے، یقینا اگر یہ باز نہ رہا تو ہم اس کی پیشانی کے بال پکڑ کر گھسیٹیں گے، ایسی پیشانی جو جھوٹی خطاکار ہے، یہ اپنی مجلس والوں کو بلالے۔ یعنی وہ اپنی قوم کو بلائے، ہم بھی دوزخ کے طاقتور فرشتوں کو بلا لیں گے۔ خبردار! اس کا کہنا نہ مان اور سجدہ کر اور قریب ہو جا۔ راوی کہتا ہے: مجھے یہ علم نہ ہو سکا کہ ان آیات کا ذکر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں تھا، یا کسی اور سند سے اس کاان کو علم ہوا تھا۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأعلى إلى سورة الناس/حدیث: 8833]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2797، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8831 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8817»
الحكم على الحديث: صحیح
6. بَابُ تَفْسِيرِهَا وَ مَنْقَبَةٍ لِأَبَى بَنِ كَعْبٍ
{لَمْ یَکُنْ …} یعنی سورۃ البینہ کی تفسیر سورۃ البیّنہ کی تفسیر اور سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی منقبت کا بیان
حدیث نمبر: 8834
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا [سورة البينة: ١] قَالَ وَسَمَّانِي لَكَ قَالَ نَعَمْ فَبَكَى
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تجھ پر سورۂ بینہ کی تلاوت کروں۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے میرا نام لیاہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ یہ سن کر سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ (خوشی سے) رونے لگے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأعلى إلى سورة الناس/حدیث: 8834]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3809، 4959، ومسلم: 799، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13884 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13921»
الحكم على الحديث: صحیح