الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. بَابُ آدَابِ تَخْتَصُّ بِمَنْ فِي الْمَجْلِسِ
مجلس میں موجود لوگوں کے ساتھ خاص آداب
حدیث نمبر: 9514
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا جَلَسَ (أَوْ إِذَا اسْتَلْقَى) أَحَدُكُمْ فَلَا يَضَعْ رِجْلَيْهِ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی چت لیٹے تو وہ ایک ٹانگ کو دوسری ٹانگ پر نہ رکھے۔ [الفتح الربانی/بيان آداب المجالس/حدیث: 9514]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2099، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14198 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14247»
وضاحت: فوائد: … دیکھیں حدیث نمبر (۹۵۱۶)
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9515
عَنْ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَعْتَدِلَ فِي الْجُلُوسِ وَأَنْ لَا نَسْتَوْفِزَ
۔ سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اعتدال سے بیٹھیں اور جلدی نہ کریں۔ [الفتح الربانی/بيان آداب المجالس/حدیث: 9515]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه الطبراني في الكبير: 6884، والحاكم: 1/ 271، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20111 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20372»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کا تعلق نماز سے ہے، جیسا کہ دوسری احادیث میں نماز میں اعتدال اختیار کرنے کی تعلیم دی گئی ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9516
(عَنْ أَبِي النَّضْرِ) أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ يَشْتَكِي رِجْلَيْهِ فَدَخَلَ عَلَيْهِ أَخُوهُ وَقَدْ جَعَلَ إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى وَهُوَ مُضْطَجِعٌ فَضَرَبَهُ بِيَدِهِ عَلَى رِجْلِهِ الْوَجِيعَةِ فَأَوْجَعَهُ فَقَالَ أَوْجَعْتَنِي أَوَ لَمْ تَعْلَمْ أَنَّ رِجْلِي وَجِيعَةٌ قَالَ بَلَى قَالَ فَمَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ قَالَ أَوَلَمْ تَسْمَعْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَى عَنْ هَذِهِ
۔ ابو نضر کہتے ہیں: سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ کی ایک ٹانگ میں کوئی تکلیف تھی، انھوں نے لیٹ کر ایک ٹانگ کو دوسری ٹانگ پر رکھا ہوا تھا، اتنے میں ان کا بھائی ان کے پاس آیا اور ان کی تکلیف زدہ ٹانگ پر ان کو مارا، جس سے ان کو تکلیف ہوئی، پس انھوں نے کہا: تو نے مجھے تکلیف دی ہے، کیا تو نہیں جانتا کہ میری ٹانگ میں تکلیف ہے؟ اس نے کہا: جی کیوں نہیں، انھوں نے کہا: اچھا تو ایسے کیا کیوں ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تو نے سنا نہیں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس طرح ٹانگ پر ٹانگ رکھنے سے منع کیا ہے۔ [الفتح الربانی/بيان آداب المجالس/حدیث: 9516]
تخریج الحدیث: «مرفوعه صحيح لغيره، أخرجه بنحوه الطبراني في الكبير: 19/ 18، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11375 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11395»
وضاحت: فوائد: … ٹانگ پر ٹانگ رکھنا اس وقت منع ہے، جب بے پردگی ہو رہی ہو، یا اس کا واضح طور پر خطرہ ہو، ان احادیث میں اسی صورت سے منع کیا گیا ہے۔
جب بے پردگی کا خطرہ نہ ہو تو ٹانگ پر ٹانگ رکھ لینے میں کوئی حرج نہیں ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود چت لیٹ کر ٹانگ پر ٹانگ رکھ لیاکرتے تھے۔
جب بے پردگی کا خطرہ نہ ہو تو ٹانگ پر ٹانگ رکھ لینے میں کوئی حرج نہیں ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود چت لیٹ کر ٹانگ پر ٹانگ رکھ لیاکرتے تھے۔
الحكم على الحديث: صحیح
5. بَابُ اذْكَارِ تُقَالُ عِنْدَ الْقِيَامِ مِنَ الْمَجْلِسِ
مجلس کو برخاست کرتے وقت کے اذکار کا بیان
حدیث نمبر: 9517
عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ إِنْسَانٍ يَكُونُ فِي مَجْلِسٍ فَيَقُولَ حِينَ يُرِيدُ أَنْ يَقُومَ سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ إِلَّا غُفِرَ لَهُ مَا كَانَ فِي ذَلِكَ الْمَجْلِسِ فَحَدَّثْتُ هَذَا الْحَدِيثَ يَزِيدَ بْنَ خُصَيْفَةَ قَالَ هَكَذَا حَدَّثَنِي السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
۔ اسماعیل بن عبداللہ بن جعفر کہتے ہیں: مجھے یہ بات پہنچی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو انسان کسی مجلس میں ہو اور پھر مجلس سے اٹھتے وقت یہ دعا پڑھے: سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ، اَسْتَغْفِرُکَ وَاَتُوْبُ اِلَیْکَ (تو پاک ہے، اے اللہ! اور تیری تعریف کے ساتھ، نہیں ہے کوئی معبودِ برحق مگر تو ہی، میں تجھ سے بخشش طلب کرتا ہوں اور تیری طرف رجوع کرتا ہوں)تو اس کے اس مجلس میں ہونے والے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے۔ جب میں نے یہ حدیثیزید بن خصیفہ کو بیان کی تو انھوں نے کہا: سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مجھے اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/بيان آداب المجالس/حدیث: 9517]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه الطحاوي في شرح معاني الآثار: 4/ 289، والطبراني في الكبير: 6673، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15729 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15820»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9518
عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِآخِرَةٍ إِذَا طَالَ الْمَجْلِسُ فَقَامَ قَالَ سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ فَقَالَ لَهُ بَعْضُنَا إِنَّ هَذَا قَوْلٌ مَا كُنَّا نَسْمَعُهُ مِنْكَ فِيمَا خَلَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هَذَا كَفَّارَةُ مَا يَكُونُ فِي الْمَجْلِسِ
۔ سیدنا ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آخری زندگی کی بات ہے کہ جب مجلس لمبی ہو جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے اٹھتے وقت یہ دعا پڑھتے: سُبْحَانَّکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ، اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ، اَسْتَغْفِرُکَ وَاَتُوْبُ اِلَیْکَ (تو پاک ہے، اے اللہ! اور تیری تعریف کے ساتھ، میں گواہی دیتا ہوں کہ تو ہی معبودِ برحق ہے، میں تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور تیری طرف توبہ کرتا ہوں)۔ ہم میں سے کسی نے کہا: پہلے تو ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس قسم کے دعائیہ کلمات نہیں سنتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کلمات مجلس میں ہونے والے گناہوں کا کفارہ ہیں۔ [الفتح الربانی/بيان آداب المجالس/حدیث: 9518]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابوداود: 4859، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19769 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20007»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9519
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ جَلَسَ فِي مَجْلِسٍ كَثُرَ فِيهِ لَغَطُهُ فَقَالَ قَبْلَ أَنْ يَقُومَ سُبْحَانَكَ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَسْتَغْفِرُكَ ثُمَّ أَتُوبُ إِلَيْكَ إِلَّا غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا كَانَ فِي مَجْلِسِهِ ذَلِكَ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی کسی ایسی مجلس میں بیٹھا، جس میں اس کی لغویات بہت زیادہ ہوں اور پھر وہ اس مجلس سے اٹھنے سے پہلے یہ کلمات ادا کر لے سُبْحَانَّکَ رَبَّنَا وَبِحْمِدَکَ لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ اَسْتَغْفِرُکَ ثُمَّ اَتُوْبُ اِلَیْکَ (تو پاک ہے، اے ہمارے ربّ! تو ہی معبودِ برحق ہے، میں تجھ سے بخشش طلب کرتا ہوں اور پھر تیری طرف رجوع کرتا ہوں) تو اس سے اس مجلس میں جو کچھ ہوا ہو گا، اس کو بخش دیا جائے گا۔ [الفتح الربانی/بيان آداب المجالس/حدیث: 9519]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه الترمذي: 3433، وأخرجه بنحوه ابوداود: 4858، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10415 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10420»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9520
عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا جَلَسَ مَجْلِسًا أَوْ صَلَّى تَكَلَّمَ بِكَلِمَاتٍ فَسَأَلَتْهُ عَائِشَةُ عَنِ الْكَلِمَاتِ فَقَالَ إِنْ تَكَلَّمَ بِخَيْرٍ كَانَ طَابِعًا عَلَيْهِنَّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَإِنْ تَكَلَّمَ بِغَيْرِ ذَلِكَ كَانَ كَفَّارَةً سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کسی مجلس میں بیٹھتےیا نماز ادا کرتے تو کچھ دعائیہ کلمات کہتے تھے، سیدہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ان کلمات کے بارے میں دریافت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر آدمی خیر والی باتیں کرے گا تو یہ کلمات روزِ قیامت تک ان پر مہر ہوں گے اور اگر خیر کے علاوہ کوئی اور بات کرے گا تو یہ کلمات اس کے لیے کفارہ بن جائیں گے، کلمات یہ ہیں: سُبْحَانَکَ وَبِحَمْدِکَ لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ اَسْتَغْفِرُکَ وَاَتُوْبُ اِلَیْکَ (تو پاک ہے اور تیری تعریف کے ساتھ، نہیں ہے کوئی معبودِ برحق مگرتو ہی، میں تجھ سے بخشش طلب کرتا ہوں اور تیری طرف رجوع کرتا ہوں)۔ [الفتح الربانی/بيان آداب المجالس/حدیث: 9520]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه النسائي: 3/ 71، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24486 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24991»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث ِ مبارکہ میں کفارۂ مجلس والی دعا پڑھنے کی اہمیت اور فوائد بیان کیے گئے ہیں، ہر مجلس کے بعد یہ دعا پڑھنے کا اہتمام کرنا چاہیے۔
الحكم على الحديث: صحیح
6. بَابُ هَلِ الْأَفْضَلُ الْعَزَلَةُ عَنِ النَّاسِ أَوِ الْاخْتَلَاطُ بِهَمْ؟
اس چیز کا بیان کہ لوگوں سے علیحدگی بہتر ہے یا ان میں گھل مل کر رہنا؟
حدیث نمبر: 9521
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ مِنْ سَرَايَاهُ قَالَ فَمَرَّ رَجُلٌ بِغَارٍ فِيهِ شَيْءٌ مِنْ مَاءٍ قَالَ فَحَدَّثَ نَفْسَهُ بِأَنْ يُقِيمَ فِي ذَلِكَ الْغَارِ فَيَقُوتُهُ مَا كَانَ فِيهِ مِنْ مَاءٍ وَيُصِيبُ مَا حَوْلَهُ مِنَ الْبَقْلِ وَيَتَخَلَّى مِنَ الدُّنْيَا ثُمَّ قَالَ لَوْ أَنِّي أَتَيْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَإِنْ أَذِنَ لِي فَعَلْتُ وَإِلَّا لَمْ أَفْعَلْ فَأَتَاهُ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي مَرَرْتُ بِغَارٍ فِيهِ مَا يَقُوتُنِي مِنَ الْمَاءِ وَالْبَقْلِ فَحَدَّثَتْنِي نَفْسِي بِأَنْ أُقِيمَ فِيهِ وَأَتَخَلَّى عَنِ الدُّنْيَا قَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَمْ أُبْعَثْ بِالْيَهُودِيَّةِ وَلَا النَّصْرَانِيَّةِ وَلَكِنْ بُعِثْتُ بِالْحَنِيفِيَّةِ السَّمْحَةِ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَغَدْوَةٌ أَوْ رَوْحَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا وَلَمَقَامُ أَحَدِكُمْ فِي الصَّفِّ خَيْرٌ مِنْ صَلَاتِهِ سِتِّينَ سَنَةً
۔ سیدناابو امامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم ایک لشکر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نکلے، ایک آدمی کا ایک نشیبی جگہ کے پاس سے گزر ہوا، وہاں پانی کا چشمہ بھی تھا، اسے خیال آیا کہ وہ دنیا سے کنارہ کش ہو کر یہیں فروکش ہو جائے، یہ پانی اور اس کے ارد گرد کی سبزہ زاریاں اسے کفایت کریں گی۔ پھر اس نے یہ فیصلہ کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جاؤں گا اور یہ معاملہ آپ کے سامنے رکھوں گا، اگر آپ نے اجازت دے دی تو ٹھیک، وگرنہ نہیں۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے نبی! میں فلاں نشیبی جگہ سے گزرا، وہاں کے پانی اور سبزے سے میری گزر بسر ہو سکتی ہے، مجھے خیال آیا کہ میں دنیا سے کنارہ کش ہو کر یہیں بسیرا کر لوں، (اب آپ کا کیا خیال ہے)؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں یہودیت اور نصرانیت لے کر نہیں آیا، مجھے نرمی و سہولت آمیز شریعت دے کر مبعوث کیا گیا ہے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اللہ کے راستے میں صبح کا یا شام کا چلنا دنیا و ما فیہا سے بہتر ہے اور دشمن کے سامنے صف میں کھڑے ہونا ساٹھ سال کی نماز سے افضل ہے۔ [الفتح الربانی/بيان آداب المجالس/حدیث: 9521]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، أخرجه الطبراني في الكبير: 7868، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22291 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22647»
وضاحت: فوائد: … دوسری صحیح روایات میں رہبانیت کی مذمت کی گئی ہے اور جہاد میں صرف کیے جانے والے وقت کو دوسرے آدمی کی ساٹھ برس کی عبادت سے بہتر قرار دیا گیا ہے۔ روایات کی تفصیل کے لیے مسند احمد محقق کی زیر مطالعہ حدیث ملاحظہ فرمائیں۔
رہبانیت: دنیا اور علائقِ دنیا سے منقطع ہو کر کسی جنگل یا صحرا میں اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مگن ہو جانا۔ نصرانیوں نے یہ رسم نکالی تھی، جسے اسلام نے غلط قرار دیا۔
دین اسلام کی حفاظت وحمایت اور اللہ کے کلمے کی سر بلندی کیلئے باغیوں، سرکشوں، ملحدوں اور بے دین لوگوں سے لڑنے میں پوری جدوجہد کرنا جہاد فی سبیل اللہ کہلاتا ہے،یہ انتہائی باکمال اور باعظمت عمل ہے، حدیث ِ نبوی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں خاک آلود ہونے والے پاؤں آتشِ دوزخ سے آزاد ہو جاتے ہیں۔ (بخاری: ۲۸۱۱) اگر زندگی میں جہاد کرنے کا موقع مل جائے تو اسے سعادت اور خوش قسمتی سمجھا جائے وگرنہ کم از کم جہاد فی سبیل اللہ کی پختہ نیت رکھنا واجب ہے، موقع میسر آنے پر قطعًا گریز نہ کیا جائے، اسلامی زندگی اسی جذبۂ قربانی سے وابستہ ہے۔
رہبانیت: دنیا اور علائقِ دنیا سے منقطع ہو کر کسی جنگل یا صحرا میں اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مگن ہو جانا۔ نصرانیوں نے یہ رسم نکالی تھی، جسے اسلام نے غلط قرار دیا۔
دین اسلام کی حفاظت وحمایت اور اللہ کے کلمے کی سر بلندی کیلئے باغیوں، سرکشوں، ملحدوں اور بے دین لوگوں سے لڑنے میں پوری جدوجہد کرنا جہاد فی سبیل اللہ کہلاتا ہے،یہ انتہائی باکمال اور باعظمت عمل ہے، حدیث ِ نبوی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں خاک آلود ہونے والے پاؤں آتشِ دوزخ سے آزاد ہو جاتے ہیں۔ (بخاری: ۲۸۱۱) اگر زندگی میں جہاد کرنے کا موقع مل جائے تو اسے سعادت اور خوش قسمتی سمجھا جائے وگرنہ کم از کم جہاد فی سبیل اللہ کی پختہ نیت رکھنا واجب ہے، موقع میسر آنے پر قطعًا گریز نہ کیا جائے، اسلامی زندگی اسی جذبۂ قربانی سے وابستہ ہے۔
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 9522
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ الْمُؤْمِنُ الَّذِي يُخَالِطُ النَّاسَ وَيَصْبِرُ عَلَى أَذَاهُمْ أَعْظَمُ أَجْرًا مِنَ الَّذِي لَا يُخَالِطُهُمْ وَلَا يَصْبِرُ عَلَى أَذَاهُمْ (وَفِي رِوَايَةٍ) خَيْرٌ مِنَ الَّذِي لَا يُخَالِطُهُمْ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو مومن لوگوں کے ساتھ مل جل کر رہتا ہے اور ان کی تکالیف پر صبر کرتا ہے، وہ اس سے بہتر ہے جو نہ تو لوگوں کے ساتھ مل جل کر رہتا ہے اور نہ ہی ان کی اذیتوں پر صبر کرتا ہے۔ [الفتح الربانی/بيان آداب المجالس/حدیث: 9522]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه الترمذي: 2507، وابن ماجه: 4032، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5022 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5022»
وضاحت: فوائد: … اگر کسی آدمی میں صبر و برداشت کی صفت موجود ہو، تو خلوت میں رہنے کی بجائے، لوگوں میں رہنا اس کے لیے زیادہ مفید ہوتا ہے، کیونکہ کسی کی اذیت کے عوض اس کو دعا دینایا اس پر صبر کرنا، غصہ دلانے والے کو معاف کرنا، بیماروں کی بیمار پرسی کرنا، کسی مریض کا علاج کروانا، اجنبی کی رہنمائی کرنا، مہمان کی ضیافت کرنا، ایسے سینکڑوں عظیم امور ہیں، جن پر عمل کرنے کا موقع صرف لوگوں میں رہ کر ہی ملتا ہے۔ لیکنیاد رہے کہ اگر کسی معاشرے میں سرِ عام برائیوں کا ارتکاب کیا جاتا ہو اور کوشش کے باوجود ان سے اجتناب کرنا ناممکن ہو، تو حسب ِ استطاعت ایسے لوگوں سے کنارہ کشی کی جائے۔ اس کی ایک مثال ہمارے بازار ہیں، جہاں موسیقی اور گانوں کی آواز عام ہوتی ہے، بے پردہ، بلکہ نیم برہنہ عورتوں کی آمد و رفت عام ہوتی ہے، جن پر نظر پڑنا تو کجا، تنگ مقامات پر ان کا مردوں کے ساتھ شدید اختلاط ہو جاتا ہے اور ان کے جسم ایک دوسرے کے ساتھ مس ہونے لگتے ہیں، بالخصوص جب درندہ صفت نوجوان بھی پھر رہے ہوں، ایسے بازاروں میں جانا شرّ میں گھسنے کے مترادف ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9523
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ النَّاسِ أَفْضَلُ قَالَ مُؤْمِنٌ مُجَاهِدٌ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ ثُمَّ مَنْ قَالَ ثُمَّ رَجُلٌ مُعْتَزِلٌ فِي شِعْبٍ مِنَ الشِّعَابِ يَعْبُدُ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَيَدَعُ النَّاسَ مِنْ شَرِّهِ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سے لوگ افضل ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ مؤمن جو اپنے نفس اور مال کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنے والا ہو۔ اس نے کہا: پھر کون سا آدمی افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر وہ آدمی ہے، جو کسی گھاٹی میں الگ تھلگ ہو کر اپنے ربّ کی عبادت کرے اور لوگوں کو اپنے شرّ سے محفوظ رکھے۔ [الفتح الربانی/بيان آداب المجالس/حدیث: 9523]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1888، وعلقه البخاري باثر الرواية: 6494، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11322 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11342»
وضاحت: فوائد: … لوگوں سے الگ تھلگ رہنا اسلام کا کوئی مستقل قانون نہیں ہے، بلکہ جب مسلمان میں معاشرے میں عام ہو جانے والے شرّ کا مقابلہ کرنے کی اہلیت نہ رہے تو تب اس شرّ سے بچنے کے لیے کنارہ کشی کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح