الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابُ النَّهْي عَنِ الْجُلُوسِ فِي الطُّرُقَاتِ إِلَّا بِحَقِّهَا
ضرورت کے علاوہ راستوں میں بیٹھنے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 9484
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((إِيَّاكُمْ وَالْجُلُوسَ فِي الطُّرُقَاتِ)) قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَنَا مِنْ مَجَالِسِنَا بُدٌّ نَتَحَدَّثُ فِيهَا قَالَ ((فَأَمَّا إِذَا أَبَيْتُمْ فَأَعْطُوا الطَّرِيقَ حَقَّهُ)) قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَا حَقُّ الطَّرِيقِ قَالَ ((غَضُّ الْبَصَرِ وَكَفُّ الْأَذَى وَرَدُّ السَّلَامِ وَالْأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيُ عَنِ الْمُنْكَرِ))
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: راستوں میں بیٹھنے سے بچو۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہماری مجلسوں کے لیے اس سے کوئی چارۂ کار نہیں ہے، ہم نے راستوں پر باتیں کرنا ہوتی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم نے انکار ہی کرنا ہے تو پھر راستے کو اس کا حق دیا کرو۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! راستے کا حق کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نگاہ جھکا کر رکھنا، تکلیف نہ دینا، سلام کا جواب دینا، نیکی کا حکم دینا اور برائی سے منع کرنا۔ [الفتح الربانی/بيان آداب المجالس/حدیث: 9484]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2465، ومسلم: 2121، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11309 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11329»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9485
عَنْ أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ
۔ سیدنا ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ نے بھی اسی طرح کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/بيان آداب المجالس/حدیث: 9485]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2161، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16367 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16480»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9486
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَجْلِسٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ إِنْ أَبَيْتُمْ إِلَّا أَنْ تَجْلِسُوا فَاهْدُوا السَّبِيلَ وَرُدُّوا السَّلَامَ وَأَعِينُوا الْمَظْلُومَ
۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انصاریوں کی ایک مجلس کے پاس سے گزرے اور فرمایا: اگر تم نے راستوں میں بیٹھنا ہی ہے تو مسافر کی رہنمائی کیا کرو، سلام کا جواب دیا کرو اور مظلوم کی مدد کیا کرو۔ [الفتح الربانی/بيان آداب المجالس/حدیث: 9486]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابن حبان: 597، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18590 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18791»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9487
عَنْ أَبِي شُرَيْحِ بْنِ عَمْرٍو الْخُزَاعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِيَّاكُمْ وَالْجُلُوسَ عَلَى الصُّعُدَاتِ فَمَنْ جَلَسَ مِنْكُمْ عَلَى الصَّعِيدِ فَلْيُعْطِهِ حَقَّهُ قَالَ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا حَقُّهُ قَالَ غَضُّ الْبَصَرِ وَرَدُّ التَّحِيَّةِ وَأَمْرٌ بِمَعْرُوفٍ وَنَهْيٌ عَنْ مُنْكَرٍ
۔ سیدنا ابو شریح بن عمرو خزاعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: راستوں پر بیٹھنے سے بچو، اگر کوئی راستے میں بیٹھنا چاہے تو وہ اس کا حق ادا کرے۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! راستے کا حق کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نظر کو جھکا کر رکھنا، سلام کا جواب دینا، نیکی کا حکم دینا اور برائی سے منع کرنا۔ [الفتح الربانی/بيان آداب المجالس/حدیث: 9487]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا، عبد الله بن سعيد المقبري متروك الحديث، أخرجه الطبراني في الكبير: 22/448، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27163 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27705»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث ِ مبارکہ میں اس حقیقت کا واضح ثبوت ہے کہ انسانیت کو ہر قسم کی تکلیف سے بچانے کے لیے صرف اسلام نے ٹھوس اقدامات کئے ہیں کہ عام راستوں اور گزرگاہوں کو معاشرے کی اجتماعی ملکیت قرار دیا۔ اس لیے ان پر مجلسیں جما کر بیٹھنا صحیح نہیں، اس سے گزرنے والوں کو تکلیف ہو سکتی ہے، بالخصوص پردہ دار عوتوں کو، جو لوگوں کے سامنے آنے یا ان کے سامنے سے گزرنے کو ناپسند کرتی ہیں۔ اگر کسی مجبوری کی بنا پر کسی گزرگاہ پر بیٹھنا ہی پڑ جائے تو ایسا انداز اختیار کیا جائے کہ گزرنے والوں کو کوئی تکلیف نہ ہو، مثلاً گزرنے والی عورتوں سے نظر بچا کر رکھنا، اچھی گفتگو کرنا، زیادہ بوجھ لادے ہوئے آدمی کی مدد کرنا، مظلوم اور مصیبت زدہ کے ساتھ تعاون کرنا، بھٹکے ہوئے کی رہنمائی کر دینا، سلام کا جواب دینا۔
اگراسلام میں شاہراہوں اور گزرگاہوں کے حقوق یہ ہیں تو پھر ان پر تجاوزات قائم کر کے یا شادی بیاہ کے موقع پر ان کو بند کر کے یا لڑکوں کا سڑکوں پر کھیلیں شروع کر کے ہزاروں انسانوں کو تکلیف دینا کیسے جائز ہو سکتا ہے؟ لیکن بدقسمتی سے یہ چیز ہمارے ملک میں عام ہے۔ مزید کہا جا سکتا ہے کہ تنگ سڑکوں، موڑوں اور اترائی و چڑھائی پر (LT صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یعنی چھوٹی گاڑی والوں کو (HT صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یعنی بڑی ٹرانسپورٹ کا خیال رکھنا چاہئے، کیونکہ ٹریلر اور ٹرک وغیرہ کا سڑک سے اترنا مشکل ہوتا ہے۔
شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں: یہ احادیث چند ایک اہم آداب ِ اسلامی پر مشتمل
ہیں، جن کا تعلق راستوں اور گھروں کے صحنوں میں بیٹھنے سے ہے۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ ان آداب کا احترام کریں، بالخصوص ان امور کا، جو فرض ہیں، مثلاً عورتوں سے نگاہوں کو پست کرنا کہ دوسری کئی احادیث میں بھی اس کا حکم دیا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: {قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَیَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِھِمْ وَیَحْفَظُوْا فُرُوْجَھُمْ ذٰلِکَ اَزْکٰی لَھُمْ اِنَّ اللّٰہَ خَبِیْرٌ بِمَا یَصْنَعُوْنَ} … مسلمان مردوں سے کہو کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں،یہی ان کے لیے زیادہ پاکیزگی کا ذریعہ ہے، لوگ جو کچھ کرتے ہیں اللہ تعالیٰ سب سے خبردار ہے۔ (سورۂ نور: ۳۰)
غور کریں کہ اللہ تعالیٰ کا یہ حکم امت ِ اسلامیہ کی پہلی نسل یعنی صحابہ کرام کو براہِ راست دیا گیا، حالانکہ وہ مطہّر اور منوّر تھے اور ان کے لیے کسی عورت کے چہرے اور ہاتھوں کے علاوہ جسم کا کوئی اور حصہ دیکھنا ممکن ہی نہ تھا، جیسا کہ مختلف احادیث سے پتہ چلتا ہے، مثال کے طور پر خثعمی عورت کی حدیث اور بنت ِ ہبیرہ وغیرہ کی حدیث ہے، جو میری تصنیفات (جلباب المرأۃ) اور (آداب الزفاف) میں مذکور ہیں۔
میں کہتا ہوں: جس زمانے میں صرف عورت کے چہرے اور ہاتھوں پر نگاہ پڑنا ممکن تھی، اس وقت بھی نگاہیں پست رکھنے کا حکم تھا۔ کوئی شک وشبہ نہیں کہ عصرِ حاضر میں اس حکم میں مزید تاکید پیدا ہو گئی ہے، جس میں عورتوں نے لباس بھی زیب ِ تن کر رکھا ہوتا ہے اور ننگی بھی ہوتی ہیں۔ ان ہی عورتوں کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا: بعض عورتوں ایسی بھی ہوں گی کہ جو ملبوس ہونے کے باوجود برہنہ ہوں گی، وہ لوگوں کو اپنی طرف مائل کریں گی اور خود ان کی طرف مائل ہوں گی، ان کے سر بختی اونٹوں کی کوہانوں کی طرح ہوں گے۔ ایسی عورتیں جنت میں داخل نہیں ہوں گی …۔ (صحیحہ: ۱۳۲۶)
اس لیے بالعموم ہر مسلمان پر اور بالخصوص ہر مسلم نوجوان پر واجب ہے کہ وہ اپنی نظریں جھکا کر رکھا کرے، خاص طور پر (مختلف چوراہوں پر آویزاں) حیا سوز اور ہیجان انگیز تصاویر کو دیکھنے سے گریز کریں۔ ایسے دور میں نوجوانوں کو چاہئے کہ وہ ان فتنوں سے بچنے کے لیے پہلی فرصت میں شادی کریں اور استطاعت نہ ہونے کی صورت میں روزے رکھنے کا اہتمام کریں، اس سے بری خواہشات ختم ہو جاتی ہیں۔ سو میں اللہ تعالیٰ سے سوال کرتا ہوں کہ وہ ہمیں اور تمام مسلمانوں کو اپنی اطاعت و فرمانبرداری کرنے کی توفیق دے اور اپنی نافرمانیوں سے محفوظ رکھے، بیشک وہ سننے والا اور جواب دینے والا ہے۔
اگراسلام میں شاہراہوں اور گزرگاہوں کے حقوق یہ ہیں تو پھر ان پر تجاوزات قائم کر کے یا شادی بیاہ کے موقع پر ان کو بند کر کے یا لڑکوں کا سڑکوں پر کھیلیں شروع کر کے ہزاروں انسانوں کو تکلیف دینا کیسے جائز ہو سکتا ہے؟ لیکن بدقسمتی سے یہ چیز ہمارے ملک میں عام ہے۔ مزید کہا جا سکتا ہے کہ تنگ سڑکوں، موڑوں اور اترائی و چڑھائی پر (LT صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یعنی چھوٹی گاڑی والوں کو (HT صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یعنی بڑی ٹرانسپورٹ کا خیال رکھنا چاہئے، کیونکہ ٹریلر اور ٹرک وغیرہ کا سڑک سے اترنا مشکل ہوتا ہے۔
شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں: یہ احادیث چند ایک اہم آداب ِ اسلامی پر مشتمل
ہیں، جن کا تعلق راستوں اور گھروں کے صحنوں میں بیٹھنے سے ہے۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ ان آداب کا احترام کریں، بالخصوص ان امور کا، جو فرض ہیں، مثلاً عورتوں سے نگاہوں کو پست کرنا کہ دوسری کئی احادیث میں بھی اس کا حکم دیا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: {قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَیَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِھِمْ وَیَحْفَظُوْا فُرُوْجَھُمْ ذٰلِکَ اَزْکٰی لَھُمْ اِنَّ اللّٰہَ خَبِیْرٌ بِمَا یَصْنَعُوْنَ} … مسلمان مردوں سے کہو کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں،یہی ان کے لیے زیادہ پاکیزگی کا ذریعہ ہے، لوگ جو کچھ کرتے ہیں اللہ تعالیٰ سب سے خبردار ہے۔ (سورۂ نور: ۳۰)
غور کریں کہ اللہ تعالیٰ کا یہ حکم امت ِ اسلامیہ کی پہلی نسل یعنی صحابہ کرام کو براہِ راست دیا گیا، حالانکہ وہ مطہّر اور منوّر تھے اور ان کے لیے کسی عورت کے چہرے اور ہاتھوں کے علاوہ جسم کا کوئی اور حصہ دیکھنا ممکن ہی نہ تھا، جیسا کہ مختلف احادیث سے پتہ چلتا ہے، مثال کے طور پر خثعمی عورت کی حدیث اور بنت ِ ہبیرہ وغیرہ کی حدیث ہے، جو میری تصنیفات (جلباب المرأۃ) اور (آداب الزفاف) میں مذکور ہیں۔
میں کہتا ہوں: جس زمانے میں صرف عورت کے چہرے اور ہاتھوں پر نگاہ پڑنا ممکن تھی، اس وقت بھی نگاہیں پست رکھنے کا حکم تھا۔ کوئی شک وشبہ نہیں کہ عصرِ حاضر میں اس حکم میں مزید تاکید پیدا ہو گئی ہے، جس میں عورتوں نے لباس بھی زیب ِ تن کر رکھا ہوتا ہے اور ننگی بھی ہوتی ہیں۔ ان ہی عورتوں کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا: بعض عورتوں ایسی بھی ہوں گی کہ جو ملبوس ہونے کے باوجود برہنہ ہوں گی، وہ لوگوں کو اپنی طرف مائل کریں گی اور خود ان کی طرف مائل ہوں گی، ان کے سر بختی اونٹوں کی کوہانوں کی طرح ہوں گے۔ ایسی عورتیں جنت میں داخل نہیں ہوں گی …۔ (صحیحہ: ۱۳۲۶)
اس لیے بالعموم ہر مسلمان پر اور بالخصوص ہر مسلم نوجوان پر واجب ہے کہ وہ اپنی نظریں جھکا کر رکھا کرے، خاص طور پر (مختلف چوراہوں پر آویزاں) حیا سوز اور ہیجان انگیز تصاویر کو دیکھنے سے گریز کریں۔ ایسے دور میں نوجوانوں کو چاہئے کہ وہ ان فتنوں سے بچنے کے لیے پہلی فرصت میں شادی کریں اور استطاعت نہ ہونے کی صورت میں روزے رکھنے کا اہتمام کریں، اس سے بری خواہشات ختم ہو جاتی ہیں۔ سو میں اللہ تعالیٰ سے سوال کرتا ہوں کہ وہ ہمیں اور تمام مسلمانوں کو اپنی اطاعت و فرمانبرداری کرنے کی توفیق دے اور اپنی نافرمانیوں سے محفوظ رکھے، بیشک وہ سننے والا اور جواب دینے والا ہے۔
الحكم على الحديث: ضعیف
2. بَابُ مَا جَاءَ فِي خَيْرِ الْمَجَالِسِ وَشَرَّهَا
بہترین اور بدترین مجلسوں کا بیان
حدیث نمبر: 9488
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أُخْبِرَ أَبُو سَعِيدٍ بِجَنَازَةٍ فَعَادَ وَقَدْ تَخَلَّفَ حَتَّى إِذَا أَخَذَ النَّاسُ مَجَالِسَهُمْ ثُمَّ جَاءَ فَلَمَّا رَآهُ الْقَوْمُ تَشَذَّبُوا عَنْهُ فَقَامَ بَعْضُهُمْ لِيَجْلِسَ فِي مَجْلِسٍ فَقَالَ لَا إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ خَيْرَ الْمَجَالِسِ أَوْسَعُهَا ثُمَّ تَنَحَّى وَجَلَسَ فِي مَجْلِسٍ وَاسِعٍ
۔ عبد الرحمن بن ابی عمرہ انصاری کہتے ہیں: سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ کو ایک جنازے کا بتایا گیا، اس سے وہ لوٹے اور پھر مجلس سے اتنے پیچھے رہ گئے کہ لوگ اپنی اپنی جگہ پر بیٹھ گئے، جب لوگوں نے ان کو آتے ہوئے دیکھا تو وہ منتشر ہو گئے اور بعض لوگوں نے کہا کہ ان کو چاہیے کہ اس مجلس میں بیٹھ جائیں، لیکن انھوں نے کہا: جی نہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بیشک بہترین مجلس وہ ہوتی ہے، جو وسیع ہو۔ پھر وہ علیحدہ ہوئے اور ایک وسیع مجلس میں بیٹھ گئے۔ [الفتح الربانی/بيان آداب المجالس/حدیث: 9488]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط البخاري، أخرجه ا بوداود: 4820، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11137 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11154»
وضاحت: فوائد: … کشادہ مجلس میں جہاں بیٹھنے والے راحت اور سکون محسوس کرتے ہیں، وہاں باہر سے آنے والے افراد کے لیے نہ کوئی دشواری ہوتی ہے اور نہ گفتگو متاثر ہوتی ہے۔ ایسی مجلس میں سامعین کو توجہ اور انہماک کے ساتھ بات سننے کا موقع ملتا ہے۔ اس کے برعکس تنگ مجلس میںبیٹھنے والوں کو گھٹن اور تنگی محسوس ہوتی ہے، نیز آنے والے افراد زیادہ پریشانی کا سبب بنتے ہیں اور ان کی وجہ سے گفتگو بھی متاثر ہوتی ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9489
عَنْ أَبِي عَيَّاضٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَجْلِسَ بَيْنَ الضَّحِّ وَالظِّلِّ وَقَالَ مَجْلِسُ الشَّيْطَانِ
۔ صحابی ٔ رسول بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آدمی کو اس طرح بیٹھنے سے منع فرمایا کہ اس کے جسم کا کچھ حصہ دھوپ میں ہو اور کچھ سائے میں اور فرمایا: یہ تو شیطان کی بیٹھک ہے۔ [الفتح الربانی/بيان آداب المجالس/حدیث: 9489]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الحاكم: 4/ 271، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15421 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15499»
وضاحت: فوائد: … شارح ابوداود علامہ عظیم آبادی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں: جب انسان کے بعض حصے پر دھوپ اور بعض پر سایہ پڑ رہا ہو تو وہ وہاں سے کھڑا ہو جائے اور مکمل سائے میںیا مکمل دھوپ میں بیٹھ جائے، کیونکہ اگر وہ وہیں بیٹھا رہا تو اس کے مزاج میں فساد آ جائے گا، کیونکہ اس کا جسم دھوپ اور سائے جیسی دو متضاد چیزوں کی لپیٹ میں ہو گا۔ لیکن مناسب یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بیٹھک سے منع کرنے کے لیے جو علت بیان کی ہے کہ یہ تو شیطان کی بیٹھک ہے، اسی پر اکتفا کیا جائے۔ (عون المعبود)
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9490
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ جَالِسًا فِي الشَّمْسِ فَقَلَصَتْ عَنْهُ فَلْيَتَحَوَّلْ مِنْ مَجْلِسِهِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی دھوپ میں بیٹھا ہو اور پھر دھوپ اس سے ہٹ جائے تو اس کو چاہیے کہ اس مجلس سے پھر جائے۔ [الفتح الربانی/بيان آداب المجالس/حدیث: 9490]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه ابوداود: 4821، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8976 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8964»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9491
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْمَجَالِسَ ثَلَاثَةٌ سَالِمٌ وَغَانِمٌ وَشَاجِبٌ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجلسیں تین قسم کی ہوتی ہیں، سلامتی والی، غنیمت والی اور بے تکی باتوں اور بک بک والی۔ [الفتح الربانی/بيان آداب المجالس/حدیث: 9491]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، لضعف ابن لھيعة، ولضعف رواية دراج عن ابي الھيثم، أخرجه ابويعلي: 1384، وابن حبان: 585، والطبراني في الكبير: 17/ 837، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11718 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11741»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 9492
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَجَالِسُ بِالْأَمَانَةِ إِلَّا ثَلَاثَةَ مَجَالِسَ مَجْلِسٌ يُسْفَكُ فِيهِ دَمٌ حَرَامٌ وَمَجْلِسٌ يُسْتَحَلُّ فِيهِ فَرْجٌ حَرَامٌ وَمَجْلِسٌ يُسْتَحَلُّ فِيهِ مَالٌ مِنْ غَيْرِ حَقٍّ
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجالسیں امانت کے ساتھ ہوتی ہیں، ما سوائے تین مجلسوں کے، (۱) وہ مجلس جس میں حرام خون بہایا جائے، (۲) وہ مجلس جس میں حرام شرمگاہ کو حلال سمجھ لیا جائے اور (۳) وہ مجلس جس میں بغیر کسی حق کے مال کو حلال سمجھا جائے۔ [الفتح الربانی/بيان آداب المجالس/حدیث: 9492]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة ابن اخي جابر بن عبدا لله، أخرجه ابوداود: 4869، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14693 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14749»
وضاحت: فوائد: … مجلسیں امانت ہی ہوتی ہیں، لیکن جب کسی مسلمان یا مجلس کے شرّ سے دوسرے کو نقصان پہنچنے کا امکان ہو تو پھر اس قدر راز کو فاش کرنا ضروری ہے کہ لوگوں کو اس نقصان سے بچایا جا سکے۔
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 9493
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ قَوْمٍ جَلَسُوا مَجْلِسًا لَمْ يَذْكُرُوا اللَّهَ فِيهِ إِلَّا رَأَوْهُ حَسْرَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہماسے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس مجلس میں لوگ اللہ تعالیٰ کا ذکر نہیں کرتے، وہ قیامت والے دن اس مجلس کو اپنے لیے باعث ِ حسرت خیال کریں گے۔ [الفتح الربانی/بيان آداب المجالس/حدیث: 9493]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7093 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7093»
الحكم على الحديث: صحیح