Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْقَصَّاصِينَ
قصہ گوہ لوگوں کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10422
عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْخَوْلَانِيِّ قَالَ دَخَلَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ فَإِذَا كَعْبٌ يَقُصُّ فَقَالَ مَنْ هَذَا قَالُوا كَعْبٌ يَقُصُّ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَقُصُّ إِلَّا أَمِيرٌ أَوْ مَأْمُورٌ أَوْ مُخْتَالٌ قَالَ فَبَلَغَ ذَلِكَ كَعْبًا فَمَا رُئِيَ يَقُصُّ بَعْدُ
۔ عبد الجبار خولانی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ایک صحابی مسجد میں داخل ہوا، جبکہ سیدنا کعب وعظ کر رہے تھے، اس نے کہا: یہ کیا ہے؟ لوگوں نے کہا: سیدنا کعب رضی اللہ عنہ وعظ کر رہے ہیں، اس نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: قصے بیان نہیں کرتا مگر امیر،یا مامور،یا متکبر۔ جب یہ بات سیدنا کعب رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوئی تو اس کے بعد ان کو وعظ کرتے ہوئے نہیں پایا گیا۔ [الفتح الربانی/قصص بني إسرائيل وغيرهم حتى نهاية الفترة، وبيان أحوال العرب فى الجاهلية/حدیث: 10422]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18050 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18214»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10423
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَقُصُّ عَلَى النَّاسِ إِلَّا أَمِيرٌ أَوْ مَأْمُورٌ أَوْ مُرَاءٍ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کو قصے بیان نہیں کرتا، مگر امیر،یا ما مور، یا ریاکار۔ [الفتح الربانی/قصص بني إسرائيل وغيرهم حتى نهاية الفترة، وبيان أحوال العرب فى الجاهلية/حدیث: 10423]
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه ابن ماجه: 3753، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6661 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6661»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10424
عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَقُصُّ عَلَى النَّاسِ إِلَّا أَمِيرٌ أَوْ مَأْمُورٌ أَوْ مُخْتَالٌ (وَفِي لَفْظٍ) لَا يَقُصُّ إِلَّا أَمِيرٌ أَوْ مَأْمُورٌ أَوْ مُتَكَلِّفٌ
۔ سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں سے قصہ گوئی نہیں کرتا، مگر امیریا مامور یا متکبر، ایک روایت میں ہے: وعظ نہیں کرتا مگر امیریا مامور یا تکلف کرنے والا۔ اس جگہ قصہ گوئی سے مراد وعظ و نصیحت کرنا ہے۔ اسی لیے وعظ و نصیحت کرنے والے کو قاصٌ کہتے ہیں۔ [الفتح الربانی/قصص بني إسرائيل وغيرهم حتى نهاية الفترة، وبيان أحوال العرب فى الجاهلية/حدیث: 10424]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23884 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24494»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ مذہب، حکومت کی ذمہ داری ہے، جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور خلفائے راشدین کے زمانے میں دیکھا گیا، ان زمانوں میں خطیب، امام، مفتی، قاضی اور والی کا تقرر یا اس کی معزولی حاکم وقت کی طرف سے ہوتی تھی۔ جہاں حکومت یہ ذمہ داری ادا نہیں کرے گی، وہاں متعصب فرقہ وارانہ ماحول ہو گا اور اسلام کے محاسن منظرِ عام پر نہیں آسکیں گے۔
تکبر اور تکلف کرنے والے سے مراد وہ شخص ہے جو امیر کے حکم کے بغیر تقاریر شروع کر دیتاہے، اس کا مقصد ریاکارییا تکبر یا ریاست کا حصول ہوتا ہے، اگر اس کا مقصد اسلام کی تبلیغ ہو تو وہ حاکم سے اجازت لے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10425
عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ يُقَصُّ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَا أَبِي بَكْرٍ وَكَانَ أَوَّلُ مَنْ قَصَّ تَمِيمًا الدَّارِيَّ اسْتَأْذَنَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنْ يَقُصَّ عَلَى النَّاسِ قَائِمًا فَأَذِنَ لَهُ عُمَرُ
۔ سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے زمانوں میں قصے بیان نہیں کیے جاتے تھے، سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ نے سب سے پہلے یہ کام کیا، انھوں نے پہلے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے لوگوں پر کھڑے ہو کر قصے بیان کرنے کے لیے اجازت طلب کی، پس انھوں نے ان کو اجازت دے دی۔ [الفتح الربانی/قصص بني إسرائيل وغيرهم حتى نهاية الفترة، وبيان أحوال العرب فى الجاهلية/حدیث: 10425]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف من اجل بقية بن الوليد الحمصي، فھو مدلس تدليس التسوية، أخرجه الطبراني في الكبير: 6656، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15715 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15806»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10426
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ قَالَ سَمِعْتُ كُرْدُوسَ بْنَ قَيْسٍ وَكَانَ قَاصَّ الْعَامَّةِ بِالْكُوفَةِ قَالَ أَخْبَرَنِي رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ بَدْرٍ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَأَنْ أَقْعُدَ فِي مِثْلِ هَذَا الْمَجْلِسِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُعْتِقَ أَرْبَعَ رِقَابٍ قَالَ شُعْبَةُ فَقُلْتُ أَيُّ مَجْلِسٍ تَعْنِي قَالَ كَانَ قَاصًّا
۔ کردوس بن قیس، جو کہ کوفہ میں عام لوگوں کو وعظ و نصیحت کرنے والے تھے، سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اصحاب ِ بدر میں سے ایک صحابی نے مجھے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس قسم کی مجلس میں بیٹھنا مجھے چار غلاموں کو آزاد کرنے سے زیادہ پسند ہے۔ امام شعبہ کہتے ہیں: میں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد کون سی مجلس ہے؟ اس نے کہا: وعظ و نصیحت والی مجلس۔ [الفتح الربانی/قصص بني إسرائيل وغيرهم حتى نهاية الفترة، وبيان أحوال العرب فى الجاهلية/حدیث: 10426]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، لجھالة كردوس بن قيس، أخرجه الدارمي: 2/ 319، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15900 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15995»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10427
قَالَ عَبْدُ اللَّهِ سَمِعْتُ مُصْعَبَ بْنَ الزُّبَيْرِيِّ قَالَ جَاءَ أَبُو طَلْحَةَ الْقَاصُّ عَلَى مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ فَقَالَ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ إِنَّ قَوْمًا قَدْ نَهَوْنِي أَنْ أَقُصَّ هَذَا الْحَدِيثَ صَلَّى اللَّهُ عَلَى إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ وَعَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى أَهْلِ بَيْتِهِ وَعَلَى أَزْوَاجِهِ فَقَالَ مَالِكٌ حَدِّثْ بِهِ وَقُصَّ بِهِ
۔ مصعب زبیری کہتے ہیں: قصہ گو ابو طلحہ نے امام مالک بن انس رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا: اے ابو عبد اللہ! بعض لوگوں نے مجھے یہ حدیث بیان کرنے سے منع کیا ہے: اللہ تعالیٰ ابراہیم علیہ السلام پر رحمت بھیجے، بیشک تو تعریف کیا ہوا اور برزگی والا ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت پر اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویوں پر؟ امام مالک نے کہا: تو اس حدیث کو بیان کر۔ [الفتح الربانی/قصص بني إسرائيل وغيرهم حتى نهاية الفترة، وبيان أحوال العرب فى الجاهلية/حدیث: 10427]
تخریج الحدیث: «ھذا الاثر مقطوع، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16588 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16705»
وضاحت: فوائد: … مؤطا امام مالک (۱/ ۱۶۵) میں مرفوع حدیثیوں ہے:
سیدنا ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم آپ پر درود کیسے بھیجیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((قُوْلُوا: اللَّھُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَاَزْوَاجِہِ وَذُرِّیَّتِہِ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی آلِ اِبْرَاہِیْمَ، وَبَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَاَزْوَاجِہِ وَذُرِّیَّتِہِ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی آلِ اِبْرَاہِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔)) … تم اس طرح کہو: اے اللہ! تو رحمت بھیج محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر، آپ کی بیویوں اور اولاد پر، جیسا کہ تو نے رحمت کی ابراہیم علیہ السلام کی آل پر، اور تو برکت نازل فرما محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویوں اور اولاد پر، جیسا کہ تو نے برکت نازل فرمائی ابراہیم علیہ السلام کی آل پر، بیشک تو تعریف کیا گیا اور بزرگی والا ہے۔ (صحیح بخاری: ۳۳۶۹، صحیح مسلم: ۴۰۷، واللفظ للامام مالک)

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10428
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَاصٍّ يَقُصُّ فَأَمْسَكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قُصَّ فَلَانْ أَقْعُدَ غُدْوَةً إِلَى أَنْ تُشْرِقَ الشَّمْسُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُعْتِقَ أَرْبَعَ رِقَابٍ وَبَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُعْتِقَ أَرْبَعَ رِقَابٍ
۔ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک قصہ گو کے پاس سے گزرے، وہ قصہ گوئی کر رہا تھا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھ کر رک گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قصہ گوئی کرو، اگر میں نماز فجر سے طلوع آفتا ب تک ایسی مجلس میں بیٹھوں تو یہ مجھے چار گردنیں آزاد کرنے سے زیادہ محبوب ہو گا، اگر میں عصر سے غروب ِ آفتاب تک بیٹھوں تو یہ عمل بھی مجھے چار غلاموں کو آزاد کرنے سے زیادہ پسند ہو گا۔ [الفتح الربانی/قصص بني إسرائيل وغيرهم حتى نهاية الفترة، وبيان أحوال العرب فى الجاهلية/حدیث: 10428]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف من اجل ابي الجعد، أخرجه الطبراني في الكبير: 8013، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22254 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22609»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. بَابُ مَا جَاءَ فِي الرِّوَايَةِ وَ التَّحْدِيثِ عَنْ أَخْبَارِ بَنِي إِسْرَائِيلَ
بنی اسرائیل کی روایات بیان کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10429
عَنْ أَبِي نَمْلَةَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا حَدَّثَكُمْ أَهْلُ الْكِتَابِ فَلَا تُصَدِّقُوهُمْ وَلَا تُكَذِّبُوهُمْ وَقُولُوا آمَنَّا بِاللَّهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ فَإِنْ كَانَ حَقًّا لَمْ تُكَذِّبُوهُمْ وَإِنْ كَانَ بَاطِلًا لَمْ تُصَدِّقُوهُمْ
۔ سیدنا ابو نملہ انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اہل کتاب تم سے بیان کریں تو نہ ان کی تصدیق کرو اور نہ تکذیب، بلکہ کہو: ہم اللہ تعالی، اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے ہیں، پس اگر ان کی بات حق ہو گی تو تم نے اس کی تکذیب نہیں کی اور اگر وہ باطل ہو گی تو تم نے اس کی تصدیق نہیں کی۔ [الفتح الربانی/قصص بني إسرائيل وغيرهم حتى نهاية الفترة، وبيان أحوال العرب فى الجاهلية/حدیث: 10429]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابوداود: 3644، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17225 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17357»
وضاحت: فوائد: … چونکہ تورات اور انجیل میں تحریف ہو چکی ہے اور یہودو نصاری کے مذہبی ادب میں کوئی ایسا ضابطہ باقی نہیں رہا، جس کے ذریعےیہ معلوم کیا جا سکے کہ ان آسمانی کتابوں کا فلاں حصہ حقیقت کے مطابق ہے اور فلاں حصہ مخالف، تحقیق کے وقت اصل متن (ٹیکسٹ) کی طرف رجوع کیا جاتا ہے اور ان کتابوں کی زبان ہی سرے سے مفقود ہو گئی ہے، اس لیے بنی اسرائیل کی روایات سن لینے پر اکتفا کرنا چاہیے، نہ ان کی تصدیق کی جائے، کیونکہ ممکن ہے کہ وہ جھوٹ ہوں اور نہ ان کی تکذیب کی جائے، کیونکہ ممکن ہے کہ وہ صحیح ہوں۔
ہاں اسلام میں تورات اور انجیل کی جس بات کی وضاحت کی جا چکی ہے کہ وہ حقیقت کے مطابق ہے یا وہ تحریف شدہ ہے، اس کا معاملہ اور ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10430
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تَسْأَلُوا أَهْلَ الْكِتَابِ عَنْ شَيْءٍ فَإِنَّهُمْ لَنْ يَهْدُوكُمْ وَقَدْ ضَلُّوا فَإِنَّكُمْ إِمَّا أَنْ تُصَدِّقُوا بِبَاطِلٍ أَوْ تُكَذِّبُوا بِحَقٍّ فَإِنَّهُ لَوْ كَانَ مُوسَى حَيًّا بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ مَا حَلَّ لَهُ إِلَّا أَنْ يَتَّبِعَنِي
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اہل کتاب سے کسی چیز کے بارے میں سوال نہ کیا کرو، کیونکہ وہ تمہاری رہنمائی نہیں کریں گے، وہ تو خود گمراہ ہو چکے ہیں، اس طرح تم یا تو باطل کی تصدیق کرو گے یا حق کی تکذیب، پس بیشک شان یہ ہے کہ اگر موسی علیہ السلام بھی تمہارے ما بین زندہ ہو جائیں تو ان کے لیے کوئی چیز حلال نہیں ہو گی، مگر یہ کہ وہ میری پیروی کریں۔ [الفتح الربانی/قصص بني إسرائيل وغيرهم حتى نهاية الفترة، وبيان أحوال العرب فى الجاهلية/حدیث: 10430]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، لضعف مجالد بن سعيد، أخرجه البزار: 124، وابويعلي: 2135، والبيھقي: 2/ 10، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14631 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14685»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10431
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُنَا عَامَّةَ لَيْلِهِ عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ (وَفِي رِوَايَةٍ يُحَدِّثُنَا عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ حَتَّى يُصْبِحَ) لَا يَقُومُ إِلَّا إِلَى عُظْمِ صَلَاةٍ
۔ عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں رات کا اکثر حصہ بنو اسرائیل کے بارے میں(روایات) بیان کرتے رہتے، صرف فرض نماز کے لیے کھڑے ہوتے تھے۔ [الفتح الربانی/قصص بني إسرائيل وغيرهم حتى نهاية الفترة، وبيان أحوال العرب فى الجاهلية/حدیث: 10431]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لكن من حديث عبد الله بن عمرو، أخرجه البزار: 3596، والطبراني في الكبير: 18/ 510، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19921 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20163»
وضاحت: فوائد: … بنواسرائیل کی تاریخ میں کئی سبق آموز واقعات کا تذکرہ ملتا ہے، جیسا کہ ایک مثال ذیل میں دی گئی ہے، وہ لوگ اللہ تعالیٰ کے انعامات کے مستحق بھی بنتے رہے اور اس کے عذابوں کے حقدار بھی ٹھہرتے رہے، ان کے بعض احکام امت ِ مسلمہ کے حق میں باقی ہیں اور بعض ختم ہو چکے ہیں۔
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((حَدِّثُوْا عَنْ بَنِی إِسْرَائِیْلَ وَلَا حَرَجَ، فَإِنَّہُ کَانَتْ فِیْھِمُ الْأَعَاجِیْبُ۔)) ثُمَّ أَنْشَأَ یُحَدِّثُ، قَالَ: ((خَرَجَتْ طَائِفَۃٌ مِنْ بَنِی إِسْرَائِیْلَ حَتّٰی أَتَوْا مَقْبَرَۃً لَّھُمْ مِنْ مَقَابِرِھِمْ، فَقَالُوْا: لَوْصَلَّیْنَا رَکْعَتَیْنِ، وَدَعَوْنَا اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ أَن یُخْرِجَ لَنَا رَجُلاً مِمَّنْ قَدْ مَاتَ نَسْأَلُہُ عَنِ الْمَوْتِ، قَالَ: فَفَعَلُوْا، فَبَیْنَمَا ھُمْ کَذٰلِکَ إِذْ أَطْلَعَ رَجُلٌ رَأْسَہُ مِنْ قَبْرٍ مِْنْ تِلْکَ الْمَقَابِرِ، خِلَاسِیٌّ،بَیْنَ عَیْنَیْہِ أَثَرُ السُّجُوْدِ فَقَالَ: یَاھٰؤُلَائِ مَاأَرَدتُّمْ إِلَیَّ؟ فَقَدْ مُتُّ مُنْذُ مِئَۃِ سَنَۃٍ، فَمَا سَکَنَتْ عَنِّی حَرَارَۃُ الْمَوْتِ حَتّٰی کَانَ الآنَ، فَادْعُوْا اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ لِییُعِیْدُنِی کَمَا کُنْتُ۔)) … بنی اسرائیل سے (ان کی روایات) بیان کر سکتے ہو، اس میں کوئی حرج نہیں ہے، کیونکہ ان میں کچھ انوکھے امور بھی پائے جاتے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود فرمایا: بنی اسرائیل کا ایک گروہ نکلا، وہ اپنے ایک قبرستان کے پاس سے گزرا، وہ کہنے لگے: اگر ہم دو رکعت نماز پڑھیں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ ہمارے لیے کسی مردہ کو (زندہ کر کے اسے اس کی قبر) سے نکالے، تاکہ ہم اس سے موت کے بارے میں دریافت کر سکیں۔ پس انھوں نے ایسے ہی کیا، وہ اس طرح کر رہے تھے کہ ایک گندمی رنگ کے آدمی نے قبر سے اپنا سر نکالا، اس کی پیشانی پر سجدوں کا نشان تھا، اس نے کہا: اوئے!تم مجھ سے کیا چاہتے ہو؟ میں آج سے سو سال پہلے مرا تھا، لیکن ابھی تک موت کی حرارت ختم نہیں ہوئی، اب اللہ تعالیٰ سے دعا کرو کہ وہ مجھے اسی حالت میں لوٹا دے، جس میں میں تھا۔
(ابن ابی شیبۃ: ۹/ ۶۲، مسند بزار: ۱/۱۰۸/۱۹۲، صحیحہ: ۲۹۲۶)
اس حدیث کا اصل موضوع فکر آخرت ہے، کہ سوسال تک موت کی حرارت ختم نہیں ہوئی۔ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بنواسرائیل سے ان کی روایات لی جا سکتی ہے، لیکن نہ ان کی تصدیق کی جائے اور نہ تکذیب۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں