الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابُ مَجِي، عَدِي بْن حَاتِمِ الطَّانِي رضي الله عنه وَقِصَّةِ إِسْلَامِهِ
عدی بن حاتم طائی رضی اللہ عنہ کی آمد اور قبولِ اسلام
حدیث نمبر: 10925
عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ جَاءَتْ خَيْلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَوْ قَالَ رُسُلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا بِعَقْرَبَ فَأَخَذُوا عَمَّتِي وَنَاسًا قَالَ فَلَمَّا أَتَوْا بِهِمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَصَفُّوا لَهُ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ نَأَى الْوَافِدُ وَانْقَطَعَ الْوَلَدُ وَأَنَا عَجُوزٌ كَبِيرَةٌ مَا بِي مِنْ خِدْمَةٍ فَمُنَّ عَلَيَّ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْكَ قَالَ مَنْ وَافِدُكِ قَالَتْ عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ قَالَ الَّذِي فَرَّ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ قَالَتْ فَمَنَّ عَلَيَّ قَالَتْ فَلَمَّا رَجَعَ وَرَجُلٌ إِلَى جَنْبِهِ نَرَى أَنَّهُ عَلِيٌّ قَالَ سَلِيهِ حِمْلَانًا قَالَ فَسَأَلَتْهُ فَأَمَرَ لَهَا قَالَتْ فَأَتَتْنِي فَقَالَتْ لَقَدْ فَعَلْتَ فَعْلَةً مَا كَانَ أَبُوكَ يَفْعَلُهَا قَالَتْ ائْتِهِ رَاغِبًا أَوْ رَاهِبًا فَقَدْ أَتَاهُ فُلَانٌ فَأَصَابَ مِنْهُ وَأَتَاهُ فُلَانٌ فَأَصَابَ مِنْهُ قَالَ فَأَتَيْتُهُ فَإِذَا عِنْدَهُ امْرَأَةٌ وَصِبْيَانٌ أَوْ صَبِيٌّ فَذَكَرَ قُرْبَهُمْ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَعَرَفْتُ أَنَّهُ لَيْسَ مَلِكَ كِسْرَى وَلَا قَيْصَرَ فَقَالَ لَهُ يَا عَدِيُّ بْنَ حَاتِمٍ مَا أَفَرَّكَ أَنْ يُقَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَهَلْ مِنْ إِلَهٍ إِلَّا اللَّهُ مَا أَفَرَّكَ أَنْ يُقَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ فَهَلْ شَيْءٌ هُوَ أَكْبَرُ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ فَأَسْلَمْتُ فَرَأَيْتُ وَجْهَهُ اسْتَبْشَرَ وَقَالَ إِنَّ الْمَغْضُوبَ عَلَيْهِمْ الْيَهُودَ وَالضَّالِّينَ النَّصَارَى ثُمَّ سَأَلُوهُ فَحَمِدَ اللَّهَ تَعَالَى وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ فَلَكُمْ أَيُّهَا النَّاسُ أَنْ تَرْضَخُوا مِنَ الْفَضْلِ ارْتَضَخَ امْرُؤٌ بِصَاعٍ بِبَعْضِ صَاعٍ بِقَبْضَةٍ بِبَعْضِ قَبْضَةٍ قَالَ شُعْبَةُ وَأَكْثَرُ عِلْمِي أَنَّهُ قَالَ بِتَمْرَةٍ بِشِقِّ تَمْرَةٍ إِنَّ أَحَدَكُمْ لَاقِي اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَقَائِلٌ مَا أَقُولُ أَلَمْ أَجْعَلْكَ سَمِيعًا بَصِيرًا أَلَمْ أَجْعَلْ لَكَ مَالًا وَوَلَدًا فَمَاذَا قَدَّمْتَ فَيَنْظُرُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ وَعَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ فَلَا يَجِدُ شَيْئًا فَمَا يَتَّقِي النَّارَ إِلَّا بِوَجْهِهِ فَاتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ فَإِنْ لَمْ تَجِدُوهُ فَبِكَلِمَةٍ لَيِّنَةٍ إِنِّي لَا أَخْشَى عَلَيْكُمُ الْفَاقَةَ لَيَنْصُرَنَّكُمُ اللَّهُ تَعَالَى وَلَيُعْطِيَنَّكُمْ أَوْ لَيَفْتَحَنَّ لَكُمْ حَتَّى تَسِيرَ الظَّعِينَةُ بَيْنَ الْحِيرَةِ وَيَثْرِبَ أَوْ أَكْثَرَ مَا تَخَافُ السَّرَقَ عَلَى ظَعِينَتِهَا قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ثَنَاهُ شُعْبَةُ مَا لَا أُحْصِيهِ وَقَرَأْتُهُ عَلَيْهِ
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روانہ کئے ہوئے گھڑ سوار آئے تو میں ان دنوں یمامہ کے علاقے میں عقرب کے مقام پر تھا، وہ لوگ میری پھوپھی اور چند لوگوں کو پکڑ کر لے گئے، جب وہ ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے لے گئے تو ان کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کھڑا کر دیا گیا،میری پھوپھی نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمارے مردوں میں سے جو آپ کی خدمت میں آسکتا تھا، وہ بہت دور ہے، بچے جدا ہو گئے، میں بہت بوڑھی ہوں، میں کچھ کر بھی نہیں سکتی، آپ مجھ پر احسان کریں، اللہ آپ پر احسان کرے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: تمہاری طرف سے کون مرد آسکتا تھا؟ اس نے کہا: عدی بن حاتم، آپ نے فرمایا: وہی جو اللہ اور اس کے رسول سے بچتے ہوئے فرار ہو گیا ہے؟ اس نے کہا: بہرحال آپ مجھ پر احسان کریں، وہ کہتی ہیں: جب اللہ کے رسول واپس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک اور آدمی بھی تھا، ہمارا خیال ہے کہ وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے، اس آدمی نے میری پھوپھی سے کہا: تم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سواری طلب کرو، اس نے سواری کی درخواست کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ اسے سواری مہیا کر دی جائے۔ عدی کہتے ہیں: میری پھوپھی میرے پاس آئیتو اس نے کہا کہ تو نے جنگ سے فرار ہو کر ایسا بزدلانہ کام کیا ہے کہ تمہارا باپ ایسا نہیں کرتا تھا۔ تم دین کی رغبت کے ساتھ یا ڈرتے ہوئے جیسے بھی ہو، اس نبی کے پا س پہنچو، فلاں اور فلاں آدمی ان کے پاس گیا تو اسے بہت کچھ ملا، عدی کہتے ہیں: میں آپ کی خدمت میں آیا تو اس وقت آپ کے پاس ایک عورت اور چند بچے، یا ایک بچہ موجود تھا، عدی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب ہونے کا ذکر کیا، وہ کہتے ہیں کہ میں جان گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسریٰ اور قیصر جیسے بادشاہ نہیں ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عدی سے فرمایا: تم لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ کہنے کے ڈر سے کیوں فرار ہو ئے؟ کیا اللہ کے سوا کوئی اور معبود ہے، تم اللہ اکبر کہنے سے کیوں بھاگ گئے؟ کیا اللہ تعالیٰ سے بھی بڑا کوئی ہے؟ عدی کہتے ہیں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی باتیں سن کر میں مسلمان ہو گیا، میں نے دیکھا کہ آپ کا چہرہ دمک اُٹھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مغضوب علیمیعنی جن لوگوں پر اللہ کا غضب ہوا، ان سے مراد یہودی ہیں اور ضالینیعنی گمراہ لوگوں سے عیسائی مراد ہیں۔ کچھ بدوؤں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کچھ مانگا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثناء بیان کی اور فرمایا: لوگو! تم اپنی ضرورت سے زائد اشیاء میں سے کچھ نہ کچھ دو۔‘ یہ سن کر کوئی ایک صاع اور کوئی اس سے بھی کم اور کوئی مٹھی بھر لے کر آیا کوئی اس سے کم لایا۔ شعبہ نے بیان کیا کہ میرے علم کے مطابق کوئی کھجور لایا اور کوئی کھجور کا ایک ٹکڑا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرنے والا ہے تو اللہ اس سے فرمائے گا کیا میں نے تجھے سننے والا دیکھنے والا نہیں بنایا تھا؟ کیا میں نے تجھے مال و اولاد سے نہیں نوازا تھا؟ تو کیا کر کے آیا ہے؟ یہ آدمی اپنے آگے پیچھے، دائیں بائیں دیکھے گا تو اپنے لیے کچھ بھی نہیں پائے گا، وہ اپنے چہرے سے ہی آگ سے بچنے کی کوشس کرے گا، مگر بچ نہیں سکے گا، لہذا لوگو! تم جہنم سے بچنے کا سامان کر لو، اگر چہ وہ کھجور کا ایک ٹکڑا ہی کیوں نہیں ہو، اگر تم اتنی چیز بھی نہیں پاؤ تو اچھی بات کر کے ہی جہنم سے بچاؤ کا سامان کر لو، مجھے تم پر فقرو فاقہ کا ڈر نہیں، اللہ تعالیٰ ضرورتمہاری مدد کرے گا اور تمہیں بہت کچھ عطا فرمائے گا، یایوں فرمایا کہ تمہیں ضرور فتوحات سے نوازے گا، یہاں تک کہ ایک اونٹ سوار خاتون حیرہ سے یثرب تک کا یا اس سے بھی زیادہ سفر کر ے گی اور اسے چوری کا کوئی ڈر خوف نہیں ہو گا۔ امام احمد کے شیخ محمد بن جعفر کہتے ہیں کہ ہمارے استاذ شعبہ نے بے شمار مرتبہ یہ حدیث ہمیں سنائی اور میں نے بھی ان کے سامنے بہت مرتبہ پڑھی،یعنییہ حدیث اہل علم کے ہاں ثابت اور مشہور ہے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة التاسعة للهجرة/حدیث: 10925]
تخریج الحدیث: «بعضه صحيح، وفي ھذا الاسناد عبّاد بن حبيش لايعرف، أخرجه الترمذي: 2953، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19381 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19600»
وضاحت: فوائد: … جامع ترمذی کی روایت، جو کہ صحیح ہے، کا سیاق درج ذیل ہے:
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: أَتَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وَہُوَ جَالِسٌ فِی الْمَسْجِدِ فَقَالَ الْقَوْمُ: ہٰذَا عَدِیُّ بْنُ حَاتِمٍ وَجِئْتُ بِغَیْرِ أَمَانٍ وَلَا کِتَابٍ فَلَمَّا دُفِعْتُ إِلَیْہِ أَخَذَ بِیَدِی وَقَدْ کَانَ قَالَ قَبْلَ ذٰلِکَ إِنِّی لَأَرْجُو أَنْ یَجْعَلَ اللّٰہُ یَدَہُ فِییَدِی، قَالَ فَقَامَ فَلَقِیَتْہُ امْرَأَۃٌ وَصَبِیٌّ مَعَہَا فَقَالَا: إِنَّ لَنَا إِلَیْکَ حَاجَۃً، فَقَامَ مَعَہُمَا حَتّٰی قَضٰی حَاجَتَہُمَا ثُمَّ أَخَذَ بِیَدِی حَتّٰی أَتٰی بِی دَارَہُ فَأَلْقَتْ لَہُ الْوَلِیدَۃُ وِسَادَۃً فَجَلَسَ عَلَیْہَا وَجَلَسْتُ بَیْنَیَدَیْہِ فَحَمِدَ اللّٰہَ وَأَثْنٰی عَلَیْہِ ثُمَّ قَالَ: ((مَا یُفِرُّکَ أَنْ تَقُولَ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ فَہَلْ تَعْلَمُ مِنْ إِلٰہٍ سِوَی اللّٰہِ؟)) قَالَ: قُلْتُ: لَا، قَالَ ثُمَّ تَکَلَّمَ سَاعَۃً ثُمَّ قَالَ: ((إِنَّمَا تَفِرُّ أَنْ تَقُولَ اللّٰہُ أَکْبَرُ وَتَعْلَمُ أَنَّ شَیْئًا أَکْبَرُ مِنَ اللّٰہِ؟)) قَالَ: قُلْتُ: لَا، قَالَ: ((فَإِنَّ الْیَہُودَ مَغْضُوبٌ عَلَیْہِمْ وَإِنَّ النَّصَارٰی ضُلَّالٌ۔)) قَالَ: قُلْتُ: فَإِنِّی جِئْتُ مُسْلِمًا قَالَ فَرَأَیْتُ وَجْہَہُ تَبَسَّطَ فَرَحًا قَالَ ثُمَّ أَمَرَ بِی فَأُنْزِلْتُ عِنْدَ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ جَعَلْتُ أَغْشَاہُ آتِیہِ طَرَفَیِ النَّہَارِ قَالَ فَبَیْنَمَا أَنَا عِنْدَہُ عَشِیَّۃً إِذْ جَائَ ہُ قَوْمٌ فِی ثِیَابٍ مِنَ الصُّوفِ مِنْ ہٰذِہِ النِّمَارِ قَالَ فَصَلّٰی وَقَامَ فَحَثَّ عَلَیْہِمْ ثُمَّ قَالَ: ((وَلَوْ صَاعٌ وَلَوْ بِنِصْفِ صَاعٍ وَلَوْ بِقَبْضَۃٍ وَلَوْ بِبَعْضِ قَبْضَۃٍیَقِی أَحَدُکُمْ وَجْہَہُ حَرَّ جَہَنَّمَ أَوْ النَّارِ وَلَوْ بِتَمْرَۃٍ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَۃٍ فَإِنَّ أَحَدَکُمْ لَاقِی اللّٰہِ وَقَائِلٌ لَہُ مَا أَقُولُ لَکُمْ أَلَمْ أَجْعَلْ لَکَ سَمْعًا وَبَصَرًا فَیَقُولُ بَلٰی فَیَقُولُ أَلَمْ أَجْعَلْ لَکَ مَالًا وَوَلَدًا فَیَقُولُ بَلٰی فَیَقُولُ أَیْنَ مَا قَدَّمْتَ لِنَفْسِکَ فَیَنْظُرُ قُدَّامَہُ وَبَعْدَہُ وَعَنْ یَمِینِہِ وَعَنْ شِمَالِہِ ثُمَّ لَا یَجِدُ شَیْئًایَقِی بِہِ وَجْہَہُ حَرَّ جَہَنَّمَ لِیَقِ أَحَدُکُمْ وَجْہَہُ النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَۃٍ فَإِنْ لَمْ یَجِدْ فَبِکَلِمَۃٍ طَیِّبَۃٍ فَإِنِّی لَا أَخَافُ عَلَیْکُمْ الْفَاقَۃَ فَإِنَّ اللّٰہَ نَاصِرُکُمْ وَمُعْطِیکُمْ حَتّٰی تَسِیرَ الظَّعِینَۃُ فِیمَا بَیْنَیَثْرِبَ وَالْحِیرَۃِ أَوْ أَکْثَرَ مَا تَخَافُ عَلٰی مَطِیَّتِہَا السَّرَقَ قَالَ فَجَعَلْتُ أَقُولُ فِی نَفْسِی فَأَیْنَ لُصُوصُ طَیِّیئٍ۔))
میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے۔ لوگوں نے عرض کیا: یہ عدی بن حاتم ہیں، میں کسی امان اور تحریر کے بغیر آ گیا تھا۔ جب مجھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے جایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہلے ہی صحابہ سے کہہ چکے تھے کہ مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کا ہاتھ میرے ہاتھ میں دیں گے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے لے کر کھڑے ہوئے تو ایک عورت اور ایک بچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور کہا کہ ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کام ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے ساتھ ہو لئے اور ان کا کام کر کے دوبارہ میرا ہاتھ پکڑا اور اپنے گھر لے گئے۔ ایک بچی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے بچھونا بچھا دیا جس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھ گئے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے بیٹھ گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ کی حمدوثناء بیان کرنے کے بعد مجھ سے پوچھا کہ تمہیں لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ کہنے سے کونسی چیز روکتی ہے، کیا تم اللہ کے علاوہ کسی معبود کو جانتے ہو؟ میں نے عرض کیا: جی نہیں، پھر آپ کچھ دیر باتیں کرتے رہے پھر فرمایا: تم اس لئے اللّٰہُ أَکْبَرُ کہنے سے راہ فرار اختیار کرتے ہو کہ تم اس سے کوئی بڑی چیز جا نتے ہو؟ میں نے عرض کیا: جی نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہودیوں پر اللہ کا غضب ہے اور نصاری گمراہ ہیں۔ عدی کہتے ہیں: پھر میں نے کہا کہ میں خالص مسلمان ہوں۔ عدی کہتے ہیں پھر میں نے دیکھا کہ (یہ سن کر) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ خوشی سے کھل اٹھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم دیا اور میں ایک انصاری کے ہاں (بطور مہمان) رہنے لگا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں صبح و شام حاضر ہونے لگا۔ ایک دن رات کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھا کہ ایک قوم آئی۔ انہوں نے اون کی دھاری دار کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھی اور خطبہ دیتے ہوئے انہیں صدقہ دینے کی ترغیب دی اور فرمایا اگرچہ ایک صاع ہو یا نصف ہو یا مٹھی ہو یا اس سے بھی کم ہو۔ تم میں سے ہر ایک (کو چاہیے کہ) اپنے چہرے کو جہنم کییا آگ کی گرمی سے بچانے کی کوشش کرے خواہ وہ ایک کھجور یا آدھی کھجور دے کر ہی ہو۔ اس لئے کہ ہر شخص کو اللہ سے ملاقات کرنی ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ اس سے وہی کچھ فرمائے گا جو میں تمہیں بتا رہا ہوں کہ کیا میں نے تمہارے کان آنکھیں نہیں بنائیں؟ وہ کہے گا ہاں کیوں نہیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا میں نے تمہیں مال و اولاد عطاء نہیں کئے۔ وہ کہے گا ہاں کیوں نہیں اللہ تعالیٰ فرمائے گا وہ کہاں ہے جو تم نے اپنے لئے آگے بھیجا تھا پھر وہ اپنے آگے پیچھے اور دائیں بائیں دیکھے گا اور اپنے چہرے کو آگ کی گرمی سے بچانے کے لئے کوئی چیز نہیں پائے گا لہذا تم میں سے ہر ایک کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو (جہنم کی) آگ سے بچائے چاہے کھجور کے ایک ٹکڑے کے ساتھ ہی ہو۔ اگر یہ بھی نہ ملے تو اچھی بات کے ذریعے ہی بچائے۔ اس لئے کہ میں تم لوگوں کے متعلق فاقے سے نہیں ڈرتا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ تمہارا مددگار اور عطاء کرنیوالا ہے یہاں تک کہ (عنقریب ایسا وقت آئے گا کہ) ایک اکیلی عورت مدینہ سے حیرہ تک سفر کرے گی اور اسے اپنی سواری کی چوری کا بھی خوف نہیں ہوگا۔ عدی کہتے ہیں کہ میں دل میں سوچنے لگا کہ اس وقت قبیلہ بنوطی کے چور کہاں ہوں گے۔
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: أَتَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وَہُوَ جَالِسٌ فِی الْمَسْجِدِ فَقَالَ الْقَوْمُ: ہٰذَا عَدِیُّ بْنُ حَاتِمٍ وَجِئْتُ بِغَیْرِ أَمَانٍ وَلَا کِتَابٍ فَلَمَّا دُفِعْتُ إِلَیْہِ أَخَذَ بِیَدِی وَقَدْ کَانَ قَالَ قَبْلَ ذٰلِکَ إِنِّی لَأَرْجُو أَنْ یَجْعَلَ اللّٰہُ یَدَہُ فِییَدِی، قَالَ فَقَامَ فَلَقِیَتْہُ امْرَأَۃٌ وَصَبِیٌّ مَعَہَا فَقَالَا: إِنَّ لَنَا إِلَیْکَ حَاجَۃً، فَقَامَ مَعَہُمَا حَتّٰی قَضٰی حَاجَتَہُمَا ثُمَّ أَخَذَ بِیَدِی حَتّٰی أَتٰی بِی دَارَہُ فَأَلْقَتْ لَہُ الْوَلِیدَۃُ وِسَادَۃً فَجَلَسَ عَلَیْہَا وَجَلَسْتُ بَیْنَیَدَیْہِ فَحَمِدَ اللّٰہَ وَأَثْنٰی عَلَیْہِ ثُمَّ قَالَ: ((مَا یُفِرُّکَ أَنْ تَقُولَ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ فَہَلْ تَعْلَمُ مِنْ إِلٰہٍ سِوَی اللّٰہِ؟)) قَالَ: قُلْتُ: لَا، قَالَ ثُمَّ تَکَلَّمَ سَاعَۃً ثُمَّ قَالَ: ((إِنَّمَا تَفِرُّ أَنْ تَقُولَ اللّٰہُ أَکْبَرُ وَتَعْلَمُ أَنَّ شَیْئًا أَکْبَرُ مِنَ اللّٰہِ؟)) قَالَ: قُلْتُ: لَا، قَالَ: ((فَإِنَّ الْیَہُودَ مَغْضُوبٌ عَلَیْہِمْ وَإِنَّ النَّصَارٰی ضُلَّالٌ۔)) قَالَ: قُلْتُ: فَإِنِّی جِئْتُ مُسْلِمًا قَالَ فَرَأَیْتُ وَجْہَہُ تَبَسَّطَ فَرَحًا قَالَ ثُمَّ أَمَرَ بِی فَأُنْزِلْتُ عِنْدَ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ جَعَلْتُ أَغْشَاہُ آتِیہِ طَرَفَیِ النَّہَارِ قَالَ فَبَیْنَمَا أَنَا عِنْدَہُ عَشِیَّۃً إِذْ جَائَ ہُ قَوْمٌ فِی ثِیَابٍ مِنَ الصُّوفِ مِنْ ہٰذِہِ النِّمَارِ قَالَ فَصَلّٰی وَقَامَ فَحَثَّ عَلَیْہِمْ ثُمَّ قَالَ: ((وَلَوْ صَاعٌ وَلَوْ بِنِصْفِ صَاعٍ وَلَوْ بِقَبْضَۃٍ وَلَوْ بِبَعْضِ قَبْضَۃٍیَقِی أَحَدُکُمْ وَجْہَہُ حَرَّ جَہَنَّمَ أَوْ النَّارِ وَلَوْ بِتَمْرَۃٍ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَۃٍ فَإِنَّ أَحَدَکُمْ لَاقِی اللّٰہِ وَقَائِلٌ لَہُ مَا أَقُولُ لَکُمْ أَلَمْ أَجْعَلْ لَکَ سَمْعًا وَبَصَرًا فَیَقُولُ بَلٰی فَیَقُولُ أَلَمْ أَجْعَلْ لَکَ مَالًا وَوَلَدًا فَیَقُولُ بَلٰی فَیَقُولُ أَیْنَ مَا قَدَّمْتَ لِنَفْسِکَ فَیَنْظُرُ قُدَّامَہُ وَبَعْدَہُ وَعَنْ یَمِینِہِ وَعَنْ شِمَالِہِ ثُمَّ لَا یَجِدُ شَیْئًایَقِی بِہِ وَجْہَہُ حَرَّ جَہَنَّمَ لِیَقِ أَحَدُکُمْ وَجْہَہُ النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَۃٍ فَإِنْ لَمْ یَجِدْ فَبِکَلِمَۃٍ طَیِّبَۃٍ فَإِنِّی لَا أَخَافُ عَلَیْکُمْ الْفَاقَۃَ فَإِنَّ اللّٰہَ نَاصِرُکُمْ وَمُعْطِیکُمْ حَتّٰی تَسِیرَ الظَّعِینَۃُ فِیمَا بَیْنَیَثْرِبَ وَالْحِیرَۃِ أَوْ أَکْثَرَ مَا تَخَافُ عَلٰی مَطِیَّتِہَا السَّرَقَ قَالَ فَجَعَلْتُ أَقُولُ فِی نَفْسِی فَأَیْنَ لُصُوصُ طَیِّیئٍ۔))
میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے۔ لوگوں نے عرض کیا: یہ عدی بن حاتم ہیں، میں کسی امان اور تحریر کے بغیر آ گیا تھا۔ جب مجھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے جایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہلے ہی صحابہ سے کہہ چکے تھے کہ مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کا ہاتھ میرے ہاتھ میں دیں گے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے لے کر کھڑے ہوئے تو ایک عورت اور ایک بچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور کہا کہ ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کام ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے ساتھ ہو لئے اور ان کا کام کر کے دوبارہ میرا ہاتھ پکڑا اور اپنے گھر لے گئے۔ ایک بچی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے بچھونا بچھا دیا جس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھ گئے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے بیٹھ گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ کی حمدوثناء بیان کرنے کے بعد مجھ سے پوچھا کہ تمہیں لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ کہنے سے کونسی چیز روکتی ہے، کیا تم اللہ کے علاوہ کسی معبود کو جانتے ہو؟ میں نے عرض کیا: جی نہیں، پھر آپ کچھ دیر باتیں کرتے رہے پھر فرمایا: تم اس لئے اللّٰہُ أَکْبَرُ کہنے سے راہ فرار اختیار کرتے ہو کہ تم اس سے کوئی بڑی چیز جا نتے ہو؟ میں نے عرض کیا: جی نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہودیوں پر اللہ کا غضب ہے اور نصاری گمراہ ہیں۔ عدی کہتے ہیں: پھر میں نے کہا کہ میں خالص مسلمان ہوں۔ عدی کہتے ہیں پھر میں نے دیکھا کہ (یہ سن کر) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ خوشی سے کھل اٹھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم دیا اور میں ایک انصاری کے ہاں (بطور مہمان) رہنے لگا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں صبح و شام حاضر ہونے لگا۔ ایک دن رات کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھا کہ ایک قوم آئی۔ انہوں نے اون کی دھاری دار کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھی اور خطبہ دیتے ہوئے انہیں صدقہ دینے کی ترغیب دی اور فرمایا اگرچہ ایک صاع ہو یا نصف ہو یا مٹھی ہو یا اس سے بھی کم ہو۔ تم میں سے ہر ایک (کو چاہیے کہ) اپنے چہرے کو جہنم کییا آگ کی گرمی سے بچانے کی کوشش کرے خواہ وہ ایک کھجور یا آدھی کھجور دے کر ہی ہو۔ اس لئے کہ ہر شخص کو اللہ سے ملاقات کرنی ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ اس سے وہی کچھ فرمائے گا جو میں تمہیں بتا رہا ہوں کہ کیا میں نے تمہارے کان آنکھیں نہیں بنائیں؟ وہ کہے گا ہاں کیوں نہیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا میں نے تمہیں مال و اولاد عطاء نہیں کئے۔ وہ کہے گا ہاں کیوں نہیں اللہ تعالیٰ فرمائے گا وہ کہاں ہے جو تم نے اپنے لئے آگے بھیجا تھا پھر وہ اپنے آگے پیچھے اور دائیں بائیں دیکھے گا اور اپنے چہرے کو آگ کی گرمی سے بچانے کے لئے کوئی چیز نہیں پائے گا لہذا تم میں سے ہر ایک کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو (جہنم کی) آگ سے بچائے چاہے کھجور کے ایک ٹکڑے کے ساتھ ہی ہو۔ اگر یہ بھی نہ ملے تو اچھی بات کے ذریعے ہی بچائے۔ اس لئے کہ میں تم لوگوں کے متعلق فاقے سے نہیں ڈرتا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ تمہارا مددگار اور عطاء کرنیوالا ہے یہاں تک کہ (عنقریب ایسا وقت آئے گا کہ) ایک اکیلی عورت مدینہ سے حیرہ تک سفر کرے گی اور اسے اپنی سواری کی چوری کا بھی خوف نہیں ہوگا۔ عدی کہتے ہیں کہ میں دل میں سوچنے لگا کہ اس وقت قبیلہ بنوطی کے چور کہاں ہوں گے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10926
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ رَجُلٍ قَالَ قُلْتُ لِعَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْكَ أُحِبُّ أَنْ أَسْمَعَهُ مِنْكَ قَالَ نَعَمْ لَمَّا بَلَغَنِي خُرُوجُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَكَرِهْتُ خُرُوجَهُ كَرَاهَةً شَدِيدَةً خَرَجْتُ حَتَّى وَقَعْتُ نَاحِيَةَ الرُّومِ وَقَالَ يَعْنِي يَزِيدَ بِبَغْدَادَ حَتَّى قَدِمْتُ عَلَى قَيْصَرَ قَالَ فَكَرِهْتُ مَكَانِي ذَلِكَ أَشَدَّ مِنْ كَرَاهِيَتِي لِخُرُوجِهِ قَالَ فَقُلْتُ وَاللَّهِ لَوْلَا أَتَيْتُ هَذَا الرَّجُلَ فَإِنْ كَانَ كَاذِبًا لَمْ يَضُرَّنِي وَإِنْ كَانَ صَادِقًا عَلِمْتُ قَالَ فَقَدِمْتُ فَأَتَيْتُهُ فَلَمَّا قَدِمْتُ قَالَ النَّاسُ عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ قَالَ فَدَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِي يَا عَدِيُّ بْنَ حَاتِمٍ أَسْلِمْ تَسْلَمْ ثَلَاثًا قَالَ قُلْتُ إِنِّي عَلَى دِينٍ قَالَ أَنَا أَعْلَمُ بِدِينِكَ مِنْكَ فَقُلْتُ أَنْتَ أَعْلَمُ بِدِينِي مِنِّي قَالَ نَعَمْ أَلَسْتَ مِنَ الرَّكُوسِيَّةِ وَأَنْتَ تَأْكُلُ مِرْبَاعَ قَوْمِكَ قُلْتُ بَلَى قَالَ فَإِنَّ هَذَا لَا يَحِلُّ لَكَ فِي دِينِكَ قَالَ فَلَمْ يَعْدُ أَنْ قَالَهَا فَتَوَاضَعْتُ لَهَا فَقَالَ أَمَا إِنِّي أَعْلَمُ مَا الَّذِي يَمْنَعُكَ مِنَ الْإِسْلَامِ تَقُولُ إِنَّمَا اتَّبَعَهُ ضَعَفَةُ النَّاسِ وَمَنْ لَا قُوَّةَ لَهُ وَقَدْ رَمَتْهُمُ الْعَرَبُ أَتَعْرِفُ الْحِيرَةَ قُلْتُ لَمْ أَرَهَا وَقَدْ سَمِعْتُ بِهَا قَالَ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيُتِمَّنَّ اللَّهُ هَذَا الْأَمْرَ حَتَّى تَخْرُجَ الظَّعِينَةُ مِنَ الْحِيرَةِ حَتَّى تَطُوفَ بِالْبَيْتِ فِي غَيْرِ جِوَارِ أَحَدٍ وَلَيَفْتَحَنَّ كُنُوزَ كِسْرَى بْنِ هُرْمُزَ قَالَ قُلْتُ كِسْرَى بْنُ هُرْمُزَ قَالَ نَعَمْ كِسْرَى بْنُ هُرْمُزَ وَلَيُبْذَلَنَّ الْمَالُ حَتَّى لَا يَقْبَلَهُ أَحَدٌ قَالَ عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ فَهَذِهِ الظَّعِينَةُ تَخْرُجُ مِنَ الْحِيرَةِ فَتَطُوفُ بِالْبَيْتِ فِي غَيْرِ جِوَارٍ وَلَقَدْ كُنْتُ فِيمَنْ فَتَحَ كُنُوزَ كِسْرَى بْنِ هُرْمُزَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتَكُونَنَّ الثَّالِثَةُ لِأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ قَالَهَا
ایک آدمی کہتا ہے: میں نے سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ مجھے آپ کے بارے میں ایک حدیث پہنچی ہے، میں وہ حدیث براہ راست آپ سے سننا چاہتا ہوں۔ انہوں نے کہا: ٹھیک ہے، جب مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں یہ اطلاع ملی کہ آپ کا ظہور ہوا ہے تو مجھے اس سے شدید کراہت ہوئی اور میں وہاں سے نکل کر روم کے علاقوں کی طرف چلا گیا،یزید راوی نے بتایا کہ وہ بغداد چلے گئے، میں قیصر کے ہاں چلا گیا، مجھے جس قدر نفرت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ظہور پر ہوئی تھی، مجھے اپنی وہاں آمد پر اس سے بھی زیادہ نفرت ہوئی، پھر میں نے سوچا کہ اللہ کی قسم! میں خود کیوں نہ اس آدمی کی خدمت میں حاضر ہو جاؤں، اگر وہ جھوٹا ہوا تو مجھے اس سے کچھ ضرر نہیں ہو گا اور اگر وہ سچا ہوا تو میں اس کے سچ کو جان لوں گا۔ چنانچہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا، میں جب پہنچا تو لوگ کہنے لگے: عدی بن حاتم آ گئے، عدی بن حاتم آ گئے، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے تین بار فرمایا: عدی بن حاتم! اسلام قبول کر لو، سلامتی پاؤ گے۔ میں نے عرض کیا: میں پہلے ہی ایک دین پر کار بند ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہارے دین کو تم سے بہتر جانتا ہوں۔ میں نے کہا: کیا آپ میرے دین کو مجھ سے بہتر طور پر جانتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، کیا تو رکوسیۂ میں سے نہیں ہے اور کیا تم اپنی قوم کی غنیمتوں میں سے ایک چوتھائی حصہ نہیں کھاتا؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے ہی دین کی رو سے تو یہ تمہارے لیے حلال نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کییہ بات کہنے کی دیر تھی کہ میں اس بات کے آگے جھک گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں جانتا ہوں کہ قبول اسلام سے تمہیں کیا رکاوٹ ہے، تم سمجھتے ہو کہ لوگوں میں سے ایسے کمزور طبقے نے میری پیروی کی ہے، جنہیں دنیاوی طور پر کسی قسم کی قوت حاصل نہیں اور عرب نے ان لوگوں کو دھتکار دیا ہے، کیا تم حیرہ کو جانتے ہو؟ میں نے عرض کیا: جی میں نے اسے دیکھا تو نہیں، البتہ اس کے متعلق سنا ضرور ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اللہ تعالیٰ ضرور اس دین کو اس حد تک غالب کرے گا کہ ایک شتر سوار خاتون بے خوف وخطر حیرہ سے آکر بیت اللہ کا طواف کرے گی اور کسریٰ بن ہرمز کے خزانے مفتوح ہوں گے۔ میں نے عرض کیا: کیا کسریٰ بن ہرمز کے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں ہاں، کسری بن ہرمز کے اور مال ودولت اس قدر عام ہو جائے گا کہ کوئی شخص اسے لینے کے لیے تیار نہیں ہو گا۔ سیدناعدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: واقعی شتر سوار خاتون تن تنہا حیرہ سے بے خوف وخطر چل کر بیت اللہ کا طواف کرتی ہے اور کسریٰ بن ھرمز کے خزانوں کو فتح کیا گیا اور میں خود ان لوگوں میں سے ہوں، جنہوں نے کسریٰ بن ہرمز کے خزانوں کو فتح کیا، اور اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تیسری بات بھی ضرور پوری ہو گی، کیونکہ وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کہی ہوئی ہے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة التاسعة للهجرة/حدیث: 10926]
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه الحاكم: 4/ 518، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18260 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18449»
وضاحت: فوائد: … سیدنا عدی بن حاتم بن عبد اللہ طائی کوفی رضی اللہ عنہ صحابی ہیں، ان کے باپ سخاوت میںمشہور ہیں،یہ مذہباً عیسائی تھے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے تو انھوں نے اسلام قبول کر لیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان عزت کی کیا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد جب عربوں میں مختلف انداز میں ارتداد نمودار ہوا تو یہ اپنی قوم کے ساتھ اسلام پر ثابت قدم رہے اور اس وقت بھی اپنی قوم کی زکوۃ ادا کی،یہ بڑے سخی، اپنی قوم کے ہاں معززاور بزرگ سمجھے جاتے ہیں، بلا کے حاضر الجواب تھے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں ہونے والی عراق کی فتوحات میں حاضر تھے، پھر انھوں نے کوفہ میں سکونت اختیار کر لی تھی اور جنگ جمل اور جنگ صفین میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، انھوں نے کوفہ میں (۶۹) سن ہجری میں وفات پائی، جبکہ ان کی عمر (۱۲۰) برس تھی۔
تیسری چیز کا ذکر درج ذیل روایت میں ہے،یہ عیسی علیہ السلام کے زمانے میں پوری ہو گی، بعض نے عمر بن عبدالعزیز کے زمانے کو اس کا مصداق ٹھہرایا ہے۔
صحیح بخاری (۳۵۹۵) کی روایت کے الفاظ یہ ہیں:
سیدنا عدی بن حاتم سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: بَیْنَا أَنَا عِنْدَ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم إِذْ أَتَاہُ رَجُلٌ فَشَکَا إِلَیْہِ الْفَاقَۃَ ثُمَّ أَتَاہُ آخَرُ فَشَکَا إِلَیْہِ قَطْعَ السَّبِیلِ فَقَالَ: ((یَا عَدِیُّ ہَلْ رَأَیْتَ الْحِیرَۃَ۔)) قُلْتُ لَمْ أَرَہَا وَقَدْ أُنْبِئْتُ عَنْہَا قَالَ: ((فَإِنْ طَالَتْ بِکَ حَیَاۃٌ لَتَرَیَنَّ الظَّعِینَۃَ تَرْتَحِلُ مِنَ الْحِیرَۃِ حَتّٰی تَطُوفَ بِالْکَعْبَۃِ لَا تَخَافُ أَحَدًا إِلَّا اللّٰہَ۔)) قُلْتُ فِیمَا بَیْنِی وَبَیْنَ نَفْسِی فَأَیْنَ دُعَّارُ طَیِّئٍ الَّذِینَ قَدْ سَعَّرُوا الْبِلَادَ ((وَلَئِنْ طَالَتْ بِکَ حَیَاۃٌ لَتُفْتَحَنَّ کُنُوزُ کِسْرٰی۔)) قُلْتُ کِسْرَی بْنِ ہُرْمُزَ؟ قَالَ: ((کِسْرَی بْنِ ہُرْمُزَ وَلَئِنْ طَالَتْ بِکَ حَیَاۃٌ لَتَرَیَنَّ الرَّجُلَ یُخْرِجُ مِلْء َ کَفِّہِ مِنْ ذَہَبٍ أَوْ فِضَّۃٍ یَطْلُبُ مَنْ یَقْبَلُہُ مِنْہُ فَلَا یَجِدُ أَحَدًا یَقْبَلُہُ مِنْہُ وَلَیَلْقَیَنَّ اللّٰہَ أَحَدُکُمْ یَوْمَیَلْقَاہُ وَلَیْسَ بَیْنَہُ وَبَیْنَہُ تَرْجُمَانٌ یُتَرْجِمُ لَہُ فَلَیَقُولَنَّ لَہُ أَلَمْ أَبْعَثْ إِلَیْکَ رَسُولًا فَیُبَلِّغَکَ فَیَقُولُ بَلٰی فَیَقُولُ أَلَمْ أُعْطِکَ مَالًا وَأُفْضِلْ عَلَیْکَ فَیَقُولُ بَلٰی فَیَنْظُرُ عَنْ یَمِینِہِ فَلَا یَرَی إِلَّا جَہَنَّمَ وَیَنْظُرُ عَنْ یَسَارِہِ فَلَا یَرٰی إِلَّا جَہَنَّمَ۔)) قَالَ عَدِیٌّ سَمِعْتُ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یَقُولُ: ((اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقَّۃِ تَمْرَۃٍ فَمَنْ لَمْ یَجِدْ شِقَّۃَ تَمْرَۃٍ فَبِکَلِمَۃٍ طَیِّبَۃٍ۔)) قَالَ عَدِیٌّ فَرَأَیْتُ الظَّعِینَۃَ تَرْتَحِلُ مِنَ الْحِیرَۃِ حَتّٰی تَطُوفَ بِالْکَعْبَۃِ لَا تَخَافُ إِلَّا اللّٰہَ وَکُنْتُ فِیمَنْ افْتَتَحَ کُنُوزَ کِسْرَی بْنِ ہُرْمُزَ وَلَئِنْ طَالَتْ بِکُمْ حَیَاۃٌ لَتَرَوُنَّ مَا قَالَ النَّبِیُّ أَبُو الْقَاسِمِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یُخْرِجُ مِلْء َ کَفِّہِ۔
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھے کہ ایک شخص نے آ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فاقہ کی شکایت کی دوسرے نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر ڈاکہ زنی کی شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عدی کیا تم نے حیرہ دیکھا ہے؟ میں نے عرض کیا: میں نے وہ جگہ نہیں دیکھی لیکن اس کے بارے میں مجھے بتلایا گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہاری زندگی زیادہ ہوئی تو یقینا تم دیکھ لوگے کہ ایک بڑھیا عورت حیرہ سے چل کر کعبہ کا طواف کرے گی، اللہ کے علاوہ اس کو کسی کا خوف نہیں ہوگا۔ میں نے اپنے جی میں کہا کی اس وقت قبیلہ طے کے ڈاکو کدھر جائیں گے، جنہوں نے تمام شہروں میں آگ لگا رکھی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہاری زندگی زیادہ ہوئی تو یقینا تم کسری کے خزانوں کو فتح کرو گے۔ میں نے دریافت کیا: کسری بن ہرمز؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں (کسری بن ہرمز) اور اگر تمہاری زندگی زیادہ ہوئی تو یقینا تم دیکھ لوگے کہ ایک شخص مٹھی بھر سونایا چاندی لے کر نکلے گا اور ایسے آدمی کو تلاش کرے گا جو اسے لے لے، لیکن اس کو کوئی نہ ملے گا جو یہ رقم لے لے۔ یقینا تم میں سے ہر شخص قیامت میں اللہ سے ملے گا (اس وقت) اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی ترجمان نہیں ہوگا، جو اس کی گفتگو کا ترجمہ کرے، اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا کیا میں نے تیرے پاس رسول نہ بھیجا تھا جو تجھے تبلیغ کرتا؟ وہ عرض کرے گا ہاں پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا میں نے تجھ کو مال و زر اور فضل سے نہیں نوازا تھا؟ وہ عرض کرے گا ہاں،پھر وہ اپنی داہنی جانب دیکھے گا دوزخ کے سوا کچھ نہ دیکھے گا۔ عدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا کہ آگ سے بچو اگرچہ چھوہارے کا ایک ٹکڑا ہی سہییہ بھی نہ ہو سکے تو کوئی عمدہ بات کہہ کر ہی سہی۔ سیدنا عدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے بڑھیا کو دیکھ لیا کہ حیرہ سے سفر شروع کرتی ہے اور کعبہ کا طواف کرتی ہے اور اللہ کے سوا اس کو کسی کا ڈر نہیں تھا اور میں ان لوگوں میں سے ہوں جنہوں نے کسریٰ بن ہرمز کے خزانے فتح کئے تھے، اگر تم لوگوں کی زندگی زیادہ ہوئی تو جو کچھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ایک شخص مٹھی بھر سونا لے کر نکلے تو تم یہ بھی دیکھ لوگے۔
تیسری چیز کا ذکر درج ذیل روایت میں ہے،یہ عیسی علیہ السلام کے زمانے میں پوری ہو گی، بعض نے عمر بن عبدالعزیز کے زمانے کو اس کا مصداق ٹھہرایا ہے۔
صحیح بخاری (۳۵۹۵) کی روایت کے الفاظ یہ ہیں:
سیدنا عدی بن حاتم سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: بَیْنَا أَنَا عِنْدَ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم إِذْ أَتَاہُ رَجُلٌ فَشَکَا إِلَیْہِ الْفَاقَۃَ ثُمَّ أَتَاہُ آخَرُ فَشَکَا إِلَیْہِ قَطْعَ السَّبِیلِ فَقَالَ: ((یَا عَدِیُّ ہَلْ رَأَیْتَ الْحِیرَۃَ۔)) قُلْتُ لَمْ أَرَہَا وَقَدْ أُنْبِئْتُ عَنْہَا قَالَ: ((فَإِنْ طَالَتْ بِکَ حَیَاۃٌ لَتَرَیَنَّ الظَّعِینَۃَ تَرْتَحِلُ مِنَ الْحِیرَۃِ حَتّٰی تَطُوفَ بِالْکَعْبَۃِ لَا تَخَافُ أَحَدًا إِلَّا اللّٰہَ۔)) قُلْتُ فِیمَا بَیْنِی وَبَیْنَ نَفْسِی فَأَیْنَ دُعَّارُ طَیِّئٍ الَّذِینَ قَدْ سَعَّرُوا الْبِلَادَ ((وَلَئِنْ طَالَتْ بِکَ حَیَاۃٌ لَتُفْتَحَنَّ کُنُوزُ کِسْرٰی۔)) قُلْتُ کِسْرَی بْنِ ہُرْمُزَ؟ قَالَ: ((کِسْرَی بْنِ ہُرْمُزَ وَلَئِنْ طَالَتْ بِکَ حَیَاۃٌ لَتَرَیَنَّ الرَّجُلَ یُخْرِجُ مِلْء َ کَفِّہِ مِنْ ذَہَبٍ أَوْ فِضَّۃٍ یَطْلُبُ مَنْ یَقْبَلُہُ مِنْہُ فَلَا یَجِدُ أَحَدًا یَقْبَلُہُ مِنْہُ وَلَیَلْقَیَنَّ اللّٰہَ أَحَدُکُمْ یَوْمَیَلْقَاہُ وَلَیْسَ بَیْنَہُ وَبَیْنَہُ تَرْجُمَانٌ یُتَرْجِمُ لَہُ فَلَیَقُولَنَّ لَہُ أَلَمْ أَبْعَثْ إِلَیْکَ رَسُولًا فَیُبَلِّغَکَ فَیَقُولُ بَلٰی فَیَقُولُ أَلَمْ أُعْطِکَ مَالًا وَأُفْضِلْ عَلَیْکَ فَیَقُولُ بَلٰی فَیَنْظُرُ عَنْ یَمِینِہِ فَلَا یَرَی إِلَّا جَہَنَّمَ وَیَنْظُرُ عَنْ یَسَارِہِ فَلَا یَرٰی إِلَّا جَہَنَّمَ۔)) قَالَ عَدِیٌّ سَمِعْتُ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یَقُولُ: ((اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقَّۃِ تَمْرَۃٍ فَمَنْ لَمْ یَجِدْ شِقَّۃَ تَمْرَۃٍ فَبِکَلِمَۃٍ طَیِّبَۃٍ۔)) قَالَ عَدِیٌّ فَرَأَیْتُ الظَّعِینَۃَ تَرْتَحِلُ مِنَ الْحِیرَۃِ حَتّٰی تَطُوفَ بِالْکَعْبَۃِ لَا تَخَافُ إِلَّا اللّٰہَ وَکُنْتُ فِیمَنْ افْتَتَحَ کُنُوزَ کِسْرَی بْنِ ہُرْمُزَ وَلَئِنْ طَالَتْ بِکُمْ حَیَاۃٌ لَتَرَوُنَّ مَا قَالَ النَّبِیُّ أَبُو الْقَاسِمِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یُخْرِجُ مِلْء َ کَفِّہِ۔
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھے کہ ایک شخص نے آ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فاقہ کی شکایت کی دوسرے نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر ڈاکہ زنی کی شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عدی کیا تم نے حیرہ دیکھا ہے؟ میں نے عرض کیا: میں نے وہ جگہ نہیں دیکھی لیکن اس کے بارے میں مجھے بتلایا گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہاری زندگی زیادہ ہوئی تو یقینا تم دیکھ لوگے کہ ایک بڑھیا عورت حیرہ سے چل کر کعبہ کا طواف کرے گی، اللہ کے علاوہ اس کو کسی کا خوف نہیں ہوگا۔ میں نے اپنے جی میں کہا کی اس وقت قبیلہ طے کے ڈاکو کدھر جائیں گے، جنہوں نے تمام شہروں میں آگ لگا رکھی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہاری زندگی زیادہ ہوئی تو یقینا تم کسری کے خزانوں کو فتح کرو گے۔ میں نے دریافت کیا: کسری بن ہرمز؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں (کسری بن ہرمز) اور اگر تمہاری زندگی زیادہ ہوئی تو یقینا تم دیکھ لوگے کہ ایک شخص مٹھی بھر سونایا چاندی لے کر نکلے گا اور ایسے آدمی کو تلاش کرے گا جو اسے لے لے، لیکن اس کو کوئی نہ ملے گا جو یہ رقم لے لے۔ یقینا تم میں سے ہر شخص قیامت میں اللہ سے ملے گا (اس وقت) اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی ترجمان نہیں ہوگا، جو اس کی گفتگو کا ترجمہ کرے، اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا کیا میں نے تیرے پاس رسول نہ بھیجا تھا جو تجھے تبلیغ کرتا؟ وہ عرض کرے گا ہاں پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا میں نے تجھ کو مال و زر اور فضل سے نہیں نوازا تھا؟ وہ عرض کرے گا ہاں،پھر وہ اپنی داہنی جانب دیکھے گا دوزخ کے سوا کچھ نہ دیکھے گا۔ عدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا کہ آگ سے بچو اگرچہ چھوہارے کا ایک ٹکڑا ہی سہییہ بھی نہ ہو سکے تو کوئی عمدہ بات کہہ کر ہی سہی۔ سیدنا عدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے بڑھیا کو دیکھ لیا کہ حیرہ سے سفر شروع کرتی ہے اور کعبہ کا طواف کرتی ہے اور اللہ کے سوا اس کو کسی کا ڈر نہیں تھا اور میں ان لوگوں میں سے ہوں جنہوں نے کسریٰ بن ہرمز کے خزانے فتح کئے تھے، اگر تم لوگوں کی زندگی زیادہ ہوئی تو جو کچھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ایک شخص مٹھی بھر سونا لے کر نکلے تو تم یہ بھی دیکھ لوگے۔
الحكم على الحديث: صحیح
2. باب
باب
اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة التاسعة للهجرة/حدیث: Q10927]
3. بَابُ اهْتِمَامِ النَّبِيِّ بِهَذِهِ الْغَزْوَةِ وَمَا أَنْفَقَهُ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رضي الله عنه
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا غزوۂ تبوک کے لیے خصوصی اہتمام اور اس کے لیے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے عطیہ کا بیان
حدیث نمبر: 10927
عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَلَّمَا يُرِيدُ غَزْوَةً يَغْزُوهَا إِلَّا وَرَّى بِغَيْرِهَا حَتَّى كَانَ غَزْوَةُ تَبُوكَ فَغَزَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي حَرٍّ شَدِيدٍ اسْتَقْبَلَ سَفَرًا بَعِيدًا وَمَفَازًا وَاسْتَقْبَلَ غَزْوَ عَدُوٍّ كَثِيرٍ فَجَلَّى لِلْمُسْلِمِينَ أَمْرَهُمْ لِيَتَأَهَّبُوا أُهْبَةَ عَدُوِّهِمْ أَخْبَرَهُمْ بِوَجْهِهِ الَّذِي يُرِيدُ
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کسی غزوہ کا قصد فرماتے تو توریہ کرتے تھے، لیکن جب غزوۂ تبوک کا موقع آیا، چونکہ یہ شدید گرمی کا موسم تھا اور طویل اور صحراء کا سفر تھا، نیز تعداد کے لحاظ سے بہت بڑے دشمن لشکر کا مقابلہ درپیش تھا، اس لیےآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسلمانوں کے سامنے ساری صورتحال کھول کر واضح فرما دی تاکہ وہ اپنے دشمن کے مقابلہ کے لیے تیاری کر لیں۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة التاسعة للهجرة/حدیث: 10927]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2948، ومسلم: 2769، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15782 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15874»
وضاحت: فوائد: … توریہ: ارادہ کی ہوئی چیز کا اس طرح اظہار کرنا کہ حقیقت مخفی رہے،مزید دیکھیں حدیث نمبر(۴۹۴۰)
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عام معمول یہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غزوات میں توریہ کرتے تھے، لیکن غزوۂ تبوک کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے واضح طور پر اعلان کیا تاکہ لوگ سفر کی صعوبتوں کا اندازہ کر کے مکمل تیاری کر لیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عام معمول یہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غزوات میں توریہ کرتے تھے، لیکن غزوۂ تبوک کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے واضح طور پر اعلان کیا تاکہ لوگ سفر کی صعوبتوں کا اندازہ کر کے مکمل تیاری کر لیں۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10928
عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمَ الْخَمِيسِ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوۂ تبوک کے لیے جمعرات کے دن سفر شروع کیا۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة التاسعة للهجرة/حدیث: 10928]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2949، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15779 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15871»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10929
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خَبَّابٍ السُّلَمِيِّ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَحَثَّ عَلَى جَيْشِ الْعُسْرَةِ فَقَالَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ عَلَيَّ مِائَةُ بَعِيرٍ بِأَحْلَاسِهَا وَأَقْتَابِهَا قَالَ ثُمَّ حَثَّ فَقَالَ عُثْمَانُ عَلَيَّ مِائَةٌ أُخْرَى بِأَحْلَاسِهَا وَأَقْتَابِهَا قَالَ ثُمَّ نَزَلَ مِرْقَاةً مِنَ الْمِنْبَرِ ثُمَّ حَثَّ فَقَالَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ عَلَيَّ مِائَةٌ أُخْرَى بِأَحْلَاسِهَا وَأَقْتَابِهَا قَالَ فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بِيَدِهِ هَكَذَا يُحَرِّكُهَا وَأَخْرَجَ عَبْدُ الصَّمَدِ يَدَهُ كَالْمُتَعَجِّبِ مَا عَلَى عُثْمَانَ مَا عَمِلَ بَعْدَ هَذَا
سیدنا عبدالرحمن بن خباب سلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سفر کا ارادہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جیش العسرۃ (تنگ دست لشکر، مراد غزوۂ تبوک ہے) کی مدد کے لیے لوگوں کو ترغیب دلائی،سیدنا عثما ن بن عفان رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ایک سو اونٹ ان کے پالانوں اور پالانوں کے نیچے رکھے جانے والے نمدوں سمیت دوں گا۔ آپ نے لوگوں کو مدد کے لیے مزید ترغیب دلائی، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے پھر کہا: مزید ایک سو اونٹ مع پالان ونمدوں کے میرے ذمے ہیں، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منبر کی ایک سیڑھی نیچے اتر کر مزید ترغیب دلائی تو عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے کہا مزید ایک سو اونٹ ان کے پالانوں اور نمدوں سمیت میرے ذمہ ہیں۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اپنے ہاتھ کو اس طرح حرکت دے رہے تھے۔ عبدالصمد(اسنادِ حدیث کے ایک راوی) نے انتہائی خوش ہونے والے آدمی کے انداز میں ہاتھ کو نکالا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس طرح اپنے ہاتھ کو ہلاتے اور حرکت دیتے ہوئے فرمایا: آج کے بعد عثمان جو بھی کرتا رہے، اس پر کوئی حرج نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة التاسعة للهجرة/حدیث: 10929]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة فرقد ابي طلحة، أخرجه الترمذي: 3700، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16696 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16816»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 10930
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ جَاءَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِأَلْفِ دِينَارٍ فِي ثَوْبِهِ حِينَ جَهَّزَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَيْشَ الْعُسْرَةِ قَالَ فَصَبَّهَا فِي حِجْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُقَلِّبُهَا بِيَدِهِ وَيَقُولُ مَا ضَرَّ ابْنَ عَفَّانَ مَا عَمِلَ بَعْدَ الْيَوْمِ يُرَدِّدُهَا مِرَارًا
سیدنا عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جیش العسرۃیعنی غزوۂ تبوک کی مدد کے لیے صحابہ کرام سے اپیل کی تو سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ایک ہزار دینار ایک کپڑے میں ڈال کر لائے اور ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جھولی میں ڈھیر کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے ہاتھوں میں ان دیناروں کو الٹتے پلٹتے اور فرماتے: آج کے بعد عثمان جو کام بھی کرے، اسے کوئی نقصان نہیں ہو گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بات کو بار بار دہرایا۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة التاسعة للهجرة/حدیث: 10930]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه الترمذي: 3701، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20630 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20906»
وضاحت: فوائد: … ایک دینار ساڑھے چار ماشے سونے کا ہوتا ہے اور ایک ہزار دینار تھے
الحكم على الحديث: صحیح
4. بَابُ فِيمَا قَاسَاهُ الصَّحَابَةُ فِي هَذِهِ الْغَزْوَةِ مِنْ قِلَّةِ الظَّهْرِ وَضَعْفِهِ وَمَا ظَهَرَ مِنْ مُعْجِزَاتِ النَّبِيِّ صلَّى اللهُ عَليهِ وسَلمَ
غزوۂ تبوک میں صحابہ کرام کو سواریوں کی قلت وغیرہ سے جو سامنا رہا اس کا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے صادر ہونے والے معجزات کا بیان
حدیث نمبر: 10931
عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ أَنَّ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ الْأَنْصَارِيَّ كَانَ يَقُولُ غَزَوْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ تَبُوكَ فَجَهَدَ بِالظَّهْرِ جَهْدًا شَدِيدًا فَشَكَوْا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا بِظَهْرِهِمْ مِنَ الْجَهْدِ فَتَحَيَّنَ بِهِمْ مَضِيقًا فَسَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِيهِ فَقَالَ مُرُّوا بِسْمِ اللَّهِ فَمَرَّ النَّاسُ عَلَيْهِ بِظَهْرِهِمْ فَجَعَلَ يَنْفُخُ بِظَهْرِهِمْ اللَّهُمَّ احْمِلْ عَلَيْهَا فِي سَبِيلِكَ إِنَّكَ تَحْمِلُ عَلَى الْقَوِيِّ وَالضَّعِيفِ وَعَلَى الرَّطْبِ وَالْيَابِسِ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ قَالَ فَمَا بَلَغْنَا الْمَدِينَةَ حَتَّى جَعَلَتْ تُنَازِعُنَا أَزِمَّتَهَا قَالَ فَضَالَةُ هَذِهِ دَعْوَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْقَوِيِّ وَالضَّعِيفِ فَمَا بَالُ الرَّطْبِ وَالْيَابِسِ فَلَمَّا قَدِمْنَا الشَّامَ غَزَوْنَا غَزْوَةَ قُبْرُسَ فِي الْبَحْرِ فَلَمَّا رَأَيْتُ السُّفُنَ فِي الْبَحْرِ وَمَا يَدْخُلُ فِيهَا عَرَفْتُ دَعْوَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
سیدنا فضالہ بن عبید انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں غزوۂ تبوک میں شرکت کی، سواریوں کی بڑی قلت تھی، جب صحابہ کرام نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کی شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو ایک تنگ سے راستہ پر لے چلے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس راستے پر چلے،اور فرمایا: تم اللہ کا نام لے کر یہاں سے گزرو۔ لوگ اپنی سواریاں لے کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی سواریوں پر پھونک مارتے اور یہ دعا کرتے جاتے: یا اللہ اس سے اپنی راہ میں کام لے تو ہی قوی اور ضعیف کو طاقت دینے والا ہے۔ اور تو ہی بروبحر یعنی خشکی اور تری اور ہر رطب و یابسیعنی تازہ اور خشک پر قدرت رکھتا ہے۔ سیدنا فضالہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہماری مدینہ منورہ واپسی تک ہمارے اونٹ ہم سے اپنی مہاریں کھینچتےتھے۔ یہ قوی اور ضعیف کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعاء کی برکت اور اس کا نتیجہ تھا۔ لیکن میں رطب ویابسیعنی خشک وتر کا مفہوم نہیں سمجھ سکا کہ یہاں اس سے کیا مراد ہو سکتی ہے؟ جب ہم ملکِ شام میں گئے اور ہم نے سمندر میں قبرص کی لڑائی لڑی اور میں نے سمندر میں کشتیوں کو چلتے اور سمندروں میں داخل ہوتے دیکھا تو مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعاء کی حقیقت معلوم ہوئی۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة التاسعة للهجرة/حدیث: 10931]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابن حبان: 4681، والطبراني في المعجم الكبير: 18/ 771، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23955 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24455»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10932
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي كَبْشَةَ الْأَنْمَارِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ لَمَّا كَانَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ تَسَارَعَ النَّاسُ إِلَى أَهْلِ الْحِجْرِ يَدْخُلُونَ عَلَيْهِمْ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَنَادَى فِي النَّاسِ الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ قَالَ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُمْسِكٌ بَعِيرَهُ وَهُوَ يَقُولُ مَا تَدْخُلُونَ عَلَى قَوْمٍ غَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ فَنَادَاهُ رَجُلٌ مِنْهُمْ نَعْجَبُ مِنْهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ أَفَلَا أُنْذِرُكُمْ بِأَعْجَبَ مِنْ ذَلِكَ رَجُلٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ يُنَبِّئُكُمْ بِمَا كَانَ قَبْلَكُمْ وَمَا كَانَ هُوَ كَائِنٌ بَعْدَكُمْ فَاسْتَقِيمُوا وَسَدِّدُوا فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَعْبَأُ بِعَذَابِكُمْ شَيْئًا وَسَيَأْتِي قَوْمٌ لَا يَدْفَعُونَ عَنْ أَنْفُسِهِمْ بِشَيْءٍ
سیدنا ابو کبشہ انماری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوۂ تبوک کے سفر کے دوران لوگوں نے (ثمود کی منازل) حِجر کی طرف جلدی کی اور وہ ان میں داخل ہونے لگ گئے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس بات کا پتہ چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں میں یہ اعلان کیا: اَلصَّلَاۃُ جَامِعَۃٌ، وہ کہتے ہیں: جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اونٹ کو روکا ہوا تھا اور فرما رہے تھے: تم ایسی قوم پر کیوں داخل ہوتے ہو، جس پر اللہ تعالیٰ کا غضب ہوا ہے؟ ایک بندے نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمیںان سے تعجب ہوتا ہے، اس لیے ان کے پاس جاتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں نے تم کو اس سے زیادہ تعجب والے سے نہ ڈراؤ؟ تم میں ہی ایک آدمی ہے، وہ تم کو ان کے امور کی بھی خبر دیتا ہے، جو تم سے پہلے گزر گئے ہیں اور ان امور کی بھی، جو تم سے بعد میں ہونے والے ہیں، پس تم سیدھے ہو جاؤ اور راہِ صواب پر چلتے رہو، پس بیشک اللہ تعالیٰ تمہارے عذاب کی پرواہ نہیں کریں گے اور عنقریب ایسے لوگ آئیں گے، جو کسی چیز کو اپنے نفسوں سے دفع نہیں کریں گے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة التاسعة للهجرة/حدیث: 10932]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، محمد بن ابي كبشة لين الحديث اذا انفرد، ولم يُتابع علي ھذا الحديث، واسماعيل بن اوسط مختلف فيه، أخرجه ابن ابي شيبة: 14/ 546،و الطبراني في الكبير: 22/852، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18029 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18192»
وضاحت: فوائد: … دیکھیں: حدیث نمبر (۱۰۳۳۳)
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 10933
عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ أَنَّ مُعَاذًا أَخْبَرَهُ أَنَّهُمْ خَرَجُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَامَ تَبُوكَ فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَجْمَعُ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ قَالَ وَأَخَّرَ الصَّلَاةَ ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا ثُمَّ دَخَلَ ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ جَمِيعًا ثُمَّ قَالَ إِنَّكُمْ سَتَأْتُونَ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ عَيْنَ تَبُوكَ وَإِنَّكُمْ لَنْ تَأْتُوا بِهَا حَتَّى يَضْحَى النَّهَارُ فَمَنْ جَاءَ فَلَا يَمَسَّ مِنْ مَائِهَا شَيْئًا حَتَّى آتِيَ فَجِئْنَا وَقَدْ سَبَقَنَا إِلَيْهَا رَجُلَانِ وَالْعَيْنُ مِثْلُ الشِّرَاكِ تَبِضُّ بِشَيْءٍ مِنْ مَاءٍ فَسَأَلَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هَلْ مَسَسْتُمَا مِنْ مَائِهَا شَيْئًا فَقَالَا نَعَمْ فَسَبَّهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ لَهُمَا مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ ثُمَّ غَرَفُوا بِأَيْدِيهِمْ مِنَ الْعَيْنِ قَلِيلًا قَلِيلًا حَتَّى اجْتَمَعَ فِي شَيْءٍ ثُمَّ غَسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِيهِ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ ثُمَّ أَعَادَهُ فِيهَا فَجَرَتِ الْعَيْنُ بِمَاءٍ كَثِيرٍ فَاسْتَقَى النَّاسُ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُوشِكُ يَا مُعَاذُ إِنْ طَالَتْ بِكَ حَيَاةٌ أَنْ تَرَى مَا هَاهُنَا قَدْ مَلَأَ جِنَانًا
سیدنا ابو طفیل عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے ان کو خبردی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں غزوۂ تبوک کے موقع پر سفر پر روانہ ہوئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کی نمازیں جمع کر لیتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز کو مؤخر کیا اور خیمہ سے باہر تشریف لائے اور ظہر و عصر کی نماز یںجمع کر کے ادا کیں، پھر اندر تشریف لے گئے، پھرباہر تشریف لائے اور مغرب وعشاء کو جمع کر کے ادا کیا، پھر ارشاد فرمایا: اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو تم کل خوب دن چڑھے تبوک کے چشمہ پر پہنچو گے، تم میں سے جو کوئی وہاں پہنچ جائے تو وہ میرے آنے تک پانی کو ہاتھ نہ لگائے۔ جب ہم وہاں پہنچے تو ہم سے پہلے دو آدمی وہاں پہنچ چکے تھے اور چشمہ سے تسمہ کی مانند پانی کی باریک دھار نکل رہی تھی اور پانی انتہائی قلیل مقدار میں آرہا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں سے دریافت کیا کہ کیا تم نے پانی کو ہاتھ لگایا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں کو بہت برا بھلا کہا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو کچھ کہہ سکتے تھے ان سے کہا، اس کے بعد صحابہ کرام نے اپنے ہاتھوں کے ذریعے چشمے سے تھوڑا تھوڑا پانی جمع کر کے ایک برتن میں کچھ پانی اکٹھا کر لیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس میں اپنا چہرہ مبارک اور ہاتھ دھوئے اور اس دھوون کو اس میں واپس ڈال دیا، پھر تو اس چشمہ سے کثیر مقدار میں پانی نکلنے لگا، لوگ خوب سیراب ہوئے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے معاذ! اگر تجھے زندگی ملی تو تو دیکھے گا کہ یہ صحراء باغات سے بھرا ہو گا۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة التاسعة للهجرة/حدیث: 10933]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: ص 1784، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22070 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22420»
وضاحت: فوائد: … باغات کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشین گوئی پوری ہو گئی تھی، جیسا کہ مولانا مودودی کہتے ہیں: تبوک کے محکمہ شرعیہ کے رئیس شیخ صالح نے بتایا کہ یہ چشمہ دو سال پہلے تک پونے چودہ سو سال سے مسلسل ابلتا رہا، بعد میں نشیبی علاقوں میں ٹیوب ویل کھودے گئے تو اس چشمے کا پانی ان ٹیوب ویلز کی طرف منتقل ہو گیا۔ تقریباً پچیس ٹیوب ویلز میں تقسیم ہو جانے کے بعد اب یہ چشمہ خشک ہو گیا ہے، اس کے بعد شیخ صالح ہمیں ایک ٹیوب ویل کی طرف بھی لے گئے، جہاں ہم نے دیکھا کہ چار انچ کا ایک پائپ لگا ہوا ہے اور کسی مشین کے بغیر اس سے پانی پورے زور سے نکل رہا ہے، قریب قریبیہی کیفیت دوسرے ٹیوب ویلز کی بھی ہمیں بتائی گئی۔ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معجزے ہی کی برکت ہے، آج تبوک میں اس کثرت سے پانی موجود ہے، کہ مدینہ اور خیبر کے سوا ہمیں کہیں اتنا پانی دیکھنے کا اتفاق نہیں ہوا، بلکہ حقیقتیہ ہے کہ تبوک کا پانی ان دونوں جگہوں سے بھی زیادہ ہے۔ اس پانی سے فائدہ اٹھا کر اب تبوک میں ہر طرف باغ لگائے جا رہے ہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیش گوئی کے مطابق تبوک کا علاقہ باغوں سے بھرا ہوا ہے اور دن بدن بھرتا جا رہا ہے۔ (سفرنامہ ارض قرآن)
الحكم على الحديث: صحیح