الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابُ مَا جَاء فِي تَجْهِيْزِ جَيْشِ إِلَى الشَّامِ بِإِمَارَةِ أسَامَةَ بن زَيْدٍ رضي الله عنه
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کی سربراہی میں ملک شام کی طرف لشکر کی تیاری
حدیث نمبر: 10974
عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَمَّرَ أُسَامَةَ بَلَغَهُ أَنَّ النَّاسَ يَعِيبُونَ أُسَامَةَ وَيَطْعَنُونَ فِي إِمَارَتِهِ فَقَامَ كَمَا حَدَّثَنِي سَالِمٌ فَقَالَ إِنَّكُمْ تَعِيبُونَ أُسَامَةَ وَتَطْعَنُونَ فِي إِمَارَتِهِ وَقَدْ فَعَلْتُمْ ذَلِكَ فِي أَبِيهِ مِنْ قَبْلُ وَإِنْ كَانَ لَخَلِيقًا لِلْإِمَارَةِ وَإِنْ كَانَ لَأَحَبَّ النَّاسِ كُلِّهِمْ إِلَيَّ وَإِنَّ ابْنَهُ هَذَا بَعْدَهُ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ فَاسْتَوْصُوا بِهِ خَيْرًا فَإِنَّهُ مِنْ خِيَارِكُمْ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو لشکر کا سربراہ مقرر فرمایا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ خبر پہنچی کہ لوگ اسامہ رضی اللہ عنہ کے سربراہ بننے پر اعتراض کرتے ہیں اور ان کو امیر بنائے جانے پر طعن کرتے ہیں، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھڑے ہو کر فرمایا: تم لوگ اسامہ کو سربراہِ لشکر بنائے جانے پر اعتراض کرتے ہو اور ان کو امیر بنائے جانے پر طنز کرتے ہو، یہی کام تم نے اس سے قبل اس کے والد کے بارے میں بھی کیا تھا، حالانکہ وہ امیر بنائے جانے کا بجا طور پر حق دار تھا۔ اور وہ مجھے سب سے زیادہ محبوب بھی تھا، اس کے بعد اس کا یہ بیٹامجھے سب سے زیادہ پیارے لوگوں میں سے ہے، میں تمہیں اس کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی وصیت کرتا ہوں، یہ تمہارے بہترین لوگوں میں سے ہے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة/حدیث: 10974]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3730،4250، ومسلم: 2426، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5630 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5630»
وضاحت: فوائد: … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجۃ الوداع سے واپس آکر مدینہ میں قیام فرمایا، اس قیام کے دوران کئی وفود نے آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملاقاتیں کیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے مشن کی کامیابی پر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرتے اور اس کا شکر ادا کرتے۔
اسی دوران آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو سات سو فوجیوں کے ساتھ تیار کیا اور حکم دیا کہ بلقاء علاقہ اور داروم کی فلسطینی سر زمین سواروں کے ذریعے روند آؤ، یہ لشکر روانہ ہو گیا،یہ ربیع الاول سنہ ۱۱ ہجری کا واقعہ ہے، لیکن
ابھی تک تین میل دور مقام جرف میں پہنچ کر خیمہ زن ہوا تھا کہ اِدھر سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیماری کے متعلق تشویش ناک خبروں کے سبب وہیں رک کر نتیجہ کا انتظار کرنے لگا اور اللہ تعالیٰ کا فیصلہیہ ظاہر ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وفات پائی، پھر یہ لشکر سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے عہد ِ خلافت کی پہلی فوجی مہم قرار پائی۔
اس حدیث ِ مبارکہ کا پس منظر یہ ہے: سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو ۸ ھ میں معرکۂ موتہ میں اسلامی سپاہ کا سپہ سالار بنا کر بھیجا گیا تھا، جو اس جنگ میں شہید ہو گئے تھے، یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آزاد کردہ غلام تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شریعت کے نئے حکم سے پہلے ان کو متبنّی بیٹا بنایا ہوا تھا۔
سیدنا حارث بن عمر ازدی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خط لے کر امیرِ بصری کی طرف گئے، لیکن شرحبیل بن عمرو غسانی نے ان کو قتل کر دیا، ان کا انتقام لینے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین ہزار (۳۰۰۰) کا لشکر تیار کیا اور اس کی قیادت سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ، جن کی عمر اٹھارہ یا بیس برس تھی، کے سپرد کی، اس موقع پر کچھ لوگوں نے سپہ سالار کی نو عمری کو نکتہ چینی کا نشانہ بنایا اور اس مہم کے اندر شمولیت میں تاخیر کی، جس کی بنا پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے درج بالا حدیث ارشاد فرمائی۔ یہ سن کر صحابہ کرام سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کی گردا گرد جمع ہو کر ان کے لشکر میں شامل ہو گئے اور لشکر روانہ ہو کر مدینہ منورہ سے تین میل دور مقام جرف میں خیمہ زن ہوا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیماری کے متعلق تشویشناک خبروں کے سبب آگے نہ بڑھ سکا، بلکہ اللہ تعالیٰ کے فیصلے کے انتظار میں وہیں ٹھہرنے پر مجبور ہو گیا۔ زندگی نے وفا نہ کی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس مہم کے اختتام سے پہلے خالق حقیقی سے جا ملے۔ جب سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے خلافت کی باگ ڈور سنبھالی تو سب سے پہلے سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کو دشمنانِ اسلام کی طرف روانہ کیا جو فتح کا پرچم لہراتے ہوئے واپس آئے۔
اس حدیث میں سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کی عظمت و فضیلت کا بیان ہے کہ ان کو امارت کے لیے مناسب سمجھا گیا اور انھیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا محبوب ترین اور صالح قرار دیا گیا ہے۔
امام نووی نے کہا: اس حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ آزاد شدہ غلام کو امیر بنانا اور اس کو عربوں پر مقدم کرنا جائز ہے، نیزیہ بھی معلوم ہوا کہ کم سن کو بڑوں پر امیر بنایا جا سکتا ہے، کیونکہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فوت ہوئے تو اس وقت سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کی عمر اٹھارہ یا بیس سال تھی۔ اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ کسی مصلحت کے پیش نظر مفضول کو فاضل کا امیر بنایا جا سکتا ہے، ان احادیث میں سیدنا زید اور سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہما کے عظیم فضائل بیان کیے گئے ہیں۔ (شرح مسلم: ۲/ ۲۸۳)
اسی دوران آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو سات سو فوجیوں کے ساتھ تیار کیا اور حکم دیا کہ بلقاء علاقہ اور داروم کی فلسطینی سر زمین سواروں کے ذریعے روند آؤ، یہ لشکر روانہ ہو گیا،یہ ربیع الاول سنہ ۱۱ ہجری کا واقعہ ہے، لیکن
ابھی تک تین میل دور مقام جرف میں پہنچ کر خیمہ زن ہوا تھا کہ اِدھر سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیماری کے متعلق تشویش ناک خبروں کے سبب وہیں رک کر نتیجہ کا انتظار کرنے لگا اور اللہ تعالیٰ کا فیصلہیہ ظاہر ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وفات پائی، پھر یہ لشکر سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے عہد ِ خلافت کی پہلی فوجی مہم قرار پائی۔
اس حدیث ِ مبارکہ کا پس منظر یہ ہے: سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو ۸ ھ میں معرکۂ موتہ میں اسلامی سپاہ کا سپہ سالار بنا کر بھیجا گیا تھا، جو اس جنگ میں شہید ہو گئے تھے، یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آزاد کردہ غلام تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شریعت کے نئے حکم سے پہلے ان کو متبنّی بیٹا بنایا ہوا تھا۔
سیدنا حارث بن عمر ازدی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خط لے کر امیرِ بصری کی طرف گئے، لیکن شرحبیل بن عمرو غسانی نے ان کو قتل کر دیا، ان کا انتقام لینے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین ہزار (۳۰۰۰) کا لشکر تیار کیا اور اس کی قیادت سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ، جن کی عمر اٹھارہ یا بیس برس تھی، کے سپرد کی، اس موقع پر کچھ لوگوں نے سپہ سالار کی نو عمری کو نکتہ چینی کا نشانہ بنایا اور اس مہم کے اندر شمولیت میں تاخیر کی، جس کی بنا پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے درج بالا حدیث ارشاد فرمائی۔ یہ سن کر صحابہ کرام سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کی گردا گرد جمع ہو کر ان کے لشکر میں شامل ہو گئے اور لشکر روانہ ہو کر مدینہ منورہ سے تین میل دور مقام جرف میں خیمہ زن ہوا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیماری کے متعلق تشویشناک خبروں کے سبب آگے نہ بڑھ سکا، بلکہ اللہ تعالیٰ کے فیصلے کے انتظار میں وہیں ٹھہرنے پر مجبور ہو گیا۔ زندگی نے وفا نہ کی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس مہم کے اختتام سے پہلے خالق حقیقی سے جا ملے۔ جب سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے خلافت کی باگ ڈور سنبھالی تو سب سے پہلے سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کو دشمنانِ اسلام کی طرف روانہ کیا جو فتح کا پرچم لہراتے ہوئے واپس آئے۔
اس حدیث میں سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کی عظمت و فضیلت کا بیان ہے کہ ان کو امارت کے لیے مناسب سمجھا گیا اور انھیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا محبوب ترین اور صالح قرار دیا گیا ہے۔
امام نووی نے کہا: اس حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ آزاد شدہ غلام کو امیر بنانا اور اس کو عربوں پر مقدم کرنا جائز ہے، نیزیہ بھی معلوم ہوا کہ کم سن کو بڑوں پر امیر بنایا جا سکتا ہے، کیونکہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فوت ہوئے تو اس وقت سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کی عمر اٹھارہ یا بیس سال تھی۔ اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ کسی مصلحت کے پیش نظر مفضول کو فاضل کا امیر بنایا جا سکتا ہے، ان احادیث میں سیدنا زید اور سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہما کے عظیم فضائل بیان کیے گئے ہیں۔ (شرح مسلم: ۲/ ۲۸۳)
الحكم على الحديث: صحیح
2. بَابُ مَا جَاء فِي ابْتِدَاءِ مَرَضِهِ صلى الله عليه وسلم وَمُدَّتِهِ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیماری کی ابتداء اور اس کی مدت کا بیان
حدیث نمبر: 10975
عَنْ أَبِي مُوَيْهِبَةَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ أُمِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَى أَهْلِ الْبَقِيعِ فَصَلَّى عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَلَمَّا كَانَتِ اللَّيْلَةُ الثَّانِيَةُ قَالَ يَا أَبَا مُوَيْهِبَةَ أَسْرِجْ لِي دَابَّتِي قَالَ فَرَكِبَ فَمَشَيْتُ حَتَّى انْتَهَى إِلَيْهِمْ فَنَزَلَ عَنْ دَابَّتِهِ وَأَمْسَكْتُ الدَّابَّةَ وَوَقَفَ عَلَيْهِمْ (أَوْ قَالَ قَامَ عَلَيْهِمْ) فَقَالَ لِيَهْنِيكُمْ مَا أَنْتُمْ فِيهِ مِمَّا فِيهِ النَّاسُ أَتَتِ الْفِتَنُ كَقِطَعِ اللَّيْلِ يَرْكَبُ بَعْضُهَا بَعْضًا الْآخِرَةُ أَشَدُّ مِنَ الْأُولَى فَلْيَهْنِيكُمْ مَا أَنْتُمْ فِيهِ ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ يَا أَبَا مُوَيْهِبَةَ إِنِّي أُعْطِيتُ (أَوْ قَالَ خُيِّرْتُ) مَفَاتِيحَ مَا يُفْتَحُ عَلَى أُمَّتِي مِنْ بَعْدِي وَالْجَنَّةَ أَوْ لِقَاءَ رَبِّي فَقُلْتُ بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَخْبِرْنِي قَالَ لَأَنْ تُرَدَّ عَلَى عَقِبِهَا مَا شَاءَ اللَّهُ فَاخْتَرْتُ لِقَاءَ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فَمَا لَبِثَ بَعْدَ ذَلِكَ إِلَّا سَبْعًا أَوْ ثَمَانِيًا حَتَّى قُبِضَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ أَبُو النَّضْرِ مَرَّةً تُرَدُّ عَلَى عَقِبَيْهَا
مولائے رسول سیدنا ابو مویہبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ (زندگی کے آخری ایام میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو (اللہ کی طرف سے) حکم دیا گیا کہ آپ (جا کر) بقیع قبرستان والوں کے حق میں دعا فرمائیں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک رات وہاں جا کر ان کے حق میں تین مرتبہ دعائیں کیں۔ دوسری رات ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابو مویہبہ! تم میرے لیے میری سواری پر زین کسو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس پر سوار ہوئے اور میں پیدل چلتا رہا تاآنکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قبرستان جا پہنچے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سواری سے نیچے اترے اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیسواری کو تھام لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اہل بقیع کے پاس جا کھڑے ہوئے اور فرمایا: لوگ جس کیفیت میں ہیں ان کی نسبت تم جس حال میں ہو، تمہیں مبارک ہو، فتنے اور آزمائشیں رات کے اندھیروں کی طرح ایک دوسرے پر چڑھے آرہے ہیں، بعد والا فتنہ پہلے سے زیادہ شدید ہو گا، تم جس حال میں ہو تمہیں مبارک ہو۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس آگئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابو مویہبہ! مجھے دو میں سے ایک بات کا اختیار دیا گیا ہے، میں اپنے بعد اپنی امت پر ہونے والی فتوحات کی کنجیاں لے لوں یا جنت اور اپنے رب کی ملاقات کو اختیار کروں۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، مجھے تو بتا دیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان میں سے کس چیز کا انتخاب کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ کو منظور ہوا تو دنیا واپس اور ختم ہو جائے گی، اس لیے میں نے اپنے رب تعالیٰ کی ملاقات کا انتخاب کیا ہے۔ اس کے بعد سات آٹھ دن گزرے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وفات پا گئے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة/حدیث: 10975]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة عبيد بن جبير، أخرجه الطبراني في المعجم الكبير: 22/ 872، وابن ابي شيبة: 3/ 340، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15996 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16092»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 10976
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ أَبِي مُوَيْهِبَةَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ فَقَالَ يَا أَبَا مُوَيْهِبَةَ إِنِّي قَدْ أُمِرْتُ أَنْ أَسْتَغْفِرَ لِأَهْلِ الْبَقِيعِ فَانْطَلِقْ مَعِي فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ فَلَمَّا وَقَفَ بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ قَالَ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ يَا أَهْلَ الْمَقَابِرِ لِيَهْنِ لَكُمْ مَا أَصْبَحْتُمْ فِيهِ مِمَّا أَصْبَحَ فِيهِ النَّاسُ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا نَجَّاكُمُ اللَّهُ مِنْهُ أَقْبَلَتِ الْفِتَنُ كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ يَتْبَعُ أَوَّلُهَا آخِرَهَا الْآخِرَةُ شَرٌّ مِنَ الْأُولَى قَالَ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيَّ فَقَالَ يَا أَبَا مُوَيْهِبَةَ إِنِّي قَدْ أُوتِيتُ مَفَاتِيحَ خَزَائِنِ الدُّنْيَا وَالْخُلْدَ فِيهَا ثُمَّ الْجَنَّةَ وَخُيِّرْتُ بَيْنَ ذَلِكَ وَبَيْنَ لِقَاءِ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ وَالْجَنَّةِ قَالَ قُلْتُ بِأَبِي وَأُمِّي فَخُذْ مَفَاتِيحَ الدُّنْيَا وَالْخُلْدَ فِيهَا ثُمَّ الْجَنَّةَ قَالَ لَا وَاللَّهِ يَا أَبَا مُوَيْهِبَةَ لَقَدِ اخْتَرْتُ لِقَاءَ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ وَالْجَنَّةَ ثُمَّ اسْتَغْفَرَ لِأَهْلِ الْبَقِيعِ ثُمَّ انْصَرَفَ فَبُدِئَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي وَجَعِهِ الَّذِي قَبَضَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ حَيْنَ أَصْبَحَ
۔(دوسری سند) سیدنا ابو مویہبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رات کے وقت مجھے پیغام بھیجا کہ ابو مویھبہ! مجھے اللہ کی طرف سے حکم دیا گیا ہے کہ میں اہل بقیع کے لیے مغفرت کی دعا کروں، تم بھی میرے ساتھ چلو، میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں جا کر جب کھڑے ہوئے تو فرمایا: اے قبروں والو! تم پر سلام ہو، اگر تم جان لو کہ اللہ نے تمہیں کیسے حالات سے بچا رکھا ہے اور زندہ لوگ اس وقت کس کیفیت میں ہیں، ان کی نسبت تم جس حال میں ہو، تمہیں وہ مبارک ہو، فتنے اور آزمائشیں رات کے اندھیروں کے ٹکڑوں کی طرح پے در پے آرہے ہیں، بعد والی آزمائش اور فتنہ پہلے فتنہ سے شدید تر ہوتا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ابو مویہبہ! مجھے دنیا کے خزانوں اور اس میں ہمیشہ رہنے اور بعد ازاں جنت اور اپنے رب کی ملاقات اور جنت، ان دو میں سے کسی ایک کے انتخاب کا اختیار دیا گیا ہے۔ سیدنا ابو مویہبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دنیا کے خزانوں، ان میں دائمی زندگی اور بعدازاں جنت کا انتخاب کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابو مویہبہ! نہیں، اللہ کی قسم! میں نے اپنے رب کی ملاقات او رجنت کا انتخاب کر لیا ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل بقیع کے حق میں مغفرت کی دعائیں کیں، اور واپس تشریف لائے، اس کے بعد صبح کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وہ تکلیف شروع ہو گئی، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دنیا سے رخصت ہو گئے تھے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة/حدیث: 10976]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح في استغفاره لاھل البقيع واختياره لقاء ربه، وھذا اسناد ضعيف لجھالة عبد الله بن عمر العبلي، أخرجه الطبراني في المعجم الكبير: 22/ 871، والحاكم: 3/ 55، والدارمي: 1/ 36، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15997 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16093»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتخاب بھی تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خالق حقیقی کی طرف روانہ ہو جائیں اور پھر ایسے ہی ہوا۔
الحكم على الحديث: صحیح
3. بَابُ مَا حَدِيثُ عَائِشَةَ رضي الله عنها الْجَامِعُ مِنْ أَوَّلِ مَرَضِهِ إِلَى وَفَاتِهِ ﷺ
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیماری کے آغاز سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات تک کی تفصیل کے بارے میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی جامع حدیث
حدیث نمبر: 10977
عَنْ يَزِيدَ بْنِ بَابَنُوسَ قَالَ ذَهَبْتُ أَنَا وَصَاحِبٌ لِي إِلَى عَائِشَةَ فَاسْتَأْذَنَّا عَلَيْهَا فَأَلْقَتْ لَنَا وَسَادَةً وَجَذَبَتْ إِلَيْهَا الْحِجَابَ فَقَالَ صَاحِبِي يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ مَا تَقُولِينَ فِي الْعِرَاكِ قَالَتْ وَمَا الْعِرَاكُ وَضَرَبْتُ مَنْكِبَ صَاحِبِي فَقَالَتْ مَهْ آذَيْتَ أَخَاكَ ثُمَّ قَالَتْ مَا الْعِرَاكُ الْمَحِيضُ قُولُوا مَا قَالَ اللَّهُ الْمَحِيضُ ثُمَّ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَتَوَشَّحُنِي وَيَنَالُ مِنْ رَأْسِي وَبَيْنِي وَبَيْنَهُ ثَوْبٌ وَأَنَا حَائِضٌ ثُمَّ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا مَرَّ بِبَابِي مِمَّا يُلْقِي الْكَلِمَةَ يَنْفَعُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا فَمَرَّ ذَاتَ يَوْمٍ فَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا ثُمَّ مَرَّ أَيْضًا فَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا قُلْتُ يَا جَارِيَةُ ضَعِي لِي وَسَادَةً عَلَى الْبَابِ وَعَصَبْتُ رَأْسِي فَمَرَّ بِي فَقَالَ يَا عَائِشَةُ مَا شَأْنُكِ فَقُلْتُ أَشْتَكِي رَأْسِي فَقَالَ أَنَا وَا رَأْسَاهْ فَذَهَبَ فَلَمْ يَلْبَثْ إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى جِيءَ بِهِ مَحْمُولًا فِي كِسَاءٍ فَدَخَلَ عَلَيَّ وَبَعَثَ إِلَى النِّسَاءِ فَقَالَ إِنِّي قَدِ اشْتَكَيْتُ وَإِنِّي لَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَدُورَ بَيْنَكُنَّ فَأْذَنَّ لِي فَلْأَكُنْ عِنْدَ عَائِشَةَ أَوْ صَفِيَّةَ وَلَمْ أُمَرِّضْ أَحَدًا قَبْلَهُ فَبَيْنَمَا رَأْسُهُ ذَاتَ يَوْمٍ عَلَى مَنْكِبَيَّ إِذْ مَالَ رَأْسُهُ نَحْوَ رَأْسِي فَظَنَنْتُ أَنَّهُ يُرِيدُ مِنْ رَأْسِي حَاجَةً فَخَرَجَتْ مِنْ فِيهِ نُطْفَةٌ بَارِدَةٌ فَوَقَعَتْ عَلَى ثُغْرَةِ نَحْرِي فَاقْشَعَرَّ لَهَا جِلْدِي فَظَنَنْتُ أَنَّهُ غُشِيَ عَلَيْهِ فَسَجَّيْتُهُ ثَوْبًا فَجَاءَ عُمَرُ وَالْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ فَاسْتَأْذَنَا فَأَذِنْتُ لَهُمَا وَجَذَبْتُ إِلَيَّ الْحِجَابَ فَنَظَرَ عُمَرُ إِلَيْهِ فَقَالَ وَا غَشْيَاهْ مَا أَشَدَّ غَشْيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَامَا فَلَمَّا دَنَوَا مِنَ الْبَابِ قَالَ الْمُغِيرَةُ يَا عُمَرُ مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَذَبْتَ بَلْ أَنْتَ رَجُلٌ تَحُوسُكَ فِتْنَةٌ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَمُوتُ حَتَّى يُفْنِيَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْمُنَافِقِينَ ثُمَّ جَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَرَفَعْتُ الْحِجَابَ فَنَظَرَ إِلَيْهِ فَقَالَ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ أَتَاهُ مِنْ قِبَلِ رَأْسِهِ فَحَدَرَ فَاهُ وَقَبَّلَ جَبْهَتَهُ ثُمَّ قَالَ وَا نَبِيَّاهْ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ثُمَّ حَدَرَ فَاهُ وَقَبَّلَ جَبْهَتَهُ ثُمَّ قَالَ وَا صَفِيَّاهْ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَحَدَرَ فَاهُ وَقَبَّلَ جَبْهَتَهُ وَقَالَ وَا خَلِيلَاهْ مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ إِلَى الْمَسْجِدِ وَعُمَرُ يَخْطُبُ النَّاسَ وَيَتَكَلَّمُ وَيَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَمُوتُ حَتَّى يُفْنِيَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْمُنَافِقِينَ فَتَكَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ [الزمر: 30] حَتَّى فَرَغَ مِنَ الْآيَةِ وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ [آل عمران: 144] حَتَّى فَرَغَ مِنَ الْآيَةِ فَمَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَإِنَّ اللَّهَ حَيٌّ وَمَنْ كَانَ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ فَقَالَ عُمَرُ وَإِنَّهَا لَفِي كِتَابِ اللَّهِ مَا شَعَرْتُ أَنَّهَا فِي كِتَابِ اللَّهِ ثُمَّ قَالَ عُمَرُ يَا أَيُّهَا النَّاسُ هَذَا أَبُو بَكْرٍ وَهُوَ ذُو شَيْبَةِ الْمُسْلِمِينَ فَبَايِعُوهُ فَبَايَعُوهُ
یزید بن بابنوس سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں اور میرا ایک ساتھی ہم دونوں ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں گئے، ہم نے ان کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت طلب کی، انہوں نے ہمارے لیے تکیہ رکھ دیا اور اپنے سامنے پردہ کھینچ لیا، میرے ساتھی نے کہا: ام المؤمنین! آپ عراک کے متعلق کیا فرماتی ہیں؟ انہوں نے پوچھا: عراک سے کیا مراد ہے؟ یہ سن کر میں نے اپنے ساتھی کے کندھے پر ہاتھ مارا تو انہوں نے یعنی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: یہ کیا؟ تم نے اپنے بھائی کو ایذاء پہنچائی ہے؟ پھر خود ہی فرمایا: کیا عراک سے مراد حیض لے رہے ہو؟ تم وہی لفظ کہو جو اللہ نے کہا ہے یعنی المحیض، پھر کہا: میں حیض کی حالت میں ہوتی اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھ سے لپٹ جاتے اور میرے سر کو چھو لیتے، میر ے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے درمیان ایککپڑا حائل ہوتا، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب میرے دروازے کے پاس سے گزرتے تو کوئی مفید بات ارشاد فرما جاتے، ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گزرے تو آپ نے کوئی لفظ ادا نہیں کیا، پھر گزرے تب بھی کوئی لفظ ارشاد نہیں فرمایا، دو یا تین مرتبہ ایسے ہی ہوا، میں نے خادمہ سے کہا: تم میرے لیے دروازے کے قریب تکیہ لگا دو اور میں نے اپنے سر پر کپڑا باندھ لیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس سے گزرے تو فرمایا: عائشہ! کیا بات ہے؟ میں نے عرض کیا: میرا سر دکھتا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہائے میرا سر۔ اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے گئے، کچھ دن گزرے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اٹھا کر لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک چادر زیب تن کئے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے ہاں تشریف لے آئے اور دوسری ازواج کو پیغام بھجوایا کہ میں بیمار ہوں، میں تم سب کے پاس باری باری آنے کی استطاعت نہیں رکھتا، تم سب مجھے اجازت دے دو کہ میں عائشہ یا صفیہ کے پاس رہ لوں، مجھے اس سے قبل کسی مریض کی تیمار داری کرنے کا موقع نہیں ملا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سر میرے سر کی طرف جھکا ہوا تھا کہ اچانک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سر مبارک میرے کندھے سے آلگا، میں نے سمجھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے سر کا آسرا لینا چاہتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منہ مبارک سے تھوڑا سا ٹھنڈا پانی سا نکل کر میری گردن پر آپڑا۔ یہ حالت دیکھ کر میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ میں سمجھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر غشی طاری ہوئی ہے۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوکپڑے سے ڈھانپ دیا، اتنے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے۔ انہوں نے اندر آنے کی اجازت طلب کی، میں نے انہیں داخلے کی اجازت دے دی اور میں نے پردہ اپنی طرف کھینچ لیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تو کہا: ہائے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کس قدر شدید غشی طاری ہے۔ اس کے بعد وہ دونوں اُٹھے، دروازے کے قریب پہنچے تو سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے عمر! اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتقال ہو گیا ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تو غلط کہہ رہا ہے، تجھے تو غلط باتیں ہی سوجھتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ جب تک منافقین کو نیست ونابود نہیں کر دے گا، تب تک اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتقال نہیں ہو گا، پھر سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ آئے، میں نے پردہ اُٹھایا، انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف دیکھ کر إِنَّا لِلّٰہِ وَإِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُونَ پڑھا اور کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انتقال فرما گئے ہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر مبارک کی طرف آکر انہوں نے اپنا منہ جھکا یا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشانی پر بوسہ دیا اور بے اختیار کہہ اُٹھے، ہائے اللہ کے نبی! پھر اپنا سر اوپر کو اٹھایا پھر اپنا منہ جھکا کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشانی کو دوبارہ بوسہ دیا، اور کہا: ہائے اللہ کے رسول! پھر اپنا سر اوپر کو اُٹھایا، اور اپنا منہ جھکا کر سہ بارہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشانی کو بوسہ دیا اور فرمایا: ہائے اللہ کے خلیل! اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو انتقال فرما گئے ہیں۔ اس کے بعد وہ مسجد کی طرف چلے گئے، وہاں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ لوگوں سے مخاطب ہو کر کہہ رہے تھے کہ جب تک اللہ تعالیٰ منافقین کا خاتمہ نہیں کرد ے گا، تب تک اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتقال نہیں ہو گا، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بات شروع کی، اللہ کی حمدوثناء بیان کر کے کہا اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: {إِنَّکَ مَیِّتٌ وَإِنَّہُمْ مَیِّتُونَ … } … بے شک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی فوت ہونے والے ہیں اور یہ لوگ بھی مرنے والے ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے یہ آیت تلاوت کی {وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ أَفَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَی أَعْقَابِکُمْ} … اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو اللہ کے رسول ہیں۔ ان سے پہلے بھی بہت سے رسول ہو گزرے ہیں، اگر یہ رسول فوت ہو جائے یا قتل ہو جائے تو کیا تم الٹے پاؤں پھر کر مرتد ہو جاؤ گے؟ اور جو کوئی مرتد ہو گا وہ اللہ کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکے گا اور جو لوگ شکر گزار ہیں اللہ ان کو اجر عظیم سے نوازے گا۔ نیز سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: جو کوئی اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا تھا تو یاد رکھے اللہ تو ابد سے زندہ ہے ازل تک زندہ رہے گا، اسے کبھی موت نہیں آئے گی، اور جو کوئی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عبادت کیا کرتا تھا تو وہ جان لے کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فوت ہو چکے ہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ آیت اگرچہ اللہ کی کتاب میں تھی، لیکن مجھے کچھ یاد نہیں رہا تھا کہ یہ اللہ کی کتاب میں ہے، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: لوگو! یہ ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں، جو تمام مسلمانوں میں سے بزرگ ترین اور معززہیں، تم ان کی بیعت کر لو، چنانچہ لوگوں نے ان کی بیعت کر لی۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة/حدیث: 10977]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابوداود: 2137، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25841 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26365»
وضاحت: فوائد: … یہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا ذاتی نظریہ تھا کہ اللہ تعالیٰ پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعے سب منافقوں کو فنا کرے گا اور بڑی مصیبت کی وجہ سے شدت ِ دہشت میںمبتلا ہو گئے تھے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات پر دلالت کرنے والی آیات بھی ان کے ذہن میں نہیں رہی تھیں۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10978
عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْيَوْمِ الَّذِي بُدِئَ فِيهِ فَقُلْتُ وَا رَأْسَاهْ فَقَالَ وَدِدْتُ أَنَّ ذَلِكَ كَانَ وَأَنَا حَيٌّ فَهَيَّأْتُكِ وَدَفَنْتُكِ قَالَتْ فَقُلْتُ غَيْرَى كَأَنِّي بِكَ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ عَرُوسًا بِبَعْضِ نِسَائِكَ قَالَ وَأَنَا وَا رَأْسَاهْ ادْعُوا إِلَيَّ أَبَاكِ وَأَخَاكِ حَتَّى أَكْتُبَ لِأَبِي بَكْرٍ كِتَابًا فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَقُولَ قَائِلٌ وَيَتَمَنَّى مُتَمَنٍّ أَنَا أَوْلَى وَيَأْبَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَالْمُؤْمِنُونَ إِلَّا أَبَا بَكْرٍ
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جس روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیماری کا آغاز ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے: میں نے کہا:ہائے میرا سر، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں چاہتا ہوں کہ تمہارے ساتھ یہ کام میری زندگی میں ہو تو میں تمہاری آخرت کی تیاری کر کے خود تمہیں دفن کروں۔ تو میں نے غیرت کے انداز سے کہا تو میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یوں محسوس کر رہی ہوں، گویا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسی دن اپنی دوسری کسی بیوی کے ساتھ شب باشی میں مصروف ہو جائیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہائے میرا سر، تم اپنے والد اور بھائی کو میرے پاس بلواؤ۔ میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کے حق میں ایک تحریر لکھ دوں، مجھے ڈر ہے کہ کوئی دوسرا کہنے والا کہے یا تمنا کرنے والا تمنا کرے کہ میں (خلافتِ نبوت) کا زیادہ حق دار ہوں۔ اللہ تعالیٰ اور مومنین ابوبکر رضی اللہ عنہ کے سوا کسی دوسرے پر راصی نہیں ہوں گے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة/حدیث: 10978]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5666، 7217، ومسلم: 2387، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25113 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25626»
وضاحت: فوائد: … یہ خاوند اور بیوی کی آپس میں دل لگی کا ایک انداز ہے، اس حدیث میں سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی خلافت کی طرف واضح اشارہ موجود ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10979
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَتْ رَجَعَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ مِنْ جَنَازَةٍ بِالْبَقِيعِ وَأَنَا أَجِدُ صُدَاعًا فِي رَأْسِي وَأَنَا أَقُولُ وَا رَأْسَاهْ قَالَ بَلْ أَنَا وَا رَأْسَاهْ قَالَ مَا ضَرَّكِ لَوْ مِتِّ قَبْلِي فَغَسَّلْتُكِ وَكَفَّنْتُكِ ثُمَّ صَلَّيْتُ عَلَيْكِ وَدَفَنْتُكِ قُلْتُ لَكِنِّي أَوْ لَكَأَنِّي بِكَ وَاللَّهِ لَوْ فَعَلْتَ ذَلِكَ لَقَدْ رَجَعْتَ إِلَى بَيْتِي فَأَعْرَسْتَ فِيهِ بِبَعْضِ نِسَائِكَ قَالَتْ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ بُدِئَ بِوَجَعِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ
۔(دوسری سند) سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک دن البقیع قبرستان میں نماز جنازہ پڑھا کر واپس میرے ہاں تشریف لائے، میرے سر میں درد تھا اور میںیوں کہہ رہی تھی: ہائے میرا سر، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نہ کہو، بلکہ(میں کہتا ہوں) ہائے میرا سر۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم مجھ سے پہلے فوت ہو جاؤ تو تمہیں کوئی ضرر نہیں، میں خود تمہیں غسل دے کر کفن پہنا کر، تمہاری نماز جنازہ پڑھا کر تمہیں دفن کروں گا۔ میں نے کہہ دیا: اللہ کی قسم! آپ یہ سارے کام کرنے کے بعد میرے ہی گھر آکر اسی گھر میں اپنی کسی بھی زوجہ کے ساتھ شب باشی کریں گے، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسکرا دئیے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مرض الموت کا آغاز ہو گیا۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة/حدیث: 10979]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، أخرجه البخاري: 5666، 7217، ومسلم: 2387، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25908 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26433»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ بیوی اور خاوند ایک دوسرے کو غسل دے سکتے ہیں۔
الحكم على الحديث: صحیح
4. بَابُ مَا جَاءَ فِي انْتِقَالِهِ إِلَى بَيْتِ عَائِشَةَ رضي الله عنها لِيُمَرَّضَ فِيهِ وَاسْتِخْلافِهِ آبَا بَكْرِ لِلصَّلَاةِ
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر کی طرف نقل مکانی تاکہ وہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تیمار داری کی جائے نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نماز کے لیے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنانا
حدیث نمبر: 10980
عَنْ عَائِشَةَ قَالَ سُفْيَانُ سَمِعْتُ مِنْهُ حَدِيثًا طَوِيلًا لَيْسَ أَحْفَظُهُ مِنْ أَوَّلِهِ إِلَّا قَلِيلًا دَخَلْنَا عَلَى عَائِشَةَ فَقُلْنَا يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَخْبِرِينَا عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ اشْتَكَى فَجَعَلَ يَنْفُثُ فَجَعَلْنَا نُشَبِّهُ نَفْثَهُ نَفْثَ آكِلِ الزَّبِيبِ وَكَانَ يَدُورُ عَلَى نِسَائِهِ فَلَمَّا اشْتَكَى شَكْوَاهُ اسْتَأْذَنَهُنَّ أَنْ يَكُونَ فِي بَيْتِ عَائِشَةَ وَيَدُرْنَ عَلَيْهِ فَأَذِنَّ لَهُ فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ مُتَّكِئًا عَلَيْهِمَا أَحَدُهُمَا عَبَّاسٌ وَرِجْلَاهُ تَخُطَّانِ فِي الْأَرْضِ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَفَمَا أَخْبَرَتْكَ مَنِ الْآخَرُ قَالَ لَا قَالَ هُوَ عَلِيٌّ
عبید اللہ کا بیان ہے کہ ہم ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے ہاں گئے اور ہم نے عرص کیا: اے ام المؤمنین آپ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مرض الموت کے بارے میں بتائیں، انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیمار ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منہ سے ایک آواز آئی، ہم منقی کھانے والے سے اس آواز کی تشبیہ دے سکتے ہیں، اس سے قبل اور بیماری کے دنوں میں بھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی ازواج کے ہاں باری باری جاتے رہے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زیادہ نڈھال ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ازواج سے بیتِ عائشہ رضی اللہ عنہا میں وقت گزارنے کی اجازت طلب کی کہ وہ سب وہیں آکر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خبر گیری کرلیا کریں، سب نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس بات کی اجازت دے دی، پس اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو آدمیوں کے سہارے تشریف لائے، ان دو میں سے ایک سیدنا عباس رضی اللہ عنہ تھے، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاؤں زمین پر گھسٹ رہے تھے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے عبیداللہ سے کہا: کیا ام المؤمنین نے تمہیں دوسرے آدمی کے نام سے آگاہ نہیں کیا کہ عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ دوسرا آدمی کون تھا؟ عبیداللہ نے کہا: جی نہیں، تو انھوں نے بتلایا کہ دوسرے آدمی سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة/حدیث: 10980]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 198، 4442، ومسلم: 418، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24103 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24604»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10981
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ لَمَّا مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ فَاسْتَأْذَنَ نِسَاءَهُ أَنْ يُمَرَّضَ فِي بَيْتِي فَأَذِنَّ لَهُ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُعْتَمِدًا عَلَى الْعَبَّاسِ وَعَلَى رَجُلٍ آخَرَ وَرِجْلَاهُ تَخُطَّانِ فِي الْأَرْضِ وَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَتَدْرِي مَنْ ذَلِكَ الرَّجُلُ هُوَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَلَكِنَّ عَائِشَةَ لَا تَطِيبُ لَهَا نَفْسًا قَالَ الزُّهْرِيُّ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ ”مُرِ النَّاسَ فَلْيُصَلُّوا“ فَلَقِيَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَقَالَ يَا عُمَرُ صَلِّ بِالنَّاسِ فَصَلَّى بِهِمْ فَسَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَوْتَهُ فَعَرَفَهُ وَكَانَ جَهِيرَ الصَّوْتِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَلَيْسَ هَذَا صَوْتَ عُمَرَ؟“ قَالُوا بَلَى قَالَ ”يَأْبَى اللَّهُ جَلَّ وَعَزَّ ذَلِكَ وَالْمُؤْمِنُونَ مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ“ قَالَتْ عَائِشَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ رَقِيقٌ لَا يَمْلِكُ دَمْعَهُ وَإِنَّهُ إِذَا قَرَأَ الْقُرْآنَ بَكَى قَالَ ”وَمَا قُلْتِ ذَلِكَ إِلَّا كَرَاهِيَةَ أَنْ يَتَأَثَّمَ النَّاسُ بِأَبِي بَكْرٍ أَنْ يَكُونَ أَوَّلَ مَنْ قَامَ مَقَامَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ“ فَقَالَ ”مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ“ فَرَاجَعَتْهُ فَقَالَ ”مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ إِنَّكُمْ صَوَاحِبُ يُوسُفَ“
۔(دوسری سند) ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب ام المؤمنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر بیمار تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ازواج سے اجازت طلب کی کہ تم میری بیمار پرسی عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں کر لیا کرو،سب ازواج نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بخوشی اس بات کی اجازت دے دی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا عباس رضی اللہ عنہ اور ایک دوسرے آدمی کے آسرے سے اس حال میں تشریف لائے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاؤں زمین پر گھسٹ رہے تھے۔ عبیداللہ کہتے ہیں: یہ سن کر ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم جانتے ہو کہ دوسرا آدمی کون تھا؟ وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے۔ مگر ام المؤمنین رضی اللہ عنہا چونکہ ان سے ناخوش تھیں، اس لیے ان کا نام نہیں لیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہ کے گھر میں تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عبداللہ بن زمعہ سے فرمایا: تم جا کر لوگوں سے کہو کہ وہ نماز ادا کر لیں۔ وہ جا کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ملے اور کہا: اے عمر! آپ لوگوں کو نماز پڑھا دیں۔ جب انہوں نے نماز پڑھانا شروع کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی آواز سن لی، کیونکہ وہ بلند آہنگ تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیایہ عمر رضی اللہ عنہ کی آواز نہیں؟ صحابہ نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول!آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اور اہلِ ایمان اسے قبول نہیں کریں گے، تم ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہو وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اللہ کے رسول! سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تو رقیق القلب ہیں، جب وہ قرآن کی تلاوت کرتے ہیں تو رو پڑتے ہیں، وہ اپنے آنسوؤں پر کنٹرول نہیں کر سکتے، سیدہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے یہ بات صرف اس لیے کہی تھی کہ مبادا لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بارے میں ایسی باتیں کر کے گناہ گار نہ ہوں کہ یہی وہ پہلا شخص ہے جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جگہ پر کھڑا ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوبارہ فرمایا: تم ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے۔ میں نے بھی اپنی بات دوبارہ دہرا دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے تم تو یوسف علیہ السلام کو بہکانے والی عورتوں جیسی ہو۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة/حدیث: 10981]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24562»
وضاحت: فوائد: … یوسف علیہ السلام کو بہکانے والیوں سے مراد عزیز مصر کی بیوی زلیخا ہے، اس نے بظاہر تو خواتین کو دعوت دی اور ان کے سامنے اشیائے خورد و نوش پیش کر کے اکرام اور ضیافت کا اظہار کیا، لیکن بباطن وہ یہ چاہتی تھی کہ وہ یوسف رضی اللہ عنہ کا حسن دیکھ کر اس پر فریفتہ ہو جانے پر اس کو معذور سمجھیں، اسی طرح سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی باتوں سے بظاہر تو یہ لگ رہا ہے کہ وہ اپنے باپ کے لیے اس منصب کو پسند نہیں کر رہیں، لیکن بباطن وہ یہ چاہتی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بار بار سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کا نام لیں، تاکہ ان کی اس فضیلت پر اختلاف کی گنجائش ہی ختم ہو جائے اور سارے لوگ ان کو تسلیم کر لیں۔
یہ ایک رائے ہے جس کی بنیاد صرف ایک عقلی نکتہ پر ہے جبکہ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے ظاہر کیا تھا کہ ابوبکر رفیق القلب ہیں نماز نہیں پڑھا سکیں گے، کیونکہ وہ قرآن مجید پرھتے ہوئے بہت روتے تھے جبکہ ذہن میں بات یہ تھی کہ ابوبکر کے خلیفہ بننے سے دورِ نبوت والی برکت نہیں رہے گی اور لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ سے بدفالی لیں گے کہ ان کی وجہ سے برکت کم ہوئی ہے۔ (دیکھیں بخاری: ۴۴۴۵، مسلم: ۴۱۸) (عبداللہ رفیق)
یہ ایک رائے ہے جس کی بنیاد صرف ایک عقلی نکتہ پر ہے جبکہ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے ظاہر کیا تھا کہ ابوبکر رفیق القلب ہیں نماز نہیں پڑھا سکیں گے، کیونکہ وہ قرآن مجید پرھتے ہوئے بہت روتے تھے جبکہ ذہن میں بات یہ تھی کہ ابوبکر کے خلیفہ بننے سے دورِ نبوت والی برکت نہیں رہے گی اور لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ سے بدفالی لیں گے کہ ان کی وجہ سے برکت کم ہوئی ہے۔ (دیکھیں بخاری: ۴۴۴۵، مسلم: ۴۱۸) (عبداللہ رفیق)
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10982
عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ بْنِ الْأَسْوَدِ بْنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَسَدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا اسْتُعِزَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا عِنْدَهُ فِي نَفَرٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ قَالَ دَعَا بِلَالٌ لِلصَّلَاةِ فَقَالَ ”مُرُوا مَنْ يُصَلِّي بِالنَّاسِ“ قَالَ فَخَرَجْتُ فَإِذَا عُمَرُ فِي النَّاسِ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ غَائِبًا فَقَالَ قُمْ يَا عُمَرُ فَصَلِّ بِالنَّاسِ قَالَ فَقَامَ فَلَمَّا كَبَّرَ عُمَرُ سَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَوْتَهُ وَكَانَ عُمَرُ رَجُلًا مُجْهِرًا قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”فَأَيْنَ أَبُو بَكْرٍ؟ يَأْبَى اللَّهُ ذَلِكَ وَالْمُسْلِمُونَ يَأْبَى اللَّهُ ذَلِكَ وَالْمُسْلِمُونَ“ قَالَ فَبَعَثَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ فَجَاءَ بَعْدَ أَنْ صَلَّى عُمَرُ تِلْكَ الصَّلَاةَ فَصَلَّى بِالنَّاسِ قَالَ وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَمْعَةَ قَالَ لِي عُمَرُ وَيْحَكَ مَاذَا صَنَعْتَ بِي يَا ابْنَ زَمْعَةَ وَاللَّهِ مَا ظَنَنْتُ حِينَ أَمَرْتَنِي إِلَّا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَرَكَ بِذَلِكَ وَلَوْلَا ذَلِكَ مَا صَلَّيْتُ بِالنَّاسِ قَالَ قُلْتُ وَاللَّهِ مَا أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَكِنْ حِينَ لَمْ أَرَ أَبَا بَكْرٍ رَأَيْتُكَ أَحَقَّ مَنْ حَضَرَ بِالصَّلَاةِ
سیدنا عبداللہ بن زمعہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیماری شدت اختیار کر گئی تو میں چند دیگر مسلمانوں کے ہمراہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا، سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے نماز کے لیے اذان کہی اورآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی سے کہو کہ وہ نماز پڑھا دے۔ میں باہر نکلا تو سیدناعمر رضی اللہ عنہ لوگوں میں موجود تھے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ موجود نہیں تھے، میں نے عرض کیا: عمر! آپ اُٹھ کر نماز پڑھا دیں۔ وہ اُٹھے انہوں نے تکبیر تحریمہ کہی، ان کی آواز بہت بلند تھی، اس لیے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی آواز سنی توفرمایا: ابوبکر کہاں ہیں؟اللہ اور اہل اسلام ابوبکر کی بجائے کسی دوسرے کو قبول نہیں کریں گے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف پیغام بھیجا، لیکن جب وہ آئے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ وہ نماز پڑھا چکے تھے۔ پھر انہوں نے آکر لوگوں کو باقی نمازیں پڑھائیں۔ سیدنا عبداللہ بن زمعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: اے ابن زمعہ! تمہارا بھلا ہو، تم نے میرے ساتھ کیا کیا؟ اللہ کی قسم! تم نے جب مجھے نماز پڑھانے کو کہا تو میں یہی سمجھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہی تمہیں اس بات کا حکم دیا ہے کہ مجھے کہا جائے، اگر یہ بات نہ ہوتی تو میں لوگوں کو نماز نہ پڑھاتا۔ میں نے عرض کیا: اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو واقعی مجھے یہ حکم نہیں دیا تھا، لیکن جب مجھے ابوبکر رضی اللہ عنہ دکھائی نہیں دیے تو میں نے حاضر لوگوں میں سے آپ کو امامت کا سب سے زیادہ حق دار سمجھا۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة/حدیث: 10982]
تخریج الحدیث: «حسن صحيح، قاله الالباني، أخرجه ابوداود: 4660، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18906 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19113»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10983
عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ”مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ“ فَقَالَتْ عَائِشَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبِي رَجُلٌ رَقِيقٌ فَقَالَ ”مُرُوا أَبَا بَكْرٍ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ فَإِنَّكُنَّ صَوَاحِبَاتُ يُوسُفَ“ فَأَمَّ أَبُو بَكْرٍ النَّاسَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَيٌّ
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیمار پڑ گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ابوبکر تو انتہائی رقیق القلب اور نرم دل ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بس ابوبکر سے کہو وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، تم تو سیدنایوسف علیہ السلام والی خواتین لگ رہی ہو۔ چنانچہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات میں لوگوں کو نمازیں پڑھائیں۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة/حدیث: 10983]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23060 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23448»
الحكم على الحديث: صحیح