الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
9. بَابُ فِي ذِكْرِ أُمُورٍ عُرِضَتْ فِي مَرْضِهِ ﷺ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بیماری کے دوران پیش آنے والے بعض امور کا بیان
حدیث نمبر: 11014
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَعَا فَاطِمَةَ ابْنَتَهُ فَسَارَّهَا فَبَكَتْ ثُمَّ سَارَّهَا فَضَحِكَتْ فَقَالَتْ عَائِشَةُ فَقُلْتُ لِفَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا مَا هَذَا الَّذِي سَارَّكِ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَبَكَيْتِ ثُمَّ سَارَّكِ فَضَحِكْتِ قَالَتْ سَارَّنِي فَأَخْبَرَنِي بِمَوْتِهِ فَبَكَيْتُ ثُمَّ سَارَّنِي فَأَخْبَرَنِي أَنِّي أَوَّلُ مَنْ أَتْبَعُهُ مِنْ أَهْلِهِ فَضَحِكْتُ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی صاحب زادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بلوا کر ان سے راز داری میں کوئی بات کہی، وہ رونے لگ گئیں، پھر اس کے بعد دوبارہ اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ کہا تو وہ ہنس دیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ سے راز داری سے کیا بات کی تھی کہ آپ رو دی تھیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رازداری سے کچھ فرمایا تو آپ ہنسنے لگ گئی تھیں؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے چپکے سے اپنی وفات کی اطلاع دی تھی، اس لیے میں رونے لگ گئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چپکے سے مجھ سے فرمایا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہلِ خانہ میں سے میں سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جا کر ملو ں گی، تو میں یہ سن کر ہنسنے لگی۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة/حدیث: 11014]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3625، 3626، 3715، ومسلم: 2450، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24483 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24988»
وضاحت: فوائد: … پھر ایسے ہی ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات سے چھ ماہ بعد سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا خالقِ حقیقی کی طرف روانہ ہوگئیں۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11015
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ تَابَعَ الْوَحْيَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ وَفَاتِهِ حَتَّى تُوُفِّيَ وَأَكْثَرُ مَا كَانَ الْوَحْيُ يَوْمَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف وحی کا ایک طویل سلسلہ شروع کر دیا تھا، تاآنکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات ہو گئی، جس دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات ہوئی اس روز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سب سے زیادہ مرتبہ وحی نازل ہوئی۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة/حدیث: 11015]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4982، ومسلم: 3016، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13479 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13513»
الحكم على الحديث: صحیح
10. بَابُ آخرٍ عَهْدِ بِالصَّلَاةِ وَ آخِرِ عَهْدِ أَصْحَابِهِ بِهِ وَأَنَّهُ ﷺ مَاتَ شَهِيدًا
اس امر کا بیان کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے امت کو آخری تاکید نماز کی تھی، نیز صحابہ کرام کا آپ کو آخری بار دیکھنے کا بیان اور اس امر کا بیان کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی¤موت شہادت کی موت تھی
حدیث نمبر: 11016
(وَعَنْهُ أَيْضًا) قَالَ لَمَّا مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَرَضَهُ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ أَتَاهُ بِلَالٌ يُؤْذِنُهُ بِالصَّلَاةِ فَقَالَ بَعْدَ مَرَّتَيْنِ ”يَا بِلَالُ قَدْ بَلَّغْتَ فَمَنْ شَاءَ فَلْيُصَلِّ وَمَنْ شَاءَ فَلْيَدَعْ“ فَرَجَعَ إِلَيْهِ بِلَالٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي مَنْ يُصَلِّي بِالنَّاسِ قَالَ ”مُرْ أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ“ فَلَمَّا أَنْ تَقَدَّمَ أَبُو بَكْرٍ رُفِعَتْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ السُّتُورُ قَالَ فَنَظَرْنَا إِلَيْهِ كَأَنَّهُ وَرَقَةٌ بَيْضَاءُ عَلَيْهِ خَمِيصَةٌ فَذَهَبَ أَبُو بَكْرٍ يَتَأَخَّرُ وَظَنَّ أَنَّهُ يُرِيدُ الْخُرُوجَ إِلَى الصَّلَاةِ فَأَشَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ أَنْ يَقُومَ فَيُصَلِّيَ فَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ بِالنَّاسِ فَمَا رَأَيْنَاهُ بَعْدُ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مرض الموت میں مبتلا تھے، سیدنا بلال رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نماز کی اطلاع دینے آئے، ان کی طرف سے دوسری مرتبہ اطلاع کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے بلال! تم نے اپنی ذمہ داری پوری کر دی، جو نماز پڑھنا چاہے گا، پڑھ لے گا اور جو چاہے گا وہ چھوڑ دے گا۔ پھر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ آپ کی طرف واپس آئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر نثار ہوں، لوگوں کو نماز کون پڑھائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز پڑھانے کے لیے آگے بڑھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے سے پردے ہٹا دئیے گئے، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرۂ انور سفید کاغذ کی مانند (انتہائی سفید، چمک دار) تھا، اور آپ پر ایک سیاہ دھاری دار چادر تھی، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سمجھا کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کے لیے تشریف لانا چاہتے ہیں، وہ پیچھے ہٹنے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اشارہ کیا کہ وہ کھڑے رہیں اور نماز پڑھائیں، چنانچہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو نماز پڑھائی، ہم اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دیدار نہیں کر سکے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة/حدیث: 11016]
تخریج الحدیث: «الشطر الثاني صحيح بالطرق، وھذا اسناد ضعيف، سفيان بن حسين ضعيف في الزھري، ثقة في غيره، أخرجه ابن ابي شيبة: 2/ 330، وابويعلي: 3567، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13093 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13124»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 11017
(وَعَنْهُ أَيْضًا) قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ الِاثْنَيْنِ كَشَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سِتْرَ الْحُجْرَةِ فَرَأَى أَبَا بَكْرٍ وَهُوَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ قَالَ فَنَظَرْتُ إِلَى وَجْهِهِ كَأَنَّهُ وَرَقَةُ مُصْحَفٍ وَهُوَ يَتَبَسَّمُ قَالَ وَكِدْنَا أَنْ نُفْتَتَنَ فِي صَلَاتِنَا فَرَحًا لِرُؤْيَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَرَادَ أَبُو بَكْرٍ أَنْ يَنْكُصَ فَأَشَارَ إِلَيْهِ أَنْ كَمَا أَنْتَ ثُمَّ أَرْخَى السِّتْرَ فَقُبِضَ مِنْ يَوْمِهِ ذَلِكَ فَقَامَ عُمَرُ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَمُتْ وَلَكِنَّ رَبَّهُ أَرْسَلَ إِلَيْهِ كَمَا أَرْسَلَ إِلَى مُوسَى فَمَكَثَ عَنْ قَوْمِهِ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ يَعِيشَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى يَقْطَعَ أَيْدِيَ رِجَالٍ مِنَ الْمُنَافِقِينَ وَأَلْسِنَتَهُمْ يَزْعُمُونَ أَوْ قَالَ يَقُولُونَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ مَاتَ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سوموار کا دن تھا، ایک روایت میں ہے کہ میں نے سوموار کے دن آخری مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دیدار کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجرے کا پردہ ہٹا کر دیکھا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ انور کو دیکھا، وہ قرآنی ورق کی مانند انتہائی حسین تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسکرا رہے تھے، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دیکھنے کی خوشی میں نماز کے اندر ہی فرط مسرت سے فتنہ میں مبتلا ہونے کے قریب ہو گئے، مراد یہ ہے کہ آپ کو صحت یاب دیکھ کر ہمیں اس قدر خوشی ہوئی کہ قریب تھا کہ ہم نماز توڑ بیٹھتے، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پیچھے ہٹنے کا ارادہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اشارہ سے فرمایا کہ نماز تم ہی پڑھاؤ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پردہ نیچے گرا دیا اور اسی دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روح پرواز کر گئی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر کہنے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتقال نہیں ہوا، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رب نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وہی کیفیت طاری کی ہے، جیسے موسیٰ علیہ السلام چالیس راتیں اپنی قوم سے الگ تھلگ رہے تھے۔ اللہ کی قسم! مجھے توقع ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منافقین کے ہاتھ اور زبانیں کاٹنے تک زندہ رہیں گے، وہ تو کہہ رہے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتقال ہو گیا ہے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة/حدیث: 11017]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 754، 1205، 4448، ومسلم: 419، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13028 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13059»
وضاحت: فوائد: … بالآخر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے تسلیم کر لیا تھا کہ واقعی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وفات پا گئے ہیں، دیکھیں حدیث نمبر (۱۰۹۷۷)
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11018
عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِهِ مُتَوَشِّحًا فِي ثَوْبٍ الْمَغْرِبَ فَقَرَأَ الْمُرْسَلَاتِ مَا صَلَّى بَعْدَهَا حَتَّى قُبِضَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
سیدہ ام فضل بنت حارث رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے گھر میں ایک کپڑے میں لپٹ کر ہمیں مغرب کی نماز پڑھائی اور سورۂ مرسلات کی تلاوت کی، اس کے بعد کوئی نماز نہیں پڑھی، حتی کہ فوت ہو گئے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة/حدیث: 11018]
تخریج الحدیث: «أخطأ موسي بن داود الضبي، فأدخل حديثا في حديث۔ فقولھا: صلي بنا رسول الله صلي الله عليه وآله وسلم في بيته متوشحا في ثوب، انما ھو من حديث انس، وھو حديث صحيح (مسند احمد: 13260)، وأما حديث: قرأ رسول الله صلي الله عليه وآله وسلم في المغرب سورة المرسلات، فھو من حديث ام الفضل، وھو حديث صحيح (مسند احمد: 26868) أما ھذا الحديث، فأخرجه النسائي: 2/ 168، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26871 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27408»
وضاحت: فوائد: … سیدہ ام فضل بنت حارث رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: سَمِعْتُ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یَقْرَأُ فِی الْمَغْرِبِ بِالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا ثُمَّ مَا صَلّٰی لَنَا بَعْدَہَا حَتّٰی قَبَضَہُ اللّٰہُ۔ … میں نے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمازِ مغرب میں سورۂ مرسلات پڑھی، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں کوئی نماز نہ پڑھائی،یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وفات پا گئے۔ (صحیح بخاری: ۴۰۷۶) سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا اپنے علم کے مطابق بات کر رہی ہیں، وگرنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابۂ کرام کو سب سے آخر میںجو نماز پڑھائی تھی، وہ ظہر کی نماز تھی۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11019
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ وَالَّذِي أَحْلِفُ بِهِ إِنْ كَانَ عَلِيٌّ لَأَقْرَبَ النَّاسِ عَهْدًا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ عُدْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ غَدَاةً بَعْدَ غَدَاةٍ يَقُولُ جَاءَ عَلِيٌّ مِرَارًا قَالَتْ وَأَظُنُّهُ كَانَ بَعَثَهُ فِي حَاجَةٍ قَالَتْ فَجَاءَ بَعْدُ فَظَنَنْتُ أَنَّ لَهُ إِلَيْهِ حَاجَةً فَخَرَجْنَا مِنَ الْبَيْتِ فَقَعَدْنَا عِنْدَ الْبَابِ فَكُنْتُ مِنْ أَدْنَاهُمْ إِلَى الْبَابِ فَأَكَبَّ عَلَيْهِ عَلِيٌّ فَجَعَلَ يُسَارُّهُ وَيُنَاجِيهِ ثُمَّ قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ يَوْمِهِ ذَلِكَ فَكَانَ أَقْرَبَ النَّاسِ بِهِ عَهْدًا
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ اس ذات کی قسم جس کے نام کی قسم اُٹھائی جاتی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سب سے آخری ملاقات سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی ہوئی تھی، ہم روزانہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تیمارداری کیا کرتی تھیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بار بار دریافت فرماتے کہ علی رضی اللہ عنہ آئے ہیں؟ سیدہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں کسی کام کے لیے بھیجا ہوا تھا، چنانچہ وہ تشریف لے آئے، میں سمجھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان سے کوئی کام ہے، ہم کمرے سے نکل کر دروازے کے قریب بیٹھ گئیں۔ میں سب سے زیادہ کمرے کے دروازے کے قریب تھی، سیدنا علی رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اوپر جھک سے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے ساتھ راز داری کے ساتھ سر گوشی سی کرنے لگے اور اسی دن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتقال ہو گیا، اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سب سے آخری ملاقات علی رضی اللہ عنہ کی تھی۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة/حدیث: 11019]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ام موسييقبل حديثھا اذا توبعت، ولا يحتمل تفردھا، وقد تفردت بھذه الرواية أخرجه النسائي في الكبري: 7108، والطبراني في المعجم الكبير: 23/ 887، وابويعلي: 6968، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26565 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27100»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 11020
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أُمِّهِ أُمِّ مُبَشِّرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا دَخَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي وَجَعِهِ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ فَقَالَتْ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا تَتَّهِمُ بِنَفْسِكَ فَإِنِّي لَا أَتَّهِمُ إِلَّا الطَّعَامَ الَّذِي أَكَلْتَ مَعَكَ بِخَيْبَرَ وَكَانَ ابْنُهَا مَاتَ قَبْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ ”وَأَنَا لَا أَتَّهِمُ غَيْرَهُ هَذَا أَوَانُ قَطْعِ أَبْهَرِي“
عبدالرحمن بن عبداللہ بن کعب اپنی والدہ سیدہ ام مبشر رضی اللہ عنہا سے بیان کرتے ہیں، وہ کہتی ہیں:میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مرض الموت کے دنوں میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں گئی، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اپنے بارے میں کیا رائے ہے؟ یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خیال میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیماری کا سبب کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے اور تو کسی چیز پر شک نہیں، البتہ جو کھانا میں نے خیبر میں کھایا تھا، (یہ اس کا اثر معلوم ہوتا ہے۔) ام مبشر رضی اللہ عنہا کا بیٹا(مبشر رضی اللہ عنہ) بھی اس کھانے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا اور اسی زہریلے کھانے کے سبب سے اس کا انتقال ہو گیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے علاوہ تو مجھے کسی اور چیز پر شک نہیں، اب میری شہ رگ کے کٹنے کا یعنی زندگی کا آخری وقت آچکا ہے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة/حدیث: 11020]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني، أخرجه ابوداود: 4514، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23933 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24430»
وضاحت: فوائد: … سلام بن مکشم کی بیوی زینب بن حارث یہودی خاتون تھی، اس نے غزوۂ خیبر کے موقع پر بکری میںزہر ملایا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کے سامنے پیش کیا،دیکھیں حدیث نمبر (۱۰۸۱۹)
اس حدیث کا درج ذیل ایک شاہد ہے، جو امام بخاری نے معلقا ذکر کیا اور امام بزار اور امام حاکم نے اس کو موصولا بیان کیا ہے:
سیدہ عائشہ کہتی ہیں: کَانَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یَقُولُ فِی مَرَضِہِ الَّذِی مَاتَ فِیہِ: ((یَا عَائِشَۃُ! مَا أَزَالُ أَجِدُ أَلَمَ الطَّعَامِ الَّذِی أَکَلْتُ بِخَیْبَرَ فَہَذَا أَوَانُ وَجَدْتُ انْقِطَاعَ أَبْہَرِی مِنْ ذٰلِکَ السُّمِّ۔)) … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مرض الموت کے دوران فرمایا: اے عائشہ! میں نے جو زہریلا کھانا خیبر میں کھایا تھا، میں ہمیشہ اس کی تکلیف محسوس کرتا رہا اور اب اس زہر کی وجہ سے وہ وقت آگیا ہے کہ میری زندگی کی رگ کٹ گئی۔
اس حدیث کا درج ذیل ایک شاہد ہے، جو امام بخاری نے معلقا ذکر کیا اور امام بزار اور امام حاکم نے اس کو موصولا بیان کیا ہے:
سیدہ عائشہ کہتی ہیں: کَانَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یَقُولُ فِی مَرَضِہِ الَّذِی مَاتَ فِیہِ: ((یَا عَائِشَۃُ! مَا أَزَالُ أَجِدُ أَلَمَ الطَّعَامِ الَّذِی أَکَلْتُ بِخَیْبَرَ فَہَذَا أَوَانُ وَجَدْتُ انْقِطَاعَ أَبْہَرِی مِنْ ذٰلِکَ السُّمِّ۔)) … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مرض الموت کے دوران فرمایا: اے عائشہ! میں نے جو زہریلا کھانا خیبر میں کھایا تھا، میں ہمیشہ اس کی تکلیف محسوس کرتا رہا اور اب اس زہر کی وجہ سے وہ وقت آگیا ہے کہ میری زندگی کی رگ کٹ گئی۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11021
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَأَنْ أَحْلِفَ تِسْعًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قُتِلَ قَتْلًا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَحْلِفَ وَاحِدَةً أَنَّهُ لَمْ يُقْتَلْ وَذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ جَعَلَهُ نَبِيًّا وَاتَّخَذَهُ شَهِيدًا قَالَ الْأَعْمَشُ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِإِبْرَاهِيمَ فَقَالَ كَانُوا يَرَوْنَ أَنَّ الْيَهُودَ سَمُّوهُ وَأَبَا بَكْرٍ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں اس بات کی تو نو بار قسمیں اُٹھاؤں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شہید ہوئے ہیں، مجھے یہ بات اس سے زیادہ محبوب ہے کہ میں ایک قسم اُٹھا کر یوں کہوں کہ آپ شہید نہیں ہوئے، اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کونبی اور شہید بنایا ہے، حدیث کے ایک راوی اعمش کہتے ہیں:جب میں نے اس بات کا ذکر اپنے شیخ ابراہیم تیمی سے کیا تو انہوں نے کہا کہ علماء کا خیال ہے کہ یہودیوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو زہر دیا تھا۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة/حدیث: 11021]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4139 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4139»
وضاحت: فوائد: … سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا نظریہیہ تھا کہ چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہودیوںکے زہر کی وجہ سے فوت ہوئے ہیں، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شہید ہیں۔
الحكم على الحديث: صحیح
11. بَابُ مَا جَاءَ فِي احْتِصَارِهِ صلى الله عليه وسلم وَمُعَالَجَتِهِ سَكَرَاتِ الْمَوْتِ وَتَخْسِيرِهِ بَيْنَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَاخْتِيَارِهِ الرَّفِيقَ الْأَعْلَى وَهُوَ آخِرُ مَا تَكَلَّمَ بِهِ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا موت کے سکرات سے واسطہ پڑنا، نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دنیا اور آخرت میں سے کسی ایک کے انتخاب کا اختیار دیئے جانے اور آپ کے رفیق اعلیٰ کو منتخب کرنے کا بیان اور اس بات کا ذکر کہ یہ آخری الفاظ تھے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان مبارک سے ادا ہوئے
حدیث نمبر: 11022
حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُعَوِّذُ بِهَذِهِ الْكَلِمَاتِ أَذْهِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ اشْفِ وَأَنْتَ الشَّافِي لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا قَالَتْ فَلَمَّا ثَقُلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ أَخَذْتُ بِيَدِهِ فَجَعَلْتُ أَمْسَحُهُ بِهَا وَأَقُولُهَا قَالَتْ فَنَزَعَ يَدَهُ مِنِّي ثُمَّ قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِي وَأَلْحِقْنِي بِالرَّفِيقِ قَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَتْ فَكَانَ هَذَا آخِرَ مَا سَمِعْتُ مِنْ كَلَامِهِ قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا عَادَ مَرِيضًا مَسَحَهُ بِيَدِهِ وَقَالَ أَذْهِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ اشْفِ وَأَنْتَ الشَّافِي لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیماروں کو ان الفاظ کے ساتھ دم کیا کرتے تھے: أَذْہِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ! اِشْفِ وَأَنْتَ الشَّافِی لَا شِفَائَ إِلَّا شِفَاؤُکَ شِفَائً لَا یُغَادِرُ سَقَمًا (اے لوگوں کے رب!بیماری کو دور فرما، شفاء عطا کر، تو ہی شفاء دینے والا ہے، تیری شفاء کے سوا کوئی شفاء نہیں، ایسی شفاء دے جو تمام بیماریوں کو ختم کر دے۔) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مرض الموت میں شدید بیمار ہوئے تو میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہاتھ تھام کر اسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جسد مبارک پر پھیرتی اور ان کلمات کو زبان سے ادا کرتی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے اپنا ہاتھ چھڑایا اور فرمایا: اے میرے رب! میری مغفرت فرما اور مجھے رفیق اعلی کے ساتھ ملا دے۔ امام احمد کے شیخ ابو معاویہ نے کہا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ یہ آخری الفاظ تھے، جو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنے۔ امام احمد کے دوسرے استاذ ابن جعفر نے یوں کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کسی مریض کی بیمار پرسی کرتے تو اپنا ہاتھ اس کے جسم پر پھیرتے اور یہ دعا فرماتے: أَذْہِبْ … …۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة/حدیث: 11022]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5743، 5750، ومسلم: 2191، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24182 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24686»
وضاحت: فوائد: … رفیق اعلی سے مراد انبیائ، اصدقائ، شہداء اور صلحاء ہیں، جیسا کہ حدیث نمبر (۱۱۰۲۶) میں آ رہا ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11023
عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي وَيَوْمِي وَبَيْنَ سَحْرِي وَنَحْرِي فَدَخَلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَمَعَهُ سِوَاكٌ رَطْبٌ فَنَظَرَ إِلَيْهِ فَظَنَنْتُ أَنَّ لَهُ فِيهِ حَاجَةً قَالَتْ فَأَخَذْتُهُ فَمَضَغْتُهُ وَنَفَضْتُهُ وَطَيَّبْتُهُ ثُمَّ دَفَعْتُهُ إِلَيْهِ فَاسْتَنَّ كَأَحْسَنِ مَا رَأَيْتُهُ مُسْتَنًّا قَطُّ ثُمَّ ذَهَبَ يَرْفَعُهُ إِلَيَّ فَسَقَطَ مِنْ يَدِهِ فَأَخَذْتُ أَدْعُو اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ بِدُعَاءٍ كَانَ يَدْعُو لَهُ بِهِ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَكَانَ هُوَ يَدْعُو بِهِ إِذَا مَرِضَ فَلَمْ يَدْعُ بِهِ فِي مَرَضِهِ ذَلِكَ فَرَفَعَ بَصَرَهُ إِلَى السَّمَاءِ وَقَالَ الرَّفِيقُ الْأَعْلَى الرَّفِيقُ الْأَعْلَى يَعْنِي وَفَاضَتْ نَفْسُهُ فَالْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَمَعَ بَيْنَ رِيقِي وَرِيقِهِ فِي آخِرِ يَوْمٍ مِنْ أَيَّامِ الدُّنْيَا
ابن ابی ملیکہ سے مروی ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتقال میرے گھر میں اور میری باری کے دن ہوا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے سینہ اور گردن کے درمیان تھے، اس وقت میرے بھائی سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ آئے، ان کے پاس ایک تازہ مسواک تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس مسواک کی طرف دیکھا، میں سمجھ گئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مسواک کی ضرورت ہے۔ میں نے ان سے مسواک لے کر اسے چبا یا اور جھاڑ کر صاف کر کے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے خوبصورت انداز سے مسواک کی کہ میں نے کبھی اس طرح خوبصورت انداز سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مسواک کرتے نہیں دیکھا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ مجھے پکڑانے لگے تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ سے چھوٹ گئی، میں نے اسے اُٹھا یا اور میں اللہ تعالیٰ سے وہ دعا کرنے لگی جو دعا جبریل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے کیا کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی جب کبھی بیمار ہوتے تو وہی دعا پڑھا کرتے تھے۔ لیکن اس بیماری میں آپ نے وہ دعا نہیں پڑھی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آسمان کی طرف نظر اُٹھا کر فرمایا: رفیقِ اعلی، رفیقِ اعلی۔ اور ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روح پرواز کر گئی، اللہ کا بڑاشکر ہے، جس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آخری دن میرے لعاب کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لعاب کے ساتھ جمع کر دیا۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة/حدیث: 11023]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4451، ومسلم: 2443، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24216 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24720»
الحكم على الحديث: صحیح