الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابُ خُطْبَةٍ فِي فَضْلِ نَسَبِهِ الشَّرِيفِ وَطَيِّبِ عُنْصَرِہِ المُنِيْفِ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نسب کی فضیلت اور پاکیزگی کے بیان میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خطبہ
حدیث نمبر: 11081
قَالَ الْعَبَّاسُ بَلَغَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعْضُ مَا يَقُولُ النَّاسُ قَالَ فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ فَقَالَ مَنْ أَنَا قَالُوا أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ الْخَلْقَ فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِ خَلْقِهِ وَجَعَلَهُمْ فِرْقَتَيْنِ فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِ فِرْقَةٍ وَخَلَقَ الْقَبَائِلَ فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِ قَبِيلَةٍ وَجَعَلَهُمْ بُيُوتًا فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِهِمْ بَيْتًا فَأَنَا خَيْرُكُمْ بَيْتًا وَخَيْرُكُمْ نَفْسًا
سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بات پہنچی کہ کچھ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نسب کے متعلق نازیبا اور ناروا باتیں کی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر تشریف لائے اور فرمایا: لوگو بتلاؤ! میں کون ہوں؟ صحابہ نے عرض کیا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب ہوں، اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا تو اس نے انسانوں کے بہترین گروہ میں بنایا، اس نے قبائل بنائے تو مجھے بہترین قبیلہ میں بنایا، اس نے ان کے گھرانے بنائے تو اس نے مجھے بہترین گھرانے میں بنایا۔ میں گھرانے اور اپنی ذات کے لحاظ سے(یعنی ہر لحاظ سے) تم سب سے افضل ہوں۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11081]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره أخرجه الترمذي: 3607، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1788 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1788»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نسب اس طرح ہے۔ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بن عبد اللہ بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبد مناف بن قُصَی بن کِلاب بن مُرّہ بن کعب بن لُؤیّ بن غالب بن فِہر بن مالک بن نضر بن کِنانہ بن خزیمہ بن مُدرِکہ بن الیاس بن مضر بن نِزار بن معَد بن عدنان۔ عدنان بالاتفاق اسماعل علیہ السلام کی نسل سے ہیں، لیکن اِن دونوں کے درمیان کتنی پشتیں ہیں اور ان کے نام کیا کیا ہیں، اس بارے بڑا اختلاف ہے۔
آپ قبیلۂ قریش سے تعلق رکھتے تھے، جو پورے عرب میں سب سے معزز قبیلہ تھا، قریش دراصل فہر بن مالک یا نضر بن کنانہ کا لقب تھا، بعد میں اس کی اولاد اسی نسبت سے مشہور ہوئی۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے کہا: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عرب بلحاظ جنس عجمیوں سے افضل ہیں، پھر عربوں میں قریشی، قریشیوں میں بنی ہاشم اور بنو ہاشم میں سب سے زیادہ فضیلت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پوری انسانیت میں سب سے زیادہ فضیلت پانے والے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے ہر اعتبار سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو برتری اور فضیلت عطا کی، اس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نسب کی فضیلت کا بیان ہے۔
سیدنا عبد المطلب بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: أَتَی نَاسٌ مِنَ الْأَنْصَارِ اِلَی النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَقَالُوْا: إِنَّا لَنَسْمَعُ مِنْ قَوْمِکَ حَتّٰییَقُوْلَ الْقَائِلُ مِنْھُمْ: إِنَّمَا مِثْلُ مُحَمَّدٍ مِثْلُ نَخْلَۃٍ نَبَتَتْ فِیْ کِبَائٍ، قَالَ حُسَیْنٌ: اَلْکِبَائُ اَلْکُنَاسَۃُ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: ((یَا أَیُّھَا النَّاسُ مَنْ أَنَا؟)) قَالُوْا: أَنْتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، قَالَ: ((أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ۔)) قَالَ: فَمَا سَمِعْنَا ہُ قَطُّ یَنْتَمِیْ قَبْلَھَا ((أَلَا اِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ خَلَقَ خَلْقَہُ فَجَعَلَنِیْ مِنْ خَیْرِ خَلْقِہِ، ثُمَّّ فَرَّقَھُمْ فِرْقَتَیْنِ فَجَعَلَنِیْ مِنْ خَیْرِ الْفِرْقَتَیْنِ ثُمَّّ جَعَلَھُمْ قَبَائِلَ فَجَعَلَنِیْ مِنْ خَیْرِھِمْ قَبِیْلَۃً ثُمَّّ جَعَلَھُمْ بُیُوْتًا فَجَعَلَنِیْ مِنْ خَیْرِھِمْ بَیْتًا وَأَنَا خَیْرُکُمْ بَیْتًا وَخَیْرُکُمْ نَفْسًا))۔ … کچھ انصاری لوگ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور انھوں نے کہا: ہم آپ کی قوم کی باتیں سنتے ہیں، وہ تو آپ کے بارے میں یہ بھی کہہ دیتے ہیں کہ محمد(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مثال کھجور کے درخت کی سی ہے، جو کوڑے کرکٹ میں پیدا ہوتی ہے، حسین راوی نے کہا: کِبَائ سے مراد کوڑا کرکٹ ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگو! میں کون ہوں؟ انھوں نے کہا: آپ اللہ کے رسول ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب ہوں۔ اس سے پہلے ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنا نسب بیان کرتے ہوئے نہیں سنا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خبردار! اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق (جن و انس) کو پیدا کیا اور مجھے بہترین مخلوق (یعنی انسانوں) میں سے بنایا، پھر انسانیت کو دو حصوں میں تقسیم کیا اور مجھے بہترین حصے میں رکھا، پھر اس کو قبیلوں میں تقسیم کیا اور مجھے بہترین قبیلے میں رکھا، پھر اس کو گھروں میں تقسیم کیا اور مجھے بہترین گھر والا قرار دیا، پس میں تم میں گھر کے اعتبار سے بھی بہتر ہوں اور نفس کے لحاظ سے بھی بہتر ہوں۔ (مسند احمد: ۱۷۵۱۷)
جب لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حسب و نسب پر طعن کرتے ہوئے کہا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مثال کھجور کے درخت کی سی ہے …۔ تو جواباً آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فخریہ انداز میں اپنا نسب بیان کیا کہ بنی آدم میں سب سے زیادہ شرف و عظمت والا نسب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نصیبے میں آیا۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جن احادیث میں آباء و اجداد کی وجہ سے فخر کرنے سے منع فرمایا، اس سے مراد وہ انداز ہے، جو ضرورت کے بغیر ہو اور جس کا نتیجہ تکبر اور دوسرے مسلمان کی تحقیر ہو۔
آپ قبیلۂ قریش سے تعلق رکھتے تھے، جو پورے عرب میں سب سے معزز قبیلہ تھا، قریش دراصل فہر بن مالک یا نضر بن کنانہ کا لقب تھا، بعد میں اس کی اولاد اسی نسبت سے مشہور ہوئی۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے کہا: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عرب بلحاظ جنس عجمیوں سے افضل ہیں، پھر عربوں میں قریشی، قریشیوں میں بنی ہاشم اور بنو ہاشم میں سب سے زیادہ فضیلت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پوری انسانیت میں سب سے زیادہ فضیلت پانے والے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے ہر اعتبار سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو برتری اور فضیلت عطا کی، اس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نسب کی فضیلت کا بیان ہے۔
سیدنا عبد المطلب بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: أَتَی نَاسٌ مِنَ الْأَنْصَارِ اِلَی النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَقَالُوْا: إِنَّا لَنَسْمَعُ مِنْ قَوْمِکَ حَتّٰییَقُوْلَ الْقَائِلُ مِنْھُمْ: إِنَّمَا مِثْلُ مُحَمَّدٍ مِثْلُ نَخْلَۃٍ نَبَتَتْ فِیْ کِبَائٍ، قَالَ حُسَیْنٌ: اَلْکِبَائُ اَلْکُنَاسَۃُ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: ((یَا أَیُّھَا النَّاسُ مَنْ أَنَا؟)) قَالُوْا: أَنْتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، قَالَ: ((أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ۔)) قَالَ: فَمَا سَمِعْنَا ہُ قَطُّ یَنْتَمِیْ قَبْلَھَا ((أَلَا اِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ خَلَقَ خَلْقَہُ فَجَعَلَنِیْ مِنْ خَیْرِ خَلْقِہِ، ثُمَّّ فَرَّقَھُمْ فِرْقَتَیْنِ فَجَعَلَنِیْ مِنْ خَیْرِ الْفِرْقَتَیْنِ ثُمَّّ جَعَلَھُمْ قَبَائِلَ فَجَعَلَنِیْ مِنْ خَیْرِھِمْ قَبِیْلَۃً ثُمَّّ جَعَلَھُمْ بُیُوْتًا فَجَعَلَنِیْ مِنْ خَیْرِھِمْ بَیْتًا وَأَنَا خَیْرُکُمْ بَیْتًا وَخَیْرُکُمْ نَفْسًا))۔ … کچھ انصاری لوگ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور انھوں نے کہا: ہم آپ کی قوم کی باتیں سنتے ہیں، وہ تو آپ کے بارے میں یہ بھی کہہ دیتے ہیں کہ محمد(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مثال کھجور کے درخت کی سی ہے، جو کوڑے کرکٹ میں پیدا ہوتی ہے، حسین راوی نے کہا: کِبَائ سے مراد کوڑا کرکٹ ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگو! میں کون ہوں؟ انھوں نے کہا: آپ اللہ کے رسول ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب ہوں۔ اس سے پہلے ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنا نسب بیان کرتے ہوئے نہیں سنا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خبردار! اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق (جن و انس) کو پیدا کیا اور مجھے بہترین مخلوق (یعنی انسانوں) میں سے بنایا، پھر انسانیت کو دو حصوں میں تقسیم کیا اور مجھے بہترین حصے میں رکھا، پھر اس کو قبیلوں میں تقسیم کیا اور مجھے بہترین قبیلے میں رکھا، پھر اس کو گھروں میں تقسیم کیا اور مجھے بہترین گھر والا قرار دیا، پس میں تم میں گھر کے اعتبار سے بھی بہتر ہوں اور نفس کے لحاظ سے بھی بہتر ہوں۔ (مسند احمد: ۱۷۵۱۷)
جب لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حسب و نسب پر طعن کرتے ہوئے کہا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مثال کھجور کے درخت کی سی ہے …۔ تو جواباً آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فخریہ انداز میں اپنا نسب بیان کیا کہ بنی آدم میں سب سے زیادہ شرف و عظمت والا نسب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نصیبے میں آیا۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جن احادیث میں آباء و اجداد کی وجہ سے فخر کرنے سے منع فرمایا، اس سے مراد وہ انداز ہے، جو ضرورت کے بغیر ہو اور جس کا نتیجہ تکبر اور دوسرے مسلمان کی تحقیر ہو۔
الحكم على الحديث: صحیح
2. بَابُ خُطْبَةٍ فِي الْحَثٌ عَلَى الْعَمَلِ بِكِتَابِ اللهِ وَسُنَّةِ رَسُولِهِ ﷺ وَذِكْرِ السَّاعَةِ
کتاب اللہ اور سنتِ رسول پر عمل کی ترغیب اور تذکرۂ قیامت پر مشتمل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خطبۂ مبارکہ
حدیث نمبر: 11082
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ بِمَا هُوَ لَهُ أَهْلٌ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ أَصْدَقَ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللَّهِ وَإِنَّ أَفْضَلَ الْهُدَى هُدَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَشَرَّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ ثُمَّ يَرْفَعُ صَوْتَهُ وَتَحْمَرُّ وَجْنَتَاهُ وَيَشْتَدُّ غَضَبُهُ إِذَا ذَكَرَ السَّاعَةَ كَأَنَّهُ مُنْذِرُ جَيْشٍ قَالَ ثُمَّ يَقُولُ أَتَتْكُمُ السَّاعَةُ بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ هَكَذَا وَأَشَارَ بِإِصْبَعَيْهِ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى صَبَّحَتْكُمُ السَّاعَةُ وَمَسَّتْكُمْ مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِأَهْلِهِ وَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيَاعًا فَإِلَيَّ وَعَلَيَّ وَالضَّيَاعُ يَعْنِي وَلَدَهُ الْمَسَاكِينَ
سیّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں خطبہ ارشادفرمایا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ کے لائق اس کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: بے شک سچی ترین بات اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے، سب سے افضل رہنمائی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رہنمائی ہے، بدترین امور بدعات ہیں اور ہر بدعت گمراہی ہے۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قیامت کا ذکر کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آواز بلند ہوجاتی، رخسار سرخ ہو جاتے اور غصہ بڑھ جاتا اور یوں لگتا کہ کسی لشکر سے ڈرا رہے ہیں، پھر فرماتے: تمہارے پاس قیامت آ چکی ہے، مجھے اور قیامت کو (ان دو انگلیوں کی طرح قریب قریب) بھیجا گیا ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شہادت والی اور درمیانی انگلیوں سے اشارہ کیا۔ قیامت تمہارے پاس صبح کو آ جائے گییا شام کو، جو مال چھوڑ کر مر گیا وہ اس کے اہل (یعنی ورثائ) کو ملے گا اور جس نے قرض یا اولاد چھوڑی تو وہ میری طرف ہے اور مجھ پر ہے۔ ضَیَاع سے مراد مسکین اولاد ہے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11082]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 867، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14334 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14386»
وضاحت: فوائد: … بدعت: دین میں کوئی ایسا کام رائج کرنا، جس کی شریعت میں کوئی اصل نہ ہو۔شروع شروع میں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مقروض شخص کی نماز جنازہ بھی نہیں پڑھتے تھے، لیکن جب فتوحات کا سلسلہ شروع ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود فوت ہونے والے لوگوں کا قرضہ بھی اتار دیتے تھے۔
الحكم على الحديث: صحیح
3. بَابُ خُطْبَةِ الْحَاجَةِ
خطبۃ الحاجہ یعنی نکاح اور دیگر مواقع پر دئیے جانے والے خطبہ کے الفاظ وعبارات کا بیان
حدیث نمبر: 11083
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَلَّمَنَا خُطْبَةَ الْحَاجَةِ الْحَمْدُ لِلَّهِ نَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ وَنَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ثُمَّ يَقْرَأُ ثَلَاثَ آيَاتٍ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ [آل عمران: 102] يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا [النساء: 1] يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا [الأحزاب: 70-71] ثُمَّ تَذْكُرُ حَاجَتَكَ
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں خطبۂ حاجت کی تعلیم دی، اور وہ خطبہ یہ تھا: تمام تعریف اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں، ہم اس سے مدد طلب کرتے ہیں، ہم اس سے بخشش مانگتے ہیں اور ہم اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں اپنی جانوں کے شرور سے، اللہ تعالیٰ جس کو ہدایت دے دے، اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں ہے اور وہ جسے گمراہ کردے، اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں ہے،میں گواہی دیتاہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان تین آیات کی تلاوت کرتے تھے: {یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْ اتَّقُوْا اللّٰہَ حَقَّ تُقَاتِہِ وَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُوْنَ۔ یَا أَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَۃٍ وَخَلَقَ مِنْہَا زَوْجَہَا وَبَثَّ مِنْہُمَا رِجَالًا کَثِیْرًا وَنِسَائً، وَاتَّقُوْا اللّٰہَ الَّذِیْ تَسَائَ لُوْنَ بِہِ وَالْأَرْحَامَ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلَیْکُمْ رَقِیْبًا۔ یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا اتَّقُوْا اللّٰہَ وَقُوْلُوْا قُوْلًا سَدِیْدًایُصْلِحْ لَکُمْ أَعْمَالَکُمْ وَیَغْفِرْلَکُمْ ذُنُوْبَکُمْ وَمَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِیْمًا} اے ایماندارو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تمہیں ہر گزر موت نہ آئے، مگر اسلام کی حالت میں۔ (سورۂ آل عمران:۱۰۲) اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو، جس نے تمہیں پیدا کیا ایک جان سے اور پیدا کیا اس سے اس کی بیوی کو اور پھیلا دیئے ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں۔ تم ڈرو اس اللہ سے جس کے ساتھ تم آپس میں سوال کرتے ہو اور رشتہ داریوں کو توڑنے سے بچو، بے شک اللہ تعالیٰ تم پر نگہبان ہیں۔ (سورۂ نسائ: ۱) اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور کہو بات سیدھی وہ تمہارے اعمال درست کر دے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتا ہے، وہ بڑی کامیابی کو پا لیتا ہے۔ (سورۂ احزاب: ۷۰) پھر تم اپنی حاجت و ضرورت کا ذکر کرو۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11083]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح أخرجه ابوداود: 2118، والترمذي: 1105، وابن ماجه: 1892، والنسائي: 6/ 89، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3720 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3720»
وضاحت: فوائد: … نکاح کرنے سے پہلے نکاح خواں کو چاہیے کہ وہ یہ خطبہ پڑھے اور ان تین آیات کا مختصر سا مفہوم بیان کر دے۔
ہمارے ہاں عید، نکاح، شادی اور خوشی کی دوسری تقریبات کو محض لطف اندوزی، تفریحِ طبع اور ہنسی مذاق کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ایسے موقعوں پر شرعی حدود کا خیال نہ رکھنا، بے پردگی اور مرد و زن کا شدید اختلاط،بینڈ باجے بجانا، ناچنا، عریانی و فحاشی والے گانے گانا اور ایسے گندے کلام کو لاؤڈ سپیکروں میں پیش کرنا، مردوں کا سونے کا زیور پہننا، پٹاخے چلانا وغیرہ وغیرہ، ان امور کو شرارتی لڑکوں اور لڑکیوں کا حق سمجھا جاتا ہے۔
لیکن شریعت کا مزاج کچھ اور ہے، جیسے عیدین جیسی عظیم خوشی کا آغاز مخصوص نماز اور خطبے سے ہوتا ہے، اسی طرح شادی کے موقع پر نکاح سے پہلے مذکورہ بالا خطبہ پڑھ کر تقوی اور خوفِ الٰہی کا درس دیا جاتا ہے اور پھر خوشی کے موقعوں کے لیے شریعت نے خوشی کے طریقوں کی بھی وضاحت کر دی ہے، ان ہی تک محدود رہناچاہیے۔
لیکنیہ خطبہ نکاح کے لیے شرط نہیں ہے، اس کے بغیر بھی نکاح درست ہو گا، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اس خطبہ کے بغیر نکاح پڑھایا ہے، بہرحال ہر ممکن حد تک اس کا اہتمام ہونا چاہیے، اگر جلدی ہو یا کوئی اور مجبوری ہو تو اس کے بغیر بھی نکاح پڑھایا جا سکتا ہے۔
ہمارے ہاں عید، نکاح، شادی اور خوشی کی دوسری تقریبات کو محض لطف اندوزی، تفریحِ طبع اور ہنسی مذاق کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ایسے موقعوں پر شرعی حدود کا خیال نہ رکھنا، بے پردگی اور مرد و زن کا شدید اختلاط،بینڈ باجے بجانا، ناچنا، عریانی و فحاشی والے گانے گانا اور ایسے گندے کلام کو لاؤڈ سپیکروں میں پیش کرنا، مردوں کا سونے کا زیور پہننا، پٹاخے چلانا وغیرہ وغیرہ، ان امور کو شرارتی لڑکوں اور لڑکیوں کا حق سمجھا جاتا ہے۔
لیکن شریعت کا مزاج کچھ اور ہے، جیسے عیدین جیسی عظیم خوشی کا آغاز مخصوص نماز اور خطبے سے ہوتا ہے، اسی طرح شادی کے موقع پر نکاح سے پہلے مذکورہ بالا خطبہ پڑھ کر تقوی اور خوفِ الٰہی کا درس دیا جاتا ہے اور پھر خوشی کے موقعوں کے لیے شریعت نے خوشی کے طریقوں کی بھی وضاحت کر دی ہے، ان ہی تک محدود رہناچاہیے۔
لیکنیہ خطبہ نکاح کے لیے شرط نہیں ہے، اس کے بغیر بھی نکاح درست ہو گا، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اس خطبہ کے بغیر نکاح پڑھایا ہے، بہرحال ہر ممکن حد تک اس کا اہتمام ہونا چاہیے، اگر جلدی ہو یا کوئی اور مجبوری ہو تو اس کے بغیر بھی نکاح پڑھایا جا سکتا ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11084
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خُطْبَتَيْنِ خُطْبَةَ الْحَاجَةِ وَخُطْبَةَ الصَّلَاةِ الْحَمْدُ لِلَّهِ أَوْ إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ نَسْتَعِينُهُ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ
۔(دوسری سند) سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں دو قسم کے خطبات سکھائے، ایک خطبۂ حاجت اور دوسرا خطبۂ نماز،خطبۂ حاجت یہ ہیں: بیشک ساری تعریف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے، ہم اس سے مدد طلب کرتے ہیں، … …۔ پھر مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی روایت ذکر کی۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11084]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3721»
وضاحت: فوائد: … خطبۂ نماز سے مراد نماز میں پڑھا جانے والا تشہد ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11085
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَلَّمَ رَجُلًا فِي شَيْءٍ فَقَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی سے کسی چیز کے بارے میں بات کی تو فرمایا: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ نَحْمَدُہ، وَنَسْتَعِیْنُہ، مَنْ یَّہْدِہِ اللّٰہُ فَلَا مُضِلَّ لَہُ، وَمَنْ یُضْلِلْ فَلَا ھَادِیَ لَہُ وَأَشْھَدُ أَّنْ لَّا إِلٰہُ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ وَاَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہُ۔ پھر اپنی بات پیش کی۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11085]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 868، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3275 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3275»
وضاحت: فوائد: … صحیح مسلم میں مفصل حدیثیوں بیان کی گئی ہے:
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: أَنَّ ضِمَادًا قَدِمَ مَکَّۃَ وَکَانَ مِنْ أَزْدِ شَنُوء َۃَ وَکَانَ یَرْقِی مِنْ ہٰذِہِ الرِّیحِ فَسَمِعَ سُفَہَائَ مِنْ أَہْلِ مَکَّۃَ،یَقُولُونَ إِنَّ مُحَمَّدًا مَجْنُونٌ فَقَالَ: لَوْ أَنِّی رَأَیْتُ ہٰذَا الرَّجُلَ لَعَلَّ اللّٰہَ یَشْفِیہِ عَلٰییَدَیَّ، قَالَ فَلَقِیَہُ فَقَالَ: یَا مُحَمَّدُ! إِنِّی أَرْقِی مِنْ ہٰذِہِ الرِّیحِ وَإِنَّ اللّٰہَ یَشْفِی عَلٰییَدِی مَنْ شَاء َ فَہَلْ لَکَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ((إِنَّ الْحَمْدَ لِلّٰہِ نَحْمَدُہُ وَنَسْتَعِینُہُ مَنْ یَہْدِہِ اللّٰہُ فَلَا مُضِلَّ لَہُ وَمَنْ یُضْلِلْ فَلَا ہَادِیَ لَہُ وَأَشْہَدُ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ أَمَّا بَعْدُ۔)) قَالَ فَقَالَ: أَعِدْ عَلَیَّ کَلِمَاتِکَ ہٰؤُلَائِ۔ فَأَعَادَہُنَّ عَلَیْہِ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَالَ فَقَالَ لَقَدْ سَمِعْتُ قَوْلَ الْکَہَنَۃِ وَقَوْلَ السَّحَرَۃِ وَقَوْلَ الشُّعَرَاء ِ فَمَا سَمِعْتُ مِثْلَ کَلِمَاتِکَ ہٰؤُلَاء ِ وَلَقَدْ بَلَغْنَ نَاعُوسَ الْبَحْرِ، قَالَ فَقَالَ: ہَاتِ یَدَکَ أُبَایِعْکَ عَلَی الْإِسْلَامِ، قَالَ فَبَایَعَہُ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ((وَعَلٰی قَوْمِکَ۔)) قَالَ وَعَلٰی قَوْمِی قَالَ فَبَعَثَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سَرِیَّۃً فَمَرُّوا بِقَوْمِہِ فَقَالَ صَاحِبُ السَّرِیَّۃِ لِلْجَیْشِ: ہَلْ أَصَبْتُمْ مِنْ ہٰؤُلَاء ِ شَیْئًا فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ أَصَبْتُ مِنْہُمْ مِطْہَرَۃً فَقَالَ رُدُّوہَا فَإِنَّ ہٰؤُلَاء ِ قَوْمُ ضِمَادٍ۔ … ضماد مکہ مکرمہ آیا،یہ قبیلہ ازد شنوء ۃسے تعلق رکھتا تھا، یہ آدمی جنوں کے اثر سے دم کرتا تھا، جب اس نے مکہ کے بیوقوف لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجنون اور پاگل ہو گیا ہے تو اس نے کہا: اگر میں اس آدمی کو دیکھ لوں،ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو میرے ہاتھ پر شفا دے دے، پس وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ملا اور کہا: میں جنوں کے اثر کا دم کرتا ہوں، اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے، میرے ہاتھ پر شفا دیتا ہے، کیا آپ کو اس کی رغبت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواباً یہ خطبہ پڑھا: إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّہِ نَحْمَدُہُ وَنَسْتَعِینُہُ مَنْ یَہْدِہِ اللّٰہُ فَلَا مُضِلَّ لَہُ وَمَنْ یُضْلِلْ فَلَا ہَادِیَ لَہُ وَأَشْہَدُ أَنْ لَا
إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ أَمَّا بَعْدُ۔ اس نے کہا: جناب! یہ کلمات دوبارہ دوہرانا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین بار یہ کلمات دوہرائے، پھر اس نے کہا: میں نے کاہنوں کا کلام، جادو گروں کی باتیں اور شعراء کے اشعار سنے ہیں، لیکن اس قسم کا کلام میں نے نہیں سنا، یہ کلمات تو سمندر کے وسط یا گہرائی تک پہنچ گئے ہیں، پھر اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ اپنا ہاتھ آگے بڑھائیں، میں اسلام پر آپ کی بیعت کرتا ہوں، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے بیعت لے لی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اور تیری قوم۔ اس نے کہا: جی میری قوم بھی۔ بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک جہادی لشکر روانہ کیا، جب وہ اس قوم کے پاس سے گزرے تو امیرِ لشکر نے مجاہدین سے کہا: کیا تم نے ان لوگوں کی تو کوئی چیز نہیں لی؟ ایک بندے نے کہا: جی میں نے طہارت والا ایک برتن لیا ہے، اس نے کہا: واپس کر دو،یہ سیدنا ضماد رضی اللہ عنہ کی قوم ہے۔
ہم نے ناعوس البحر کی بجائے قَامُوْسَ الْبَحْر کا معنی لکھا ہے، کیونکہ اس روایت میں یہی الفاظ مشہور ہیں، ملاحظہ ہو، شرح مسلم نووی۔
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: أَنَّ ضِمَادًا قَدِمَ مَکَّۃَ وَکَانَ مِنْ أَزْدِ شَنُوء َۃَ وَکَانَ یَرْقِی مِنْ ہٰذِہِ الرِّیحِ فَسَمِعَ سُفَہَائَ مِنْ أَہْلِ مَکَّۃَ،یَقُولُونَ إِنَّ مُحَمَّدًا مَجْنُونٌ فَقَالَ: لَوْ أَنِّی رَأَیْتُ ہٰذَا الرَّجُلَ لَعَلَّ اللّٰہَ یَشْفِیہِ عَلٰییَدَیَّ، قَالَ فَلَقِیَہُ فَقَالَ: یَا مُحَمَّدُ! إِنِّی أَرْقِی مِنْ ہٰذِہِ الرِّیحِ وَإِنَّ اللّٰہَ یَشْفِی عَلٰییَدِی مَنْ شَاء َ فَہَلْ لَکَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ((إِنَّ الْحَمْدَ لِلّٰہِ نَحْمَدُہُ وَنَسْتَعِینُہُ مَنْ یَہْدِہِ اللّٰہُ فَلَا مُضِلَّ لَہُ وَمَنْ یُضْلِلْ فَلَا ہَادِیَ لَہُ وَأَشْہَدُ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ أَمَّا بَعْدُ۔)) قَالَ فَقَالَ: أَعِدْ عَلَیَّ کَلِمَاتِکَ ہٰؤُلَائِ۔ فَأَعَادَہُنَّ عَلَیْہِ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَالَ فَقَالَ لَقَدْ سَمِعْتُ قَوْلَ الْکَہَنَۃِ وَقَوْلَ السَّحَرَۃِ وَقَوْلَ الشُّعَرَاء ِ فَمَا سَمِعْتُ مِثْلَ کَلِمَاتِکَ ہٰؤُلَاء ِ وَلَقَدْ بَلَغْنَ نَاعُوسَ الْبَحْرِ، قَالَ فَقَالَ: ہَاتِ یَدَکَ أُبَایِعْکَ عَلَی الْإِسْلَامِ، قَالَ فَبَایَعَہُ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ((وَعَلٰی قَوْمِکَ۔)) قَالَ وَعَلٰی قَوْمِی قَالَ فَبَعَثَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سَرِیَّۃً فَمَرُّوا بِقَوْمِہِ فَقَالَ صَاحِبُ السَّرِیَّۃِ لِلْجَیْشِ: ہَلْ أَصَبْتُمْ مِنْ ہٰؤُلَاء ِ شَیْئًا فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ أَصَبْتُ مِنْہُمْ مِطْہَرَۃً فَقَالَ رُدُّوہَا فَإِنَّ ہٰؤُلَاء ِ قَوْمُ ضِمَادٍ۔ … ضماد مکہ مکرمہ آیا،یہ قبیلہ ازد شنوء ۃسے تعلق رکھتا تھا، یہ آدمی جنوں کے اثر سے دم کرتا تھا، جب اس نے مکہ کے بیوقوف لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجنون اور پاگل ہو گیا ہے تو اس نے کہا: اگر میں اس آدمی کو دیکھ لوں،ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو میرے ہاتھ پر شفا دے دے، پس وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ملا اور کہا: میں جنوں کے اثر کا دم کرتا ہوں، اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے، میرے ہاتھ پر شفا دیتا ہے، کیا آپ کو اس کی رغبت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواباً یہ خطبہ پڑھا: إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّہِ نَحْمَدُہُ وَنَسْتَعِینُہُ مَنْ یَہْدِہِ اللّٰہُ فَلَا مُضِلَّ لَہُ وَمَنْ یُضْلِلْ فَلَا ہَادِیَ لَہُ وَأَشْہَدُ أَنْ لَا
إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ أَمَّا بَعْدُ۔ اس نے کہا: جناب! یہ کلمات دوبارہ دوہرانا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین بار یہ کلمات دوہرائے، پھر اس نے کہا: میں نے کاہنوں کا کلام، جادو گروں کی باتیں اور شعراء کے اشعار سنے ہیں، لیکن اس قسم کا کلام میں نے نہیں سنا، یہ کلمات تو سمندر کے وسط یا گہرائی تک پہنچ گئے ہیں، پھر اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ اپنا ہاتھ آگے بڑھائیں، میں اسلام پر آپ کی بیعت کرتا ہوں، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے بیعت لے لی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اور تیری قوم۔ اس نے کہا: جی میری قوم بھی۔ بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک جہادی لشکر روانہ کیا، جب وہ اس قوم کے پاس سے گزرے تو امیرِ لشکر نے مجاہدین سے کہا: کیا تم نے ان لوگوں کی تو کوئی چیز نہیں لی؟ ایک بندے نے کہا: جی میں نے طہارت والا ایک برتن لیا ہے، اس نے کہا: واپس کر دو،یہ سیدنا ضماد رضی اللہ عنہ کی قوم ہے۔
ہم نے ناعوس البحر کی بجائے قَامُوْسَ الْبَحْر کا معنی لکھا ہے، کیونکہ اس روایت میں یہی الفاظ مشہور ہیں، ملاحظہ ہو، شرح مسلم نووی۔
الحكم على الحديث: صحیح
4. بَابُ خُطْبَةٍ فِي الْآدَبِ وَالْمَوَاعِظِ وَالْأَخْلَاقِ وَالتَّحْذِيرِ مِنَ الدُّنْيَا وَالنِّسَاءِ
آداب، مواعظ، اخلاق کے بارے میں نیز دنیا اور عورتوں سے تنبیہ پر مشتمل خطبۂ نبوی
حدیث نمبر: 11086
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خُطْبَةً بَعْدَ الْعَصْرِ إِلَى مُغَيْرِبَانِ الشَّمْسِ حَفِظَهَا مِنَّا مَنْ حَفِظَهَا وَنَسِيَهَا مِنَّا مَنْ نَسِيَهَا فَحَمِدَ اللَّهَ قَالَ عَفَّانُ وَقَالَ حَمَّادٌ وَأَكْثَرُ حِفْظِي أَنَّهُ قَالَ بِمَا هُوَ كَائِنٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ الدُّنْيَا خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ وَإِنَّ اللَّهَ مُسْتَخْلِفُكُمْ فِيهَا فَنَاظِرٌ كَيْفَ تَعْمَلُونَ أَلَا فَاتَّقُوا الدُّنْيَا وَاتَّقُوا النِّسَاءَ أَلَا إِنَّ بَنِي آدَمَ خُلِقُوا عَلَى طَبَقَاتٍ شَتَّى مِنْهُمْ مَنْ يُولَدُ مُؤْمِنًا وَيَحْيَا مُؤْمِنًا وَيَمُوتُ مُؤْمِنًا وَمِنْهُمْ مَنْ يُولَدُ كَافِرًا وَيَحْيَا كَافِرًا وَيَمُوتُ كَافِرًا وَمِنْهُمْ مَنْ يُولَدُ مُؤْمِنًا وَيَحْيَا مُؤْمِنًا وَيَمُوتُ كَافِرًا وَمِنْهُمْ مَنْ يُولَدُ كَافِرًا وَيَحْيَا كَافِرًا وَيَمُوتُ مُؤْمِنًا أَلَا إِنَّ الْغَضَبَ جَمْرَةٌ تُوقَدُ فِي جَوْفِ ابْنِ آدَمَ أَلَا تَرَوْنَ إِلَى حُمْرَةِ عَيْنَيْهِ وَانْتِفَاخِ أَوْدَاجِهِ فَإِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ فَالْأَرْضَ الْأَرْضَ أَلَا إِنَّ خَيْرَ الرِّجَالِ مَنْ كَانَ بَطِيءَ الْغَضَبِ سَرِيعَ الرِّضَا وَشَرَّ الرِّجَالِ مَنْ كَانَ سَرِيعَ الْغَضَبِ بَطِيءَ الرِّضَا فَإِذَا كَانَ الرَّجُلُ بَطِيءَ الْغَضَبِ بَطِيءَ الْفَيْءِ وَسَرِيعَ الْغَضَبِ وَسَرِيعَ الْفَيْءِ فَإِنَّهَا بِهَا أَلَا إِنَّ خَيْرَ التُّجَّارِ مَنْ كَانَ حَسَنَ الْقَضَاءِ حَسَنَ الطَّلَبِ وَشَرَّ التُّجَّارِ مَنْ كَانَ سَيِّئَ الْقَضَاءِ سَيِّئَ الطَّلَبِ فَإِذَا كَانَ الرَّجُلُ حَسَنَ الْقَضَاءِ سَيِّئَ الطَّلَبِ أَوْ كَانَ سَيِّئَ الْقَضَاءِ حَسَنَ الطَّلَبِ فَإِنَّهَا بِهَا أَلَا إِنَّ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءً يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِقَدْرِ غَدْرَتِهِ أَلَا وَأَكْبَرُ الْغَدْرِ غَدْرُ أَمِيرِ عَامَّةٍ أَلَا لَا يَمْنَعَنَّ رَجُلًا مَهَابَةُ النَّاسِ أَنْ يَتَكَلَّمَ بِالْحَقِّ إِذَا عَلِمَهُ أَلَا إِنَّ أَفْضَلَ الْجِهَادِ كَلِمَةُ حَقٍّ عِنْدَ سُلْطَانٍ جَائِرٍ فَلَمَّا كَانَ عِنْدَ مُغَيْرِبَانِ الشَّمْسِ قَالَ أَلَا إِنَّ مِثْلَ مَا بَقِيَ مِنَ الدُّنْيَا فِيمَا مَضَى مِنْهَا مِثْلُ مَا بَقِيَ مِنْ يَوْمِكُمْ هَذَا فِيمَا مَضَى مِنْهُ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں عصر کے بعد غروب آفتاب کے قریب تک خطبہ ارشاد فرمایا، ہم میں سے کسی نے اسے یاد رکھا اور کسی نے اسے بھلا دیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس خطبہ میں قیامت تک رونما ہونے والے اہم اہم امور کا ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ دنیا سر سبز یعنی خوش نما، میٹھی اور دل پسند ہے، اللہ اس دنیا میں تمہیں ایک دوسرے کا خلیفہ بناتا ہے، یعنی ایک نسل جاتی ہے تو دوسری نسل اس کی جگہ آجاتی ہے، وہ دیکھتا ہے کہ تم کیسے اعمال کرتے ہو؟ خبردار! تم دنیا کو جمع کرنے سے اور عورتوں کے ساتھ زیادہ دل لگانے سے بچو۔ خبردار! اولاد آدم کو مختلف طبقات میں پیدا کیا گیا ہے، ان میں سے بعض ایمان کی حالت میں پیدا ہوتے ہیں، ایمان کی حالت میں زندگی گزارتے ہیں اور ایما ن کی حالت ہی میں انہیں موت آتی ہے اور بعض کفر کی حالت میں پیدا ہوتے، کفر کی حالت میں زندگی گزارتے اور کفر پر ہی ان کو موت آتی ہے۔ اور ان میں سے بعض کفر کی حالت میں پیدا ہوتے، کفر پر زندگی گزارتے ہیں اور ان کو موت ایمان پر آتی ہے۔ اور ان میں سے بعض ایمان کی حالت میں پیدا ہوتے، ایمان پر زندگی گزارتے ہیں اور ان کو موت کفر پر آتی ہے۔ خبردار! غصہ ایک انگار اہے، جو انسان کے پیٹ میں جلتا ہے۔ کیا تم دیکھتے نہیں کہ غصے کے وقت آدمی کی آنکھیں سرخ اور رگیں پھول جاتی ہیں، جب تم میں سے کسی پر ایسی کیفیت طاری ہو تو وہ زمین پر لیٹ جائے۔ خبردار! لوگوں میں سب سے اچھا آدمی وہ ہے جسے غصہ دیر سے آئے اور وہ جلد راضی ہو جائے اور بدترین آدمی وہ ہے جسے غصہ جلد آئے اور دیر سے ختم ہو اور جس آدمی کو دیر سے غصہ آئے اور دیر سے ختم ہو یا جسے جلد غصہ آئے اور جلد ختم ہو جائے تو یہ صفات ایک دوسری کے بالمقابل ہیںیعنی اچھی صفت بری صفت کی برائی کا ازالہ کر دیتی ہے۔ تاجروں میں سے اچھا وہ ہے ادائیگی اچھی طرح کرے اور اپنے حق کا مطالبہ بھی اچھی طرح کرے۔ اور بدترین تاجر وہ ہے جس کا ادائیگی کا انداز بھی بھونڈا اور اپنے حق کا مطالبہ بھی بھونڈے انداز سے کرے۔ اور جو کوئی ادائیگی اچھی کرے اور مطالبہ کا انداز غلط ہو یا ادائیگی کا انداز برا اور مطالبہ کا انداز اچھا ہو تو اچھی صفت بری صفت کی تلافی کر دیتی ہے۔ خبردار! ہر دھوکہ باز کے لیے قیامت کے دن بطورِ علامت ایک جھنڈا نصب کیا جائے گا، اس کا دھوکہ جس قدر ہو گا اس کا جھنڈا بھی اسی حساب سے بلند ہو گا سب سے بڑا دھوکا عام لوگوں کے حاکم کا ہوتا ہے۔ خبردار!جو کوئی حق بات کو جانتا ہو اسے لوگوں کا ڈر حق بات کے کہنے سے نہیں روکے۔ خبردار! یاد رکھو کہ ظالم حکم ران کے سامنے کلمۂ حق کہنا افضل جہاد ہے۔ اور جب سورج غروب ہونے کے قریب پہنچا تو فرمایا گزری ہوئی مدتِ دنیا اور باقی مدت دنیا کی مثال ایسے ہی ہے جیسے گزرے ہوئے دن کے مقابلہ میں دن کاباقی حصہ۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11086]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف علي بن زيد بن جدعان، أخرجه الترمذي: 2191، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11143 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11160»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 11087
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعَصْرِ ذَاتَ يَوْمٍ بِنَهَارٍ ثُمَّ قَامَ يَخْطُبُنَا إِلَى أَنْ غَابَتِ الشَّمْسُ فَلَمْ يَدَعْ شَيْئًا مِمَّا يَكُونُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ إِلَّا حَدَّثَنَاهُ حَفِظَ ذَلِكَ مَنْ حَفِظَ وَنَسِيَ ذَلِكَ مَنْ نَسِيَ ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ الْحَدِيثِ الْمُتَقَدِّمِ وَفِيهِ أَلَا إِنَّ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءً يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِقَدْرِ غَدْرَتِهِ يُنْصَبُ عِنْدَ اسْتِهِ وَفِيهِ أَلَمْ تَرَوْا إِلَى حُمْرَةِ عَيْنَيْهِ وَانْتِفَاخِ أَوْدَاجِهِ فَإِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ ذَلِكَ فَلْيَجْلِسْ (أَوْ قَالَ فَلْيَلْصَقْ بِالْأَرْضِ) وَفِيهِ وَمَا شَيْءٌ أَفْضَلَ مِنْ كَلِمَةِ عَدْلٍ تُقَالُ عِنْدَ سُلْطَانٍ جَائِرٍ فَلَا يَمْنَعَنَّ أَحَدَكُمْ اتِّقَاءُ النَّاسِ أَنْ يَتَكَلَّمَ بِالْحَقِّ إِذَا رَآهُ أَوْ شَهِدَهُ ثُمَّ بَكَى أَبُو سَعِيدٍ فَقَالَ قَدْ وَاللَّهِ مَنَعَنَا ذَلِكَ قَالَ وَإِنَّكُمْ تُتِمُّونَ سَبْعِينَ أُمَّةً أَنْتُمْ خَيْرُهَا وَأَكْرَمُهَا عَلَى اللَّهِ ثُمَّ دَنَتِ الشَّمْسُ أَنْ تَغْرُبَ فَقَالَ وَإِنَّ مَا بَقِيَ مِنَ الدُّنْيَا فِيمَا مَضَى مِنْهَا مِثْلُ مَا بَقِيَ مِنْ يَوْمِكُمْ هَذَا فِيمَا مَضَى مِنْهُ
۔(دوسری سند) سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دن ہمیں نماز عصر اول ترین وقت میں پڑھائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھڑے ہو کر غروب آفتاب تک ہم سے خطاب فرمایا، قیامت تک جو کچھ ہونے والا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے وہ سب کچھ بیان فرمایا، کسی کو یاد رہا اور کسینے بھلا دیا، اس سے آگے گزشتہ حدیث کی مانند ہے، البتہ اس میں ہے:قیامت کے دن ہر دھوکہ باز کی دبر کے قریب اس کے دھوکہ کے لحاظ سے بلند جھنڈا نصب کیا جائے گا، اس حدیث میں یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کیا تم غصے والے آدمی کی آنکھوں کو سرخ ہوتے اور اس کی رگوں کو پھولتے نہیں دیکھتے، جب تم میں سے کسی کو شدید غصہ آئے تو وہ زمین پر بیٹھ جائے۔ اس حدیث میں یہ بھی ہے کہ ظالم حکمران کے سامنے کلمۂ حق کہنے سے بڑھ کر کوئی بات افضل نہیں، جب تم میں سے کوئی آدمی حق بات کہنے کا موقع دیکھےیا ایسی جگہ پر موجود ہو جہاں حق بات کہنے کی ضرورت ہو تو لوگوں کا ڈرتمہیں حق کہنے سے نہیں روکے۔ اس کے بعد سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ رو پڑے اور کہنے لگے: اللہ کی قسم! لوگوں کے خوف نے ہمیں کلمۂ حق کہنے سے روکا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے ذریعے امتوں کا ستر کا عدد پورا ہو رہا ہے۔ یعنی تم ستر ویں امت ہو، تم سب سے افضل اور اللہ کے ہاں سب سے بڑھ کر معزز ہو۔ اس کے بعد سورج غروب ہونے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دنیا کی گزری ہوئی مدت اور باقی مدت میں وہی نسبت ہے، جو گزرے ہوئے دن کے مقابلہ میں غروب تک کے بقیہ وقت کو نسبت ہے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11087]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11608»
الحكم على الحديث: ضعیف
5. بَابُ خُطْبَةٍ فِي التَّحْدِيرِ مِنَ الْمَالِ وَالدُّنْيَا
مال ودولت اور دنیا سے تحذیر کے بارے میں خطبہ
حدیث نمبر: 11088
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ مَا يُخْرِجُ اللَّهُ مِنْ نَبَاتِ الْأَرْضِ وَزَهْرَةِ الدُّنْيَا فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوَيَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ فَسَكَتَ حَتَّى رَأَيْنَا أَنَّهُ يَنْزِلُ عَلَيْهِ قَالَ وَغَشِيَهُ بُهْرٌ وَعَرَقَ فَقَالَ أَيْنَ السَّائِلُ فَقَالَ هَا أَنَا وَلَمْ أُرِدْ إِلَّا خَيْرًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْخَيْرَ لَا يَأْتِي إِلَّا بِالْخَيْرِ إِنَّ الْخَيْرَ لَا يَأْتِي إِلَّا بِالْخَيْرِ إِنَّ الْخَيْرَ لَا يَأْتِي إِلَّا بِالْخَيْرِ وَلَكِنَّ الدُّنْيَا خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ وَكُلُّ مَا يُنْبِتُ الرَّبِيعُ يَقْتُلُ حَبَطًا أَوْ يُلِمُّ إِلَّا آكِلَةَ الْخَضِرِ فَإِنَّهَا أَكَلَتْ حَتَّى امْتَدَّتْ خَاصِرَتَاهَا وَاسْتَقْبَلَتِ الشَّمْسَ فَثَلَطَتْ وَبَالَتْ ثُمَّ عَادَتْ فَأَكَلَتْ فَمَنْ أَخَذَهَا بِحَقِّهَا بُورِكَ لَهُ فِيهَا وَمَنْ أَخَذَهَا بِغَيْرِ حَقِّهَا لَمْ يُبَارَكْ لَهُ وَكَانَ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلَا يَشْبَعُ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْإِمَامِ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ رَحِمَهُ اللَّهُ قَالَ أَبِي قَالَ سُفْيَانُ وَكَانَ الْأَعْمَشُ يَسْأَلُنِي عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منبر پر فرمایا: بیشک مجھے سب سے زیادہ ڈر اس چیز کے بارے میں ہے، جو اللہ تعالیٰ زمین کی انگوریوں اور دنیا کے مال و متاع کی صورت میں نکالے گا۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا خیر بھی شرّ کو لاتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش ہو گئے، یہاں تک کہ ہم نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی نازل ہونے لگی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سانس پھولنے لگا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بہت زیادہ پسینہ آ گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: سائل کہاں ہے؟ اس نے کہا: جی میں ہوں اور میرا ارادہ صرف خیر کا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک خیر صرف خیر لاتی ہے، بیشک خیر صرف خیر کو لاتی ہے، بیشک خیر صرف خیر کو ہی لاتی ہے، اصل بات یہ ہے کہ یہ دنیا سر سبزو شاداب اور میٹھی ہے، موسم بہار جو کچھ اگاتا ہے، وہ پیٹ پھولنے کی وجہ سے یا تو قتل کر دیتا ہے، یا قتل کے قریب کر دیتا ہے، ایک جانور چارہ کھاتا رہتا ہے، یہاں تک کہ اس کی کوکھیں بھر جاتی ہیں، پھر وہ سورج کے سامنے لیٹ جاتا ہے اورپتلا پاخانہ اور پیشاب کر کے پھر کھانا شروع کر دیتا ہے، بات یہ ہے کہ جو آدمی دنیا کو اس کے حق کے ساتھ حاصل کرے گا، اس کے لیے اس میں برکت کی جائے گی اور جو بغیر حق کے لے گا، اس کے لیے اس میں برکت نہیں کی جائے گی، بلکہ وہ اس آدمی کی طرح ہو گا جو کھاتا ہے اور سیر نہیں ہوتا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11088]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 921، ومسلم: 1052، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11035 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11049»
وضاحت: فوائد: … موسم بہار میں بہت سی انگوریاں اگتی ہیں، جو جانور ضرورت کے مطابق چرتا رہے، اس کو ان انگوریوں کا فائدہ ہو گا، لیکن جو جانور اپنی ضرورت سے زیادہ کھائے گا، وہ بیمار پڑ جائے گا اور بالآخر مر جائے گا یا مرنے کے قریب ہو جائے گا، یہی معاملہ دنیوی مال و دولت کا ہے، جو آدمی ضرورت کے مطابق اس کو حاصل کرے گا، اس کو اس سے بڑا فائدہ ہو گا اور جو حرص میں پڑ کر اس کے پیچھے پڑ جائے گا اور اس کے معاملے میں شرعی حدود کا خیال بھی نہیں رکھے گا، اس کے لیےیہ نقصان دہ ثابت ہو گا۔
الحكم على الحديث: صحیح
6. بَابُ خُطْبَةٍ فِي ذِكْرِ السَّاعَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ
قیامت، جنت اور جہنم کے تذکرہ پر مشتمل ایک خطبہ
حدیث نمبر: 11089
أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ حِينَ زَاغَتِ الشَّمْسُ فَصَلَّى الظُّهْرَ فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَذَكَرَ السَّاعَةَ وَذَكَرَ أَنَّ بَيْنَ يَدَيْهَا أُمُورًا عِظَامًا ثُمَّ قَالَ مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَسْأَلَ عَنْ شَيْءٍ فَلْيَسْأَلْ عَنْهُ فَوَاللَّهِ لَا تَسْأَلُونِي عَنْ شَيْءٍ إِلَّا أَخْبَرْتُكُمْ بِهِ مَا دُمْتُ فِي مَقَامِي هَذَا قَالَ أَنَسٌ فَأَكْثَرَ النَّاسُ الْبُكَاءَ حِينَ سَمِعُوا ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَكْثَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقُولَ سَلُونِي قَالَ أَنَسٌ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ أَيْنَ مَدْخَلِي يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ النَّارُ قَالَ فَقَامَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُذَافَةَ فَقَالَ مَنْ أَبِي يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ أَبُوكَ حُذَافَةُ قَالَ ثُمَّ أَكْثَرَ أَنْ يَقُولَ سَلُونِي قَالَ فَبَرَكَ عُمَرُ عَلَى رُكْبَتَيْهِ فَقَالَ رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَسُولًا قَالَ فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَالَ عُمَرُ ذَلِكَ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ عُرِضَتْ عَلَيَّ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ آنِفًا فِي عُرْضِ هَذَا الْحَائِطِ وَأَنَا أُصَلِّي فَلَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن جب سورج ڈھل گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھائی، نماز سے سلام پھیرا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قیامت کا اور قیامت تک رونما ہونے والے بڑے بڑے واقعات کا ذکر کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی کسی بھی چیز کے بارے میں دریافت کرنا چاہتا ہو وہ پوچھ لے، اللہ کی قسم! میں جب تک اس1 جگہ پر ہوں تم جو بھی پوچھو گے، میں تمہیں اس کے بارے میں بتا دوں گا؟ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ لوگوں نے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ باتیں سنیں تو سب لوگ بہت زیادہ رو دئیے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی بار بار کہتے جاتے کہ مجھ سے پوچھو، مجھ سے پوچھو، سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے کھڑے ہو کر دریافت کیا:اللہ کے رسول! آخرت میں میرا انجام کیا ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جہنم۔ سیدنا عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ اُٹھے اور انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول!! یہ محدود انداز میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بات کی تھی کہ میں جب تک اس جگہ پر موجود ہوں آپ کے سوالوں کے جوابات دوں گا۔ ظاہر ہے کہ آپ کو ایک خاص حد تک لوگوں کو آگاہ کرنے کا بتایا گیا۔ اس سے آپ کا عالم الغیب ہونا ثابت نہیں ہوتا۔ کیونکہیہ اللہ کی صفت ہے جس پر بہت سی قرآنی نصوص دلالت کرتی ہیں اور بہت سارے واقعات و احادیث سے آپ کے متعلق عالم الغیب ہونے کی نفی ہوتی ہے۔ تفصیل کا یہ موقع نہیں۔ (عبداللہ رفیق) میرا باپ کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حذافہ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی بار بار فرمایا: پوچھو، اور پوچھو۔ یہ کیفیت دیکھ کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے اور کہنے لگے:ہم اللہ کے رب ہونے، اسلام کے دین ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رسول ہونے پر راضی ہیں۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ کہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! ابھی میں نماز پڑھا رہا تھا تو اس دیوار کی طرف میرے سامنے جنت اور جہنم کو پیش کیا گیا، اچھا اور برا ہونے کے لحاظ سے میں نے آج جیسا دن کبھی نہیں دیکھا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11089]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 7294، ومسلم: 2359، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12659 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12688»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس آدمی کا انجام جہنم بتایا، ممکن ہے کہ کوئی منافق ہو اور اس نے از راہِ تعنّت سوال کیا ہو۔
الحكم على الحديث: صحیح
7. بَابُ خُطبَةٍ فِي ذِكْرِ الْفِتَنِ وَطَاعَةِ الامِيرِ
فتن کے تذکرے اور طاعتِ امیر سے متعلقہ ایک خطبہ
حدیث نمبر: 11090
عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ رَبِّ الْكَعْبَةِ قَالَ انْتَهَيْتُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ وَهُوَ جَالِسٌ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ بَيْنَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ إِذْ نَزَلَ مَنْزِلًا فَمِنَّا مَنْ يَضْرِبُ خِبَاءَهُ وَمِنَّا مَنْ هُوَ فِي جَشَرِهِ وَمِنَّا مَنْ يَنْتَضِلُ إِذْ نَادَى مُنَادِيهِ الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ قَالَ فَاجْتَمَعْنَا قَالَ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَخَطَبَنَا فَقَالَ إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ قَبْلِي إِلَّا دَلَّ أُمَّتَهُ عَلَى مَا يَعْلَمُهُ خَيْرًا لَهُمْ وَيُحَذِّرُهُمْ مَا يَعْلَمُهُ شَرًّا لَهُمْ وَإِنَّ أُمَّتَكُمْ هَذِهِ جُعِلَتْ عَافِيَتُهَا فِي أَوَّلِهَا وَإِنَّ آخِرَهَا سَيُصِيبُهُمْ بَلَاءٌ شَدِيدٌ وَأُمُورٌ تُنْكِرُونَهَا تَجِيءُ فِتَنٌ يُرَقِّقُ بَعْضُهَا لِبَعْضٍ تَجِيءُ الْفِتْنَةُ فَيَقُولُ الْمُؤْمِنُ هَذِهِ مُهْلِكَتِي ثُمَّ تَنْكَشِفُ ثُمَّ تَجِيءُ الْفِتْنَةُ فَيَقُولُ الْمُؤْمِنُ هَذِهِ ثُمَّ تَنْكَشِفُ فَمَنْ سَرَّهُ مِنْكُمْ أَنْ يُزَحْزَحَ عَنِ النَّارِ وَأَنْ يُدْخَلَ الْجَنَّةَ فَلْتُدْرِكْهُ مَوْتَتُهُ وَهُوَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلْيَأْتِ إِلَى النَّاسِ الَّذِي يُحِبُّ أَنْ يُؤْتَى إِلَيْهِ وَمَنْ بَايَعَ إِمَامًا فَأَعْطَاهُ صَفْقَةَ يَدِهِ وَثَمَرَةَ قَلْبِهِ فَلْيُطِعْهُ مَا اسْتَطَاعَ فَإِنْ جَاءَ آخَرُ يُنَازِعُهُ فَاضْرِبُوا عُنُقَ الْآخَرِ قَالَ فَأَدْخَلْتُ رَأْسِي مِنْ بَيْنِ النَّاسِ فَقُلْتُ أَنْشُدُكَ بِاللَّهِ آنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى أُذُنَيْهِ فَقَالَ سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي قَالَ فَقُلْتُ هَذَا ابْنُ عَمِّكَ مُعَاوِيَةُ يَعْنِي يَأْمُرُنَا بِأَكْلِ أَمْوَالِنَا بَيْنَنَا بِالْبَاطِلِ وَأَنْ نَقْتُلَ أَنْفُسَنَا وَقَدْ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ [النساء: 29] قَالَ فَجَمَعَ يَدَيْهِ فَوَضَعَهُمَا عَلَى جَبْهَتِهِ ثُمَّ نَكَسَ هُنَيَّةً ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ أَطِعْهُ فِي طَاعَةِ اللَّهِ وَاعْصِهِ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
عبد الرحمن بن عبد رب کعبہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، وہ کعبہ کے سائے میں تشریف فرما تھے، میں نے ان کو کہتے سنا کہ ایک دفعہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک مقام پر نزول فرما ہوئے، ہم میں سے کوئی اپنا خیمہ نصب کرنے لگا، کوئی اپنے جانوروں کو کھول کر چرانے لگا، کوئی تیر اندازی کی مشق کرنے لگا۔ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منادی نے اعلان کیا کہ نماز کھڑی ہونے والی ہے، ہم سب جمع ہو گئے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرمایا اور فرمایا: مجھ سے پہلے آنے والے ہر نبی نے اپنی امت کو ہر اس بات کی تعلیم دی جو وہ ان کے لیے بہتر سمجھتا تھا اور اس نے اپنی امت کو ہر اس بات سے ڈرایا جسے وہ ان کے لیے بری سمجھتا تھا تمہاری اس امت کے اولین حصے میں تو عافیت ہی عافیت رکھی گئی ہے۔ اور امت کے آخری حصے کو شدید مصائب اور تکالیف کا سامنا ہو گا ایسے ایسے فتنے اور مصیبتیں آئیں گی کہ بعد والے فتنے کی شدت پہلے فتنے کو ہلکا کر دے گی، کوئی فتنہ آئے گا تو مومن کہے گا کہ یہ فتنہ تو مجھے تباہ کر دے گا، پھر وہ ٹل جائے گا، پھر اور فتنہ آئے گا تو مومن پھر وہی بات کہے گا پھر وہ بھی ٹل جائے گا تم میں سے جو کوئی چاہتا ہو کہ اسے جہنم سے بچا کر جنت میں داخل کر دیا جائے تو اسے موت اس حال میں آنی چاہیے کہ اللہ پر اور آخرت پر کما حقہ ایمان رکھتا ہو۔ اور وہ دوسروں کی طرف سے اپنے بارے میں جیسا رویہ پسند کرتا ہے اسے چاہیے کہ وہ بھی دوسروں کے ساتھ ویسا ہی رویہ رکھے، اور جو کوئی کسی حاکم کی بیعت کر کے اس کے ساتھ وفا داری کا عہدوپیمان کر لے تو اسے چاہیے کہ حسبِ استطاعت اس کی مکمل اطاعت کرے، اگر کوئی دوسرا آدمی آکر اس حاکم کے ساتھ اختلاف کرے تو تم بعد والے کی گردن اڑادو۔ عبدالرحمن بن عبد رب الکعبہ کا بیان ہے کہ میں نے ان کییہ باتیں سن کر اپنا سر لوگوں کے اندر داخل کر کے عرض کیا کہ میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں کہ آیایہ باتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آپ نے خود سنی ہیں؟ تو انہوں نے اپنے ہاتھ سے اپنے دونوں کانوں کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ میرے کانوں نے یہ باتیں سنیں اور میرے دل نے ان کو یاد رکھا ہے تو میں نے عرض کیا کہ یہ آپ کا چچا زاد معاویہ رضی اللہ عنہ تو ہمیں حکم دیتا ہے کہ ہم آپس میں ایک دوسرے کے اموال ناحق کھالیں اور اپنے مسلمان بھائیوں کو قتل کریں۔ جب کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ {یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا لَا تَأْکُلُوا أَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ} … ایمان والو تم آپس میں ایک دوسرے کے اموال ناحق مت کھاؤ۔ (سورۂ نسائ: ۲۹) تو سیدنا عبداللہ بن عمر و بن العاص رضی اللہ عنہ نے اپنے دونوں ہاتھوں کو اکٹھا کر کے اپنی پیشانی پر رکھ کر سر کو کچھ دیر تک جھکائے رکھا پھر سر اُٹھا کر کہا وہ اللہ کی اطاعت کاحکم دے تو اس کی اطاعت کرو اور اللہ کی نافرمانی کا حکم دے تو اس کی بات نہیں مانو۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11090]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1844، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6503 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6503»
وضاحت: فوائد: … خلافت ِ راشدہ سے ہی بعض فتنوں کا آغاز ہو گیا تھا، پھر مختلف شکلوں میں یہ سلسلہ جاری رہا اور اب بھی امت ِ مسلمہ جن مسائل سے دوچار ہے، وہ کسی سے مخفی نہیں ہیں۔
الحكم على الحديث: صحیح