Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
11. بَابُ خُطبَتِهِ ﷺمِنِّى يَوْمِ النَّحْرِ غَيْرَ مَا تَقَدَّمَ فِي الْحَجُ
دس ذوالحجہ کو منیٰ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خطبہ کا بیان،یہ خطبہ حج والے خطبہ سے الگ ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11101
عَنْ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا كَانَ ذَلِكَ الْيَوْمُ قَعَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَعِيرٍ وَأَخَذَ رَجُلٌ بِزِمَامِهِ أَوْ بِخِطَامِهِ فَقَالَ ”أَيُّ يَوْمٍ يَوْمُكُمْ هَذَا؟“ قَالَ فَسَكَتْنَا حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ سِوَى اسْمِهِ قَالَ ”أَلَيْسَ بِالنَّحْرِ؟“ فَذَكَرَ نَحْوَ الطَّرِيقِ الْأَوْلَى مِنَ الْحَدِيثِ الْمُتَقَدِّمِ
سیدنا ابوبکر ہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ منی میں جب دس ذوالحجہ کا دن تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اونٹ پر سوار ہوئے، ایک آدمی نے اس کی مہار پکڑی ہوئی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آج کونسا دن ہے؟ ہم خاموش رہے، ہم نے سمجھا کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس دن کا کوئی اور نام تجویز فرمائیں گے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود ہی فرمایا: کیایہیوم النحر نہیں ہے؟ اس نے آگے گزشتہ حدیث کی طرح حدیث ذکر کی۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11101]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 67، ومسلم: 1679، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20387 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20658»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11102
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا كَانَ ذَاكَ الْيَوْمُ رَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَاقَتَهُ ثُمَّ وَقَفَ فَقَالَ ”تَدْرُونَ أَيُّ يَوْمٍ هَذَا؟“ فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ أَبِي عَدِيٍّ وَقَالَ فِيهِ ”أَلَا لِيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ“ مَرَّتَيْنِ ”فَرُبَّ مُبَلَّغٍ هُوَ أَوْعَى مِنْ مُبَلِّغٍ“ مِثْلَهُ ثُمَّ مَالَ عَلَى نَاقَتِهِ إِلَى غُنَيْمَاتٍ فَجَعَلَ يَقْسِمُهُنَّ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ الشَّاةَ وَالثَّلَاثَةِ الشَّاةَ
۔(دوسری سند) سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب منی میں دس ذوالحجہ کا دن تھا، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر ا س پر کھڑے ہو گئے اور فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ آج کونسا دن ہے؟ پھر امام احمد کے استاد ہوذہ بن خلیفہ نے امام احمد کے دوسرے استاذ محمد بن ابی عدی کی حدیث کی طرح بیان حدیث کی)، اس میں یہ الفاظ بھی ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خبردار! جو لوگ یہاں موجود ہیں، وہ یہ باتیں ان لوگوں تک پہنچا دیں جو یہاں موجود نہیں ہیں۔ دو بار یہ بات ارشاد فرمائی اور پھر فرمایا: بسااوقات یوں بھی ہوتا ہے کہ جن لوگوں تک بات پہنچائی جائے، وہ اسے پہنچانے والے سے بہتر یاد رکھتے ہیں۔ اس کے بعد آپ اونٹنی کو لے کر بکریوں کی طرف تشریف لے گئے اور دو دو تین آدمیوں میں ایک ایک بکری تقسیم کرنے لگے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11102]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20727»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11103
عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ ”يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَيُّ يَوْمٍ هَذَا؟“ قَالُوا هَذَا يَوْمٌ حَرَامٌ قَالَ ”أَيُّ بَلَدٍ هَذَا؟“ قَالُوا بَلَدٌ حَرَامٌ قَالَ ”فَأَيُّ شَهْرٍ هَذَا؟“ قَالُوا شَهْرٌ حَرَامٌ قَالَ ”إِنَّ أَمْوَالَكُمْ وَدِمَاءَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا“ ثُمَّ أَعَادَهَا مِرَارًا ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ فَقَالَ ”اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ؟“ مِرَارًا قَالَ يَقُولُ ابْنُ عَبَّاسٍ وَاللَّهِ إِنَّهَا لَوَصِيَّةٌ إِلَى رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ ثُمَّ قَالَ ”أَلَا فَلْيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ“
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا: لوگو! یہ کونسا دن ہے؟ صحابہ نے کہا: یہ حرمت والا دن ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: یہ کونسا شہر ہے؟ صحابہ نے کہا: یہ حرمت والا شہر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر پوچھا: یہ کون سا مہینہ ہے؟ صحابہ نے کہا: یہ حرمت والا مہینہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے مال، تمہارے خون اور تمہاری عزتیں ایک دوسرے پر اسی طرح حرام ہیں، جیسے اس شہر اور اس مہینے میں آج کے دن کی حرمت ہے۔ آپ نے یہ الفاظ متعدد مرتبہ دہرائے، اس کے بعدآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آسمان کی طرف سر اٹھاکر متعدد بار فرمایا: کیا میں نے لوگوں تک پیغام پہنچادیا ہے؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے: اللہ کی قسم! یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے امت کے حق میں اللہ تعالیٰ کو وصیت تھی۔ اسکے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خبردار! جو لوگ اس وقت موجود ہیں، وہ یہ باتیں ان لوگوں تک پہنچادیں، جو یہاں موجود نہیں ہیں، لوگو! تم میرے بعد کافر نہ ہو جانا کہ تم ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11103]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1739، 7079، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2036 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2036»
وضاحت: فوائد: … صحیح بخاری کی روایت میں یہ وضاحت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دس ذوالحجہ کو یہ خطبہ ارشاد فرمایا تھا۔
ان احادیث کا مفہوم یہ ہے کہ ہم مسلمان کے جان و مال اور عزت و حرمت کاکم از کم اس قدر پاس و لحاظ رکھیں کہ وہ ہماری کسی کاروائی کی وجہ سے متاثر نہیں ہوں، کتنے خوبصورت اور واشگاف انداز میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین مختلف سوالات کر کے تمہید باندھی اور پھر بار بار مسلمان کے خون، مال اور عزت کی حرمت کی وضاحت فرمائی۔ لیکن صورتحال یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں مال اور عزت کا قطعی طور پر کوئی خیال نہیں رکھا جاتا، یہ الگ بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے عام مسلمان قتل کے جرم سے محفوظ رہتے ہیں، اگرچہ قتل و غارت گری بھی عام ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11104
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْيَشْكُرِيُّ حَدَّثَنَا شَيْخٌ كَبِيرٌ مِنْ بَنِي عُقَيْلٍ يُقَالُ لَهُ عَبْدُ الْمَجِيدِ الْعُقَيْلِيُّ قَالَ انْطَلَقْنَا حُجَّاجًا لَيَالِيَ خَرَجَ يَزِيدُ بْنُ الْمُهَلَّبِ وَقَدْ ذُكِرَ لَنَا أَنَّ مَاءً بِالْعَالِيَةِ يُقَالُ لَهُ الزُّجَيْجُ فَلَمَّا قَضَيْنَا مَنَاسِكَنَا جِئْنَا حَتَّى أَتَيْنَا الزُّجَيْجَ فَأَنَخْنَا رَوَاحِلَنَا قَالَ فَانْطَلَقْنَا حَتَّى أَتَيْنَا عَلَى بِئْرٍ عَلَيْهِ أَشْيَاخٌ مُخَضَّبُونَ يَتَحَدَّثُونَ قَالَ قُلْنَا هَذَا الَّذِي صَحِبَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَيْنَ بَيْتُهُ قَالُوا نَعَمْ صَحِبَهُ وَهَذَاكَ بَيْتُهُ فَانْطَلَقْنَا حَتَّى أَتَيْنَا الْبَيْتَ فَسَلَّمْنَا قَالَ فَأَذِنَ لَنَا فَإِذَا هُوَ شَيْخٌ كَبِيرٌ مُضْطَجِعٌ يُقَالُ لَهُ الْعَدَّاءُ بْنُ خَالِدٍ الْكِلَابِيُّ قُلْتُ أَنْتَ الَّذِي صَحِبْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ وَلَوْلَا أَنَّهُ اللَّيْلُ لَأَقْرَأْتُكُمْ كِتَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَيَّ قَالَ فَمَنْ أَنْتُمْ قُلْنَا مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ قَالَ مَرْحَبًا بِكُمْ مَا فَعَلَ يَزِيدُ بْنُ الْمُهَلَّبِ قُلْنَا هُوَ هُنَاكَ يَدْعُو إِلَى كِتَابِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَإِلَى سُنَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِيمَا هُوَ مِنْ ذَاكَ فِيمَا هُوَ مِنْ ذَاكَ قَالَ قُلْتُ أَيًّا نَتَّبِعُ هَؤُلَاءِ أَوْ هَؤُلَاءِ يَعْنِي أَهْلَ الشَّامِ أَوْ يَزِيدَ قَالَ إِنْ تَقْعُدُوا تُفْلِحُوا وَتَرْشُدُوا إِنْ تَقْعُدُوا تُفْلِحُوا وَتَرْشُدُوا لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَرَفَةَ وَهُوَ قَائِمٌ فِي الرِّكَابَيْنِ يُنَادِي بِأَعْلَى صَوْتِهِ ”يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَيُّ يَوْمِكُمْ هَذَا؟“ قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ ”فَأَيُّ شَهْرٍ شَهْرُكُمْ هَذَا؟“ قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ ”فَأَيُّ بَلَدٍ بَلَدُكُمْ هَذَا؟“ قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ ”يَوْمُكُمْ يَوْمٌ حَرَامٌ وَشَهْرُكُمْ شَهْرٌ حَرَامٌ وَبَلَدُكُمْ بَلَدٌ حَرَامٌ“ قَالَ فَقَالَ ”أَلَا إِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا إِلَى يَوْمِ تَلْقَوْنَ رَبَّكُمْ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَيَسْأَلُكُمْ عَنْ أَعْمَالِكُمْ“ قَالَ ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ إِلَى السَّمَاءِ فَقَالَ ”اللَّهُمَّ اشْهَدْ عَلَيْهِمْ اللَّهُمَّ اشْهَدْ عَلَيْهِمْ“ ذَكَرَ مِرَارًا فَلَا أَدْرِي كَمْ ذَكَرَهُ
عبدالمجید عقیلی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم یزید بن مہلب کے عہد میں حج کے ارادہ سے روانہ ہوئے، انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ العالیہ کے علاقہ میں ایک مقام ہے، جس کا نام الزجیج ہے، ہم مناسکِ حج کی ادائیگی کے بعد الزجیج‘ ‘ پہنچے، ہم نے اپنی سواریوں کو بٹھایا، ہم چل کر ایک کنوئیں پر پہنچے، جہاں بہت سے بزرگ تشریف فرما تھے، انہوں نے اپنی داڑھیوں کو رنگا ہوا تھا، وہ آپس میں باتیں کر رہے تھے، عبدالمجید کہتے ہیں: ہم نے ان سے دریافت کیا کہ یہاںایک صاحب ہیں جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت کا شرف حاصل کر چکے ہیں۔ ان کا گھر کہا ں ہے؟ انہوں نے بتایا کہ وہ واقعی صحابیٔ رسول ہیں اور یہ ان کا گھر ہے، ہم چل کر ان کے گھر پہنچے، ہم نے انہیں سلام کہا، انہوں نے ہمیں اندر داخل ہونے کی اجازت دی، وہ کافی بزرگ ہو چکے تھے، لیٹے ہوئے تھے، ان کا نام عداء بن خالد کلابی تھا، میں نے عرض کیا: کیا آپ ہی وہ بزرگ ہیں، جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت کا شرف حاصل ہے؟انہوں نے کہا: جی ہاں، اگر اب رات کا وقت نہ ہوتا تو میں آپ لوگوں کو وہ خط پڑھاتا جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے نام تحریر فرمایا تھا، انہوں نے دریافت کیا تم لوگ کون ہو؟ ہم نے عرض کیا: ہم بصرہ سے آئے ہیں۔ انھوں نے کہا: خوش آمدید،یزید بن مہلب کیا کرتا ہے؟ ہم نے عرض کیا: وہ وہاں اللہ تعالیٰ کی کتاب اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کی طرف دعوت دیتے ہیں، وہ کہنے لگے، اسے ان سے کیا کام؟ اس کا ان سے کیا تعلق؟ میں نے عرض کیا:پھر ہم کس کا ساتھ دیں، شام والوں کا یایزید کا؟ انھوں نے کہا: اگر تم غیر جانب دار ہو کر الگ بیٹھ رہو تو کامیاب رہو گے، عبدالمجید نے بتایا: مجھے یاد ہے کہ انہوں نے یہ بات تین بار دہرائی، پھر کہا:میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عرفہ کے دن دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اونٹنی کی رکابوں میں پاؤں رکھے کھڑے تھے اور بلند آواز سے فرما رہے تھے، لوگو! آج کونسا دن ہے؟ صحابہ نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کونسا مہینہ ہے؟ صحابہ نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کونسا شہر ہے؟ صحابہ نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ دن حرمت والا دن ہے، یہ مہینہ حرمت والا مہینہ ہے، یہ شہر حرمت والا شہر ہے، خبردار! بے شک تمہارے خون اور اموال ایک دوسرے پر اسی طرح حرام ہیں، جیسے آج کے دن کی اس شہر میں اور اس مہینے میں قیامت تک حرمت ہے، وہ قیامت کے دن تم سے تمہارے اعمال کا محاسبہ کرے گا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اُٹھائے اور کہا: اے اللہ! تو ان پر گواہ رہنا،اے اللہ! تو ان پر گواہ رہنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بات بار بار ارشاد فرمائی، مجھے اچھی طرح یاد نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بات کتنی مرتبہ کہی۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11104]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الطبراني في المعجم الكبير: 18/ 13، والبخاري في التاريخ الكبير: 7/ 86، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20336 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20602»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12. بَابُ خُطْبَتِهِ أَوْسَطِ أَيَّامَ التَّشْرِيْقِ غَيْرِ مَا تَقَدَّمَ فِي الْحَجُ
ایامِ تشریق کے دوران آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خطبہ کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11105
عَنْ أَبِي حُرَّةَ الرَّقَاشِيِّ عَنْ عَمِّهِ قَالَ كُنْتُ آخِذًا بِزِمَامِ نَاقَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي أَوْسَطِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ أَذُودُ عَنْهُ النَّاسَ فَقَالَ ”يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَتَدْرُونَ فِي أَيِّ شَهْرٍ أَنْتُمْ وَفِي أَيِّ يَوْمٍ أَنْتُمْ وَفِي أَيِّ بَلَدٍ أَنْتُمْ؟“ قَالُوا فِي يَوْمٍ حَرَامٍ وَشَهْرٍ حَرَامٍ وَبَلَدٍ حَرَامٍ قَالَ ”فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا إِلَى يَوْمِ تَلْقَوْنَهُ“ ثُمَّ قَالَ ”اسْمَعُوا مِنِّي تَعِيشُوا أَلَا لَا تَظْلِمُوا أَلَا لَا تَظْلِمُوا أَلَا لَا تَظْلِمُوا إِنَّهُ لَا يَحِلُّ مَالُ امْرِئٍ إِلَّا بِطِيبِ نَفْسٍ مِنْهُ أَلَا وَإِنَّ كُلَّ دَمٍ وَمَالٍ وَمَأْثَرَةٍ كَانَتْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ تَحْتَ قَدَمِي هَذِهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَإِنَّ أَوَّلَ دَمٍ يُوضَعُ دَمُ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ كَانَ مُسْتَرْضَعًا فِي بَنِي لَيْثٍ فَقَتَلَتْهُ هُذَيْلٌ أَلَا وَإِنَّ كُلَّ رِبًا كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعٌ وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَضَى أَنَّ أَوَّلَ رِبًا يُوضَعُ رِبَا الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ لَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ أَلَا وَإِنَّ الزَّمَانَ قَدِ اسْتَدَارَ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ خَلَقَ اللَّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ ثُمَّ قَرَأَ {إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِنْدَ اللَّهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِي كِتَابِ اللَّهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ فَلَا تَظْلِمُوا فِيهِنَّ أَنْفُسَكُمْ} أَلَا لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ أَلَا إِنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ أَيِسَ أَنْ يَعْبُدَهُ الْمُصَلُّونَ وَلَكِنَّهُ فِي التَّحْرِيشِ بَيْنَكُمْ فَاتَّقُوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فِي النِّسَاءِ فَإِنَّهُنَّ عِنْدَكُمْ عَوَانٍ لَا يَمْلِكْنَ لِأَنْفُسِهِنَّ شَيْئًا وَإِنَّ لَهُنَّ عَلَيْكُمْ وَلَكُمْ عَلَيْهِنَّ حَقًّا أَنْ لَا يُوَطِّئْنَ فُرُشَكُمْ أَحَدًا غَيْرَكُمْ وَلَا يَأْذَنَّ فِي بُيُوتِكُمْ لِأَحَدٍ تَكْرَهُونَهُ فَإِنْ خِفْتُمْ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوهُنَّ ضَرْبًا غَيْرَ مُبَرِّحٍ“ قَالَ حُمَيْدٌ قُلْتُ لِلْحَسَنِ مَا الْمُبَرِّحُ قَالَ الْمُؤَثِّرُ ”وَلَهُنَّ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَإِنَّمَا أَخَذْتُمُوهُنَّ بِأَمَانَةِ اللَّهِ وَاسْتَحْلَلْتُمْ فُرُوجَهُنَّ بِكَلِمَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَمَنْ كَانَتْ عِنْدَهُ أَمَانَةٌ فَلْيُؤَدِّهَا إِلَى مَنِ ائْتَمَنَهُ عَلَيْهَا“ وَبَسَطَ يَدَيْهِ فَقَالَ ”أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ؟“ ثُمَّ قَالَ ”لِيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ فَإِنَّهُ رُبَّ مُبَلَّغٍ أَسْعَدُ مِنْ سَامِعٍ“ قَالَ حُمَيْدٌ قَالَ الْحَسَنُ حِينَ بَلَّغَ هَذِهِ الْكَلِمَةَ قَدْ وَاللَّهِ بَلَّغُوا أَقْوَامًا كَانُوا أَسْعَدَ بِهِ
ابو حرہ رقاشی سے مروی ہے، وہ اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا:ایام تشریق کے دوران میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اونٹنی کی مہار تھامے ہوئے لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہٹا رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگو! کیا تم جانتے ہو کہ تم اس وقت کس مہینے کس دن اور کس شہر میں ہو؟ صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ہم حرمت والے دن، حرمت والے مہینے اور حرمت والے شہر میں ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے خون، اموال اور عزتیں ایک دوسرے پر قیامت تک اسی طرح حرام ہیں، جیسے آج کے دن کی اس مہینے اور شہر میں حرمت ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میری بات سنو، تم میرےبعد زندہ رہو گے، خبردار! کسی پر ظلم نہ کرنا، خبردار! زیادتی نہ کرنا، خبردار! ظلم نہیں کرنا، کسی کے لیے کسی دوسرے کا مال اس کی دلی خوشی کے بغیر حلال نہیں۔ خبردار! ہر خون، مال اور جاہلیت والی قابلِ فخر بات اب قیامت تک میرے ان قدموں کے نیچے ہے، ربیعہ بن حارث بن عبدالمطلب جو کہ بنو لیث کے ہاں زیر پرورش تھا اور اسے بنو ھذیل نے قتل کر دیا تھا، ہم نے اس کا بدلہ لینا تھا مگر میں سب سے پہلے اس کا قتل معاف کرتا ہوں۔ اور دورِ جاہلیت کا ہر سود معاف ہے، اور اللہ تعالیٰ نے اس کا فیصلہ کر دیا ہے۔ سب سے پہلے میں عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے وہ سود جو انہوں نے لوگوں سے وصول کرنے ہیں، معاف کرتا ہوں۔ تم اپنے اصل مال لے سکتے ہو۔ تمہیں کسی پر ظلم کرنے کا اور کسی کو تمہارے اوپر ظلم کرنے کا حق نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی {إِنَّ عِدَّۃَ الشُّہُورِ عِنْدَ اللّٰہِ اثْنَا عَشَرَ شَہْرًا فِی کِتَابِ اللّٰہِ یَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضَ مِنْہَا أَرْبَعَۃٌ حُرُمٌ ذَلِکَ الدِّینُ الْقَیِّمُ فَلَا تَظْلِمُوا فِیہِنَّ أَنْفُسَکُمْ} … جس دن سے اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا بے شک اسی دن سے اللہ کے ہاں مہینوں کی تعداد بارہ ہے ان میں سے چار مہینے حرمت والے ہیںیہی دین کا سیدھا راستہ ہے تم ان مہینوں کی حرمت کو پامال کر کے اپنے اوپر ظلم نہ کرنا۔ (سورۂ توبہ: ۳۶) خبردار! تم میرے بعد ایک دوسرے کی گردنیں کاٹ کر کافر نہیں ہو جانا، خبردار شیطان اب اس بات سے مایوس ہو چکا ہے کہ نمازی اس کی عبادت کریں۔ لیکن وہ تمہارے درمیان لڑائی اور اختلاف کے بیج بونے کی کوشش کرتا رہے گا۔ تم بیویوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو۔ وہ تمہاری خدمت گار ہیں۔ انہیں اپنی جانوں کا کچھ اختیار نہیں۔ بے شک ان کے تمہارے ذمے اور تمہارے ان کے ذمہ بہت سے حقوق ہیں۔ ان کی ذمہ داری ہے کہ جس آدمی کو تم پسند کرتے ہو وہ اسے تمہارے بستر پر کسی کو بیٹھنے کی اجازت نہ دیں، اور جسے تم پسند نہیں کرتے وہ اسے تمہارے گھر کے اندر آنے کی اجازت نہ دیں۔ اگر تمہیں اپنی بیویوں کی سرکشی کا اندیشہ ہو تو پہلے انہیں وعظ ونصیحت کرو اور ان سے بستر الگ کر لو، ان کو مارو تو بہت زیادہ نہ مارو۔ حمید کہتے ہیں: میں نے حسن بصری سے دریافت کیا کہ مبرح کا کیا مفہوم ہے؟ کہا اتنا نہ مارو کہ ان کے جسم پرنشانات پڑ جائیں۔ ان کا حق ہے کہ تم انہیں معروف یعنی رواج کے مطابق یااپنی استطاعت کے مطابق کھانا اور لباس دو۔ تم انہیں اللہ کی امانت کا واسطہ دے کر لائے ہو۔ اور تم نے اللہ تعالیٰ کے دین کے مطابق ان کی شرم گاہوں کو اپنے لیے حلال سمجھتا ہے۔ کسی نے تم میں سے کسی کو امین سمجھ کر اس کے پاس امانت رکھی ہو تو اسے واپس کرے، پھر فرمایا خبردار! کیا میں نے اللہ کا پیغام تم تک پہنچا دیا؟خبردار کیا میں نے اللہ کا دین تم تک پہنچا دیا؟ پھر فرمایا: جو لوگ یہاں موجود ہیں وہ یہ باتیں ان تک پہنچا دیں جو یہاں موجود نہیں۔ بسااوقات ایسا ہوتا ہے کہ جن تک بات پہنچائی جائے۔ وہ براہ راست سننے والوں کی نسبت اسے بہتر سمجھنے اور یاد رکھنے والے ہوتے ہیں۔ حمید نے بیان کیا کہ حسن بصری جب اس کلمہ پر پہنچے تو انہوں نے کہا اللہ کی قسم صحابہ کرام نے یہ باتیںایسے لوگوں تک پہنچائیں جنہوں نے ان کو بہتر طور پر سمجھا اور یاد رکھا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11105]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره مقطعا، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20695 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20971»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
13. بَابُ الْخُطبَةِ فِي يَوْمِ الْعِيدِ غَيْرِ مَا تَقَدَّمَ فِي الْعِيدَيْنِ
عیدین کے ضمن میں بیان کردہ خطبہ کے علاوہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک اور خطبۂ عید
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11106
عَنْ قَيْسِ بْنِ عَائِذٍ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ عَلَى نَاقَةٍ خَرْمَاءَ وَعَبْدٌ حَبَشِيٌّ مُمْسِكٌ بِخِطَامِهِ وَهَلَكَ قَيْسٌ أَيَّامَ الْمُخْتَارِ
سیدنا قیس بن عائذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک ناک کٹی یا کان کٹی اونٹنی پر سوار خطبہ دیتے دیکھا، ایک حبشی غلام (سیدنا بلال رضی اللہ عنہ) اس کی مہار کو تھامے ہوا تھا۔ جن دنوں مختار بن ابی عبید ثقفی کا عروج تھا، سیدنا قیس رضی اللہ عنہ ان دنوں فوت ہوئے تھے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11106]
تخریج الحدیث: «حديث ضعيف، اسماعيل بن ابي خالد لم يسمع من قيس بن عائذ، بينھما اخو اسماعيل، وھو مبھم، أخرجه ابن ماجه: 1284، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16715 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16835»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11107
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ أَبِي كَاهِلٍ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ النَّاسَ يَوْمَ عِيدٍ عَلَى نَاقَةٍ خَرْمَاءَ وَحَبَشِيٌّ مُمْسِكٌ بِخِطَامِهَا
۔(دوسری سند) ابو کاہل سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے عید کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک کان کٹییا ناک کٹی اونٹنی پر سوار خطبہ دیتے دیکھا، ایک حبشی غلام اس کی مہار تھامے ہوا تھا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11107]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18932»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
14. بَابُ فِي بَعْضِ مَا وَرَدَ فِي فَضْلِهِ ﷺ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعض فضائل کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11108
عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ كُنْتُ إِمَامَ النَّبِيِّينَ وَخَطِيبَهُمْ وَصَاحِبَ شَفَاعَتِهِمْ وَلَا فَخْرَ“
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب قیامت کا دن ہو گا تو میں انبیاء کا امام اور ان کا خطیب ہوں گا اور میں ان کی سفارش کرنے والا ہوں گا، جبکہ مجھے اس پر فخر نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11108]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه الترمذي باثر الحديث: 2613، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21256 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21576»
وضاحت: فوائد: … جب انبیائے کرام اللہ تعالیٰ کے پاس آئیں گے، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی طرف سے بات کریں گے، حدیث نمبر (۱۰۳۲۲) سے اس حدیث کی وضاحت ہو گی۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11109
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”فَضَّلَنِي رَبِّي عَلَى الْأَنْبِيَاءِ عَلَيْهِمُ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ أَوْ قَالَ عَلَى الْأُمَمِ بِأَرْبَعٍ“ قَالَ ”أُرْسِلْتُ إِلَى النَّاسِ كَافَّةً وَجُعِلَتِ الْأَرْضُ كُلُّهَا لِي وَلِأُمَّتِي مَسْجِدًا وَطَهُورًا فَأَيْنَمَا أَدْرَكَتْ رَجُلًا مِنْ أُمَّتِي الصَّلَاةُ فَعِنْدَهُ مَسْجِدُهُ وَعِنْدَهُ طَهُورُهُ وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيرَةَ شَهْرٍ يَقْذِفُهُ فِي قُلُوبِ أَعْدَائِي وَأَحَلَّ لَنَا الْغَنَائِمَ“
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے رب نے مجھے باقی انبیاء (یا باقی امتوں) پر چار چیزوں میں فضیلت دی ہے، مجھے سب لوگوں کی طرف مبعوث کیا گیا ہے، ساری روئے زمین میرے لیے اور میری امت کے لیے سجدہ گاہ اور ذریعۂ طہارت بنا دی گئی ہے، جس آدمی کے لیے جہاں بھی نماز کا وقت ہو جائے اس کی مسجد اور ذریعۂ طہارت اس کے پاس ہی ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ نے رعب ودبدبہ کے ذریعہ میری نصرت کی ہے، میں ابھی دشمن سے ایک ماہ کی مسافت پر ہوتا ہوں کہ اللہ میرے دشمنوں کے دلوں میںمیرا دبدبہ ڈال دیتا ہے اور اس نے ہمارے لیے اموالِ غنیمت کو حلال کیا ہے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11109]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه الترمذي: 1553، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22137 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22488»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11110
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ غَالِبٍ عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَيِّدُ وُلْدِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انھوں نے کہا: قیامت کے دن محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ساری اولادِ آدم کے سردار ہوں گے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11110]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابن ابي شيبة: 11/ 449، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23296 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23685»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں