الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. صِفَهُ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ
یاجوج ماجوج کا ظہور بھی قیامت کی بڑی نشانیوں میں سے ہے¤یاجوج ماجوج کے حلیے کا بیان
حدیث نمبر: 13023
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا هُشَيْمٌ أَنَا الْعَوَّامُ عَنْ جَبْلَةَ بْنِ سُحَيْمٍ عَنْ مُؤَثِّرِ بْنِ عَفَازَةَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”لَقِيتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَى وَعِيسَى قَالَ: فَتَذَاكَرُوا أَمْرَ السَّاعَةِ فَرَدُّوا أَمْرَهُمْ إِلَى إِبْرَاهِيمَ، فَقَالَ: لَا عِلْمَ لِي بِهَا فَرَدُّوا الْأَمْرَ إِلَى مُوسَى، فَقَالَ: لَا عِلْمَ لِي بِهَا، فَرَدُّوا الْأَمْرَ إِلَى عِيسَى، فَقَالَ: أَمَّا وَجَبَتُهَا فَلَا يَعْلَمُهَا أَحَدٌ إِلَّا اللَّهُ ذَلِكَ وَفِيمَا عَهِدَ إِلَيَّ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَنَّ الدَّجَّالَ خَارِجٌ قَالَ: وَمَعِي قَضِيبَانِ، فَإِذَا رَآنِي ذَابَ كَمَا يَذُوبُ الرَّصَّاصُ قَالَ: فَيُهْلِكُهُ اللَّهُ حَتَّى إِنَّ الْحَجَرَ وَالشَّجَرَ لَيَقُولُ: يَا مُسْلِمُ! إِنَّ تَحْتِي كَافِرًا، فَتَعَالَ فَاقْتُلْهُ، قَالَ: فَيُهْلِكُهُمُ اللَّهُ ثُمَّ يَرْجِعُ النَّاسُ إِلَى بِلَادِهِمْ وَأَوْطَانِهِمْ قَالَ: فَعِنْدَ ذَلِكَ يَخْرُجُ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَهُمْ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ، فَيَطَئُونَ بِلَادَهُمْ وَهُمْ لَا يَأْتُونَ عَلَى شَيْءٍ إِلَّا أَهْلَكُوهُ وَلَا يَمُرُّونَ عَلَى مَاءٍ إِلَّا شَرِبُوهُ ثُمَّ يَرْجِعُ النَّاسُ إِلَيَّ فَيَشْكُونَهُمْ، فَأَدْعُو اللَّهَ عَلَيْهِمْ فَيُهْلِكُهُمُ اللَّهُ وَيُمِيتُهُمْ حَتَّى تَجْوَى الْأَرْضُ مِنْ نَتْنِ رِيحِهِمْ، قَالَ: فَيُنْزِلُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْمَطَرَ فَتَجْرِفُ أَجْسَادَهُمْ حَتَّى يَقْذِفَهُمْ فِي الْبَحْرِ“ قَالَ أَبِي: ذَهَبَ عَلَيَّ هَاهُنَا شَيْءٌ لَمْ أَفْهَمْهُ، كَأَدِيمٍ وَقَالَ يَزِيدُ: يَعْنِي ابْنَ هَارُونَ: ثُمَّ تَنْسِفُ الْجِبَالُ وَتُمَدُّ الْأَرْضُ مَدَّ الْأَدِيمِ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى حَدِيثِ هُشَيْمٍ قَالَ: فَفِيمَا ”عَهِدَ إِلَيَّ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَنَّ ذَلِكَ إِذَا كَانَ كَذَلِكَ فَإِنَّ السَّاعَةَ كَالْحَامِلِ الْمُتِمِّ الَّتِي لَا يَدْرِي أَهْلُهَا مَتَى تَفْجَؤُهُمْ بِوِلَادِهَا لَيْلًا أَوْ نَهَارًا“
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسراء والی رات ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ علیہ السلام سے میری ملاقات ہوئی، جب انہوں نے قیامت کا ذکر کیا تو سب نے بات کو ابراہیم علیہ السلام کی طرف لوٹایا، لیکن انہوں نے فرمایا: مجھے تو اس کا کوئی علم نہیں ہے،پھر انھوں نے بات کو موسیٰ علیہ السلام کی طرف منسوب کر دیا، لیکن انہوں نے بھی فرمایا: مجھے اس کا علم نہیں ہے، اور انہوں نے اس معاملے کو عیسیٰ علیہ السلام کی طرف ڈال دیا، انہوں نے کہا: جہاں تک قیامت کے واقع ہونے کی بات ہے، تو اس کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے، البتہ میرے ربّ نے مجھے بتایا تھا کہ قیامت سے پہلے دجال کا ظہور ہوگا، (جب میں عیسی کا نزول ہو گا تو) میرے پاس دو لاٹھیاں (یا تلواریں) ہوں گی، وہ جب مجھے دیکھے گا تو اس طرح پگھل جائے گا، جیسے تانبا پگھلتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ اسے ہلاک کر دے گا، یہاں تک کے ہر پتھر اور درخت بول کر کہے گا: اے مسلمان! میرے پیچھے یہ کافر چھپا ہوا ہے،آکر اسے قتل کر دو، اس طرح اللہ تعالیٰ انہیں نیست و نابود کر دے گا، اس کے بعد لوگ اپنے اپنے شہروں اور وطنوں کی طرف لوٹ جائیں گے، بعد ازاں یا جوج و ماجوج کا ظہور ہوگا اور وہ ہر بلندی کی طرف سے نکل آئیں گے اور آکر لوگوں کے شہروں پر چھا جائیں گے، وہ جس چیز پر بھی پہنچیں گے، اسے ختم کر دیں گے، وہ جس پانی کے پاس سے گزریں گے، اسے پی جائیں گے۔ پھر لوگ ان کی شکایت کرنے کے لیے میرے پاس آئیں گے، میں اللہ تعالیٰ سے ان پر بد دعا کروں گا، پس اللہ تعالیٰ ان کو ختم کر دے گا اور ان کے اجسام کی بو سے پوری روئے زمین بدبودار ہوجائے گی، پھر اللہ تعالیٰ بارش برسائے گا، جو ان کے اجسام کو بہا کر سمندر میں جا ڈال دے گی۔ امام احمد کہتے ہیں: یہاں حدیث کا بعض حصہ مجھے سمجھ نہ آ سکا، ابن ہارون نے یوں بیان کیا: پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے اور زمین کو چمڑے کی طرح پھیلا دیا جائے گا، اس کے بعد وہ ہشیم کی روایت کی طرف لوٹ آئے او رکہا: (عیسیٰ علیہ السلام کہیں کے کہ) میرے رب نے مجھ سے جو کچھ کہا اس میں یہ بھی ہے کہ جب اس قسم کے حالات پیدا ہوجائیں گے تو قیامت کسی بھی وقت آسکتی ہے، بالکل اس طرح جیسے مدت پوری کر لینے والی حاملہ خاتون کی ہوتی ہے کہ اس کے گھر والوں کو کوئی علم نہیں ہوتا کہ دن یا رات کے کس وقت میں وہ اچانک بچہ پیدا کر دے گی۔ [الفتح الربانی/ظهور يأجوج ومأجوج من علامات الساعة الكبرى/حدیث: 13023]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، مؤثر بن عفازة لم يوثقه غير ابن حبان والعجلي، فھو في عداد المجاھيل، أخرجه ابن ماجه: 4081، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3556 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3556»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 13024
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”إِنَّ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ لَيَحْفِرَنَّ السَّدَّ كُلَّ يَوْمٍ حَتَّى إِذَا كَادُوا يَرَوْنَ شُعَاعَ الشَّمْسِ قَالَ الَّذِي عَلَيْهِمْ: ارْجِعُوا فَسَتَحْفِرُونَهُ غَدًا، فَيَعُودُونَ إِلَيْهِ كَأَشَدِّ مَا كَانَ، حَتَّى إِذَا بَلَغَتْ مُدَّتُهُمْ وَأَرَادَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَبْعَثَهُمْ عَلَى النَّاسِ (وَفِي رِوَايَةٍ: عَلَى النَّاسِ) حَفَرُوا حَتَّى إِذَا كَادُوا يَرَوْنَ شُعَاعَ الشَّمْسِ قَالَ الَّذِي عَلَيْهِمْ: ارْجِعُوا فَسَتَحْفِرُونَهُ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَِّهُ وَيَسْتَثْنِي فَيَعُودُونَ إِلَيْهِ وَهُوَ كَهَيْئَتِهِ حِينَ تَرَكُوهُ، فَيَحْفِرُونَهُ وَيَخْرُجُونَ عَلَى النَّاسِ فَيَنْشِفُونَ الْمِيَاهَ وَيَتَحَصَّنَ النَّاسُ مِنْ
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یاجوج ماجوج روزانہ دیوار کو کھودتے ہیں، جب سورج غروب ہونے لگتا ہے تو ان کا امیر کہتا ہے: واپس چلو، کل تم اسے کھود لو گے، لیکن جب وہ دوسرے دن آتے ہیں، تو وہ دیوارپہلے سے بھی زیادہ سخت ہوچکی ہوتی ہے، (ہر روز یہی کچھ ہوتا ہے) حتی کہ جب ان کا مقررہ وقت پورا ہوجائے گا اور اللہ تعالیٰ یہ ارادہ کر لے گا کہ وہ لوگوں کی طرف نکل آئیں، تو اسی طرح کھودنا شروع کریں گے، جب سورج غروب ہونے کے قریب ہوگا تو اس بار ان کا امیر ان سے کہے گا: واپس چلو، اگر اللہ نے چاہا تو باقی کل کھود لیں گے، اس دفعہ وہ ان شاء اللہ کہے گا، دوسرے دن جب وہ وہاں آئیں گے تو اسے اسی حالت میں پائیں گے، جس میں چھوڑ کر گئے ہیں، چنانچہ وہ اسے کھود لیں گے اور لوگوں کی طرف نکل جائیں گے، وہ سارے پانیوں کو چوس جائیں گے اور لوگ ان سے ڈر کر اپنے اپنے قلعوں میں بند ہوجائیں گے،(زمین پر قبضہ جما لینے کے بعد) یاجوج ماجوج آسمان کی طرف تیر پھینکیں گے، وہ تیر خون آلود ہو کر واپس آئیں گے، یہ دیکھ کروہ کہیں گے کہ ہم زمین والوں پر بھی اور آسمان والوں پر بھی غالب آگئے ہیں، پھر اللہ تعالیٰ ان کی گدیوں میں ایک کیڑا پیدا کرے گا، جس کی وجہ سے وہ مر جائیں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! ان کے گوشت اور خون کھا کھا کر زمین کے جانور خوب موٹے تازے ہوجائیں گے۔ [الفتح الربانی/ظهور يأجوج ومأجوج من علامات الساعة الكبرى/حدیث: 13024]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه الترمذي: 3153،و ابن ماجه: 4080، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10632 ترقیم بيت الأفكار الدولية:0»
وضاحت: فوائد: … شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں: حافظ ابن کثیر نے مسند احمد کے حوالے سے یہ حدیث ذو القرنین اور یاجوج و ماجوج کے قصے میں اس آیت کے ضمن میں ذکر کی ہے: {فَمَا اسْطَاعُوْٓا اَنْ یَّظْہَرُوْہُ وَ مَااسْتَطَاعُوْالَہٗ نَقْبًا} (سورۂ کہف: ۹۷) … پس نہ تو ان (یاجوج ماجوج) میں اس دیوار پر چڑھنے کی طاقت تھی اور نہ اس میں کوئی سوراخ کر سکتے تھے۔
پھر انھوں نے یہ قصہ ذکر کرنے کے بعد کہا: اس حدیث کی سند تو جیّد ہے، لیکن اس کے متن کو مرفوع بیان کرنا درست معلوم نہیں ہوتا، کیونکہ آیت کے ظاہری مفہوم سے معلوم ہوتا کہ وہ دیوار اتنی مضبوط اور سخت ہے کہ نہ وہ اس پر چڑھ سکتے ہیں اور نہ اس میں کوئی سوراخ کر سکتے ہیں۔
میں (البانی) کہتا ہوں: یہ آیت کسی طرح بھی اس مفہوم پر دلالت نہیں کرتی کہ ان میں ایسا کرنے کی طاقت نہیں ہو گی۔ آیت ِ مبارکہ میں ماضی کی خبر دی گئی ہے اور حدیث میں مسقبل کے بارے میں خبر دی جا رہی ہے۔ معلوم ہوا کہ آیت اور حدیث میں کوئی تضاد نہیں ہے، بلکہ یہ حدیث درج ذیل آیت کا مکمل مفہوم ادا کر رہی ہے: {حَتّٰٓی اِذَا فُتِحَتْ یَاْجُوْجُ وَ مَاْجُوْجُ وَ ہُمْ مِّنْ کُلِّ حَدَبٍ یَّنْسِلُوْنَ۔} (سورۂ انبیا: ۹۶) … یہاں تک کہ یاجوج اور ماجوج کھول دیے جائیں گے اور ہر بلندی سے دوڑتے ہوئے آئیں گے۔
میں نے اس تحریر کے بعد امام ابن کثیر کی (البدایۃ والنھایۃ: ۲/۱۲۲) میں اس قصے کا مراجعہ کیا، کیا دیکھتا ہوں کہ انھوں نے اِسی قسم کا جواب دیا، ہاں اس کے ساتھ ساتھ کچھ دوسرے امور بھی ذکر کیے۔ (صحیحہ: ۱۷۳۵)
پھر انھوں نے یہ قصہ ذکر کرنے کے بعد کہا: اس حدیث کی سند تو جیّد ہے، لیکن اس کے متن کو مرفوع بیان کرنا درست معلوم نہیں ہوتا، کیونکہ آیت کے ظاہری مفہوم سے معلوم ہوتا کہ وہ دیوار اتنی مضبوط اور سخت ہے کہ نہ وہ اس پر چڑھ سکتے ہیں اور نہ اس میں کوئی سوراخ کر سکتے ہیں۔
میں (البانی) کہتا ہوں: یہ آیت کسی طرح بھی اس مفہوم پر دلالت نہیں کرتی کہ ان میں ایسا کرنے کی طاقت نہیں ہو گی۔ آیت ِ مبارکہ میں ماضی کی خبر دی گئی ہے اور حدیث میں مسقبل کے بارے میں خبر دی جا رہی ہے۔ معلوم ہوا کہ آیت اور حدیث میں کوئی تضاد نہیں ہے، بلکہ یہ حدیث درج ذیل آیت کا مکمل مفہوم ادا کر رہی ہے: {حَتّٰٓی اِذَا فُتِحَتْ یَاْجُوْجُ وَ مَاْجُوْجُ وَ ہُمْ مِّنْ کُلِّ حَدَبٍ یَّنْسِلُوْنَ۔} (سورۂ انبیا: ۹۶) … یہاں تک کہ یاجوج اور ماجوج کھول دیے جائیں گے اور ہر بلندی سے دوڑتے ہوئے آئیں گے۔
میں نے اس تحریر کے بعد امام ابن کثیر کی (البدایۃ والنھایۃ: ۲/۱۲۲) میں اس قصے کا مراجعہ کیا، کیا دیکھتا ہوں کہ انھوں نے اِسی قسم کا جواب دیا، ہاں اس کے ساتھ ساتھ کچھ دوسرے امور بھی ذکر کیے۔ (صحیحہ: ۱۷۳۵)
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 13025
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا عَفَّانُ ثَنَا وُهَيْبٌ ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاؤُوسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”فُتِحَ الْيَوْمُ مِنْ رَدْمِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مِثْلُ هَذَا“ وَعَقَدَ وُهَيْبٌ تِسْعِينَ
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آج یاجوج ماجوج کی دیوار میں اتنا سوراخ ہوگیا ہے۔ وضاحت کرنے کے لیے حدیث کے راوی وہیب نے نوے (۹۰) کی گرہ لگائی۔ [الفتح الربانی/ظهور يأجوج ومأجوج من علامات الساعة الكبرى/حدیث: 13025]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3347، 7136، ومسلم: 3881، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8501 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8482»
وضاحت: فوائد: … عربوں کے ہاں نوے (۹۰) کی گرہ یہ ہے: انگشتِ شہادت کا سرا انگوٹھے کی جڑ پر رکھیں پھر انگوٹھے کو انگلی کے ساتھ ملا دیں (کہ اندر گول دائرے کا سوراخ بن جائے)۔اگر دوسری روایات کو دیکھا جائے تو اس سوراخ سے مراد ان کے فتنے کا قریب ہونا ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 13026
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”يُفْتَحُ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ يَخْرُجُونَ عَلَى النَّاسِ كَمَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ} فَيُغَشُّونَ الْأَرْضَ وَيَنْحَازُ الْمُسْلِمُونَ عَنْهُمْ إِلَى مَدَائِنِهِمْ وَحُصُونِهِمْ وَيَضُمُّونَ إِلَيْهِمْ مَوَاشِيَهُمْ وَيَشْرَبُونَ مِيَاهَ الْأَرْضِ حَتَّى إِنَّ بَعْضَهُمْ لَيَمُرُّ بِالنَّهْرِ فَيَشْرَبُونَ مَا فِيهِ حَتَّى يَتْرُكُوهُ يَبَسًا حَتَّى إِنَّ مَنْ بَعْدَهُمْ لَيَمُرُّ بِذَلِكَ النَّهْرِ فَيَقُولُ قَدْ كَانَ هَاهُنَا مَاءٌ مَرَّةً حَتَّى إِذَا لَمْ يَبْقَ مِنَ النَّاسِ إِلَّا أَحَدٌ فِي حِصْنٍ أَوْ مَدِينَةٍ قَالَ قَائِلُهُمْ هَؤُلَاءِ أَهْلُ الْأَرْضِ قَدْ فَرَغْنَا مِنْهُمْ بَقِيَ أَهْلُ السَّمَاءِ قَالَ ثُمَّ يَهُزُّ أَحَدُهُمْ حَرْبَتَهُ ثُمَّ يَرْمِي بِهَا إِلَى السَّمَاءِ فَتَرْجِعُ مُخْتَضِبَةً دَمًا لِلْبَلَاءِ وَالْفِتْنَةِ فَبَيْنَاهُمْ عَلَى ذَلِكَ إِذْ بَعَثَ اللَّهُ دُودًا فِي أَعْنَاقِهِمْ كَنَغَفِ الْجَرَادِ الَّذِي يَخْرُجُ فِي أَعْنَاقِهِمْ فَيُصْبِحُونَ مَوْتَى لَا يُسْمَعُ لَهُمْ حِسٌّ فَيَقُولُ الْمُسْلِمُونَ أَلَا رَجُلٌ يَشْرِي نَفْسَهُ فَيَنْظُرُ مَا فَعَلَ هَذَا الْعَدُوُّ قَالَ فَيَتَجَرَّدُ رَجُلٌ مِنْهُمْ لِذَلِكَ مُحْتَسِبًا لِنَفْسِهِ قَدْ أَظَنَّهَا عَلَى أَنَّهُ مَقْتُولٌ فَيَنْزِلُ فَيَجِدُهُمْ مَوْتَى بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ فَيُنَادِي يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ أَلَا أَبْشِرُوا فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ كَفَاكُمْ عَدُوَّكُمْ فَيَخْرُجُونَ مِنْ مَدَائِنِهِمْ وَحُصُونِهِمْ وَيَسْرَحُونَ مَوَاشِيَهُمْ فَمَا يَكُونُ لَهَا رَعْيٌ إِلَّا لُحُومُهُمْ فَتَشْكَرُ عَنْهُ كَأَحْسَنِ مَا تَشْكَرُ عَنْ شَيْءٍ مِنَ النَّبَاتِ أَصَابَتْهُ قَطُّ“
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بالآخر یاجوج ماجوج کے لیے دیوار کھول دی جائے گی اور وہ لوگوں کی طرف نکل آئیں گے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {مِنْ کُلِّ حَدَبٍ یَّنْسِلُوْنَ} (سورۂ انبیاء: ۹۶) (وہ ہر بلندی سے تیزی سے دوڑتے آئیں گے)، وہ زمین پر چھا جائیں گے، مسلمان ان کے شر اور فتنوں سے بچنے کے لیے اپنے شہروں اور قلعوں میں بند ہوجائیں گے اور اپنے مویشیوں کو بھی اپنے ساتھ لے جائیں گے، یاجوج ماجوج زمین سے اس قدر پانی پئیں گے کہ جب ان میں سے بعض افراد پانی کی نہرکے پاس سے گزریں گے، تو اس طرح پانی پی جائیں گے کہ نہر خشک ہو جائے گی، ان کے بعد گزرنے والے اس نہر کے بارے میں یہ کہیں گے کہ یہاں کبھی پانی ہوتا تھا،جب ہر آدمی اپنے قلعے یا شہر میں بند ہو جائے گا (اور زمین پر ان کا مکمل قبضہ ہو جائے گا تو) وہ یاجوج ماجوج میں سے ایک فرد کہے گا: ہم اہل زمین سے تو فارغ ہوگئے ہیں، البتہ آسمان والے باقی ہیں، پھر ان میں سے ایک اپنے نیزے کو حرکت دے کر آسمان کی طرف پھینکے گا تو وہ نیزہ ان کے امتحان و آزمائش کے لیے خون آلود ہو کر واپس گرے گا۔ (یہ دیکھ کر وہ کہیں گے کہ ہم آسمان والوں پر بھی غالب آ گئے ہیں)۔ وہ اسی قسم کی کیفیات میں ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ ان کی گردنوں میں کیڑا پیدا کردے گا، جیسے ٹڈی دل کا لاروا ان کی گردنوں میں ہوتا ہے، اس وجہ سے وہ سارے اس طرح مر جائیں گے کہ ان کی حرکت تک بھی سنائی نہیں دے گی، مسلمان آپس میں ایک دوسرے سے کہیں گے کہ کیا کوئی ایسا فرد ہے جو اپنے آپ کو قربان کرے اور یہ خبر لائے کہ یاجوج ماجوج کا کیا بنا ہے، ایک مسلمان دشمن کے حالات کو دیکھنے کے لیے اس خیال سے جائے گا کہ وہ وہاں قتل ہوجائے گا، لیکن جب وہ ان کے درمیان پہنچے گا تو دیکھے گا کہ وہ تو سب ایک دوسرے کے اوپر گرے مرے پڑے ہیں، وہ مسلمانوں کو آواز دے گا: مسلمانوں کی جماعت! خوش ہو جاؤ، اللہ تعالیٰ نے تمہارے دشمن کا صفایا کر دیا ہے، پھر مسلمان اپنے شہروں ور قلعوں سے باہر نکل آئیں گے اور اپنے مویشیوں کو چرنے کے لیے چھوڑ دیں گے، ان مویشیوں کی خوراک یاجوج ماجوج کا گوشت ہوگا، وہ اس سے پہلے کبھی گھاس کھا کھا کر اس قدر سیر نہیں ہوئے ہوں گے، جس قدر ان کا گوشت کھا کر سیر ہوں گے۔ [الفتح الربانی/ظهور يأجوج ومأجوج من علامات الساعة الكبرى/حدیث: 13026]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابن ماجه: 4079، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11731 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11754»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 13027
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَيُحَجَّنَّ الْبَيْتُ وَلَيُعْتَمَرَنَّ بَعْدَ خُرُوجِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ“
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یاجوج و ماجوج کے ظہور کے بعد بھی بیت اللہ کا حج اور عمرہ کیا جائے گا۔ [الفتح الربانی/ظهور يأجوج ومأجوج من علامات الساعة الكبرى/حدیث: 13027]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1593، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11217 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11235»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 13028
عَنِ ابْنِ حَرْمَلَةَ عَنْ خَالَتِهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَاصِبٌ إِصْبَعَهُ مِنْ لَدْغَةِ عَقْرَبَ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّكُمْ تَقُولُونَ لَا عَدُوَّ وَإِنَّكُمْ لَا تَزَالُونَ تُقَاتِلُونَ عَدُوًّا حَتَّى يَأْتِي يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ عِرَاضُ الْوُجُوهِ صِغَارُ الْعُيُونِ صُهْبُ الشِّعَافِ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَةُ“
ابن حرملہ اپنی خالہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ دیا، جبکہ بچھو کے ڈسنے کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی انگلی پر پٹی باندھی ہوئی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس میں فرمایا: تم کہتے ہو کہ اب تمہارا کوئی دشمن باقی نہیں رہا، یاد رکھو تم اپنے دشمنوں سے لڑتے رہو گے حتی کہ یا جوج ما جوج آ جائیں گے، ان کے چہرے چوڑے اور آنکھیں چھوٹی ہوں گے اور سر کے بالوں میں بھورا پن ہو گا، وہ ہر بلندی سے دوڑتے ہوئے آئیں گے اور ان کے چہرے ڈھالوں کی طرح چوڑے چپٹے ہوں گے۔ [الفتح الربانی/ظهور يأجوج ومأجوج من علامات الساعة الكبرى/حدیث: 13028]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابن حرملة، قال الحافظ في التقريب: مقبول، يعني عند المتابعة والا فلين الحديث، وھو ھنا لم يتابع، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22331 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22687»
الحكم على الحديث: ضعیف
2. طلوع الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا وَعَلْقُ بَابِ التَّوْبَةِ
سورج کے مغرب کی طرف سے طلوع ہونے اور توبہ کے دروازے کے بند ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 13029
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا فَإِذَا طَلَعَتْ وَرَآهَا النَّاسُ آمَنَ مَنْ عَلَيْهَا فَذَلِكَ حِينٌ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک سورج مغرب کی طرف سے طلوع نہ ہوجائے اور جب یہ مغرب کی طرف سے طلوع ہوگا اور لوگ اسے دیکھ لیں گے تو سب لوگ ایمان لے آئیں گے، مگر یہ ایسا وقت ہوگا کہ کسی ایسے شخص کو اس کا ایما ن لانا فائدہ نہیں دے گا، جو اس سے پہلے ایمان نہیں لایا ہو گا یا اس نے اپنے ایمان میں کوئی اچھا عمل نہیں کیا ہو گا۔ [الفتح الربانی/ظهور يأجوج ومأجوج من علامات الساعة الكبرى/حدیث: 13029]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4635، ومسلم بعد حديث: 157، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7161 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7161»
وضاحت: فوائد: … ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {یَوْمَ یَاْتِیْ بَعْضُ اٰیٰتِ رَبِّکَ لَا یَنْفَعُ نَفْسًا اِیْمَانُھَا لَمْ تَکُنْ اٰمَنَتْ مِنْ قَبْلُ اَوْکَسَبَتْ فِیْٓ اِیْمَانِھَا خَیْرًا} … جس دن تیرے رب کی کوئی نشانی آئے گی کسی شخص کو اس کا ایمان فائدہ نہ دے گا، جو اس سے پہلے ایمان نہ لایا تھا، یا اپنے ایمان میں کوئی نیکی نہ کمائی تھی۔ (سورۂ انعام: ۱۵۸)
اس آیت میں مذکورہ نشانی سے مراد مغرب سے سورج کا طلوع ہونا ہے، جب سورج مشرق کی بجائے مغرب سے طلوع ہو گا تو توبہ کا دروازہ بند ہو جائے گا اور کسی کا ایمان لانا اس کو فائدہ نہیں دے گا۔
اس نشانی کے ظہور کے وقت جس کے ایمان یا کفر اور نیکی یا برائی کی جو کیفیت ہو گی، وہی معتبر ہو گی، اگرچہ نشانی کو دیکھنے کے بعد سارے لوگ ایمان لے آئیں گے، لیکن یہ ایمان ان کو نفع نہیں دے گا، نیز اس علامت کے بعد کوئی نیکی فائدہ مند نہیں ہو گی۔
اس آیت میں مذکورہ نشانی سے مراد مغرب سے سورج کا طلوع ہونا ہے، جب سورج مشرق کی بجائے مغرب سے طلوع ہو گا تو توبہ کا دروازہ بند ہو جائے گا اور کسی کا ایمان لانا اس کو فائدہ نہیں دے گا۔
اس نشانی کے ظہور کے وقت جس کے ایمان یا کفر اور نیکی یا برائی کی جو کیفیت ہو گی، وہی معتبر ہو گی، اگرچہ نشانی کو دیکھنے کے بعد سارے لوگ ایمان لے آئیں گے، لیکن یہ ایمان ان کو نفع نہیں دے گا، نیز اس علامت کے بعد کوئی نیکی فائدہ مند نہیں ہو گی۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 13030
وَعَنِ ابْنِ السَّعْدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”لَا تَنْقَطِعُ الْهِجْرَةُ مَا دَامَ الْعَدُوُّ يُقَاتَلُ“ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”إِنَّ الْهِجْرَةَ خَصْلَتَانِ إِحْدَاهُمَا أَنْ تَهْجُرَ السَّيِّئَاتِ وَالْأُخْرَى أَنْ تُهَاجِرَ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَلَا تَنْقَطِعُ الْهِجْرَةُ مَا تُقُبِّلَتِ التَّوْبَةُ وَلَا تَزَالُ التَّوْبَةُ مَقْبُولَةً حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنَ الْمَغْرِبِ فَإِذَا طَلَعَتْ طُبِعَ عَلَى كُلِّ قَلْبٍ بِمَا فِيهِ وَكُفِيَ النَّاسُ الْعَمَلَ“
سیدنا ابن سعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تک دشمن سے لڑائی جاری رہے گی، اس وقت تک ہجرت منقطع نہیں ہو سکتی۔ اور سیدنامعاویہ، سیدنا عبدالرحمن بن عوف اور سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہجرت کی دو قسمیں ہیں، ایک یہ کہ تم برائیوں کو ترک کر دو۔ اور دوسری یہ کہ تم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کرو، جب تک اللہ تعالیٰ کے ہاں توبہ قبول ہوتی رہے گی، تب تک ہجرت کا سلسلہ منقطع نہیں ہوگا اور تو بہ اس وقت تک قبول ہوتی رہے گی، جب تک مغرب کی طرف سے سورج طلوع نہیں ہو جاتا اور جب سورج مغرب کی طرف سے طلوع ہوجائے گا، تب ہر دل میں (کفر یا ایمان اور عمل کی صورت میں) جو کچھ ہو گا، اس پر مہر لگا دی جائے گی اور اس وقت لوگوں کو عمل سے بے نیاز کر دیا جائے گا۔ [الفتح الربانی/ظهور يأجوج ومأجوج من علامات الساعة الكبرى/حدیث: 13030]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، حديث ابن السعدي: أخرجه النسائي: 7/ 146، والبخاري في التاريخ الكبير: 5/ 27۔ والبيھقي: 9/ 17۔ وابن حبان: 4866۔ حديث معاوية: أخرجه ابوداود: 2479۔ حديث عبد الرحمن بن عوف أخرجه البزار: 1054، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1671 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1671»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 13031
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”مَنْ تَابَ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے سورج کے مغرب کی طرف سے طلوع ہونے سے پہلے پہلے توبہ کر لی، اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرے گا۔ [الفتح الربانی/ظهور يأجوج ومأجوج من علامات الساعة الكبرى/حدیث: 13031]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2703، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9130 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9119»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 13032
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى حِمَارٍ وَعَلَيْهِ بَرْذَعَةٌ أَوْ قَطِيفَةٌ قَالَ فَذَلِكَ عِنْدَ غُرُوبِ الشَّمْسِ فَقَالَ لِي ”يَا أَبَا ذَرٍّ هَلْ تَدْرِي أَيْنَ تَغِيبُ هَذِهِ“ قَالَ قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”فَإِنَّهَا تَغْرُبُ فِي عَيْنٍ حَامِئَةٍ تَنْطَلِقُ حَتَّى تَخِرَّ لِرَبِّهَا عَزَّ وَجَلَّ سَاجِدَةً تَحْتَ الْعَرْشِ فَإِذَا حَانَ خُرُوجُهَا أَذِنَ اللَّهُ لَهَا فَتَخْرُجُ فَتَطْلُعُ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يُطْلِعَهَا مِنْ حَيْثُ تَغْرُبُ حَبَسَهَا فَتَقُولُ يَا رَبِّ إِنَّ مَسِيرِي بَعِيدٌ فَيَقُولُ لَهَا اطْلَعِي مِنْ حَيْثُ غِبْتِ فَذَلِكَ حِينٌ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا“
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ گدھے پر سوار تھا، اور اس گدھے پر ایک کمبل چادر تھی (جو جانور کے پالان کے نیچے رکھی جاتی ہے) یہ غروب آفتاب کا وقت تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ابوذر! کیا تم جانتے ہو کہ یہ سورج کہاں غروب ہوتا ہے؟ میں نے کہا: جی اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ دلدل والے ایک چشمہ میں غروب ہوتا ہے، پھر یہ چلتے چلتے اللہ تعالیٰ کے عرش کے نیچے جا کر سجدہ ریز ہوتا ہے، جب اس کے طلوع کا وقت ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے طلوع ہونے کی اجازت دیتا ہے اور یہ جا کر طلوع ہوجاتا ہے، لیکن جب اللہ تعالیٰ چاہے گا کہ یہ مغرب ہی کی طرف سے طلوع ہو تو اللہ تعالیٰ اسے روک لے گا، سورج کہے گا: اے رب! میرا سفر بہت طویل ہے، تو اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا: جو جہاں غروب ہوا ہے، وہیں سے طلوع ہو جا، یہ ایسا وقت ہوگا کہ اس وقت ایمان لانا کسی کے لیے مفید نہیں ہوگا۔ [الفتح الربانی/ظهور يأجوج ومأجوج من علامات الساعة الكبرى/حدیث: 13032]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه مختصرا ابوداود: 4002، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21459 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21791»
وضاحت: فوائد: … سورج کا دلدل والے چشمے میں غروب ہونا، اللہ تعالیٰ نے ذو القرنین کا قصہ بیان کرتے ہوئے فرمایا:
{اِذَا بَلَغَ مَغْرِبَ الشَّمْسِ وَجَدَہَا تَغْرُبُ فِیْ عَیْنٍ حَمِئَۃٍ وَّوَجَدَ عِنْدَہَا قَوْمًا قُلْنَا یٰذَا الْقَرْنَیْنِ اِمَّآ اَنْ تُعَذِّبَ وَاِمَّآ اَنْ تَتَّخِذَ فِیْہِمْ حُسْنًا} … یہاں تک کہ جب وہ سورج غروب ہونے کے مقام پر پہنچا تو اسے پایا کہ وہ دلدل والے چشمے میں غروب ہو رہا ہے اور اس کے پاس ایک قوم کو پایا۔ ہم نے کہا اے ذوالقرنین! یا تو یہ ہے کہ تو (انھیں) سزا دے اور یا یہ کہ تو ان کے بارے میں کوئی اچھا سلوک کرے۔ (سورۂ کہف: ۸۶)
ذوالقرنین ایک راہ پر چلا اور زمین کے نشانات کے سہارے زمین کی مغربی جانب کوچ کیا، یہاں تک کہ اب سورج کے غروب ہونے کی جگہ تک پہنچ گئے، یہ یاد رہے کہ اس سے مراد آسمان کا وہ حصہ نہیں جہاں سورج غروب ہوتا ہے کیونکہ وہاں تک تو کسی کا جانا ناممکن ہے، ہاں اس رخ جہاں تک زمین پر جانا ممکن ہے،ذوالقرنین پہنچ گئے۔
الغرض جب انتہائے مغرب کی سمت پہنچ گئے تو یہ معلوم ہوا کہ گویا بحر محیط میں سورج غروب ہو رہا ہے، جو بھی کسی سمندر کے کنارے کھڑا ہو کر سورج کو غروب ہوتے ہوئے دیکھے گا تو بظاہر یہی منظر اس کے سامنے ہو گا کہ گویا سورج پانی میں ڈوب رہا ہے۔
حَمِئَۃ یا تو مشتق ہے حَمَاۃ سے یعنی چکنی مٹی۔ایک قرأت میں فِیْ عَیْنٍ حَامِیَۃٍ ہے، یعنی گرم چشمے میں غروب ہونا پایا۔ یہ دونوں قرأتیں مشہور ہیں اور دونوں درست ہیںاوران کے معنی میں بھی کوئی تفاوت نہیں، کیونکہ سورج کی نزدیکی کی وجہ سے پانی گرم ہو گا اور وہاں کی مٹی کے سیاہ رنگ کی وجہ سے اس کا پانی کیچڑ جیسا ہی ہو گا۔
سیدنا معاویہ علیہ السلام نے کعب رحمتہ اللہ علیہ کے پاس آدمی بھیجا کہ بتلاؤ سورج کہاں غروب ہوتا ہے؟ تورات میں اس کے متعلق کچھ ہے؟ کعب رحمتہ اللہ علیہ نے جواب دیا کہ اسے عربیت والوں سے پوچھنا چاہئے، وہی اس کے پورے عالم ہیں۔ ہاں تورات میں تو میں یہ پاتا ہوں کہ وہ پانی اور مٹی میں یعنی کیچڑ میں چھپ جاتا ہے اور مغرب کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا۔
سورج کا عرش کے نیچے غروب ہونا اور سجدہ کرنا، اس قسم کے امور پر مشتمل احادیث ِ صحیحہ پر ایمان لانا ضروری ہے اور یہ ضروری نہیں ہے کہ ان کی کیفیت کو بھی سمجھا جائے، جبکہ سورج ہر وقت عرش کے نیچے ہی رہتا ہے اور کوئی گھڑی ایسی نہیں گزرتی، جس میں یہ اپنے ربّ کے سامنے مطیع نہ ہو رہا ہو، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللَّہَ یَسْجُدُ لَہُ مَنْ فِی السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِی الْاَرْضِ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالنُّجُوْمُ وَالْجِبَالُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَابُّ وَالْأَنْعَامُ وَکَثِیْرٌ مِّنَ النَّاسِ} … کیا تو دیکھتا نہیں کہ آسمانوں اور زمینوں میں جو کچھ ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے لیے سجدہ کرتا ہے، مثلا سورج، چاند، ستارے، پہاڑ، درخت، چوپائے، مویشی اور بہت زیادہ لوگ۔ (سورۂ حج: ۱۸)
ابو العالیہ نے کہا: آسمان میں موجود ہر ستارہ، سورج اور چاند غروب ہوتے وقت اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتا ہے، پھر اس کو آگے بڑھنے کی اجازت دی جاتی ہے، جبکہ یہ بات بھی معلوم ہے کہ سورج ہر وقت فلک میں رہتا ہے، پس یہ ہر وقت فلک میں تسبیح بیان کرتا ہے اور ہر وقت سجدہ کرتا ہے اور ہر رات کو اجازت طلب کرتا ہے، جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے، وہ اس طرح سجدہ کرتا ہے، جیسا اس کے لیے مناسب ہے اور اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی و انکساری کا اظہار کرتا ہے۔
{اِذَا بَلَغَ مَغْرِبَ الشَّمْسِ وَجَدَہَا تَغْرُبُ فِیْ عَیْنٍ حَمِئَۃٍ وَّوَجَدَ عِنْدَہَا قَوْمًا قُلْنَا یٰذَا الْقَرْنَیْنِ اِمَّآ اَنْ تُعَذِّبَ وَاِمَّآ اَنْ تَتَّخِذَ فِیْہِمْ حُسْنًا} … یہاں تک کہ جب وہ سورج غروب ہونے کے مقام پر پہنچا تو اسے پایا کہ وہ دلدل والے چشمے میں غروب ہو رہا ہے اور اس کے پاس ایک قوم کو پایا۔ ہم نے کہا اے ذوالقرنین! یا تو یہ ہے کہ تو (انھیں) سزا دے اور یا یہ کہ تو ان کے بارے میں کوئی اچھا سلوک کرے۔ (سورۂ کہف: ۸۶)
ذوالقرنین ایک راہ پر چلا اور زمین کے نشانات کے سہارے زمین کی مغربی جانب کوچ کیا، یہاں تک کہ اب سورج کے غروب ہونے کی جگہ تک پہنچ گئے، یہ یاد رہے کہ اس سے مراد آسمان کا وہ حصہ نہیں جہاں سورج غروب ہوتا ہے کیونکہ وہاں تک تو کسی کا جانا ناممکن ہے، ہاں اس رخ جہاں تک زمین پر جانا ممکن ہے،ذوالقرنین پہنچ گئے۔
الغرض جب انتہائے مغرب کی سمت پہنچ گئے تو یہ معلوم ہوا کہ گویا بحر محیط میں سورج غروب ہو رہا ہے، جو بھی کسی سمندر کے کنارے کھڑا ہو کر سورج کو غروب ہوتے ہوئے دیکھے گا تو بظاہر یہی منظر اس کے سامنے ہو گا کہ گویا سورج پانی میں ڈوب رہا ہے۔
حَمِئَۃ یا تو مشتق ہے حَمَاۃ سے یعنی چکنی مٹی۔ایک قرأت میں فِیْ عَیْنٍ حَامِیَۃٍ ہے، یعنی گرم چشمے میں غروب ہونا پایا۔ یہ دونوں قرأتیں مشہور ہیں اور دونوں درست ہیںاوران کے معنی میں بھی کوئی تفاوت نہیں، کیونکہ سورج کی نزدیکی کی وجہ سے پانی گرم ہو گا اور وہاں کی مٹی کے سیاہ رنگ کی وجہ سے اس کا پانی کیچڑ جیسا ہی ہو گا۔
سیدنا معاویہ علیہ السلام نے کعب رحمتہ اللہ علیہ کے پاس آدمی بھیجا کہ بتلاؤ سورج کہاں غروب ہوتا ہے؟ تورات میں اس کے متعلق کچھ ہے؟ کعب رحمتہ اللہ علیہ نے جواب دیا کہ اسے عربیت والوں سے پوچھنا چاہئے، وہی اس کے پورے عالم ہیں۔ ہاں تورات میں تو میں یہ پاتا ہوں کہ وہ پانی اور مٹی میں یعنی کیچڑ میں چھپ جاتا ہے اور مغرب کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا۔
سورج کا عرش کے نیچے غروب ہونا اور سجدہ کرنا، اس قسم کے امور پر مشتمل احادیث ِ صحیحہ پر ایمان لانا ضروری ہے اور یہ ضروری نہیں ہے کہ ان کی کیفیت کو بھی سمجھا جائے، جبکہ سورج ہر وقت عرش کے نیچے ہی رہتا ہے اور کوئی گھڑی ایسی نہیں گزرتی، جس میں یہ اپنے ربّ کے سامنے مطیع نہ ہو رہا ہو، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللَّہَ یَسْجُدُ لَہُ مَنْ فِی السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِی الْاَرْضِ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالنُّجُوْمُ وَالْجِبَالُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَابُّ وَالْأَنْعَامُ وَکَثِیْرٌ مِّنَ النَّاسِ} … کیا تو دیکھتا نہیں کہ آسمانوں اور زمینوں میں جو کچھ ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے لیے سجدہ کرتا ہے، مثلا سورج، چاند، ستارے، پہاڑ، درخت، چوپائے، مویشی اور بہت زیادہ لوگ۔ (سورۂ حج: ۱۸)
ابو العالیہ نے کہا: آسمان میں موجود ہر ستارہ، سورج اور چاند غروب ہوتے وقت اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتا ہے، پھر اس کو آگے بڑھنے کی اجازت دی جاتی ہے، جبکہ یہ بات بھی معلوم ہے کہ سورج ہر وقت فلک میں رہتا ہے، پس یہ ہر وقت فلک میں تسبیح بیان کرتا ہے اور ہر وقت سجدہ کرتا ہے اور ہر رات کو اجازت طلب کرتا ہے، جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے، وہ اس طرح سجدہ کرتا ہے، جیسا اس کے لیے مناسب ہے اور اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی و انکساری کا اظہار کرتا ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح