Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. حِرْصُهٌ ﷺ عَلَى الشَّفَاعَةِ لِأُمَّتِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
قیامت کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنی امت کے حق میں شفاعت کرنے کا حریص ہونا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13091
عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ: اجْتَمَعَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَعْبٌ، فَجَعَلَ أَبُو هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ كَعْبًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَكَعْبٌ يُحَدِّثُ أَبَا هُرَيْرَةَ عَنِ الْكُتُبِ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ مُسْتَجَابَةٌ، وَإِنِّي اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور سیدناکعب رضی اللہ عنہ اکٹھے ہوئے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ، سیدنا کعب کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث بیان کرنے لگے اور وہ اِن کو سابقہ کتب کی باتیں سنانے لگے، سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر نبی کے لیے ایک دعا قبول شدہ ہوتی ہے اور میں نے اس دعا کو چھپا رکھا ہے، تاکہ قیامت کے دن اپنی امت کے لیے سفارش کر سکوں۔ [الفتح الربانی/بيان الشفاعة للعصاة يوم القيامة/حدیث: 13091]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 7474، ومسلم: 198، 336، 337، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7700»
وضاحت: فوائد: … یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کمال صبر، دور رسی اور حکمت ہے، اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کو یہ اختیار دیا کہ اس کو اپنی مرضی کے مطابق اللہ تعالیٰ سے ایک دعا قبول کروا لینے کا حق حاصل ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ حق بروز قیامت استعمال کریں گے، اللہ تعالیٰ ہمیں اس کا مصداق بنا دے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13092
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”قَدْ أُعْطِيَ كُلُّ نَبِيٍّ عَطِيَّةً، فَكُلٌّ قَدْ تَعَجَّلَهَا، وَإِنِّي أَخَّرْتُ عَطِيَّتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي“
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہر نبی کو ایک قبول شدہ دعا دی گئی ہے، ہر نبی نے اس کے معاملے میں جلدی کی (اور دنیا میں ہی اس کو وصول کر لیا ہے)، البتہ میں نے اپنی امت کے حق میں سفارش کرنے کے لیے اس کو مؤخر کر دیا ہے۔ [الفتح الربانی/بيان الشفاعة للعصاة يوم القيامة/حدیث: 13092]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابن ابي شيبة: 11/ 454، وابويعلي: 1014، والبزار: 3458، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11148 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11165»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13093
عَنْ أَبِي نَضْرَةَ قَالَ: خَطَبَ بِنَا ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى مِنْبَرِ الْبَصْرَةِ فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ إِلَّا لَهُ دَعْوَةٌ قَدْ تَنَجَّزَهَا فِي الدُّنْيَا، وَإِنِّي قَدِ اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي“
ابو نضرہ کہتے ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے بصرہ کے منبر پر ہم سے خطاب کیا اورکہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر نبی کو ایک ایک قبول شدہ دعا کرنے کا اختیار دیا گیا، اور ہر ایک نے دنیا ہی میں وہ دعا کرلی، البتہ میں نے اپنی دعا کو امت کے حق میں سفارش کر نے کے لیے چھپا رکھا ہے۔ [الفتح الربانی/بيان الشفاعة للعصاة يوم القيامة/حدیث: 13093]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، وھو حديث طويل، أخرجه الطيالسي: 2711، وابن ابي شيبة: 14/ 135، وابويعلي: 2328، وأخرجه بنحوه الترمذي: 3148، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2546 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2546»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13094
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: مَاذَا رَدَّ إِلَيْكَ رَبُّكَ فِي الشَّفَاعَةِ؟ فَقَالَ: ”وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ! لَقَدْ ظَنَنْتُ أَنَّكَ أَوَّلُ مَنْ يَسْأَلُنِي عَنْ ذَلِكَ مِنْ أُمَّتِي لِمَا رَأَيْتُ مِنْ حِرْصِكَ عَلَى الْعِلْمِ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ! مَا يَهُمُّنِي مِنْ انْقِصَافِهِمْ عَلَى أَبْوَابِ الْجَنَّةِ أَهَمُّ عِنْدِي مِنْ تَمَامِ شَفَاعَتِي، وَشَفَاعَتِي لِمَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُخْلِصًا، يُصَدِّقُ قَلْبُهُ لِسَانَهُ، وَلِسَانُهُ قَلْبَهُ“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا کہ شفاعت کے بارے میں آپ کی درخواست پر آپ کے رب نے آپ کو کیا جواب دیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی جان ہے! میرا خیال تھا کہ میری امت میں سے تم ہی اس کے بارے میں مجھ سے سب سے پہلے سوال کرو گے، کیونکہ میں نے تم کو علم پر حریص پایا ہے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھوں میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جان ہے! میرے نزدیک جنت کے دروازوں پر لوگوں کے ہجوم کی بہ نسبت اپنی شفاعت کی تکمیل زیادہ اہم ہے اور میری یہ سفارش ہر اس آدمی کے حق میں ہو گی، جو اخلاص سے اللہ تعالیٰ کے معبودِ برحق ہونے کی شہادت اس طرح دیتا ہے کہ اس کا دل، اس کی زبان کی تصدیق کرتا ہے اور اس کی زبان اس کے دل کی۔ [الفتح الربانی/بيان الشفاعة للعصاة يوم القيامة/حدیث: 13094]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الحاكم: 1/ 69، وابن خزيمة: 2/ 698، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8070 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8056»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13095
عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”خُيِّرْتُ بَيْنَ الشَّفَاعَةِ أَوْ يَدْخُلُ نِصْفُ أُمَّتِي الْجَنَّةَ، فَاخْتَرْتُ الشَّفَاعَةَ لِأَنَّهَا أَعَمُّ وَأَكْفَى، أَتَرَوْنَهَا لِلْمُتَّقِينَ؟ لَا، وَلَكِنَّهَا لِلْمُتَلَوِّثِينَ الْخَطَّاءِ“، قَالَ زِيَادٌ: أَمَا إِنَّهَا لَحْنٌ، وَلَكِنْ هَكَذَا حَدَّثَنَا الَّذِي حَدَّثَنَا
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے اِن دو باتوں میں سے ایک کا اختیار دیا گیا، یا تو میں سفارش کرلوں یا پھر میری نصف امت جنت میں چلی جائے، میں نے سفارش کو اختیار کیا، کیونکہ اس میں زیادہ وسعت اور عموم ہے اور یہ زیادہ لوگوں کو کفایت کرنے والی ہے۔ کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ میری یہ سفارش متقی لوگوں کے لیے ہے؟ نہیں نہیں، یہ تو گناہوں میں ملوّث ہو جانے والوں کے لیے ہے، جو خطا کار ہوتے ہیں۔ زیاد نے کہا: اس متن میں الْخَطَّاؤُوْنَ پڑھنا خطا ہے، بہرحال ہمیں بیان کرنے والوں نے ایسے ہی بیان کیا۔ [الفتح الربانی/بيان الشفاعة للعصاة يوم القيامة/حدیث: 13095]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لابھام راويه عن ابن عمر، ولجھالة علي بن النعمان بن قراد، ولاضطرابه، أخرجه ابن ماجه: 4311، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5452 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5452»
وضاحت: فوائد: … متن کے الفاظ الْخَطَّاؤُوْنَ‘مبتدا محذوف ھُمْ کی خبر ہونے کی وجہ سے مرفوع ہو سکتے ہیں، اس لیے زیاد راوی کی بات درست نہیں ہے، یہ بات علیحدہ ہے کہ اگر الْخَطَّاؤُوْنَ کو اَلْمُتَلَوِّثِیْنَ کی صفت یا بدل بنایا جائے تو نحوی قواعد کی روشنی میں اسے الْخَطَّائِیْنَ پڑھا جائے گا۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13096
عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: ”رَأَيْتُ مَا تَلْقَى أُمَّتِي بَعْدِي وَسَفْكَ بَعْضِهِمْ دِمَاءَ بَعْضٍ، وَسَبَقَ ذَلِكَ مِنَ اللَّهِ تَعَالَى كَمَا سَبَقَ لِأُمَمٍ قَبْلَهُمْ، فَسَأَلْتُهُ أَنْ يُوَلِّيَنِي شَفَاعَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِيهِمْ فَفَعَلَ“
زوجۂ رسول سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے دیکھا کہ میری امت میرے بعد کیسے کیسے گناہوں میں پڑ جائے گی، یہ ایک دوسرے کا خون بھی بہا دیں گے، اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ فیصلہ اسی طرح ہو چکا ہے، جیسے سابقہ امتوں کے حق میں ہوا تھا، اس لیے میں نے اللہ تعالیٰ سے درخواست کی کہ وہ مجھے قیامت کے دن ان کے حق میں شفاعت کی اجازت دے، سو اس نے میری دعا قبول فرمالی۔ [الفتح الربانی/بيان الشفاعة للعصاة يوم القيامة/حدیث: 13096]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الطبراني في الكبير: 23/ 409، والحاكم: 1/ 68، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27410 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27955»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13097
عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: دَخَلَ عَلَى مُعَاوِيَةَ فَإِذَا رَجُلٌ يَتَكَلَّمُ، فَقَالَ بُرَيْدَةُ: يَا مُعَاوِيَةُ! فَأْذَنْ لِي فِي الْكَلَامِ، فَقَالَ: نَعَمْ، وَهُوَ يَرَى أَنَّهُ سَيَتَكَلَّمُ بِمِثْلِ مَا قَالَ الْآخَرُ، فَقَالَ بُرَيْدَةُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَشْفَعَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَدَدَ مَا عَلَى الْأَرْضِ مِنْ شَجَرَةٍ وَمَدَرَةٍ“، قَالَ: أَفَتَرْجُوهَا أَنْتَ يَا مُعَاوِيَةُ؟ وَلَا يَرْجُوهَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ؟
سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور وہاں ایک آدمی (سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں ناروا گفتگو) کر رہا تھا، سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے کہا: معاویہ! مجھے بات کرنے کی اجازت دو۔ سیدنامعاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: جی کرو بات، جبکہ ان کا خیال یہ تھا کہ یہ بھی اسی آدمی کی طرح بات کریں گے، لیکن سیدہ بریدہ رضی اللہ عنہ نے کہا:میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: مجھے امید ہے کہ میں قیامت کے دن روئے زمین پر موجود درختوں اور اینٹوں کے برابر لوگوں کے حق میں شفاعت کروں گا۔ معاویہ رضی اللہ عنہ! اب آپ مجھے یہ بتائیں کہ تم اس سفارش کے امیدوار ہوسکتے ہیں اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نہیں ہوسکتے؟ [الفتح الربانی/بيان الشفاعة للعصاة يوم القيامة/حدیث: 13097]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف ابي اسرائيل، أخرجه الطبراني في الاوسط: 4112، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22943 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23331»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میدانِ حشر میں سب سے پہلے سفارش کریں گے اور سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سفارش ہی قبول ہو گی، اگلے ابواب کا موضوع سفارش ہے، ہم ذیل میں اس مسئلہ کی حقیقت واضح کر دیتے ہیں:
کسی کہنے والے نے کیا خوب کہا:
مَا لِلْعِبَادِ عَلَیْہِ حَقٌّ وَّاجِبٗ کَلَّا، وَلَا سَعْیَ لَدَیْہِ ضَـائِعٗ
اِنْ عُذِّبُوْا فَبِعَدْلِہٖ، اَوْ نُعِّمُوْا فَبِفَضْلِہٖ وَھُوَ الْکَرِیْمُ السَّامِعٗ
اللہ تعالیٰ پر بندوں کا کوئی حق واجب نہیں ہے۔ ہر گز نہیں، لیکن اس کے ہاں محنت اور کوشش کو ضائع بھی نہیں کیا جاتا۔ اگر لوگوں کو عذاب دیا جائے گا تو وہ اس کے انصاف کا تقاضا ہو گا، یا اگر لوگوں پر انعام کیا جائے گا تو وہ اس کا فضل ہو گا، پس وہ کریم ہے اور سب کچھ سننے والا ہے۔
ہمارے ہاں سفارش کا مفہوم واضح ہے، سفارش کرنے والے کو جن تعظیمی نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے، اتنی قدر و منزلت تو اس بیچارے کو بھی نصیب نہیں ہوتی، جو سفارش قبول کر کے ہماری ضروریات پوری کرتا ہے، دنیا و آخرت میں یہی قدر مشترک ہے کہ سفارش سے سفارش کرنے والے کے مقام و مرتبہ میں اضافہ ہوتا ہے۔
لیکن یہ واضح اور بنیاد ی فرق ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ دنیا میں زیادہ تر سفارش کرنے والے اپنا اثر و رسوخ استعمال کر کے اپنی بات منواتے ہیں اور جن کے پاس شفاعت کی جاتی ہے، وہ ماننے پر مجبور ہو جاتے ہیں، جبکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے، اللہ تعالیٰ خود سفارش کرنے والے کو منتخب کریں گے اور پھر اس کے لیے حد مقرر کریں گے، قرآن مجید میں کئی مقامات پر یہ موضوع دوہرایا گیا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
{مَنْ ذَا الَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَہٗ اِلَّا بِاِذْنِہٖ}(سورۂ بقرہ: ۲۵۵) … کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس کے سامنے سفارش کر سکے۔
دوسرے مقام پر ارشاد ہوا:
{لَا یَتَکَلَّمُوْنَ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَہُ الرَّحْمٰنُ وَقَالَ صَوَابًاo} (سورۂ نبا: ۷۸: ۳۸) … وہ کوئی کلام نہیں کریں گے، مگر جس کو رحمن اجازت دے گا اور وہ ٹھیک بات زبان سے نکالے گا۔
یہی وجہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفارش کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے عرش کے نیچے اس کے حضور طویل سجدہ کریں گے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اجازت ملے گی۔ اور ایک روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے حد مقرر کرے گا۔ (ملاحظہ ہو: مسند احمد، صحیح بخاری، صحیح مسلم)
صحیح مسلم کی روایت کے مطابق ملائکہ، انبیاء اور دوسرے مومن سفارش کریں گے، لیکن شفاعت ِ عظمی اور دوسری اہم مقامات کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو منتخب کرناآپ کے عظیم و کریم ہونے کی علامت ہے۔
یہ شافع محشر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی ہیں کہ جو میدانِ حشر میں سب سے پہلے اور ایسے نازک موقع پر سفارش کریں گے کہ تمام دوسرے انبیا و رسل اس موقع سے گھبرائے ہوئے ہوں گے۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((… وَاَوَّلُ مَنْ یَنْشَقُّ عَنْہُ الْقَبْرُ، وَاَوَّلُ شَافِعٍ وَاَوَّلُ مُشَفَّعٍ۔)) … سب سے پہلے میری قبر پھٹے گی اور سب سے پہلے سفارش کرنے والا بھی میں ہوں گا اور سب سے پہلے شفاعت قبول بھی میری ہو گی۔ (صحیح مسلم: ۲۲۷۸)
اس موقع پر آٹھویں صدی کے امام ابن ابی العز الحنفی رحمتہ اللہ علیہ کی بحث کا خلاصہ پیش کرنا ضروری ہے، وہ (شرح العقیدۃ الطحاویۃ: صـ ۱۹۷ الی ۲۰۴) میں کہتے ہیں: شفاعت کی آٹھ اقسام ہیں، پہلی سات اقسام نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ خاص ہیں اور آخری قسم میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بھرپور حصہ پایا جاتا ہے:
الشفاعۃ الاولي: یہ شفاعت ِ عظمی ہے، جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خاصہ ہے، بلکہ اس موقع پر بقیہ انبیاء و رسل گھبرائے ہوئے ہوں گے اور نفسی نفسی کی صدائیں بلند کر رہے ہوں گے۔ اس سفارش کے بعد اللہ کی مخلوق کا حساب و کتاب شروع ہو گا۔
الشفاعۃ الثانیۃ والثالثۃ: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ان لوگوں کے لیے جنت کی سفارش کرنا جن کی حسنات و سیئات برابر برابر ہوں گی اور بعض ایسے لوگوں کو جہنم میں داخل نہ کرنے کی سفارش کرنا، جن کے بارے میں آگ کا حکم دیا چکا ہو گا۔
الشفاعۃ الرابعۃ: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بعض جنتی لوگوں کے لیے بلندی ٔ درجات کی سفارش کرنا۔
الشفاعۃ الخامسۃ: بعض لوگوں کے حق میں یہ سفارش کرنا کہ وہ حساب و کتاب کے بغیر جنت میں داخل کیے جائیں، ممکن ہے کہ اس صورت کا سیدنا عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ والی حدیث سے استدلال کیا جائے۔
الشفاعۃ السادسۃ: بعض مستقل جہنمیوں کے حق میں یہ سفارش کرنا کہ ان کے عذاب میں تخفیف کر دی جائے، جیسا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا ابو طالب کا مسئلہ ہو گا۔
الشفاعۃ السابعۃ: تمام مومنوں کے حق میں یہ سفارش کرنا کہ جنت میں ان کا داخلہ شروع کیا جائے، جیسا کہ صحیح مسلم کی حدیث ہے، سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِنَّ اَوَّلَ شَفِیْعٍ فِیْ الْجَنَّۃِ۔)) یعنی: جنت میں داخل ہونے کے لیے پہلا سفارشی میں ہوں گا۔
الشفاعۃ الثامنۃ: جہنم میں داخل ہو جانے والے کبیرہ گناہوں کے مرتکبین کے حق میں سفارش کرنا، اس موضوع پر متواتر احادیث موجود ہیں۔ یہ واحد قسم میں جس میں دوسری انبیائ، فرشتے اور مومن بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرح سفارش کریں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چار دفعہ یہ سفارش کریں گے۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. الرَّدُّ عَلَى مُنْكِرَى الشَّفَاعَةِ
شفاعت کے منکرین کا رد
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13098
عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ قَالَ: كُنْتُ مِنْ أَشَدِّ النَّاسِ تَكْذِيبًا بِالشَّفَاعَةِ حَتَّى لَقِيتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، فَقَرَأْتُ عَلَيْهِ كُلَّ آيَةٍ ذَكَرَهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهَا خُلُودَ أَهْلِ النَّارِ، فَقَالَ: يَا طَلْقُ! أَتَرَى أَنَّكَ أَقْرَأُ لِكِتَابِ اللَّهِ مِنِّي وَأَعْلَمُ بِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ فَاتَّضَعْتُ لَهُ فَقُلْتُ: لَا، وَاللَّهِ! بَلْ أَنْتَ أَقْرَأُ لِكِتَابِ اللَّهِ مِنِّي وَأَعْلَمُ بِسُنَّتِهِ مِنِّي، قَالَ: فَإِنَّ الَّذِي قَرَأْتَ أَهْلُهَا هُمُ الْمُشْرِكُونَ، وَلَكِنْ قَوْمٌ أَصَابُوا ذُنُوبًا فَعُذِّبُوا بِهَا ثُمَّ أُخْرِجُوا، صُمَّتَا وَأَهْوَى بِيَدَيْهِ إِلَى أُذُنَيْهِ، إِنْ لَمْ أَكُنْ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”يُخْرَجُونَ مِنَ النَّارِ“، وَنَحْنُ نَقْرَأُ مَا نَقْرَأُ
طلق بن حبیب کہتے ہیں: میں شفاعت کی سب سے زیادہ تکذیب کرنے والا تھا، ایک دن میری ملاقات سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے ہوئی، میں نے ان کے سامنے وہ تمام آیات پڑھ ڈالیں، جن میں اللہ تعالیٰ نے یہ بات ذکر کی ہے کہ جہنمی لوگ ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے طلق! کیا آپ یہی سمجھتے ہیں کہ آپ مجھ سے بڑھ کر اللہ کی کتاب اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کا علم رکھتے ہیں؟ میں نے عاجزی کا اظہار کرتے ہوئے کہا: نہیں نہیں، اللہ کی قسم! آپ تو مجھ سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی کتاب اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کو جانتے اور سمجھتے ہیں۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم نے جس قدر آیات پڑھی ہیں، ان میں اس بات کا ذکر ہے کہ مشرک لوگ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہیں گے، (رہا ان مسلمانوں کا مسئلہ) جنھوں نے بعض گناہوں کا ارتکاب کیا ہے تو انھیں بالآخر آگ سے نکال لیا جائے گا، اس کے ساتھ ہی انھوں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے کانوں کی طرف اشارہ کیا اور کہا: اگر میں نے یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نہ سنی ہو تو میرے یہ کان بہر ے ہوجائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: گنہگاروں کو جہنم سے نکال لیا جائے گا۔ اور ہم جو کچھ پڑھتے ہیں، وہ پڑھ تو لیتے ہیں، (لیکن اس کا مفہوم نہیں سمجھتے)۔ [الفتح الربانی/بيان الشفاعة للعصاة يوم القيامة/حدیث: 13098]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، سعيد بن المھلب في عداد المجھولين، أخرجه البخاري في الادب المفرد: 818، والطحاوي في شرح مشكل الآثار: 5668، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14534 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14588»
وضاحت: فوائد: … قیامت کے دن ہونے والی سفارش کے بارے میں بہت زیادہ دلائل موجود ہیں، انکار کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. اِخْتِصَاصُهُ ﷺ بِالشَّفَاعَةِ الْعُظمى لأهْلِ الْمَوْقِفِ وَإِنَّهُ أَوَّلُ مَنْ يَشْفَعُ
حشر والوں کے لیے شفاعت عظمیٰ کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ خاص ہونا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سب سے پہلا سفارشی ہونا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13099
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”أَنَا أَوَّلُ شَفِيعٍ فِي الْجَنَّةِ“
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دخولِ جنت کے لیے سب سے پہلا سفارشی میں ہوں گا۔ [الفتح الربانی/بيان الشفاعة للعصاة يوم القيامة/حدیث: 13099]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 196، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12419 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12446»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. مَارُوی فِي ذَلِكَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُمْا
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہا سے مروی حدیث
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13100
عَنْ أَبِي نَضْرَةَ قَالَ: خَطَبَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى مِنْبَرِ الْبَصْرَةِ فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ إِلَّا لَهُ دَعْوَةٌ قَدْ تَنَجَّزَهَا فِي الدُّنْيَا، وَإِنِّي قَدِ اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي، وَأَنَا سَيِّدُ وُلْدِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا فَخْرَ، وَبِيَدِي لِوَاءُ الْحَمْدِ وَلَا فَخْرَ، آدَمُ فَمَنْ دُونَهُ تَحْتَ لِوَائِي وَلَا فَخْرَ، وَيَطُولُ يَوْمُ الْقِيَامَةِ عَلَى النَّاسِ فَيَقُولُ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: انْطَلِقُوا بِنَا إِلَى آدَمَ أَبِي الْبَشَرِ فَلْيَشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّنَا عَزَّ وَجَلَّ فَلْيَقْضِ بَيْنَنَا، فَيَأْتُونَ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَيَقُولُونَ: يَا آدَمُ! أَنْتَ الَّذِي خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ وَأَسْكَنَكَ جَنَّتَهُ وَأَسْجَدَ لَكَ مَلَائِكَتَهُ، اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّنَا فَلْيَقْضِ بَيْنَنَا، فَيَقُولُ: إِنِّي لَسْتُ هُنَاكُمْ، إِنِّي قَدْ أُخْرِجْتُ مِنَ الْجَنَّةِ بِخَطِيئَتِي، وَإِنَّهُ لَا يُهِمُّنِي الْيَوْمَ إِلَّا نَفْسِي، وَلَكِنْ ائْتُوا نُوحًا رَأْسَ النَّبِيِّينَ، فَيَأْتُونَ نُوحًا فَيَقُولُونَ: يَا نُوحُ! اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّنَا فَلْيَقْضِ بَيْنَنَا، فَيَقُولُ: إِنِّي لَسْتُ هُنَاكُمْ، إِنِّي دَعَوْتُ بِدَعْوَةٍ أَغْرَقَتْ أَهْلَ الْأَرْضِ، وَإِنَّهُ لَا يُهِمُّنِي الْيَوْمَ إِلَّا نَفْسِي، وَلَكِنْ ائْتُوا إِبْرَاهِيمَ خَلِيلَ اللَّهِ، فَيَأْتُونَ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَيَقُولُونَ: يَا إِبْرَاهِيمُ! اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّنَا فَلْيَقْضِ بَيْنَنَا، فَيَقُولُ: إِنِّي لَسْتُ هُنَاكُمْ، إِنِّي كَذَبْتُ فِي الْإِسْلَامِ ثَلَاثَ كَذِبَاتٍ، وَاللَّهِ إِنْ حَاوَلْتُ بِهِنَّ إِلَّا عَنْ دِينِ اللَّهِ، قَوْلُهُ {إِنِّي سَقِيمٌ}، وَقَوْلُهُ {بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَذَا فَاسْأَلُوهُمْ إِنْ كَانُوا يَنْطِقُونَ}، وَقَوْلُهُ لِامْرَأَتِهِ حِينَ أَتَى عَلَى الْمَلِكِ أُخْتِي، وَإِنَّهُ لَا يُهِمُّنِي الْيَوْمَ إِلَّا نَفْسِي، وَلَكِنْ ائْتُوا مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ الَّذِي اصْطَفَاهُ اللَّهُ بِرِسَالَتِهِ وَبِكَلَامِهِ، فَيَأْتُونَهُ فَيَقُولُونَ: يَا مُوسَى! أَنْتَ الَّذِي اصْطَفَاكَ اللَّهُ بِرِسَالَتِهِ وَكَلَّمَكَ، فَاشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ، فَيَقُولُ: لَسْتُ هُنَاكُمْ، إِنِّي قَتَلْتُ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ، وَإِنَّهُ لَا يُهِمُّنِي إِلَّا نَفْسِي، وَلَكِنْ ائْتُوا عِيسَى رُوحَ اللَّهِ وَكَلِمَتَهُ، فَيَأْتُونَ عِيسَى فَيَقُولُونَ: يَا عِيسَى! اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ، فَلْيَقْضِ بَيْنَنَا، فَيَقُولُ: إِنِّي لَسْتُ هُنَاكُمْ، إِنِّي اتُّخِذْتُ إِلَهًا مِنْ دُونِ اللَّهِ، وَإِنَّهُ لَا يُهِمُّنِي الْيَوْمَ إِلَّا نَفْسِي، وَلَكِنْ أَرَأَيْتُمْ لَوْ كَانَ مَتَاعٌ فِي وَعَاءٍ مَخْتُومٍ عَلَيْهِ، أَكَانَ يَقْدِرُ عَلَى مَا فِي جَوْفِهِ حَتَّى يَعُضَّ الْخَاتَمَ؟ قَالَ: فَيَقُولُونَ: لَا، قَالَ: فَيَقُولُ: إِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَاتَمُ النَّبِيِّينَ، وَقَدْ حَضَرَ الْيَوْمَ، وَقَدْ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ“، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”فَيَأْتُونَنِي فَيَقُولُونَ: يَا مُحَمَّدُ! اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ فَلْيَقْضِ بَيْنَنَا، فَأَقُولُ: أَنَا لَهَا حَتَّى يَأْذَنَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِمَنْ يَشَاءُ وَيَرْضَى، فَإِذَا أَرَادَ اللَّهُ تَعَالَى أَنْ يَصْدَعَ بَيْنَ خَلْقِهِ نَادَى مُنَادٍ: أَيْنَ أَحْمَدُ وَأُمَّتُهُ؟ فَنَحْنُ الْآخِرُونَ الْأَوَّلُونَ، نَحْنُ آخِرُ الْأُمَمِ أَوَّلُ مَنْ يُحَاسَبُ، فَتُفَرَّجُ لَنَا الْأُمَمُ عَنْ طَرِيقِنَا فَنَمْضِي غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنْ أَثَرِ الطُّهُورِ، فَتَقُولُ الْأُمَمُ: كَادَتْ هَذِهِ الْأُمَّةُ أَنْ تَكُونَ أَنْبِيَاءَ كُلَّهَا، فَنَأْتِي بَابَ الْجَنَّةِ فَآخُذُ بِحَلْقَةِ الْبَابِ فَأَقْرَعُ الْبَابَ، فَيُقَالُ: مَنْ أَنْتَ؟ فَأَقُولُ: أَنَا مُحَمَّدٌ، فَيُفْتَحُ لِي، فَآتِي رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ عَلَى كُرْسِيِّهِ أَوْ سَرِيرِهِ، شَكَّ حَمَّادٌ (أَحَدُ الرُّوَاةِ)، فَأَخِرُّ لَهُ سَاجِدًا، فَأَحْمَدُهُ بِمَحَامِدَ لَمْ يَحْمَدْهُ بِهَا أَحَدٌ كَانَ قَبْلِي، وَلَيْسَ يَحْمَدُهُ بِهَا أَحَدٌ بَعْدِي، فَيَقُولُ: يَا مُحَمَّدُ! ارْفَعْ رَأْسَكَ وَسَلْ تُعْطَ، وَقُلْ تُسْمَعْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، فَأَرْفَعُ رَأْسِي فَأَقُولُ: يَا رَبِّ! أُمَّتِي، أُمَّتِي، فَيَقُولُ: أَخْرِجْ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ كَذَا وَكَذَا (لَمْ يَحْفَظْ حَمَّادٌ)، ثُمَّ أُعِيدُ فَأَسْجُدُ فَأَقُولُ: مَا قُلْتُ، فَيَقُولُ: ارْفَعْ رَأْسَكَ وَقُلْ تُسْمَعْ، وَسَلْ تُعْطَ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، فَأَقُولُ: يَا رَبِّ! أُمَّتِي، أُمَّتِي، فَيَقُولُ: أَخْرِجْ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ كَذَا وَكَذَا دُونَ الْأَوَّلِ، ثُمَّ أُعِيدُ فَأَسْجُدُ فَأَقُولُ مِثْلَ ذَلِكَ، فَيُقَالُ لِي: ارْفَعْ رَأْسَكَ وَقُلْ تُسْمَعْ، وَسَلْ تُعْطَ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، فَأَقُولُ: يَا رَبِّ! أُمَّتِي، أُمَّتِي، فَيَقُولُ: أَخْرِجْ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ كَذَا وَكَذَا دُونَ ذَلِكَ“
ابو نضرہ کہتے ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے بصرہ کے منبر پر ہم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر نبی کو ایک ایک قبول شدہ دعا کرنے کا اختیار دیا گیا، اور ہر ایک نے دنیا ہی میں وہ دعا کرلی، البتہ میں نے اپنی دعا کو امت کے حق میں سفارش کر نے کے لیے چھپا رکھا ہے،میں قیامت کے دن ساری اولاد ِ آدم کا سردار ہوں گا، لیکن اس پر فخر نہیں ہے، سب سے پہلے میری قبر کی زمین پھٹے گی اور میں اس پر فخر نہیں کرتا،حمد کاجھنڈا میرے ہاتھ میں ہوگا، لیکن مجھے اس پر بھی فخر نہیں ہے، آدم علیہ السلام اور ان کے بعد کی تمام انسانیت میرے اس جھنڈے کے نیچے ہوگی اور مجھے اس پر بھی فخر نہیں ہے۔ قیامت کا دن لوگوں کے لیے انتہائی طویل ہو چکا ہوگا، بالآخر وہ ایک دوسرے سے کہیں گے کہ ابو البشر آدم علیہ السلام کی خدمت میں چلیں، وہ ہمارے رب کے ہاں ہمارے حق میں سفارش کریں اور اس طرح اللہ تعالیٰ ہمارے درمیان فیصلے کرے، پس لوگ جمع ہو کر حضرت آدم علیہ السلام کی خدمت میں جا کر کہیں گے:اے آدم! اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا، آپ کو اپنی جنت میں ٹھہرایا اور فرشتوں کو آپ کے سامنے سجدہ ریز کرایا، آپ رب کے ہاں جا کر سفارش تو کریں کہ وہ ہمارے درمیان فیصلہ کرنا شروع کرے۔ وہ کہیں گے: میں یہ کام نہیں کر سکتا، میری خطا کی وجہ سے مجھے جنت میں نکالا گیا تھا، مجھے تو میری اپنی جان نے بے چین کر رکھا ہے، تم نوح علیہ السلام کی خدمت میں چلے جاؤ، وہ نبیوں کی اصل ہیں،چنانچہ وہ سب نوح علیہ السلام کی خدمت میں جائیں گے اور کہیں گے: اے نوح! آپ ہمارے رب کے ہاں ہمارے حق میں سفارش کریں تاکہ وہ ہمارے درمیان فیصلے کرے، لیکن وہ کہیں گے: میں اس کی جرأت نہیں کر سکتا، میں نے تو اپنی دعا کر لی ہے، جس سے تمام اہل زمین غرق ہو گئے تھے، آج تو مجھے اپنی جان کی فکر لگی ہوئی ہے، البتہ تم اللہ کے خلیل حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ، وہ سب حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس جا کر کہیں گے: اے ابراہیم! آپ ہمارے لیے ہمارے رب سے سفارش کریں تاکہ وہ ہمارے درمیان فیصلے کرے، وہ کہیں گے: میں اس بات کی جرأت نہیں کرسکتا، میں نے اسلام میں تین جھوٹ بولے تھے۔ حالانکہ اللہ کی قسم ہے کہ انہوں نے ان باتوں میں بھی اللہ تعالیٰ کے دین کا دفاع ہی کیا تھا، ایک تو انہوں نے کہا تھا {اِنِّیْ سَقِیْمٌ} (بیشک میں بیمار ہوں۔) (سورۂ صافات: ۸۹)،دوسرا انہوں نے کہا تھا: {بَلْ فَعَلَہٗ کَبِیْرُھُمْ ھٰذَا فَسْئَلُوْھُمْ اِنْ کَانُوْا یَنْطِقُوْنَ} (بلکہ یہ کام تو ان کے بڑے نے کیا ہے، اگر یہ بول سکتے ہیں تو تم خود ان سے پوچھ لو۔) (سورۂ ا نبیاء: ۶۳) اور تیسرا یہ کہ جب وہ اپنی اہلیہ کے ساتھ بادشاہ کے پا س پہنچے تو کہا کہ یہ تو میری بہن ہے۔ بہرحال ابراہیم علیہ السلام کہیں گے: آج تو مجھے اپنی پریشانی لگی ہوئی ہے، البتہ تم موسیٰ علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ، ان کو اللہ تعالیٰ نے اپنی رسالت کے لیے منتخب کیا تھا اور ان کے ساتھ کلام بھی کیا تھا، وہ لوگ موسیٰ علیہ السلام کے پاس پہنچ جائیں گے اور کہیں گے: اے موسیٰ! آپ کو اللہ تعالیٰ نے اپنی رسالت سے نوازا اور آپ کے ساتھ کلام بھی کیا، آپ ہمارے حق میں اللہ تعالیٰ سے یہ سفارش تو کر دیں کہ وہ ہمارا حساب شروع کر دے، وہ کہیں گے: میں اس قابل نہیں ہوں، میں نے تو ایک آدمی کو بغیر کسی جرم کے قتل کر دیا تھا، مجھے تو اپنی جان کی فکر ہے، تم لوگ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ، وہ اللہ تعالیٰ کی روح اور اس کا کلمہ ہیں، چنانچہ وہ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جا کران سے کہیں گے: اے عیسیٰ! آپ اپنے رب سے ہمارے حق میں سفارش کر یں تاکہ وہ ہمارے درمیان فیصلہ کرے۔ وہ کہیں گے: میں تو یہ کام نہیں کر سکتا، مجھے تو لوگوں نے اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر معبود بنا لیا تھا، اس لیے مجھے تو اپنی پریشانی نے بے چین کر رکھا ہے، لیکن دیکھو اگر کوئی سامان کسی برتن (یاتھیلے) میں بند کر کے اس پر مہر لگا دی گئی ہو، تو کیا مہر کو توڑے بغیر برتن کے اندر کی چیز کو حاصل کیا جا سکتا ہے؟ لوگ کہیں گے کہ نہیں۔ تو عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاتم النّبیین ہیں، وہ آج موجود ہیں، ان کا مقام یہ ہے کہ ان کے اگلے پچھلے تمام گناہ معاف کر دئیے گئے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:اس کے بعد لوگ میرے پاس آئیں گے اور کہیں گے: اے محمد! آپ اپنے رب سے ہمارے لیے سفارش کریں تاکہ وہ ہمارے درمیان فیصلے کرے۔ تو میں کہوں گا: جی ہاں، جی ہاں، میں ہی اس شفاعت کے قابل ہوں، یعنی آج میں ہی سفارش کرسکتا ہوں، اس کے بعد اللہ تعالیٰ جسے جسے چاہے گا اور پسند کرے گا، اسے شفاعت کی اجازت دے گا، جب اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کو الگ الگ کرنے کا ارادہ کرے گا تو اعلان کرنے والا اعلان کرے گا: احمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کی امت کہاں ہیں؟ ہم اگرچہ زمانہ کے اعتبار سے آخر میں آئے ہیں،لیکن قیامت کے دن سب سے آگے ہوں گے، ہم اگرچہ آخری امت ہیں لیکن سب سے پہلے ہمارا حساب ہوگا۔ ہمارے راستے سے دوسری امتوں کو ہٹادیا جائے گا اور وضوء کے اثر سے میری امت کے چہرے، ہاتھ اورپاؤں خوب چمک رہے ہوں گے، انہیں دیکھ کر دوسری امتیں رشک کرتے ہوئے کہیں گی: قریب تھا کہ اس امت کے تو سارے افراد انبیاء ہوتے، یہ امت جنت کے دروازے پر پہنچے گی۔ میں جنت کے دروازے کے کڑے کو پکڑ کر دستک دوں گا۔ پوچھا جائے گا: کون ہو؟ میں کہوں گا: محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہوں۔پھر میرے لیے دروازہ کھول دیا جائے گا اور اللہ تعالیٰ کرسی یا تخت پر تشریف فرما ہوں گے،(کرسی یا تخت کا شک راوی ٔ حدیث حماد کو ہوا) میں اللہ تعالیٰ کے سامنے جاکر سجدہ ریز ہو جاؤں گا اور میں اللہ تعالیٰ کی ایسی ایسی حمد کروں گا، جو نہ تو مجھ سے پہلے کسی نے بیان کی اور نہ بعد میں کوئی کر سکے گا، اللہ تعالیٰ کی طرف سے کہا جائے گا: اے محمد! سجدہ سے سر اٹھاؤ، مانگو تمہیں دیا جائے گا، کہو تمہاری بات سنی جائے گی، سفارش کرو تمہاری سفارش قبول کی جائے گی۔ چنانچہ میں اپنا سر اٹھا کر کہوں گا: اے میرے رب! میری امت! میری امت! اللہ تعالیٰ فرمائے گا:جن لوگوں کے دلوں میں فلاں چیز کے برابر ایمان ہواسے جہنم سے نکال لاؤ، میں اس کے بعد دوبارہ سجدہ میں گرجاؤں گا اور اللہ تعالیٰ کو جیسے منظور ہوگا، میں سجدہ میں کہوں گا، بالآخر اللہ تعالیٰ فرمائے گا: سر اٹھاؤ اور کہو تمہاری بات سنی جائے گی، مانگو تمہیں عطا کیا جائے گا، سفارش کرو تمہاری سفارش قبول کی جائے گی۔ میں کہوں گا: اے رب! میری امت،میری امت۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا:جس کسی کے دل میں فلاں چیز کے برابر ایمان ہو، ان کو جہنم سے نکال لاؤ، اس کے بعد پھر میں سجدہ کروں گا اور پہلے کی طرح اللہ تعالیٰ کی تعریفیں کروں گا، بالآخر مجھے کہا جائے گا:سجدہ سے سر اٹھاؤ، کہو تمہاری بات سنی جائے گی، مانگو تمہیں عطا کیا جائے گا، سفارش کرو تمہاری سفارش قبول کی جائے گی۔ میں کہوں گا: اے میرے رب! میری امت، میری امت۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھ سے کہا جائے گا کہ جس کسی کے دل میں فلاں چیز کے برابر بھی ایما ن ہو، اس کو جہنم سے نکال لاؤ۔ [الفتح الربانی/بيان الشفاعة للعصاة يوم القيامة/حدیث: 13100]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، دون قول عيسي عليه السلام ((اني اتُّخذت الھا من دون الله))، فانه مخالف لما في الصحيح من ان عيسي لم يذكر ذنبا، ثم ان ھذا لا يعد ذنبا له، واسناد ھذا الحديث ضعيف لضعف علي بن زيد بن جدعان، أخرجه الطيالسي: 2711، وابن ابي شيبة: 14/ 135، وروي نحو ھذا الحديث الترمذي: 3148، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2546 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2546»
وضاحت: فوائد: … معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہر نبی کو دنیا میں ایک دعا کرنے کا اختیار اور پھر اس کی قبولیت کا وعدہ کیا گیا، ہر نبی نے دنیا میں وہ دعا کر لی، جو اللہ تعالیٰ کے ہاں قبول ہوئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اس اختیار کو آخرت میں امت کے حق میں سفارش کے لیے مؤخرکیے رکھا
قیامت کے دن لوگ بہت زیادہ پریشان حال ہوں گے، وہ باری باری تمام انبیاء کے پاس جا کر سفارش کی درخواست کریں گے، تمام انبیاء ورسل میں سے ہر ایک کہتا جائے گاکہ آج اللہ تعالیٰ سخت غصے میں ہے، میں سفارش نہیں کر سکتا، تم فلاں کے پاس جا کر اس سے سفارش کراؤ، بالآخر وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئیں گے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالیٰ سے سفارش کریں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سفارش قبول ہوگی۔ ان شاء اللہ تعالی۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں