Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شرکۃ الحروف سے تلاش کل احادیث (4154)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم دار السلفیہ سے تلاش کل احادیث (2978)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
48. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْمُنَاكَحَةِ
شادی بیاہ کے عمومی احکام
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 587 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 1764
نا نا هُشَيْمٌ قَالَ: أنا أَبُو سُفْيَانَ مَوْلَى مُزَيْنَةَ أَنَّ بِلالا ، قَالَ: " إِنْ أَنْكَحْتُمُونَا فَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَإِنْ رَدَدْتُمُونَا فَاللَّهُ أَكْبَرُ" .
سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر تم ہمیں نکاح دے دو تو الحمدللہ، اور اگر انکار کرو تو اللہ اکبر۔ [سنن سعید بن منصور/كتاب النكاح/حدیث: 1764]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 587، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 10454»
قال ابن حبان: ابو سفیان اسمہ طلحۃ بن عاصم، مولى مزينة ضعيف

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 588 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 1765
نا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنِ الْحَكَمِ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ صُهَيْبًا أَنْ يَخْطُبَ إِلَى نَاسٍ مِنَ الأَنْصَارِ، فَأَتَاهُمْ فَخَطَبَ إِلَيْهِمْ، فَقَالُوا: لا نُزَوِّجُكَ عَبْدًا وَانْتَفَوْا مِنْهُ. فَقَالَ: لَوْلا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنِي مَا فَعَلْتُ. فَقَالُوا: وَأَمَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالُوا: فَأَمْرُهَا فِي يَدِكَ. فَزَوَّجُوهَا مِنْهُ، فَأَخْبَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَاهُ ذَهَبٌ، فَأَمَرَ لَهُ بِقِطْعَةٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَقَالَ لَهُ:" سُقْ هَذَا إِلَى أَهْلِكَ". وَقَالَ لأَصْحَابِهِ:" اجْمَعُوا لأَخِيكُمْ فِي وَلِيمَتِهِ" .
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ کو انصار کے کچھ لوگوں کے پاس رشتہ کے لیے بھیجا، جب انہوں نے انکار کیا تو صہیب نے کہا: اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم نہ ہوتا تو میں ایسا نہ کرتا۔ انہوں نے کہا: کیا آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے؟ فرمایا: ہاں۔ تو انہوں نے نکاح کر دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونا بھیجا اور فرمایا: یہ اپنے گھر لے جاؤ۔ اور صحابہ سے فرمایا: اپنے بھائی کے ولیمے میں تعاون کرو۔ [سنن سعید بن منصور/كتاب النكاح/حدیث: 1765]
تخریج الحدیث: «مرسل، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 588، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 17446، وأبو داود فى "المراسيل"، 226»

الحكم على الحديث: مرسل
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 589 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 1766
نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ: نا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي الْجَهْمِ ، قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ ، فَقُلْتُ لَهَا: كَمْ طَلَّقَكِ زَوْجُكِ؟ قَالَتْ: طَلَّقَنِي طَلاقًا بَائِنًا، وَلَمْ يَجْعَلْ لِي سُكْنَى وَلا نَفَقَةً. فَقَالَ: صَدَقَ وَأَمَرَنِي أَنْ أَعْتَدَّ فِي بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ، ثُمّ قَالَ: إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّ ابْنَ أُمِّ مَكْتُومٍ رَجُلٌ يُغْشَى، وَلَكِنِ اعْتَدِّي فِي بَيْتِ فُلانٍ، فَلَمَّا انْقَضَتْ عِدَّتِي خَطَبَنِي مُعَاوِيَةُ وَأَبُو الْجَهْمِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ مُعَاوِيَةَ لَيْسَ لَهُ مَالٌ، وَأَبُو الْجَهْمِ رَجُلٌ شَدِيدٌ عَلَى النِّسَاءِ، وَلَكِنْ أُزَوِّجُكِ مِنْ أُسَامَةَ". قَالَتْ: فَزَوَّجَنِي أُسَامَةَ، فَبُورِكَ لِي .
میں اور سیدنا ابو سلمہ بن عبد الرحمن رضی اللہ عنہما سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے پاس گئے، میں نے پوچھا: تمہیں شوہر نے کس طرح طلاق دی؟ انہوں نے فرمایا: طلاق بائن دی، نہ رہائش دی نہ نفقہ، پھر مجھے ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے گھر عدت گزارنے کا حکم دیا، پھر فرمایا: چونکہ ابن ام مکتوم نابینا ہیں، کسی اور گھر میں عدت گزارو۔ جب عدت پوری ہوئی تو معاویہ اور ابو الجہم نے رشتہ بھیجا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معاویہ کے پاس مال نہیں اور ابو الجہم عورتوں پر سخت ہے، لیکن میں تمہارا نکاح اسامہ سے کرتا ہوں۔ کہتی ہیں: میرا نکاح اسامہ سے ہوا اور اللہ نے اس میں برکت دی۔ [سنن سعید بن منصور/كتاب النكاح/حدیث: 1766]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن لغيره، وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 1480، ومالك فى «الموطأ» برقم: 2155، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4049، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 6973، 6974، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 3222، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2284، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1135، 1135 م، 1180، 1180 م، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1869، 2024، 2032، 2035، 2036، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 589، 1355، 1356، 1357، 1358،والدارقطني فى «سننه» برقم: 3920، 3952، 3954، 3957، 3958، 3960، 3961، 3962، 3963، 3970، وأحمد فى «مسنده» برقم: 27742، والحميدي فى «مسنده» برقم: 367، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 18989، 18990، 19175»
ہذہ الحدیث حسن لغیرہ، لان سنده صحیح الإسناد إلی حدٍ ما، والمتن محفوظ ومشہور، وعلیہ شواہد صحیحۃ.

الحكم على الحديث: إسناده حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 590 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 1767
نا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلانَ ، عَنِ ابْنِ هُرْمُزَ الصَّنْعَانِيِّ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَتَاكُمْ مَنْ تَرْضَوْنَ دِينَهُ وَأَمَانَتَهُ فَزَوِّجُوهُ، إِلا تَفْعَلُوا تَكُنْ فِتْنَةٌ فِي الأَرْضِ وَفَسَادٌ كَبِيرٌ". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَإِنْ كَانَ وَإِنْ كَانَ؟ قَالَ:" نَعَمْ" .
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تمہارے پاس ایسا شخص آئے جس کے دین اور امانت سے تم راضی ہو تو اس سے نکاح کر دو، اگر ایسا نہ کرو گے تو زمین میں بڑا فتنہ اور فساد ہوگا۔ صحابہ نے پوچھا: اگر وہ ویسا نہ ہو جیسا ہم چاہتے ہیں؟ فرمایا: ہاں تب بھی نکاح کر دو۔ [سنن سعید بن منصور/كتاب النكاح/حدیث: 1767]
تخریج الحدیث: «مرسل، «انفرد به المصنف من هذا الطريق» »

الحكم على الحديث: مرسل
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 591 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 1768
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، قَالَ: نا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: قَالَتْ لَنَا أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ :" يَا بَنِيَّ وَبَنِي بَنِيَّ، إِنَّ هَذَا النِّكَاحَ رِقٌّ، فَلْيَنْظُرْ أَحَدُكُمْ عِنْدَ مَنْ يُرِقُّ كَرِيمَتَهُ" .
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اے میرے بیٹو اور بیٹیوں کے بیٹو! نکاح غلامی ہے، ہر شخص کو دیکھنا چاہیے کہ وہ اپنی بیٹی کس کے نکاح میں دیتا ہے۔ [سنن سعید بن منصور/كتاب النكاح/حدیث: 1768]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، «انفرد به المصنف من هذا الطريق» »
قال الذھبی: عبد الله بن لهيعة ضعف، العمل على تضعيف حديثه۔ قال ابن حجر: محمد بن معاوية بن أعين متروك مع معرفته، لأنه كان يتلقن، وقد أطلق عليه ابن معين: الكذب
قال ابن حجر: محمد بن علي بن زيد المكي ضعيف الحديث، يروي عن أبيه، ويحيى بن أبي كثير، وعنه البخاري ومسلم وأبو داود والنسائي وغيرهم.

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 592 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 1769
نا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ جَرِيْجٍ , قَالَ: لَمَّا تَزَوَّجَ سَلْمَانُ إِلَى أَبِي قُرَّةَ الْكِنْدِيِّ، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهَا قَالَ: يَا هَذِهِ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْصَانِي، وَقَالَ: " إِنْ قَضَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَكَ أَنْ تَزَوَّجَ فَتَكُونَ أَوَّلَ مَا تَجْتَمِعَانِ عَلَيْهِ طَاعَةُ اللَّهِ". فَقَالَتْ: إِنَّكَ جَلَسْتَ مَجْلِسَ الْمَرْءِ يُطَاعُ أَمْرُهُ. فَقَالَ لَهَا: قُومِي فَصَلِّي وَنَدْعُو. فَفَعَلا، فَرَأَى بَيْتًا مُسَتَّرًا، فَقَالَ: مَا بَالُ بَيْتِكُمْ هَذَا، أَمَحْمُومٌ؟ أَمْ تَحَوَّلَتِ الْكَعْبَةُ فِي كِنْدَةَ؟ فقالوا ليس بحموم، ولم تحول الكعبة في كندة، فَقَالَ: لا أَدْخُلُهُ حَتَّى يُهْتَكَ كُلُّ سِتْرٍ إِلا سِتْرًا عَلَى بَابٍ" .
جب سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کا نکاح ابی قرہ کندی کے خاندان میں ہوا، جب وہ اپنی بیوی کے پاس آئے تو کہا: اے خاتون! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے وصیت فرمائی تھی: ’جب اللہ عزوجل تمہیں نکاح کی توفیق دے تو تمہارا پہلا عمل اللہ کی اطاعت ہو۔‘ بیوی نے کہا: آپ اس مقام پر ہیں جہاں مرد کا حکم مانا جاتا ہے۔ تو سیدنا سلمان نے فرمایا: اٹھو نماز پڑھو اور دعا کرو۔ پھر انہوں نے گھر میں پردے دیکھے تو فرمایا: یہ کیا ہے؟ کیا کوئی بیمار ہے یا کعبہ کندہ میں منتقل ہو گیا ہے؟ کہا گیا: نہ کوئی بیمار ہے نہ کعبہ منتقل ہوا ہے۔ تو فرمایا: میں اس وقت تک داخل نہیں ہوں گا جب تک تمام پردے نہ ہٹا دیے جائیں سوائے دروازے کے پردے کے۔ [سنن سعید بن منصور/كتاب النكاح/حدیث: 1769]
تخریج الحدیث: «مرسل، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 592، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 14706»

الحكم على الحديث: مرسل
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 593 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 1770
نَا نَا حَدِيْجُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي لَيْلَى الْكِنْدِيِّ، قَالَ: خَرَجَ سَلْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي ثَلاثَةَ عَشَرَ رَجُلا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَلَمَّا حَضَرَتِ الصَّلاةُ قَالُوا: تَقَدَّمْ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ , فَأَنْتَ أَعْلَمُنَا وَأَسَنُّنَا. فَقَالَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ فَضَّلَكُمْ عَلَيْنَا يَا مَعْشَرَ الْعَرَبِ، تَؤُمُّونَنَا وَلا نَؤُمُّكُمْ، وَتَنْكِحُونَ نِسَاءَنَا وَلا نَنْكِحُ نِسَاءَكُمْ". فَتَقَدَّمَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَصَلَّى بِهِمْ أَرْبَعًا، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ لَهُ سَلْمَانُ:" صَلَّيْتَ أَرْبَعًا، كُنَّا إِلَى الرُّخْصَةِ أَحْوَجَ" .
سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تیرہ صحابہ کے ساتھ ایک سفر میں نکلے، جب نماز کا وقت آیا تو لوگوں نے کہا: آگے بڑھئیے اے ابو عبداللہ! آپ ہم میں سب سے زیادہ جاننے والے اور بڑے ہیں۔ سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بے شک اللہ عزوجل نے تمہیں ہم پر فضیلت دی ہے، اے جماعتِ عرب! تم ہمیں نماز پڑھاتے ہو، ہم تمہیں نماز نہیں پڑھاتے، تم ہماری عورتوں سے نکاح کرتے ہو، ہم تمہاری عورتوں سے نکاح نہیں کرتے۔ پھر ان میں سے ایک شخص نے آگے بڑھ کر ان کو چار رکعت نماز پڑھائی، جب وہ فارغ ہوئے تو سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم نے چار رکعت پڑھائی، حالانکہ ہم رعایت کے زیادہ محتاج تھے۔ [سنن سعید بن منصور/كتاب النكاح/حدیث: 1770]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن لغیرہ، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 593، 594، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 5522، 13879، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 4283، 10329، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 18000، والطبراني فى «الكبير» برقم: 6053، 6158»

الحكم على الحديث: إسناده حسن لغیرہ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 594 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 1771
نا نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَوْسَ بْنَ ضَمْعَجٍ، يَقُولُ: قَالَ سَلْمَانُ : " لا نَؤُمُّكُمْ، وَلا نَنْكِحُ نِسَاءَكُمْ" .
سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم تمہیں نماز نہیں پڑھاتے، اور نہ ہی تمہاری عورتوں سے نکاح کرتے ہیں۔ [سنن سعید بن منصور/كتاب النكاح/حدیث: 1771]
تخریج الحدیث: «صحیح لغیرہ، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 593، 594، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 5522، 13879، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 4283، 10329، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 18000، والطبراني فى «الكبير» برقم: 6053، 6158»

الحكم على الحديث: صحیح لغیرہ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
49. بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّدَاقِ
حق مہر کے احکام
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 595 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 1772
نا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، قَالَ: سَمِعْتُهُ مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ , سَمِعَهُ مِنْ أَبِي الْعَجْفَاءِ السُّلَمِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , يَقُولُ: أَلا لا تُغَالُوا فِي صُدُقِ النِّسَاءِ، فَإِنَّهَا لَوْ كَانَتْ مَكْرُمَةً عِنْدَ النَّاسِ، أَوْ تَقْوَى عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ كَانَ أَوْلاكُمْ وَأَحَقَّكُمْ بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , مَا نَكَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةً مِنْ نِسَائِهِ، وَلا أَنْكَحَ امْرَأَةً مِنْ بَنَاتِهِ عَلَى أَكْثَرَ مِنَ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ أُوقِيَّةً , وَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَيُغْلِي بِصَدْقَةِ امْرَأَتِهِ حَتَّى يَكُونَ ذَلِكَ عَدَاوَةً فِي نَفْسِهِ، وَيَقُولُ لَهَا: لَقَدْ كَلِفْتُ إِلَيْكِ عَلَقَ الْقِرْبَةِ. قَالَ: فَكُنْتُ شَابًّا فَلَمْ أَدْرِ مَا عَلَقُ الْقِرْبَةِ , وَأُخْرَى تَقُولُونَهَا فِي مَغَازِيكُمْ: قُتِلَ فُلانٌ شَهِيدًا وَلَعَلَّهُ أَوْ عَسَى أَنْ يَكُونَ قَدْ أَوْقَرَ دَفَّ رَاحِلَتِهِ أَوْ عَجُزَهَا وَرِقًا أَوْ ذَهَبًا يَبْتَغِي الدُّنْيَا، وَلَكِنْ قُولُوا كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَوْ قَالَ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهُوَ شَهِيدٌ" .
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: خبردار! عورتوں کے مہر میں زیادتی نہ کرو، اگر یہ لوگوں کے نزدیک عزت کی بات ہوتی یا اللہ عزوجل کے نزدیک تقویٰ کا باعث ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم تم سب سے بڑھ کر اس کے زیادہ حق دار ہوتے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کسی بیوی یا بیٹی کا نکاح بارہ اوقیہ سے زیادہ مہر پر نہیں کیا۔ تم میں سے ایک شخص اپنی بیوی کے مہر میں اتنی زیادتی کرتا ہے کہ وہ اس کے دل میں دشمنی پیدا کر دیتا ہے اور کہتا ہے: میں نے تجھ پر مشقت اٹھائی، مشکیزہ کی رسیاں گھسیٹیں۔ اور دوسری بات جو تم اپنے معرکوں میں کہتے ہو کہ فلاں شہید ہو گیا، حالانکہ ممکن ہے کہ وہ اپنے اونٹ یا سواری پر چاندی یا سونا لدوا کر دنیا کا مال حاصل کر رہا ہو۔ پس یوں کہو جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اللہ کے راستے میں قتل ہو وہ شہید ہے۔ [سنن سعید بن منصور/كتاب النكاح/حدیث: 1772]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن لغيره، وأخرجه ابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4620، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 2536، 2741، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 3349، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 5485، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2106، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1114 م، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2246، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1887، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 595، 596، 597، 2547، وأحمد فى «مسنده» برقم: 291، 293، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 16628، 16629، 19860»

الحكم على الحديث: إسناده حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 596 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 1773
نا هُشَيْمٌ ، قَالَ: أنا مَنْصُورٌ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، قَالَ: نا أَبُو الْعَجْفَاءِ السُّلَمِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: أَلا لا تُغَالُوا فِي صُدُقِ النِّسَاءِ، فَإِنَّهَا لَوْ كَانَتْ مَكْرُمَةً فِي الدُّنْيَا، أَوْ تَقْوَى عِنْدَ اللَّهِ كَانَ أَوْلاكُمْ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , مَا أَصْدَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةً مِنْ نِسَائِهِ، وَلا أُصْدِقَتِ امْرَأَةٌ مِنْ بَنَاتِهِ فَوْقَ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ أُوقِيَّةً، أَلا وَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَيُغْلِي بِصَدْقَةِ امْرَأَةٍ حَتَّى يَبْقَى لَهَا عَدَاوَةً فِي نَفْسِهِ، فَيَقُولُ: لَقَدْ كَلِفْتُ إِلَيْكِ عَلَقَ أَوْ عَرَقَ الْقِرْبَةِ، وَأُخْرَى تَقُولُونَهَا فِي مَغَازِيكُمْ قُتِلَ فُلانٌ شَهِيدًا، وَمَاتَ فُلانٌ شَهِيدًا، وَلَعَلَّهُ أَنْ يَكُونَ قَدْ أَوْقَرَ دَفَّ رَاحِلَتِهِ أَوْ عَجُزَهَا ذَهَبًا أَوْ فِضَّةً، يُرِيدُ الدِّينَا وَالدَّرَاهِمَ، فَلا تَقُولُوا ذَلِكُمْ وَلَكِنْ قُولُوا كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ مَاتَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ قُتِلَ فَهُوَ شَهِيدٌ" .
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: عورتوں کے مہر میں زیادتی نہ کرو، اگر یہ دنیا میں کوئی فضیلت یا اللہ کے نزدیک تقویٰ کا سبب ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم تم سب سے زیادہ اس کے حق دار ہوتے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کسی بیوی یا بیٹی کا مہر بارہ اوقیہ سے زیادہ نہیں رکھا۔ تم میں سے ایک شخص اپنی بیوی کے مہر میں اتنی زیادتی کرتا ہے کہ دل میں اس سے دشمنی پیدا ہو جاتی ہے، اور کہتا ہے: میں نے تجھ پر مشقت اٹھائی، مشکیزہ کی رسیوں سے۔ اور تم اپنے معرکوں میں کہتے ہو کہ فلاں شہید ہوا، حالانکہ ممکن ہے کہ وہ اپنی سواری پر چاندی یا سونا لاد کر تجارت کر رہا ہو۔ پس نہ کہو کہ شہید ہوا، بلکہ یوں کہو جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اللہ کے راستے میں قتل ہوا یا مرا، وہ شہید ہے۔ [سنن سعید بن منصور/كتاب النكاح/حدیث: 1773]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن لغيره، وأخرجه ابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4620، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 2536، 2741، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 3349، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 5485، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2106، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1114 م، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2246، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1887، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 595، 596، 597، 2547، وأحمد فى «مسنده» برقم: 291، 293، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 16628، 16629، 19860»

الحكم على الحديث: إسناده حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں