🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
11. باب ذوي الأرحام - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن ابن البنت لا يكون ولدا لأبي البنت-
قرابت داروں کے احکام کا بیان - ذکر خبر جو اس دعوے کو رد کرتی ہے کہ بیٹی کا بیٹا اس کے باپ کا بیٹا نہیں ہوتا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6038
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ بِالرَّافِقَةِ، حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِهَابٍ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ: بَيْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَخْطُبُ، إِذْ أَقْبَلَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ وَعَلَيْهِمَا قَمِيصَانِ أَحْمَرَانِ يَقُومَانِ وَيَعْثُرَانِ، فَنَزَلَ إِلَيْهِمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذَهُمَا، وَقَالَ: إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلادُكُمْ فِتْنَةٌ سورة التغابن آية 15" .
عبداللہ بن بریدہ اپنے والد (بریدہ رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے کہ اسی دوران سیدنا امام حسن اور سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہما (جو بچے تھے) آئے، انہوں نے سرخ قمیصیں پہنی ہوئی تھیں، وہ کبھی گر پڑتے تھے اور کبھی کھڑے ہو جاتے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں کے لیے منبر سے نیچے تشریف لے آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو پکڑ لیا اور ارشاد فرمایا: (ارشادِ باری تعالیٰ ہے) ﴿إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ﴾ [سورة التغابن: 15] بے شک تمہارے مال اور تمہاری اولاد آزمائش ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الفرائض/حدیث: 6038]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1456، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6038، 6039، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1063، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1412، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1109، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3774، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3600، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5900، 12042، وأحمد فى (مسنده) برقم: 23461» «رقم طبعة با وزير 6006»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما بعده.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12. باب ذوي الأرحام - ذكر السبب الذي من أجله فعل المصطفى صلى الله عليه وسلم ما وصفناه-
قرابت داروں کے احکام کا بیان - ذکر وجہ جس کی بنا پر مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے بیان کردہ فعل کیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6039
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي بُرَيْدَةَ ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُنَا، إِذْ جَاءَ الْحَسَنُ، وَالْحُسَيْنُ، عَلَيْهِمَا قَمِيصَانِ أَحْمَرَانِ يَمْشِيَانِ، وَيَعْثُرَانِ، فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمِنْبَرِ، فَحَمَلَهُمَا، فَوَضَعَهُمَا بَيْنَ يَدَيْهِ، ثُمَّ قَالَ:" صَدَقَ اللَّهُ: إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلادُكُمْ فِتْنَةٌ سورة التغابن آية 15" ، نَظَرْتُ إِلَى هَذَيْنِ الصَّبِيَّيْنِ يَمْشِيَانِ وَيَعْثُرَانِ، فَلَمْ أَصْبِرْ، حَتَّى قَطَعْتُ حَدِيثِي فَرَفَعَتْهُمَا.
سیدنا ابو بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں خطبہ دے رہے تھے، اسی دوران سیدنا امام حسن اور سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہما (جو بچے تھے) وہ آ گئے، انہوں نے سرخ قمیصیں پہنی ہوئی تھیں، وہ چلتے تھے اور چلتے ہوئے گر پڑتے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے نیچے اتر آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو اٹھایا اور اپنے آگے بٹھا لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا ہے: ﴿إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ﴾ [سورة التغابن: 15] بے شک تمہارے اموال اور تمہاری اولاد آزمائش ہے۔ میں نے ان دو بچوں کو دیکھا کہ یہ چلتے ہوئے آ رہے ہیں اور گر پڑتے ہیں، تو مجھ سے صبر نہیں ہوا، یہاں تک کہ میں نے اپنی گفتگو منقطع کر کے انہیں اٹھا لیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الفرائض/حدیث: 6039]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1456، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6038، 6039، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1063، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1412، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1109، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3774، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3600، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5900، 12042، وأحمد فى (مسنده) برقم: 23461» «رقم طبعة با وزير 6007»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1016)، «المشكاة» (6159).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
«12