🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
60. ذكر الخبر الدال على أن عثمان بن عفان عند وقوع الفتن كان على الحق-
- ذکر خبر جو اس بات کی دلیل ہے کہ فتنوں کے وقوع پر عثمان بن عفان حق پر تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6914
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ كَهْمَسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، حَدَّثَنِي هَرَمِيُّ بْنُ الْحَارِثِ ، وَأُسَامَةُ بْنُ خُرَيْمٍ ، قَالَ: كَانَا يُغَازِيَانِ، فَحَدَّثَانِي وَلا يَشْعُرُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا أَنَّ صَاحِبَهُ حَدَّثَنِيهِ، عَنْ مُرَّةَ الْبَهْزِيِّ ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَرِيقٍ مِنْ طُرُقِ الْمَدِينَةِ، قَالَ: " كَيْفَ تَصْنَعُونَ فِي فِتْنَةٍ تَثُورُ فِي أَقْطَارِ الأَرْضِ كَأَنَّهَا صَيَاصِي الْبَقَرِ؟ قَالُوا: نَصْنَعُ مَاذَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ؟ قَالَ: عَلَيْكُمْ بِهَذَا وَأَصْحَابِهِ، قَالَ: فَأَسْرَعْتُ حَتَّى عَطَفْتُ إِِلَى الرَّجُلِ، قُلْتُ: هَذَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ؟ قَالَ: هَذَا، فَإِِذَا هُوَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ" .
سیدنا مرہ بہزی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ کے کسی راستے پر چل رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ایسے فتنے کے دوران تم لوگ کیا کرو گے جو زمین پر یوں پھیل جائے گا جیسے وہ گائے کا سینگ ہوتا ہے؟ لوگوں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! ہمیں کیا کرنا چاہیے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم پر لازم ہے کہ تم اس شخص اور اس کے ساتھیوں کے ساتھ رہو۔ (راوی کہتے ہیں:) میں تیزی سے ان صاحب کی طرف لپکا (جن کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ کیا تھا) میں نے دریافت کیا: اے اللہ کے نبی! کیا یہ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ۔ تو وہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6914]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6914، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 4578، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3704، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18345» «رقم طبعة با وزير 6875»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (3118).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
61. ذكر الخبر الدال على أن عثمان بن عفان عند وقوع الفتن لم يخلع نفسه لزجر المصطفى صلى الله عليه وسلم إياه عنه-
- ذکر خبر جو اس بات کی دلیل ہے کہ فتنوں کے وقوع پر عثمان بن عفان نے مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کے منع کرنے کی وجہ سے اپنے آپ کو خلع نہیں کیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6915
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَيْسٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ ، أَنَّهُ أَرْسَلَهُ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ بِكِتَابٍ إِِلَى عَائِشَةَ ، فَدَفَعَهُ إِِلَيْهَا، فَقَالَتْ: أَلا أُحَدِّثُكَ بِحَدِيثٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قُلْتُ: بَلَى، قَالَتْ: إِِنِّي عِنْدَهُ ذَاتَ يَوْمٍ أَنَا وَحَفْصَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ كَانَ عِنْدَنَا رَجُلٌ يُحَدِّثُنَا، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَبْعَثُ إِِلَى أَبِي بَكْرٍ يَجِيءُ فَيُحَدِّثُنَا؟ قَالَتْ: فَسَكَتَ، فَقَالَتْ حَفْصَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَبْعَثُ إِِلَى عُمَرَ فَيَجِيءُ فَيُحَدِّثُنَا؟ قَالَتْ: فَسَكَتَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَعَا رَجُلا، فَأَسَرَّ إِِلَيْهِ بِشَيْءٍ دُونَنَا، فَذَهَبَ، فَجَاءَ عُثْمَانُ، فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ بِوَجْهِهِ، فَسَمِعْتُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" يَا عُثْمَانُ، إِِنَّ اللَّهَ لَعَلَّهُ يُقَمِّصُكَ قَمِيصًا، فَإِِنْ أَرَادُوكَ عَلَى خَلْعِهِ فَلا تَخْلَعْهُ ثَلاثًا" ، قُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، فَأَيْنَ كُنْتِ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ؟ قَالَتْ: يَا بُنَيَّ، أُنْسِيتُهُ، كَأَنِّي لَمْ أَسْمَعْهُ قَطُّ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: هَذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَيْسٍ اللَّخْمِيُّ، مَاتَ سَنَةَ أَرْبَعٍ وَعِشْرِينَ وَمِائَةٍ، وَلَيْسَ هَذَا بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ صَاحِبِ عَائِشَةَ.
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما نے انہیں ایک خط کے ہمراہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں بھیجا، تو انہوں نے وہ خط سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے پیش کر دیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کیا میں تمہیں وہ حدیث نہ سناؤں جو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہے؟ میں نے جواب دیا: جی ہاں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا: ایک دن میں اور حفصہ رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کاش ہمارے پاس کوئی ایسا شخص ہوتا جو ہمارے ساتھ بات چیت کرتا۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو پیغام بھجواتی ہوں، وہ آئیں گے اور ہمارے ساتھ بات چیت کر لیں گے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو پیغام بھجواتی ہوں، وہ آئیں گے اور ہمارے ساتھ بات چیت کر لیں گے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو بلوایا اور اس کے ساتھ سرگوشی میں کوئی بات چیت کی جو ہم تک نہیں پہنچی، پھر وہ شخص چلا گیا اور سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ آئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف متوجہ ہو گئے، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: اے عثمان! بے شک اللہ تعالیٰ تمہیں ایک قمیص پہنائے گا اور لوگ یہ چاہیں گے کہ تم اسے اتار دو، تو تم اسے نہ اتارنا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات تین مرتبہ ارشاد فرمائی۔ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے کہا: اے ام المؤمنین! آپ نے پہلے یہ حدیث کیوں بیان نہیں کی؟ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا: اے میرے بیٹے! میں اسے بھول گئی تھی، یوں جیسے میں نے کبھی سنی ہی نہیں۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) عبداللہ بن قیس لخمی نامی راوی کا انتقال ایک سو چوبیس ہجری میں ہوا، یہ وہ عبداللہ بن ابوقیس نہیں ہیں جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا شاگرد تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6915]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6915، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 4570، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3705، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 112، وأحمد فى (مسنده) برقم: 25104» «رقم طبعة با وزير 6876»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «المشكاة» (6068).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
Null
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
62. ذكر نفقة عثمان بن عفان في جيش العسرة-
- ذکر عثمان بن عفان کی جیش عسرہ میں نفقہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6916
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ ، حَدَّثَنَا أَبُو نَصْرٍ التَّمَّارُ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ أَبِي إِِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، قَالَ: لَمَّا حُصِرَ عُثْمَانُ وَأُحِيطَ بِدَارِهِ أَشْرَفَ عَلَى النَّاسِ، فَقَالَ: نَشَدْتُكُمْ بِاللَّهِ، هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ انْتَفَضَ بِنَا حِرَاءُ، قَالَ: " اثْبُتْ حِرَاءُ، فَمَا عَلَيْكَ إِِلا نَبِيٌّ أَوْ صِدِّيقٌ أَوْ شَهِيدٌ"؟ قَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ، قَالَ: نَشَدْتُكُمْ بِاللَّهِ، هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ فِي غَزْوَةِ الْعُسْرَةِ:" مَنْ يُنْفِقْ نَفَقَةً مُتَقَبَّلَةً؟ وَالنَّاسُ يَوْمَئِذٍ مُعْسِرُونَ مُجْهَدُونَ، فَجَهَّزْتُ ثُلُثَ ذَلِكَ الْجَيْشِ مِنْ مَالِي"، فَقَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ، ثُمَّ قَالَ: نَشَدْتُكُمْ بِاللَّهِ، هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ" رُومَةَ لَمْ يَكُنْ يُشْرَبُ مِنْهَا إِِلا بِثَمَنٍ، فَابْتَعْتُهَا بِمَالِي، فَجَعَلْتُهَا لِلْغَنِيِّ وَالْفَقِيرِ وَابْنِ السَّبِيلِ"؟ فَقَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ، فِي أَشْيَاءَ عَدَّدَهَا .
ابو عبدالرحمن سلمی بیان کرتے ہیں کہ جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا محاصرہ کیا گیا اور ان کے گھر کو گھیر لیا گیا، تو انہوں نے لوگوں کی طرف جھانک کر ارشاد فرمایا: میں تم لوگوں کو اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں، کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب ہمارے ساتھ حرا (پہاڑ) پر موجود تھے اور وہ ہلنے لگا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے حرا! ٹھہرے رہو تمہارے اوپر ایک نبی، ایک صدیق، ایک شہید موجود ہے؟ تو لوگوں نے کہا: اللہ کی قسم! جی ہاں۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تم لوگوں کو اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں، کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ تبوک کے موقع پر یہ بات ارشاد فرمائی: وہ کون شخص ایسا خرچ کرے گا جسے قبول کیا جائے؟ ان دنوں لوگ تنگ دست تھے، تو میں نے اس لشکر کے لیے ایک تہائی ساز و سامان اپنے مال میں سے تیار کیا تھا۔ لوگوں نے کہا: اللہ کی قسم! ایسا ہی ہے، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تم لوگوں کو اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں، کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ رومہ نامی کنویں سے صرف قیمت دے کر پانی لیا جا سکتا تھا، میں نے اپنے مال میں سے اسے خریدا اور اسے ہر خوشحال اور غریب شخص کے لیے اور مسافر کے لیے (وقف کر دیا)؟ تو ان لوگوں نے کہا: اللہ کی قسم! ایسا ہی ہے، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اور بھی کچھ چیزیں گنوائیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6916]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2778، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2491، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6916، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1534، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3611، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3699، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 12052، 12053، والدارقطني فى (سننه) برقم: 4442، وأحمد فى (مسنده) برقم: 427» «رقم طبعة با وزير 6877»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح - «الصحيحة» (875)، «الإرواء» (1594).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
63. ذكر رضا المصطفى صلى الله عليه وسلم عن عثمان بن عفان رضي الله عنه عند خروجه من الدنيا-
- ذکر کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے رخصت ہونے کے وقت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے راضی تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6917
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، أَنَّهُ رَأَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَبْلَ أَنْ يُصَابَ بِأَيَّامٍ بِالْمَدِينَةِ وَقَفَ عَلَى حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ، وَعُثْمَانَ بْنِ حُنَيْفٍ، فَقَالَ: أَتَخَافَانِ أَنْ تَكُونَا حَمَّلْتُمَا الأَرْضَ مَا لا تُطِيقُ؟ قَالا: حَمَّلْنَاهَا أَمْرًا هِيَ لَهُ مُطِيقَةٌ، وَمَا فِيهَا كَثِيرُ فَضْلٍ، فَقَالَ: انْظُرَا أَنْ لا تَكُونَا حَمَّلْتُمَا الأَرْضَ مَا لا تُطِيقُ؟ فَقَالا: لا، فَقَالَ: لَئِنْ سَلَّمَنِي اللَّهُ، لأَدَعَنَّ أَرَامِلَ أَهْلِ الْعِرَاقِ لا يَحْتَجْنَ إِِلَى أَحَدٍ بَعْدِي، قَالَ: فَمَا أَتَتْ عَلَيْهِ إِِلَى رَابِعَةٌ حَتَّى أُصِيبَ، قَالَ عَمْرُو بْنُ مَيْمُونٍ: وَإِِنِّي لَقَائِمٌ مَا بَيْنِي وَبَيْنَهُ إِِلا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ غَدَاةَ أُصِيبَ، وَكَانَ إِِذَا مَرَّ بَيْنَ الصَّفَّيْنِ قَامَ بَيْنَهُمَا، فَإِِذَا رَأَى خَلَلا، قَالَ: اسْتَوُوا، حَتَّى إِِذَا لَمْ يَرَ فِيهِمْ خَلَلا تَقَدَّمَ، فَكَبَّرَ، قَالَ: رُبَّمَا قَرَأَ سُورَةَ يُوسُفَ أَوِ النَّحْلِ فِي الرَّكْعَةِ الأُولَى، حَتَّى يَجْتَمِعَ النَّاسُ، قَالَ: فَمَا كَانَ إِِلا أَنْ كَبَّرَ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: قَتَلَنِي الْكَلْبُ أَوْ أَكَلَنِي الْكَلْبُ حِينَ طَعَنَهُ وَطَارَ الْعِلْجُ بِسِكِّينٍ ذِي طَرَفَيْنِ، لا يَمُرُّ عَلَى أَحَدٍ يَمِينًا وَشِمَالا إِِلا طَعَنَهُ، حَتَّى طَعَنَ ثَلاثَةَ عَشَرَ رَجُلا، فَمَاتَ مِنْهُمْ تِسْعَةٌ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، طَرَحَ عَلَيْهِ بُرْنُسًا، فَلَمَّا ظَنَّ الْعِلْجُ أَنَّهُ مَأْخُوذٌ نَحَرَ نَفْسَهُ، وَأَخَذَ عُمَرُ بِيَدِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ فَقَدَّمَهُ، فَأَمَّا مَنْ يَلِي عُمَرَ فَقَدْ رَأَى الَّذِي رَأَيْتُ، وَأَمَّا نَوَاحِي الْمَسْجِدِ فَإِِنَّهُمْ لا يَدْرُونَ مَا الأَمْرُ غَيْرَ أَنَّهُمْ فَقَدُوا صَوْتَ عُمَرَ وَهُمْ يَقُولُونَ: سُبْحَانَ اللَّهِ، سُبْحَانَ اللَّهِ، فَصَلَّى عَبْدُ الرَّحْمَنِ بِالنَّاسِ صَلاةً خَفِيفَةً، فَلَمَّا انْصَرَفُوا، قَالَ: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ، انْظُرْ مَنْ قَتَلَنِي؟ فَجَالَ سَاعَةً، ثُمَّ قَالَ: غُلامُ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، فَقَالَ: قَاتَلَهُ اللَّهُ، لَقَدْ كُنْتُ أَمَرْتُهُ بِمَعْرُوفٍ، ثُمَّ قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي لَمْ يَجْعَلْ مَنِيَّتِي بِيَدِ رَجُلٍ يَدَّعِي الإِِسْلامَ، كُنْتَ أَنْتَ وَأَبُوكَ تُحِبَّانِ أَنْ يَكْثُرَ الْعُلُوجُ بِالْمَدِينَةِ، وَكَانَ الْعَبَّاسُ أَكْثَرَهُمْ رَقِيقًَا، فَاحْتُمِلَ إِِلَى بَيْتِهِ، فَكَأَنَّ النَّاسَ لَمْ تُصِبْهُمْ مُصِيبَةٌ قَبْلُ يَوْمَئِذٍ، فَقَائِلٌ يَقُولُ: نَخَافُ عَلَيْهِ، وَقَائِلٌ يَقُولُ: لا بَأْسَ، فَأُتِيَ بِنَبِيذٍ فَشَرِبَ مِنْهُ، فَخَرَجَ مِنْ جُرْحِهِ، ثُمَّ أُتِيَ بِلَبَنٍ فَشَرِبَ مِنْهُ، فَخَرَجَ مِنْ جُرْحِهِ، فَعَرَفُوا أَنَّهُ مَيِّتٌ، وَوَلَجْنَا عَلَيْهِ، وَجَاءَ النَّاسُ يُثْنُونَ عَلَيْهِ، وَجَاءَ رَجُلٌ شَابٌّ، فَقَالَ:" أَبْشِرْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ بِبُشْرَى اللَّهِ، قَدْ كَانَ لَكَ مِنْ صُحْبَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقِدَمِ الإِِسْلامِ مَا قَدْ عَمِلْتَ، ثُمَّ اسْتُخْلِفْتَ فَعَدَلْتَ، ثُمَّ شَهَادَةٌ"، قَالَ: يَا ابْنَ أَخِي، وَدِدْتُ أَنَّ ذَلِكَ كَفَافٌ لا عَلَيَّ وَلا لِي، فَلَمَّا أَدْبَرَ الرَّجُلُ إِِذَا إِِزَارُهُ يَمَسُّ الأَرْضَ، فَقَالَ: رُدُّوا عَلَيَّ الْغُلامَ، فَقَالَ: يَا ابْنَ أَخِي، ارْفَعْ ثَوْبَكَ فَإِِنَّهُ أَنْقَى لِثَوْبِكَ، وَأَتْقَى لِرَبِّكَ يَا عَبْدَ اللَّهِ، انْظُرْ مَا عَلَيَّ مِنَ الدَّيْنِ، فَحَسَبُوهُ فَوَجَدُوهُ سِتَّةً وَثَمَانِينَ أَلْفًا، فَقَالَ: إِِنْ وَفَّى مَالُ آلِ عُمَرَ فَأَدِّهِ مِنْ أَمْوَالِهِمْ، وَإِِلا فَسَلْ فِي بَنِي عَدِيِّ بْنِ كَعْبٍ، فَإِِنْ لَمْ يَفِ بِأَمْوَالِهِمْ، فَسَلْ فِي قُرَيْشٍ وَلا تَعْدُهُمْ إِِلَى غَيْرِهِمْ، اذْهَبْ إِِلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ، فَقُلْ لَهَا: يَقْرَأُ عَلَيْكِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ السَّلامَ، وَلا تَقُلْ: أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، فَإِِنِّي لَسْتُ لِلْمُؤْمِنِينَ بِأَمِيرٍ، فَقُلْ: يَسْتَأْذِنُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَنْ يُدْفَنَ مَعَ صَاحِبَيْهِ، فَسَلَّمَ عَبْدُ اللَّهِ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ فَوَجَدَهَا تَبْكِي، فَقَالَ لَهَا: يَسْتَأْذِنُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَنْ يُدْفَنَ مَعَ صَاحِبَيْهِ، فَقَالَتْ: وَاللَّهِ كُنْتُ أَرَدْتُهُ لِنَفْسِي، وَلأُوثِرَنَّهُ الْيَوْمَ عَلَى نَفْسِي، فَجَاءَ، فَلَمَّا أَقْبَلَ، قِيلَ: هَذَا عَبْدُ اللَّهِ قَدْ جَاءَ، فَقَالَ: ارْفَعَانِي، فَأَسْنَدَهُ إِِلَيْهِ رَجُلٌ، فَقَالَ: مَا قَالَتْ؟ قَالَ: الَّذِي تُحِبُّ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، قَدْ أَذِنَتْ لَكَ، قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ، مَا كَانَ شَيْءٌ أَهَمَّ إِِلَيَّ مِنْ ذَلِكَ الْمَضْطَجِعِ، فَإِِذَا أَنَا قُبِضْتُ فَسَلِّمْ، وَقُلْ: يَسْتَأْذِنُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، فَإِِنْ أَذِنَتْ لِي فَأَدْخِلُونِي، وَإِِنْ رَدَّتْنِي فَرُدُّونِي إِِلَى مَقَابِرِ الْمُسْلِمِينَ، ثُمَّ جَاءَتْ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ حَفْصَةُ وَالنِّسَاءُ يَسْتُرْنَهَا، فَلَمَّا رَأَيْنَاهَا قُمْنَا، فَمَكَثَتْ عِنْدَهُ سَاعَةً، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ الرِّجَالُ فَوَلِجَتْ دَاخِلا، ثُمَّ سَمِعْنَا بُكَاءَهَا مِنَ الدَّاخِلِ، فَقِيلَ لَهُ: أَوْصِ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، اسْتَخْلِفْ، قَالَ:" مَا أَرَى أَحَدًا أَحَقَّ بِهَذَا الأَمْرِ مِنْ هَؤُلاءِ النَّفَرِ الَّذِينَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَنْهُمْ رَاضٍ، فَسَمَّى عَلِيًّا، وَطَلْحَةَ، وَعُثْمَانَ، وَالزُّبَيْرَ، وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ، وَسَعْدًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، قَالَ: وَلْيَشْهَدْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، وَلَيْسَ لَهُ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ، كَهَيْئَةِ التَّعْزِيَةِ لَهُ، فَإِِنْ أَصَابَ الأَمْرَ سَعْدٌ فَهُوَ ذَلِكَ، وَإِِلا فَلْيَسْتَعِنْ بِهِ أَيُّكُمْ مَا أُمِّرَ، فَإِِنِّي لَمْ أَعْزِلْهُ مِنْ عَجْزٍ وَلا خِيَانَةٍ، ثُمَّ قَالَ: أُوصِي الْخَلِيفَةَ بَعْدِي بِتَقْوَى اللَّهِ، وَأُوصِيهِ بِالْمُهَاجِرِينَ الأَوَّلِينَ، أَنْ يَعْلَمَ لَهُمْ فَيْئَهُمْ، وَيَحْفَظَ لَهُمْ حُرْمَتَهُمْ، وَأُوصِيهِ بِالأَنْصَارِ خَيْرًا، الَّذِينَ تَبَوَّءُوا الدَّارَ وَالإِِيمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ أَنْ يُقْبَلَ مِنْ مُحْسِنِهِمْ وَيُعْفَى عَنْ مُسِيئِهِمْ، وَأُوصِيهِ بِأَهْلِ الأَمْصَارِ خَيْرًا، فَإِِنَّهُمْ رِدْءُ الإِِسْلامِ، وَجُبَاةُ الْمَالِ، وَغَيْظُ الْعَدُوِّ، وَأَنْ لا يُؤْخَذَ مِنْهُمْ إِِلا فَضْلُهُمْ عَنْ رِضًا، وَأُوصِيهِ بِالأَعْرَابِ خَيْرًا، إِِنَّهُمْ أَصْلُ الْعَرَبِ وَمَادَّةُ الإِِسْلامِ، أَنْ يُؤْخَذَ مِنْهُمْ مِنْ حَوَاشِي أَمْوَالِهِمْ فَيُرَدَّ فِي فُقَرَائِهِمْ، وَأُوصِيهِ بِذِمَّةِ اللَّهِ وَذِمَّةِ رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُوَفَّى لَهُمْ بِعَهْدِهِمْ، وَأَنْ يُقَاتَلَ مِنْ وَرَائِهِمْ، وَأَنْ لا يُكَلَّفُوا إِِلا طَاقَتُهُمْ"، فَلَمَّا تُوُفِّيَ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ، خَرَجْنَا بِهِ نَمْشِي، فَسَلَّمَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، فَقَالَ: يَسْتَأْذِنُ عُمَرُ، فَقَالَتْ: أَدْخِلُوهُ، فَأُدْخِلَ، فَوُضِعَ هُنَاكَ مَعَ صَاحِبَيْهِ، فَلَمَّا فُرِغَ مِنْ دَفْنِهِ وَرَجَعُوا، اجْتَمَعَ هَؤُلاءِ الرَّهْطُ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ: اجْعَلُوا أَمْرَكُمْ إِِلَى ثَلاثَةٍ مِنْكُمْ، فَقَالَ الزُّبَيْرُ: قَدْ جَعَلْتُ أَمْرِي إِِلَى عَلِيٍّ، وَقَالَ سَعْدٌ: قَدْ جَعَلْتُ أَمْرِي إِِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَقَالَ طَلْحَةُ: قَدْ جَعَلْتُ أَمْرِي إِِلَى عُثْمَانَ، فَجَاءَ هَؤُلاءِ الثَّلاثَةُ: عَلِيٌّ وَعُثْمَانُ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ لِلآخَرَيْنِ: أَيُّكُمَا يَتَبَرَّأُ مِنْ هَذَا الأَمْرِ وَيَجْعَلُهُ إِِلَيْهِ، وَاللَّهُ عَلَيْهِ وَالإِِسْلامُ لَيَنْظُرَنَّ أَفْضَلَهُمْ فِي نَفْسِهِ وَلَيَحْرِصَنَّ عَلَى صَلاحِ الأُمَّةِ؟ قَالَ: فَأَسْكَتَ الشَّيْخَانِ عَلِيٌّ وَعُثْمَانُ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: اجْعَلُوهُ إِِلَيَّ، وَاللَّهُ عَلَيَّ أَنْ لا آلُوَ عَنْ أَفْضَلِكُمْ، قَالا: نَعَمْ، فَجَاءَ بِعَلِيٍّ، فَقَالَ: لَكَ مِنَ الْقِدَمِ وَالإِِسْلامِ وَالْقَرَابَةِ مَا قَدْ عَلِمْتَ، آللَّهُ عَلَيْكَ لَئِنْ أَمَّرْتُكَ لَتَعْدِلَنَّ، وَلَئِنْ أَمَّرْتُ عَلَيْكَ لَتَسْمَعَنَّ وَلَتُطِيعَنَّ؟ ثُمَّ جَاءَ بِعُثْمَانَ، فقَالَ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ، فَلَمَّا أَخَذَ الْمِيثَاقَ، قَالَ لِعُثْمَانَ: ارْفَعْ يَدَكَ فَبَايَعَهُ، ثُمَّ بَايَعَهُ عَلِيٌّ، ثُمَّ وَلَجَ أَهْلُ الدَّارِ فَبَايَعُوهُ" .
عمرو بن میمون بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے زخمی ہونے سے کچھ دن پہلے انہیں دیکھا، وہ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ کے پاس کھڑے ہوئے تھے اور فرما رہے تھے: کیا تم لوگوں کو یہ اندیشہ نہیں ہے کہ تم دونوں نے اس سرزمین پر وہ بوجھ عائد کر دیا ہے جس کی وہ طاقت نہیں رکھتی؟ ان دونوں نے کہا: ہم نے اس پر وہ چیز لازم کی ہے جس کی وہ طاقت رکھتی ہے، اس میں کوئی اضافی ادائیگی لازم نہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم دونوں اس بات کا جائزہ لو کہ کہیں تم نے زمین پر وہ چیز عائد تو نہیں کی جس کی وہ طاقت نہیں رکھتی؟ ان دونوں نے جواب دیا: جی نہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے سلامت رکھا تو میں اہل عراق کی بیواؤں کے لیے وہ کچھ چھوڑ کر جاؤں گا کہ میرے بعد انہیں کسی اور چیز کی حاجت نہیں ہوگی۔ راوی کہتے ہیں: اس کے تین دن بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ زخمی ہو گئے۔ عمرو بن میمون کہتے ہیں: جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ زخمی ہوئے، اس صبح میں کھڑا ہوا تھا، میرے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے درمیان صرف سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما تھے، جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ صفوں کے درمیان میں سے گزرے تو دونوں صفوں کے درمیان کھڑے ہوئے، جب آپ نے ان میں خلل دیکھا تو فرمایا: صفیں ٹھیک کر لو۔ جب انہوں نے دیکھا ان میں کوئی خلل نہیں ہے تو آگے بڑھ گئے اور تکبیر کہی۔ راوی کہتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بعض اوقات پہلی رکعت میں سورہ یوسف یا سورہ نحل کی تلاوت کیا کرتے تھے، یہاں تک کہ لوگ اکٹھے ہو جایا کرتے تھے۔ راوی کہتے ہیں: ابھی انہوں نے تکبیر کہی ہی تھی کہ میں نے انہیں یہ کہتے ہوئے سنا: کتے نے مجھے مار دیا (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) کتے نے مجھے کھا لیا، یہ اس وقت کی بات ہے جب انہیں زخمی کر دیا گیا، پھر وہ شخص اس خنجر کو لے کر بھاگا جو دونوں طرف سے دھار والا تھا، وہ دائیں یا بائیں جس بھی شخص کے پاس سے گزرا اسے زخمی کیا، یہاں تک کہ اس نے تیرہ آدمیوں کو زخمی کر دیا جن میں سے نو افراد فوت ہو گئے۔ مسلمانوں میں سے ایک شخص نے جب یہ صورت حال دیکھی تو اس نے اس کے اوپر کمبل ڈال دیا، جب اس شخص کو یہ اندازہ ہو گیا کہ اب وہ پکڑا جائے گا تو اس نے خودکشی کر لی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر انہیں آگے کیا، جو لوگ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے قریب کھڑے تھے انہوں نے تو وہ بات دیکھ لی جو میں نے بھی دیکھی تھی، لیکن جو لوگ مسجد کے (دور دراز کے) کناروں میں تھے انہیں پتا نہیں چل سکا کہ کیا ہوا ہے، صرف یہ ہوا کہ انہیں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی آواز آنا بند ہو گئی تو وہ سبحان اللہ سبحان اللہ کہنے لگے، پھر سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو مختصر نماز پڑھائی، جب لوگوں نے نماز مکمل کی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے ابن عباس! اس بات کا جائزہ لو کہ مجھے کس نے قتل کیا ہے؟ تھوڑی دیر بعد آ کر انہوں نے بتایا: سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے غلام نے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اسے برباد کرے! میں نے اسے بھلائی کی بات کا حکم دیا تھا۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہر طرح کی حمد اس اللہ کے لیے مخصوص ہے جس نے میری موت کسی ایسے شخص کے ہاتھوں نہیں کی جو اسلام کا دعوے دار ہو، تم اور تمہارے والد (یعنی سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ) اس بات کو پسند کرتے تھے کہ مدینہ منورہ میں غلاموں کی تعداد زیادہ ہو۔ (راوی کہتے ہیں:) سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے غلام سب سے زیادہ تھے، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اٹھا کر ان کے گھر پہنچایا گیا تو یوں محسوس ہوتا تھا کہ اس دن سے پہلے لوگوں کو کبھی کوئی مصیبت لاحق ہوئی ہی نہیں، کوئی شخص یہ کہتا تھا: ہمیں ان کے بارے میں اندیشہ ہے (کہ کہیں یہ شہید نہ ہو جائیں)، کوئی شخص یہ کہتا تھا: کوئی حرج نہیں (یعنی یہ ٹھیک ہو جائیں گے)۔ پھر نبیذ لائی گئی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے پیا تو وہ ان کے زخم سے باہر آ گئی، پھر دودھ لایا گیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے پیا تو وہ بھی ان کے زخم سے باہر آ گیا، تو لوگوں کو یہ اندازہ ہو گیا کہ یہ فوت ہو جائیں گے۔ ہم لوگ ان کے ارد گرد اکٹھے ہو گئے، لوگ آتے اور ان کی تعریف کرتے، ایک نوجوان شخص آیا اور بولا: اے امیر المؤمنین! آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بشارت ہو کیونکہ آپ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت نصیب ہوئی، آپ کو ابتدا میں اسلام قبول کرنے کا شرف حاصل ہوا اور آپ نے (اسلام کے لیے) خدمات سرانجام دیں، پھر جب آپ خلیفہ بنائے گئے تو آپ نے انصاف سے کام لیا اور اب آپ کو شہادت نصیب ہو رہی ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے میرے بھتیجے! میری یہ خواہش ہے کہ یہ معاملہ برابری کی بنیاد پہ ہو، نہ میرے ذمے کوئی چیز لازم ہو اور نہ ہی میرے حق میں کوئی چیز ہو۔ جب وہ شخص مڑ کر جانے لگا تو اس کا تہبند زمین کو چھو رہا تھا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس نوجوان کو میرے پاس واپس بلاؤ۔ آپ نے فرمایا: اے میرے بھتیجے! تم اپنے کپڑے کو (زمین سے اوپر کر لو کیونکہ اس طرح تمہارا کپڑا صاف بھی رہے گا اور تم اپنے پروردگار کی بارگاہ میں پرہیزگار بھی شمار کیے جاؤ گے)۔ اے عبداللہ! اس بات کا جائزہ لو کہ میرے ذمے کتنا قرض لازم ہے؟ جب لوگوں نے اس کا حساب کیا تو وہ چھیاسی ہزار (درہم ان کے ذمے واجب الادا تھے)۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر تو عمر کی اولاد کا مال اسے پوری طرح ادا کر سکتا ہو تو ان کے اموال میں سے اسے ادا کیا جائے، ورنہ بنو عدی بن کعب سے اس کا مطالبہ کیا جائے، اگر ان کے اموال بھی اسے پورا ادا نہ کر سکیں تو پھر قریش سے اس کا مطالبہ کیا جائے لیکن قریش کے علاوہ کسی اور سے اس بارے میں مطالبہ نہ کیا جائے، تم ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس جاؤ اور ان سے یہ کہو کہ عمر آپ کو سلام پیش کرتا ہے، یہ نہ کہنا کہ امیر المؤمنین نے سلام کہا ہے، کیونکہ اب میں کسی مومن کا امیر نہیں رہا، تم یہ کہنا: عمر بن خطاب یہ اجازت مانگ رہا ہے کہ اسے اس کے دونوں ساتھیوں کے ساتھ دفن کیا جائے گا۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے سلام کیا، پھر انہوں نے اجازت مانگی تو انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو روتے ہوئے پایا۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: عمر بن خطاب آپ سے اجازت مانگ رہے ہیں کہ انہیں ان کے دونوں ساتھیوں کے ساتھ دفن کر دیا جائے۔ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اللہ کی قسم! میرا ارادہ خود یہاں دفن ہونے کا تھا، لیکن میں آج ان کو اپنے اوپر ترجیح دیتی ہوں۔ جب سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما واپس آئے تو بتایا گیا: عبداللہ آ گئے ہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم لوگ مجھے بٹھاؤ۔ ایک شخص نے آپ کو ٹیک دی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کیا جواب دیا؟ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے عرض کی: وہی اے امیر المؤمنین! جو آپ کو پسند ہے، انہوں نے آپ کو اجازت دے دی ہے۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ہر طرح کی حمد اللہ کے لیے ہے، اس جگہ دفن ہونے سے زیادہ اہم میرے لیے اور کوئی چیز نہیں تھی، جب میں مر جاؤں تو تم پھر سلام کہنا اور یہ کہنا: عمر بن خطاب اندر آنے کی اجازت طلب کر رہا ہے، اگر وہ مجھے اجازت دے دیں تو تم مجھے اندر لے جانا اور اگر وہ مجھے لوٹا دیں تو تم مجھے مسلمانوں کے قبرستان کی طرف لے جانا۔ پھر ام المؤمنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا تشریف لائیں، دیگر خواتین نے انہیں اپنی اوٹ میں لیا ہوا تھا، جب ہم نے انہیں دیکھا تو ہم وہاں سے اٹھ گئے، وہ تھوڑی دیر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس رہیں، پھر مردوں نے اندر آنے کی اجازت مانگی تو وہ خواتین گھر کے اندرونی حصے میں چلی گئیں، پھر ہم نے گھر کے اندرونی حصے سے ان خواتین کے رونے کی آواز سنی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا گیا: اے امیر المؤمنین! آپ کوئی وصیت کر دیجیے اور کسی کو خلیفہ مقرر کر دیجیے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میرے خیال میں ان افراد سے زیادہ اس معاملے کا حقدار اور کوئی نہیں ہے، یہ وہ لوگ ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وصال فرمایا تھا تو آپ ان حضرات سے راضی تھے۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی، سیدنا طلحہ، سیدنا عثمان غنی، سیدنا زبیر بن عوام، سیدنا عبدالرحمن بن عوف اور سیدنا سعد رضی اللہ عنہم کے نام لیے، اللہ تعالیٰ ان حضرات سے راضی ہو۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ان کے ساتھ موجود رہے گا، لیکن اس کا حکومت کے ساتھ کوئی واسطہ نہیں ہوگا۔ یوں محسوس ہوا جیسے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی دلجوئی کرنا چاہتے تھے۔ اگر خلافت سعد کو مل گئی تو یہ ان کے لیے ہوگی ورنہ آپ حضرات میں سے جس کسی کو بھی امیر مقرر کیا جائے گا وہ ان سے مدد ضرور حاصل کرے، میں نے انہیں ان کے عاجز ہونے یا ان کی کسی خیانت کی وجہ سے معزول نہیں کیا تھا۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں اپنے بعد والے خلیفہ کو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنے کی تلقین کرتا ہوں اور اسے مہاجرین اولین (کا خاص خیال رکھنے) کے بارے میں وصیت کرتا ہوں کہ وہ ان کے حق کو جان لے اور ان کی حرمت کی حفاظت کرے، اور میں اس خلیفہ کو انصار کے بارے میں بھلائی کی تلقین کرتا ہوں جنہوں نے ان سے پہلے جگہ اور ایمان کو ٹھکانہ بنا لیا تھا کہ وہ خلیفہ ان میں سے اچھے لوگوں کی اچھائی کو قبول کرے اور برائی کرنے والے سے درگزر کرے، اور میں اس خلیفہ کو تمام علاقوں کے رہنے والوں کے بارے میں بھلائی کی تلقین کرتا ہوں کیونکہ یہ لوگ اسلام کے محافظ ہیں، مال کو حاصل کرنے والے ہیں، دشمن پر غیض و غضب کرنے والے ہیں، ان کا اضافی مال ان سے صرف رضامندی کے ساتھ ہی وصول کیا جائے، اور میں اس خلیفہ کو دیہاتیوں کے بارے میں بھلائی کی تلقین کرتا ہوں کیونکہ وہ عربوں کی اصل ہیں اور اسلام کا مادہ ہیں، ان کے اموال کی زکاۃ ان سے وصول کی جائے اور ان کے غریبوں کی طرف لوٹا دی جائے، میں اس خلیفہ کو اللہ کے ذمہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمہ کے بارے میں یہ تلقین کرتا ہوں کہ ان کے نام پر کیے گئے عہد کو پورا کیا جائے، ان کی طرف سے (دشمن) لوگوں کے ساتھ جنگ کی جائے اور ان لوگوں کو صرف ان کی طاقت کے مطابق پابند کیا جائے۔ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا تو ہم انہیں لے کر چلتے ہوئے آئے، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے سلام کیا اور یہ کہا: عمر اندر آنے کی اجازت چاہتا ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: انہیں اندر لے آؤ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اندر لے جایا گیا اور انہیں وہاں ان کے ساتھیوں کے ساتھ دفن کر دیا گیا، جب ان کے دفن سے فارغ ہو گئے اور لوگ واپس آ گئے تو یہ حضرات اکٹھے ہوئے۔ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آپ لوگ اپنے معاملے کو اپنے میں سے تین افراد کے لیے مخصوص کر دیں (یعنی تین لوگ اپنے حق سے دستبردار ہو جائیں)۔ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اپنا معاملہ علی کے سپرد کرتا ہوں۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اپنا معاملہ سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کے سپرد کرتا ہوں۔ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اپنا معاملہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے سپرد کرتا ہوں، تو یہ تین لوگ ہو گئے: سیدنا علی رضی اللہ عنہ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ، تو سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے باقی دو افراد سے کہا: آپ دونوں میں کون اس معاملے سے لاتعلق ہونا چاہے گا کہ وہ اسے دوسرے کے سپرد کر دے؟ اور اللہ تعالیٰ اس کا نگران ہو اور اسلام اس کا نگران ہو اور وہ اس بات کا جائزہ لے کہ وہ اس کے نزدیک ان سب سے افضل ہے اور وہ اس بارے میں امت کی بھلائی کے لیے زیادہ کوشش کرے گا۔ راوی کہتے ہیں: تو دونوں بزرگ یعنی سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ خاموش رہے، اس پر سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ لوگ اس معاملے کو میرے سپرد کر دیں اور اللہ کے نام پر یہ بات میرے ذمے لازم ہے کہ میں اس معاملے میں آپ میں سے افضل شخص کے انتخاب میں کوئی کوتاہی نہیں کروں گا۔ ان دونوں نے جواب دیا: جی ہاں۔ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ آئے تو سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ کو قدیم الاسلام ہونے کا شرف حاصل ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قرابت کا شرف حاصل ہے جیسا کہ آپ جانتے ہیں، تو اللہ کی قسم! آپ کے ذمے یہ بات لازم ہے کہ اگر میں آپ کو امیر بنا دوں تو آپ عدل سے کام لیں گے اور اگر میں آپ کو امیر نہ بناؤں تو آپ (امیر مقرر ہونے والے شخص) کی اطاعت و فرمانبرداری کریں گے۔ پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ آئے تو انہوں نے ان سے بھی اسی کی مانند کلمات کہے، جب سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے ان دونوں سے یہ عہد لے لیا تو انہوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ اپنا ہاتھ بڑھائیے۔ پھر انہوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لی، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لی، پھر تمام لوگ اندر آ گئے اور انہوں نے بھی سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6917]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1392، 3052، 3700، 4888، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6917، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 11517، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4093» «رقم طبعة با وزير 6878»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: خ (3700).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
64. ذكر عهد المصطفى صلى الله عليه وسلم إلى عثمان بن عفان ما يحل به من أمته بعده-
- ذکر کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان بن عفان کو اس عہد کی خبر دی جو ان کے بعد ان کی امت سے ان پر آئے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6918
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ: " وَدِدْتُ أَنَّ عِنْدِي بَعْضَ أَصْحَابِي، قَالَتْ: فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلا نَدْعُو لَكَ أَبَا بَكْرٍ؟ فَسَكَتَ، قُلْنَا: عُمَرُ؟ فَسَكَتَ، قُلْنَا: عَلِيٌّ؟ فَسَكَتَ، قُلْنَا: عُثْمَانُ؟ قَالَ: نَعَمْ"، قَالَتْ: فَأَرْسَلْنَا إِِلَى عُثْمَانَ، قَالَ: فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَلِّمُهُ وَوَجْهُهُ يَتَغَيَّرُ . قَالَ قَالَ قَيْسٌ : فَحَدَّثَنِي أَبُو سَهْلَةَ ، أَنَّ عُثْمَانَ ، قَالَ يَوْمَ الدَّارِ: إِِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" عَهِدَ إِِلَيَّ عَهْدًا، وَأَنَا صَابِرٌ عَلَيْهِ" ، قَالَ قَيْسٌ: كَانُوا يَرَوْنَ أَنَّهُ ذَلِكَ الْيَوْمُ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیماری کے دوران ارشاد فرمایا: میری یہ خواہش ہے کہ میرا کوئی صحابی میرے پاس موجود ہوتا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا ہم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بلوا دیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ ہم نے عرض کی: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ ہم نے کہا: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ ہم نے کہا: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، تو ہم نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو بلوایا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ بات چیت کرتے رہے اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے چہرے کا رنگ تبدیل ہوتا رہا۔ ابوسہلہ نامی راوی بیان کرتے ہیں کہ جب سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو گھر میں قید کر دیا گیا تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے یہ عہد لیا تھا، میں اس پر صبر سے کام لوں گا۔ قیس نامی راوی کہتے ہیں کہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اس سے مراد وہی دن تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6918]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6918، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 113، وأحمد فى (مسنده) برقم: 26437، والحميدي فى (مسنده) برقم: 270، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 32700» «رقم طبعة با وزير 6879»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «المشكاة» (6070)، «الظلال» (1175 و 1176).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
65. ذكر تسبيل عثمان بن عفان رومة على المسلمين-
- ذکر عثمان بن عفان کا رومہ کو مسلمانوں کے لیے وقف کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6919
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ إِِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، قَالا: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى أَبِي أُسَيْدٍ الأَنْصَارِيِّ، قَالَ:" سَمِعَ عُثْمَانُ أَنَّ وَفْدَ أَهْلَ مِصْرَ قَدْ أَقْبَلُوا فَاسْتَقْبَلَهُمْ، فَلَمَّا سَمِعُوا بِهِ، أَقْبَلُوا نَحْوَهُ إِِلَى الْمَكَانِ الَّذِي هُوَ فِيهِ، فَقَالُوا لَهُ: ادْعُ الْمُصْحَفَ، فَدَعَا بِالْمُصْحَفِ، فَقَالُوا لَهُ: افْتَحِ السَّابِعَةَ، قَالَ: وَكَانُوا يُسَمُّونَ سُورَةَ يُونُسَ السَّابِعَةَ، فَقَرَأَهَا حَتَّى أَتَى عَلَى هَذِهِ الآيَةِ: قُلْ أَرَأَيْتُمْ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ لَكُمْ مِنْ رِزْقٍ فَجَعَلْتُمْ مِنْهُ حَرَامًا وَحَلالا قُلْ آللَّهُ أَذِنَ لَكُمْ أَمْ عَلَى اللَّهِ تَفْتَرُونَ سورة يونس آية 59، قَالُوا لَهُ: قِفْ، أَرَأَيْتَ مَا حَمَيْتَ مِنَ الْحِمَى، آللَّهُ أَذِنَ لَكَ بِهِ أَمْ عَلَى اللَّهِ تَفْتَرِي؟ فَقَالَ: أَمْضِهِ، نَزَلَتْ فِي كَذَا وَكَذَا، وَأَمَّا الْحِمَى لإِِبِلِ الصَّدَقَةِ، فَلَمَّا وَلَدَتْ زَادَتْ إِِبِلُ الصَّدَقَةِ، فَزِدْتُ فِي الْحِمَى لَمَّا زَادَ فِي إِِبِلِ الصَّدَقَةِ، أَمْضِهِ، قَالُوا: فَجَعَلُوا يَأْخُذُونَهُ بِآيَةٍ آيَةٍ، فَيَقُولُ: أَمْضِهِ نَزَلَتْ فِي كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ لَهُمْ: مَا تُرِيدُونَ؟ قَالُوا: مِيثَاقَكَ، قَالَ: فَكَتَبُوا عَلَيْهِ شَرْطًا، فَأَخَذَ عَلَيْهِمْ أَنْ لا يَشُقُّوا عَصًا، وَلا يُفَارِقُوا جَمَاعَةً مَا قَامَ لَهُمْ بِشَرْطِهِمْ، وَقَالَ لَهُمْ: مَا تُرِيدُونَ؟ قَالُوا: نُرِيدُ أَنْ لا يَأْخُذَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ عَطَاءً، قَالَ: لا، إِِنَّمَا هَذَا الْمَالُ لِمَنْ قَاتَلَ عَلَيْهِ وَلِهَؤُلاءِ الشِّيُوخِ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَرَضُوا وَأَقْبَلُوا مَعَهُ إِِلَى الْمَدِينَةِ رَاضِينَ، قَالَ: فَقَامَ، فَخَطَبَ، فَقَالَ: أَلا مَنْ كَانَ لَهُ زَرْعٌ فَلْيَلْحَقْ بِزَرْعِهِ، وَمَنْ كَانَ لَهُ ضَرْعٌ فَلْيَحْتَلِبْهُ، أَلا إِِنَّهُ لا مَالَ لَكُمْ عِنْدَنَا، إِِنَّمَا هَذَا الْمَالُ لِمَنْ قَاتَلَ عَلَيْهِ، وَلِهَؤُلاءِ الشِّيُوخِ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَغَضِبَ النَّاسُ، وَقَالُوا: هَذَا مَكْرُ بَنِي أُمَيَّةَ، قَالَ: ثُمَّ رَجَعَ الْمِصْرِيُّونَ، فَبَيْنَمَا هُمْ فِي الطَّرِيقِ إِِذَا هُمْ بِرَاكِبٍ يَتَعَرَّضُ لَهُمْ، ثُمَّ يُفَارِقُهُمْ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِِلَيْهِمْ، ثُمَّ يُفَارِقُهُمْ وَيَسُبُّهُمْ، قَالُوا: مَا لَكَ، إِِنَّ لَكَ الأَمَانَ، مَا شَأْنُكَ؟ قَالَ: أَنَا رَسُولُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ إِِلَى عَامِلِهِ بِمِصْرَ، قَالَ: فَفَتَّشُوهُ، فَإِِذَا هُمْ بِالْكِتَابِ عَلَى لِسَانِ عُثْمَانَ عَلَيْهِ خَاتَمُهُ إِِلَى عَامِلِهِ بِمِصْرَ أَنْ يَصْلِبَهُمْ أَوْ يَقْتُلَهُمْ أَوْ يَقْطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ، فَأَقْبَلُوا حَتَّى قَدِمُوا الْمَدِينَةَ فَأَتَوْا عَلِيًّا، فَقَالُوا: أَلَمْ تَرَ إِِلَى عَدُوِّ اللَّهِ كَتَبَ فِينَا بِكَذَا وَكَذَا، وَإِِنَّ اللَّهَ قَدْ أَحَلَّ دَمَهُ، قُمْ مَعَنَا إِِلَيْهِ، قَالَ: وَاللَّهِ لا أَقُومُ مَعَكُمْ، قَالُوا: فَلِمَ كَتَبْتَ إِِلَيْنَا؟ قَالَ: وَاللَّهِ مَا كَتَبْتُ إِِلَيْكُمْ كِتَابًا قَطُّ، فَنَظَرَ بَعْضُهُمْ إِِلَى بَعْضٍ، ثُمَّ قَالَ بَعْضُهُمْ إِِلَى بَعْضٍ: أَلِهَذَا تُقَاتِلُونَ، أَوْ لِهَذَا تَغْضَبُونَ؟ فَانْطَلَقَ عَلِيٌّ فَخَرَجَ مِنَ الْمَدِينَةِ إِِلَى قَرْيَةٍ، وَانْطَلَقُوا حَتَّى دَخَلُوا عَلَى عُثْمَانَ، فَقَالُوا: كَتَبْتَ بِكَذَا وَكَذَا؟ فَقَالَ: إِِنَّمَا هُمَا اثْنَتَانِ، أَنْ تُقِيمُوا عَلَيَّ رَجُلَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، أَوْ يَمِينِي بِاللَّهِ الَّذِي لا إِِلَهَ إِِلا اللَّهُ مَا كَتَبْتُ وَلا أَمْلَيْتُ وَلا عَلِمْتُ، وَقَدْ تَعْلَمُونَ أَنَّ الْكِتَابَ يُكْتَبُ عَلَى لِسَانِ الرَّجُلِ، وَقَدْ يُنْقَشُ الْخَاتَمُ عَلَى الْخَاتَمِ، فَقَالُوا: وَاللَّهِ، أَحَلَّ اللَّهُ دَمَكَ، وَنَقَضُوا الْعَهْدَ وَالْمِيثَاقَ فَحَاصَرُوهُ، فَأَشْرَفَ عَلَيْهِمْ ذَاتَ يَوْمٍ، فَقَالَ: السَّلامُ عَلَيْكُمْ، فَمَا أَسْمَعُ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ رَدَّ عَلَيْهِ السَّلامَ، إِِلا أَنْ يَرُدَّ رَجُلٌ فِي نَفْسِهِ، فَقَالَ:" أَنْشُدُكُمُ اللَّهَ، هَلْ عَلِمْتُمْ أَنِّي اشْتَرَيْتُ رُومَةَ مِنْ مَالِي، فَجَعَلْتُ رِشَائِي فِيهَا كَرِشَاءِ رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ؟ قِيلَ: نَعَمْ، قَالَ: فَعَلامَ تَمْنَعُونِي أَنْ أَشْرَبَ مِنْهَا حَتَّى أُفْطِرَ عَلَى مَاءِ الْبَحْرِ؟ أَنْشُدُكُمُ اللَّهَ، هَلْ عَلِمْتُمْ أَنِّي اشْتَرَيْتُ كَذَا وَكَذَا مِنَ الأَرْضِ فَزِدْتُهُ فِي الْمَسْجِدِ؟ قِيلَ: نَعَمْ، قَالَ: فَهَلْ عَلِمْتُمْ أَنَّ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ مُنِعَ أَنْ يُصَلِّيَ فِيهِ قَبْلِي؟"، أَنْشُدُكُمُ اللَّهَ، هَلْ سَمِعْتُمْ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ كَذَا وَكَذَا؟ أَشْيَاءَ فِي شَأْنِهِ عَدَّدَهَا، قَالَ: وَرَأَيْتُهُ أَشْرَفَ عَلَيْهِمْ مَرَّةً أُخْرَى فَوَعَظَهُمْ وَذَكَّرَهُمْ، فَلَمْ تَأْخُذْ مِنْهُمُ الْمَوْعِظَةُ، وَكَانَ النَّاسُ تَأْخُذُ مِنْهُمُ الْمَوْعِظَةُ فِي أَوَّلِ مَا يَسْمَعُونَهَا، فَإِِذَا أُعِيدَتْ عَلَيْهِمْ لَمْ تَأْخُذْ مِنْهُمْ، فَقَالَ لامْرَأَتِهِ: افْتَحِي الْبَابَ، وَوَضَعَ الْمُصْحَفَ بَيْنَ يَدَيْهِ، وَذَلِكَ أَنَّهُ رَأَى مِنَ اللَّيْلِ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ لَهُ: أَفْطِرْ عِنْدَنَا اللَّيْلَةَ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ، فَقَالَ: بَيْنِي وَبَيْنَكَ كِتَابُ اللَّهِ، فَخَرَجَ وَتَرَكَهُ، ثُمَّ دَخَلَ عَلَيْهِ آخَرُ، فَقَالَ: بَيْنِي وَبَيْنَكَ كِتَابُ اللَّهِ، وَالْمُصْحَفُ بَيْنَ يَدَيْهِ، قَالَ: فَأَهْوَى لَهُ بِالسَّيْفِ، فَاتَّقَاهُ بِيَدِهِ فَقَطَعَهَا، فَلا أَدْرِي أَقْطَعَهَا وَلَمْ يُبِنْهَا، أَمْ أَبَانَهَا؟ قَالَ عُثْمَانُ: أَمَا وَاللَّهِ إِِنَّهَا لأَوَّلُ كَفٍّ خَطَّتِ الْمُفَصَّلَ ، وَفِي غَيْرِ حَدِيثِ أَبِي سَعِيدٍ: فَدَخَلَ عَلَيْهِ التُّجِيبِيُّ فَضَرَبَهُ مِشْقَصًا، فَنَضَحَ الدَّمُ عَلَى هَذِهِ الآيَةِ: فَسَيَكْفِيكَهُمُ اللَّهُ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ سورة البقرة آية 137، قَالَ: وَإِِنَّهَا فِي الْمُصْحَفِ مَا حُكَّتْ، قَالَ: وَأَخَذَتْ بِنْتُ الْفُرَافِصَةِ، فِي حَدِيثِ أَبِي سَعِيدٍ: حُلِيَّهَا وَوَضَعَتْهُ فِي حِجْرِهَا، وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يُقْتَلَ، فَلَمَّا قُتِلَ، تَفَاجَّتْ عَلَيْهِ، قَالَ بَعْضُهُمْ: قَاتَلَهَا اللَّهُ، مَا أَعْظَمَ عَجِيزَتَهَا، فَعَلِمْتُ أَنَّ أَعْدَاءَ اللَّهِ لَمْ يُرِيدُوا إِِلا الدُّنْيَا.
ابوسعید جو سیدنا ابواسید انصاری رضی اللہ عنہ کے غلام ہیں وہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو سنا، اہل مصر کا وفد آیا، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اس کا استقبال کیا، جب انہوں نے آپ کے احکام سن لیے تو وہ اس مقام کی طرف گئے جس میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ موجود تھے، ان لوگوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ قرآن پاک منگوائیے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے قرآن منگوایا تو انہوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ ساتویں سورت کھولیے، وہ لوگ سورۃ یونس کو ساتویں سورت کا نام دیتے تھے، انہوں نے تلاوت شروع کی یہاں تک کہ اس آیت تک پہنچے: ﴿قُلْ أَرَأَيْتُمْ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ لَكُمْ مِنْ رِزْقٍ فَجَعَلْتُمْ مِنْهُ حَرَامًا وَحَلَالًا قُلْ آللَّهُ أَذِنَ لَكُمْ أَمْ عَلَى اللَّهِ تَفْتَرُونَ﴾ [سورة يونس: 59] تم یہ فرما دو تمہارا کیا خیال ہے اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے جو رزق نازل کیا ہے اور اس میں سے کچھ چیزوں کو حرام قرار دیا ہے اور کچھ کو حلال قرار دیا ہے، تو تم یہ فرما دو کہ کیا اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس بات کی اجازت دی ہے یا تم اللہ تعالیٰ کی طرف جھوٹی بات منسوب کرتے ہو۔ ان لوگوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے کہا: ٹھہر جائیے! آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا آپ نے کوئی چراگاہ مخصوص کی ہے؟ کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس بات کی اجازت دی ہے یا آپ اللہ تعالیٰ کی طرف جھوٹی بات منسوب کر رہے ہیں؟ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم لوگ آگے چلو، یہ آیت فلاں فلاں چیز کے بارے میں نازل ہوئی تھی، جہاں تک چراگاہ کا تعلق ہے، تو وہ صدقے کے اونٹوں کے لیے ہے، جب وہ بچے کو جنم دیں گے تو صدقے کے اونٹ زیادہ ہو جائیں گے، تو صدقے کے اونٹوں میں اضافہ ہونے کی وجہ سے میں نے چراگاہ میں بھی اضافہ کر دیا، تم لوگ آگے چلو۔ تو وہ لوگ ایک ایک آیت لیتے رہے اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ یہ کہتے رہے: تم لوگ آگے چلو (یا تم جاری رکھو) یہ آیت فلاں فلاں چیز کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے دریافت کیا: تم لوگ کیا چاہتے ہو؟ انہوں نے کہا: ہم آپ سے پختہ عہد لینا چاہتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں: تو ان لوگوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے شرائط تحریر کیں۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے عہد لیا کہ وہ عصا کو (یعنی مسلمانوں کی اجتماعیت کو) توڑیں گے نہیں اور ان کی جماعت سے علیحدگی اختیار نہیں کریں گے، جب تک سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ ان کی شرائط کی پاس داری کرتے رہیں گے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے دریافت کیا: تم لوگ کیا چاہتے ہو؟ انہوں نے کہا: ہم لوگ یہ چاہتے ہیں کہ اہل مدینہ تنخواہ نہ لیا کریں۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ نہیں ہو سکتا، کیونکہ یہ وہ مال ہے جو اس شخص کو ملے گا جس نے جنگ میں حصہ لیا ہو اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے تعلق رکھنے والے عمر رسیدہ افراد کو ملے گا۔ راوی کہتے ہیں: تو وہ لوگ راضی ہو گئے اور وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ مدینہ منورہ کی طرف راضی ہوتے ہوئے آئے۔ راوی کہتے ہیں: پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، انہوں نے خطبہ دیا اور فرمایا: خبردار! جس شخص کی زرعی زمین ہو وہ اپنی زرعی زمین پر چلا جائے اور جس شخص کے پاس جانور ہوں وہ ان کا دودھ دوہ لے، خبردار! تمہارا کوئی مال ہمارے پاس نہیں ہے، یہ مال اس شخص کو ملے گا جس نے جنگ میں حصہ لیا ہو اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے تعلق رکھنے والے بزرگوں کو ملے گا۔ راوی کہتے ہیں: تو وہ لوگ غصے میں آ گئے اور بولے: یہ تو بنو امیہ کا فریب ہے۔ راوی کہتے ہیں: پھر مصری لوگ واپس چلے گئے، ابھی وہ راستے میں ہی تھے کہ اسی دوران ایک سوار ان کے سامنے آیا، پھر وہ ان سے جدا ہو گیا، پھر وہ واپس ان کے پاس آیا، پھر وہ ان سے جدا ہو گیا اور انہیں برا کہنے لگا۔ ان لوگوں نے دریافت کیا: تمہارا کیا معاملہ ہے؟ تمہیں امان حاصل ہے، تمہارا کیا معاملہ ہے؟ اس نے کہا: میں امیر المؤمنین کا قاصد ہوں جو مصر کے گورنر کی طرف جا رہا ہوں۔ راوی کہتے ہیں: ان لوگوں نے اس شخص کی تلاشی لی تو اس کے پاس ایک خط موجود تھا جو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف سے لکھا گیا تھا، اس پر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی مہر بھی لگی ہوئی تھی، یہ مصر کے گورنر کے نام خط تھا کہ وہ ان مصریوں کو پھانسی دے دے یا انہیں قتل کروا دے یا ان کے ہاتھ اور پاؤں کٹوا دے، تو وہ لوگ واپس آئے، یہاں تک کہ مدینہ منورہ آ گئے۔ وہ لوگ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور بولے: کہ آپ نے اللہ کے اس دشمن کی طرف دیکھا کہ اس نے ہمارے بارے میں اس اس طرح کا خط لکھا ہے، بے شک اللہ تعالیٰ نے اس کے خون کو حلال قرار دیا ہے، آپ ہمارے ساتھ اٹھ کر ان کی طرف جائیے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! میں تمہارے ساتھ نہیں اٹھوں گا۔ ان لوگوں نے کہا: پھر آپ نے ہماری طرف خط کیوں لکھا تھا؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں نے تو تمہیں کبھی کوئی خط نہیں لکھا۔ تو وہ ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے، پھر ان میں سے کسی ایک نے دوسرے سے کہا: کیا تم اس شخص کے لیے جنگ کرنا چاہتے ہو (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) اس شخص کے لیے غصہ کرتے ہو۔ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ اٹھے اور مدینہ منورہ سے باہر ایک بستی کی طرف تشریف لے گئے، وہ لوگ اٹھے اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور بولے: آپ نے اس اس طرح کا خط لکھا ہے؟ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: دو صورتیں ہیں یا تو یہ ہے: تم مسلمانوں میں سے دو آدمیوں کو میرے خلاف گواہ کے طور پر پیش کر دو، یا پھر یہ ہے: میں اللہ کے نام کی قسم اٹھا کر یہ کہتا ہوں جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے کہ نہ تو میں نے خط لکھا ہے، نہ اسے املا کروایا ہے اور نہ ہی مجھے اس کا علم ہے، تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ کسی دوسرے کے نام سے بھی خط لکھا جا سکتا ہے اور ایک انگوٹھی کے مطابق دوسری انگوٹھی کا نقش بنوایا جا سکتا ہے۔ ان لوگوں نے کہا: اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ نے آپ کے خون کو حلال قرار دے دیا ہے، پھر ان لوگوں نے عہد اور کیے ہوئے معاہدے کو توڑ دیا اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا محاصرہ کر لیا۔ ایک دن سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کی طرف جھانک کر دیکھا اور بولے: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ» (راوی کہتے ہیں:) میں نے کسی شخص کو نہیں سنا جس نے ان کے سلام کا جواب دیا ہو، ماسوائے اس کے کہ کسی نے دل میں سلام کا جواب دے دیا ہو۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تم لوگوں کو اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں، کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ میں نے رومہ نامی کنواں اپنے مال میں سے خریدا تھا اور اس کے بارے میں اپنے ڈول کو مسلمانوں کے عام فرد کے ڈول کی مانند کر دیا تھا (یعنی اس کے پانی کو سب کے لیے وقف کر دیا تھا)؟ تو کہا گیا: جی ہاں۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تو پھر تم کس بنیاد پر مجھے اس بات سے روک رہے ہو کہ میں اس میں سے پیوں، یہاں تک کہ میں نے سمندر کے پانی (یعنی کھارے پانی) کے ذریعے افطاری کی ہے؟ میں تم لوگوں کو اللہ کے نام کا واسطہ دے کر یہ دریافت کرتا ہوں، کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ میں نے اتنی اتنی رقم کے عوض میں زمین خرید کر مسجد میں توسیع کی تھی؟ جواب دیا گیا: جی ہاں۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ مجھ سے پہلے کسی شخص کو اس مسجد میں نماز پڑھنے سے روکا گیا ہو؟ میں تم لوگوں کو اللہ کے نام کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں، کیا تم نے اللہ کے نبی کو یہ یہ بات ذکر کرتے ہوئے نہیں سنا؟ پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنی ذات کے بارے میں کچھ چیزوں کا ذکر کیا اور انہیں شمار کروایا۔ راوی کہتے ہیں: پھر میں نے انہیں دیکھا کہ انہوں نے دوسری مرتبہ جھانک کر لوگوں کی طرف دیکھا، انہیں وعظ و نصیحت کی، انہیں تلقین کی لیکن کسی نے ان کے وعظ کو قبول نہیں کیا، جب انہوں نے پہلی مرتبہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے وعظ سنا تھا اور لوگوں نے اسے قبول کیا تھا، لیکن جب دوبارہ ان کے سامنے دہرایا گیا تو پھر لوگوں نے اسے قبول نہیں کیا۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنی اہلیہ سے کہا: تم دروازہ کھولو۔ انہوں نے مصحف اپنے آگے رکھ لیا، اس کی وجہ یہ تھی انہوں نے رات خواب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان سے فرما رہے ہیں: آج شام تم نے ہمارے ساتھ افطاری کرنی ہے۔ پھر ایک شخص اندر ان کے پاس آیا تو انہوں نے فرمایا: میرے اور تمہارے درمیان اللہ کی کتاب ہے، تو وہ شخص نکل گیا، اس نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو چھوڑ دیا، پھر دوسرا شخص ان کے پاس اندر آیا تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے اور تمہارے درمیان اللہ کی کتاب موجود ہے، اس وقت قرآن مجید ان کے آگے رکھا ہوا تھا۔ راوی کہتے ہیں: تو اس شخص نے اپنی تلوار کو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف لہرایا، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھ کے ذریعے بچنے کی کوشش کی، اس نے ان کا ہاتھ کاٹ دیا، مجھے نہیں معلوم کہ اس نے اسے مکمل طور پر کاٹ دیا یا کچھ حصہ کاٹا۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! یہ وہ پہلی ہتھیلی تھی جس نے مفصل (سورتوں) کو تحریر کیا تھا۔ ابوسعید کے علاوہ دوسری روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ تجیبی نامی شخص اندر داخل ہوا، اس نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو قینچی ماری، اس کے نتیجے میں خون نکل کر اس آیت پر گرا: ﴿فَسَيَكْفِيكَهُمُ اللَّهُ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ﴾ [سورة البقرة: 137] تو عنقریب ان لوگوں کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ تمہارے لیے کافی ہو گا اور وہ سنے والا اور علم رکھنے والا ہے۔ خون کا یہ نشان اس قرآن مجید میں موجود ہے، اسے مٹایا نہیں گیا۔ ابوسعید کی روایت میں یہ الفاظ موجود ہیں: فرافصہ کی صاحب زادی (شاید اس سے مراد سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی اہلیہ ہے) رضی اللہ عنہا نے اپنا زیور لیا اور اسے اپنی گود میں رکھ لیا، یہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے شہید ہونے سے پہلے کی بات ہے، جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا تو وہ ان پر آہ و بکاہ کرنے لگی، اس پر کسی نے کہا: اللہ تعالیٰ اسے برباد کرے، اس کے سرین کتنے بڑے ہیں! اس سے مجھے پتا چلا کہ اللہ کے دشمنوں کا مقصد صرف دنیا ہوتی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6919]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2493، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6919، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 3319، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 11928، والبزار فى (مسنده) برقم: 389، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 4372، وأخرجه ابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 38845، وأخرجه الطحاوي فى (شرح مشكل الآثار) برقم: 5018» «رقم طبعة با وزير 6880»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - لجهالة أبي سعيد. * قال الشيخ: رجاله ثقات؛ غير أبي سعيد - مولى أبي أُسيد الأنصاري -، لم يُوثِّقهُ غير المؤلِّف (5/ 588)، ولم يَروِ عنه غير أبيه نَضْرَةَ؛ فهو مَجهولُ. وقد انشغلَ الحافظ في «لإصابة» عن بيان حالِه بالردِّ على من ادَّعى أنَّهُ صحابيٌّ! وحديث غيره - الَّذي في آخرِه - لم أَعْرِفْهُ!
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
Null
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
66. ذكر مغفرة الله جل وعلا لعثمان بن عفان رضي الله عنه بتسبيله رومة-
- ذکر کہ اللہ جل وعلا نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو رومہ وقف کرنے پر مغفرت عطا کی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6920
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِِدْرِيسَ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ جَاوَانَ ، عَنِ الأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ: قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ فَجَاءَ عُثْمَانُ ، فَقِيلَ: هَذَا عُثْمَانُ، وَعَلَيْهِ مُلَيَّةٌ لَهُ صَفْرَاءُ قَدْ قَنَّعَ بِهَا رَأْسَهُ، قَالَ: هَا هُنَا عَلِيٌّ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: هَا هُنَا طَلْحَةُ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي لا إِِلَهَ إِِلا هُوَ، أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنِ ابْتَاعَ مِرْبَدَ بَنِي فُلانٍ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ، فَابْتَعْتُهُ بِعِشْرِينَ أَلْفًا أَوْ خَمْسَةً وَعِشْرِينَ أَلْفًا؟ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ لَهُ: قَدِ ابْتَعْتُهُ، فَقَالَ: اجْعَلْهُ فِي مَسْجِدِنَا، وَأَجْرُهُ لَكَ؟ قَالَ: فَقَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ، قَالَ: فَقَالَ: أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي لا إِِلَهَ إِِلا هُوَ، أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ يَبْتَاعُ رُومَةَ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ، فَابْتَعْتُهَا بِكَذَا وَكَذَا، ثُمَّ أَتَيْتُهُ، فَقُلْتُ: قَدِ ابْتَعْتُهَا، فَقَالَ: اجْعَلْهَا سِقَايَةً لِلْمُسْلِمِينَ، وَأَجْرُهَا لَكَ؟ قَالَ: فَقَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ، قَالَ: أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي لا إِِلَهَ إِِلا هُوَ، أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَظَرَ فِي وُجُوهِ الْقَوْمِ، فَقَالَ: مَنْ جَهَّزَ هَؤُلاءِ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ يَعْنِي جَيْشَ الْعُسْرَةِ، فَجَهَّزْتُهُمْ حَتَّى لَمْ يَفْقِدُوا عِقَالا وَلا خِطَامًا؟ قَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ، قَالَ: اللَّهُمَّ اشْهَدْ، ثَلاثًا" .
احنف بن قیس بیان کرتے ہیں: ہم لوگ مدینہ منورہ آئے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ تشریف لائے۔ کہا گیا: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے ہیں، انہوں نے زرد رنگ کی چادر اوڑھی ہوئی تھی اور اس کے ذریعے اپنا سر ڈھانپا ہوا تھا۔ انہوں نے دریافت کیا: کیا یہاں علی (رضی اللہ عنہ) ہیں؟ لوگوں نے جواب دیا: جی ہاں۔ انہوں نے دریافت کیا: کیا یہاں طلحہ (رضی اللہ عنہ) ہیں؟ لوگوں نے جواب دیا: جی ہاں۔ انہوں نے فرمایا: میں تم لوگوں کو اللہ کے نام کا واسطہ دے کر یہ پوچھتا ہوں جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی تھی: کون شخص بنو فلاں کی زمین خریدے گا، تو اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت کر دے گا؟ تو میں نے بیس ہزار (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) 25 ہزار کے عوض میں اسے خریدا تھا، پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی: میں نے اسے خرید لیا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اسے ہماری مسجد کے لیے دے دو، اس کا اجر تمہیں ملے گا۔ راوی کہتے ہیں: تو ان حضرات نے جواب دیا: اللہ کی قسم! ایسا ہی ہے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں آپ لوگوں کو اللہ کے نام کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، کیا آپ لوگ یہ بات جانتے ہو کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی: کون شخص (رومہ نامی کنویں کو) خریدے گا، تو اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت کر دے گا؟ تو میں نے اسے اتنی اتنی رقم کے عوض میں خرید لیا، پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے عرض کی: میں نے اسے خرید لیا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اسے مسلمانوں کے لیے (وقف) کر دو، اس کا اجر تمہیں ملے گا۔ راوی کہتے ہیں: تو ان لوگوں نے جواب دیا: اللہ کی قسم! ایسا ہی ہے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں آپ لوگوں کو اس اللہ کے نام کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، کیا آپ لوگ یہ بات جانتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی صورت حال دیکھی اور فرمایا: کون ان لوگوں کو ساز و سامان فراہم کرے گا؟ اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت کر دے گا؟ ان کی مراد غزوہ تبوک تھا، (سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا:) تو میں نے ان لوگوں کو ساز و سامان فراہم کیا، یہاں تک کہ انہیں رسی اور لگام تک فراہم کیے، تو لوگوں نے جواب دیا: اللہ کی قسم! ایسا ہی ہے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے اللہ! تو گواہ ہو جا۔ یہ بات انہوں نے تین مرتبہ کہی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6920]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2487، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6920، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3182، البيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 12054، والدارقطني فى (سننه) برقم: 4436، وأحمد فى (مسنده) برقم: 518» «رقم طبعة با وزير 6881»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «المشكاة» (6066 / التحقيق الثاني).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
67. ذكر علي بن أبي طالب بن عبد المطلب الهاشمي رضوان الله عليه وقد فعل-
- ذکر علی بن ابی طالب بن عبد المطلب ہاشمی رضی اللہ عنہ اور اس پر اللہ کی رحمت، اور یہ ہوا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6921
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ، أَنَّ فَاطِمَةَ شَكَتْ مِمَّا تَلْقَى مِنْ أَثَرِ الرَّحَى، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْيٌ، فَانْطَلَقَتْ، فَلَمْ تَجِدْهُ، فَوَجَدَتْ عَائِشَةَ، فَأَخْبَرَتْهَا، فَلَمَّا جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ عَائِشَةُ بِمَجِيءِ فَاطِمَةَ، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِِلَيْنَا وَقَدْ أَخَذْنَا مَضَاجِعَنَا، فَذَهَبْتُ لأَقُومَ، فَقَالَ: عَلَى مَكَانِكُمَا، فَقَعَدَ بَيْنَنَا حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَ قَدَمَيْهِ عَلَى صَدْرِي، فَقَالَ:" أَلا أُعَلِّمُكُمَا خَيْرًا مِمَّا سَأَلْتُمَانِي، إِِذَا أَخَذْتُمَا مَضَاجِعَكُمَا، فَكَبِّرَا أَرْبَعًا وَثَلاثِينَ، وَسَبِّحَا ثَلاثًا وَثَلاثِينَ، وَتَحَمَّدَا ثَلاثًا وَثَلاثِينَ، فَهُوَ خَيْرٌ لَكُمَا مِنْ خَادِمٍ" .
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے چکی چلانے کی وجہ سے پیش آنے والی مشکل کی شکایت کی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کچھ قیدی آئے تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا تشریف لے گئیں، ان کی ملاقات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں ہوئی، ان کی ملاقات سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ہوئی، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو اپنی ضرورت کے بارے میں بتا دیا، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے آنے کے بارے میں بتایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے، اس وقت ہم اپنے بستر پر لیٹ چکے تھے، میں اٹھنے لگا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنی جگہ پر رہو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان بیٹھ گئے، یہاں تک کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں قدموں کی ٹھنڈک اپنے سینے پر محسوس کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تم دونوں کو اس سے زیادہ بہتر چیز کے بارے میں تعلیم نہ دوں جس کے بارے میں تم نے مجھ سے دریافت کیا ہے (یعنی جو چیز تم نے مجھ سے مانگی ہے)؟ جب تم بستر پر جایا کرو تو ۳۴ مرتبہ «اللهُ أَكْبَرُ» اللہ بہت بڑا ہے، ۳۳ مرتبہ «سُبْحَانَ اللهِ» اللہ پاک ہے اور ۳۳ مرتبہ «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں پڑھ لیا کرو، یہ تم دونوں کے لیے خادم ملنے سے زیادہ بہتر ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6921]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3113، 3705، 5361، 5362، 6318، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2727، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5524، 5529، 6921، 6922، 6947، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2771، 4751، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3384، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2988، 5062، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3408، 3409، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4152، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 14835، وأحمد فى (مسنده) برقم: 606» «رقم طبعة با وزير 6882»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق - مضى (5499). تنبيه!! رقم (5499) = (5524) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
68. ذكر ما كان يلبس علي وفاطمة حينئذ بالليل-
- ذکر کہ علی اور فاطمہ رضی اللہ عنہما اس وقت رات کو کیا پہنتے تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6922
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ بِتُسْتَرَ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ يَحْيَى الْحَسَّانَيُّ ، حَدَّثَنَا أَزْهَرُ السَّمَّانُ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ عَبِيْدَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: شَكَتْ لِي فَاطِمَةُ مِنَ الطَّحِينِ، فَقُلْتُ لَوْ أَتَيْتِ أَبَاكِ فَسَأَلْتِيهِ خَادِمًا، قَالَ: فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ تُصَادِفْهُ، فَرَجَعَتْ مَكَانَهَا، فَلَمَّا جَاءَ أُخْبِرَ، فَأَتَانَا وَعَلَيْنَا قَطِيفَةٌ إِِذَا لَبِسْنَاهَا طُولا خَرَجَتْ مِنْهَا جُنُوبُنَا، وَإِِذَا لَبِسْنَاهَا عَرْضًا خَرَجَتْ مِنْهَا أَقْدَامُنَا وَرُءُوسُنَا، قَالَ: يَا فَاطِمَةُ، أُخْبِرْتُ أَنَّكِ جِئْتِ، فَهَلْ كَانَتْ لَكِ حَاجَةٌ؟ قَالَتْ: لا، قُلْتُ: بَلَى، شَكَتْ إِِلَيَّ مِنَ الطَّحِينِ، فَقُلْتُ: لَوْ أَتَيْتِ أَبَاكِ فَسَأَلْتِيهِ خَادِمًَا، فَقَالَ:" أَفَلا أَدُلُّكُمَا عَلَى مَا هُوَ خَيْرٌ لَكُمَا مِنْ خَادِمٍ؟ إِِذَا أَخَذْتُمَا مَضَاجِعَكُمَا تَقُولانِ ثَلاثًا وَثَلاثِينَ، وَثَلاثًا وَثَلاثِينَ، وَأَرْبَعًا وَثَلاثِينَ، تَسْبِيحَةً، وَتَحْمِيدَةً، وَتَكْبِيرَةً" .
سیدنا علی رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو چکی پیسنے میں مشکل پیش آتی تھی، میں نے کہا: اگر آپ اپنے والد کے پاس جائیں اور ان سے کوئی خادم مانگ لیں (تو یہ مناسب ہو گا)۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں لیکن ان کی ملاقات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں ہوئی تو وہ اپنے گھر واپس آ گئیں، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے، ہم نے اپنے اوپر ایک چادر لی ہوئی تھی کہ جب ہم لمبائی کی سمت میں اسے لیتے تھے تو ہمارے پہلو اس سے ظاہر ہو جاتے تھے اور جب ہم چوڑائی کی سمت میں لیتے تھے تو ہمارے پاؤں اور سر ظاہر ہو جاتے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے فاطمہ! مجھے پتہ چلا کہ تم آئی تھیں، کیا تمہیں کوئی کام تھا؟ انہوں نے عرض کی: جی نہیں۔ میں نے کہا: جی ہاں! انہوں نے میرے سامنے چکی پیسنے کی شکایت کی تھی، تو میں نے کہا: اگر تم اپنے والد کے پاس جاؤ اور ان سے کوئی خادم مانگ لو (تو یہ مناسب ہو گا)۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا میں تم دونوں کی رہنمائی اس چیز کی طرف نہ کروں جو تم دونوں کے لیے خادم ملنے سے زیادہ بہتر ہے؟ جب تم بستر پر جاؤ تو 33 مرتبہ «سُبْحَانَ اللّٰهِ» اللہ پاک ہے، 33 مرتبہ «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں اور 34 مرتبہ «اللّٰهُ أَكْبَرُ» اللہ سب سے بڑا ہے پڑھ لیا کرو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6922]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3113، 3705، 5361، 5362، 6318، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2727، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5524، 5529، 6921، 6922، 6947، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2771، 4751، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3384، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2988، 5062، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3408، 3409، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4152، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 14835، وأحمد فى (مسنده) برقم: 606» «رقم طبعة با وزير 6883»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «التعقيب على حجاب المودودي» (ص 427).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
69. ذكر البيان بأن أذى علي بن أبي طالب رضي الله عنه مقرون بأذى المصطفى صلى الله عليه وسلم-
- ذکر بیان کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا اذیت دینا مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کے اذیت دینے کے ساتھ مقرون ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6923
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا مَسْعُودُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ مَعْقِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نِيَارٍ الأَسْلَمِيِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شَاسٍ ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَدْ آذَيْتَنِي، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا أُحِبُّ أَنْ أُوذِيَكَ، قَالَ: " مَنْ آذَى عَلِيًّا، فَقَدْ آذَانِي" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: هَذَا هُوَ الْفَضْلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلِ بْنِ سِنَانٍ الأَشْجَعِيُّ، نَسَبَهُ ابْنُ إِِسْحَاقَ إِِلَى جَدِّهِ، وَمَسْعُودُ بْنُ سَعْدٍ الْجُعْفِيُّ كُوفِيٌّ كُنْيَتُهُ أَبُو سَعْدٍ.
سیدنا عمرو بن شاس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: تم نے مجھے تکلیف پہنچائی ہے، ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں یہ بات پسند نہیں کرتا کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی تکلیف پہنچاؤں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے علی کو تکلیف پہنچائی اس نے مجھے تکلیف پہنچائی۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ راوی فضل بن عبداللہ بن معقل بن سنان اشجعی ہے، ابن اسحاق نے اس کی نسبت اس کے دادا کی طرف کر دی ہے، جبکہ مسعود بن سعد نامی راوی جو کوفی ہے اس کی کنیت ابوسعد ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6923]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6923، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 4645، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16206، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 32771» «رقم طبعة با وزير 6884»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح لغيره - «الصحيحة» (2295).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں