🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
12. الْبَحْرُ هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ الْحِلُّ مَيْتَتُهُ
سمندر کا پانی پاک ہے اور اس کے مردہ جانور حلال ہیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 500
أخبرَنيهِ أبو محمد بن زياد العَدْل، حدثنا جدِّي، أخبرنا عمرو بن زُرَارة، حدثنا هُشَيم، عن يحيى بن سعيد، عن المغيرة بن أبي بُرْدة، عن رجل من بني مُدلِج، عن النبي ﷺ، نحوَه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے (بنو مدلج کے ایک شخص کے واسطے سے) سمندر کے پانی کے بارے میں اسی طرح کی روایت مروی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 500]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 501
أخبرَناه أبو الحسن محمد بن الحسن، أخبرنا علي بن عبد العزيز، حدثنا حجَّاج بن مِنْهال، حدثنا حمَّاد، عن يحيى بن سعيد، عن المغيرة بن عبد الله، عن أبيه، عن النبي ﷺ، نحوَه. وقال سليمان بن بلال عن يحيى بن سعيد: عن عبد الله بن المغيرة عن أبيه. وأما حديث يزيد بن محمد القرشي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 493 - احتج مسلم بالجلاح وَأَمَّا حَدِيثُ يَزِيدَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيُّ
مغیرہ بن عبداللہ نے اپنے والد کے واسطے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے۔ سلیمان بن بلال نے یحییٰ بن سعید سے روایت کرتے ہوئے عبداللہ بن مغیرہ عن ابیہ کا ذکر کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 501]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 502
فحدَّثَناه علي بن حَمْشاذ العَدْل، حدثنا عُبيد بن عبد الواحد، حدثنا ابن أبي مريم، أخبرني يحيى بن أيوب، حدثني خالد بن يزيد، أنَّ يزيد بن محمد القرشي حدثه عن المغيرة بن أبي بُرْدة، عن أبي هريرة قال: أتى نفرٌ إلى رسول الله ﷺ فقالوا: إنا نصيد في البحر ومعنا من الماء [العَذْب، فربَّما تخوَّفْنا العطشَ، فهل يَصلُحُ أن نتوضأَ من البحر المالح؟] (2) فقال:"نعم، توضَّؤُوا منه". وأما...... (1) البخاريُّ يزيدَ بن محمد القرشي هذا في"التاريخ"، وأنه قد روى عنه الليث بن أبي بردة (2) . فمنهم سعيد بن المسيّب:
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: ہم سمندر میں شکار کرتے ہیں اور ہمارے ساتھ میٹھا پانی ہوتا ہے، پس بسا اوقات ہمیں پیاس لگ جانے کا خوف ہوتا ہے، تو کیا سمندر کے نمکین پانی سے وضو کرنا درست ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، تم اس سے وضو کر لیا کرو۔ امام بخاری نے یزید بن محمد قرشی کا ذکر اپنی کتاب التاریخ میں کیا ہے اور ان سے لیث بن ابی بردہ نے روایت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 502]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 503
حدثنا أبو علي الحسين بن علي الحافظ، حدثنا أبو يعقوب إسحاق بن إبراهيم بن يونس بمصر، حدثنا إسحاق بن إبراهيم بن سَهْم، حدثنا عبد الله بن محمد بن رَبِيعة، حدثنا إبراهيم بن سعد، عن الزُّهْري، عن سعيد بن المسيّب، عن أبي هريرة قال: سُئِلَ النبيُّ ﷺ عن ماء البحر: أنتوضَّأُ منه؟ فقال:"الطَّهُورُ ماؤُه، والحِلُّ مَيْتَتُه" (3) . ومنهم أبو سلمة بن عبد الرحمن:
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سمندر کے پانی کے بارے میں سوال کیا گیا: کیا ہم اس سے وضو کر لیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا پانی پاک کرنے والا ہے اور اس کا مردار حلال ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 503]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 504
حدثنا أبو جعفر محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا أبو بكر محمد بن محمد بن رجاء بن السِّنْدي، حدثنا أبو أيوب سليمان بن عبد الرحمن الدمشقي، حدثنا محمد بن غَزْوان، حدثنا الأوزاعي، عن يحيى بن أبي كثير، عن أبي سَلَمة، عن أبي هريرة قال: سُئِلَ رسولُ الله ﷺ عن الوضوءِ من ماءِ البحر، فقال:"هو الطَّهورُ ماؤه، الحِلُّ مَيْتتُه" (4) . قال الحاكم: قد رَوَيتُ في متابعات الإمام مالك بن أنس في طرق هذا الحديث عن ثلاثة ليسوا من شرط هذا الكتاب: وهم عبد الرحمن بن إسحاق (1) ، وإسحاق بن إبراهيم المُزَني، وعبد الله بن محمد القُدَامي، وإنما حَمَلَني على ذلك أن يعرف العالِمُ أنَّ هذه المتابَعات والشواهد لهذا الأصل الذي صَدَّرَ به مالكٌ كتاب"الموطأ"، وتداوَلَه فقهاءُ الإسلام ﵃ من عصره إلى وقتنا هذا، وأنَّ مثل هذا الحديث لا يُعلَّل (2) بجهالةِ سعيد بن سَلَمة والمغيرة بن أبي بُرْدة، على أنَّ اسم الجهالة مرفوعٌ عنهما بهذه المتابَعات. وقد رُوِيَ هذا الحديث عن علي بن أبي طالب وعبد الله بن عبّاس وجابر بن عبد الله وعبد الله بن عمرو وأنس بن مالك عن رسول الله ﷺ نحوُه. أما حديث عليٍّ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 498 - سعيد بن سلمة والمغيرة فيهما جهالة
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سمندر کے پانی سے وضو کرنے کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا پانی پاک کرنے والا اور اس کا مردار حلال ہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ امام حاکم فرماتے ہیں: میں نے اس حدیث کے طرق میں امام مالک بن انس کی متابعات میں ایسے راویوں سے روایت کی ہے جو اس کتاب کی شرط پر نہیں ہیں، اور مجھے اس پر صرف اس بات نے ابھارا ہے تاکہ صاحبِ علم یہ جان لے کہ یہ متابعات اور شواہد اس اصل حدیث کے لیے ہیں جس سے امام مالک نے اپنی کتاب الموطا کا آغاز کیا ہے، اور اس جیسی حدیث کی علت راویوں کی جہالت سے بیان نہیں کی جائے گی کیونکہ ان متابعات کے ذریعے ان کی جہالت ختم ہو گئی ہے۔ یہ حدیث علی بن ابی طالب، ابن عباس، جابر بن عبداللہ، عبداللہ بن عمرو اور انس بن مالک رضی اللہ عنہم سے بھی مروی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 504]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 505
فحدَّثَناه أبو سعيد أحمد بن محمد النَّسَوي، حدثنا أحمد بن محمد بن سعيد، حدثنا أحمد بن الحسين بن عبد الملك، حدثنا معاذ بن موسى، حدثنا محمد بن الحسين بن علي، حدثني أَبي، عن أبيه، عن جدِّه، عن علي بن أبي طالب قال: سُئِلَ رسولُ الله ﷺ عن ماء البحر، فقال:"هو الطَّهورُ ماؤُه، الحِلُّ مَيْتَتُه" (3) . وأما حديث ابن عباس، فقد ذكرناه (1) . وأما حديث جابر:
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سمندر کے پانی کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا پانی پاک کرنے والا اور اس کا مردار حلال ہے۔ جہاں تک ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث کا تعلق ہے تو ہم اسے پہلے ذکر کر چکے ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 505]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 506
فحدَّثَناه عبد الباقي بن قانع (2) الحافظ، حدثنا محمد بن علي بن شعيب، حدثنا الحسن بن بِشْر، حدثنا المُعافى بن عِمْران، عن ابن جُريج، عن أبي الزُّبير، عن جابر، عن النبي ﷺ أنه قال في البحر:"هو الطَّهورُ ماؤُه، الحِلُّ مَيْتَتُه" (3) . وأما حديث عبد الله بن عَمْرو:
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سمندر کے بارے میں فرمایا: اس کا پانی پاک کرنے والا اور اس کا مردار حلال ہے۔ جہاں تک عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کی حدیث کا تعلق ہے: [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 506]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 507
فحدَّثَناه أبو العباس محمد (4) بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا الحَكَم بن موسى، حدثنا الهِقْل بن زياد، عن الأوزاعي، عن عَمْرو بن شعيب، عن أبيه، عن جدِّه، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"مَيْتةُ البحرِ حلال، وماؤُه طَهُور" (5) .
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما اپنے والد اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سمندر کا مردار حلال ہے اور اس کا پانی پاک کرنے والا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 507]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
13. اسْتِعْمَالُ آنِيَةِ أَهْلِ الْكِتَابِ وَالْمُشْرِكِينَ
اہلِ کتاب اور مشرکین کے برتنوں کے استعمال کا حکم۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 508
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا سليمان بن حَرْب. وحدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا أبو الرَّبيع؛ قالا: حدثنا حمَّاد بن زيد، حدثنا أيوب، عن أبي قِلَابة: أَنَّ أَبا ثَعْلبة (1) الخُشَني أتى النبيَّ ﷺ فقال: قلت: يا رسول الله، إنا بأرضٍ أرضِ أهل كتابٍ، يشربون الخمور ويأكلون الخنازير، فما ترى في آنيَتِهم وقُدورِهم؟ فقال:"دَعُوها ما وجدتُم عنها بُدًّا، فإذا لم تَجِدُوا عنها بُدًّا فاغسِلُوها بالماء" أو قال:"انضَحُوها بالماء"، ثم قال:"اطبُخُوا فيها وكُلُوا". قال حماد: وأحسَبُه قال:"واشرَبوا" (2) . وهكذا رواه شعبة عن أيوب:
سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہم اہل کتاب کے علاقے میں رہتے ہیں، وہ شراب پیتے ہیں اور خنزیر کا گوشت کھاتے ہیں، تو ان کے برتنوں اور ہانڈیوں کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تک تمہیں ان کے علاوہ کوئی اور متبادل مل سکے تو انہیں چھوڑ دو، لیکن اگر کوئی اور راستہ نہ ملے تو انہیں پانی سے دھو لو، یا فرمایا: ان پر پانی چھڑک لو، پھر ان میں پکاؤ اور کھاؤ۔ حماد کہتے ہیں میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا: اور پیو۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 508]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 509
أخبرَناه أبو بكر بن إسحاق الفقيه، حدثنا أبو المثنَّى ومحمد بن أيوب وأحمد بن عمر بن حفص قالوا: حدثنا عَمْرو بن مرزوق، أخبرنا شُعْبة، عن أيوب، عن أبي قِلَابة، عن أبي ثَعْلبة الخُشَني: أنه سأل النبيَّ ﷺ فقال: إنا بأرضٍ عامَّتُه أهلُ كتاب، فكيف نَصنَعُ بآنيَتِهم؟ فقال:"دَعُوا ما وجدتُم منها بُدًّا، فإذا لم تجِدُوا منها بُدًّا فاغسِلُوها بالماء ثم اطبُخوا" (1) . وهكذا رواه خالد الحذَّاء عن أبي قِلابة:
سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ ہم ایسے علاقے میں ہیں جہاں کی اکثر آبادی اہل کتاب ہے، تو ہم ان کے برتنوں کا کیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تک تمہیں ان کے علاوہ کوئی اور صورت میسر ہو تو انہیں چھوڑ دو، لیکن اگر کوئی اور راستہ نہ ملے تو انہیں پانی سے دھو کر ان میں پکاؤ۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 509]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں