🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. وَقْتُ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ
نمازِ مغرب کا وقت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 714
حدّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدّثنا العباس بن محمد الدُّوري، حدّثنا أبو نُعيم الفضل بن دُكَين، حدّثنا عمر بن عبد الرحمن بن أَسِيد، عن محمد بن عبَّاد بن جعفر المؤذن، أنه سمع أبا هريرة يخبر: أنَّ رسول الله ﷺ حدَّثهم: أنَّ جبريل أتاه فصلى به الصلواتِ في وقتين وقتين إلّا المغربَ قال:"فجاءني فصلى بي ساعةَ غابت الشمسُ، ثم جاءني من الغدِ فصلى بي ساعةَ غابت الشمسُ لم يُغيِّره" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، فإنهما لم يخرجا عن محمد بن عبَّاد ابن جعفر (1) ، وقد قدَّمتُ له شاهدين. ووجدتُ له شاهدًا آخرَ صحيحًا على شرط مسلم:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 696 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بتایا: جبرائیل علیہ السلام ان کے پاس آئے اور انہیں دو دو وقتوں میں نمازیں پڑھائیں سوائے مغرب کے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ میرے پاس آئے اور جب سورج غروب ہوا تو نماز پڑھائی، پھر اگلے دن بھی اسی وقت آئے جب سورج غروب ہوا، اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اس کے شواہد موجود ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب الصلاة/حدیث: 714]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 715
أخبرنا أبو العباس القاسم بن القاسم السَّيّاري، حدّثنا أبو الموجَّه محمد بن عمرو، حدّثنا يوسف بن عيسى، حدّثنا الفضل بن موسى، حدّثنا محمد بن عمرو، عن أبي سَلَمة، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"هذا جبريلُ يعلِّمُكم دِينَكم"، فذكر مواقيتَ الصلاة، ثم ذكر أنه صلَّى المغربَ حين غَرَبَت الشمس، ثم لمّا جاءه من الغدِ صلَّى المغرب حين غربت الشمسُ في وقتٍ واحدٍ (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 697 - على شرط مسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ جبرائیل ہیں جو تمہیں تمہارا دین سکھا رہے ہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے اوقات ذکر کیے اور بتایا کہ انہوں نے مغرب دونوں دن سورج غروب ہوتے ہی ایک ہی وقت پر پڑھائی۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب الصلاة/حدیث: 715]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
8. وَقْتُ صَلَاةِ الْعِشَاءِ
نمازِ عشاء کا وقت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 716
أخبرنا إسماعيل بن محمد بن الفضل الشَّعْراني، حدّثنا جدَّي، حدّثنا عمرو بن عَوْن الواسطي، حدّثنا هُشَيم، عن أبي بِشْر، عن حَبيب بن سالم، عن النُّعمان بن بَشِير قال: إني لأعلمُ الناسِ بوقت هذه الصلاة؛ صلاةِ العشاء الآخِرة، كان رسول الله يصلِّيها لسُقوط القمر لثالثةٍ (3) . تابعه رَقَبةُ بن مَسْقَلة عن أبي بِشْر، هكذا اتفق رقبةُ وهشيمٌ على رواية هذا الحديث عن أبي بِشْر عن حبيب بن سالم، وهو إسناد صحيح، وخالفهما شعبةُ وأبو عَوَانة فقالا: عن أبي بشر عن بشر بن ثابت (1) عن حبيب بن سالم. أما حديث شعبة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 698 - وإسناده صحيح_x000D_ أَمَّا حَدِيثُ شُعْبَةَ
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں لوگوں میں عشاء کی نماز کے وقت کا سب سے زیادہ علم رکھنے والا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ نماز تیسری رات کے چاند چھپنے کے وقت پڑھا کرتے تھے۔
یہ اسناد صحیح ہے اگرچہ راویوں کے بیان میں کچھ معمولی فرق ہے مگر اصل روایت ثابت ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب الصلاة/حدیث: 716]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 717
فأخبرَناه أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي بمَرْو، حدّثنا سعيد بن مسعود، حدّثنا يزيد بن هارون، أخبرنا شُعْبة، عن أبي بِشْر، عن بشر بن ثابت، عن حبيب بن سالم، عن النُّعمان بن بَشِير، قال: إني لأعلمُ الناسِ بوقتِ صلاة العشاء الآخِرة، كان رسول الله ﷺ يصلَّيها لسقوطِ القمرِ لثالثةٍ أو رابعةٍ؛ شكّ شعبةُ (2) . وأما حديث أبي عَوَانة:
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کی نماز تیسری یا چوتھی رات کے چاند چھپنے کے وقت پڑھتے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب الصلاة/حدیث: 717]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 718
فأخبرَناه أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا علي بن عبد العزيز، حدّثنا أبو النُّعمان محمد بن الفضل، حدّثنا أبو عَوَانة، عن أبي بِشْر، عن بشر بن ثابت، عن حبيب بن سالم، عن النعمان بن بَشِير قال: إني لأعلمُ الناسِ بوقتِ هذه الصلاة؛ صلاةِ العشاء الآخِرة، كان رسول الله ﷺ يصلِّيها لسقوطِ القمرِ لثالثةٍ (3) .
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کی نماز تیسری رات کے چاند غروب ہونے کے وقت پڑھا کرتے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب الصلاة/حدیث: 718]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 719
حدّثنا أبو بكر بن إسحاق، حدّثنا أبو المثنَّى، حدّثنا مُسدَّد. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدّثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدَّثني أَبي؛ قالا: حدّثنا عبَّاد بن عبَّاد، حدّثنا محمد بن عمرو، عن سعيد بن الحارث الأنصاري، عن جابر بن عبد الله قال: كنت أصلي الظهرَ مع رسول الله ﷺ فَآخُذُ قبضةً من الحصى ليَبرُدَ في كفِّي أَضعُها لجَبْهتي أسجُدُ عليها، لشدَّة الحرِّ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 701 - على شرط مسلم
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھتا تھا، تو سخت گرمی کی وجہ سے کنکریوں کی ایک مٹھی بھر لیتا تھا تاکہ وہ میری ہتھیلی میں ٹھنڈی ہو جائیں اور پھر سجدہ کرتے وقت انہیں اپنی پیشانی کے نیچے رکھ لیتا تھا (تاکہ زمین کی تپش سے بچ سکوں)۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب الصلاة/حدیث: 719]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
9. الْأَمْرُ بِاتِّخَاذِ الْمُؤَذِّنِ، لَا يَأْخُذُ عَلَى أَذَانِهِ أَجْرًا
ایسے مؤذن مقرر کرنے کا حکم جو اپنی اذان پر اجرت نہ لے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 720
أخبرني أبو جعفر محمد بن علي بن دُحَيم الشَّيباني، حدّثنا أحمد بن حازم بن أبي غَرَزة. وحدثني علي بن عيسى الحِيري، حدّثنا مُسدَّد بن قَطَن؛ قالا: حدّثنا عثمان بن أبي شَيْبة، حدّثنا عَبِيدة بن حُميد، عن أبي مالك الأشجعي سَعْد بن طارق، عن كَثِير بن مُدرِك، عن الأسود بن يزيد، أنَّ عبد الله بن مسعود قال: كان قَدْرُ صلاةِ رسول الله ﷺ في الصيف ثلاثةَ أقدام، وفي الشتاءِ خمسةَ أقدام إلى سبعةِ أقدام (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، فقد احتجَّ بأبي مالك الأشجعي وكَثير بن مُدرِك، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 716 - على شرط مسلم
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی (ظہر کی) نماز کا وقت گرمیوں میں تین قدم (سایہ) کے برابر تھا، اور سردیوں میں پانچ قدم سے سات قدم تک ہوتا تھا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے کیونکہ انہوں نے اس کے راویوں سے احتجاج کیا ہے، لیکن اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب الصلاة/حدیث: 720]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
10. الْمُحَافَظَةُ عَلَى الْعَصْرَيْنِ
فجر اور عصر کی نمازوں کی پابندی کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 721
حدّثنا علي بن عيسى، حدّثنا أبو منصور يحيى بن أحمد بن زياد، حدّثنا يحيى بن مَعِين، حدّثنا هُشَيم، أخبرنا داود بن أبي هند. وأخبرني أبو بكر محمد بن عبد الله الشافعي، حدّثنا محمد بن بِشْر بن مَطَر، حدّثنا وهب بن بَقيَّة، حدّثنا خالد بن عبد الله، عن داود بن أبي هند، عن أبي حرب بن أبي الأسود، عن عبد الله بن فَضَالة، عن أبيه قال: علَّمني رسولُ الله ﷺ، فكان فيما علَّمني:"حافِظْ على الصلواتِ الخمس" فقلت: إنَّ هذه ساعاتٍ لي فيها أشغال، فمُرْني بأمرٍ جامع إذا أنا فعلتُه أجزأ عني، فقال:"حافِظْ على العصرَين"، وما كانت من لغتنا، فقلت: وما العَصرانِ؟ قال:"صلاةٌ قبل طلوع الشمس، وصلاةٌ قبلَ غُروبها" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه، وعبد الله: هو ابن فَضَالة بن عُبيد، وقد خُرِّج له في"الصحيح" حديثان. [2 - باب في فضل الصلوات الخمس]
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 717 - على شرط مسلم_x000D_ بَابٌ فِي فَضْلِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ
سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کے والد بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے (دین) سکھایا، اور جو کچھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سکھایا اس میں یہ بھی تھا کہ: پانچوں نمازوں کی پابندی کرو۔ میں نے عرض کیا: ان اوقات میں میری کچھ مصروفیات ہوتی ہیں، لہٰذا مجھے کوئی ایسی جامع بات بتا دیجیے کہ اگر میں اسے کر لوں تو وہ مجھے (فرض کی ادائیگی کے لیے) کافی ہو جائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عصرین (دو عصروں) کی پابندی کرو۔ یہ ہماری لغت میں استعمال نہیں ہوتا تھا، میں نے پوچھا: عصرین کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک نماز سورج طلوع ہونے سے پہلے (فجر) اور ایک نماز سورج غروب ہونے سے پہلے (عصر)۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب الصلاة/حدیث: 721]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
11. بَابٌ فِي فَضْلِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ
پانچ فرض نمازوں کی فضیلت کے بیان کا باب۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 722
حدّثنا أبو جعفر محمد بن صالح بن هانئ، حدّثنا محمد بن إسماعيل بن مِهْران، حدّثنا أبو الرَّبيع ابن أخي رِشْدِين وأبو الطاهر قالا: أخبرنا عبد الله بن وهب، أخبرني مَخْرَمة بن بُكَير، عن أبيه، عن عامر بن سعد بن أبي وقَّاص قال: سمعتُ سعدًا وناسًا من أصحاب رسول الله ﷺ يقولون: كان رجلانِ أخَوانِ في عهد رسول الله ﷺ، وكان أحدُهما أفضلَ من الآخر، فتُوفي الذي هو أفضلُهما، ثم عُمِّرَ الآخرُ بعده أربعين يومًا، ثم تُوفيَ، فذكروا الرسول الله ﷺ فضيلةَ الأوَّل على الآخِر، فقال:"ألم يكن يُصلي؟" قالوا: بلى يا رسول الله، وكان لا بأسَ به، فقال رسول الله ﷺ:"فما يُدرِيكم ماذا بَلَغَت به صلاتُه، إنَّما مَثَلُ الصلاة كَمَثَل نهرٍ جارٍ بباب رجلٍ، عَمْرٍ عَذْبٍ، يَقتحِمُ فِيهِ كلَّ يوم خمسَ مرَّات، فماذا تَرَونَ يبقى من دَرَنِه؟ لا تدرونَ ماذا بَلَغَت به صلاتُه" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، فإنهما لم يخرجا مَخرَمةَ بن بُكير، والعِلَّة فيه أنَّ طائفة من أهل مصر ذكروا أنه لم يسمع من أبيه لصِغَر سنِّه، وأثبتَ بعضُهم سماعَه منه (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 718 - صحيح
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں دو بھائی تھے، ان میں سے ایک دوسرے سے (عبادت میں) افضل تھا، پھر اس افضل بھائی کا انتقال ہو گیا اور دوسرا اس کے بعد چالیس دن تک زندہ رہا اور پھر وہ بھی فوت ہو گیا۔ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پہلے بھائی کی دوسرے پر فضیلت کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا وہ (دوسرا بھائی) نماز نہیں پڑھتا تھا؟ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں یا رسول اللہ! وہ نماز تو پڑھتا تھا اور اس میں کوئی حرج بھی نہیں تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں کیا معلوم کہ اس کی نماز نے اسے کس مقام پر پہنچا دیا ہے؟ نماز کی مثال تو اس میٹھے اور صاف شفاف بہتے ہوئے دریا کی طرح ہے جو کسی شخص کے دروازے پر ہو اور وہ اس میں روزانہ پانچ مرتبہ غوطہ لگاتا ہو، تو کیا تم سمجھتے ہو کہ اس کے بدن پر کوئی میل کچیل باقی رہے گا؟ تم نہیں جانتے کہ اس کی نماز نے اسے کہاں پہنچا دیا ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب الصلاة/حدیث: 722]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 723
حدّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني عمرو بن الحارث، أنَّ ابن أبي هلال حدَّثه، أنَّ نُعيمًا المُجمِر حدَّثه (1) ، أنَّ صهيبًا مولى العُتْوارِيِّين حدَّثه، أنه سمع أبا سعيد الخُدْري وأبا هريرة يُخبِران عن النبيّ ﷺ: أنه جَلَسَ على المِنبَر، ثم قال:"والذي نَفْسي بيده" ثلاث مراتٍ، ثم سَكَتَ، فأكَبَّ كلُّ رجل منا يبكي حزينًا ليمينِ رسول الله ﷺ، ثم قال:"ما من عبدٍ يأتي الصَّلَواتِ الخمسَ، ويصومُ رمضان، ويجتنِبُ الكبائرَ السَّبْع، إلّا فُتِحَت له أبواب الجنة يومَ القيامة حتى إنها لَتَصطَفِقُ" ثم تلا: ﴿إِنْ تَجْتَنِبُوا كَبَائِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ﴾ [النساء: 31] (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، والذي عندي أنهما أهمَلَاه لذِكْر صهيب مولى العُتْواريِّين بين نُعيم بن عبد الله وأبي هريرة، فإنهما قد اتَّفقا على صِحَّة رواية نُعيم عن الصحابة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 719 - صحيح
سیدنا ابو سعید خدری اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف فرما ہوئے اور تین بار فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے! پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے، ہم میں سے ہر شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس قسم کی وجہ سے غم زدہ ہو کر رونے لگا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو بھی بندہ پانچوں نمازیں ادا کرے گا، رمضان کے روزے رکھے گا اور سات بڑے گناہوں (کبیرہ) سے بچے گا، تو قیامت کے دن اس کے لیے جنت کے دروازے کھول دیے جائیں گے یہاں تک کہ وہ آپس میں بجنے لگیں گے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿اگر تم ان بڑے گناہوں سے بچتے رہو گے جن سے تمہیں روکا جاتا ہے تو ہم تمہاری برائیاں تم سے دور کر دیں گے﴾ [سورة النساء: 31] ۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب الصلاة/حدیث: 723]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں