🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
12. الزَّكَاةُ فِي الزَّرْعِ وَالْكَرْم
کھیتی اور انگور کے باغ کی زکوٰۃ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1482
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا شُعبة، عن قتادة، عن أبي عمر الغُدَاني، عن أبي هريرة: أنه مَرَّ عليه رجلٌ من بني عامر، فقيل: هذا من أكثر الناس مالًا، فدعاه أبو هريرةَ فسأله عن ذلك، فقال: نَعَم، لي مئةٌ حمراءُ، ولي منةٌ أَدْماءُ، ولي كذا وكذا من الغَنَم، فقال أبو هريرة: إياكَ وأَخفافَ الإبل، إياكَ وأظلافَ الغَنَم؛ إنِّي سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"ما مِن رجلٍ يكون له إبلٌ لا يؤدِّي حقَّها في نَجْدَتِها ورِسْلِها - قال رسول الله ﷺ: ونَجْدتُها ورِسْلُها: عُسْرُها ويُسْرُها - إلّا بَرَزَ له بقاعٍ قَرقَرٍ، فجاءته كأَغذِّ (1) ما تكون وأَسَرِّهِ وأسمَنِه أو أعظمِه (2) - شعبةُ شَكَّ - فتَطَؤُه بأخفافِها وتَنطِحُه بقرونها، كلَّما جازت عليه أُخراها أُعيدتْ عليه أُولاها، في يومٍ كان مقدارُه خمسين ألفَ سنة، حتى يُقضَى بين الناس فيُرى سَبيلَه. وما من عبدٍ يكون له بقرٌ لا يُؤدِّي حقَّها في نَجْدَتِها ورِسْلِها - قال رسولُ الله ﷺ: ونَجْدَتها ورِسْلُها، عُسْرُها ويُسْرُها - إلّا بَرَزَ له بِقاعٍ قَرْقَرٍ كأغَذِّ ما تكونُ وأسرِّه واسمَنِه وأعظَمِه، فتطؤُه بأظلافها، وتَنْطِحُه بقُرونِها، كلما جازَتْ عليه أُولاها أُعيدَتْ عليه أُخراها، في يومٍ كان مِقدارُه خمسينَ ألفَ سنة، حتى يُقضَى بين الناس، فيُرَى سبيلَه". فقال له العباس: وما حقُّ الإبل يا أبا هريرة؟ قال: تُعطي الكريمةَ، وتَمنحُ الغَزيرةَ، وتُفقِرُ الظَّهرَ، وتُطرِقُ الفَحْل، وتَسقِي اللَّبَن (3)
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، إنما خرَّج مسلم بعض هذه الألفاظ من حديث سُهيل عن أبيه عن أبي هريرة (1) . وأبو عمر الغُدَاني يقال: إنه يحيى بن عُبيد البَهْراني، فإن كان كذلك، فقد احتجَّ به مسلم. ولا أعلم أحدًا حدَّث به عن شعبة غيرَ يزيد بن هارون، ولم نكتبه عاليًا إلّا عن أبي العباس المحبوبي.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کے پاس سے بنو عامر کا ایک شخص گزرا جس کے بارے میں بتایا گیا کہ یہ بہت مالدار ہے۔ ابوہریرہ نے اس سے پوچھا تو اس نے تصدیق کی کہ اس کے پاس سرخ اور سیاہ اونٹوں اور بکریوں کے بڑے گلے ہیں۔ ابوہریرہ نے فرمایا: اونٹوں کے کھروں اور بکریوں کے کھروں (سے پامال ہونے) سے بچو؛ کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: جس شخص کے پاس اونٹ ہوں اور وہ تنگی و آسانی (نجدہ و رسل) دونوں حالتوں میں ان کا حق ادا نہ کرے، تو قیامت کے دن اسے ایک چٹیل میدان میں لٹایا جائے گا اور وہ اونٹ پہلے سے زیادہ موٹے اور طاقتور ہو کر آئیں گے اور اسے اپنے کھروں تلے روندیں گے اور سینگوں سے ماریں گے۔ جب آخری اونٹ گزر جائے گا تو پہلے کو دوبارہ لایا جائے گا۔ یہ سلسلہ پچاس ہزار سال کے برابر ایک دن میں جاری رہے گا یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ ہو جائے۔ یہی حال گائے بکریوں کے مالک کا بھی ہوگا۔ پوچھا گیا: اے ابوہریرہ! اونٹوں کا حق کیا ہے؟ انہوں نے کہا: عمدہ جانور (زکوٰۃ میں) دینا، دودھ والے جانور عاریت دینا، سواری کے لیے اونٹ مہیا کرنا، جفتی کے لیے نر (سانڈ) دینا اور (ضرورت مندوں کو) دودھ پلانا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، امام مسلم نے اس کے کچھ حصے روایت کیے ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الزكاة/حدیث: 1482]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1482M
إنما حدَّثَناه أبو زكريا العَنْبري، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا عَبْدَةُ بن عبد الله الخُزَاعي. وحدثنا أبو عليٍّ الحافظ، حدثنا أبو عبد الرحمن النَّسائي، حدثنا محمد بن عليّ بن سَهْل؛ قالا: حدثنا يزيد بن هارون، نحوه.
ہمیں یہ حدیث ابوزکریا العنبری، ابراہیم بن ابی طالب اور عبدہ بن عبداللہ الخزاعی نے بیان کی، نیز ابوعلی الحافظ، ابوعبدالرحمن النسائی اور محمد بن علی بن سہل نے بھی اسے نقل کیا؛ ان سب کا بیان ہے کہ ہمیں یزید بن ہارون نے اسی کے مثل (سابقہ روایت کی طرح) حدیث بیان کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الزكاة/حدیث: 1482M]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1483
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا الفضل بن محمد بن المسيّب، حدثنا نُعَيم بن حماد، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن رَبيعَة بن أبي عبد الرحمن، عن الحارث بن بلال بن الحارث، عن أبيه: أنَّ رسول الله ﷺ أَخَذَ في المَعادن القَبَلِيَّةِ الصَّدقةَ، وأنه أقطَعَ بلالَ بن الحارث العَقِيقَ أجمَعَ، فلمَّا كان عمرُ قال لبلال: إنَّ رسول الله ﷺ لم يُقطِعْكَ لتَحْتَجِرَه عن الناس، لم يُقطِعْكَ إلّا لتعمَلَ. قال: فأقطَعَ عمرُ بن الخطاب للناس العَقِيقَ (2) . قد احتجَّ البخاري بنُعَيم بن حماد، ومسلمٌ بالدَّراوَرْدي، و
هذا حديث صحيح ولم يُخرجاه.
حارث بن بلال اپنے والد (سیدنا بلال بن حارث رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے 'قبلیہ' کی معدنیات سے زکوٰۃ وصول فرمائی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال بن حارث کو 'عقیق' کا پورا علاقہ بطور جاگیر عطا فرمایا تھا۔ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا دور آیا تو انہوں نے بلال سے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں یہ زمین اس لیے نہیں دی تھی کہ تم اسے لوگوں سے روک کر بیٹھ جاؤ، بلکہ اس لیے دی تھی کہ تم اس پر کام کرو۔ چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے عقیق کا وہ علاقہ (جس پر بلال کام نہیں کر پا رہے تھے) لے کر لوگوں میں تقسیم کر دیا۔
یہ حدیث صحیح ہے اور شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الزكاة/حدیث: 1483]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1484
حدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا إسحاق بن الحسن بن مَيمُون، حدثنا عفّان بن مُسلِم، حدثنا شُعبة. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن الحَكَم، عن ابن أبي رافع، عن أبي رافع: أنَّ رسول الله ﷺ بَعَثَ رجلًا من بني مَخزُوم على الصَّدقة، فقال لأبي رافع: اصحَبْني كَيْما تُصيبَ منها، فقال: لا، حتى آتيَ رسولَ الله ﷺ، فانطَلَقَ إلى النبي ﷺ فسأله، فقال:"إنَّ الصَّدقةَ لا تَحِلُّ لنا، وإنَّ مَواليَ القوم من أنفُسِهم" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو مخزوم کے ایک شخص کو زکوٰۃ وصول کرنے پر مامور کیا، اس نے ابورافع سے کہا: میرے ساتھ چلو تاکہ تمہیں بھی اس میں سے کچھ حصہ مل جائے، انہوں نے کہا: نہیں، جب تک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت نہ کر لوں۔ چنانچہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک صدقہ (زکوٰۃ) ہمارے لیے حلال نہیں ہے، اور کسی قوم کے آزاد کردہ غلام بھی انہی (کے حکم) میں شمار ہوتے ہیں۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الزكاة/حدیث: 1484]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
13. لَا يَدْخُلُ صَاحِبُ مَكْسٍ الْجَنَّةَ
ناجائز محصول (مکس) لینے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1485
أخبرنا عبد الله بن الحسين القاضي بمَرْو، حدثنا الحارث بن أبي أسامة، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا محمد بن إسحاق، عن يزيد بن أبي حَبيب، عن عبد الرحمن بن شُمَاسة، عن عُقْبة بن عامر قال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"لا يَدخُلُ صاحبُ مَكْسٍ الجنةَ". قال يزيد بن هارون: يعني العَشَّار (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ناحق ٹیکس وصول کرنے والا (صاحبِ مکس) جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ یزید بن ہارون کہتے ہیں کہ اس سے مراد ظالم عشار (چنگی وصول کرنے والا) ہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الزكاة/حدیث: 1485]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1486
أخبرنا أبو بكر أحمد بن إسحاق الفقيه، أخبرنا أحمد بن إبراهيم بن مِلْحان، حدثنا عمرو بن خالد الحَرَّاني، حدثنا عبيد الله بن عمرو الرَّقِّي، عن زيد (1) بن أبي أُنيسة، عن القاسم بن عوف الشَّيباني، عن علي بن الحسين، قال: حدثتنا أمُّ سلمة: أنَّ النبي ﷺ بينما هو في بيتها، وعنده رجالٌ من أصحابه يَتحدَّثون، إذ جاء رجلٌ فقال: يا رسول الله، كم صدقةُ كذا وكذا من التمر؟ قال رسول الله ﷺ:"كذا وكذا" فقال الرجل: إنَّ فلانًا تعدّى عليَّ فأخذ منِّي كذا وكذا، فازداد صاعًا، فقال رسول الله ﷺ:"فكيف إذا سَعَى عليكم مَن يَتعدَّى عليكم أشدَّ من هذا التّعدِّي؟" فخاض الناسُ وبَهَرَ الحديثُ، حتى قال رجلٌ منهم: يا رسولَ الله، إن كان رجلًا غائبًا عنك في إبلِه وماشيتِه وزَرْعِه، فأدَّى زكاةَ مالِه فتُعُدِّيَ عليه الحقَّ، فكيف يَصنَعُ وهو غائب؟ فقال رسول الله ﷺ:"مَن أدّى زكاةَ مالِه طيِّبَ النفسِ بها، يريدُ به وَجْهَ الله والدارَ الآخرة، لم يُغيِّب شيئًا من ماله، وأقام الصلاةَ، وأدّى الزكاةَ، فتُعُدِّي عليه الحقِّ، فأَخَذ سلاحَه فقاتَلَ فقُتل، فهو شهيد" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين. ولم يُخرجاه.
ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص نے زکوٰۃ میں زیادتی کی شکایت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عنقریب تم پر ایسے لوگ بھی آئیں گے جو اس سے بھی زیادہ زیادتی کریں گے۔ لوگوں نے پوچھا کہ اگر کوئی شخص اپنے مال سے غائب ہو اور اس پر زیادتی کی جائے تو وہ کیا کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ کی رضا اور آخرت کے لیے خوش دلی سے زکوٰۃ ادا کی اور اپنا کوئی مال نہیں چھپایا، پھر (ناحق) اس کے حق پر زیادتی کی گئی اور اس نے اپنا اسلحہ اٹھا کر اپنے حق کی خاطر جنگ کی اور مارا گیا، تو وہ شہید ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الزكاة/حدیث: 1486]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1487
أخبرنا أبو إسحاق بن فراس الفقيه بمكة، حدثنا بكر بن سَهْل الدِّمْياطي، حدثنا شعيب بن يحيى التُّجِيبي، حدثنا الليث بن سعد، عن هشام بن سعد، عن زيد بن أسلم، عن أبيه: أنه لمَّا كان عامُ الرَّمادة، وأجْدَبَتِ الأرض، كَتَبَ عمر بنُ الخطاب إلى عمرو بن العاص: مِن عبد الله عمرَ أميرِ المؤمنين إلى العاصي ابن العاص، لعَمْري (2) ما تُبالي إذا سَمِنْتَ ومَن قِبَلَكَ أن أَعْجَفَ ومَن قِبَلي، ويا غَوْثاه، فكتب عمرو: السلام، أما بعدُ: لبَّيك لبَّيك، أتتك عِيرٌ أولُها عندك وآخرُها عندي، مع أني أرجو أن أجد سبيلًا أن أحمِلَ في البحر، فلمَّا قَدِمَ أولُ عِيرٍ دعا الزُّبيرَ فقال: اخرُجْ في أول هذه العِير، فاستقبِلْ بها نجدًا (3) ، فاحمِلْ إليَّ كلَّ أهل بيتٍ قَدَرتَ أن تَحمِلَهم إليَّ، ومَن لم تستطع حَمْلَه فمُرْ لكلِّ أهل بيتٍ ببعيرٍ بما عليه، ومُرْهُم فليَلْبَسوا اللِّباسَ كِساءَيْنِ (4) ، وليَنحَروا البعيرَ فيَجْمُلوا شَحْمَه، وليُقدِّدوا لحمَه، وليَحتَذُوا جِلدَه، ثم ليأخُذُوا كُبَّةً من قَدِيدٍ وكُبَّةً من شَحْمٍ وحَفْنَةً من دقيق فيَطبُخوا (1) ، وليأكُلوا حتى يأتيهم الله برِزْق، فأَبى الزُّبير أن يَخرُج، فقال: أما والله لا تجدُ مثلَها حتى تخرج من الدنيا، ثم دعا آخَرَ أظنُّه طلحة، فأبى، ثم دعا أبا عُبيدةَ بن الجرَّاح، فخَرَج في ذلك، فلمَّا رَجَعَ بَعَثَ إليه بألف دينار، فقال أبو عبيدة: إني لم أعمَلْ لك يا ابنَ الخطاب، إنما عَمِلتُ لله، ولستُ آخُذُ في ذلك شيئًا، فقال عمر: قد أعطانا رسولُ الله ﷺ في أشياءَ بَعَثَنا فيها فكَرِهْنا، فأَبى ذلك علينا رسولُ الله ﷺ، فاقبَلْها أيها الرجل، فاستَعِنْ بها على دُنياكَ، فقَبِلَها أبو عبيدةَ بن الجرَّاح (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
اسلم بیان کرتے ہیں کہ قحط کے سال (عام الرمادہ) سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مصر کے گورنر عمرو بن العاص کو خط لکھا کہ تمہیں یہ کیسے گوارا ہے کہ تم اور تمہارے ساتھی کھا پی کر موٹے ہو جائیں اور میں اور میرے ساتھی بھوک سے دبلے ہو جائیں؟ ہائے افسوس! عمرو بن العاص نے جواب دیا: لبیک! میں ایسا غلہ بھیج رہا ہوں جس کا پہلا اونٹ آپ کے پاس ہوگا اور آخری میرے پاس۔ پھر جب امداد پہنچی تو عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابو عبیدہ بن جراح کو اس کی تقسیم پر مامور کیا اور بعد میں انہیں ایک ہزار دینار دیے۔ ابو عبیدہ نے لینے سے انکار کیا کہ میں نے یہ کام اللہ کے لیے کیا ہے، عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ہمیں کچھ کاموں پر عطا فرمایا تھا جو ہمیں ناگوار تھا مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں لینے کا حکم دیا، پس تم اسے قبول کرو اور اپنی دنیاوی ضروریات میں مدد لو، چنانچہ انہوں نے اسے قبول کر لیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الزكاة/حدیث: 1487]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1488
أخبرنا أبو عمرو عثمان بن أحمد بن السَّمَّاك ببغداد، حدثنا أحمد بن حيَّان بن مُلاعِب، حدثنا أبو عاصم، حدثنا عبد الوارث بن سعيد، عن حسين المُعلِّم، عن عبد الله بن بُريدةَ، عن أبيه، عن النبي ﷺ قال:"من استَعمَلْناه على عَمَلٍ فرَزَقْناه رِزقًا، فما أخَذَ بعد ذلك فهو غُلول" (3) .
هذا حديث صحيحٌ على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم جس شخص کو کسی کام پر مامور کریں اور اسے اس کی اجرت (رزق) دے دیں، تو اس کے بعد وہ جو کچھ بھی (ناحق) لے گا وہ 'غلول' (خیانت) ہوگا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الزكاة/حدیث: 1488]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1489
أخبرني أبو النَّضْر محمد بن محمد بن يوسف الفقيه، حدثنا الحسين بن إدريسَ الأنصاريُّ، حدثنا محمد بن عبد الله بن عمّار المَوْصِلي، حدثنا المُعافَى بن عِمْران، عن الأوزاعي، حدثنا الحارث بن يزيد، عن عبد الرحمن بن جُبَير بن نُفَير، عن المُستورِد بن شدَّاد قال: سمعتُ النبي ﷺ يقول:"من كان لنا عاملًا فليكتسِبْ زوجةً، وإن لم يكن له خادمٌ فليكتسِبْ خادمًا، ومن لم يكن له مَسكنٌ فليكتسِبْ مسكنًا". قال (1) : وأُخبِرتُ أنَّ النبي ﷺ قال:"مَن اتخذ غيرَ ذلك فهو غالٌّ أو سارق" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
سیدنا مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جس نے ہماری طرف سے سرکاری ذمہ داری سنبھالی، اگر اس کی بیوی نہ ہو تو وہ نکاح کر لے، اگر خادم نہ ہو تو خادم رکھ لے، اور اگر گھر نہ ہو تو گھر حاصل کر لے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا: جس نے اس کے علاوہ (ناحق) کچھ لیا تو وہ خیانت کرنے والا یا چور ہے۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الزكاة/حدیث: 1489]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
14. الْعَامِلُ عَلَى الصَّدَقَةِ بِالْحَقِّ كَالْغَازِي فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّى يَرْجِعَ
حق کے ساتھ زکوٰۃ وصول کرنے والا اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی طرح ہے یہاں تک کہ واپس لوٹے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1490
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أبو زُرْعة عبد الرحمن بن عمرو الدِّمشقي، حدثنا أحمد بن خالد الوَهْبي، حدثنا محمد بن إسحاق، عن عاصم بن عمر بن قتادة، عن محمود (1) بن لَبِيد، عن رافع بن خَدِيجٍ قال: قال رسول الله ﷺ:"العاملُ على الصَّدَقة بالحقِّ كالغازي في سبيل الله حتى يَرجِعَ إلى بيتِه" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حق کے ساتھ زکوٰۃ وصول کرنے والا (عامل) اپنے گھر واپسی تک اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے (غازی) کی طرح ہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الزكاة/حدیث: 1490]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں