🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. يَدْعُو اللَّهُ بِالْمُؤْمِنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
قیامت کے دن اللہ مؤمن کو پکارے گا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1840
أخبرني أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثقفيُّ وأبو محمد عبد الله بن محمد بن موسى العدل، قالا: حدثنا محمد بن أيوب، حدثنا عبد الأعلى بن حمّاد، حدثنا أبو عاصم العَبّاداني، عن الفضل بن عيسى، عن محمد بن المُنكَدِر، عن جابر بن عبد الله، عن النبيِّ ﷺ قال:"يَدْعو اللهُ بالمؤمن يومَ القيامة حتى يُوقِفَه بين يديه، فيقول: عبدي، إنِّي أَمرتُك أن تَدعُوَني، ووعدتُك أن أستجيبَ لك، فهل كنتَ تَدْعُوني؟ فيقول: نَعَم يا رب، فيقول: أمَا إِنَّك لم تَدْعُني بدعوةٍ إِلَّا استجبتُ لك، أليس دَعَوتَني يومَ كذا وكذا لِغَمٍّ نزل بك أن أفُرِّجَ عنك، ففرَّجتُ عنك؟ فيقول: نعم يا رب، فيقول: فإني عجّلتُها لك في الدنيا، ودَعوتَني يومَ كذا وكذا لِغَمٍّ نزل بك أن أُفرِّج عنك، فلم تَرَ فَرَجًا؟ قال: نعم يا رب، فيقول: إنِّي ادَّخرتُ لك بها في الجنة كذا وكذا، ودَعوتَني في حاجةٍ أَقضيها لكَ في يوم كذا وكذا، فقضيتُها؟ فيقول: نعم يا رب، فيقول: فإنِّي عجَّلتُها لك في الدنيا، ودَعَوتَني في يوم كذا وكذا في حاجةٍ أَقضيها لك، فلم تَرَ قضاءَها؟ فيقول: نعم يا رب، فيقول: إنِّي ادَّخرتُ لك في الجنة كذا وكذا"، قال رسولُ الله ﷺ:"فلا يَدَعُ اللهُ دعوةً دعا بها عبدُه المؤمنُ إلَّا بيَّن له، إمّا أن يكون عَجَّل له في الدنيا، وإمَّا أن يكون ادَّخَر له في الآخرة" قال:"فيقولُ المؤمنُ في ذلك المَقَام: يا ليتَه لم يكن عُجِّل له شيءٌ من دُعائِه" (2) .
هذا حديثٌ تفرَّد به الفضل بن عيسى الرَّقَاشي عن محمد المُنكدِر، ومحلُّ الفضل بن عيسى محلُّ من لا يُتَوهَّم بالوضع.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن اللہ تعالیٰ مومن بندے کو بلائے گا یہاں تک کہ اسے اپنے سامنے کھڑا کر لے گا، پھر فرمائے گا: اے میرے بندے! میں نے تجھے حکم دیا تھا کہ تو مجھ سے دعا مانگے اور میں نے تجھ سے وعدہ کیا تھا کہ میں تیری دعا قبول کروں گا، تو کیا تو مجھ سے دعا مانگا کرتا تھا؟ وہ عرض کرے گا: جی ہاں اے میرے رب! پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو نے (دنیا میں) جو بھی دعا مانگی میں نے اسے تیرے حق میں قبول کر لیا تھا، کیا تو نے فلاں فلاں دن کسی ایسی پریشانی پر مجھ سے دعا نہیں کی تھی جو تجھ پر نازل ہوئی تھی کہ میں اسے دور کر دوں، تو میں نے اسے ٹال دیا تھا؟ وہ عرض کرے گا: جی ہاں اے میرے رب! تو اللہ فرمائے گا: وہ تو میں نے دنیا ہی میں تیرے لیے جلدی پوری کر دی تھی، اور تو نے فلاں فلاں دن کسی ایسی تکلیف پر دعا کی تھی کہ میں اسے دور کر دوں لیکن تو نے اس کا کوئی اثر دنیا میں نہیں دیکھا تھا؟ وہ عرض کرے گا: جی ہاں اے میرے رب! تو اللہ فرمائے گا: میں نے اس کے بدلے تیرے لیے جنت میں فلاں فلاں نعمتیں ذخیرہ کر دی تھیں، اور تو نے فلاں دن مجھ سے کسی ضرورت کے پورا ہونے کی دعا کی تھی تو میں نے اسے پورا کر دیا تھا؟ وہ عرض کرے گا: جی ہاں اے میرے رب! تو اللہ فرمائے گا: وہ میں نے دنیا ہی میں تیرے لیے جلدی پوری کر دی تھی، اور تو نے فلاں فلاں دن مجھ سے اپنی کسی ضرورت کے لیے دعا کی تھی لیکن تو نے اس کا پورا ہونا دنیا میں نہیں دیکھا تھا؟ وہ عرض کرے گا: جی ہاں اے میرے رب! تو اللہ فرمائے گا: میں نے اس کے بدلے جنت میں تیرے لیے فلاں فلاں مرتبے محفوظ کر دیے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندے کی مانگی ہوئی ہر دعا کی حقیقت اس پر واضح فرما دے گا، یا تو وہ دنیا میں جلد پوری کر دی گئی ہوگی یا پھر اسے آخرت کے لیے ذخیرہ کر لیا گیا ہوگا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس مقام پر (ثواب دیکھ کر) مومن یہ تمنا کرے گا کہ کاش! اس کی دعاؤں میں سے کوئی ایک چیز بھی دنیا میں جلد پوری نہ کی گئی ہوتی۔
اس حدیث کی روایت میں فضل بن عیسیٰ الرقاشی، محمد بن منکدر سے نقل کرنے میں منفرد ہیں، اور فضل بن عیسیٰ کا مرتبہ ایسا ہے کہ ان پر وضع حدیث کا گمان نہیں کیا جا سکتا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1840]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًّا، الفضل بن عيسى»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدًّا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
11. مَنْ كَانَ يُحِبُّ أَنْ يَعْلَمَ مَنْزِلَتَهُ عِنْدَ اللَّهِ فَلْيَنْظُرْ كَيْفَ مَنْزِلَةُ اللَّهِ عِنْدَهُ
جو یہ جاننا چاہے کہ اللہ کے ہاں اس کا مرتبہ کیا ہے وہ دیکھے کہ اس کے دل میں اللہ کا کیا مقام ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1841
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب بن يوسف الحافظ، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مسدَّد، حدثنا بِشْر بن المُفضَّل، حدثنا عمر بن عبد الله مولى غُفْرة قال: سمعتُ أيوب بن خالد بن صفوان الأنصاريُّ يقول: قال جابر بن عبد الله: خَرَجَ علينا النبي ﷺ فقال:"يا أيها الناس، إنَّ لله سَرَايا من الملائكة تَحُلُّ وتقفُ على مجالس الذِّكر في الأرض، فارتَعُوا في رياض الجنة"، قالوا: وأين رياضُ الجنة يا رسول الله؟ قال:"مجالسُ الذِّكر، فاغْدُوا ورُوحُوا في ذكر الله، وذكِّروه أنفُسَكم، من كان يحبُّ أن يَعلَمَ منزلتَه عند الله، فلينظُر كيف منزلةُ الله عنده، فإنَّ الله يُنزِلُ العبدَ منه حيث أنزَلَه من نفسِه" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: اے لوگو! بے شک اللہ تعالیٰ کے فرشتوں کے کچھ دستے ایسے ہیں جو زمین میں ذکر کی مجلسوں پر اترتے اور وہاں قیام کرتے ہیں، لہٰذا تم جنت کے باغوں میں چر لیا کرو۔ صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! جنت کے باغ کہاں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ذکر کی مجلسیں جنت کے باغ ہیں، پس تم اللہ کے ذکر میں صبح و شام مصروف رہا کرو اور اپنے نفسوں کو اس کی یاد دلایا کرو۔ جو شخص یہ جاننا چاہتا ہے کہ اللہ کے ہاں اس کا کیا مقام ہے، تو وہ یہ دیکھ لے کہ اس کے اپنے دل میں اللہ کا کیا مقام ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ بندے کو اپنے ہاں وہی مقام عطا کرتا ہے جو بندہ اللہ کو اپنے نفس میں دیتا ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1841]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف عمر بن عبد الله مولى غُفْرة، وبه أعلّه الذهبي في "تلخيصه".»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لضعف عمر بن عبد الله مولى غُفْرة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12. فَضِيلَةُ مَجَالِسِ الذِّكْرِ
ذکر کی مجلسوں کی فضیلت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1842
أخبرني أبو عَوْن محمد بن أحمد بن ماهان الجزّار (1) بمكة على الصَّفا، حدثنا علي بن عبد العزيز، حدثنا حجّاج بن مِنْهال. وحدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو مسلم، حدثنا أبو عُمَر الضرير، قالا: حدثنا حمّاد بن سلمة، أنَّ سهيل بن أبي صالح أخبرهم، عن أبيه، عن أبي هريرة، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"إنَّ لله ملائكةً سَيّارةً وفُضُلًا يَلتَمِسون مجالسَ الذِّكر في الأرض، فإذا أَتَوا على مجلس ذِكْرٍ حَفَّ بعضُهم بعضًا بأجنحتهم إلى السماء، فيقول ﵎: من أين جئتُم؟ وهو أعلمُ، فيقولون: ربَّنا جئنا من عند عبادك يُسبِّحونك ويُكبِّرونك ويَحْمَدُونك ويُهلِّلونك، ويَسألونك ويَستَجيرونك، فيقول: ما يسألونني؟ وهو أعلمُ، فيقولون: ربَّنا يسألونك الجنة، فيقول: وهل رأَوها؟ فيقولون: لا يا رب، فيقول: فكيف لو رأَوها؟ فيقول: وممَّ يَستَجيرونني؟ وهو أعلمُ، فيقولون: من النار، فيقول: هل رأَوها؟ فيقولون: لا، فيقول: فكيف لو رأَوها؟ ثم يقول: اشهَدُوا أني قد غفرتُ لهم، وأعطيتُهم ما سألوني، وأَجَرْتُهم مما استجاروني، فيقولون: ربَّنا إِنَّ فيهم عبدًا خطّاءً جلس إليهم وليس منهم! فيقول: وهو أيضًا قد غفرتُ له، هم القومُ لا يَشقَى بهم جَليسُهم" (2) .
هذا حديث صحيح، تفرَّد بإخراجه مسلم بن الحجاج مختصرًا من حديث وهيب بن خالد عن سهيل (1) !
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے زمین میں سیاحت کرنے والے اور (ذکر کی تلاش میں) زائد مقرر ہیں جو زمین میں ذکر کی مجلسوں کو تلاش کرتے پھرتے ہیں۔ پس جب وہ ذکر کی کسی مجلس پر پہنچتے ہیں تو وہ ایک دوسرے کو اپنے پروں سے ڈھانپ لیتے ہیں یہاں تک کہ آسمان تک پہنچ جاتے ہیں۔ پھر اللہ سبحانہ و تعالیٰ ان سے پوچھتا ہے جبکہ وہ ان کے حال سے سب سے زیادہ واقف ہے: تم کہاں سے آئے ہو؟ وہ عرض کرتے ہیں: اے ہمارے پروردگار! ہم تیرے ان بندوں کے پاس سے آئے ہیں جو تیری تسبیح «سُبْحَانَ اللهِ» اللہ پاک ہے بیان کر رہے تھے، تیری بڑائی «اللهُ أَكْبَرُ» اللہ سب سے بڑا ہے بیان کر رہے تھے، تیری حمد «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں کر رہے تھے، تیری توحید «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ» اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں کا ذکر کر رہے تھے، تجھ سے سوال کر رہے تھے اور تیری پناہ طلب کر رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وہ مجھ سے کیا مانگتے ہیں؟ جبکہ وہ خود سب سے زیادہ جاننے والا ہے، وہ عرض کرتے ہیں: اے ہمارے رب! وہ تجھ سے جنت مانگتے ہیں، اللہ فرماتا ہے: کیا انہوں نے اسے دیکھا ہے؟ وہ عرض کرتے ہیں: نہیں اے رب! اللہ فرماتا ہے: تو اگر وہ اسے دیکھ لیتے تو ان کا کیا حال ہوتا؟ پھر اللہ فرماتا ہے: وہ کس چیز سے میری پناہ مانگتے ہیں؟ جبکہ وہ خود سب سے زیادہ جاننے والا ہے، وہ عرض کرتے ہیں: آگ (جہنم) سے، اللہ فرماتا ہے: کیا انہوں نے اسے دیکھا ہے؟ وہ عرض کرتے ہیں: نہیں، اللہ فرماتا ہے: تو اگر وہ اسے دیکھ لیتے تو ان کا کیا حال ہوتا؟ پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: تم گواہ رہو کہ میں نے ان سب کو معاف کر دیا، اور وہ جو کچھ مانگ رہے تھے میں نے انہیں عطا کر دیا، اور جس چیز سے پناہ مانگ رہے تھے میں نے انہیں پناہ دے دی، تب فرشتے عرض کرتے ہیں: اے ہمارے رب! ان میں ایک بہت گناہگار بندہ بھی تھا جو (کسی کام سے) ان کے پاس آ کر بیٹھ گیا تھا اور وہ ان (ذکر کرنے والوں) میں سے نہیں تھا! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں نے اسے بھی معاف کر دیا، یہ وہ لوگ ہیں جن کا ہم نشین (پاس بیٹھنے والا) بھی بدبخت و محروم نہیں رہتا۔
یہ حدیث صحیح ہے، اور امام مسلم بن الحجاج نے اسے وہیب بن خالد کی سہیل سے روایت کے طور پر مختصراً روایت کرنے میں انفرادیت حاصل کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1842]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،أبو بكر بن إسحاق: اسمه أحمد، وأبو مسلم: هو إبراهيم بن عبد الله بن مسلم الكجّي.»

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
13. مُدَاوَمَةُ الذِّكْرِ
ذکر کی پابندی اور دوام۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1843
حدثنا أبو الفضل الحسن بن يعقوب العَدْل، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا زيد بن الحُبَاب، حدثنا معاوية بن صالح، حدّثني عمرو بن قيس السَّكُوني، عن عبد الله بن بُسْر: أنَّ أعرابيًا قال لرسول الله ﷺ: إنَّ شرائع الإسلام قد كَثُرَتْ عليَّ، فأنبِئني بشيءٍ أَتشبَّثُ به، فقال:"لا يَزالُ لسانُكَ رَطْبًا من ذِكْرِ الله" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: (اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !) بے شک اسلام کے احکام (نفل عبادات و فرائض) مجھ پر بہت زیادہ ہو گئے ہیں، لہٰذا آپ مجھے کوئی ایسی (جامع) چیز بتا دیں جسے میں مضبوطی سے تھام لوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاری زبان اللہ کے ذکر سے ہمیشہ تر رہنی چاہیے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1843]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح.»

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
14. سَبْقُ الْمُفَرِّدِينَ
مفردون سبقت لے گئے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1844
أخبرنا أبو الحسين أحمد بن عثمان المقرئ ببغداد، حدثنا العباس بن محمد الدُّوري، حدثنا أبو عامر العَقَدي، حدثنا علي بن المبارك، عن يحيى بن أبي كَثير، عن عبد الرحمن بن يعقوب مولى الحُرَقَة، قال: سمعتُ أبا هريرة يقول: قال رسولُ الله ﷺ:"سَبَقَ المُفرِّدون" قالوا يا رسول الله، وما المُفرِّدون؟ قال:"الذين يُهْتَرونَ في ذِكْر الله" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «مفردون» (سبقت لے جانے والے) آگے نکل گئے۔ صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اور «مفردون» کون ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ لوگ جو اللہ کے ذکر میں مگن رہتے ہیں (اور اسی کی یاد میں کھو جاتے ہیں)۔
یہ حدیث صحیح پر شرطِ شیخین ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1844]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،أبو عامر العقدي: هو عبد الملك بن عمرو.»

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
15. أَنَا مَعَ عَبْدِي إِذَا هُوَ ذَكَرَنِي وَتَحَرَّكَتْ بِي شَفَتَاهُ
میں اپنے بندے کے ساتھ ہوتا ہوں جب وہ مجھے یاد کرتا ہے اور اس کے ہونٹ میرے ذکر سے حرکت کرتے ہیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1845
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحْر بن نَصْر، حدثنا بِشْر بن بَكْر، حدثنا الأوزاعي، عن إسماعيل بن عُبيد الله، عن أم الدَّرداء، عن أبي الدَّرداء قال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"إنَّ الله يقولُ: أنا مع عبدي إذا هو ذَكَرَني وتحرَّكَتْ بي شَفَتاه" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: بے شک اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں اپنے بندے کے ساتھ ہوتا ہوں جب وہ میرا ذکر کرتا ہے اور اس کے ہونٹ میرے (ذکر) کی وجہ سے حرکت کرتے ہیں۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1845]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، رجاله ثقات، لكن قد اختلف فيه على إسماعيل بن عبيد - وهو ابن أبي المهاجر - فروي عنه عن أم الدرداء، كما هنا، وروي عنه عن أم الدرداء عن أبي هريرة، وروي عنه عن كريمة بنت الحسحاس عن أبي هريرة، كما سيأتي. الأوزاعي: هو عبد الرحمن بن عمرو، وأم الدرداء هي الصغرى، واسمها: هجيمة، وقيل: جهيمة الأوصابية الدمشقية.»

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
16. مَا عَمِلَ آدَمِيٌّ مِنْ عَمَلٍ أَنْجَى لَهُ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ مِنْ ذِكْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
آدمی کا کوئی عمل اللہ کے عذاب سے نجات دلانے میں اللہ کے ذکر سے بڑھ کر نہیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1846
أخبرنا بكر بن محمد بن حَمْدان الصَّيرفي بمَرْو، حدثنا عبد الصمد بن الفضل البَلْخي، حدثنا مَكِّي بن إبراهيم، حدثنا عبد الله بن سعيد بن أبي هند، عن زياد بن أبي زياد مولى ابن (1) عيّاش [عن] أبي (2) بَحْريَّة، عن أبي الدَّرداء قال: قال النبيُّ ﷺ:"ألا أُنبِّئُكم بخيرِ أعمالِكم، وأزكاها عند مَليكِكُم، وأرفعِها في درجاتِكم، وخيرٌ لكم من إعطاء الذَّهب والوَرِق، وأن تَلْقَوا عدوَّكم فتَضرِبوا أعناقَهم ويَضرِبوا أعناقَكُم؟" قالوا: وما ذاكَ يا رسول الله؟ قال:"ذِكْرُ الله ﷿". وقال معاذ بنُ جبل: ما عمل آدميٌّ من عَملٍ أنجَى له من عذاب الله من ذِكْرِ الله ﷿ (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں تمہارے اعمال میں سے سب سے بہتر، تمہارے مالک کے نزدیک سب سے زیادہ پاکیزہ، تمہارے درجات میں سب سے بلند، اور تمہارے لیے سونا اور چاندی (اللہ کی راہ میں) دینے سے بھی بہتر، اور اس سے بھی بڑھ کر کہ تم (میدانِ جنگ میں) اپنے دشمن سے ٹکراؤ، پھر تم ان کی گردنیں مارو اور وہ تمہاری گردنیں ماریں، ایسے عمل کی خبر نہ دوں؟ صحابہ نے عرض کیا: کیوں نہیں اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ عزوجل کا ذکر۔ اور سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ عزوجل کے ذکر سے بڑھ کر کوئی عمل ایسا نہیں جو انسان کو اللہ کے عذاب سے نجات دلانے والا ہو۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1846]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، على خلاف في رفعه ووقفه، ووصله وإرساله، كما هو مبين في التعليق على "مسند أحمد" 36/ (21702). أبو بحرية: هو عبد الله بن قيس الكندي.»

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1847
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو المثنى وأبو مُسلِم، قالا: حدثنا مسدَّد، حدثنا بشر بن المُفضَّل، حدثنا عُمارة بن غَزِيّة (1) ، عن صالح مولى التَّوأمة، قال: سمعتُ أبا هريرة يقول: قال أبو القاسم ﷺ:"أيُّما قومٍ جَلَسوا فأطالوا الجلوس، ثم تفرَّقوا قبل أن يَذكُروا الله، أو يصلُّوا على نبيِّه (2) ﷺ، إِلَّا كانت عليهم من الله تِرَةٌ، إن شاء عذَّبهم، وإن شاء غَفَرَ لهم" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، وصالحٌ ليس بالساقط (4) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو لوگ بھی کسی مجلس میں بیٹھے اور وہاں طویل وقت گزارا، پھر اللہ کا ذکر کیے بغیر اور اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجے بغیر وہاں سے جدا ہو گئے، تو اللہ کی طرف سے ان پر «تِرَةٌ» نقصان، حسرت اور کوتاہی کا وبال ہوگا، اب اگر اللہ چاہے تو انہیں عذاب دے اور اگر چاہے تو انہیں معاف فرما دے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کے راوی صالح (مولى التوامہ) ساقط الاعتبار نہیں ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1847]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل صالح مولى التوأمة - وهو ابن نبهان - فهو صدوق حسن الحديث، وهو وإن كان قد اختلط إلّا أنَّ سماع عمارة بن غزية منه قبل الاختلاط، وتابعه أيضًا ابن أبي ذئب وزياد بن سعد - كما سيأتي في التخريج - وهما ممن سمع منه قبل الاختلاط أيضًا.»

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1848
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا أحمد بن إبراهيم بن مِلْحان، حدثنا يحيى بن بُكَير، حدثنا الليث، عن ابن الهاد، عن يحيى بن سعيد، عن زُرَارة بن أَوفَى، عن عائشةَ قالت: ما كان رسولُ الله ﷺ يقوم من مجلسٍ إلَّا قال:"سُبحانَك اللهمَّ ربي وبحمدِك، لا إله إلَّا أَنتَ، أستغفرُكَ وأتوبُ إليك" فقلت له: يا رسول الله، ما أكثرَ ما تقول هؤلاء الكلمات إذا قمتَ! قال:"لا يقولُهنَّ أحدٌ حين يقوم من مَجلسِه، إِلَّا غُفِر له ما كان منه في ذلك المَجلِس" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی کسی مجلس سے اٹھتے تو یہ کلمات ضرور کہتے تھے: «سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ رَبِّي وَبِحَمْدِكَ، لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ» اے اللہ! اے میرے پروردگار! تو اپنی تعریفوں کے ساتھ پاک ہے، تیرے سوا کوئی سچا معبود نہیں، میں تجھ سے بخشش مانگتا ہوں اور تیری طرف توبہ کرتا ہوں۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ اٹھتے وقت یہ کلمات کتنی کثرت سے پڑھتے ہیں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو بھی اپنی مجلس سے اٹھتے وقت یہ کلمات کہہ لے، تو اس مجلس میں اس سے (گفتگو کے دوران) جو کچھ بھی (خطا و لغزش) ہوئی ہو، اسے معاف کر دیا جاتا ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1848]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، رجاله ثقات، غير أنَّ زرارة بن أوفى ذكر المزي في ترجمته من "تهذيب الكمال" أن المحفوظ أنَّ بينه وبين عائشة سعد بن هشام. وقد أعله أبو حاتم بالاختلاف على الليث بن سعد فيه كما سيأتي. والليث: هو ابن سعد، وابن الهاد: هو يزيد بن عبد الله، ويحيى بن سعيد: هو الأنصاري.»

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
17. قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: عَبْدِي أَنَا عِنْدَ ظَنِّكَ بِي
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے میرے بندے! میں تیرے گمان کے مطابق تیرے ساتھ ہوں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1849
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا إبراهيم بن عبد الله السَّعْدي، حدثنا محمد بن القاسم الأَسَدي، حدثنا الرَّبيع بن صَبِيح، عن الحسن، عن أنس بن مالك قال: قال رسولُ الله ﷺ:"قال الله ﷿: عبدي أنا عند ظَنِّك بي، وأنا معك إذا ذَكَرْتَني" (1) . ذِكْرُ الظن مخرَّج في"الصحيح" (2) ، وذِكْرُ الدعاء غريبٌ صحيح (3) ؛ فإنَّ محمد بن القاسم ثقة (4) ! وفي هذا الإسناد يقول صالح جَزَرة: حدثنا ابن عركان (5) .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ عزوجل فرماتا ہے: اے میرے بندے! میں تیرے اس گمان کے پاس ہوں جو تو میرے بارے میں رکھتا ہے، اور جب تو مجھے یاد کرتا ہے تو میں تیرے ساتھ ہوتا ہوں۔ (امام حاکم فرماتے ہیں کہ) گمان کا ذکر تو صحیح (بخاری و مسلم) میں موجود ہے، جبکہ دعا کا ذکر غریب ہونے کے باوجود صحیح ہے کیونکہ محمد بن القاسم ثقہ راوی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1849]
تخریج الحدیث: «إسناده واهٍ، محمد بن القاسم الأسدي متهم بالكذب، لكن متن الحديث صحيح. وهذا الحديث لم نجد من أخرجه بهذا الإسناد غير المصنِّف، لكن روي من وجه آخر صحيح عن أنس بن مالك، فقد أخرجه أحمد 20/ (13192) و 21/ (13939) عن أبي داود الطيالسي، عن شعبة، عن قتادة، عن أنس، أنَّ النبي ﷺ قال: "يقول الله: أنا عند ظن عبدي بي، وأنا معه إذا دعاني".»

الحكم على الحديث: إسناده واهٍ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں