المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
1. لَيْسَ شَيْءٌ أَكْرَمُ عَلَى اللَّهِ مِنَ الدُّعَاءَ
اللہ کے نزدیک دعا سے زیادہ معزز کوئی چیز نہیں۔
حدیث نمبر: 1821
أخبرنا أبو الفضل الحسن بن يعقوب بن يوسف العدل، حدثنا أبو بكر يحيى بن جعفر بن أبي طالب، حدثنا أبو داود سليمان بن داود الطيالسي، حدثنا أبو العَوّام عمران القطان. وحدثنا أبو بكر أحمد بن إسحاق الفقيه، أخبرنا أبو مسلم ومحمد بن أيوب ويوسف بن يعقوب، قالوا: حدثنا عمرو بن مرزوق، أخبرنا عِمْران القطّان. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، حدثنا عِمْران القَطّان، حدثنا قَتَادة، عن سعيد بن أبي الحسن، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"ليس شيءٌ أكرَمَ على الله من الدُّعاء" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. أما مسلم فإنه لم يخرِّج في كتابه عن عِمْران القطَّان، على أنه صدوقٌ في روايته، وقد احتجَّ به البخاري في"الجامع الصحيح" (1) ، وأنا بمشيئة الله أُجري الأخبار التي سَقَطَت على الشيخين في كتاب الدَّعَوات على مذهب أبي سعيد عبد الرحمن بن مَهْدي في قَبولها:
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. أما مسلم فإنه لم يخرِّج في كتابه عن عِمْران القطَّان، على أنه صدوقٌ في روايته، وقد احتجَّ به البخاري في"الجامع الصحيح" (1) ، وأنا بمشيئة الله أُجري الأخبار التي سَقَطَت على الشيخين في كتاب الدَّعَوات على مذهب أبي سعيد عبد الرحمن بن مَهْدي في قَبولها:
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کوئی چیز دعا سے زیادہ عزیز نہیں ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب میں عمران القطان کی روایات نقل نہیں کی ہیں۔ حالانکہ وہ اپنی روایت میں صدوق ہیں۔ جبکہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے ” جامع صحیح “ میں ان کی روایات نقل کی ہیں اور جو روایات امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ سے کتاب الدعوات میں ذکر کرنے سے رہ گئی ہیں، ان کو قبول کرنے میں ابوسعید عبدالرحمن بن مہدی کے مذہب پر چلتے ہوئے میں بیان کروں گا۔ ان شاء اللہ تعالیٰ۔ کیونکہ مجھے ابوزکریا یحیی بن محمد العنبری نے بتایا ہے کہ میں نے ابوالحسن محمد بن اسحاق بن ابراہیم الحنظلی کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میرے والد، عبدالرحمن بن مہدی کے حوالے سے حلال و حرام احکام کے متعلق احادیث روایت کرتے ہیں تو ان کی بہت شدید چھان بین کرتے ہیں اور اس کے راویوں پر بہت زیادہ جرح و قدح کرتے ہیں لیکن جب اعمال کے فضائل، ثواب، عقاب، مباحات اور دعاؤں کے متعلق احادیث نقل کرتے ہیں تو سند کے حوالے سے اتنی زیادہ سختی نہیں کرتے ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1821]
حدیث نمبر: 1821M
فإنِّي سمعتُ أبا زكريا يحيى بن محمد العَنْبري يقول: سمعتُ أبا الحسن محمد بن إسحاق بن إبراهيم الحنظليَّ يقول: كان أَبي يَحكي عن عبد الرحمن بن مهديٍّ يقول: إذا رَوَيْنا عن النبي ﷺ في الحلال والحرام والأحكام شدَّدْنا في الأسانيد وانتقَدْنا الرجال، وإذا رَوَيْنا عنه في فضائل الأعمال والثَّواب والعِقاب والمباحات والدَّعَوات، تساهَلْنا في الأسانيد (2) .
امام حاکم فرماتے ہیں: میں نے ابوزکریا یحییٰ بن محمد العنبری کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے ابوالحسن محمد بن اسحاق بن ابراہیم الحنظلی سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ میرے والد (اسحاق بن راہویہ) عبدالرحمن بن مہدی کا یہ قول نقل کرتے تھے: ”جب ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حلال و حرام اور احکام کے بارے میں روایت کرتے ہیں تو اسناد میں سختی کرتے ہیں اور راویوں کی کڑی جانچ پڑتال کرتے ہیں، لیکن جب ہم فضائلِ اعمال، ثواب و عذاب، مباحات اور دعاؤں کے بارے میں روایت کرتے ہیں تو اسناد (کی شرائط) میں نرمی سے کام لیتے ہیں“۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1821M]
2. أَفْضَلُ الْعِبَادَةِ هُوَ الدُّعَاءُ
سب سے افضل عبادت دعا ہے۔
حدیث نمبر: 1822
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا هارون بن سليمان الأصبهاني، حدثنا عبد الرحمن بن مَهْدي، حدثنا سفيان، عن منصورٍ والأعمش [عن ذَرٍّ] (3) عن يُسَيْع الحضرمي، عن النُّعمان بن بَشِير قال: سمعتُ النبي ﷺ يقول:"إنَّ الدُّعاء هو العِبادة" ثم قرأ: ﴿وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ﴾ [غافر: 60] (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد رواه شعبة وجَرير عن منصور. وأما حديث شعبة:
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد رواه شعبة وجَرير عن منصور. وأما حديث شعبة:
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: دعا عبادت ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم کی یہ آیت پڑھی: (وَ قَالَ رَبُّکُمُ ادْعُوْنِیْٓ اَسْتَجِبْ لَکُمْ) (المومن: 60) ” اور تمہارے رب نے فرمایا: مجھ سے دعا کرو میں قبول کروں گا۔ “ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا اور اس حدیث کو شعبہ اور جریر نے منصور کے واسطے سے ذر (بن عبداللہ ہمدانی) سے روایت کی ہے۔ (جیسا کہ درج ذیل ہے)۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1822]
حدیث نمبر: 1823
فحدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا هارون بن سليمان، حدثنا عبد الرحمن بن مَهْدي، حدثنا شعبة، عن منصور، عن ذرٍّ، نحوَه (2) . وأما حديث جَرير:
منصور کے حوالے سے ” ذر (بن عبداللہ ہمدانی) “ سے ایسی ہی حدیث منقول ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1823]
حدیث نمبر: 1824
فحدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا إسماعيل بن قُتَيبة، حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا جَرِير، عن منصور، عن ذَرٍّ، فذكره بإسناده بمثله (3) . ولهذا الحديث شاهدٌ بإسناد صحيح عن عبد الله بن عباس:
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ نے بھی منصور کے واسطے سے ” ذر (بن عبداللہ ہمدانی) “ سے ایسی ہی حدیث نقل کی ہے جس کی سند بھی اسی جیسی ہے۔ سند صحیح کے ہمراہ مذکورہ حدیث کی ایک شاہد حدیث بھی موجود ہے جو کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔ (وہ حدیث درج ذیل ہے)۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1824]
حدیث نمبر: 1825
حدَّثَناه أبو بكر محمد بن داود بن سليمان، حدثنا محمد بن أيوب الرَّازيُّ وإبراهيم بن شَريكٍ الكوفي، قالا: حدثنا أحمد بن عبد الله بن يونس، حدثنا كامل بن العلاء، عن حَبِيب بن أبي ثابت، عن ابن عباس. وعن أبي يحيى، عن مجاهد، عن ابن عباسٍ قال: أفضلُ العِبادة الدعاءُ، وقرأ: ﴿وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ﴾ (1) .
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: بہترین عبادت ” دعا “ ہے اور آپ نے یہ آیت پڑھی: (وَ قَالَ رَبُّکُمُ ادْعُوْنِیْٓ اَسْتَجِبْ لَکُمْ اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَکْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِیْ سَیَدْخُلُوْنَ جَھَنَّمَ دٰخِرِیْنَ) (المومن: 60) ” اور تمہارے رب نے فرمایا: مجھ سے دعا کرو میں قبول کروں گا بے شک وہ جو میری عبادت سے اونچے کھچتے ہیں عنقریب جہنم میں جائیں گے ذلیل ہو کر۔ “ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1825]
3. مَنْ لَا يَدْعُو اللَّهَ يَغْضَبْ عَلَيْهِ
جو اللہ سے دعا نہیں کرتا اللہ اس پر ناراض ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 1826
أخبرنا أبو الحسين محمد بن أحمد القَنْطَري ببغداد، حدثنا أبو قِلَابة عبد الملك بن محمد الرَّقَاشي، حدثنا أبو عاصم الضَّحّاك بن مَخْلَد الشَّيباني، حدثنا أبو المَلِيح الفارسي، حدثنا أبو صالح، قال: قال أبو هريرة: قال رسولُ الله ﷺ:"مَن لا يَسألِ اللهَ يَغضَبْ عليه" (2) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص اللہ تعالیٰ سے دعا نہیں مانگتا، اللہ تعالیٰ اس سے ناراض ہوتا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1826]
حدیث نمبر: 1827
حدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا إسماعيل بن قُتَيبة، حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا خارجة، عن أبي المَليح حُميد المَديني، حدثني أبو صالح الخُوْزي، عن أبي هريرةَ قال: قال رسولُ الله ﷺ:"مَن لا يَدْعو الله يَغضَبُ عليه" (1) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اللہ سے دعا نہیں مانگتا (یعنی اس سے سوال نہیں کرتا)، اللہ اس پر غضبناک ہوتا ہے“۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1827]
حدیث نمبر: 1828
وحدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن محمد بن حيَّان (2) الأنصاري، حدثنا محمد بن الصَّبّاح الجَرجَرائي، حدثنا مروان بن معاوية الفَزَاري، حدثنا أبو المَلِيح المَدَني (3) ، عن أبي صالح، عن أبي هريرة قال: قال رسولُ الله ﷺ: إنَّ الله ليَغْضبُ على مَن لم (4) يَفعلْهُ، ولا يفعلُ ذلك أحدٌ غيرُه"؛ يعني في الدعاء (5) .
هذا حديث صحيح الإسناد؛ فإنَّ أبا صالح الخُوزيَّ وأبا المَلِيح الفارسيَّ لم يُذكَرا بالجَرح، إنما هما في عِداد المجهولين لقلَّة الحديث.
هذا حديث صحيح الإسناد؛ فإنَّ أبا صالح الخُوزيَّ وأبا المَلِيح الفارسيَّ لم يُذكَرا بالجَرح، إنما هما في عِداد المجهولين لقلَّة الحديث.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص اللہ تعالیٰ سے دعا نہیں مانگتا اللہ تعالیٰ اس پر ناراض ہوتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ اس شخص پر ناراض (نہیں) ہوتا ہے جو دعا مانگتا ہے اور (دعا مانگنے میں) صرف اللہ تعالیٰ ہی خوش ہوتا ہے۔ (اللہ تعالیٰ سے نہ مانگو تو وہ ناراض ہوتا ہے اور مخلوق سے مانگ لو تو یہ ناراض ہو جاتے ہیں)۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے کیونکہ ابوصالح خوزی اور ابوالملیح فارسی کا جرح میں کہیں تذکرہ نہیں کیا گیا تاہم کم احادیث روایت کرنے کی وجہ سے ان کا نام مجہول راویوں میں شمار ہوتا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1828]
حدیث نمبر: 1829
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الربيع بن سليمان، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني سليمان بن بلال، عن سُهيل بن أبي صالح، عن أبيه، عن أبي هريرة قال: قال رسولُ الله ﷺ:"ما من قومٍ جلسوا مجلسًا وتفرَّقوا منه لم يَذكُروا الله فيه، إلَّا كأنّما تفرَّقوا عن جِيفَةِ حمار، وكان عليهم حسرةً يومَ القيامة" (6) . تابعه عبد العزيز بن أبي حازم عن سهيل:
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو لوگ کسی مجلس میں بیٹھیں اور اس میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کیے بغیر اُٹھ جائیں تو ایسا ہے جیسے وہ کسی مرے ہوئے گدھے پر جمع ہوئے ہوں اور اُٹھ کر چلے گئے ہوں اور قیامت کے دن ان کو اس بات پر حسرت ہو گی۔ (کہ ہم اس وقت ذکراللہ سے غافل کیوں رہے)۔ ٭٭ یہ حدیث سہیل بن ابی صالح سے روایت کرنے میں عبدالعزیز ابوحازم نے بلال کی متابعت کی ہے (ان کی روایت کردہ حدیث درج ذیل ہے)۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر/حدیث: 1829]