🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. وَالْأَصْلُ فِيهِ مِنْ كِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ
اس کی اصل اللہ عز و جل کی کتاب سے ثابت ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2617
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا هارون بن سليمان الأصبهاني، حدثنا عبد الرحمن بن مَهدي، حدثنا سفيان الثَّوْري، عن قيس بن مُسلم (1) ، قال: سألت الحسن بن محمد عن قول الله ﵎: ﴿وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ﴾ [الأنفال: 41] ، قال: هذا مِفتاحُ كلامٍ، للهِ (2) تعالى ما في الدنيا والآخرة، قال: اختلف الناسُ في هذين السهمَين بعد وفاة رسول الله ﷺ، فقال قائلون: سَهْمُ القُربَى لقَرابة النبي ﷺ، وقال قائلون: لقَرابة الخليفة، وقال قائلون: سهمُ النبي ﷺ للخليفة مِن بعده، فاجتمع رأيُهم على أن يجعلوا هذين السهمَين في الخيل والعُدَّة في سبيل الله، فكانا على ذلك في خلافة أبي بكر وعمر ﵄ (3) .
سیدنا قیس بن محمد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حسن بن محمد سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: (وَاعْلَمُوْآ اَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِّنْ شَیْئٍ فَاَنَّ لِلّٰہِ خُمُسَہٗ وَ لِلرَّسُوْلِ) (الانفال: 41) اور جان لو کہ جو کچھ غنیمت لو تو اس کا پانچواں حصہ خاص اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے ۔ کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے جواباً کہا: یہ اللہ کے کلام کا آغاز ہے، جو کچھ دنیا اور آخرت میں ہے۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں ان دو حصوں کے متعلق اختلاف واقع ہو گیا۔ بعض نے کہا کہ قرابت داروں کا حصہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قرابت داروں کے لیے ہے اور بعض کا یہ موقف تھا کہ یہ حصہ خلیفہ کے رشتہ داروں کے لیے ہے، بعض نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا حصہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلیفہ کے لیے ہے۔ بالآخر سب لوگ اس بات پر متفق ہو گئے کہ ان دونوں حصوں کو جہاد فی سبیل اللہ کی تیاری کے سلسلے میں گھوڑوں وغیرہ کی مد میں استعمال کیا جائے چنانچہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں اسی پر عمل رہا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب قسم الفيء/حدیث: 2617]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2618
حدثنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا يعقوب بن يوسف القَزْويني، حدثنا محمد بن سعيد بن سابِق، حدثنا أبو جعفر الرازي، عن مُطرِّف، عن عبد الرحمن بن أبي ليلى، قال: سمعت عليًّا يقول: ولَّاني رسولُ الله ﷺ خَمْسَ الخُمس، فوضعتُه مَواضِعَه حياةَ رسولِ الله ﷺ وأبي بكر وعمر ﵄ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2586 - صحيح
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے خمس تقسیم کرنے کا نگران بنایا، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات میں اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دورِخلافت میں ان کو ان کے مصرف میں استعمال کیا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب قسم الفيء/حدیث: 2618]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2619
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصفّار، حدثنا أحمد بن محمد بن عيسى القاضي، حدثنا أبو حذيفة وأبو نُعيم، قالا: حدثنا سفيان، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن عائشة، قالت: كانت صفيَّةُ من الصَّفِيّ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2587 - على شرط البخاري ومسلم
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا مالِ غنیمت کے اس حصہ میں آئی تھیں جو سربراہ کے لیے خاص ہوتا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب قسم الفيء/حدیث: 2619]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. تَنَفَّلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَيْفَهُ ذَا الْفَقَارِ يَوْمَ بَدْرٍ
سیدنا رسول اللہ ﷺ نے غزوۂ بدر کے دن اپنی تلوار ذوالفقار نفل کے طور پر دی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2620
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني ابن أبي الزِّناد، عن أبيه، عن عُبيد الله بن عبد الله بن عُتبة، عن ابن عباس، قال: تَنفَّل رسول الله ﷺ سيفَه ذا الفَقَار يومَ بدرٍ، قال ابن عباس: وهو الذي رأى فيه الرؤيا يومَ أُحدٍ، وذلك أنَّ رسول الله ﷺ لما جاءه المشركون يوم أُحد، كان رأيُ رسول الله ﷺ أن يُقيم بالمدينة يقاتِلُهم فيها، فقال له ناس لم يكونوا شَهِدوا بدرًا: يخرجُ بنا رسولُ الله إليهم نقاتِلُهم بأحدٍ، وَتَرَجَّوا (1) أن يُصِيبوا من الفَضِيلة ما أصابَ أهلُ بدرٍ. فما زالوا برسول الله ﷺ حتى لَبِسَ أداتَه، نَدِموا، وقالوا: يا رسول الله، أقِمْ، فالرأيُ رأيُك، فقال رسول الله ﷺ:"ما ينبغي لنبيٍّ أن يضعَ أدَاتَه بعد أن لَبِسَها، حتى يَحكُم اللهُ بينَه وبين عَدُوِّه"، قال: وكان لما قال لهم رسول الله ﷺ يومئذ قبل أن يَلْبَس الأداةَ:"إني رأيتُ أني في دِرْعٍ حَصينةٍ، فأوّلتُها المدينةَ، وأني مُردِفٌ كَبْشًا، فَأَوَّلْتُه كَبْشَ الكَتيبةِ، ورأيتُ أن سيفي ذا الفَقَارِ فُلَّ، فأوّلْتُه فَلًّا فيكم، ورأيت بَقَرًا تُذبَح، فبَقْرٌ والله خيرٌ، فبَقْرٌ والله خيرٌ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2588 - صحيح
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تلوار ذوالفقار جنگ بدر کے موقع پر مالِ غنیمت کے اضافی حصہ کے طور پر حاصل کی تھیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: یہ وہی تلوار تھی جس کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ احد کے موقع پر خواب دیکھا تھا۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ احد کے دن جب مشرکین جنگ کے لیے تیار تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رائے یہ تھی کہ مدینہ شہر کے اندر رہ کر مقابلہ کیا جائے تو کچھ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: ہم لوگ جنگ بدر میں حاضر نہیں ہوئے تھے، یا رسول اللہ! کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو اپنے ہمراہ لے چلیں گے؟ تاکہ ہم دشمن کے ساتھ میدان احد میں مقابلہ کریں اور ان کو وہی فضیلت پانے کی تمنا تھی جو جنگ بدر میں شریک ہونے والوں کو حاصل ہوئی تھی، وہ لوگ مسلسل اصرار کرتے رہے حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگی لباس زیب تن کیا اور ہتھیار وغیرہ پہن لیے۔ پھر وہ لوگ شرمندہ ہوئے اور کہنے لگے: یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رائے ہی بہتر رائے ہے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ٹھہر جائیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی نبی جنگ کے لیے ہتھیار اٹھا لیتا ہے تو پھر جب تک اللہ تعالیٰ اس کے اور دشمن کے درمیان فیصلہ نہیں کر دیتا، اس وقت تک وہ اپنے ہتھیار اتارتا نہیں ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: حالانکہ اسی دن جنگی لباس پہننے سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو یہ بات بتا چکے تھے کہ میں نے (خواب میں) دیکھا ہے کہ میں بہت مضبوط زرہ پہنے ہوئے ہوں، میں نے اس کی تعبیر شہر (مدینہ) قرار دی ہے، میں نے دیکھا کہ میں ایک مینڈھے کو غبار میں روند رہا ہوں، اس کی تعبیر یہ ہے کہ دشمن کے لشکر کا سردار مارا جائے گا اور میں نے یہ بھی دیکھا ہے کہ میری تلوار ذوالفقار کو دندانے پڑ گئے ہیں، میں نے اس کی تعبیر تمہاری شکست سمجھی ہے اور میں نے دیکھا ہے کہ گائے ذبح کی جا رہی ہے اللہ کی قسم! گائے (کو خواب میں دیکھنا) اچھا ہے۔ اللہ کی قسم! گائے (کو خواب میں دیکھنا) اچھا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب قسم الفيء/حدیث: 2620]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. مَنْ كُنْتُ وَلِيَّهُ فَإِنَّ عَلِيًّا وَلِيُّهُ
جس کا میں سرپرست ہوں اس کے سیدنا علی بھی سرپرست ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2621
حدَّثَناه أبو أحمد بكر بن محمد بن حَمْدان الصَّيْرفي بمَرُو من أصل كتابه، حدثنا أبو قِلابة عبد الملك بن محمد الرَّقَاشي، حدثنا يحيى بن حماد، حدثنا أبو عَوَانة، عن الأعمش، عن سعد بن عُبيدة، حدثني عبد الله بن بُريدة الأسلمي، قال: إني لأمشي مع أبي إذ مرَّ بقومٍ يَتَنقَّصون عليًّا، ويقولُون فيه، فقام فقال: إني كنت أَنالُ من عليٍّ، وفي نفسي عليه شيءٌ، وكنت مع خالد بن الوليد في جيش فأصابوا غنائمَ، فعَمَدَ عليٌّ إلى جاريةٍ من الخُمس، فأخذها لنفسه، وكان بين علي وبين خالد شيءٌ، فقال خالد: هذه فُرصتك - وقد عرف خالدٌ الذي في نفسي على عليّ - فانطلِقْ إلى النبي ﷺ فاذكُر ذلك له، فأتيتُ النبي ﷺ، فحدَّثتُه وكنتُ رجلًا مِكْبابًا، وكنتُ إذا حدَّثْتُ الحديثَ أكبَبْتُ، ثم رفعتُ رأسي، فذكرتُ للنبي ﷺ أمْرَ الجيشِ، ثم ذكرتُ له أمرَ عليٍّ، فرفعتُ رأسي، وأوداجُ رسولِ الله ﷺ قد احمرَّت، قال: فقال النبي ﷺ:"مَن كنتُ وَلِيَّه فإنَّ عليًّا وليُّه"، وذهَبَ الذي في نفسي عليه (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة، إنما أخرجه البخاري من حديث علي بن سُويد بن مَنْجُوف، عن عبد الله بن بُريدة، عن أبيه، مختصرًا (1) ، وليس في هذا الباب أصح من حديث أبي عَوَانة هذا عن الأعمش عن سعد بن عُبيدة. وهكذا رواه وكيع بن الجرّاح عن الأعمش:
سیدنا عبداللہ بن بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ہمراہ جا رہا تھا کہ ان کا گزر کچھ ایسے لوگوں کے پاس سے ہوا جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شان میں تبرابازی کر رہے تھے، وہ بھی وہاں کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے: میں بھی علی کا مخالف ہوا کرتا تھا اور ان کی عیب جوئی کیا کرتا تھا، میں ایک دفعہ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے ہمراہ ایک لشکر میں تھا ان کو بہت سارا مالِ غنیمت ملا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے خمس میں آنے والی ایک لونڈی کو اپنے لیے رکھ لیا جبکہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے درمیان معمولی اختلاف تھا کیونکہ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے متعلق میرے مخالفانہ نظریات سے واقف تھے، اس لیے وہ مجھے کہنے لگے کہ تیرے لیے یہ موقع بہت غنیمت ہے، تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ اور (علی رضی اللہ عنہ کی اس حرکت کا) حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے تذکرہ کرو (سیدنا بریدہ فرماتے ہیں) میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور گفتگو شروع کی میں مکباب (زمین پر نظر رکھنے والا) آدمی تھا اور جب میں گفتگو کرنے لگتا تو نظروں کو جھکا لیتا پھر میں اپنا سر اٹھاتا۔ بہرحال میں نے لشکر والا واقعہ سنا دیا، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی وہ بات بتائی۔ (گفتگو ختم کرنے کے بعد جب) میں نے سر اٹھایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ سرخ ہو چکا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کا میں ولی ہوں، علی اس کا ولی ہے (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان سن کر) میرا ذہن سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے متعلق صاف ہو گیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے اس سند کے ہمراہ نقل نہیں کیا، تاہم امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ایک مختصر حدیث نقل کی ہے جبکہ اس باب میں ابوعوانہ کی وہ حدیث سب سے زیادہ صحیح ہے جو انہوں نے اعمش کے واسطے سے سیدنا سعد بن عبیدہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے اور درج ذیل حدیث وکیع بن جراح نے اعمش سے روایت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب قسم الفيء/حدیث: 2621]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2622
أخبرَناه أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا موسى بن إسحاق القاضي، حدثنا عبد الله (2) بن أبي شَيْبة، حدثنا وكيع، عن الأعمش، عن سعد بن عُبيدة، عن ابن بُريدة، عن أبيه: أنه مَرَّ على مجلسٍ، ثم ذكر الحديث بنحوه بطوله (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2589 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا وکیع رضی اللہ عنہ نے اعمش سے روایت کی ہے کہ سیدنا سعد بن عبیدہ رضی اللہ عنہ نے ابن بریدہ کے حوالے سے ان کے والد کا بیان نقل کیا ہے کہ ان کا گزر ایک مجلس سے ہوا پھر اس کے بعد طویل حدیث ذکر کی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب قسم الفيء/حدیث: 2622]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. كَانَ رَسُولُ اللَّهِ لَا يُسْأَلُ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ أَوْ سَكَتَ
سیدنا رسول اللہ ﷺ سے جو چیز بھی مانگی جاتی یا تو عطا فرما دیتے یا خاموش رہتے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2623
حدثنا علي بن حَمْشاذَ العَدْل وعبد الله بن الحُسين القاضي، قالا: حدثنا الحارث بن أبي أسامة، حدثنا رَوح بن عُبادة، حدثنا حماد بن سَلَمة، عن إسحاق بن عبد الله بن أبي طلحة، عن أنس بن مالك: أنَّ هوازنَ جاءت يوم حُنين بالنساء والصِّبيان، والإبل والغنم، فصَفُّوهم صفوفًا ليَكْثُروا على رسولِ الله ﷺ، فالتقى المسلمون والمشركون، فولَّى المسلمون مُدبِرين، كما قال الله، فقال رسول الله ﷺ:"أنا عبدُ الله ورسولُه" وقال:"يا معشرَ الأنصار، أنا عبدُ الله ورسولُه" فهزمَ الله المشركين، ولم يُطْعَن بُرمْحٍ ولم يُضْرَب بسَيفٍ، فقال النبي ﷺ يومئذٍ:"من قتل كافرًا فله سَلَبُه"، فقتل أبو قَتَادة يومئذٍ عشرين رجلًا، وأخذ أسلابهم، فقال أبو قَتَادة: يا رسول الله، ضربتُ رجلًا على حَبْل العاتِقِ وعليه دِرْعٌ له، فأعجَلْتُ عنه أن آخذ سَلَبَه، فانظر مع من هو يا رسول الله، فقال رجل: يا رسول الله، أنا أخذتها، فأرْضِهِ منها وأعطِنِيها، فسكتَ النبيُّ ﷺ، وكان لا يُسأل شيئًا إلّا أعطاهُ أو سكتَ، فقال عمر: لا واللهِ لا يُفيءُ اللهُ على أَسَدٍ من أُسْده ويُعطيكَها، فضحكَ رسولُ الله ﷺ (1) . حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2591 - على شرط مسلم أ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: جنگ حنین کے دن ہوازن نے عورتوں، بچوں، اونٹوں اور گھوڑوں کو لا کر صفوں میں کھڑا کر دیا تاکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی کثرت ظاہر کر سکیں، جب مسلمانوں اور مشرکوں کے درمیان معرکہ شروع ہوا تو مسلمان بھاگ کھڑے ہوئے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (انصار کو مخاطب کر کے) فرمایا: اے گروہ انصار میں اللہ کا بندہ ہوں، اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کو شکست دی حالانکہ نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نیزہ مارا اور نہ تلوار چلائی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن فرمایا: جو شخص کسی کافر کو قتل کرے گا، اس سے جو کچھ چھینے گا وہ اسی کا ہے۔ اس دن ابوقتادہ نے 20 آدمیوں کو قتل کر کے ان کا ساز و سامان اُتارا تھا، ابوقتادہ نے کہا: یا رسول اللہ! میں نے ایک شخص کی شہ رگ کاٹ ڈالی تھی، اس نے زرہ پہن رکھی تھی، مجھ سے پہلے کسی اور نے اس کا سامان اُتار لیا، یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم تحقیق کروائیں کہ وہ کون تھا؟ ایک شخص بولا: اس کا سامان میں نے اُتارا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو اس زرہ کے متعلق راضی کر لیں اور وہ مجھے دے دیں، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ عادت تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جب کچھ مانگا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم عطا کر دیتے یا خاموش ہو جاتے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بولے: خدا کی قسم! ایسا نہیں ہو سکتا کہ اللہ تعالیٰ اپنے کسی شیر کو غنیمت عطا فرمائے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کو تیرے سپرد کر دیں (یہ سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیئے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب قسم الفيء/حدیث: 2623]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2624
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الأصفهاني الزاهد، حدثنا الحسن بن علي بن بحر البَرِّي، حدثني أبي، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا زهير بن محمد، عن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده: أنَّ رسول الله ﷺ وأبا بكر وعمر أحرَقوا مَتاعَ الغالِّ، ومَنَعوه سَهْمَه وضربوه (1) . حديث غريب صحيح، ولم يُخرجاه.
سیدنا عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہ اپنے والد سے وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ چپکے سے کوئی چیز اٹھا کر اپنے مال میں داخل کر لینے والوں کا سامان جلا دیتے تھے اور اس کا حصہ روک لیتے تھے اور اس کو مارتے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب قسم الفيء/حدیث: 2624]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2625
أخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، عن بشر بن المُفضَّل، حدثنا محمد بن زيد - هو ابن مُهاجِر الأنصاري - حدثني عُمير مولى آبي اللَّحْم، قال: شهدتُ خيبرَ (1) مع سادتي، فكلَّموا فيَّ رسولَ الله ﷺ، فأَمَرني فقُلِّدتُ سيفًا، فأخبر أني مملوكٌ، فأمَرَ لي بشيءٍ من خُرْثيِّ المَتاعِ (2) . حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2592 - صحيح
سیدنا ابولحم رضی اللہ عنہ کے غلام سیدنا عمیر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں اپنے آقا کے ہمراہ غزوہ حنین میں شریک ہوا بعض صحابہ رضی اللہ عنہم نے میرے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا: تو میں نے ایک تلوار اٹھا لی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا کہ میں غلام ہوں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سامان میں سے ایک معمولی سی چیز لینے کا حکم دیا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب قسم الفيء/حدیث: 2625]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. أَعْطَى الْفَارِسَ سَهْمَيْنِ وَأَعْطَى الرَّاجِلَ سَهْمًا
سوار مجاہد کو دو حصے اور پیدل مجاہد کو ایک حصہ دیا گیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2626
حدثنا أبو جعفر عبد الله بن إسماعيل بن إبراهيم بن المنصورِ أميرِ المؤمنين إملاءً في دار المنصور، حدثنا أبو جعفر محمد بن يوسف بن الطبّاع، حدثنا عمِّي محمد بن عيسى بن الطبّاع، حدثنا مجمِّع بن يعقوب بن مجمِّع بن يزيد الأنصاري قال: سمعت أبي يعقوبُ بن مُجمِّع يذكُر عن عمّه عبد الرحمن بن يزيد بن مُجمِّع الأنصاري، عن عمّه مجمِّع بن جارية الأنصاري - وكان أحدَ القُرّاء الذين قرؤوا القرآن - قال: شَهِدْنا الحُدَيبيَةَ مع رسول الله ﷺ، فلما انصرفْنا عنها إذا الناسُ يَهُزُّون بالأباعِر، فقال بعض الناس لبعض: ما لِلناسِ؟ قالوا: أُوحيَ إلى رسول الله ﷺ، فخرجنا مع الناس نُوجِفُ فوجَدْنا النبيَّ ﷺ واقفًا على راحلته عند كُرَاع الغَمِيم، فلما اجتمعَ عَليه الناسُ قرأ عليهم: ﴿إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا﴾، فقال رجل: يا رسول الله، أفتْحٌ هو؟ قال:"نعم والذي نفسُ محمد بيدِه، إنه لَفَتحٌ". فقُسِمَت خيبرُ على أهل الحُدَيبيَة، فقَسَمها رسولُ الله ﷺ على ستةَ عشرَ (1) سهمًا، وكان الجيشُ ألفًا وخمس مئة، منهم ثلاث مئة فارِسٍ، فأعطى الفارسَ سهمَين، وأعطى الراجِلَ سهمًا (2) . حديث كبير صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2593 - صحيح
سیدنا مجمع بن جاریہ انصاری رضی اللہ عنہ قرآن پڑھنے والے قاریوں میں سے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں: ہم صلح حدیبیہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے، جب ہم وہاں سے واپس پلٹے تو لوگ حدی خوانی کر کے اپنے اونٹوں کو نشاط میں لا رہے تھے بعض لوگوں نے دوسروں سے پوچھا: لوگوں کو کیا ہو گیا؟ (یہ اتنی جلدی کوچ کی تیاری کیوں کر رہے ہیں) تو انہوں نے جواب دیا (کوچ کرنے کے متعلق) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوئی ہے چنانچہ ہم بھی گھوڑے دوڑاتے ہوئے لوگوں کے ہمراہ چل دیئے (مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک جگہ) کراع الغمیم پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر تھے کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جا ملے، جب سب لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد جمع ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت (اِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُّبِیْنًا) (الفتح: 1) بے شک ہم نے تمہارے لیے روشن فتح فرما دی پڑھی، تو ایک شخص بولا: یا رسول اللہ! کیا (اس سے مراد) فتح ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں محمد کی جان ہے، وہ فتح ہے۔ پھر حدیبیہ کے شرکاء پر خیبر (کا مالِ غنیمت) تقسیم کیا گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ مال 13 حصوں پر تقسیم کیا، اس وقت لشکر کی تعداد 1500 تھی، جن میں سے 300 گھڑسوار تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھڑ سوار کو دو حصے اور پیدل کو ایک حصہ عطا فرمایا (یعنی سوار کو پیدل سے ڈبل حصہ دیا) ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب قسم الفيء/حدیث: 2626]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں