المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
1. وَالْأَصْلُ فِيهِ مِنْ كِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ
اس کی اصل اللہ عز و جل کی کتاب سے ثابت ہے
حدیث نمبر: 2617
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا هارون بن سليمان الأصبهاني، حدثنا عبد الرحمن بن مَهدي، حدثنا سفيان الثَّوْري، عن قيس بن مُسلم (1) ، قال: سألت الحسن بن محمد عن قول الله ﵎: ﴿وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ﴾ [الأنفال: 41] ، قال: هذا مِفتاحُ كلامٍ، للهِ (2) تعالى ما في الدنيا والآخرة، قال: اختلف الناسُ في هذين السهمَين بعد وفاة رسول الله ﷺ، فقال قائلون: سَهْمُ القُربَى لقَرابة النبي ﷺ، وقال قائلون: لقَرابة الخليفة، وقال قائلون: سهمُ النبي ﷺ للخليفة مِن بعده، فاجتمع رأيُهم على أن يجعلوا هذين السهمَين في الخيل والعُدَّة في سبيل الله، فكانا على ذلك في خلافة أبي بكر وعمر ﵄ (3) .
قیس بن مسلم کہتے ہیں کہ میں نے حسن بن محمد سے اللہ عزوجل کے اس ارشاد: ﴿وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ﴾ ”اور جان لو کہ جو کچھ تم غنیمت میں پاؤ اس کا پانچواں حصہ اللہ اور رسول کے لیے ہے“ [الأنفال: 41] کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا: یہ کلام کا آغاز ہے، اللہ ہی کے لیے وہ سب کچھ ہے جو دنیا اور آخرت میں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ان دو حصوں (اللہ اور رسول کے حصے) کے بارے میں لوگوں میں اختلاف ہوا؛ کچھ نے کہا: ”ذوی القربیٰ“ کا حصہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے رشتہ داروں کے لیے ہے، کچھ نے کہا: یہ خلیفہ کے رشتہ داروں کے لیے ہے، اور کچھ نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حصہ ان کے بعد والے خلیفہ کا ہے، پھر سب کا اتفاق اس بات پر ہو گیا کہ ان دونوں حصوں کو اللہ کی راہ میں گھوڑوں اور جنگی سامان کی تیاری میں صرف کیا جائے، چنانچہ ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی خلافت میں اسی پر عمل رہا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب قسم الفيء/حدیث: 2617]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،إلى الحسن بن محمد: وهو ابن علي بن أبي طالب، المعروف أبوه بابن الحنفية، لأنَّ أمَّه من بني حنيفة.»
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2618
حدثنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا يعقوب بن يوسف القَزْويني، حدثنا محمد بن سعيد بن سابِق، حدثنا أبو جعفر الرازي، عن مُطرِّف، عن عبد الرحمن بن أبي ليلى، قال: سمعت عليًّا يقول: ولَّاني رسولُ الله ﷺ خَمْسَ الخُمس، فوضعتُه مَواضِعَه حياةَ رسولِ الله ﷺ وأبي بكر وعمر ﵄ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2586 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2586 - صحيح
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ”خمس کے خمس“ (پانچویں حصے کا انتظام) کا ولی مقرر فرمایا تھا، چنانچہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی زندگی میں اسے ان کے متعلقہ مقامات پر صرف کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب قسم الفيء/حدیث: 2618]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب قسم الفيء/حدیث: 2618]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، أبو جعفر الرازي - وهو عيسى بن أبي عيسى - صدوق يعتبر به، لكن خالفه أبو عوانة الوضّاح بن عبد الله اليشكُري كما قال الدارقطني في "العلل" (405)، وهو ثقة حجة، فرواه عن مطرِّف - وهو ابن طَرِيف - عن رجل يقال له: كثير عن عبد الرحمن بن أبي ليلى. وقال علي بن المديني والدارقطني: كثير هذا مجهول، وقال الدارقطني: ومطرِّف لم يسمع من ابن أبي ليلى.»
الحكم على الحديث: حديث حسن
حدیث نمبر: 2619
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصفّار، حدثنا أحمد بن محمد بن عيسى القاضي، حدثنا أبو حذيفة وأبو نُعيم، قالا: حدثنا سفيان، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن عائشة، قالت: كانت صفيَّةُ من الصَّفِيّ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2587 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2587 - على شرط البخاري ومسلم
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا ”صَفِیّ“ میں شامل تھیں (یعنی وہ حصہ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تقسیم سے پہلے اپنے لیے منتخب فرماتے تھے)۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب قسم الفيء/حدیث: 2619]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب قسم الفيء/حدیث: 2619]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،أبو حذيفة: هو موسى بن مسعود النَّهدي، وأبو نعيم: هو الفضل بن دُكين، وسفيان: هو الثَّوري.»
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
2. تَنَفَّلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَيْفَهُ ذَا الْفَقَارِ يَوْمَ بَدْرٍ
سیدنا رسول اللہ ﷺ نے غزوۂ بدر کے دن اپنی تلوار ذوالفقار نفل کے طور پر دی
حدیث نمبر: 2620
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني ابن أبي الزِّناد، عن أبيه، عن عُبيد الله بن عبد الله بن عُتبة، عن ابن عباس، قال: تَنفَّل رسول الله ﷺ سيفَه ذا الفَقَار يومَ بدرٍ، قال ابن عباس: وهو الذي رأى فيه الرؤيا يومَ أُحدٍ، وذلك أنَّ رسول الله ﷺ لما جاءه المشركون يوم أُحد، كان رأيُ رسول الله ﷺ أن يُقيم بالمدينة يقاتِلُهم فيها، فقال له ناس لم يكونوا شَهِدوا بدرًا: يخرجُ بنا رسولُ الله إليهم نقاتِلُهم بأحدٍ، وَتَرَجَّوا (1) أن يُصِيبوا من الفَضِيلة ما أصابَ أهلُ بدرٍ. فما زالوا برسول الله ﷺ حتى لَبِسَ أداتَه، نَدِموا، وقالوا: يا رسول الله، أقِمْ، فالرأيُ رأيُك، فقال رسول الله ﷺ:"ما ينبغي لنبيٍّ أن يضعَ أدَاتَه بعد أن لَبِسَها، حتى يَحكُم اللهُ بينَه وبين عَدُوِّه"، قال: وكان لما قال لهم رسول الله ﷺ يومئذ قبل أن يَلْبَس الأداةَ:"إني رأيتُ أني في دِرْعٍ حَصينةٍ، فأوّلتُها المدينةَ، وأني مُردِفٌ كَبْشًا، فَأَوَّلْتُه كَبْشَ الكَتيبةِ، ورأيتُ أن سيفي ذا الفَقَارِ فُلَّ، فأوّلْتُه فَلًّا فيكم، ورأيت بَقَرًا تُذبَح، فبَقْرٌ والله خيرٌ، فبَقْرٌ والله خيرٌ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2588 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2588 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے دن اپنی تلوار "ذو الفقار" بطورِ نفل حاصل کی تھی، ابن عباس فرماتے ہیں کہ یہی وہ تلوار ہے جس کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے احد کے دن خواب دیکھا تھا، واقعہ یہ ہے کہ جب احد کے دن مشرکین آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رائے یہ تھی کہ مدینہ میں رہ کر ان کا مقابلہ کیا جائے، مگر کچھ ایسے لوگوں نے —جو بدر میں شریک نہیں ہو سکے تھے— عرض کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں لے کر ان کے پاس نکلیں تاکہ ہم احد کے مقام پر ان سے لڑیں، انہیں امید تھی کہ انہیں بھی وہی فضیلت ملے گی جو اہل بدر کو ملی تھی، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اصرار کرتے رہے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگی لباس (زرہ) پہن لیا، پھر وہ نادم ہوئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ ٹھہر جائیں، اصل رائے وہی ہے جو آپ کی ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "کسی نبی کے لیے یہ لائق نہیں کہ جب وہ جنگی لباس پہن لے تو اللہ کے اس کے اور اس کے دشمن کے درمیان فیصلہ کرنے سے پہلے اسے اتارے"۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لباس پہننے سے پہلے ان سے فرمایا تھا: "میں نے خواب میں دیکھا کہ میں ایک مضبوط زرہ میں ہوں، جس کی تعبیر میں نے مدینہ سے کی، اور میں نے دیکھا کہ میں ایک مینڈھے کے پیچھے سوار ہوں، جس کی تعبیر میں نے لشکر کے مینڈھے (کمانڈر) سے کی، اور میں نے دیکھا کہ میری تلوار ذو الفقار میں دندانہ پڑ گیا ہے، جس کی تعبیر میں نے تم میں ہونے والے نقصان سے کی، اور میں نے دیکھا کہ گائے ذبح کی جا رہی ہے، اور اللہ کی قسم! وہ گائے (ذبح ہونا) خیر ہے، خیر ہے (یعنی مسلمانوں کی شہادت)"۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب قسم الفيء/حدیث: 2620]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب قسم الفيء/حدیث: 2620]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن،كما قال البيهقي في "السنن الكبرى" 7/ 41، وقد رواه عن أبي عبد الله الحاكم، وذلك من أجل ابن أبي الزِّناد - واسمه عبد الرحمن - فهو حسن الحديث، وقصة الرؤيا وتأويلها صحيحة رُويَت من وجهين آخرين عن النبي ﷺ. ابن وهب: هو عبد الله بن وهب المصري.»
الحكم على الحديث: إسناده حسن
3. مَنْ كُنْتُ وَلِيَّهُ فَإِنَّ عَلِيًّا وَلِيُّهُ
جس کا میں سرپرست ہوں اس کے سیدنا علی بھی سرپرست ہیں
حدیث نمبر: 2621
حدَّثَناه أبو أحمد بكر بن محمد بن حَمْدان الصَّيْرفي بمَرُو من أصل كتابه، حدثنا أبو قِلابة عبد الملك بن محمد الرَّقَاشي، حدثنا يحيى بن حماد، حدثنا أبو عَوَانة، عن الأعمش، عن سعد بن عُبيدة، حدثني عبد الله بن بُريدة الأسلمي، قال: إني لأمشي مع أبي إذ مرَّ بقومٍ يَتَنقَّصون عليًّا، ويقولُون فيه، فقام فقال: إني كنت أَنالُ من عليٍّ، وفي نفسي عليه شيءٌ، وكنت مع خالد بن الوليد في جيش فأصابوا غنائمَ، فعَمَدَ عليٌّ إلى جاريةٍ من الخُمس، فأخذها لنفسه، وكان بين علي وبين خالد شيءٌ، فقال خالد: هذه فُرصتك - وقد عرف خالدٌ الذي في نفسي على عليّ - فانطلِقْ إلى النبي ﷺ فاذكُر ذلك له، فأتيتُ النبي ﷺ، فحدَّثتُه وكنتُ رجلًا مِكْبابًا، وكنتُ إذا حدَّثْتُ الحديثَ أكبَبْتُ، ثم رفعتُ رأسي، فذكرتُ للنبي ﷺ أمْرَ الجيشِ، ثم ذكرتُ له أمرَ عليٍّ، فرفعتُ رأسي، وأوداجُ رسولِ الله ﷺ قد احمرَّت، قال: فقال النبي ﷺ:"مَن كنتُ وَلِيَّه فإنَّ عليًّا وليُّه"، وذهَبَ الذي في نفسي عليه (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة، إنما أخرجه البخاري من حديث علي بن سُويد بن مَنْجُوف، عن عبد الله بن بُريدة، عن أبيه، مختصرًا (1) ، وليس في هذا الباب أصح من حديث أبي عَوَانة هذا عن الأعمش عن سعد بن عُبيدة. وهكذا رواه وكيع بن الجرّاح عن الأعمش:
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة، إنما أخرجه البخاري من حديث علي بن سُويد بن مَنْجُوف، عن عبد الله بن بُريدة، عن أبيه، مختصرًا (1) ، وليس في هذا الباب أصح من حديث أبي عَوَانة هذا عن الأعمش عن سعد بن عُبيدة. وهكذا رواه وكيع بن الجرّاح عن الأعمش:
عبداللہ بن بریدہ اسلمی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ساتھ چل رہا تھا کہ ان کا گزر کچھ ایسے لوگوں پر ہوا جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی تنقیص کر رہے تھے اور ان کے بارے میں (نازیبا) باتیں کر رہے تھے۔، میرے والد کھڑے ہوئے اور فرمایا: میں بھی پہلے علی رضی اللہ عنہ سے نالاں رہتا تھا اور میرے دل میں ان کے خلاف کچھ تھا، میں خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک لشکر میں تھا جہاں مالِ غنیمت ملا، تو علی رضی اللہ عنہ نے خمس میں سے ایک لونڈی اپنے لیے لے لی، علی رضی اللہ عنہ اور خالد رضی اللہ عنہ کے درمیان بھی کچھ ان بن تھی، تو خالد نے (مجھ سے) کہا—کیونکہ وہ علی کے خلاف میرے دل کی بات جانتے تھے—کہ یہ تمہارے لیے موقع ہے، تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ اور ان سے یہ بات ذکر کرو۔ چنانچہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو سارا واقعہ سنایا، میں بات کرتے وقت اپنا سر جھکا کر رکھتا تھا، جب میں نے لشکر اور پھر علی رضی اللہ عنہ کا تذکرہ کر لیا تو اپنا سر اٹھایا، دیکھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن کی رگیں (غصے سے) سرخ ہو چکی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کا میں ولی (سرپرست/دوست) ہوں، علی بھی اس کا ولی ہے“، اور اس کے بعد میرے دل میں ان کے خلاف جو بغض تھا وہ ختم ہو گیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا، امام بخاری نے اسے مختصراً روایت کیا ہے، لیکن اس باب میں ابوعوانہ کی یہ روایت جو اعمش کے واسطے سے ہے، سب سے زیادہ صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب قسم الفيء/حدیث: 2621]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا، امام بخاری نے اسے مختصراً روایت کیا ہے، لیکن اس باب میں ابوعوانہ کی یہ روایت جو اعمش کے واسطے سے ہے، سب سے زیادہ صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب قسم الفيء/حدیث: 2621]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل أبي قلابة، فهو صدوق لا بأس به، وقد توبع. أبو عوانة: هو الوضاح بن عبد الله اليشكُري، والأعمش: هو سليمان بن مهران، وأخرجه مختصرًا أحمد (38/ 22961)، والنسائي (8411)، وابن حبان (6930) من طريق أبي معاوية، عن الأعمش، بهذا الإسناد.»
الحكم على الحديث: حديث صحيح
حدیث نمبر: 2622
أخبرَناه أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا موسى بن إسحاق القاضي، حدثنا عبد الله (2) بن أبي شَيْبة، حدثنا وكيع، عن الأعمش، عن سعد بن عُبيدة، عن ابن بُريدة، عن أبيه: أنه مَرَّ على مجلسٍ، ثم ذكر الحديث بنحوه بطوله (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2589 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2589 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ ایک مجلس سے گزرے، پھر انہوں نے پچھلی حدیث کے مانند مکمل واقعہ تفصیل سے بیان کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب قسم الفيء/حدیث: 2622]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح.»
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
4. كَانَ رَسُولُ اللَّهِ لَا يُسْأَلُ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ أَوْ سَكَتَ
سیدنا رسول اللہ ﷺ سے جو چیز بھی مانگی جاتی یا تو عطا فرما دیتے یا خاموش رہتے
حدیث نمبر: 2623
حدثنا علي بن حَمْشاذَ العَدْل وعبد الله بن الحُسين القاضي، قالا: حدثنا الحارث بن أبي أسامة، حدثنا رَوح بن عُبادة، حدثنا حماد بن سَلَمة، عن إسحاق بن عبد الله بن أبي طلحة، عن أنس بن مالك: أنَّ هوازنَ جاءت يوم حُنين بالنساء والصِّبيان، والإبل والغنم، فصَفُّوهم صفوفًا ليَكْثُروا على رسولِ الله ﷺ، فالتقى المسلمون والمشركون، فولَّى المسلمون مُدبِرين، كما قال الله، فقال رسول الله ﷺ:"أنا عبدُ الله ورسولُه" وقال:"يا معشرَ الأنصار، أنا عبدُ الله ورسولُه" فهزمَ الله المشركين، ولم يُطْعَن بُرمْحٍ ولم يُضْرَب بسَيفٍ، فقال النبي ﷺ يومئذٍ:"من قتل كافرًا فله سَلَبُه"، فقتل أبو قَتَادة يومئذٍ عشرين رجلًا، وأخذ أسلابهم، فقال أبو قَتَادة: يا رسول الله، ضربتُ رجلًا على حَبْل العاتِقِ وعليه دِرْعٌ له، فأعجَلْتُ عنه أن آخذ سَلَبَه، فانظر مع من هو يا رسول الله، فقال رجل: يا رسول الله، أنا أخذتها، فأرْضِهِ منها وأعطِنِيها، فسكتَ النبيُّ ﷺ، وكان لا يُسأل شيئًا إلّا أعطاهُ أو سكتَ، فقال عمر: لا واللهِ لا يُفيءُ اللهُ على أَسَدٍ من أُسْده ويُعطيكَها، فضحكَ رسولُ الله ﷺ (1) . حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2591 - على شرط مسلم أ
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2591 - على شرط مسلم أ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ غزوہ حنین کے دن قبیلہ ہوازن (مسلمانوں پر رعب ڈالنے اور) اپنی کثرت جتانے کے لیے اپنی عورتوں، بچوں، اونٹوں اور بکریوں کو بھی ساتھ لے آئے اور ان کی صفیں بنا لیں۔ جب مسلمانوں اور مشرکین کا مقابلہ ہوا تو (ابتداء میں) مسلمان پیٹھ پھیر کر مڑے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے (قرآن میں) فرمایا ہے۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ثابت قدم رہتے ہوئے) فرمایا: ”میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں“ اور پکارا: ”اے گروہِ انصار! میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں“، پھر اللہ نے مشرکوں کو شکست دے دی۔ اس دن (دشمن کے بھاگنے کی وجہ سے) نہ کوئی نیزہ مارا گیا اور نہ تلوار چلائی گئی (یعنی غیبی مدد سے فتح ہوئی)۔ اس دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ضابطہ بیان فرمایا: ”جس نے کسی کافر کو قتل کیا، اس مقتول کا سامان (سلب) اسی کا ہے“۔ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے اس دن بیس آدمیوں کو قتل کیا اور ان کا سامان حاصل کیا۔ ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے ایک شخص کے کندھے کی رگ پر وار کیا تھا، اس نے زرہ پہن رکھی تھی، میں جلدی میں اس کا سامان نہ لے سکا، آپ دیکھئے وہ (زرہ) کس کے پاس ہے۔ ایک شخص بولا: اے اللہ کے رسول! وہ میرے پاس ہے، آپ انہیں (کچھ دے کر) راضی کر دیں اور وہ زرہ مجھے عطا فرما دیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ جب بھی آپ سے کوئی چیز مانگی جاتی تو آپ یا تو عطا فرما دیتے یا خاموش رہتے۔ تب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے (اس شخص سے) کہا: نہیں، اللہ کی قسم! ایسا نہیں ہو سکتا کہ اللہ اپنے شیروں میں سے ایک شیر (ابو قتادہ) کو غنیمت عطا فرمائے اور وہ (تم جیسے کو) دے دی جائے، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب قسم الفيء/حدیث: 2623]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب قسم الفيء/حدیث: 2623]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،إلّا أنَّ قوله هنا عند المصنف: فقتل أبو قتادة يومئذٍ عشرين رجلًا، وهمٌ لا ندري هو من روح أو ممَّن دونه، لأن المحفوظ فيه أنَّ الذي قتل العشرين رجلًا هو أبو طلحة الأنصاري، وأنَّ أبا قتادة إنما قتل رجلًا واحدًا فقط، كما في تتمة الحديث هنا، كذلك رواه سائر أصحاب حماد بن سلمة عنه، فحماد بن سلمة ذكر قصة أبي طلحة وقصة أبي قتادة كلتيهما.»
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2624
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الأصفهاني الزاهد، حدثنا الحسن بن علي بن بحر البَرِّي، حدثني أبي، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا زهير بن محمد، عن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده: أنَّ رسول الله ﷺ وأبا بكر وعمر أحرَقوا مَتاعَ الغالِّ، ومَنَعوه سَهْمَه وضربوه (1) . حديث غريب صحيح، ولم يُخرجاه.
سیدنا عمرو بن شعیب اپنے والد اور وہ اپنے دادا (سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما نے مالِ غنیمت میں خیانت کرنے والے کا سامان جلا دیا تھا، اسے (غنیمت کے) حصے سے محروم کر دیا تھا اور اسے (تعزیراً) مارا تھا۔
یہ ایک غریب صحیح حدیث ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب قسم الفيء/حدیث: 2624]
یہ ایک غریب صحیح حدیث ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب قسم الفيء/حدیث: 2624]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، زهير بن محمد - وهو التميمي - رواية أهل الشام عنه غير مستقيمة، لأنَّه كان يحدث هناك من حفظه فيكثر غلطه، والوليد بن مسلم دمشقي، ولم يرو هذا الحديث عنه غيره، وقد اختُلِف عليه في هذا الحديث فروي عنه مرفوعًا موصولًا، كما في رواية المصنف، وروي عنه من قول عمرو بن شعيب مقطوعًا، وهذا يدلُّ على اضطراب زهير فيه.»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 2625
أخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، عن بشر بن المُفضَّل، حدثنا محمد بن زيد - هو ابن مُهاجِر الأنصاري - حدثني عُمير مولى آبي اللَّحْم، قال: شهدتُ خيبرَ (1) مع سادتي، فكلَّموا فيَّ رسولَ الله ﷺ، فأَمَرني فقُلِّدتُ سيفًا، فأخبر أني مملوكٌ، فأمَرَ لي بشيءٍ من خُرْثيِّ المَتاعِ (2) . حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2592 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2592 - صحيح
آبی اللحم کے آزاد کردہ غلام سیدنا عمیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں اپنے مالکوں کے ساتھ غزوہ خیبر میں حاضر ہوا، انہوں نے میرے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی (کہ میں جنگ میں شریک ہونا چاہتا ہوں) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور میرے گلے میں تلوار لٹکا دی گئی، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا کہ میں غلام ہوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (باقاعدہ فوجی حصے کے بجائے) میرے لیے معمولی گھریلو سامان (خرثی المتاع) دینے کا حکم فرمایا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب قسم الفيء/حدیث: 2625]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب قسم الفيء/حدیث: 2625]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح.»
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
5. أَعْطَى الْفَارِسَ سَهْمَيْنِ وَأَعْطَى الرَّاجِلَ سَهْمًا
سوار مجاہد کو دو حصے اور پیدل مجاہد کو ایک حصہ دیا گیا
حدیث نمبر: 2626
حدثنا أبو جعفر عبد الله بن إسماعيل بن إبراهيم بن المنصورِ أميرِ المؤمنين إملاءً في دار المنصور، حدثنا أبو جعفر محمد بن يوسف بن الطبّاع، حدثنا عمِّي محمد بن عيسى بن الطبّاع، حدثنا مجمِّع بن يعقوب بن مجمِّع بن يزيد الأنصاري قال: سمعت أبي يعقوبُ بن مُجمِّع يذكُر عن عمّه عبد الرحمن بن يزيد بن مُجمِّع الأنصاري، عن عمّه مجمِّع بن جارية الأنصاري - وكان أحدَ القُرّاء الذين قرؤوا القرآن - قال: شَهِدْنا الحُدَيبيَةَ مع رسول الله ﷺ، فلما انصرفْنا عنها إذا الناسُ يَهُزُّون بالأباعِر، فقال بعض الناس لبعض: ما لِلناسِ؟ قالوا: أُوحيَ إلى رسول الله ﷺ، فخرجنا مع الناس نُوجِفُ فوجَدْنا النبيَّ ﷺ واقفًا على راحلته عند كُرَاع الغَمِيم، فلما اجتمعَ عَليه الناسُ قرأ عليهم: ﴿إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا﴾، فقال رجل: يا رسول الله، أفتْحٌ هو؟ قال:"نعم والذي نفسُ محمد بيدِه، إنه لَفَتحٌ". فقُسِمَت خيبرُ على أهل الحُدَيبيَة، فقَسَمها رسولُ الله ﷺ على ستةَ عشرَ (1) سهمًا، وكان الجيشُ ألفًا وخمس مئة، منهم ثلاث مئة فارِسٍ، فأعطى الفارسَ سهمَين، وأعطى الراجِلَ سهمًا (2) . حديث كبير صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2593 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2593 - صحيح
سیدنا مجمع بن جاریہ انصاری رضی اللہ عنہ (جو ان قراء میں سے تھے جنہوں نے قرآن حفظ کیا تھا) سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حدیبیہ میں حاضر تھے، جب ہم وہاں سے واپس لوٹے تو لوگ اپنے اونٹوں کو تیزی سے ہنکا رہے تھے، بعض نے بعض سے پوچھا کہ لوگوں کو کیا ہوا؟ انہوں نے جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوئی ہے، چنانچہ ہم بھی لوگوں کے ساتھ تیزی سے چلے تو ہم نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم "کراع الغمیم" کے مقام پر اپنی سواری پر کھڑے ہیں، جب لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد جمع ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سامنے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا﴾ بے شک ہم نے آپ کو واضح فتح عطا فرمائی، ایک شخص نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا یہ فتح ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں محمد کی جان ہے! یقیناً یہ فتح ہے“۔ چنانچہ خیبر (کا مالِ غنیمت) صرف اہل حدیبیہ کے درمیان تقسیم کیا گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سولہ حصوں میں بانٹا، لشکر کی تعداد پندرہ سو تھی جس میں تین سو شہسوار تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوار کو دو حصے اور پیادہ کو ایک حصہ عطا فرمایا۔
یہ ایک عظیم اور صحیح الاسناد حدیث ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب قسم الفيء/حدیث: 2626]
یہ ایک عظیم اور صحیح الاسناد حدیث ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب قسم الفيء/حدیث: 2626]
تخریج الحدیث: «إسناده فيه لِينٌ، يعقوب بن مجمِّع بن جارية إنما يُعتبر به في المتابعات والشواهد، وقد وهم في هذا الحديث بذكر عدد الفُرسان وفي تقسيم السِّهام عليهم، كما نَبَّه عليه أبو داود بإثر الحديث (3736)، وكذلك البيهقي في "الدلائل" 4/ 240، ونقل في "معرفة السنن والآثار" (13029) و (13030) عن الإمام الشافعي قوله: مجمِّع بن يعقوب راوي هذا الحديث شيخ لا يُعرف، فأخذنا بحديث عُبيد الله بن عمر، ولم نرَ خبرًا مثله يعارضُه. قلنا: بل مجمِّع معروف ثقة، وإنما الشأن في أبيه يعقوب، وحديث عبيد الله بن عمر الذي عناه الشافعي وأبو داود هو حديثه عن نافع عن ابن عمر: أنَّ رسول الله ﷺ أسهم للرجل ولفرسه ثلاثة أسهم: سهمًا له وسهمين لفرسه. وهو عند البخاري (2863) ومسلم (1762) وغيرهما، وقال البيهقي في "الدلائل": وهذا هو الصحيح، وهو المعروف بين أهل المغازي.»
الحكم على الحديث: إسناده فيه لِينٌ