المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
1. ذِكْرُ أَخْبَارِ سَيِّدِ الْمُرْسَلِينَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ -
سید المرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حالات و واقعات کا ذکر
حدیث نمبر: 4219
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكير، عن ابن إسحاق، قال: حدثني ثَوْر بن يزيد، عن خالد بن مَعْدان، عن أصحاب رسول الله ﷺ، أنهم قالوا: يا رسول الله، أخبِرْنا عن نفسك، فقال:"دعوةُ أبي إبراهيمَ، وبُشرى عيسى، ورأتْ أُمِّي حين حَمَلَت أنه خَرَج منها نُورٌ أضاءتْ له بُصْرى" (1) . وبُصرى من أرض الشام. قال الحاكم: خالد بن مَعْدان من كِبار (1) التابعين، صَحِبَ معاذَ بنَ جَبَل (2) فمَن بَعدَه من الصحابة، فإذا أسندَ حديثًا عن الصحابة، فإنه صحيح الإسناد وإن ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4174 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4174 - صحيح
سیدنا خالد بن معدان، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمیں خود اپنے متعلق بتائیے۔ آپ نے فرمایا: (میں) اپنے باپ (یعنی دادا) سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی دعا ہوں۔ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت ہوں اور جب میری والدہ کو وہ حمل ہوا، جس میں، میں تھا تو ان کے لئے بصری روشن ہو گیا اور بصری سرزمین شام پر ہے۔ ٭٭ امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں: خالد بن معدان، کبار تابعین میں سے ہیں، آپ کو سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ اور ان کے بعد والے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی صحبت حاصل ہے کیونکہ آپ نے یہ حدیث صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی طرف منسوب کی ہے اس لئے یہ صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/ذكر أخبار سيد المرسلين صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 4219]
حدیث نمبر: 4220
أخبرنا أبو الحسن أحمد بن محمد العَنَزِي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، قال: قلت لأبي اليَمَان: حدَّثكَ أبو بكر بن أبي مريم الغَسّاني، عن سعيد بن سُوَيد، عن العِرْباض بن سارِيَة السُّلمي، قال: سمعتُ النبي ﷺ يقول:"إني عندَ الله في أوّل الكتاب لَخاتَمُ النبيين، وإنّ آدمَ لمُنْجَدِلٌ في طِينتِه، وسأنبِّئكم بتأويل ذلك: دعوةُ أبي إبراهيم، وبِشارةُ عيسى قومَه، ورُؤْيا أمي التي رأَتْ أنه خرج منها نُورٌ أضاءت له قصورُ الشام" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، شاهدٌ للحديث الأول.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4175 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، شاهدٌ للحديث الأول.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4175 - صحيح
سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بے شک میں اللہ کے ہاں مجھے سب سے پہلے خاتم النبیین لکھ دیا گیا تھا جبکہ آدم علیہ السلام کا ابھی خمیر تیار کیا جا رہا تھا اور عنقریب میں تمہیں اس کی تاویل سے آگاہ کروں گا (میں) اپنے باپ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی دعا ہوں اور وہ بشارت ہوں جو سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کو دی تھی اور اپنی والدہ کا وہ خواب ہوں جو انہوں نے دیکھا تھا کہ ان سے ایک ایسا نور نکلا ہے جس سے ان کے لئے شام کے محلات روشن ہو گئے۔ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور گزشتہ حدیث کی شاہد ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/ذكر أخبار سيد المرسلين صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 4220]
حدیث نمبر: 4221
أخبرنا أبو جعفر محمد بن محمد بن عبد الله البغدادي، حدثنا هاشم بن مَرْثَد الطَّبَراني، حدثنا يعقوب بن محمد الزُّهْري، حدثنا عبد العزيز بن عِمران، حدثنا عبد الله بن جعفر، عن أبي عَون، عن المِسْوَر بن مَخْرَمة، عن ابن عبّاس، عن أبيه، قال: قال عبدُ المُطَّلب: قَدِمْنا اليمنَ في رحلةِ الشتاء، فنزلتُ على حَبْرٍ من اليهود، فقال لي رجل من أهل الزَّبُور: يا عبدَ المُطَّلب، أتأذَنُ لي أن أنظُرَ إلى بدنِك ما لم يكن عَورةٌ، قال: ففتح إحدى مَنْخِرَيَّ فنظر فيه، ثم نظر في الأخرى، فقال: أشهدُ أنَّ في إحدى يَدَيك مُلْكًا، وفي الأخرى نبوةً، وأرى ذلك في بني زُهْرةَ، فكيف ذلك؟ فقلت: لا أدري، قال: هل لك من شاعَةٍ، قال: قلتُ: وما الشاعةُ؟ قال: زوجةٌ، قلت: أما اليومَ فلا، قال: إذا قَدِمْتَ فتَزَوَّجْ فيهن، فرجع عبدُ المُطَّلب إلى مكة، فتزوَّج هالة بنتَ وهبِ بن عبد مَنافٍ، فوَلَدَت له حمزةَ وصفيّةَ، وتزوج عبدُ الله بن عبد المطّلب آمنةَ بنت وهبٍ، فولَدَت رسولَ الله ﷺ، فقالت قريشٌ حين تَزوَّج عبدُ الله آمنةَ: فَلَجَ (1) عبدُ الله على أبيه (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4176 - يعقوب وشيخه ضعيفان
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4176 - يعقوب وشيخه ضعيفان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اپنے والد کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبدالمطلب نے کہا: ہم سردیوں کے سفر میں یمن گئے۔ اس دوران ہم نے ایک یہودی عالم کے پاس قیام کیا تو ایک زبور جاننے والے آدمی نے مجھ سے کہا: اے عبدالمطلب! کیا تم مجھے اس بات کی اجازت دیتے ہو کہ میں عورت (یعنی بدن کا وہ حصہ جس کو چھپانا ضروری ہے) کے علاوہ آپ کے بدن کو دیکھ سکوں (میں نے اجازت دی تو) اس نے میرے ناک کا ایک بانسہ کھولا اور اس میں دیکھا، پھر دوسرا دیکھا۔ پھر بولا: میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے ایک ہاتھ میں بادشاہی ہے اور دوسرے ہاتھ میں نبوت۔ میں اس کو بنو زہرہ میں دیکھ رہا ہوں۔ وہ کیسے ہیں؟ میں نے کہا: مجھے کچھ معلوم نہیں ہے۔ اس نے کہا: کیا تیری ” شاعہ “ ہے؟ میں نے کہا: شاعہ کیا ہوتا ہے؟ اس نے کہا: بیوی۔ میں نے کہا: اس وقت تو میری کوئی بیوی نہیں ہے۔ اس نے کہا جب تو واپس جائے تو ان (بنو زہرہ) میں شادی کرنا۔ سیدنا عبدالمطلب مکہ واپس آئے تو ہالہ بنت وہب بن عبد مناف رضی اللہ عنہ سے شادی کر لی تو ان کے ہاں سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ اور سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا پیدا ہوئیں اور سیدنا عبداللہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے آمنہ بنت وہب رضی اللہ عنہا سے شادی کی تو ان کے ہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت ہوئی۔ جب سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی شادی سیدنا آمنہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ ہوئی تو قریش کہنے لگے: عبداللہ رضی اللہ عنہ اپنے باپ سے بازی لے گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/ذكر أخبار سيد المرسلين صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 4221]
2. إِخْبَارُ الْيَهُودِ بِوِلَادَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
یہودیوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کی خبر دینا، یہودی کا مہرِ نبوت دیکھ کر بے ہوش ہو جانا
حدیث نمبر: 4222
حدثنا أبو محمد عبد الله بن جعفر الفارسي، حدثنا يعقوب بن سفيان، حدثنا أبو غسان محمد بن يحيى الكِنَاني، حدثني أبي، عن ابن إسحاق، قال: كان هشامُ بن عُرْوة يُحدِّث عن أبيه، عن عائشة، قالت: كان يهوديٌّ قد سَكَنَ مكةَ يَتَّجِرُ بها، فلما كانتِ الليلةُ التي وُلد فيها رسولُ الله ﷺ، قال في مجلس من قريش: يا معشرَ قريش، هل وُلِد فيكم الليلةَ مولودٌ؟ فقال القوم: والله ما نَعلمُه، قال: الله أكبر، أمّا إذا أخطأَكُم فلا بأس، انظروا واحفَظُوا ما أقولُ لكم، وُلِد هذه الليلةَ نبيُّ هذه الأمةِ الأخيرةِ، بين كتفَيه علامةٌ فيها شَعَرات مُتواتِرات، كأنهن عَرْفُ فَرَس، لا يَرضَعُ ليلتَين، وذلك أنَّ عِفْريتًا من الجنّ أدخَلَ إصبَعَيه في فَمِه فمنعَه الرَّضاع، فتَصدَّع القومُ من مَجلِسهم وهم مُتعجِّبون من قولِه وحديثِه، فلما صارُوا إلى منازلِهم أخبَرَ كلُّ إنسان منهم أهلَه، فقالوا: قد وُلِد لعبد الله بن عبد المطلب غلامٌ سَمَّوه محمدًا، فالتقى القومُ فقالوا: هل سمعتُم حديثَ اليهوديّ وهل بَلَغَكم مَولِدُ هذا الغُلامِ، فانطَلقُوا حتى جاؤوا اليهوديَّ فأخبرُوه الخَبَرَ، قال: فاذهبُوا معي حتى أَنظُرَ إليه، فخرجُوا حتى أدخَلُوه على آمنةَ، فقال: أَخرجي إلينا ابنَك، فأخرجَتْه، وكشَفُوا له عن ظَهْرِه، فرأى تلك الشامةَ، فوقع اليهودي مَغشيًّا عليه، فلما أفاقَ قالوا: وَيلَكَ، ما لكَ؟ قال: ذهبتْ واللهِ النبوةُ من بني إسرائيل، فَرِحتُم به يا معشرَ قُريش، أما واللهِ لَيَسْطُوَنَّ بكُم سَطُوةً يَخرُج خَبرُها من المَشرِق والمَغرب. وكان في النَّفَر يومئذ الذينَ قال لهم اليهوديُّ ما قال؛ هشام والوليد بن المغيرة ومُسافِر بن أبي عمرو وعُبيدة بن الحارث بن عبد المُطّلب، وعُتبةُ بن رَبيعة شابٌّ فوقَ المُحتَلِم، في نَفَرٍ من بني مَنَافٍ وغيرهم من قُريش (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد تَواتَرتِ الأخبارُ أنَّ رسولَ الله ﷺ وُلد مَختُونًا مَسرُورًا (2) ، ووُلِد رسولُ الله ﷺ في الدار التي في الزُّقَاق المعروف بزُقاق المدكَّك بمكة، وقد صليتُ فيها، وهي الدارُ التي كانت بعد مُهاجَرِ رسول الله ﷺ في يد عَقِيل بن أبي طالب، ثم في أيدي ولدِه بعدَه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4177 - عقب تصحيح الحاكم للحديث لا نافيا لصحته
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد تَواتَرتِ الأخبارُ أنَّ رسولَ الله ﷺ وُلد مَختُونًا مَسرُورًا (2) ، ووُلِد رسولُ الله ﷺ في الدار التي في الزُّقَاق المعروف بزُقاق المدكَّك بمكة، وقد صليتُ فيها، وهي الدارُ التي كانت بعد مُهاجَرِ رسول الله ﷺ في يد عَقِيل بن أبي طالب، ثم في أيدي ولدِه بعدَه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4177 - عقب تصحيح الحاكم للحديث لا نافيا لصحته
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ایک یہودی مکہ میں تجارت کی غرض سے رہا کرتا تھا۔ جب وہ رات آئی، جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت ہوئی، اس نے قریش کی مجلس میں کہا: اے قریشیو! تم میں سے کسی کے ہاں آج کی رات کوئی بچہ پیدا ہوا ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ خدا کی قسم! ہمیں کچھ معلوم نہیں ہے۔ اس نے کہا: اللہ اکبر۔ بہرحال ایک موقع تو تم ضائع کر بیٹھے ہو لیکن اب میں جو کچھ تمہیں بتا رہا ہوں اس کو یاد کر لو۔ اس رات اس آخری امت کا نبی پیدا ہوا ہے، اس کے دونوں کندھوں کے درمیان ایک نشانی ہے، جس میں گھنے لمبے بال ہیں جیسا کہ گھوڑے کی کلغی ہوتی ہے، وہ دو راتیں دودھ نہیں پئے گا کیونکہ ایک جن نے اپنی دو انگلیاں اس کے منہ میں ڈال رکھی ہیں جس کی وجہ سے وہ دودھ نہیں پی سکتا۔ لوگ اس مجلس سے نکلے تو اس یہودی کی گفتگو اور جو اس نے خبر سنائی اس پر بہت حیران ہو رہے تھے۔ جب یہ لوگ اپنے اپنے گھروں کو گئے تو سب نے اپنے گھر والوں کو یہ خبر سنائی۔ تو انہوں نے ان کو بتایا کہ عبداللہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے ہاں ایک بچہ پیدا ہوا ہے، اس کا نام انہوں نے ” محمد “ رکھا ہے۔ پھر لوگ ایک دوسرے سے ملے اور بولے: کیا تم نے یہودی کی بات سنی ہے اور کیا تمہیں اس نومولود کی ولادت کا پتہ چلا ہے؟ یہ سب لوگ یہودی کے پاس آئے اور اس کو بتایا (کہ وہ بچہ پیدا ہو چکا ہے) اس نے کہا: مجھے بھی وہاں لے چلو، میں بھی اس کی زیارت کرنا چاہتا ہوں، تو لوگ اس کو ہمراہ لے کر سیدنا آمنہ رضی اللہ عنہا کے گھر جا پہنچے اور سیدنا آمنہ سے کہا: یہ بچہ ہمیں دکھائیں۔ انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے سامنے کر دیا، انہوں نے آپ کی پشت مبارک سے کپڑا ہٹایا تو اس نے مہر نبوت کی زیارت کر لی تو وہ یہودی غش کھا کر گر گیا۔ جب اس کو افاقہ ہوا، تو لوگوں نے کہا: تیرا ستیاناس ہو، تجھے کیا ہوا؟ اس نے کہا: خدا کی قسم! بنی اسرائیل کے ہاتھ سے نبوت جاتی رہی۔ اے قریشیو! تم پر کرم ہو گیا ہے، تم خوشیاں مناؤ۔ خدا کی قسم! وہ تمہیں ایسا غلبہ دلائے گا جس کی خبریں مشرق سے مغرب تک جائیں گی۔ اس دن یہودی کی گفتگو سننے والوں میں یہ لوگ بھی شامل تھے ” ہشام بن ولید بن مغیرہ، مسافر ابن ابی عمرو، عبیدہ بن حارث بن عبدالمطلب اس وقت عتبہ بن ربیعہ، بنی عبد مناف میں سے نوجوان لڑکا تھا اور قریش کے دیگر بہت سارے لوگ موجود تھے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ نوٹ: اس سلسلہ میں احادیث حد تواتر تک پہنچی ہوئی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ختنہ شدہ مسکراتے ہوئے پیدا ہوئے تھے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت مکہ کی اس گلی والے گھر میں ہوئی جو گلی ” زقاق المدکل “ کے نام سے مشہور تھی۔ مجھے اس گھر میں نماز پڑھنے کی سعادت حاصل ہے، یہ وہی گھر ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہجرت کر جانے کے بعد عقیل ابن ابی طالب کے قبضہ میں رہا اور اس کے بعد اس کی اولاد کے قبضے میں رہا۔ [المستدرك على الصحيحين/ذكر أخبار سيد المرسلين صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 4222]
حدیث نمبر: 4223
كما حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بحر بن نَصْر الخَوْلاني، حدثنا ابن وهب، أخبرني يونس بن يزيد، عن ابن شِهَاب، أخبرني علي بن الحسين، أنَّ عمرو بن عثمان أخبره عن أسامة بن زيد، أنه قال: يا رسول الله، أتنزِلُ في دارِك بمكةَ؟ قال:"وهل تَرَكَ لنا عَقِيلٌ من رِباعٍ أو دُورٍ؟"، وكان عَقِيلٌ وَرِثَ أبا طالبٍ، ولم يَرثْه عليٌّ ولا جعفرٌ لأنهما كانا مسلمَين (1) . قد احتجَّ الشيخان بهذا الحديث.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4178 - أخرجاه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4178 - أخرجاه
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ اپنے مکہ والے گھر میں ٹھہریں گے؟ کیا عقیل اس کا کوئی کمرہ ہمارے لئے چھوڑے گا؟ یہ عقیل کو ابوطالب کی وراثت سے ملا تھا جبکہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کو ابوطالب کی وراثت نہیں ملی تھی کیونکہ یہ دونوں مسلمان تھے۔ ٭٭ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کو نقل کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/ذكر أخبار سيد المرسلين صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 4223]
3. يَوْمُ وِلَادَتِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمُ الِاثْنَيْنِ
رسول اللہ ﷺ کی ولادت پیر کے دن ہوئی
حدیث نمبر: 4224
أخبرنا أبو عمرو بن السَّمّاك ببغداد والحسن بن يعقوب العَدْل بنَيسابُور، قالا: حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا عبد الوهاب بن عطاء، أخبرنا سعيد، عن قَتَادة، عن غَيلان بن جَرير، عن عبد الله بن مَعْبَد الزِّمّاني، عن أبي قَتَادة الأنصاري: أنَّ أعرابيًّا سأل النبيَّ ﷺ عن صوم يوم الاثنين، قال:"ذاك اليومُ الذي وُلِدتُ فيه، وأُنزل عليَّ فيه" (2) . صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه! إنما احتجَّ مُسلمٌ بحديث شُعْبة عن قَتَادة، بهذا الإسناد:"صومُ يومِ عَرَفةَ يُكفِّر السنةَ وما قَبْلَها" (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4179 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4179 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پیر کے روزے کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا: بے شک یہ وہ دن ہے کہ اس میں میری ولادت ہوئی ہے اور اسی دن مجھ پر وحی آئی۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ جبکہ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسی سند کے ہمراہ شعبہ رحمۃ اللہ علیہ کے واسطے قتادہ رضی اللہ عنہ سے یہ روایت کی ہے کہ عرفہ کے دن کا روزہ ایک سال اور اس سے پہلے کے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/ذكر أخبار سيد المرسلين صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 4224]
4. وُلِدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفِيلِ
رسول اللہ ﷺ عامِ فیل میں پیدا ہوئے
حدیث نمبر: 4225
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا حجَّاج بن محمد، حدثنا يونس بن أبي إسحاق، عن أبيه، عن سعيد بن جُبَير، عن ابن عبّاس، قال: وُلد النبيُّ ﷺ عامَ الفِيلِ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4180 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4180 - على شرط مسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عام الفیل میں پیدا ہوئے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/ذكر أخبار سيد المرسلين صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 4225]
حدیث نمبر: 4226
حدَّثَناه أبو سعيد أحمد بن محمد الأحمسي بالكوفة، حدثنا الحسين بن حُميد بن الربيع، حدثنا أبي، حدثنا حجّاج بن محمد، عن يونس بن أبي إسحاق، عن أبي إسحاق، عن سعيد بن جُبَير، عن ابن عبّاس، قال: وُلد النبيُّ ﷺ يومَ الفِيل (1) . تفرد حميد بن الربيع بهذه اللفظة في هذا الحديث، ولم يُتابَع عليه.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم واقعہ فیل والے دن پیدا ہوئے۔ ٭٭ ان الفاظ کے ہمراہ حدیث روایت کرنے میں حمید بن ربیع متفرد ہیں اور انہوں نے اس کی متابعت نہیں کی۔ [المستدرك على الصحيحين/ذكر أخبار سيد المرسلين صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 4226]
حدیث نمبر: 4227
حدثنا أبو الحسن محمد بن أحمد بن شَبَّويهِ الرئيس بمَرْو، حدثنا جعفر بن محمد النَّيسابوري، حدثنا علي بن مِهْران، أخبرنا سلمة بن الفضل، عن محمد بن إسحاق، قال: ولد رسول الله ﷺ لاثنتي عشرة ليلةً مَضَتْ من شهر ربيعٍ الأولِ (2) .
محمد بن اسحاق رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہوئے، اس وقت ماہ ربیع الاول کی 12 راتیں گزر چکی تھیں۔ [المستدرك على الصحيحين/ذكر أخبار سيد المرسلين صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 4227]
5. كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَامَ عُكَاظَ ابْنَ عِشْرِينَ سَنَةً
عکاظ کے سال رسول اللہ ﷺ کی عمر بیس برس تھی
حدیث نمبر: 4228
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكير، عن ابن إسحاق، قال: حدثني المُطَّلب بن عبد الله بن قيس بن مَخْرَمة، عن أبيه، عن جده قيس بن مَخْرَمةَ، قال: وُلِدتُ أنا ورسولُ الله ﷺ عامَ الفيل، كنّا لِدَينِ (1) . قال ابن إسحاق: كان رسولُ الله ﷺ عامَ عُكَاظٍ ابنَ عشرين سنةً (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابن مخرمہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے: میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عام الفیل میں پیدا ہوئے۔ ابن اسحاق کہتے ہیں: عکاظ کے سال حضور کی عمر 20 سال تھی۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/ذكر أخبار سيد المرسلين صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 4228]