مسند امام شافعی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
28. بَابٌ فِي اللِّبَاسِ وَسَتْرِ الْعَوْرَةِ
لباس اور ستر پوشی کا بیان
حدیث نمبر: 186
أَخْبَرَنَا عَطَّافُ بْنُ خَالِدٍ وَالدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ مُوسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا نَكُونُ فِي الصَّيْدِ أَفَيُصَلِّي أَحَدُنَا فِي الْقَمِيصِ الْوَاحِدِ؟ قَالَ:"نَعَمْ، وَلْيَزُرَّهُ، وَلَوْ لَمْ يَجِدْ إِلَّا أَنْ يَخُلَّهُ بِشَوْكَةٍ" .
سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں: ”میں نے کہا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہم شکار میں ہوتے ہیں، کیا ہم ایک قمیص میں نماز پڑھ لیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، اور اس کو سلائی کر لو، اگر یہ نہیں کرسکتا تو کانٹے سے اس کو ملا لو۔“ [مسند امام شافعی/ كتاب الصلاة /حدیث: 186]
تخریج الحدیث: «أخرجہ ابو داود، الصلاۃ، باب الرجل یصلی فی قمیص واحد: 632 - والنسائی، القبلۃ، باب الصلوۃ فی قمیص واحد: 766 - وصححہ ابن خزیمہ: 777، 778 - والحاکم: 1/250.»
حدیث نمبر: 187
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي [ ص: 251 ] هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:"لَا يُصَلِّيَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ لَيْسَ عَلَى عَاتِقِهِ مِنْهُ شَيْءٌ" .
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی ایک کپڑے میں ایسے نماز نہ پڑھے کہ اس کے کندھے پر کچھ نہ ہو۔“ [مسند امام شافعی/ كتاب الصلاة /حدیث: 187]
تخریج الحدیث: «أخرجہ ابو داود، الصلاۃ، باب الرجل یصلی فی قمیص واحد: 632 - والنسائی، القبلۃ، باب الصلوۃ فی قمیص واحد: 766 - وصححہ ابن خزیمہ: 777، 778 - والحاکم: 1/250.»
حدیث نمبر: 188
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي مِرْطٍ بَعْضُهُ عَلَيَّ وَبَعْضُهُ عَلَيْهِ، وَأَنَا حَائِضٌ. أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ مِنْ كِتَابِ الْوُضُوءِ، وَالثَّالِثَ وَالرَّابِعَ مِنَ الْجُزْءِ الثَّانِي مِنَ اخْتِلَافِ الْحَدِيثِ.
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ بیان فرماتی ہیں: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک کپڑے میں نماز پڑھتے جس کا کچھ حصہ مجھ پر اور کچھ آپ پر ہوتا جبکہ میں حالتِ حیض میں ہوتی۔“ [مسند امام شافعی/ كتاب الصلاة /حدیث: 188]
تخریج الحدیث: «أخرجہ ابو داود: الطہارۃ، باب الرخصۃ فی ذلک: 369 - وابن ماجہ، الطہارۃ، باب فی الصلوۃ فی ثوب الحائض: 653 - صححہ ابن خزیمہ: 768 و ابن الجارود: 133 - واصلہ فی الصحیحین بخاری: 333 - ومسلم: 513.»
29. بَابُ الْإِشَارَةِ وَتَرْكِ الْكَلَامِ فِي الصَّلَاةِ
نماز میں اشارہ کرنے اور کلام ترک کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 189
حَدَّثَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسْجِدَ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، وَكَانَ يُصَلِّي، وَدَخَلَتْ عَلَيْهِ رِجَالٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يُسَلِّمُونَ عَلَيْهِ. فَسَأَلْتُ صُهَيْبًا كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرُدُّ عَلَيْهِمْ؟ قَالَ: كَانَ يُشِيرُ إِلَيْهِمْ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے فرماتے ہیں: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنو عمرو بن عوف کی مسجد میں تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے کہ انصار کے لوگ آئے اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو (نماز کی حالت میں) سلام کرتے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے صہیب رضی اللہ عنہ سے پوچھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں کیسے جواب دیتے تھے؟ تو انہوں نے فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف اشارہ کرتے تھے۔“ [مسند امام شافعی/ كتاب الصلاة /حدیث: 189]
تخریج الحدیث: «أخرجہ ابن ماجہ: الصلوۃ، باب المصلی یسلم علیہ کیف یرد: 1017 - والنسائی، السہو، باب رد السلام بالاشارۃ فی الصلاۃ: 1188 - وصححہ ابن خزیمہ: 888 - والحاکم: 12/3.»
حدیث نمبر: 190
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ قَبْلَ أَنْ نَأْتِيَ أَرْضَ الْحَبَشَةِ فَيَرُدُّ عَلَيْنَا وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ فَلَمَّا رَجَعْنَا مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ أَتَيْتُهُ لِأُسَلِّمَ عَلَيْهِ، فَوَجَدْتُهُ يُصَلِّي، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ، فَأَخَذَنِي مَا قَرُبَ وَمَا بَعُدَ، فَجَلَسْتُ حَتَّى إِذَا قَضَى صَلَاتَهُ أَتَيْتُهُ، فَقَالَ:"إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ثَنَاؤُهُ يُحْدِثُ مِنْ أَمْرِهِ مَا شَاءَ، وَإِنَّ مِمَّا أَحْدَثَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ لَا تَكَلَّمُوا فِي الصَّلَاةِ" . أَخْرَجَ الْأَوَّلَ مِنْ كِتَابِ الْأَمَالِي، وَالثَّانِيَ مِنَ الْجُزْءِ الثَّانِي مِنَ اخْتِلَافِ الْحَدِيثِ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں: ”ہم ہجرتِ حبشہ سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کہتے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں ہوتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں ہمیں جواب دیتے، جب ہم حبشہ سے واپس آئے تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کروں، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز میں پایا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جواب نہ دیا، تو مجھ کو نزدیک اور دور گزری ہوئی فکریں آلگیں، میں بیٹھ گیا یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ عز وجل کے لیے تعریف ہے، وہ اپنے اوامر میں جو چاہتا ہے نیا حکم دے دیتا ہے، اور جو اللہ نے نیا حکم دیا وہ یہ کہ تم نماز میں بات چیت نہ کرو۔“ [مسند امام شافعی/ كتاب الصلاة /حدیث: 190]
تخریج الحدیث: «أخرجہ النسائی: السہو، باب الکلام فی الصلوۃ: 1222 - وابو داود، الصلاۃ، باب رد السلام فی الصلاۃ: 924 - وصححہ ابن حبان: 2243، 2244.»
30. بَابُ تَحْرِيمِ الصَّلَاةِ التَّكْبِيرُ
نماز کی تحریم (شروع کرنے) کے لیے تکبیر کا بیان
حدیث نمبر: 191
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحَنَفِيَّةِ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:"مِفْتَاحُ الصَّلَاةِ الْوُضُوءُ، وَتَحْرِيمُهَا التَّكْبِيرُ، وَتَحْلِيلُهَا التَّسْلِيمُ" . أَخْرَجَهُ مِنْ كِتَابِ اسْتِقْبَالِ الْقِبْلَةِ.
محمد بن علی بن حنفیہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز کی کنجی وضو ہے اور اس کی تحریم تکبیر (تحریمہ) ہے اور تحلیل سلام ہے۔“ [مسند امام شافعی/ كتاب الصلاة /حدیث: 191]
تخریج الحدیث: «أخرجہ الترمذی: الطہارۃ، باب ما جاء ان مفتاح الصلاۃ الطہور: 3 - وقال: ہذا الحدیث اصح شیء فی ہذا الباب واحسن - وابن ماجہ، الطہارۃ، باب مفتاح الصلاۃ الطہور: 275 - وابو داود، الطہارۃ، باب فرض الوضوء: 61. وحسنہ البغوی، شرح السنۃ: 558.»
31. بَابُ رَفْعِ الْيَدَيْنِ فِي الصَّلَاةِ
نماز میں رفع یدین (ہاتھ اٹھانے) کا بیان
حدیث نمبر: 192
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ مَنْكِبَيْهِ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ، وَبَعْدَ مَا يَرْفَعُ، وَلَا يَرْفَعُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ بیان فرماتے ہیں: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھاتے یہاں تک کہ ان کو کندھوں کے برابر کرتے، اور جب رکوع کا ارادہ کرتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے (تو بھی ہاتھوں کو اٹھاتے تھے) اور (ہاتھوں کو) سجدوں کے درمیان نہیں اٹھاتے تھے۔“ [مسند امام شافعی/ كتاب الصلاة /حدیث: 192]
تخریج الحدیث: «أخرجہ البخاری، الأذان، باب الٰی أین یرفع یدیہ: 738، 726 - ومسلم، الصلاۃ، باب استحباب رفع الیدین حذو المنکبین مع تکبیرۃ الاحرام والرکوع... الخ: 390.»
حدیث نمبر: 193
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [ ص: 254 ] كَانَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ رَفَعَهُمَا كَذَلِكَ، وَكَانَ لَا يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي السُّجُودِ. قَالَ أَبُو الْعَبَّاسِ: كَتَبْنَا حَدِيثَ سُفْيَانَ عَنِ الزُّهْرِيِّ بِمِثْلِهِ قَبْلَ هَذَا.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو اپنے ہاتھوں کو کندھوں تک اٹھاتے، اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو پھر اسی طرح ہاتھوں کو اٹھاتے۔ البتہ سجدوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم رفع الیدین نہیں کرتے تھے۔ [مسند امام شافعی/ كتاب الصلاة /حدیث: 193]
تخریج الحدیث: «أخرجہ البخاری، الأذان، باب رفع الیدین فی التکبیرۃ الأولی مع الافتتاح سواء: 735.»
حدیث نمبر: 194
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّهُ كَانَ إِذَا ابْتَدَأَ فِي الصَّلَاةِ رَفَعَ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ رَفَعَهُمَا دُونَ ذَلِكَ.
نافع، ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ جب نماز شروع کرتے تو اپنے ہاتھوں کو کندھوں تک اٹھاتے، اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو دونوں ہاتھوں کو اس سے تھوڑا کم اٹھاتے۔ [مسند امام شافعی/ كتاب الصلاة /حدیث: 194]
تخریج الحدیث: «أخرجہ البخاری، الاذان، باب رفع الیدین اذا قام من الرکعتین: 739.»
حدیث نمبر: 195
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ إِذَا ابْتَدَأَ الصَّلَاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، وَإِذَا رَفَعَ مِنَ الرُّكُوعِ رَفَعَهُمَا كَذَلِكَ.
اور اسی سابقہ سند سے ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما جب نماز شروع کرتے تو اپنے ہاتھوں کو کندھوں تک اٹھاتے اور جب رکوع سے اٹھتے تو بھی اسی طرح ہاتھوں کو کندھوں تک اٹھاتے۔ [مسند امام شافعی/ كتاب الصلاة /حدیث: 195]
تخریج الحدیث: «أخرجہ البخاری، الاذان، باب رفع الیدین اذا قام من الرکعتین: 739.»