مسند امام شافعی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
13. بَابُ التَّخْيِيرِ فِي الْعَقْلِ وَالْقَوَدِ
دیت اور قصاص میں اختیار کا بیان۔
حدیث نمبر: 1631
أَخْبَرَنَا الثِّقَةُ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ أَوْ مِثْلَ مَعْنَاهُ.
ایک دوسری سند سے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سابقہ حدیث کی ہم مثل یا اس کے ہم معنی بھی مروی ہے۔ [مسند امام شافعی/ كتاب القتل والقصاص والديات والقسامة /حدیث: 1631]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري، اللقطة، باب كيف تعرف لقطة اهل مكة (2434)، (112) ومسلم، الحج، باب تحريم مكة وتحريم صيدها وخلاها وشجرها.... الخ (1355).»
حدیث نمبر: 1632
أَخْبَرَنِي أَبُو حَنِيفَةَ سِمَاكُ بْنُ الْفَضْلِ، قَالَ: وَحَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْكَعْبِيِّ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَامَ الْفَتْحِ: مَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ: إِنْ أَحَبَّ أَخَذَ الْعَقْلَ، وَإِنْ أَحَبَّ فَلَهُ الْقَوَدُ. فَقَالَ أَبُو حَنِيفَةَ: فَقُلْتُ لِابْنِ أَبِي ذِئْبٍ: أَتَأْخُذُ بِهَذَا يَا أَبَا الْحَارِثِ؟ فَضَرَبَ صَدْرِي، وَصَاحَ عَلَيَّ صِيَاحًا كَثِيرًا وَنَالَ مِنِّي، وَقَالَ: أُحَدِّثُكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَقُولُ: تَأْخُذُ بِهِ. نَعَمْ، آخُذُ بِهِ وَذَلِكَ الْفَرْضُ عَلَيَّ وَعَلَى مَنْ سَمِعَهُ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ اخْتَارَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ النَّاسِ فَهَدَاهُمْ بِهِ، عَلَى يَدَيْهِ وَاخْتَارَ لَهُمْ مَا اخْتَارَ لَهُ، عَلَى لِسَانِهِ فَعَلَى الْخَلْقِ أَنْ يَتَّبِعُوهُ طَائِعِينَ أَوْ دَاخِرِينَ، لَا مَخْرَجَ لِمُسْلِمٍ مِنْ ذَلِكَ. قَالَ: وَمَا سَكَتَ عَنِّي حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنْ يَسْكُتَ.
ابو شریح کعبی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتحِ مکہ والے سال فرمایا: ”جس کا کوئی عزیز قتل کر دیا جائے تو اسے دو باتوں کا اختیار ہے، اگر چاہے تو دیت لے لے، اور اگر چاہے تو اس کے لیے قصاص ہے۔“ ابوحنیفہ نے کہا: میں نے ابن ابی ذئب سے کہا: اے ابوالحارث! کیا آپ اس حدیث کو لیں گے؟ (یعنی اس پر عمل کریں گے)۔ ابن ابی ذئب نے میرے سینے پر مارا اور مجھ پر خوب شور مچایا اور مجھے برا بھلا کہا اور فرمایا: میں تجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سناتا ہوں اور تو کہتا ہے کہ کیا آپ اس کو اختیار کریں گے؟ ہاں! میں اسے لوں گا اور یہ بات مجھ پر بھی اور ہر اس حدیث کو سننے والے پر فرض ہے۔ بے شک اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگوں میں سے چنا اور ان کے ذریعے لوگوں کو ہدایت دی، اور لوگوں کے لیے بھی وہی دین پسند کیا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کیا۔ لہذا مخلوق پر واجب ہے کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر حالت میں اتباع کریں، کیونکہ ایک مسلمان کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ ابوحنیفہ نے کہا: آپ مجھے یہ باتیں کہتے کہتے خاموش نہیں ہوئے حتیٰ کہ میں نے تمنا کی کہ آپ خاموش ہو جائیں۔ [مسند امام شافعی/ كتاب القتل والقصاص والديات والقسامة /حدیث: 1632]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعیف، فان أبا حنيفة سماك بن الفضل مجهول والجزء المرفوع منه صحيح انظر الحديث الذي قبله برقم (1631).»
حدیث نمبر: 1633
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْكَعْبِيِّ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ مَكَّةَ وَلَمْ يُحَرِّمْهَا النَّاسُ، وَلَا يَحِلُّ لِمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَسْفِكَ بِهَا دَمًا وَلَا يَعْضُدَ بِهَا شَجَرًا، فَإِنِ ارْتَخَصَ أَحَدٌ، فَقَالَ: أُحِلَّتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنَّ اللَّهَ أَحَلَّهَا لِي وَلَمْ يُحِلَّهَا لِلنَّاسِ، وَإِنَّمَا أُحِلَّتْ لِي سَاعَةً مِنَ النَّهَارِ، ثُمَّ هِيَ حَرَامٌ كَحُرْمَتِهَا بِالْأَمْسِ، ثُمَّ أَنْتُمْ يَا خُزَاعَةُ قَدْ قَتَلْتُمْ هَذَا الْقَتِيلَ مِنْ هُذَيْلٍ، وَأَنَا وَاللَّهِ عَاقِلُهُ. مَنْ قَتَلَ بَعْدَهُ قَتِيلًا فَأَهْلُهُ بَيْنَ خِيرَتَيْنِ؛ إِنْ أَحَبُّوا قَتَلُوا، وَإِنْ أَحَبُّوا أَخَذُوا الْعَقْلَ.
ابو شریح کعبی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے مکہ کو حرمت والا شہر قرار دیا ہے، اس کو لوگوں نے حرمت والا نہیں قرار دیا، اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والے کے لیے جائز نہیں کہ اس میں کسی کا خون بہائے، نہ اس زمین کا کوئی درخت کاٹے اور اگر کوئی آدمی اپنے لیے رخصت نکالے تو فرمایا (اسے کہنا) یہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے حلال قرار دیا گیا، کیونکہ اللہ نے اس کو میرے لیے حلال قرار دیا ہے اور لوگوں کے لیے حلال قرار نہیں دیا، اور میرے لیے بھی دن کے تھوڑے حصے کے لیے حلال قرار دیا گیا، پھر یہ اسی طرح حرمت والا ہے جس طرح کل حرمت والا تھا۔ اے خزاعہ والو! یقیناً تم نے ہذیل قبیلے کے آدمی کو قتل کیا ہے، اور اللہ کی قسم! میں اس کی دیت دینے والا ہوں۔ اور جس نے بعد میں کسی کو قتل کیا تو اس کے ورثاء کو دو باتوں کا اختیار ہے، اگر چاہیں تو (قصاص میں) قتل کریں اور اگر چاہیں تو دیت لے لیں۔“ [مسند امام شافعی/ كتاب القتل والقصاص والديات والقسامة /حدیث: 1633]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري جزاء الصيد، باب لا يعضد شجر الحرم (1832) ومسلم، الحج، باب تحريم مكة وتحريم صيدها وخلاها وشجرها .... الخ (1354).»
حدیث نمبر: 1634
أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ مُوسَى، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ مَعْرُوفٍ، عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ، قَالَ مُقَاتِلٌ: أَخَذْتُ هَذَا التَّفْسِيرَ عَنْ نَفَرٍ حَفِظَ مُعَاذٌ مِنْهُمْ وَمُجَاهِدٌ وَالْحَسَنُ وَالضَّحَّاكُ بْنُ مُزَاحِمٍ فِي قَوْلِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ [الْبَقَرَةِ: 178] الْآيَةَ، قَالَ: كَانَ عَلَى أَهْلِ التَّوْرَاةِ مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَنْ يُقَادَ بِهَا، وَلَا يُعْفَى عَنْهُ وَلَا تُقْبَلُ مِنْهُ الدِّيَةُ. وَفُرِضَ عَلَى أَهْلِ الْإِنْجِيلِ أَنْ يُعْفَى عَنْهُ وَلَا يُقْتَلُ وَرُخِّصَ لِأُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ شَاءَ قَتَلَ، وَإِنْ شَاءَ أَخَذَ الدِّيَةَ وَإِنْ شَاءَ عَفَا فَذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى: ذَلِكَ تَخْفِيفٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَرَحْمَةٌ [الْبَقَرَةِ: 178] . يَقُولُ: الدِّيَةُ تَخْفِيفٌ مِنَ اللَّهِ تَعَالَى إِذْ جَعَلَ الدِّيَةَ وَلَا يُقْتَلُ، ثُمَّ قَالَ: فَمَنِ اعْتَدَى بَعْدَ ذَلِكَ فَلَهُ عَذَابٌ أَلِيمٌ [الْبَقَرَةِ: 178] . وَقَالَ فِي قَوْلِهِ: وَلَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيَاةٌ [الْبَقَرَةِ: 179] يَنْتَهِي بِهَا بَعْضُكُمْ عَنْ بَعْضٍ مَخَافَةَ أَنْ يُقْتَلَ.
مقاتل نے بیان کیا کہ میں نے یہ تفسیر حفاظ کی ایک جماعت سے لی ہے جن میں معاذ، مجاہد، حسن اور ضحاک بن مزاحم شامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان ”جس کسی کو اپنے بھائی کی طرف سے معافی دے دی جائے۔“ (البقرة: 178) کے متعلق فرمایا کہ اہلِ تورات پر کسی کو ناحق قتل کرنے پر قصاص فرض تھا، نہ انہیں درگز کی اجازت تھی اور نہ وہ دیت لے سکتے تھے۔ اور اہلِ انجیل پر معاف کر دینا فرض تھا، وہ قصاصاً قتل نہیں کر سکتے تھے۔ اور امتِ محمدیہ (علی صاحبہا الصلاۃ والسلام) کے لیے رخصت دی گئی، اگر چاہیں تو قتل کریں، اگر چاہیں تو دیت لیں اور اگر چاہیں تو معاف کر دیں، اور یہی اللہ کے فرمان: ”یہ تمہارے رب کی طرف سے تخفیف اور رحمت ہے“ کا مفہوم ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ دیت اللہ تعالیٰ کی طرف سے تخفیف ہے، جب دیت لے لی تو قتل نہیں کیا جائے گا، پھر فرمایا: ”اور جو اس کے بعد سرکشی کرے اس کے لیے دردناک عذاب ہے۔“ اور اللہ کے فرمان: ”تمہارے لیے قصاص میں زندگی ہے۔“ سے متعلق فرمایا کہ اس سے تم ایک دوسرے کو قتل کرنے سے، قصاصاً قتل ہو جانے کے خوف کی وجہ سے باز آجاتے ہو۔ [مسند امام شافعی/ كتاب القتل والقصاص والديات والقسامة /حدیث: 1634]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف فان معاذ بن موسى مجهول وبكير بن معروف الأسدى لين: اخرجه البيهقي: 8/ 24، 51 ـ وفى المعرفة السنن والآثار له (4847).»
حدیث نمبر: 1635
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُجَاهِدًا يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: كَانَ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ الْقِصَاصُ وَلَمْ تَكُنْ فِيهِمُ الدِّيَةُ، فَقَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لِهَذِهِ الْأُمَّةِ: كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ [ ص: 304 ] وَالأُنْثَى بِالأُنْثَى فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَاءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسَانٍ ذَلِكَ تَخْفِيفٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَرَحْمَةٌ [الْبَقَرَةِ: 178] ، مِمَّا كُتِبَ عَلَى مَنْ كَانَ مِنْ قَبْلِكُمْ، فَمَنِ اعْتَدَى بَعْدَ ذَلِكَ فَلَهُ عَذَابٌ أَلِيمٌ [الْبَقَرَةِ: 178] . أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ مِنْ كِتَابِ الدِّيَاتِ وَالْقِصَاصِ وَالثَّالِثَ مِنْ كِتَابِ الرِّسَالَةِ، وَإِلَى آخِرِ السَّادِسِ مِنْ كِتَابِ جِرَاحِ الْعَمْدِ.
مجاہد فرماتے ہیں: میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو فرماتے ہوئے سنا کہ بنی اسرائیل پر قصاص فرض تھا اور ان میں دیت نہیں تھی، تو اللہ تعالیٰ نے اس امت کے لیے یہ حکم فرمایا کہ ”تم پر مقتولوں کا قصاص فرض کر دیا گیا ہے، آزاد آزاد کے بدلے، غلام غلام کے بدلے، عورت عورت کے بدلے، اور جس کسی کو اپنے بھائی کی طرف سے معافی دے دی گئی تو اسے بھلائی کے پیچھے لگنا ہے اور اچھے طریقے سے اسے دیت ادا کرنی ہے، یہ تمہارے رب کی طرف سے تخفیف اور رحمت ہے۔“ یہ اس کے مقابلے میں ہے جو تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیا گیا تھا، ”پھر جس نے اس کے بعد زیادتی کی اس کے لیے دردناک عذاب ہے۔“ (البقرة: 178) [مسند امام شافعی/ كتاب القتل والقصاص والديات والقسامة /حدیث: 1635]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري، التفسير، باب ﴿يايها الذين امنوا كتب عليكم القصاص﴾ (4498).»
14. بَابُ مَا فِي قَتْلِ الْعَمْدِ وَعَمْدِ الْخَطَأِ
قتلِ عمد اور قتلِ عمدِ خطا کا بیان
حدیث نمبر: 1636
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْحَكَمِ أَوْ عَنْ عِيسَى بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَبِي لَيْلَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"مَنِ اغْتَبَطَ مُؤْمِنًا بِقَتْلٍ فَهُوَ قَوَدُ يَدِهِ إِلَّا أَنْ يَرْضَى وَلِيُّ الْمَقْتُولِ، فَمَنْ حَالَ دُونَهُ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَغَضَبُهُ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ".
ابولیلیٰ نے بیان فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی مومن کو ناحق قتل کیا تو اس نے اپنے ہاتھوں قصاص خرید لیا الا یہ کہ مقتول کے ورثاء راضی ہو جائیں۔ اور جو کوئی اس میں حائل ہو گیا۔ تو اس پر اللہ کی لعنت اور اس کا غضب ہے، اللہ اس کا نہ نفل قبول کریں گے اور نہ ہی فرض۔“ [مسند امام شافعی/ كتاب القتل والقصاص والديات والقسامة /حدیث: 1636]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لإرساله اخرجه البيهقى فى المعرفة السنن والآثار (4799) وعبد الرزاق (17191).»
حدیث نمبر: 1637
أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:"أَلَا إِنَّ فِي قَتِيلِ الْعَمْدِ الْخَطَأِ بِالسَّوْطِ أَوِ الْعَصَا مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ مُغَلَّظَةٌ، مِنْهَا أَرْبَعُونَ خَلِفَةً فِي بُطُونِهَا أَوْلَادُهَا".
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خبردار! بے شک عمد خطا کے مقتول میں (جو کوڑے یا لاٹھی سے مر جائے) سو موٹی اونٹنیاں (دیت کی) ہیں۔ ان میں سے چالیس حاملہ اونٹنیاں ہیں جن کے پیٹ میں بچے ہوں۔“ [مسند امام شافعی/ كتاب القتل والقصاص والديات والقسامة /حدیث: 1637]
تخریج الحدیث: «اخرجه ابوداود، الديات، باب في دية الخطا شبه العمد (4549) - وابن ماجة، الديات، باب دية شبه العمد مغلظة (2628)، (2627) . وصححه ابن الجارود (773) والالباني في صحیح ابوداود (3807).»
حدیث نمبر: 1638
أَخْبَرَنَا الثَّقَفِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ الثَّقَفِيِّ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
عقبہ بن اوس رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی سے بھی اسی سابقہ حدیث کی طرح مروی ہے۔ [مسند امام شافعی/ كتاب القتل والقصاص والديات والقسامة /حدیث: 1638]
تخریج الحدیث: «اخرجه النسائي القسامة، ذكر الاختلاف على خالد الحذاء (4797)، (4798)، (4800).»
حدیث نمبر: 1639
أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ قَالَ:"مَنْ قُتِلَ فِي عِمِّيَّةٍ رَمْيًا يَكُونُ بَيْنَهُمْ بِحِجَارَةٍ أَوْ جَلْدٍ بِالسَّوْطِ أَوْ ضَرْبٍ بِالْعَصَا، هُوَ خَطَأٌ عَقْلُهُ عَقْلُ الْخَطَأِ. وَمَنْ قُتِلَ عَمْدًا فَهُوَ قَوَدُ يَدِهِ، فَمَنْ حَالَ دُونَهُ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَغَضَبُهُ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ".
طاؤس رحمہ اللہ سے روایت ہے انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی بلوے میں مارا گیا، جو لڑنے والوں میں پتھر سے یا کوڑے سے یا چھڑی کی ضرب سے مارا گیا تو وہ قتلِ خطا ہے، اس کی دیت قتلِ خطا کی دیت ہے، اور جو ارادہ سے قتل کیا گیا تو اس (قاتل) نے اپنے ہاتھوں قصاص خرید لیا، اور جو کوئی اس میں حائل ہو گیا تو اس پر اللہ کی لعنت اور اس کا غضب ہے، نہ اس سے نفلی عبادت قبول کی جائے گی اور نہ فرضی۔“ [مسند امام شافعی/ كتاب القتل والقصاص والديات والقسامة /حدیث: 1639]
تخریج الحدیث: «اخرجه ابوداود، الديات، باب من قتل في عميا بين قوم (4539)، (4540) والنسائي، القسامة، باب من قتل بحجر اوسط (4793).»
حدیث نمبر: 1640
أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:"أَلَا إِنَّ فِي قَتْلِ الْعَمْدِ الْخَطَأِ بِالسَّوْطِ وَالْعَصَا مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ مُغَلَّظَةٌ، مِنْهَا أَرْبَعُونَ خَلِفَةً فِي بُطُونِهَا أَوْلَادُهَا". أَخْرَجَ الثَّلَاثَةَ الْأَحَادِيثَ مِنْ كِتَابِ جِرَاحِ الْعَمْدِ، وَالرَّابِعَ وَالْخَامِسَ مِنْ كِتَابِ الدِّيَاتِ وَالْقِصَاصِ.
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خبردار! بے شک قتلِ خطا (شبہ) عمد کے مقتول میں جو کوڑے اور لاٹھی سے ہو، سو اونٹنیاں ہیں، ان میں سے چالیس وہ حاملہ اونٹنیاں ہیں جن کے پیٹ میں بچے ہوں۔“ [مسند امام شافعی/ كتاب القتل والقصاص والديات والقسامة /حدیث: 1640]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق برقم (1637).»