السنن المأثورة - الإمام الشافعي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
235. (بَابُ حُكْمِ ذَبْحِ الْفَرَعِ)
(فرع ذبح کرنے کا شرعی حکم)
حدیث نمبر: 385
عَنِ الثَّقَفِيِّ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ نُبَيْشَةَ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا كُنَّا نُفْرِعُ فَرَعًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَمَا تَأْمُرُنَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فِي كُلِّ سَائِمَةٍ فَرَعٌ تَغْذُوهُ مَاشِيَتُكَ حَتَّى إِذَا اسْتَحْمَلَ ذَبَحْتَهُ وَأَطْعَمْتَهُ فَإِنَّ ذَلِكَ هُوَ خَيْرٌ لَكَ".
سیدنا نبیشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک بندے نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم زمانہ جاہلیت میں فرع (جانور کا پہلا بچہ) ذبح کیا کرتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا حکم ہے؟“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر قسم کے سائمة (چرنے والے جانوروں) میں سے کوئی جانور ذبح کرنا چاہیے مگر اس طرح کہ اسے ماں دودھ پلائے یہاں تک کے سواری کے قابل ہو جائے تو (جوان ہو جائے) پھر ذبح کر اور تو اسے چارا کھلا یہ تیرے لیے بہتر ہے۔“ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب ما جاء في صدقة الفطر/حدیث: 385]
تخریج الحدیث: «انظر ما قبلہ، برقم: 384»